Explained with ayahs 18–20
اجتماعی اور خیر کی ایک نوعیت اور انفرادی اعمال خیر
حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم دن چڑھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ کچھ لوگ آئے جو ننگے بدن اور کھلے پیر تھے۔ صرف چادروں یا عباؤں سے بدن چھپائے ہوئے تلواریں گردنوں میں حمائل کئے ہوئے تھے یہ تمام لوگ قبیلہ مضر میں سے تھے، ان کی اس فقرہ فاقہ کی حالت نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے کی رنگت کو متغیر کردیا، آپ گھر میں گئے پھر باہر آئے پھر حضرت بلال کو اذان کہنے کا حکم دیا اذان ہوئی پھر اقامت ہوئی آپ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ شروع کیا اور آیت (ترجمہ) الخ، تلاوت کی پھر سورة حشر کی آیت (ترجمہ) الخ، پڑھی اور لوگوں کو خیرات دینے کی رغبت دلائی جس پر لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الْحَشْر 30
یعنی خدا فراموشی کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے۔ جب آدمی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ کسی کا بندہ ہے تو لازماً وہ دنیا میں اپنی ایک غلط حیثیت متعین کر بیٹھتا ہے اور اس کی ساری زندگی اسی بنیادی غلط فہمی کے باعث غلط ہو کر رہ جاتی ہے، اسی طرح جب وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہے تو وہ اس ایک کی بندگی تو نہیں کرتا جس کا وہ درحقیقیت بندہ ہے، اور ان بہت سوں کی بندگی کرتا رہتا ہے جن کا وہ فی الواقع بندہ نہیں ہے۔ یہ پھر ایک عظیم اور ہمہ گیر غلط فہمی ہے جو اس کی ساری زندگی کو غلط کر کے رکھ دیتی ہے۔ انسان کا اصل مقام دنیا میں یہ ہے کہ وہ بندہ ہے، آزاد و خود مختار نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فَاَنْسٰـىهُمْ اَنْفُسَهُمْ ، یعنی ان لوگوں نے اللہ کو بھول اور نسیان میں کیا ڈالا اور حقیقتا خود اپنے آپ کو اس بھول میں ڈال دیا کہ اپنے نفع نقصان کی خبر نہ رہی۔
Read the full tafseer →(ولا تکونو گا لذین نسوا اللہ فانسھم انفسھم اولیک ھم الفسقون) (19)۔ فرمایا کہ ان لوگوں کی طرح نہ بن جائو جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ان کو خود ان کے انجام سے غافل کردیا۔ (گا لذین نسو اللہ) سے اشارہ یہود کی طرف ہے۔ یہود ہی ان منافقین کے مرشد تھے قرآن نے ان کو آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کی طرح اگر تم بھی خدا کو بھلا بیٹھے تو یاد رکھو کہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ و گے بلکہ اپنے ہی کو تباہ کرو گے۔
(جو خدا کو بھلا دیتے ہیں وہ خود اپنے کو بھلا دیتے ہیں)۔ (فانسھم انفسھم) میں ایک بڑی اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جو لوگ خدا کو بھلا دیتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے خیر و شر اور…
Read the full tafseer →19۔ 1 یعنی اللہ نے بطور جزا انہیں ایسا کردیا کہ وہ ایسے عملوں سے غافل ہوگئے جن میں ان کا فائدہ تھا اور جن کے ذریعے سے وہ اپنے نفسوں کو عذاب الٰہی سے بچا سکتے تھے یوں انسان خدا فراموشی سے خود فراموشی تک پہنچ جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
13: یعنی وہ اس بات سے غافل اور بےپرواہ ہوگئے کہ خود ان کی جانوں کے لیے کونسی بات فائدے کی اور کونسی نقصان کی ہے، اور غفلت کے عالم میں وہی کام کرتے رہے جو انہیں تباہی کی طرف لے جانے والے تھے۔
Read the full tafseer →کالذین ............ فانسھم (95 : 91) ” ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا “۔ یہ عجیب حالت ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بھلا دے لیکن یہ ہے حقیقت۔ اس لئے کہ جو شخص اللہ کو بھلا دیتا ہے ، وہ اس دنیا میں اس طرح ہوتا ہے جس طرح حیوان چرتے پھرتے ہیں۔ یوں وہ اپنی حیثیت انسانی کو بھلا دیتا ہے ، اور اس حقیقت سے پھر ایک دوسرے حقیقت لازم آتی ہے۔ وہ یوں کہ وہ اپنے آپ کو بھلا کر اپنی طویل زندگی کے لئے کوئی سامان نہیں تیار کرتا۔ اور کل کے لئے اس کی کوئی تیاری نہیں ہوتی۔
اولئک ھم الفسقون (95 : 91) ” یہی لوگ فاسق ہیں “۔ یہ جادہ حق سے منحرف اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔…
Read the full tafseer →1 یعنی جنہوں نے اللہ کے حقوق بھلا دیے، اس کی یاد سے غفلت اور بےپروائی برتی۔ اللہ نے خود کی جانوں سے ان کو غافل اور بیخبر کردیا کہ آنے والی آفات سے اپنے بچاؤ کی کچھ فکر نہ کی۔ اور نافرمانیوں میں غرق ہو کر دائمی خسارے اور ابدی ہلاکت میں پڑگئے۔
Read the full tafseer →آیت 19{ وَلَا تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹہُمْ اَنْفُسَہُمْ } ”اور اے مسلمانو دیکھنا ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کردیا۔“
{ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ۔ } ”یہی لوگ ہیں جو فاسق ہیں۔“
ہمارے لیے اس آیت کی اہمیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ علامہ اقبال کے بیان کے مطابق انہوں نے اپنا فلسفہ خودی اسی آیت سے اخذ کیا تھا۔ علامہ کے اس بیان کے راوی سید نذیر نیازی ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون میں اس حوالے سے ایک واقعہ رقم کیا ہے۔ یہ واقعہ انہوں نے ہمارے ہاں قرآن کانفرنس میں اپنے ایک لیکچر میں بھی بیان کیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں…
Read the full tafseer →25 اللہ کو بھولنے کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہوتا ہے :۔ یعنی اللہ کو بھول جانے یا بھلائے رکھنے کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے۔ بالفاظ دیگر اللہ کی معرفت سے ہی انسان کو اپنی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ جو انسان اس بات پر غور نہیں کرتا کہ اس کائنات میں اللہ کی کیا حقیقت ہے اور اس کی اپنی کیا حیثیت ہے۔ وہ ہمیشہ غلط راستوں پر پڑ کر اپنی عاقبت برباد کرلیتا ہے۔ اس کو ہر وقت یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ اس کائنات کا بھی اور خود اس کا بھی خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی سب چیزوں کا خالق، مالک اور پروردگار ہے اور انسان اس کی مخلوق، مملوک اور محتاج ہے۔ لہذا انسان کی ہر طرح کی عبادتوں اور نیازمندیوں کا وہی مستحق ہے۔…
Read the full tafseer →30۔ (پورے پورے، یعنی کافر) (آیت) ” الفسقون “۔ یہاں قرآن مجید کے اکثر موقعوں کی طرح الکافرون کے معنی میں ہے (آیت) ” الفسقون “۔ یہاں قرآن مجید کے اکثر موقعوں کی طرح الکافرون کے معنی میں ہے (آیت) ” الفسقون “۔ یعنی فسق میں کامل۔ طاعت الہی سے بالکل ہی خارج اور یہ وہی ہوسکتے ہیں، جو کافر ہوں، اے الکاملون فی الفسوق (بیضاوی) (آیت) ” نسوا اللہ “۔ یعنی حق تعالیٰ اور اس کے احکام وہدایات کی طرف سے عمدا اعراض برتنے لگے۔ (آیت) ” انفسھم “۔ یعنی حق تعالیٰ نے ان کی عقل ایسی ماردی کہ یہ نہ اپنے نفع کو پہچانتے ہیں، اور نہ اس کے حاصل کرنے کی فکر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ترجہ : اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص غور کرلے کہ کل (قیامت کے دن) کے واسطے (اعمال) کا کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے ؟ اور (ہروقت) اللہ سے ڈرتے رہو اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے اور تم ان لوگوں کے مانند مت ہوجانا جنہوں نے اللہ (کے احکام) کو بھلا دیا یعنی اس کی اطاعت کو ترک کردیا تو اللہ نے بھی انہیں ان کی جانوں سے غافل کردیا اس بات سے کہ وہ اپنی ذات کے لئے نیکی آگے بھیجیں، ایسے ہی لوگ فاسق ہوتے ہیں، اہل نار اور اہل جنت ابہم برابر نہیں، جو اہل جنت ہیں وہی کامیاب ہیں، اور اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے اور اس کے اندر انسان کے مانند شعور پیدا کردیا جاتا تو تو دیکھتا اس کو کہ خشیت…
Read the full tafseer →ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ فانساھم انفسھم اولئک ھم الفسقون
” اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے اللہ (کے احکام) سے بےپروائی کی تو اللہ نے خود ان کو ان کی جانوں سے بےپروا بنا دیا یہی لوگ نافرمان ہیں ‘
نَسُوا اللہ : اللہ کو بھول گئے یعنی بےپروائی کے ساتھ ممنوعات کا ارتکاب کرتے ہیں اور واجبات کو ترک کرتے ہیں ‘ اللہ کی پرواہ نہیں کرتے۔
فَاَنْسٰھُمْ اَنْفُسَھُمْ : یعنی اللہ نے نفس کے آرام و راحت اور کامیابی سے بےپرواہ کردیا اس لیے نفسوں کی بھلائی اور فائدہ کے لیے کچھ نہیں کرتے یا یہ مراد ہے کہ قیامت کی ہولناکیاں ایسی ہوں گی جو ان سے خود ان کے نفسوں کو فراموش کردیں گی۔
اُوْلٰءِکَ ھُمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(19۔ 20) اور منافقین کی طرح مت ہوجاؤ جنہوں نے خفیہ طور پر اطاعت خداوندی کو چھوڑ دیا یا یہ کہ یہود کی طرح مت ہوجاؤ جنہوں نے ظاہرا و باطنا اطاعت خداوندی کو ترک کردیا ہے اللہ تعالیٰ نے خود ان کو رسوا کیا اور یہ منافق یا یہ کہ یہودی کافر ہیں۔ اطاعت وثواب میں دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے اور اہل جنت کامیاب لوگ ہیں۔
Read the full tafseer →1۔ وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللہ۔۔۔۔: ایمان والوں کو اللہ کے تقویٰ اور آخرت کی تیاری کے حکم کے بعد اس کے احکام سے بےتوجیہی اور غفلت سے منع فرمایا ، کیونکہ اس کا نتیجہ فسق اور نافرمانی ہوتا ہے اور اس کے لیے یہ اسلوب اختیار فرمایا کہ انہیں ان لوگوں کی طرح ہوجانے سے منع فرمایا جنہوں نے اللہ کے احکام پر عمل کو ترک کردیا ، تا کہ ایسے لوگ اور ان کا انجام ان کے سامنے رہے اور وہ ان کے نقش قدم پر چلنے سے بچتے رہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ’ ’ صراط انعمت علیھم“ کے بعد ”غیر المغضوب علیھم ولا الضالین“ فرمایا ہے۔
رہی یہ بات کہ وہ کون لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں :(نسو اللہ) کہ وہ…
Read the full tafseer →تفسیر
ولا تکونو کالذین نسوا اللہ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے امر کو ترک کردیا (3) فانسھنم انفسھم اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا آپ بھلا دیا کہ وہ اپنے لئے بھلائی کا عمل کرے، یہ ابن حبان کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اللہ تعالیٰ کا حق بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نفوس کا حق بھلا دیا ؛ یہ سفیان کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اللہ تعالیٰ کا حق بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نفوس کا حق بھلا دیا ؛ یہ سفیان کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اس کا شکر اور تعظیم ترک کرکے اس کو بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب دے کر بھلا دیا کہ وہ ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
صدیق اکبر ؓ کا خطبہ
11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما قدمت لغد سے مراد ہے قیامت کا دن
12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے نعیم بن محمد الرجی (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق کے خطبہ میں سے یہ ہے۔ تم جان لو ! بیشک تم ایک مقررہ مدت میں صبح کرتے ہو شام کرتے ہو کہ اس کا علم تم سے مخفی رہ گیا ہے۔ اگر تم طاقت رکھتے ہو تو مدت گزر جائے اور تم کوئی بچاؤ کا طریقہ کرسکو تو تم ضرورایسا کرتے۔ لیکن تم ہرگز اس پر قادر نہیں ہوسکتے مگر اللہ کی اجازت سے اور ایک قوم نے اپنی عمر دوسروں کو دی تو اللہ تعالیٰ نے تم کو روکا کہ تم ان کی طرح نہ ہوجائے اور فرمایا آیت ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ…
Read the full tafseer →[وَلَا تَكُوْنُوْا : اور تم لوگ مت ہونا ][ كَالَّذِينَ : ان لوگوں کے جیسے جنھوں نے ][ نَسُوا اللّٰهَ : بھلا دیا اللہ کو ][فَانسٰـىهُمْ : تو اس (اللہ) نے بھلوا دیا ان کو ][ انفُسَهُمْ : ان کا اپنا آپ ][اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ : وہ لوگ ہی نافرمانی کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللّٰهَ :
(ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ کو بھول گئے) جنہوں نے اللہ کے حکموں پر عمل کرنا چھوڑ دیا اور گمراہی کی زندگی اختیار کی اور غفلت میں ایسے پڑے کہ اللہ کو بھول گئے انہیں اللہ نے اس بھولنے پر یہ سزادی کہ انہیں ان کی جانوں ہی کو بھلا دیا یعنی انہیں یہ دھیان نہ رہا کہ موت کے بعد ہمارا کیا بنے گا، دنیا کی لذتوں میں پڑ کر انہوں نے آخرت کی نعمتوں سے محروم ہونا منظور کرلیا اور وہاں کی لذتوں سے محروم رہ گئے۔ (قال صاحب معالم التنزیل فانساھم انفسھم ای حظوظ انفسھم حتی لم یقدموا لھا خیراً ) ۔
پھر فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ 0019﴾ یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
دعوت تقوی وفکر آخرت برائے اھل ایمان مع ذکر عظمت رب ذوالجلال والاکرام :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ..... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کی سازشوں اور اسلام کے خلاف ان کی معاندانہ سرگرمیوں کا ذکر تھا، تو اب ان آیات میں اہل ایمان کو تقوی اور فکر آخرت کی دعوت دی جارہی ہے اس لیے کہ ایمان وتقوی اور فکر آخرت ہی مسلمان قوم کے لیے ہر عزت و غلبہ اور ترقی کا باعث ہے وہ عظیم وصف ہے جس کے باعث مسلمان اپنے دشمن کی ہر سازش سے محفوظ رہتا ہے تو ارشاد فرمایا۔
اے ایمان والو ! ڈرتے رہو خدا سے اور ہر متنفس کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کیا بھیجا ہے کل آنے والے…
Read the full tafseer →19:۔ ” ولا تکونوا “ اور ان لوگوں کی مانند نہ جو اؤ جنہوں نے اللہ کے ذکر اور اس کے احکام کی تعمیل کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کے احکما کی اطاعت سے اپنے نفسوں کو خسارہ آخرت سے بچانے کی تدبیر نہ کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو فضل و رحمت اور انعام و اکرام سے یاد نہ فرمایا۔ یہ لوگ سرکش اور احکام الٰہیہ کے باغی ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں کہ رحمت خداوندی سے محروم ہوں (نسوا اللہ) ترکوا ذکر اللہ عز و جل وما امرھم بہ (فانساہم انفسہم) فترکہم من ذکرہ بالرحمۃ والتوفیق (مدارک ج 4 ص 184) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ربط آیات :
پہلے اللہ نے منافقوں اور اہل کتاب کا ذکر فرمایا کہ یہ دونوں گروہ نافرمانوں میں شامل ہیں ، اور شیطان کے بہکاوے کا شکار ہوچکے ہیں۔ پھر اللہ نے نافرمانوں کا انجام بھی بیان فرمایا ، اور اہل ایمان کو خبردار کیا کہ وہ نافرمانوں کی روش سے اپنے آپ کو بچائیں۔
آخرت کی فکر :
اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب فرمایا ہے۔ یایھا الذین امنوا ، اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، اتقوا اللہ ، اللہ تعالیٰ سے ڈر جائو۔ مطلب یہ کہ منافق اور اہل کتاب تو خدا تعالیٰ اور آخرت سے بےخوف ہوچکے ہیں مگر تم ایسے نہ ہوجانا۔ اور دوسری بات یہ والتنظرنفس ما قدمت لغد ، اور ہر نفس کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل…
Read the full tafseer →وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللہَ فَاَنْسٰـىہُمْ اَنْفُسَہُمْ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ 19
نسی
النِّسْيَانُ : تَرْكُ الإنسانِ ضبطَ ما استودِعَ ، إمَّا لضَعْفِ قلبِهِ ، وإمَّا عن غفْلةٍ ، وإمَّا عن قصْدٍ حتی يَنْحَذِفَ عن القلبِ ذِكْرُهُ ، يقال : نَسِيتُهُ نِسْيَاناً. قال تعالی: وَلَقَدْ عَهِدْنا إِلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً [ طه/ 115] ، فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ [ السجدة/ 14] ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ [ الكهف/ 63] ، لا تُؤاخِذْنِي بِما نَسِيتُ [ الكهف/ 73] ، فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ [ المائدة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
تفسیر : اہل سعادت اور اہل شقاوت کا ذکر کر کے اہل سعادت کو ان کے اصول سعادت کی طرف متوجہ کرتا ہے جو دارین میں اس کے لیے کافی ہیں۔ فقال یا ایہا الذین آمنوا اتقواللہ واضح ہو کہ انسانی سعادت کے دو حصے ہیں۔ اول قوت نظریہ کی تکمیل ‘ جہل بسیط و جہل مرکب کی ظلمات سے نجات پانا۔ علم کی روشنی میں خدا تعالیٰ کی صفات و ذات اور دیگر امور ضروریہ کو واقعی طور پر یقین کر کے توہمات و تخیلات باطلہ کی دلدل سے گزر جانا۔ اس کو شرع میں ایمان کہتے ہیں۔ جن کو یہ صفت حاصل ہوگئی ہے ان کو ایمان والے کہتے ہیں۔ بس وہ ایمان والوں کو اس پر ثابت رہنے یا اس میدان میں ترقی کرنے کے لیے تقویٰ کا حکم دیتا ہے۔ تقویٰ اللہ سے ڈرنا…
Read the full tafseer →وَلاَ تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰھُمْ اَنْفُسَھُمْ ط اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (الحشر : 19)
(اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ کو بھول گئے تو اللہ نے انھیں خود اپنا نفس بھلا دیا، یہی لوگ اصلی نافرمان ہیں۔ )
تباہی سے بچائو کے لیے ہدایات
فوزوفلاح کا راستہ دکھانے کے بعد اس راستے پر چلنے سے روکا جو افراد اور اقوام کے لیے تباہی کا راستہ ہے اور وہ تباہی کہیں باہر سے نہیں انسان کے اندر سے پھوٹتی ہے اور انسان خود اس کا سروسامان کرتا ہے۔ چناچہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے تم سے پہلے اہل کتاب کو معرفتِ خداوندی جیسی حقیقت سے بہرہ ور فرمایا تھا۔ انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
فہم القرآن
ربط کلام : جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے ہر انسان کو اللہ سے ڈرنا اور قیامت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
اس سے پہلی آیات میں یہ بیان ہوا کہ کفار اور منافق اللہ سے ڈرنے کی بجائے لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ حالانکہ انسان کو صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ اسی اصول کے پیش نظر ایمانداروں کو حکم دیا ہے کہ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے آنے والے کل یعنی قیامت کے لیے کیا بھیجا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو جو تم عمل کرتے ہو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے پوری طرح جاننے والا ہے۔ اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے ” اللہ “ کو فراموش کردیا۔ جب انہوں نے ” اللہ “ کو فراموش کیا…
Read the full tafseer →19 : وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ (اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام سے بےپروائی اختیار کی) انہوں نے یاد الٰہی کو ترک کردیا اور جن باتوں کا ان کو حکم دیا تھا۔ ان کو چھوڑ بیٹھے۔ فَاَنْسٰھُمْ اَنْفُسَھُمْ (تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی جانوں سے بےپرواہ بنادیا) اللہ تعالیٰ کی رحمت و توفیق ان کا ساتھ چھوڑ گئی۔ اُولٰئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ (وہ وہی فاسق ہیں) اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →18 ۔” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ولتنظر نفس ماقدمت لغد “ یعنی قیامت کے دن کے لئے۔ یعنی چاہیے کہ تم میں سے ہر ایک دیکھے کہ کون سی چیز اس نے اپنے لئے آگے بھیجی ہے، نیک عمل جو اس کو نجات دے یا برا عمل جو اس کو ہلاک کردے۔ ” واتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
15۔ 24۔ مجاہد 1 ؎ کے قول کے حوالہ سے تفسیر سدی اور تفسیر مقاتل بن حیان میں اس آیت کی تفسر یوں کی ہے کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد وہ کفار قریش ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے مگر امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اس تفسیر کے مخالف ہیں وہ یہ فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلا وطنی بنی نضیر کی جلا وطنی سے پہلے ہوئی جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل اس قصہ کا اسی قدر ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبد اللہ بن سلام ہیں۔ اس قبیلہ سے اور آنحضرت ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر ان کی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسمائے حسنی اور اوصاف عالیہ پر مشتمل ہیں اور عظمت شان اور بےمثال برہان کی حامل ہیں پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جسکے سوا کوئی معبود نہیں کیونکہ وہ عظیم کمال سب کو شامل احسان اور تدبیر عام کا مالک ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے اور عبادت کے ذرہب ھر کے مستحق نہیں کیونکہ وہ محتاج، عاجز اور ناقص ہیں وہ اپنے لیے اور کسی دوسرے کے لیے کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے پھر اللہ تبارک وتعالی نے اپنا وصف بیان کیا ہے کہ اس کا عموم علم ہر اس چیز کو شامل ہے جو مخلوق کی نظروں سے اوجھل ہے اور جس کا وہ مشاہدہ کرتی ہے اس کی رحمت عامہ ہر چیز پر سایہ کناں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔
صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟
قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[ 51] غافلوں کے طور طریقوں سے بچنے کی ہدایت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور [ خبردار ] کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جنہوں نے بھلا دیا اللہ کو، یعنی و غافل ہوگیا اس کی یاد دلشاد سے، اور اس نے بھلا دیا اپنے اس خالق ومالک کے ان حقوق کو جو اس کی طرف سے اس بندوں پر عائد ہوتے ہیں، حالانکہ ان کی ادائیگی اور انجام دہی، کا فریضہ سب سے اہم، سب سے مقدم، اور سب پر فائق ہے، اور اللہ کو بھلا دینے والے والعیاذ باللّٰہ، اگرچہ بہت لوگ رہے ہیں پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں، جو اس کو بھلا کر خالص حیوان بن کر رہے، بلکہ حیوانوں سے بھی بدتر ہو کر رہ گئے، مگر اس کا سب سے اہم مصداق یہود بےبہبود ہیں جن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
مسلمانوں کا کردار اللہ اور قرآن کی صفات
تشریح : قرآن پاک کا یہ اصول ہے کہ ڈر اور خوشخبری دونوں ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے۔ پچھلی آیات میں برے لوگ اور ان کے برے انجام کا ذکر تھا تو یہاں اچھے لوکوں کی تعریف کی گئی ہے کہ یاد رکھو تمہارے لیے جنت کے باغات اور تمام رحمتیں ہیں تم اور وہ لوگ جو جہنم کے وارث ہوئے ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا خوش نصیب لوگوں کا کام ہے آیت 21 کی وضاحت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب یوں کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔ ، اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح اللہ کی کبریائی، اس کے حضور بندے کی جواب دہی کو صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
آیات 18 تا 24۔
اسرار ومعارف۔
اب کلام مومنین کی طرف موڑتے ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والوعظمت الٰہی کو ہمیشہ دھیان میں رکھو اور ایمان وعمل ہجرت و جہاد سب اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے کیا جاتا ہے جس میں خلوص بنیادی شرط ہے لہذا یہ دیکھتے رہو کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کل یعنی آخرت کے لیے کیا سامان روانہ کررہا ہے کہ ہر عمل کا تعقل جہاں دنیا کے فائدے سے ہے وہاں اس پر آخرت کا اجر بھی مرتب ہوتا ہے اور آخرت مقصود ہے کہ اللہ کی رجا کا مظہر ہے لہذا وہ کام جس میں آخرت کی کامیابی ہو اور دنیا بھی سنورتی ہو بہت اچھا لیکن اگر آخرت کے لیے دنیا چھوڑنا بھی پڑے جیسے ہجرت جہاد وغیرہ تو مبارک ہے مگر کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 2 یعنی اپنی نجات کی فکر سے غافل ہوگئے اور اس بنا پر گناہوں میں پڑے ہے اور عذاب آخرت سے بچنے کے لئے نیک اعمال کی راہ اختیار نہ کی۔
Read the full tafseer →(59:19) ولا تکونوا کالذین : لا تکونوا۔ فعل نہی جمع مذکر ۔ تم مت ہوجاؤ۔
کالذین : ک تشبیہ کا ہے الذین اسم موصول جمع مذکر نسوا اللہ صلہ الذین کا نسوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب نسیان (باب سمع) مصدر۔ وہ بھول گئے۔ اللہ منصوب بوجہ مفعول ۔ جو اللہ کو بھول گئے۔
فانسھم انفسہم :ترتیب کا۔ انسی ماضی واحد مذکر غائب انساء (افعال) مصدر۔ اس نے بھلا دیا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (مفعول اول) انفسھم انفس۔ نفس کی جمع ۔ مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی انسی کا۔
ترجمہ ہوگا :۔ پھر اس نے بھلائے ان کو ان کے جی (ترجمہ شاہ عبد القادر (رح)) یعنی ان لوگوں کو جو اللہ کو بھول گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
لغات القرآن۔
نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔
تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
اللہ تعالیٰ کی یاد ہر دم رکھنی چاہیے ورنہ شدید پچھتاوا ہوگا۔
(ف 1) ہر ایماندار کو چاہیے کہ اپنے نیک عملوں پر کبھی کبھی نظر ڈال لیاکرے کہ قیامت کے لیے اس نے کیا سامان آگے بھیجا کیونکہ قیامت کے دن جنت کے درجے نیک عملوں کے موافق تقسیم ہوں گے اس لیے اس دن ہر ایک کو نیک عملوں کی بڑی قدر ہوگی ۔ چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمد بن ابی عمرہ صحابی سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو شخص تمام عمر نیک عملوں میں مصروف رہے اس کو بھی قیامت کے دن یہ پچھتاوا رہے گا کہ اس نے اور زیادہ نیک عمل کیوں نہیں کیے اس مضمون کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں نیک عملوں کی ترغیب کے بعد ایماندار لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
[21] یعنی اس کے احکام سے بےپروائی کی۔
[22] یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی مت ماری کہ خود اپنے نفع حقیقی کو نہ سمجھا اور نافرمانیوں میں غرق ہو کر دائمی خسارے اور ابدی ہلاکت میں پڑگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ف 1: پہاڑ کی صلابت اور سخی مسلم ہے ۔ مگر قرآن کی اثر اندازی کا یہ عالم ہے ۔ کہ اگر کہیں یہ سن پاتے ۔ تو نالہ وشیون سے کلیجہ پھٹ جائے یہ تو انسانوں کی محرومی ہے ۔ کہ وہ اس عبرت آفرین کلام کو پڑھتے ہیں ۔ مگر بدستور گمراہی میں پھنسے رہتے ہیں ۔ ورنہ اس کے اثرونفوز میں بالکل شبہ نہیں ہے ۔
حل لغات :۔ لو انزلنا ۔ یعنی نزول کے لئے جن شرائط کا ہونا لازم ہے ۔ اگر وہ پہاڑ ایسی سخت اور بےحس چیز کے لئے بھی مہیا کردی جائیں ۔ تو تم دیکھتے کہ وہ قرآن کی ذمہ داری کو کیونکر خشوع اور خضوع کے ساتھ برداشت کرتا ہے ۔
Read the full tafseer →(19) اور تم ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کردیا اور اس کے احکام کو بھلا دیا پھر اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جانوں سے ان کو غافل کردیا اور بھلا دیئے ان کو ان کے جی یہی تو وہ لوگ ہیں جو نافرمان اور بےحکم ہیں۔ یعنی تم اے مسلمانو ! ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام سے بےپروائی برتی اور احکام خدا ندی کو بھلا دیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے جی بھلادیئے اور اپنی ذات سے ان کو بےپروا بنادیا اور وہ اپنے نفع سے غافل ہوگئے اور اپنی جانوں کے بھلے کو بھلا بیٹھے تو ان لوگوں کو ان کے کئے کی سزا ملے گی اور یہ لوگ فاسق اور بےحکم ہیں……پہلی آیت میں اہل تقویٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 4۔ یعنی عمل بالاحکام کو ترک کردیا، اس طرح کہ اوامر کے خلاف کیا اور نواہی کا اقتراف کیا۔
5۔ یعنی ان کی ایسی عقل ماری گئی کہ خود اپنے نفع حقیقی کو نہ سمجھا اور نہ حاصل کیا۔
Read the full tafseer →سنت اللہ یہی ہے کہ لوگ اللہ کو بھلا دیتے ہیں ، وہ ان لوگوں کو بھلا دیتا ہے
19 ؎ یاد رہے کہ جو شخص اللہ کو بھلا دیتا ہے دراصل وہ اپنے آپ کو بھلا دیتا ہے اور یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی کہ میں نے اپنے آپ کو کس طرح بھلا دیا ہے اور حقیقت اس کی یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کا پیدا ہونا محض اس مقصد کے لیے ہے کہ وہ اپنی حقیقت کو سمجھ کر اپنی آخرت کو سنوارنے کی فکر کرے اور جس شخص نے آخرت کی فکر نہ کی صرف اور صرف دنیا میں گم ہو کر رہ گیا اس نے یقینا وہ گھاٹا پایا جو کبھی پورا نہیں ہو سکے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی بھول سے پاک ہے ، اس جگہ بھلا دینا اس معنی میں ہے کہ جس معنی میں ہم اس کو استعمال کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ He made them forget their own selves....59:19) It means they did not forget Allah but themselves, because they are unaware of their own loss and gain.
Read the full tafseer →28 It is a rule of the Qur'an that whenever the hypocritical Muslims are taken to task for their hypocrisy, they are given admonition also so that whoever of them has some life left in his conscience, may feel remorse for his conduct and attitude and may make an effort, out of the fear of Allah, to come out of the pit into which his worship of the self has thrown him. This whole section (vv, 18-24) consists of such admonition.
29 "For the morrow": for the Hereafter. That is, this whole worldly life is "today", whose "tomorrow" is the Day of Resurrection, which is going to follow it. Adopting…
Read the full tafseer →