Explained with ayahs 18–20
اجتماعی اور خیر کی ایک نوعیت اور انفرادی اعمال خیر
حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم دن چڑھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ کچھ لوگ آئے جو ننگے بدن اور کھلے پیر تھے۔ صرف چادروں یا عباؤں سے بدن چھپائے ہوئے تلواریں گردنوں میں حمائل کئے ہوئے تھے یہ تمام لوگ قبیلہ مضر میں سے تھے، ان کی اس فقرہ فاقہ کی حالت نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے کی رنگت کو متغیر کردیا، آپ گھر میں گئے پھر باہر آئے پھر حضرت بلال کو اذان کہنے کا حکم دیا اذان ہوئی پھر اقامت ہوئی آپ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ شروع کیا اور آیت (ترجمہ) الخ، تلاوت کی پھر سورة حشر کی آیت (ترجمہ) الخ، پڑھی اور لوگوں کو خیرات دینے کی رغبت دلائی جس پر لوگوں نے…
Read the full tafseer →سورة الْحَشْر 28
قرآن مجید کا قاعدہ ہے کہ جب کبھی منافق مسلمانوں کے نفاق پر گرفت کی جاتی ہے تو ساتھ ساتھ انہیں نصیحت بھی کی جاتی ہے تاکہ ان میں سے جس کے اندر بھی ابھی کچھ ضمیر کی زندگی باقی ہے وہ اپنی اس روش پر نادم ہو اور خدا سے ڈر کر اس گڑھے سے نکلنے کی فکر کرے جس میں نفس کی بندگی نے اسے گرا دیا ہے۔ یہ پورا رکوع اسی نصیحت پر مشتمل ہے۔
سورة الْحَشْر 29
کل سے مراد آخرت ہے۔ گویا دنیا کی یہ پوری زندگی " آج " ہے اور " کل " وہ یوم قیامت ہے جو اس آج کے بعد آنے والا ہے۔ یہ انداز بیان اختیار کر کے اللہ تعالیٰ نے نہایت حکیمانہ طریقہ سے انسان کو یہ سمجھایا ہے کہ جس طرح دنیا میں وہ شخص نادان ہے جو آج…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! (تم نے نافرمانوں کا انجام سن لیا سو تم) اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر ہر شخص دیکھ بھال لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے (یعنی اعمال صالحہ میں کوشش کرو جو کہ ذخیرہ آخرت ہیں) اور (جس طرح تحصیل طاعات و اعمال صالحہ میں تقویٰ کا حکم ہے، اسی طرح سیئات و معاصی سے بچے کے بارے میں تم کو حکم ہے کہ) اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی سب خبر ہے (پس معاصی کے ارتکاب سے اندیشہ عقوبت ہے، پس پہلا اتَّقُوا اللّٰهَ طاعات کے متعلق ہے جس کا قرینہ قدمت لغد ہے، اور دوسرا معاصی کے متعلق ہے، جس کا قرینہ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ہے) اور (آگے ان احکام کی…
Read the full tafseer →6۔ آگے آیات۔ 18۔ 24 کا مضمون
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں خطاب اگرچہ نفطا ً عام مسلمانوں سے ہے لیکن روئے سخن خاص طور پر منافقین ہی کی طرف ہے۔ ان کو متنبہ فرمایا ہے کہ ہر شخص کے لیے سب سے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ کل جو روز حساب آنے والا ہے اس کے لیے اس نے کیا کیا اور کیا کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے ہر قول و فعل سے اچھی طرح باخبر ہے۔ وہ ہر ایک کو اس کے ایک ایک عمل کا بدلہ دے گا۔ ساتھ ہی ان کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ یہود کی طرح اللہ کو بھلا نہ بیٹھو۔ جو لوگ اللہ کو بھلا بیٹھتے ہیں وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ وہ خود اپنے ہی خبر و شر سے بالکل اندھے پن کے رہ…
Read the full tafseer →18۔ 1 اہل ایمان کو خطاب کرکے انہیں وعظ کیا جارہا ہے اللہ سے ڈرنے کا مطلب ہے اس نے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے انہیں بجا لاؤ جن سے روکا ہے ان سے رک جاؤ آیت میں یہ بطور تاکید دو مرتبہ فرمایا کیونکہ یہ تقوی اللہ کا خوف ہی انسان کو نیکی کرنے پر اور برائی سے اجتناب پر آمادہ کرتا ہے۔ 18۔ 2 اسے کل سے تعبیر کرکے اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ اس کا وقوع زیادہ دور نہیں، قریب ہے۔
18۔ 3 چناچہ وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا، نیک کو نیکی کی جزا اور بد کو بدی کی جزا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
13: یعنی وہ اس بات سے غافل اور بےپرواہ ہوگئے کہ خود ان کی جانوں کے لیے کونسی بات فائدے کی اور کونسی نقصان کی ہے، اور غفلت کے عالم میں وہی کام کرتے رہے جو انہیں تباہی کی طرف لے جانے والے تھے۔
Read the full tafseer →یایھا الذین ........................ الفائزون (02) (95 : 81 تا 02) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو ، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا سامان کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ یقینا تمہارے ان سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا ، یہی لوگ فاسق ہیں۔ دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے ۔ جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔ “
تقویٰ کیا چیز ہے ؟ یہ ایک قلبی حالت ہے جس کی طرف اس لفظ کا پرتو ہی اشارہ کررہا ہے۔ لیکن الفاظ کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ تقویٰ کی حالت کی…
Read the full tafseer →9 یعنی اللہ سے ڈر کر طاعات اور نیکیوں کا ذخیرہ فراہم کرو اور سوچو کل کے لیے کیا سامان تم نے آگے بھیجا ہے جو مرنے کے بعد وہاں پہنچ کر تمہارے کام آئے۔
10 یعنی تمہارا کوئی کام اللہ سے پوشیدہ نہیں لہذا اس سے ڈر کر تقویٰ کا راستہ اختیار کرو اور معاصی سے پرہیز رکھو۔
Read the full tafseer →اب ہم اس سورت کے تیسرے اور آخری رکوع کا مطالعہ کرنے جا رہے ہیں جو بہت اہم آیات پر مشتمل ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ جب قرآن مجید کے کسی مقام یا کسی آیت کی خصوصی اہمیت کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے اس مقام یا آیت کا کوئی خاص پہلو یا خاص موضوع مراد ہوتا ہے ‘ ورنہ قرآن مجید کا تو ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف اہم ہے۔ مثلاً قرآن مجید کے بعض مقامات فلسفہ و حکمت کے اعتبار سے اہم ہیں تو بعض دوسرے مقامات سائنسی حوالے سے لائق توجہ ہیں۔ بعض آیات روح دین سے بحث کرتی ہیں تو بعض ایمان کی ماہیت واضح کرتی ہیں۔ اسی طرح ہر آیت اور ہر مقام کی اہمیت اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے ہے۔ چناچہ…
Read the full tafseer →24 خہر شخص کو آخرت کا دھیان رکھنا چاہئے :۔ کل سے مراد قیامت کا دن یا اخروی زندگی ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں اس کی دنیا کی پوری زندگی آج ہے۔ دنیا دارالعمل ہے جس کا پھل اسے عقبیٰ میں یا آخرت میں ملے گا، جو کچھ بوئے گا، وہی کچھ کاٹے گا اور جتنا بوئے گا اتنا ہی کاٹے گا۔ ان اصولوں کے تحت ہر انسان کو خود اپنا محتسب بنایا گیا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے اعمال پر خود نظر رکھے۔ اسے سیدھے اور غلط راستے، نیکی اور بدی، اچھے اور برے کی تمیز بھی عطا کردی گئی ہے اور پوری وضاحت کے ساتھ سب کچھ بتا بھی دیا گیا ہے۔ اب یہ اس کا اپنا کام ہے کہ خود دیکھتا رہے کہ وہ کون سی راہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس راہ…
Read the full tafseer →29۔ (اس لئے طاعات کی طرف بڑھنا اور معاصی سے محترز رہنا تمہارے لئے لازم ہے) (آیت) ” یایھا ..... اللہ “۔ یعنی اے ایمان والو، تمہارا محض دعوی ایمان کافی نہیں۔ نافرمانیوں سے ہمیشہ بچتے رہنا چاہئے، خصوصا ان نافرمانوں کے حالات سن لینے کے بعد (آیت) ” ولتنظر نفس ماقدمت لغد “۔ یعنی یہ دیکھتے رہا کرو کہ طاعات اور اعمال صالح کا کتنا ذخیرہ اب تک بھیج چکے، (آیت) ” اتقوا اللہ “۔ اس تقوی کا تعلق طاعات کی طرف بڑھنے سے ہے جیسا کہ (آیت) ” ما قدمت لغد سے اشارہ ہورہا ہے۔ (آیت) ” واتقو اللہ “ اس تقوی کا تعلق معاصی سے بچنے سے ہے، جیسا کہ (آیت) خبیربماتعملون “۔ سے اشارہ ہورہا ہے۔ (آیت) ” لغد “۔ غد کا صیغہ نکرہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ترجہ : اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص غور کرلے کہ کل (قیامت کے دن) کے واسطے (اعمال) کا کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے ؟ اور (ہروقت) اللہ سے ڈرتے رہو اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے اور تم ان لوگوں کے مانند مت ہوجانا جنہوں نے اللہ (کے احکام) کو بھلا دیا یعنی اس کی اطاعت کو ترک کردیا تو اللہ نے بھی انہیں ان کی جانوں سے غافل کردیا اس بات سے کہ وہ اپنی ذات کے لئے نیکی آگے بھیجیں، ایسے ہی لوگ فاسق ہوتے ہیں، اہل نار اور اہل جنت ابہم برابر نہیں، جو اہل جنت ہیں وہی کامیاب ہیں، اور اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے اور اس کے اندر انسان کے مانند شعور پیدا کردیا جاتا تو تو دیکھتا اس کو کہ خشیت…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد واتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون . ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ کل کے دن کے لیے اس نے کیا پہلے سے
بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو جو کچھ تم کرتے ہو ‘ بلاشبہ اللہ اس سے باْخبر ہے۔ “
نَفْسٌ : یعنی ہر شخص کا نفس۔
مَّا قَدَّمَتْ : کیا چیز اس نے پہلے سے بھیجی ہے ‘ نیک عمل جو نجات آخرت کا سبب ہے یا برا عمل جو آخرت میں تباہ کن ہوگا۔ دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ نیک عمل کو اختیار کرنا اور برے عمل سے استغفار کرنا اور بچنا چاہیے۔
لِغَدٍ : یعنی قیامت کے دن کے لیے۔ روز قیامت کو کل کا دن کہنے کی یہ وجہ ہے کہ (کل کے دن کی…
Read the full tafseer →اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر ایک شخص خواہ نیک ہو یا بد دیکھ بھال کرے کہ اس نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے کیونکہ قیامت میں اسی کا بدلہ ملے گا جو اس نے دنیا میں اعمال کیے ہیں اگر نیک ہیں تو اچھا اور برے ہیں تو برا اور اپنے اعمال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو وہ تمہارے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔
Read the full tafseer →1۔ یٰٰـٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہ : غزوۂ بنو نضیر میں مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کے انعامات ، یہود کی عہد شکنی کی سزا اور منافقین کی ریشہ دوانیوں اور ان کے انجام کے ذکر کے بعد تمام مسلمانوں کو نصیحت کی جا رہی ہے۔”یٰٰـٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا“ کے الفاظ کے ساتھ مخلص مسلمانوں کو بھی خطاب ہے اور منافق مسلمانوں کو بھی جو یہود سے دوستی رکھتے اور انہیں اپنی مدد کا یقین دلاتے تھے۔ دونوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور قیامت کے دن کی تیاری کی نصیحت کی گئی ہے ، تا کہ مخلص مسلمان دنیا میں ملنے والی فتوحات اور نعمتوں کی خوشی میں آخرت کی تیاری کو نہ بھول جائیں اور منافقین میں سے جن کے دلوں…
Read the full tafseer →آیات۔ 18
تفسیر
یایھا الذی امنوا اتقوا اللہ اس کے اوامر، نواہی، فرائض کی ادائیگی اور معاصی سے اجتناب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ ولتنظر نفس ما قدمت لغد غد سے مراد یوم قیامت ہے۔ عرب زمانہ مستقل کو غد سے کنایہ تعبیر کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ غد کا ذکر اس بات پر آگاہ کرنے کے لئے ہے کہ قیامت قریب ہے ؛ جس طرح شاعر نے کہا :
وان غد اللناظرین قریب دیکھنے والوں کے لئے قیامت قریب ہے۔
حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا : قیامت کو قریب کردیا یہاں تک کہ اسے غد کی طرح بنا دیا (1) ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر آنے والی چیز قریب ہے اور موت ہر صورت میں آنے والی ہے۔ ماقدمت سے مراد خیر اور شر ہے۔ واتقو اللہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
صدیق اکبر ؓ کا خطبہ
11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما قدمت لغد سے مراد ہے قیامت کا دن
12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے نعیم بن محمد الرجی (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق کے خطبہ میں سے یہ ہے۔ تم جان لو ! بیشک تم ایک مقررہ مدت میں صبح کرتے ہو شام کرتے ہو کہ اس کا علم تم سے مخفی رہ گیا ہے۔ اگر تم طاقت رکھتے ہو تو مدت گزر جائے اور تم کوئی بچاؤ کا طریقہ کرسکو تو تم ضرورایسا کرتے۔ لیکن تم ہرگز اس پر قادر نہیں ہوسکتے مگر اللہ کی اجازت سے اور ایک قوم نے اپنی عمر دوسروں کو دی تو اللہ تعالیٰ نے تم کو روکا کہ تم ان کی طرح نہ ہوجائے اور فرمایا آیت ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا : اے لوگو جو ایمان لائے ][ اتَّقُوا اللّٰهَ : تم لوگ تقوٰی اختیار کرو اللہ کا ][وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ: اور چاہیے کہ دیکھے ہر ایک جان (شخص)][ مَا قَدَّمَتْ : اس نے کہا آگے بھیجا ][لِغَدٍ : کل کے لیے ][ وَاتَّقُوا اللّٰهَ : اور تم لوگ ڈرو اللہ (کی باز پرس سے)][ان اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ: بیشک اللہ باخبر ہے ][بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اس سے جو تم لوگ کرتے ہو ]
نوٹ۔ 1 : آیت۔ 18 ۔ میں قیامت کا لفظ غد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جس کے معنی ہیں آنے والا کل۔ اس میں اشارہ ہے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا نہایت قلیل و مختصر ہے کیونکہ آخرت دائمی ہے جس کی کوئی انتہا اور انقطاع نہیں ہے۔ نیز یہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور آخرت کے لئے فکر مند ہونے کا حکم
ان آیات میں اہل ایمان کو موت کے بعد کے احوال درست کرنے اور وہاں کے لئے فکر مند ہونے کا حکم دیا ہے، ارشاد فرمایا۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور ہر جان یہ غور کرلے کہ اس نے کل کے لئے اپنے آگے کیا بھیجا ہے پھر دوبارہ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ فرمایا اور اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا، بعض علماء نے فرمایا ہے کہ پہلا اتَّقُوا اللّٰهَ گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے کے لئے فرمایا ہے اور دوسرا اتَّقُوا اللّٰهَ جو فرمایا ہے اس میں آئندہ گناہ کرنے سے پرہیز کرنے کا حکم دیا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ پہلا حکم ادائے فرائض اور واجبات کی اہمیت دلانے کے لئے ہے اور دوسرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
دعوت تقوی وفکر آخرت برائے اھل ایمان مع ذکر عظمت رب ذوالجلال والاکرام :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ..... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کی سازشوں اور اسلام کے خلاف ان کی معاندانہ سرگرمیوں کا ذکر تھا، تو اب ان آیات میں اہل ایمان کو تقوی اور فکر آخرت کی دعوت دی جارہی ہے اس لیے کہ ایمان وتقوی اور فکر آخرت ہی مسلمان قوم کے لیے ہر عزت و غلبہ اور ترقی کا باعث ہے وہ عظیم وصف ہے جس کے باعث مسلمان اپنے دشمن کی ہر سازش سے محفوظ رہتا ہے تو ارشاد فرمایا۔
اے ایمان والو ! ڈرتے رہو خدا سے اور ہر متنفس کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کیا بھیجا ہے کل آنے والے…
Read the full tafseer →18:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ حضرت شیخ قد سرہ کے نزدیک یہ پہلے منافقین سے کمتر منافقوں پر زجر ہے۔ اس صورت میں ایمان سے ایمان باللسان مراد ہوگا۔ یا خطاب ایمان والوں سے ہے اور تنبیہ منافقین کو مقصود ہے یا یہ منافقین کے زجر و تنبیہ کے بعد مخلصین کے لیے وعظ و ارشاد ہے اپنے تمام ظاہر و باطن اعمال و افعال میں اللہ سے ڈرو، اس کے اوامر کی تعمیل کرو اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو۔ اور ہر فرد بشر یہ دیکھے کہ وہ آخرت کیلئے کیا سامان تیار کر رہا ہے۔ جہاں اس کے ہر نیک و بد عمل کی پوری پوری جزاء ملے گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام ظاہر و باطن اعمال سے باخبر ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ربط آیات :
پہلے اللہ نے منافقوں اور اہل کتاب کا ذکر فرمایا کہ یہ دونوں گروہ نافرمانوں میں شامل ہیں ، اور شیطان کے بہکاوے کا شکار ہوچکے ہیں۔ پھر اللہ نے نافرمانوں کا انجام بھی بیان فرمایا ، اور اہل ایمان کو خبردار کیا کہ وہ نافرمانوں کی روش سے اپنے آپ کو بچائیں۔
آخرت کی فکر :
اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب فرمایا ہے۔ یایھا الذین امنوا ، اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، اتقوا اللہ ، اللہ تعالیٰ سے ڈر جائو۔ مطلب یہ کہ منافق اور اہل کتاب تو خدا تعالیٰ اور آخرت سے بےخوف ہوچکے ہیں مگر تم ایسے نہ ہوجانا۔ اور دوسری بات یہ والتنظرنفس ما قدمت لغد ، اور ہر نفس کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ 0 ۚ وَاتَّقُوا اللہَ 0 ۭ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 18
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
تفسیر : اہل سعادت اور اہل شقاوت کا ذکر کر کے اہل سعادت کو ان کے اصول سعادت کی طرف متوجہ کرتا ہے جو دارین میں اس کے لیے کافی ہیں۔ فقال یا ایہا الذین آمنوا اتقواللہ واضح ہو کہ انسانی سعادت کے دو حصے ہیں۔ اول قوت نظریہ کی تکمیل ‘ جہل بسیط و جہل مرکب کی ظلمات سے نجات پانا۔ علم کی روشنی میں خدا تعالیٰ کی صفات و ذات اور دیگر امور ضروریہ کو واقعی طور پر یقین کر کے توہمات و تخیلات باطلہ کی دلدل سے گزر جانا۔ اس کو شرع میں ایمان کہتے ہیں۔ جن کو یہ صفت حاصل ہوگئی ہے ان کو ایمان والے کہتے ہیں۔ بس وہ ایمان والوں کو اس پر ثابت رہنے یا اس میدان میں ترقی کرنے کے لیے تقویٰ کا حکم دیتا ہے۔ تقویٰ اللہ سے ڈرنا…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ج وَاتَّقُواللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (الحشر : 18)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، اور چاہیے کہ ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو جاننے والا ہے۔ )
انسان کی اصلاح سے متعلق بنیادی ہدایات
اس آیت کریمہ میں خطاب اگرچہ عام مسلمانوں سے ہے لیکن سیاق وسباق بتارہا ہے کہ روئے سخن ان منافقین کی طرف ہے جن کا ذکر اس سورة میں مسلسل چلا آرہا ہے۔ اور ویسے بھی قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ جب بھی منافق مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
فہم القرآن
ربط کلام : جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے ہر انسان کو اللہ سے ڈرنا اور قیامت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
اس سے پہلی آیات میں یہ بیان ہوا کہ کفار اور منافق اللہ سے ڈرنے کی بجائے لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ حالانکہ انسان کو صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ اسی اصول کے پیش نظر ایمانداروں کو حکم دیا ہے کہ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے آنے والے کل یعنی قیامت کے لیے کیا بھیجا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو جو تم عمل کرتے ہو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے پوری طرح جاننے والا ہے۔ اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے ” اللہ “ کو فراموش کردیا۔ جب انہوں نے ” اللہ “ کو فراموش کیا…
Read the full tafseer →18 : یٰـٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ (اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو) اس کے اوامر کے سلسلہ میں اور ان کی خلاف ورزی مت کرو۔ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ (اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے)
ایک نکتہ :
نفسٌ کو نکرہ لائے کیونکہ آخرت کی طرف دھیان کرنے والے نفس قلیل ہیں۔
مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (کہ کل کے دن کیلئے اس نے کیا پہلے بھیجا ہے) غدؔ سے قیامت کا دن مراد ہے اس کو ذہن کی تقریب کیلئے اس دن سے تعبیر فرمایا جو آج کے دن سے متصل ہے یا نمبر 2۔ اس کو اس لئے غد سے تعبیر کیا گویا دنیا اور آخرت دونوں ہیں ایک آجکا دوسرا کل کا۔ اور پھر غدٍؔ کو نکرہ لاکر اس کی عظمت کو بڑھایا۔ کہ ایساکل جس کی عظمت…
Read the full tafseer →17 ۔” فکان عاقب تھا “ یعنی شیطان اور اسی انسان کی ” انھما فی النار خالدین فیھا وذلک جزاء الظالمین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ مثال اہل مدینہ کے یہود بنو نضیر اور بنو قریضہ کی بیان کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا بنو نضیر کو مدینہ سے جلاوطن کرنے کا تو منافقین نے ان کی طرف ایک سازش کی کہ جس کی طرف محمد (ﷺ ) نے تمہیں بلایا ہے تم اس کو قبول نہ کرو اور اپنے گھروں سے نہ نکلو۔ پس اگر انہوں نے تم سے قتال کیا تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اگر ہم تمہیں نکالو گے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے تو انہوں نے ان کی بات مان لی اور اپنے قلعوں کے دورازے بند کرلیے اور اپنے شہروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
15۔ 24۔ مجاہد 1 ؎ کے قول کے حوالہ سے تفسیر سدی اور تفسیر مقاتل بن حیان میں اس آیت کی تفسر یوں کی ہے کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد وہ کفار قریش ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے مگر امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اس تفسیر کے مخالف ہیں وہ یہ فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلا وطنی بنی نضیر کی جلا وطنی سے پہلے ہوئی جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل اس قصہ کا اسی قدر ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبد اللہ بن سلام ہیں۔ اس قبیلہ سے اور آنحضرت ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر ان کی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی اپنے بندوں کو ان امور کا حکم دیتا ہے جن کا ایمان موجب ہے اور کھلے چھپے تمام احوال میں التزام تقوی کا تقاضا کرتا ہے نیز یہ کہ وہ ان اوامر وحدود کی رعایت رکھیں جن کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا ہے اور اس بات پر غور کریں کہ ان کے فرائض کیا ہیں اور ان کے لیے عنایات کیا ہیں اور انہوں نے کون کون سے اعمال کیے جوا نہیں قیامت کے روز نفع و نقصان دیں گے ؟ کیونکہ جب وہ آخرت کو اپنا نصب العین اور اپنے دلوں کا قبلہ بنالیں گے اور آخرت میں قیام کا اہتمام کریں گے تو وہ کثرت اعمال کی کوشش کریں گے اور جو اس نصب العین تک پہنچاتے ہیں اور ایسے قواطع طریق سے اس کو پاک کرتے ہیں جو انہیں سیر و سلوک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔
صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟
قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →[ 46] تقویٰ و پرہیزگاری وسیلہ نجات و سرفرازی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم ہمیشہ ڈرتے رہا کرو اللہ سے۔ سو یہود و منافقین کے حالات کے بیان کے بعد اب اہل ایمان کو خطاب کرکے ان کو خاص ہدایات سے نوازا جا رہا ہے کہ اعداء و مخالفین کے عیوب ذکر کرنے کے بعد نصیحت زیادہ اثر انگیز ہوتی ہے، اور ان کو خطاب بھی وصف ایمان کے ذکر کے ساتھ فرمایا گیا ہے، کہ اس میں ان کے لئے اعزاز بھی ہے کہ ایمان ہی ان کی اصل پہچان اور سب سے بڑی نعمت ہے۔ نیز اس میں تقویٰ و عمل کی ترغیب بھی ہے کہ یہی چیز تمہارے لائق، اور تمہارے صف ایمان کا لازمی تقاضا اور اس کا نتیجہ وثمرہ ہے یعنی تمہارے ایمان کا تقاضا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
مسلمانوں کا کردار اللہ اور قرآن کی صفات
تشریح : قرآن پاک کا یہ اصول ہے کہ ڈر اور خوشخبری دونوں ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے۔ پچھلی آیات میں برے لوگ اور ان کے برے انجام کا ذکر تھا تو یہاں اچھے لوکوں کی تعریف کی گئی ہے کہ یاد رکھو تمہارے لیے جنت کے باغات اور تمام رحمتیں ہیں تم اور وہ لوگ جو جہنم کے وارث ہوئے ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا خوش نصیب لوگوں کا کام ہے آیت 21 کی وضاحت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب یوں کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔ ، اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح اللہ کی کبریائی، اس کے حضور بندے کی جواب دہی کو صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
آیات 18 تا 24۔
اسرار ومعارف۔
اب کلام مومنین کی طرف موڑتے ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والوعظمت الٰہی کو ہمیشہ دھیان میں رکھو اور ایمان وعمل ہجرت و جہاد سب اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے کیا جاتا ہے جس میں خلوص بنیادی شرط ہے لہذا یہ دیکھتے رہو کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کل یعنی آخرت کے لیے کیا سامان روانہ کررہا ہے کہ ہر عمل کا تعقل جہاں دنیا کے فائدے سے ہے وہاں اس پر آخرت کا اجر بھی مرتب ہوتا ہے اور آخرت مقصود ہے کہ اللہ کی رجا کا مظہر ہے لہذا وہ کام جس میں آخرت کی کامیابی ہو اور دنیا بھی سنورتی ہو بہت اچھا لیکن اگر آخرت کے لیے دنیا چھوڑنا بھی پڑے جیسے ہجرت جہاد وغیرہ تو مبارک ہے مگر کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 2 یعنی اپنی نجات کی فکر سے غافل ہوگئے اور اس بنا پر گناہوں میں پڑے ہے اور عذاب آخرت سے بچنے کے لئے نیک اعمال کی راہ اختیار نہ کی۔
Read the full tafseer →(59:18) اتقوا اللہ : اتقوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم ڈرو۔ اللہ مفعول فعل اتقوا کا۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ تم اللہ سے ڈرو۔
لتنظر : امر کا صیغہ واحد مؤنث غائب نظر (باب نصر) مصدر۔ نفس ان شخص، ہر جان کو چاہیے کہ وہ دیکھے۔ ل ۔ لام امر ہے۔
ماقدمت : ما موصولہ۔ قدمت ماضی واحد مؤنث غائب۔ تقدیم (تفعیل) مصدر بمعنی آگے بھیجنا۔ مقدم کرنا۔ سامنے ہونا۔ سامنے لانا۔ جو اس نے آگے بھیجا ہے ۔ آگے سے مراد روز قیامت ہے۔ یعنی ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے دنیاوی زندگی میں آخرت کے لئے کیا کمایا ہے۔
لغد۔ ل ۔ ظرف کو ظاہر کرنے کے لئے۔ غد۔ فردا۔ کل آئندہ۔ مجازا روز قیامت لغد روز قیامت کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
لغات القرآن۔
نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔
تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
اللہ تعالیٰ کی یاد ہر دم رکھنی چاہیے ورنہ شدید پچھتاوا ہوگا۔
(ف 1) ہر ایماندار کو چاہیے کہ اپنے نیک عملوں پر کبھی کبھی نظر ڈال لیاکرے کہ قیامت کے لیے اس نے کیا سامان آگے بھیجا کیونکہ قیامت کے دن جنت کے درجے نیک عملوں کے موافق تقسیم ہوں گے اس لیے اس دن ہر ایک کو نیک عملوں کی بڑی قدر ہوگی ۔ چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمد بن ابی عمرہ صحابی سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو شخص تمام عمر نیک عملوں میں مصروف رہے اس کو بھی قیامت کے دن یہ پچھتاوا رہے گا کہ اس نے اور زیادہ نیک عمل کیوں نہیں کیے اس مضمون کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں نیک عملوں کی ترغیب کے بعد ایماندار لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
[21] یعنی اس کے احکام سے بےپروائی کی۔
[22] یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی مت ماری کہ خود اپنے نفع حقیقی کو نہ سمجھا اور نافرمانیوں میں غرق ہو کر دائمی خسارے اور ابدی ہلاکت میں پڑگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ف 1: پہاڑ کی صلابت اور سخی مسلم ہے ۔ مگر قرآن کی اثر اندازی کا یہ عالم ہے ۔ کہ اگر کہیں یہ سن پاتے ۔ تو نالہ وشیون سے کلیجہ پھٹ جائے یہ تو انسانوں کی محرومی ہے ۔ کہ وہ اس عبرت آفرین کلام کو پڑھتے ہیں ۔ مگر بدستور گمراہی میں پھنسے رہتے ہیں ۔ ورنہ اس کے اثرونفوز میں بالکل شبہ نہیں ہے ۔
حل لغات :۔ لو انزلنا ۔ یعنی نزول کے لئے جن شرائط کا ہونا لازم ہے ۔ اگر وہ پہاڑ ایسی سخت اور بےحس چیز کے لئے بھی مہیا کردی جائیں ۔ تو تم دیکھتے کہ وہ قرآن کی ذمہ داری کو کیونکر خشوع اور خضوع کے ساتھ برداشت کرتا ہے ۔
Read the full tafseer →(18) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور متنفس اور ہر شخص اور ہر جی کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس نے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یقین جانو ! جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو اس سب کی خبر ہے۔ اوپر منافقین اور بنی نضیر وغیرہ کا بیان تھا اس کے بعد مسلمانوں کو خطاب فرمایا چناچہ ارشاد فرمایا اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرا کرو یعنی طاعات اور اعمال صالحہ کے بجا لانے میں خوب سعی کیا کرو اور تم میں سے ہر شخص اس امرکا خیال رکھے اور دیکھتا رہے اور اس امر کی فکر کرتا رہے کہ کل کے لئے اس نے آگے کیا بھیجا۔ کل سے مراد قیامت ہے یعنی عالم آخرت کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 4۔ یعنی عمل بالاحکام کو ترک کردیا، اس طرح کہ اوامر کے خلاف کیا اور نواہی کا اقتراف کیا۔
5۔ یعنی ان کی ایسی عقل ماری گئی کہ خود اپنے نفع حقیقی کو نہ سمجھا اور نہ حاصل کیا۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ ہوشیار ہو جائو ، اللہ تمہارے اعمال سے با خبر ہے
18 ؎ ایمان کا دعویٰ کرنے کے بعد اعمال کا درست ہونا بھی ضروری ہے۔ صرف دعویٰ ایمان کسی کام کی چیز نہیں ہے۔ پھر دعویٰ کرنے والوں میں کمزور کردار کے لوگ بھی ہوتے ہیں ، مضبوط اور اچھے کردار کے بھی ۔ ان سب کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ گزشتہ آیتوں میں یہود کی عہد شکنی و غداری کا حال تم لوگ پڑھ چکے ہو اور ان کی سزا بھی تم کو سنا دی گئی ہے تاکہ تم اس نامراد مرض سے بچ جائو اور اس طرح منافقین کی چالوں اور حالتوں سے تم کو اچھی طرح واقفیت حاصل ہوچکی ہے اور یہ سب کچھ اس لیے کہا سنا گیا ہے تاکہ تم ان بیماریوں سے بچ…
Read the full tafseer →Commentary
The Command to Taqwa and to prepare for the Day of Resurrection
The earlier parts of Surah Al-Hashr has described different events relating to the Jews, the pagans and the hypocrites and their punishments in this world and in the next. Now the concluding part of the Surah makes the believers conscious of their duty towards Allah and advises them to perform the righteous deeds regularly.
The first verse in this set reads يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ those who believe, fear Allah, and everybody must consider what he [ or…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
27 That is, "These hypocrites arc treating the Bani an-Nadir in much the same way as Satan treats men. Today they are urging them to stand firm and go forth and clash with the Muslims making them believe that they would come to their aid, but when they actually clash with the Muslims, they would renounce their pledges and promises and would never even look back to see their fate. The same way does Satan treat every disbeliever, and a similar treatment had he given to the disbelieving Quraish at Badr, as has been mentioned in Surah al-Anfal: 48 above. First. he incited them with false hopes…
Read the full tafseer →