59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 59:1–2

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے کفار اہل کتاب کو حشر اول کے وقت ان کے گھروں میں سے نکال دیا۔ تمہارے خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ لوگ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ انکے قلعے انکو خدا (خدا کے عذاب) سے بجا لیں گے مگر خدا نے ان کو وہاں سے آلیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے۔ تو اے بصیرت کی آنکھیں رکھنے والو عبرت پکڑو۔

آیات۔ 1۔ 2 تفسیر اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ ھو الذی اخرج الذی کفروا من اھل الکتب من دیارھم حضرت سعید بن جبیر نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا ؛ یہ سورة حشر ہے ؟ فرمایا : کہو سورة ٔنضیر یہ ؛ یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھا جب بنو سرائیل مصائب کا شکار ہوئے تو یہ لوگ حضرت محمد ﷺ کے انتظار میں مدینہ طیبہ آکر رہائش پذیر ہوئے۔ انہوں نے یہ اس لئے کیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون (علیہ السلام) پر اس امر کو بیان کیا تھا (1) ۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ لاول الحشر حشر کا معنی جمع ہونا ہے۔ اس کی چار صورتیں ہیں : دو حشر دنیا میں اور دو حشر آخرت میں ہونگے۔ جو دنیا میں ہوگا اس کی طرف اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیارھم لاول الحشر زہری نے کہا : وہ ایسے خاندان سے تھے انہیں جلا وطنی کی معیت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا اللہ تعالیٰ نے ان پر جلا وطنی کو فرض کیا اگر ایسا نہ ہوتا تو انہیں دنیا میں عذاب دیتا (2) ۔ اول حشر سے مراد ہے کہ وہ دنیا میں شام کی طرف جمع کئے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عکرمہ نے کہا : جسے اس میں شک ہو کہ کیا محشر شام میں ہے تو وہ اس آیت کو پڑھے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا :” تم یہاں سے نکل جائو “۔ انہوں نے عرض کی : کہاں جائیں ؟ فرمایا :” ارض محشر کی طرف “۔ حضرت قتادہ نے کہا : یہ پہلا حشر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ وہ پہلے اہل کتاب ہیں جنہیں نکالا گیا ہے اور حضور ﷺ کے ملک سے جلا وطن کیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں خیبر کی طرف جلا وطن کیا گیا۔ اور لاول الحشر کا معنی ہے انہیں ان کے قلعوں سے خیبر کی طرف نکالا گیا۔ اور دوسرا حشر حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں کیبر سے نجد اور اذرعات کی طرف جلا وطن کیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تیمار اور اریحاء کی طرف جلا وطن کیا گیا۔ ان کو یہ سزا ان کے کفر اور وعدہ توڑنے کی وجہ سے دی گئی۔ جہاں تک دوسرے حشر کا تعلق ہے : یہ قیامت کے قریب ہوگا۔ حضرت قتادہ ؓ نے کہا : ایک آگ ظاہر ہوگی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک کرلے جائے گی جہاں لوگ رات گزاریں گے وہ بھی وہاں ہی رات گزارے گی، جہاں وہ قیلولہ کریں گے وہاں آگ بھی قیلولہ کرے گی اور جو پیچھے رہ جائے گا وہ انہیں کھا جائے گی۔ یہ حدیث صحیح، ثابت ہے ہم نے اسے ” کتاب التذکرہ “ میں ذکر کیا ہے۔ اس کی مثل اب وہب نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے کہا : میں نے امام مالک سے عرض کی : اس حشر سے مراد ان کو ان کے گھروں سے جلا وطن کرنا ہے ؟ آپ نے مجھے فرمایا : قیامت کے روز حشر، یہود کا حشر ہوگا فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو خیبر کی طرف جلاوطن کیا جب ان سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے چھپایا، اس وجہ سے ان کی جلا وطنی حلال ہوگئی۔ ابن عربی نے کہا : حشرتین ہیں پہلا، درمیانی اور آخری۔ پہلا بنو نضیر کی جلاوطنی ہے۔ درمیانی بنو نضیر کی خیبر کی طرف جلا وطنی ہے ؛ آخری قیامت کے روز ان کو ہانکنا ہوگا۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے : مراد بنو قریظہ ہیں۔ باقی مفسرین نے ان کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا : بنو قریظہ کو جلا وطن نہیں کیا گیا تھا بلکہ انہیں قتل کیا گیا تھا ؛ ثعلبی نے اس کی حکایت بیان کی ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ال کیا طبری نے کہا : اہل حرب سے آج اس شرط پر صلح کرنا کہ بغیر کسی شرط کے انہیں ان کے گھروں سے جلا وطن کردیا جائے یہ جائز نہیں یہ ابتداء اسلام میں تھا پھر اسے منسوخ کردیا گیا آج یا تو انہیں قتل کردیا جائے گا، انہیں قیدی بنا لیا جائے گا یا ان پر جز یہ نافذ کردیا جائے گا۔ ماظننتم ان یخرجوا مراد یہ ہے کہ یہودیوں کا معاملہ مسلمانوں کے دلوں میں بڑا عظیم تھا، وہ بڑے محفوظ تھے، قوی تھے اور بڑے متحد تھے اس لئے مسلمان یہ گمان نہیں کرتے تھے۔ وظنوا انھم ما نعتھم حصو نھم ایک قول یہ کیا گیا : قلعوں سے مراد وطیح، نطاہ، سلالم اور کتیبہ یہ۔ من اللہ یعنی اللہ کے حکم سے۔ وہ بڑے اسلحہ اور محفوط قلعوں والے تھے ان میں سے کوئی چیز بھی محفوظ نہ رکھ سکی۔ فاتتھم اللہ اللہ تعالیٰ کا امر اور اس کا عذاب انہیں آپہنچا۔ من حیث لم یحتسبوا جہاں انہیں گمان تک نہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جہاں سے انہیں علم نہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد کعب بن اشرف کا قتل ہے ؛ یہ قول ابن جریج، سدی اور ابو صالح نے کیا ہے۔ وقذف فی قلوبھم الرعب ان کے سردار کعب بن اشرف کے قتل کے ساتھ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ جس صحابی نے اسے قتل کیا تھا وہ حضرت محمد بن مسلمہ حضرت ابو نائلہ سلکان بن سلالہ بن وقش (جو کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی تھے) حضرت عباد بن بشر بن وقش، حضرت حارث بن اوس بن معاذ اور حضرت ابو عبس بن جبر ؓ تھے اس کا واقعہ سیرت کی کتاب میں مشہور ہے۔ حدیث صحیح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے “ (1) ۔ تو بنی نضیر کا محلہ جو ایک میل کی مسافت پر تھا وہاں آپ کی مدد کیوں نہ کی جاتی۔ یہ حضرت محمد ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے یہ شرف کسی اور کو حاصل نہیں۔ یخربون بیوتھم عام قراءت تخفیف کے ساتھ ہے۔ یہ اخرب سے مشق ہے یعنی وہ گرا دیتے ہیں۔ سلمی، حضرت حسن بصری، نصر بن عاصم، ابو العالیہ، قتادہ اور ابو عمرو نے یخربون قراءت کی ہے۔ یہ تخریب سے مشق ہے۔ حضرت ابو عمرو نے کہا : میں نے تشدید کو اس لئے پسند کیا ہے کیونکہ اخراب کا معنی ہوتا ہے کسی شے کو رہائش کے بغیر بےآباد چھوڑنا، جبکہ بنو نضیر نے اسے اس طرح نہیں چھوڑا تھا انہوں نے اسے گرا کر برباد کیا تھا۔ اس کی تائید اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کرتا ہے : بایدیھم وایدی المومنین دوسرے علماء نے کہا : تخریب اور اخراب کا معنی ایک ہی ہے اور تشدید، تکثیر کے معنی میں ہے۔ سیبویہ نے کہا : فقلت اور افعلت کا معنی ایک جیسا ہے جس طرح اخربتہ اور خربتہ، افرحتہ اور فرحتہ، ابو عبید اور ابو حاتم نے پہلے قول کو پسند کیا ہے۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا : مومن باہر سے انہیں اکھیڑ رہے تھے تاکہ اندر داخل ہوں اور یہودی اندر سے اکھیڑ رہے تھے تاکہ ان کے قلعے جو خراب کیے جا رہے ہیں انہیں درست کریں۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر صلح کی تھی کہ وہ نہ آپ ﷺ کے خلاف کسی کی مدد کریں گے اور نہ آپ ﷺ کی مدد کریں گے۔ جب غزوہ بدر کے روز آپ کو فتح نصیب ہوئی تو انہوں نے کہا : یہی وہ نبی ہیں جن کی تورات میں صفت بیان کی گئی ہے ؛ تو اس کے جھندے کو لوٹا یا نہیں جاسکے گا (یعنی انہیں شکست نہ ہوگی) ۔ جب غزوہ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انہیں شک پڑگیا اور انہوں نے اپنے معاہدہ کو توڑ دیا۔ کعب بن اشرف چالیس سواروں کو لے کر مکہ مکرمہ گیا، کعبہ معظمہ کے پاس ان کے ساتھ معاہدہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت محمد بن مسلمہ انصاری کو حکم دیا تو اس نے کعب کو ایک چال کے ذریعے قتل کردیا پھر صبح کے وقت ان پر لشکروں سے حملہ کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا :” مدینہ طیبہ نکل جائو “۔ انہوں نے کہا : اس سے موت ہمیں زیادہ پسندیدہ ہے۔ انہوں نے جنگ کے لئے اپنے حمایتیوں کو دعوت دی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے دس روز کے لئے رسول اللہ ﷺ سے مہلت طلب کی تاکہ وہ یہاں نکل جانے کی تیاری کرلیں۔ عبد اللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں نے انہیں خفیہ پیغام بجھوایا کہ وہ قلعوں سے نہ نکلیں۔ اگر مسلمان تم سے جنگ کریں تو ہم تمہارے ساتھ ہونگے اور تمہیں بےیارومددگار نہیں چھوڑیں گے۔ اگر تمہیں یہاں سے نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے، تو اکیس دنوں تک ان کی گلیوں اور قلعوں میں محبوس رکھا گیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور یہودی منافقوں کی مدد سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے صلح کا مطالبہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے جلا وطنی کے سوا کسی بات پر اتفاق نہ کیا (1) ۔ جس کی وضاحت بعد میں آرہی ہے۔ زہری، ابن زید اور حضرت عروہ بن زبیر نے کہا : جب نبی کریم ﷺ نے ان سے اس بات پر صلح کرلی کہ ان کیلئے وہ کچھ ہوگا جو اونٹ اٹھا کرلے جاسکے، تو وہ جو لکڑیاں اور ستون اچھے خیال کرتے تو اپنے گھروں کو گراتے اور انہیں اپنے اونٹوں پر باندھ لیتے باقی ماندہ کو مومن برباد کردیتے۔ ابن زید سے یہ بھی مروی ہے، وہ اپنے گھروں کو اس لئے گرا رہے تھے تاکہ بعد میں مومن ان میں نہ رہیں، حضرت ابن عباس ؓ عنما نے کہا : مسلمان جب بھی ان کے گھروں میں سے کسی گھر پر غالب آئے تو اسے گرا دیتے تاکہ جنگ کا میدان وسیع ہوجائے جبکہ یہودی اپنے گھروں کی پچھلی جانب سے سوراخ کرتے تاکہ پچھلے گھر میں قلعہ بند ہوجائیں اور جس گھر سے نکالے گئے ہیں اس سے مومنوں پر تیر چلائیں (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تاکہ ان پر گلیوں کو بند کردیں۔ عکرمہ نے کہا : بایدیھ کا مصداق یہ ہے کہ وہ ان گھروں کے داخلی حصہ اور اس میں جو کچھ ہے اس کو برباد کرتے تاکہ مسلمان انہیں اپنے کام میں نہ لاسکیں۔ اور ایدی المومنین سے مراد ہے مومن ان کو باہر سے برباد کررہے تھے تاکہ اس کے ذریعے وہ یہودیوں تک پہنچ سکیں۔ عکرمہ نے کہا : ان کے مکانات بڑے اعلیٰ تھے تو انہوں نے مسلمانوں کے بارے میں حسد کیا کہ وہ ان گھروں میں رہائش اختیار کریں انہوں نے اندر کی جانب سے انہیں برباد کیا اور مومنوں نے باہر کی جانب سے انہیں برباد کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ وعدہ کو توڑ کر اپنے گھروں کو برباد کرتے ہیں اور وایدی المومنین سے مراد جنگ کرکے برباد کرتے ہیں ؛ یہ زہری کا قول ہے۔ اور عمرو بن علاء نے کہا : بایدیھم سے مراد ہے خود انہیں چھوڑنے کے ساتھ اور و ایدی المومنین سے مراد ہے مومنوں نے انہیں جلا وطن کیا۔ ابن عربی نے کہا : جب فساد کے لئے کوئی چیز پکڑی جائے تو اگر ہاتھوں کے ساتھ ہو تو یہ حقیقی معنی میں ہوگا اور جب وعدہ توڑنی کی صورت میں ہو تو یہ مجازی معنی میں ہوگا، مگر مجاز میں زہری کا قول ابو عمرو بن علاء قول سے زیادہ اچھا ہے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار۔ اے دانشمند ! نصیحت حاصل کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اے وہ شخص جو اپنی آنکھوں سے اسے دیکھتا ہے ! یہ بصر کی جع ہے یہاں عبرت حاصل کرنے سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو چھوڑ کر قلعوں پر اعتماد کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ان سے نیچے اتار فو۔ اس کی صورتوں میں سے ایک صورت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسی ذات کو مسلط کردیا جو ان کی مدد کرتی تھی۔ اس کی صورتوں میں سے ایک صورت یہ بھی تھی انہوں نے اپنے اموال اپنے ہاتھوں سے برباد کیے۔ جو آدی غیر سے عبرت حاصل نہیں کرتا تو اس کی ذات سے عبرت حاصل کی جاتی ہے۔ امثال صحیحہ میں سے سعادت مندوہ ہے جو غیر سے نصیحت حاصل کرے۔
Ayahs 59:3–4

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر خدا نے ان کے بارے میں جلا وطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا تو انکو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیئے آگ کا عذاب (تیار) ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا کی مخالفت کرے تو خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔

آیات۔ 3۔ 4 ولولا ان کتب اللہ علیھم الجلاء یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں جلاوطنی کا فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور وہ ایک عرصہ وہاں ہی رہتے تو ان میں سے بعض ایمان لاتے اور ان کے ہاں ایسے بچے جنم لیتے جو ایمان لاتے۔ لعذ بھم فی الدنیا تو اللہ تعالیٰ دنیا میں انہیں قتل اور قید کی صورت میں عذاب دیتا جس طرح اس نے بنی قریضہ کے ساتھ کیا ہے۔ جلا وطنی سے مراد اپنے وطن کو چھوڑنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے :۔ جلا بنفسہ جلاء اجلاہ غیر اجلائ۔ جلاء اور اخراج اگرچہ دونوں کا معنی دور کرنا ہے تاہم دو وجوہ سے فرق ہے۔ (1) جلا وطنی اہل اور اولاد کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور اخراج کبھی اہل اور اولاد کو وہاں ہی رکھنے کی صورت میں ہوا کرتا ہے۔ (2) جلا وطنی صرف جماعت کے لئے ہوتی ہے اور اخراج کبھی ایک کے لئے اور کبھی جماعت کے لئے ہوتا ہے ؛ یہ ماوردی کا قول ہے۔ ذلک یعنی وہ جلا وطنی بانھم شاقوا اللہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی ومن یشاق اللہ طلحہ بن مصرف اور محمد بن سمیقع نے پڑھا۔ ومن یشاقو اللہ یعنی ہم جنس حروف کو اظہار کی سمت میں پڑھا ہے ؛ جس طرح سورة انفال میں ہے باقی قراء نے ادغام کیا ہے۔
Ayah 59:5

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

(مومنو) کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا انکو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا سو خدا کے حکم سے تھا اور مقصود یہ تھا کہ نافرمانوں کو رسوا کرے۔

آیات۔ 5۔ اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ ماقطعتم من لینۃ، ما محل نصب میں ہے اس کو قطعتم نصب دے رہا ہے (1) گویا فرمایا : تم نے کس چیز کاٹا ؟ اس کی وجہ یہ نبی جب نبی کریم ﷺ نے ان کے قلعوں کا محاصرہ کرلیا۔ وہ بویرہ تھے یہ اس وقت ہوا جب انہوں نے حضور ﷺ کے خلاف غزوہ احد کے موقع پر قریش کی مدد ی۔ آپ نے ان کے کھجوروں کے درخت کاٹنے اور انہیں جلانے کا حکم دیا۔ علماء نے اس کی تعداد میں اختلاف کیا ہے۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا : صحابہ نے ان کے چھ کھجوروں کے درختوں کو کاٹا اور انہیں جلایا۔ محمد بن اسحاق نے کہا : صحابہ نے ایک درکت کو کاٹا اور اسے جلایا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے منع نہ کرنے کی وجہ سے تھا یا حضور ﷺ نے اس کا حکم دیا تھا۔ مقصود یا تو انہیں کمزور کرنا تھا یا ان درختوں کو کاٹ کر جگہ کو کھلا کرنا تھا۔ یہ امر یہودیوں کیلئے بڑا تکلیف دہ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا : اے محمد ! ﷺ کیا تم یہ گمان نہیں کرتے کہ تم نبی ہو اور اصلاح چاہتے ہو، کیا یہ کھجوروں کے درختوں کا کاتنا اور درختوں کو جلانا اصلاح احوال میں سے ہے ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے جو آپ پر نازل کیا ہے اس میں زمین میں فساد برپا کرنا مباح ہے ؟ یہ بات حضور ﷺ کے لئے بڑی تکلیف دہ ہوئی اور مومنوں نے بھی اپنے دلوں میں ایس ہی بات پائی اور انہوں نے آپس میں اختلاف رائے کا اظہار کیا۔ بعض نے کہا : اللہ تعالیٰ نیج تمہیں مال عطا کیا ہے اسے نہ کاٹو۔ بعض نے کہا : ان درختوں کو کاٹ دو تاکہ ہم ان کو غضب ناک کریں۔ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی تاکہ جنہوں نے درخت کاٹنے سے منع کیا تھا ان کی تصدیق کی جائے اور جنہوں نے انہیں کاٹا تھا ان سے گناہ کو ختم کرنے کا اعلان ہو۔ اور اس امر کی خبر دی کہ انہیں کاٹنا اور ان کا ترک کرنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔ ان کے شاعر سماک یہودی نے اسے بارے میں یہ اشعار کہے تھے۔ الئنا ورثنا الکتاب الحکیم علی عھد موسیٰ ولم نصدف کیا ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں کتاب حکیم کے وارث نہیں بنے اور ہم نہیں پھرے۔ وائتم رعاء لشاء عجاف بسھل تھا مۃ والاخیف تم تہامہ اور اخیف کے میدانی علاقہ میں دہلی بکریاں چرانے والے ہو۔ تم ہلاک کرنے والے زمانہ میں بکریاں چرانے کو اپنے لئے بزرگی خیال کرتے ہو۔ فیا ایھا الشاھدون انتھوا عن الظلم و المنطق المونف اے حاضرین ! اس ظلم اور ترش گفتگو سے رک جائو۔ لعل اللیالی و صرف الدھور یدلن من العادل المنصف ممکن ہے یہ مصائب اور حادثات زمانہ حکومت ایک عادل منصف کو دے دیں۔ بقتل النضیر و اجلاء ھا و عقر النخیل و لم تقصف جو بنو نضیر کو قتل کیا گیا، انہیں جلا وطن کیا گیا اور کھجور کے ان درختوں کو کاٹ دیا گیا جن کا پھل ابھی کاٹا بھی نہیں گیا تھا۔ حضرت حسان بن ثابت ؓ انہیں یہ جواب دیا (1): تفاقد معشر نصروا قریشا ولیس لھم ببلدتھم نصیر ایک جماعت نے قریش سے معاہدہ کیا کہ وہ ان کے حلیف ہیں جبکہ ان کے شہر میں ان کا کوئی مددگار نہ تھا۔ ھموا اوتوا اللکتاب فضیعوہ دھم عمی عن التوراۃ بود تم ہی وہ لوگ ہو جنہیں کتاب دی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کردیا تو وہ تورات سے اندھے اور ہلاک ہونے والے ہیں۔ کفرتم بقرآن ان وقد ابیتھم بتصدیق الذی قال المنذیر تم نے قرآن کا انکار کیا اور نذیر نے جو ہا اس کی تصدیق کرنے سے بھی تم نے انکار کردیا۔ وھان عیل سراۃ بنی لوی حریق بالبویرۃ مستطیر بویرہ میں بنی لوئی کے سرداروں پر پھیلنے والی آگ آسان ہوگئی۔ حضرت ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب نے اسے یہ جواب دیا تھا : ادام اللہ ذلک صنیع و حرق فی نواحیھا السعیر اللہ تعالیٰ اس عمل کو دوام بخشے اور ان کی اطراف میں آگ خوب بھڑکائے۔ فلو کان النخیل بھا رکابا لقالوا لامقام لکم فسیروا اگر کھجوروں کے درخت وہاں اونٹ ہوتے تو وہ بھی کہتے اب تمہارے ٹھہرنے کا وقت ختم ہوگیا پس چلو۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ نبی کریم ﷺ ان پر حملہ آور ہونے کے لئے 4 ھ ربیع الاول میں نکلے تھے آپ ﷺ سے بچنے کے لئے قلعہ بند ہوگئے تھے رسول اللہ ﷺ نے کھجوروں کے درخت کاتنے اور انہیں جلانے کا حکم دیا اسی موقع پر شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا۔ عبد اللہ بنی ابی بن سلول اور اس کے منافق ساتھیوں نے بنی نضیر کی طرف خفیہ پیغام بھیجا : ہم تمہارے ساتھ ہیں اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہارے ساتھ ہو کر جنگ کریں گے اگر تمہیں جلا وطن کیا گیا تو ہم تمہارے ساتھ جلا وطن ہوجائیں گے۔ اس وجہ سے بنو نضیر دھوکہ میں مبتلا ہوگئے۔ جب اصل صورتحال سامنے آئی تو منافقین نے یہودیوں کو بےیارو مددگار چھوڑ دیا۔ انہیں مسلمانوں کے حوالے کردیا اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ مطالبہ کیا کہ ان کو قتل نہ کریں اور انہیں جلا وطن کردیں اس شرط پر کہ ان کے لئے وہی کچھ ہوگا جو وہ اونٹوں پر لے جاسکتے ہیں مگر اسلحہ نہیں لے جاسکتے وہ اس طرح خیبر چلے گئے ان میں سے کچھ شام چلے گئے اس میں سے جو خیبر کی طرف گئے وہ ان کے اکابرین تھے جس طرح حی بن اخطب، سلام بن ابی الحقیق، کنانہ بن ربیع سارا خیبر ان کا مطیع ہوگیا۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ صحیح مسلم اور دوسری کتابوں میں حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے کھجور کے درختوں کو کاٹنے کا حکم دیا اور انہیں جلایا اس بارے میں حضرت حسان ؓ نے کہا : وھان علی سراۃ بنی لولی حریق بالبویرۃ مستطیر بنو اوئی کے سرداروں پر بویرہ میں پھیلنے والی آگ آسان ہوئی۔ اس بارے میں ما قطعتم من لینۃ کے الفاط نازل ہوئے۔ علماء نے دشمنوں کے گھروں کو بےآباد کرنے، ان کو جلانے اور ان کے پھل کاتنے کے بارے میں اختلاف کیا ہے (1) یہ جائز ہے یہ مدد نہ میں کہا ہے (2) اگر مسلمانوں کو علم ہوجائے کہ یہ ان کے قبضہ میں آنے والے ہیں تو وہ ایسا نہ کریں۔ اگر وہ اس سے مایوس ہوجائیں تو ایسا کر گزریں ؛ یہ امام مالک نے ” واضحہ “ میں کہا ہے۔ اصحاب امام شافعی اسی کی موافقت کرتے ہیں۔ ابن عربی نے کہا : صحیح پہلا قول ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو علم تھا کہ یہ درخت آپ ﷺ کے لئے ہی ہیں لیکن حضور ﷺ نے انہیں کاٹنے اور جلانے کا حکم دیا تاکہ یہ ان کے مغلوب ہونے اور ان کی کمزوری کا باعث بنیں یہاں تک کہ وہ یہاں سے نکل جائیں۔ بعض مال کو ضائع کرنا تاکہ باقی مال محفوظ رہے یہ ایسی مصلحت ہے جو شرعا جائز اور عقلا مقصود ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ مادردی نے کہا : اس آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ ہر مجہتد صحیح نتیجہ تک پہنچنے والا ہوتا ہے۔ النیا طبری نے کہا : اگرچہ حضور ﷺ کی موجودگی میں اجہتاد بعید از حقیقت ہے تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ سب کچھ دیکھا اور خاموشی اختیار فرمائی۔ صحابہ نے اسی خاموشی سے جواز کا حکم اخذ کیا۔ ابن عربی نے کہا : یہ باطل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ تھے اور حضور ﷺ کی موجودگی میں کوئی اجتہاد نہیں یہ نبی کریم ﷺ کے ایسے امور میں اجتہاد پر دال ہے جن میں کوئی وحی نازل نہ ہوئی ہو۔ یہ حکم ان آیات سے اخذ کیا جن میں کفار کو اذیت دینے کا ذکر ہے اور ان کے بارے میں جڑ سے اکھیڑنے اور ہلاکت کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس اجازت میں یہ بھی داخل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : لیخزی الفقین۔ میں یہی مقصود ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ اللینۃ کی تعبیر میں اختلاف کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں دس اقوال ہیں۔ ا۔ عجوہ کے علاوہ تمام قسم کے کھجور کے درخت، یہ قول امام زہری، امام مالک، سعید بن جبیر، عکرمہ اور خلیل رحمہم اللہ کا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، مجاہد اور حضرت حسن بصری نے کہا : تمام قسم کے کھجور کے درخت ہیں، انہوں نے عجوہ اور کسی دوسری قسم کو مستثنیٰ نہیں کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد کھجور کی ایک قسم ہے۔ امام ثوری سے مروی ہے : یہ عمدہ کھجوروں کے درخت ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : عجوہ اور برنی کے علاوہ تمام اقسام کے درخت مراد ہیں۔ جعفر بن محمد نے کہا : اس سے مراد عجوہ ہے۔ یہ ذکر کیا عتیق اور عجوہ دونوں حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں تھے۔ عتیق سے مراد فحل ہے۔ عجوہ تمام مونث درختوں کی اصل ہے ؛ اس وجہ سے یہودیوں پر یہ امر بڑا شاق گزرا، یہ ماوردی نے بیان کیا ہے۔ یہ کھجور کی ایک قسم ہے جس کے پھل کو لون کہتے ہیں اس کی خشک کھجور سب سے عمدہ ہوتی ہے۔ یہ سخت زرد ہوتی ہے، اس کی گھٹلی باہر سے دیکھی جاسکتی ہے۔ اس میں داڑھ غائب ہوجاتی ہے، اس کا درخت انہیں غلام سے زیادہ محبوب ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ایسا درخت ہے جو زمین سے قریب ہو زیادہ بلند نہ ہو۔ اخفش نے یہ شعر پڑھا : قد شجانی الحمام حین تغنی بفراق الاحباب من فوق لینہ فاختہ نے جب لینہ درخت پر محبوبوں کے فراق میں گانا گایا تو اس نے مجھے غمگین کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لینہ سے مراد فسیلہ (قلمی کھجور) ہے کیونکہ یہ سب سے نرم کھجور ہوتی ہے : اسی بارے میں شاعر نے کہا : غرسوا لینھا بمجزی معین چم حفوا النخیل بالاجام انہوں نے لینہ کو چشمہ کی گزرگاہ پر لگایا پھر گھنے جنگلوں سے باغ کو چھپا لیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : لینہ سے مراد تمام درخت ہیں کیونکہ اپنی زندگی کی وجہ سے نرم ہوتے ہیں ؛ ذورمہ نے کہا : طراق الخوافی واقع فوق لینۃ ندی لیلہ فی ریشہ یتحقرق پرندوں کے چھوٹے پر، درختوں پر پڑے ہیں رات کی شبنم کے قطرے اس کے پر سے ہلکے ہلکے بہ رہے ہیں۔ دسواں قول یہ ہے : اس سے مراد دی کھجور ہے : یہ اصمعی کا قول ہے۔ کہا : اہل مدینہ کہتے ہیں : ا تنتفخ الموائد حتی توجد الالوان جب تک ردی چیز نہ ہو قدرومنزلت والی چیز کا پتہ نہیں چلتا۔ یہاں الو ان سے ردی کھجور مراد لیتے ہیں۔ ابن عربی نے کہا : زبری اور امام مالک نے جو کہا دو وجودہ سے صحیح ہے (1) وہ دونوں اپنے شہر اور درختوں کو خوب جانتے تھے (2) اشتقاق بھی اس کی تائید کرتا ہے۔ اہل لغت اس کی تصحیح کرتے ہیں کیونکہ لینۃ کا وزن لونہ ہے۔ علماء کے اصول کے مطابق اس میں تعلیل کی گئی تو وہ لینہ ہوگیا، یہی لون ہے جب اس کے آخر میں ھاء داخل ہوئی تو اس کے پہلے حرف کو کسرہ دے گیا گیا جس طرح کبرک الصدی یہ باء کے فتح کے ساتھ ہے۔ بر کہ باء کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ وجہ آخر میں ھاء کا آن ا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لینہ اصل میں لونہ تھا، وائو کو یاء سے بدل دیا کیونکہ اس کا قبل مسکور ہے لین کہ کی جمع لین ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کی جمع لیان ہے۔ اخفش نے کہا : اسے لینہ نام دیا گیا یہ لون سے مشتق ہے یہ لین سے مشتق نہیں۔ مہدوی نے کہا : اس کے اشتقاق میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ لون سے مشتق ہے اس کی اصل لونہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ اصل میں لینہ ہے یہ لان لیکن سے مشتق ہے۔ عبد اللہ نے یوں قراءت کی ماقصعتم من لینۃ ولا ترکتم قوما علی اصولھا یعنی وہ اپنے تنوں پر کھڑے ہیں۔ اعمش نے یوں قرا ئت کی ماقصعتم من لینۃ اترکتموھا قوماء علی اصولھا معنی ہے تم انہیں نہ کاٹو اسے قوماء علی اسلھا بی پڑھا گیا ہے، اس میں دو وجوہ ہیں (1) یہ اصل کی جمع ہے جس طرح رھن اور رھن ہے (2) دائو کی بجائے ضمہ پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ اسے قائما علی اصولہ بھی پڑھا گیا ہے اس میں لفظ ما کا اعتبار کیا گیا ہے۔ فباذن اللہ اذن، امر کے معنی میں ہے۔ ولیخری الفسقین۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور اپنی کتب کے ذریعے انہیں ذلیل و رسوا کرے۔
Ayahs 59:6–7

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو (مال) خدا نے اپنے بیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجت مندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں انہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بیشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے

آیات۔ 6۔ 7 تفسیر ان دو آیات میں دس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ وما افاء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر بنو نضیر کے اموال لٹکا دیے تم نے اس پر گھوڑے نہیں دوڑائے۔ ایجاف سے مر اور رفتار میں تیزی دکھانا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : وجف الفرس جب گھوڑا تیز دوڑا، او جفتہ انا میں نے اسے حرکت دی، میں نے اسے کسی کے پیچھے لگایا ؛ اسی معنی میں تمیم بن مقبل کا قول ہے : اذا الرکب او جفوا جب اونٹ تیزی سے چل پڑے۔ رکاب کا معنی اونٹ ہے اس کی واحد راحلہ ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : تم نے وہاں تک پہنچنے میں کوئی لمبا سفر طے نہیں کیا، نہ وہ ان جنگ اور کسی مشقت کا سامنا کیا۔ یہ بستی مدینہ طیبہ سے دو میل کے فاصلے پر تھی۔ فراء نے کہا : صحابہ کرام پیدل ہی وہاں گئے گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار نہ ہوئے مگر نبی کریم ﷺ اونٹ پر سوار ہوئے تھے یا ایسے دراز گوش پر سوار ہوئے تھے جس کو چھاپ کی رسی ڈالی گئی تھی۔ اس بستی کو صلح کے ذریعے فتح کیا۔ انہیں جلا وطن کیا اور ان کے اموال اپنے قبضہ میں لے لیے۔ مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ سے اس امر کا سوال کیا کہ یہ اموال بھی ان میں تقسیم کردئیے جائیں تو یہ آیت نازل ہوئی وما افاء اللہ علی رسولہ منھم فما او جفتم علیہ اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے امولا نبی کریم ﷺ کے لئے خاص کردئیے جہاں آپ چاہیں انہیں صرف کریں، تو نبی کریم ﷺ نے وہ اموال مہاجرین میں تقسیم کردئیے۔ علامہ واقدی نے کہا : اسے ابن وہب نے امام مالک سے روایت کیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے تین محتاج انصاریوں کے علاوہ کسی انصاری کو کچھ بھی نہ دیا ان میں حضرت ابو دجانہ، حضرت سماک بن خرشہ، حضرت سہل بن حنیف اور حضرت حارچ بن صمہ ؓ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : حضور ﷺ نے صرف دو انصاری صحابہ کو مال عطا کیا حضرت سہل اور حضرت ابودجانہ ؓ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : آپ نے حضرت سعد بن معاز ؓ کو اب ابی حقیق کی تلوار عطا کی۔ اس کی یہ تلوار ایسی تھی جس کا ان کے ہاں بڑا شہرہ تھا۔ بنو نضیر میں سے صرف دو وافراد ایمان لائے سفیان بن عمیر اور سعد بن وہب، دونوں نے اس شرط پر اسلام قبول کیا کہ ان کے اموال انہیں کے پاس رہیں گے تو انہوں نے اپنے اموال کو محفوظ کرلیا۔ صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ سے روایت منقول ہے کہ بنو نضیر کے اموال وہ اموال تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو عطا کردئیے جن پر مسلمانوں نے اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے۔ یہ نبی کریم و کے لئے خاص تھے۔ آپ ﷺ ان اموال میں سے اپنے گھر والوں کو سال بھر کا خرچہ عطا کرتے اور ان اموال میں سے جو کچھ بچ رہتا اسے جہاد میں استعمال ہونے والے جانوروں اور اسلحہ میں استعمال کرتے تاکہ جہاد کی تیاری رہے۔ حضرت عباس ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا : میرے اور حضرت علی کے درمیان ان اموال میں فیصلہ کردیجئے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عطا فرمائے۔ حضرت عمر نے کہا : کیا تم دونوں جانتے ہو کہ نبی کریم ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خاص کیا ہے کسی اور فرد کو ان اموال کے لئے خ اس نہیں کیا ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ اللرسول۔ میں نہیں جانتا کہ حضرت عمر ؓ نے اس سے پہلے والی آیت پڑھی ہے یا نہیں پڑھی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے اموال تمہارے درمیان تقسیم کردئیے اللہ کی قسم ! حضور ﷺ نے ان اموال کو تمہارے مقابلہ میں اپنے لئے خاص نہیں کیا اور نہ تمہیں چھوڑ کر خود لیا یہاں تک کہ یہ مال باقی رہا۔ رسول اللہ ﷺ سال بھر کا روزینہ اس سے لیتے باقی ماندہ کو دوسرے اموال جیسا قرار دیتے۔ اسے امام مسلم نے نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب بنو نضیر نے اپنے گھر اور اپنے اموال چھورے تو مسلمانوں نے یہ مطالبہ کردیا کہ مال غنیمت کی طرح ان اموال میں بھی ان کا حصہ معین کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا کہ یہ ال فئی ہے وہاں کچھ لڑائی ہوئی تھی کیونکہ انہیں کچھ عرصہ محاصرہ میں رکھا گیا تھا، انہوں نے قتال کیا اور کچھ لوگ قتل ہوئے پھر جلا وطنی کی شرط پر صلح کرلی حقیقت میں کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی تھی بلکہ جنگ کی شروعات ہوئی تھیں اور محاصرہ ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان اموال کو اپنے رسول کیلئے خاص کردیا تھا۔ مجاہد نے کہا : اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو آگاہ کیا اور یاد دلایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی مدد کی اور بغیر لشکر کشی اور سامان حرب کے انہیں غلبہ عطا کیا۔ ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشاء یعنی دشمنوں میں سے جس پر چاہتا ہے غلبہ عطا فرماتا ہے۔ اس میں اس امر کی وضاحت ہے کہ یہ اموال رسول اللہ ﷺ کے لئے تھے، صحابہ کرام کا ان میں کوئی حصہ نہیں تھا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اہل قری سے مراد قریظہ اور بنی نضیر ہیں۔ یہ دونوں قبیلے مدینہ طیبہ اور فدک میں آباد تھے۔ فدک جو مدینہ طیبہ اور خیبر سے تین دن کی مسافت پر واقع تھا۔ عرینہ اور ینبع کی بستیاں بھی نبی کریم ﷺ کے لئے خاص تھیں۔ اس امر کی وضاحت کی کہ اس مال میں جسے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص کیا اس میں رسول اللہ کے علاوہ کے لئے بھی حصے ہیں مقصد بندوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھنا تھا۔ علماء نے اس آیت اور اس سے قبل آیت کے معنی میں گفتگو کی ہے کیا دونوں کا معنی ایک ہے یا مختلف ہے ؟ آیتجو سورة انفال میں ہے تو علماء میں سے ایک جماعت نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری اس کا حکم اس آیت کے حکم سے منسوخ ہے جو سورة انفالیں ہے کہ خمسان افراد کے لئے ہے جن کو ذکر کیا گیا اور باقی چار حصے جہاد کرنیو الوں کے لئے ہے۔ ابتداء اسلام میں غنیمت انہیں اقسام پر تقسیم ہوتی تھی ؛ یہ قول یزید بن رومان، قتادہ اور دوسرے علماء کا ہے ؛ اس کی مثلامام مالک سے مروی ہے۔ ایک قوم نے کہا : حضور ﷺ نے مال صلح کے ساتھ لیا اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تو ایہ ان کے لئے ہوگا جن کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا ہے پہلا مال حضور ﷺ کیلئے خاص ہوگا جب ضرورت ہوتی تو حضور ﷺ اس سے لے لیتے اور باقی ماندہ مسلمانوں کی ضروریات میں خرچ کردیتے۔ معمر نے کہا : پہلا مال نبی کریم ﷺ کے لئے ہے اور دوسرا مال جزیہ اور خراج ہے۔ یہ ان مذکورہ افراد کے لئے جن کا ذکر ہوا ہے۔ تیسرا مال غنیمت ہے جس کا ذکر سورة انفال میں ہے یہ مجاہدین کے لئے ہے۔ ایک قوم نے کہا جن میں امام شافعی بھی ہیں : دونوں آیتوں کا معنی ایک ہی ہے، یعنی کفر کے دو اموال جو جنگ کے بغیر حاصل ہونگے انہیں پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، چار حصے نبی کریم ﷺ کے لئے ہونگے اور پانچواں حصہ پانچ حصوں میں تقسیم ہوگا۔ ایک حصہ رسول اللہ ﷺ کا ہوگا، ایک حصہ قریبی رشتہ داروں کا ہوگا۔ وہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ہیں۔ کیونکہ انہیں زکوٰۃ لینے سے روک دیا گیا تھا۔ تو مال فئی میں ان کا حق رکھ دیا گیا۔ ایک حصہ یتیموں کے لئے ہوگا، ایک حصہ مسکینوں کے لئے ہوگا، ایک حصہ مسافروں کے لئے ہوگا۔ جہاں تک نبی کریم ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد مال فئی میں سے جو رسول اللہ ﷺ کیلئے حصہ تھا۔ امام شافعی کے قول کے مطابق ان مجاہدین پر صرف کیا جائے گا جو سرحدں کی نگہبانی کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے قائم مقام ہیں۔ دوسرے قول میں ہے : اس مال کو مسلمانوں کی ضروریات کے لئے صرف کیا جائے گا جیسے سرحدوں کی حفاظت، نہریں کھودنا، پل بنانا۔ زیادہ اہم کو اہم پر مقدم رکھا جائے گا۔ یہ طریقہ مال فئی کے 4/5 حصہ میں جاری ہوگا یہ حکم فال فئی کے 4/5 حصہ میں ہے۔ جہاں تک مال فئی میں اور مال غنیمت میں سے پانچویں حصہ کا تعلق ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد مسلمانوں کے مصالح کیلئے استعمال ہوگا۔ اس میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری غنیمتوں میں سے میرے لئے خمس کے سوا کچھ نہیں اور خمس (پانچواں حصہ) بھی تمہاری طرف ہی لوٹا دیا گیا ہے۔ “ اس بارے میں گفتگو سورة انفال میں گزر چکی ہے ؛ اسی طرح جو مال حضور ﷺ اپنے پیچھے چھوڑ جائیں اس میں بھی وراثت جاری نہیں ہوگی بلکہ یہ صدقہ ہے جسے مسلمانوں کے مصالح میں صرف کیا جائے گا جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے “۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فئی کا مال نبی کریم ﷺ کے لئے ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ما افاء اللہ علی رسولہ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو اپنے رسول کی طرف منسوب کیا ہے جبکہ آپ ﷺ مال جمع نہیں کرتے تھے۔ آپ ﷺ صرف اس قدر مال لیا کرتے تھے جس قدر آپ ﷺ کے گھر والوں کی ضروریات ہوتیں تھیں باقی ماندہ مسلمانوں کی ضروریات کے لئے خرچ کردیتے۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : اس میں کوئی اشکال نہیں کہ تین آیات میں تین معانی ہیں۔ جہاں تک پہلی آیت کا تعلق ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ہے : …………۔ منھم سے مراد اہل کتاب ہیں اس کا عطف سابقہ کلام پر ہے۔ فا اوجفت علیہ من خیل ولا رکاب اس سے اسی چیز کا ارادہ کیا جس طرح ہم نے بیان کیا ہے۔ پس تمہارا اس میں کوئی حق نہیں اسی وجہ سے حضرت عمر ؓ نے کہا : یہ رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص تھا۔ مراد بنی نضیر اور جوان کی مثل ہیں۔ یہ ایک ہی آیت ہے اور معنی بھی ایک ہی ہے۔ دوسری آیت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ………یہ نئی کلام ہے پہلی سے مختلف ہے پہلی آیت میں موجود مستحقین کے علاوہ کے استحقاق کے لئے ہے۔ تیسری آیت سے مراد آیت غنیمت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا معنی اور ہے، ایک اور مستحق کے استحقاق کو ثابت کرتی ہے مگر پہلی اور دوسری آیت دونوں اس میں شریک ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کسی ایسی چیز کو ضمن میں لئے ہوئے ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو عطا فرمائی ہے۔ پہلی آیت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ یہ مال جنگ کے بغیر حاصل ہوا ہے۔ آیت انفال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یہ مال قتال کے ساتھ حاصل ہوا ہے جبکہ تیسری آیت ما فاء اللہ علی رسولہ من اھل القری اس امر سے خالی ہے کہ وہ مال جنگ سے یا بغیر جنگ کے حاصل ہوا ؛ اسی وجہ سے اختلاف پید اہوا۔ ایک جماعت نے کہا : یہ پہلی آیت کے ساتھ لاحق کی جائے گی، یہ سب کا سب صلح کا مال ہوگا یا اس کی مثل مال ہوگا۔ ایک جماعت کا قول ہے : یہ دوسری آیت جو آیت انفال ہے کے ساتھ لاحق کی جائے گی۔ جنہوں نے کہا : یہ آیت آیت انفال کے ساتھ لاحق کی جائے گی انہوں نے اس میں اختلاف کیا ہے کیا یہ منسوخ ہے جس طرح پہلے گزرا ہے یا یہ محخم ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی وہ شہادت جو اس سے پہلے ہے اسے اس کے ساتھ لاحق کرنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں ایک نیا فائدہ اور نیا معنی ہے ؛ جبکہ یہ تو معلوم و مشہور ہے کہ آیت کے حرف جو دوسری آیت سے زائد ہوں اسے نئے فائدہ پر محمول کرنا زیادہ مناسب ہے بنسبت اس کے کہ اسے سابقہ فائدہ پر ہی محمول کیا جائے۔ ابن وہب نے امام مالک سے فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب کی تفسیر میں یہ قول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد بنو نضیر ہیں اس میں خمس لازم نہیں تھا اور نہ ہی ان اموال کو حاصل کرنے کے لئے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے گئے تھے۔ یہ صرف رسول اللہ ﷺ کے لئے تھا رسول اللہ ﷺ نے ان اموال کو مہاجرین اور تین انصاری صحابہ کے درمیان تقسیم فرما دیا جس طرح ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری کی تفسیر میں یہ قول گزر چکا ہے کہ اھل القری سے مراد قریظہ کا قبیلہ ہے۔ قریظہ اور غزوہ خندق کا واقعہ ایک ہی روز ہوا تھا۔ ابن عربی نے کہا : امام مالک کا قول کہ دوسری آیت بنو قریظہ کے بارے میں نازل ہوئی، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کا معنی آیت انفال کے معنی کی طرف لوٹ رہا ہے اور اسے نسخ لاحق ہوتا ہے۔ اسے محکم قرار دینے کی بنسبت یہ قول زیادہ قوی ہے۔ ہم کسی قول کو پسند نہیں کرتے مگر اسے ہی جسے ہم نے اس اندازیں تقسیم کیا ہے۔ اور ہم نے وضاحت کردی ہے کہ دوسری آیت کا معنی نیا ہے جس طرح ہم نے اسے پر دلیل قائم کی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ میں کہتا ہوں : انہوں نے جو پسند کیا ہے، وہ حسن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ سورة حشر سورة انفال کے بعد نازل ہوئی یہ امر محال ہے کہ متقدم بعد میں نازل ہونے والی آیت کو منسوخ کردے۔ ابن بی نجیح نے کہا : مال تین قسم کے ہیں۔ مال غنیمت، مال فئی، صدقہ۔ ان میں سے کوئی درہم نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس کا محل بیان کردیا ہے۔ یہ زیادہ مناسب ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ وہ اموال جن میں ائمہ اور والیوں کا عمل دخل ہوتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں۔ 1۔ جو مسلمانوں سے اس طریقہ پر لیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو پاک کیا جائے جس طرح صدقات، زکوٰۃ وغیرہ۔ 2۔ مال غنیمت، اس سے مراد وہ مال ہے جو کفار کے اموال میں سے مسلمانوں کے ہاتھ لگتا ہے جیسے جنگ و غلبہ کے ذریعے۔ 3۔ مال فئی : اس سے مراد وہ اموال ہیں جو کفار کے اموال میں سے مسلمانوں کے ہاتھ لگتے ہیں اس میں کوئی جنگ نہیں ہوتی اور نہ گھوڑوں کو دوڑایا جاتا ہے جس طرح صلح، جزیہ، خراج اور کا فرتجار سے ٹیکس، اس کی مثل یہ صورت بھی ہے کہ مشرک بھاگ جائیں اور اپنے اموال چھوڑ جائیں یا ان میں سے کوئی دار السلام میں فوت ہوجائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو۔ جہاں تک صدقہ کا تعلق ہے، اس کا مصرف فقرائ، مساکین اور عاملین ذکوٰۃ ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے۔ جس کی وضاحت سورة برا ئت میں گزر چکی ہے۔ جہاں تک مال غنیمت کا تعلق ہے۔ ابتداء اسلام میں یہ نبی کریم ﷺ کے لئے تھے، جیسے چاہیں اس میں صرف کریں جس طرح سورة انفال میں فرمایا قل الانفال للہ والرسول (آیت :1) پھر اس حکم کو منسوخ کردیا گیا ارشادہ باری تعالیٰ ہے : واعلموا نما غنمتم من شئی (انفال : 41) سورة انفال میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ جہاں تک مال فئی کا تعلق ہے تو اس کی تقسیم اور خمس کی تقسیم برابر ہے۔ امام مالک کے نزدیک دونوں قسم کے اموال کی تقسیم کا انحصار امام کی رائے پر ہے۔ اگر اس کی رائے بنے کہ اسے ان مصائب کے لئے محفوظ کرلے جو مسلمانوں پر واقع ہوتی ہیں تو ایسا کرے اگر وہ دونوں یا ایک کی تقسیم کی رائے بنے کے اسے ان مصائب کے لئے محفوط کرلے جو مسلمانوں پر واقع ہوتی ہے تو ایسا کرے اگر وہ دونوں یا ایک کی تقسیم کی رائے بنے تو لوگوں کے درمیان ایس تقسیم کردے اور عربی اور اس کے مولی میں برابری کرے اور مردو عورت میں سے فقراء سے شروع کرے یہاں تک کہ وہ غنی ہوجائیں۔ مال فئی میں سے رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ داروں کو وہ حصہ دے جو امام کی رائے بنے ان کے لئے کوئی معلوم حد نہیں ان میں سے غنی کو عطا کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ اکثر کی رائے ہے کہ انہیں اس میں حصہ دیا جائے کیونکہ یہ ان کا حق ہے۔ امام مالک نے کہا : فقراء کے علاوہ کسی کو کچھ نہ دیا جائے گا کیونکہ ان کے حق میں یہ صدقہ کا عوض ہے۔ امام شافعی نے کہا : کفار کا جو مال بغیر قتال کے حاصل ہوتا وہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں پچیس حصوں میں تقسیم کردیا جاتا۔ بیس حصے نبی کریم ﷺ کے لئے ہوتے نبی کریم ﷺ اس میں جا چاہتے کرتے اور پانچواں حصہ وہاں صرف کیا جاتا جہاں مال غنیمت کا پانچواں حصہ صرف کیا جاتا۔ ابو جعفر بن دائودی نے کہا : یہ ایسا قول ہے جو پہلے کسی نے نہیں کیا جو کچھ ہم جانتے ہیں بلکہ یہ سارا مال نبی کریم ﷺ کے لئے تھا۔ جس طرح حضرت عمر ؓ سے صحیحین میں ثابت ہے۔ اگر یہ بات ہوتی تو اللہ تعالیٰ کا فرمان : خالصۃ لک من دون المومنین (الاحزاب :50) اس پر دلالت کرتا کہ کسی غیر کو ہبہ کرنا جائز ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : خالصۃ یوم القیمۃ (الاعراف : 32) اس امر کو جائز کرتا ہے کہ اس میں اور بھی شریک ہیں۔ امام شافعی کا اس بارے میں مفصل گزر چکا ہے۔ الحمد اللہ۔ امام شافعی (رح) کا مذہب یہ ہے کہ فئی کے خمس کا طریقہ وہی ہے جو مال غنیمت کے خمس کا طریقہ ہے اور 4/5 حصہ نبی کریم ﷺ کے لئے ہوگا اور نبی کریم ﷺ کے بعد یہ مسلمانوں کی مصلحتوں کے لئے ہوگا۔ آپ کا ایک اور قول بھی ہے : رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ ان لوگوں کے لئے ہوگا جنہوں نے اپنے آپ کو جہاد کے لئے وقف کر رکھا ہوگا۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ ہمارے علماء نے کہا : جس شہر سے جو مال اکٹھا کیا گیا ہے تمام مال وہاں ہی تقسیم کردیا جائے گا۔ جس شہر سے وہمال جمع کیا گیا ہے وہاں سے اسے منتقل نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ غنی ہوجائیں۔ پھر وہاں سے قریبی کی طرف منتقل کیا جائے، مگر اس صورت میں کہ جس جگہ سے مال وصول کیا گیا ہے اس کی بجائے کسی اور جگہ سخت فاقہ کی نوبت آجائے تو وہاں سے فاقہ والی جگہ کی طرف مال منتقل کردیا جائے گا جس طرح حضرت عمر ؓ نے آفت کے سالوں میں کیا تھا وہ پانچ سال تھے یا چھ سال تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ دو سال تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایک سال تھا جس میں طاعون کے ساتھ بھوک شدید ہوگئی تھی۔ اگر ایسی صورتحال نہ ہو جو ہم نے بیان کی اور امام کی یہ رائے ہو کہ مال فئی کو روک لے تو مسلمانوں پر واقع ہونے والی آفتوں کے لئے اسے روک لیا اور اس مال میں سے نوزائیدہ بچے کو دے اور اس کی تقسیم اس فرد سے شروع کرے جس کا باپ فقیر ہو۔ مال فئی اغنیاء کیلئے بھی حلال ہے۔ اس کی تقسیم میں سب لوگوں کو برابر رکھے مگر ضرورت مندوں کو ترجیح دے، جس قدر کسی کی ضرورت ہو اس کی مناسبت سے زیادہ دے۔ اس مال سے مقروضوں کو دے جس کے ذریعے وہ اپنے قرضے ادا کریں اگر کوئی انسان اہل ہو تو اس میں سے انعام اور عطیہ دے۔ قاضیوں، حکام اور ان کو دے جس میں انسان کی منفعت ہو۔ اس میں سے زیادہ حصہ کے مستحق وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کیلئے زیادہ نفع کا باعث ہوں۔ جس نے مال فئی میں سے کوئی چیز دیوان میں نام لکھوا کر یل تو اس پر لازم ہوگا کہ وہ جہاد میں شریک ہو جب جہاد کیا جائے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ کی لا یکون دولۃ عام قراءت یکون یاء کے ساتھ ہے۔ اور دولۃ نصب کے ساتھ ہے تقدیر کلام یہ ہوگی کی لا یکون الفئی دولۃ۔ ابو جعفر، اعرج اور ہشام نے ابن عامر سے اور ابو حیوہ نے تکون تاء کے ساتھ اور دولۃ کو مرفوع پڑھا ہے۔ یہ کان فوجی سپاہیوں میں سے وظیفہ خواروں کا رجسٹر نامہ ہے۔ دولۃ یہ کان کا اسم ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے اور اس کی خبر نہیں ہے۔ یہ جائز ہے کہ یہ ناقصہ ہوا اور اس کی خبر بین الاغنیاء منکم ہوا اور یہ بھی جائز ہے کہ بین الاغنیاء منکم یہ دولۃ کا وصف ہو۔ عام قرأت دول۔ دال کے ضم کے ساتھ ہے۔ سلمی اور ابو حیوہ نے اسے نصب کے ساتھ یعنی دولۃ پڑھا ہے۔ عیسیٰ بن عمر، یونس اور اصمعی نے کہا : یہ دونوں لغتیں ایک ہی معنی میں ہیں۔ ابو عمرو بن علاط نے کہا : دولۃ سے مراد جنگ وغیرہ میں کامیابی کو کہتے ہیں۔ یہ مصدر اور ضمہ کے ساتھ اس شے کا نام ہے جو مال اور لوگوں کے درمیان گردش کناں ہو ؛ ابو عبید نے یہی کہا ہے : الدولۃ ایسی چیز کو کہتے ہیں جو گردش کناں رہتی ہے اور دولۃ مصدر ہے آیت کا معنی یہ ہے مال فئی میں یہ اس لئے کہا تاکہ رؤ ساء اغنیا اور قوی لوگ آپس میں تقسیم نہ کرلیں فقراء اور کمزور لوگوں کو کچھ حصہ نہ ملے کہ دور جاہلیت میں جب کوئی قوم مال غنیمت حاصل کرتی تو انکا رئیس اس کو چوتھا حصہ اپنے لئے لیتا یہی مرباع تھا پھر مرباع کے بعد اپنے لئے جو چاہتا منتخب کرلیا ؛ اس بارے میں شاعر نے کہا : لل لامرباع منھا والصفایا اس مال غنیمت میں سے تیرے لئے مرباع اور چنا ہوا مال ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تاکہ اس میں اس طرح کا معاملہ نہ کیا جائے جس طرح کا معاملہ دور جاہلیت میں کیا جاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ مال رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص کردیا تاکہ آپ ﷺ اسے وہاں صرف کردیں جہاں صرف کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ اس میں خمس نہیں جب خمس لازم ہوگا تو وہ تمام مسلمانوں میں تقسیم ہوگا۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ وما اتتکم الرسول فخذوہ، وما نھکم عنہ فانتھوا یعنی مال غنیمت میں سے رسول اللہ جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس چیز کو لینے اور خیانت کرنے سے روکیں اس سے رک جائو ؛ یہ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء کا نقط نظر ہے۔ سدی نے کہا : مال فئی میں سے جو رسول اللہ تمہیں عطا کریں وہ لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس کا مطالبہ نہ کرو۔ اب جریج نے کہا : میری طاعت کے بارے میں جو پیغام لائیں اسے بجا لائو اور میری معصیت سے روکیں تو اس سے رک جائو۔ ماوردی نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا : یہ امر تمام اوامر ونوا ہی پر محمول ہے۔ آپ ﷺ صرف اچھے امر کا حکم دیتے ہیں اور فاسد امر سے روکتے ہیں۔ میں کہتا ہوں : اس سے مراد بھی وہی ہے جو اس سے ماقبل قول کی مراد تھی۔ یہ تین اقوال ہیں۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ مہدوی نے کہا : وما اتتم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا یہ ارشاد اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جس چیز کا حکم دیا وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے امر ہے۔ یہ آیت کریمہ اگرچہ غنائم کے بارے میں ہے پھر بھی نبی کریم ﷺ کے تمام اوامر اور نواہی اس میں داخل ہیں۔ حضرت حکم بن عمیر نے کہا جو صحابی تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ قرآن اس کے لئے سخت مشکل ہے جو اسے ترک کرے اور جو اس کی اتباع کرے اور اس کی طلب کرے اس کیلئے آسان ہے۔ اور میری حدیث بھی مشکل ہے جس نے میری حدیث کو مضبوطی سے پکڑا اور اسے یاد کیا تو وہ قرآن کے ساتھ نجات پا گیا جس نے قرآن اور میری حدیث کے بارے میں سستی کی تو وہ دنیا و آخرت میں خسارے میں رہا۔ تمہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ میرے قول کو مضبوطی سے پکڑو، میرے حکم کی مخالفت کرو اور میری سنت کی اتباع کرو۔ جو میرے قول پر راضی ہوا وہ قرآن پر راضی ہوا جس نے میرے قول کا مذاق اڑایا تو اس نے قرآن کا مذاق اڑایا ؛ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما اتتکم الرسول فخذوہ، وما نھکم عنہ فانتھوا۔ مسئلہ نمبر 8 ۔ عبد الرحمن بن زید نے کہا : حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ایک مجرم سے ملے جس کے جسم پر کپڑے تھے حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا : یہ کپڑے اتاردو۔ اس آدمی نے عرض کی : کیا تم اس کی تصدیق کے لئے مجھ پر کتاب اللہ کی کوئی آیت پڑھو گے ؟ فرمایا : ہاں وما اتتکم الرسول فخذوہ ومانھکم عنہ فانتھوا عبد اللہ بن محمد بن ہارون فریابی نے کہا : میں نے امام شافعی (رح) کو یہ کہتے ہوئے سنا : جو چاہو تم مجھ سے سوال کرو میں کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت سے تمہیں آگاہ کروں گا۔ میں نے آپ سے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کے معاملات کو درست کرے، آپ اس مجرم کے بارے میں کہا کہتے ہیں جو بھڑکو قتل کردیتا ہے ؟ حضرت امام شافعی نے جواب دیا : …………… سفیان بن عینیہ، عبد الملک بن عمیر سے وہ ربعی بن حراش وہ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اقتدوا اللذین من بعدی ابی بکر و عمر میرے بعد تم ابوبکر وعمر کی پیروی کرتا۔ سفیان بن عینیہ، مسعر بن کدام سے وہ قیس بن مسلم سے وہ طارق بن شہاب سے وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے بھڑ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ ہمارے علماء نے کہا : یہ بہت اچھا جواب ہے۔ امام شافعی نے حالت احرام میں بھڑ کو قتل مارنے کا فتویٰ دیا اور امام شافعی نے اس امر کی وضاحت کی کہ وہ اس مسئلہ میں حضرت عمر کی اقتداء کر رہے ہیں۔ اور نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر کی اقتدا کا حکم دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس امر کو قبول کرنے کا حکم دیا جو نبی کریم ﷺ ارشاد فرمائیں، تو بھڑ کے قتل کا جواز کتاب و سنت سے مستنبط ہے ؛ یہی معنی عکرمہ کے قول میں گزر چکا ہے جب ان سے امہات اولاد کے بارے میں پوچھا گیا۔ فرمایا : سورة نساء میں انہیں آزاد قرار دیا گیا ہے :ـاللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اطیعوا اللہ واطیعا الرسول واولی الامر منکم (آیت :59) صحیح مسلم اور دوسری کتب میں علقمہ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لعن اللہ الواشمات و المسوشمات والمتنصفات والمتفلحات للحسن المغیرات خلق اللہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگو دنے والوں پر، گود جانے والیوں پر، چہرے سے بال نوچنے والیوں پر، خوبصورت کے لئے دانتوں کو کھلا کرانے والیوں پر اور اللہ تعالیٰ کی پدا کردہ چیزوں میں تبدیلی کرنے والیوں پر۔ بنی اسد کی ایک عورت تک یہ خبر پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا وہ عورت آئی اس نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تو نے اس اس عورت پر لعنت کی ہے۔ فرمایا : جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ہے میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جبکہ وہ کتاب اللہ میں ہے ؟ اس عورت نے کہا : وفتین میں جو کچھ ہے میں نے اسے پڑھا ہے میں نے اس میں وہ نہیں پایا جو تم کہتے ہو۔ فرمایا : اگر تو اس کو پڑھتی تو ضرور پاتی، کیا تو نے اسے پڑھا : وما اتتک الرسول فخذوہ اما نھکم عنہ فانتھوا۔ اس نے کہا : کیوں نہیں ؟ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے۔ یہ بحث سورة نساء میں مفصل گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 9 ۔ وما اتتکم الرسول فخذوہ یہاں لفاط ایتاء آیا ہے جس کا معنی عطا کرنا ہے تاہم اس کا معنی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما نھکم عنہ فانتھوا اس کے مقابل نہی کا لفظ ذکر کیا۔ نہی، امر کے سوا کسی کے مقابل نہیں ہوتی۔ جو چیز ہم نے پہلے ذکر کی ہے اس کے فہم پر دلیل حضور ﷺ کا یہ فرمانا ہے : اذا امرتکم بامر فاء تو امنہ ما استعطم واذا نھیتکم عن شئی فاجتنبوا۔ جب میں تمہیں کسی امر کا حکم دوں تو جتنی طاقت رکھو اس کو بجا لائو اور جب میں کسی چیز سے منع کروں تو اس سے اجتناب کرو۔ کلبی نے کہا : یہ آیت مسلمان رؤسا کے بارے میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ جب مشرکوں کے اموال پر غالب آئے تو عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ پسندیدہ چیز اور چوتھا حصہ لے لیں باقی ہمارے لئے چھوڑ دیں، ہم دور جاہلیت میں اس طرح کیا کرتے تھے اور انہوں نے یہ پڑھا : لک المرباع منھا والصفایا آپ ﷺ کے لئے اس میں سے چوتھا حصہ اور منتخب چیز ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ مسئلہ نمبر 01 ۔ واتقوا اللہ اللہ تعالیٰ کے عاب سے بچو جس نے اس کی نافرمانی کی اس کے لئے وہ شدید ہے۔ ایک قول کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی میں اس سے ڈرو تم اسے ضائع نہ کرو۔ ان اللہ شدید العقاب۔ اللہ تعالیٰ ے جس کا حکم دیا اس کے بارے میں وہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
Ayah 59:8

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

(اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کردیے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں۔

تفسیر مال فئی اور غنیمتیں مہاجر فقراء کے لئے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اغنیاء میں ہی گردش کناں نہ رہے بلکہ یہ فقراء کے لئے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت ولذی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل کا بیان ہے۔ جب ان کی اصناف کا ذکر کیا گیا تو کہا گیا : مال ان لوگوں کیلئے ہے، کیونکہ یہ فقراء، مہاجر ہیں انہیں اپنے گھروں سے نکالا گیا ہے، یہ دوسرے لوگوں کی نسبت اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کا معنی یہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ مہاجر فقراء کے لئے اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے تاکہ یہ اموال دنیا داروں میں سے اغنیاء کے درمیان ہی گردش نہ کرتے رہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اللہ تعالیٰ مہاجر فقراء کی وجہ سے کفار کو سخت سزا دینے والا ہے۔ ان فقراء میں وہ فقراء بھی داخل ہوگئے ہیں جن کا ذکر پہلے ہوالذی القربی والیتمی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اس کا عطف ماقبل پر ہے مگر کہاں وائو عاطفہ نہیں جس طرح تیرا یہ قول ہے : ھذا المال لزید لبکر لفلان لفلان یہاں مہاجرین سے مراد وہ مہاجر ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کی مدد کی خاطر آپ ﷺ کی طرف ہجرت کی۔ قتادہ نے کہا : یہاں وہ مہاجر مراد ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے اپنے گھر، اپنے اموال، اپنے اہل اور اپنے وطن کو چھوڑا یہاں تک کہ ایک آدمی بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تاکہ اس کی کمر سیدھی رہے، ایک آدمی موسم سرما میں ایک گڑھا کھودتا موسم سرما میں اس کیلئے اسکے سوا کوئی گرمی پہنچانے والا بسر نہ ہوتا۔ عبد الرحمن بن ابزی اور سعید بن جبیر نے کہا : مہاجروں میں سے ایسے لوگ بھی تھے جن میں سے کسی کے پاس غلام، بیوی، گھر اور سوار نہ تھی جس پر سوار ہو کر وہ حج کرتا یا جہاد کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فقریر قرار دیا اور زکوٰۃ میں ان کا حصہ رکھا۔ اخر جوا من دیارھم کا معنی ہے کفار مکہ نے انہیں گھروں سے نکالا یعنی انہیں گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا۔ وہ سو افراد تھے۔ یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا میں غنیمت اور آخرت میں اپنے رب کی رضا چاہتے ہیں۔ و ینصرون اللہ و رسول وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ اولئک ھم الصدقون۔ وہ اس فعل میں سچے ہیں۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے جابیہ کے مقام پر خطبہ دیا فرمایا : جو آدمی قرآن کے بارے میں کوئی سوال کرنا چاہے تو وہ حضرت ابی بن کعب کے پاس جائے، جو فرائض (وراثت) کا مسئلہ سمجھنا چاہے تو وہ حضرت زیدبن ثابت کے پاس جائے، جو فقہ کا مسئلہ پوچھنا چاہے تو وہ حضرت معاذ بن جبل کے پاس جائے، جو مال کا سوال کرنا چاہے تو وہ میرے پاس آئے اللہ تعالیٰ نے مجھے مال کا خازن اور قاسم بنایا ہے۔ خبردار ! میں مال کی تقسیم کا آغاز نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات سے کرنے والا ہوں، میں انہیں عطا کروں گا پھر مہاجرین اولین کا حق ہے میں اور میرے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے نکالا گیا نہ ہمارے گھر رہے اور نہ ہی ہمارے اموال رہے۔