Explained with ayahs 11–17
کفر بز دلی کی گود ہے
تلبیس ابلیس کا ایک انداز :۔ عبداللہ بن ابی اور اسی جیسے منافقین کی چالبازی اور عیاری کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے یہودیان بنو نضیر کو سبز باغ دکھا کر جھوٹا دلاسا دلا کر غلط وعدہ کر کے مسلمانوں سے لڑوا دیا، ان سے وعدہ کیا کہ ہم تمہارے ساتھی ہیں لڑنے میں تمہاری مدد کریں گے اور اگر تم ہار گئے اور مدینہ سے دیس نکالا ملا تو ہم بھی تمہارے ساتھ اس شہر کو چھوڑ دیں گے، لیکن بوقت وعدہ ہی ایفا کرنے کی نیت نہ تھی اور یہ بھی کہ ان میں اتنا حوصلہ بھی نہیں کہ ایسا کرسکیں نہ لڑائی میں ان کی مدد کرسکیں نہ برے وقت ان کا ساتھ دیں، اگر بدنامی کے خیال سے میدان میں آ بھی جائیں تو یہاں آتے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة الْحَشْر 27
یعنی یہ منافقین بنی نضیر کے ساتھ وہی معاملہ کر رہے ہیں جو شیطان انسان کے ساتھ کرتا ہے۔ آج یہ ان سے کہہ رہے ہیں کہ تم مسلمانوں سے لڑ جاؤ اور ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ مگر جب وہ واقعی لڑ جائیں گے تو یہ دامن جھاڑ کر اپنے سارے وعدوں سے بری الذمہ ہوجائیں گے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھیں گے کہ ان پر کیا گزری ہے۔ ایسا ہی معاملہ شیطان ہر کافر سے کرتا ہے، اور ایسا ہی معاملہ اس نے کفار قریش کے ساتھ جنگ بدر میں کیا تھا، جس کا ذکر سورة انفال، آیت 48 میں آیا ہے۔ پہلے تو وہ ان کو بڑھاوے دے کر بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ پر لے آیا اور اس نے ان سے کہا کہ لَا غَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
(آیت) كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ الایة یہ دوسری مثال ان منافقین کی ہے جنہوں نے بنو نضیر کو جلا وطنی کا حکم نہ ماننے اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ پر جنگ کرنے کے لئے ابھارا اور ان کی مدد کرنے کا وعدہ کیا، مگر جب مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کیا تو کوئی منافق امداد کو نہ پہنچا ان کی مثال قرآن کریم نے شیطان کے ایک واقعہ سے دی ہے کہ شیطان نے انسان کو کفر پر آمادہ کیا اور اس سے طرح طرح کے وعدے کئے، مگر جب وہ کفر میں مبتلا ہوگیا تو سب سے مکر گیا۔
شیطان کے ایسے واقعات خدا جانے کتنے ہوئے ہوں گے، ان میں سے ایک واقعہ تو خود قرآن کریم میں منصوص ہے جس کا بیان سورة انفال کی ان آیات میں…
Read the full tafseer →(فکان عاقبتھما انھما فی النار خالدین فیھا وذلک جزوا الظلمین) (17)۔ یعنی جرم کو گزرنے کے بعد اس طرح اپنے کو بچانے اور دوسرے کو مہتم کرنے کی جو کوشش کی جاتی ہے اس کا فائدہ کسی فریق کو بھی نہیں پہنچتا بلکہ دونوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں پڑتے اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کا انجام یہی ہوا کرتا ہے۔
(1 ؎۔ قال مختلف معنوں میں آتا ہے، مثلاً کہنا، سمجھانا، اشارہ کرنا، دعوت دینا ابھارنا اور کسی اقدام پر آمادہ کرنا)۔
Read the full tafseer →17۔ 1 یعنی جہنم کی دائمی سزا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
13: یعنی وہ اس بات سے غافل اور بےپرواہ ہوگئے کہ خود ان کی جانوں کے لیے کونسی بات فائدے کی اور کونسی نقصان کی ہے، اور غفلت کے عالم میں وہی کام کرتے رہے جو انہیں تباہی کی طرف لے جانے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
کمثل الشیطن .................... الظلمین (71) ” ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر ، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں ، مجھے تو اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جائیں ، اور ظالموں کی یہی جزا ہے “۔
شیطان انسانوں کے ساتھ جو سلوک کرتا ہے وہی سلوک منافقین اہل کتاب کافروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیکن انسان ہیں کہ پھر اس کے کہے پر چلتے ہیں۔ یہ ایک دائمی حقیقت ہے اور قرآن کریم اس عارضی واقعہ کے حوالے سے اسے یہاں بیان کردیتا ہے کہ اس طرح اس جزئی واقعہ سے بھی ایک دائمی اور کلی نصیحت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
8 یعنی شیطان اول انسان کو کفر و معصیت پر ابھارتا ہے۔ جب انسان دام اغواء میں پھنس جاتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تجھ سے الگ اور تیرے کام سے بیزار ہوں مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے (یہ کہنا بھی ریاء اور مکاری سے ہوگا) نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خود بھی دوزخ کا کندہ بنا اور اسے بھی بنایا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " شیطان آخرت میں یہ بات کہے گا اور " بدر " کے دن بھی ایک کافر کی صورت میں لوگوں کو لڑواتا تھا۔ جب فرشتے نظر آئے تو بھاگا۔ جس کا ذکر سورة " انفال " میں گزر چکا ہے۔ یہی مثال منافقوں کی ہے۔ وہ " بنی نضیر " کو اپنی حمایت ورفاقت کا یقین دلادلا کر بھرے پر چڑھاتے رہے۔ آخر جب وہ مصیبت میں پھنس گئے، آپ الگ…
Read the full tafseer →آیت 17{ فَکَانَ عَاقِبَتَہُمَآ اَنَّہُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْہَا } ”تو ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ آگ میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔“
{ وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۔ } ”اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔“
انسان اور شیطان کی اس ”جوڑی“ کا ذکر سورة ق میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ کسی کافر ‘ مشرک اور گنہگار کا جو قرین ساتھی شیطان ہوگا وہ اس کے بارے میں کہے گا : { وَقَالَ قَرِیْنُـہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌ۔ } ”اور اس کا ساتھی کہے گا : اے پروردگار ! یہ جو میری تحویل میں تھا ‘ حاضر ہے !“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ملے گا : { اَلْقِیَا فِیْ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیْدٍ۔ } ”جھونک دو جہنم میں…
Read the full tafseer →23 یعنی گمراہ ہونے والے کو خود عقل و ہوش سے کام لینا چاہئے اور گمراہ کرنے والے سے بچنا چاہیے۔ پھر جب وہ گمراہ ہوگیا تو دونوں ایک جیسے ہوگئے اور ایک دوسرے کے ساتھی بن گئے۔ لہذا دونوں کو ایک جیسی سزا ملے گی۔ دونوں ہی ہمیشہ کے لیے دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔
Read the full tafseer →28۔ (جو اپنے ہاتھوں اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” عاقبتھما “۔ ھما کی ضمیر تثنیہ سے مراد وہی کافر انسان اور شیطان ہیں۔ اے الانسان الکافر والشیطان (مدارک) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی جہنم میں حبس دوام، اے الخلود فی النار (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
کمثل الشیطان اذ قال للانسان اکفر (الآیۃ) یہ یہود اور منفاقین کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے کہ منافقین نے یہودیوں کو اس طرح بےیارو مددگار چھوڑ دیا جس طرح شیطان انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے، پہلے وہ انسان کو گمراہ کرتا ہے اور جب انسان شیطان کے پیچھے لگ کر کفر کا ارتکاب کرلیتا ہے تو شیطان اس سے برأت کا اعلان کردیتا ہے اور جھوٹے ہی کہہ دیتا ہے کہ میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں، اذقال للانسان میں انسان سے اسم جنس مردا ہے، اور ہا گیا ہے کہ شیطان نے جس انسان سے اکفر کہا تھا وہ برصیصانام کا ایک راہب تھا، اس کے پاس ایک عورت آئی شیطان نے راہب کے دل میں وسوسہ ڈالا اس راہب نے اس عورت کو اپنے پاس…
Read the full tafseer →فکان عاقبتھما انھما فی النار خالدین فیھا و ذلک جزوا الظالمین .
Read the full tafseer →سو آخری انجام شیطان اور اس راہب کا یہ ہوا کہ دونوں ہمیشہ کے لیے دوزخ میں گئے اور کافروں کی یہی سزا ہے۔
Read the full tafseer →فَکَانَ عَاقِبَتَہُمَآ اَنَّہُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْہَا۔۔۔۔: یعنی قیامت کے د ن نہ شیطان اور دوسرے گمراہ کرنے والے آگ سے یہ کہہ کر بچ سکیں گے کہ ہم نے انہیں کفر کی صرف دعوت دی تھی ، اس پر مجبور نہیں کیا تھا ، اب ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ کہہ کر بچ سکیں گے کہ ہمیں تو شیطان نے یا ان لوگوں نے گمراہ کیا تھا ، اس لیے ہمارے بجائے انہیں عذاب دیا جائے ، بلکہ گمراہی کی دعوت دینے والے بھی جہنم میں جائیں گے اور ان کے کہنے پر گمراہ ہونے والے سب لوگ بھی اور تمام ظالموں کی یہی جزا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ اعراف (38، 39) عنکبوت (12، 13) ، سباہ (31، 32) اور سورة ٔ ق (23 تا 29)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
تفسیر
کمثل الشیطن اذ قال للانسان کفریہ منافقوں اور یہودیوں کے لئے ضرب المثل ہے کہ وہ بےیارومددگار چھوڑ دیتے ہیں اور مدد کے وعدہ کو پورا نہیں کرتے (1) ۔ حرف عطف کو حذف کیا کمثل الشیطان نہیں کہا کیونکہ حرف عطف اکثر حذف ہوتا ہے جس طرح تو کہتا ہے : انت عاقل۔ انت کریم۔ انت عالم۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” وہ انسان جسے شیطان نے کہا تھا تو کفر کر وہ ایک راہب تھا اس کے ہاں ایک عورت چھوڑ دی گئی جس کو سایہ کا مرض تھا تاکہ وہ اس کے حق میں دعا کرے۔ شیطان نے اس راہب کے لئے اس عمل کو مزین کیا تو راہب نے اس عورت سے وطی کی تو وہ عورت حاملہ ہوگئی پھر شرمندگی سے بچنے کے لئے اس عورت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
1۔ عبدالرزاق وابن راہویہ واحمد فی الزہد وعبد بن حمید والبخاری فی تاریخہ وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی اپنے گرجا گھر میں عبادت کرتا تھا۔ اور ایک عورت اپنے بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی وہ بیمار ہوگئی اس کو اس کے پاس لے آئے۔ اس عورت نے اس کے لیے اپنے آپ کو آراستہ کیا تو وہ اس پر واقع ہوگیا۔ اس کے پاس شیطان آیا اور کہا اس عورت کو قتل کردے کیونکہ اگر تیرے بارے میں ان پر یہ معاملہ ظاہر ہوگیا تو تو رسوا ہوجائے گا۔ تو اس نے اس عورت کو قتل کر کے دفن کردیا اس کے بھائی اس کے پاس آئے اور اس کو پکڑ کرلے گئے۔ اس درمیان کہ…
Read the full tafseer →[فَكَان عَاقِبَتَهُمَآ : پس ہے انجام دونوں کا ] [انهُمَا : کہ وہ دونوں ][ فِي النَارِ : آگ میں ہے ][ خَالِدَيْنِ فِيْهَا : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہیں اس میں ][وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا الظّٰلِمِيْنَ : اور یہ ظلم کرنے والوں کی جزاء ہے ]
نوٹ۔ 1 : اس پورے رکوع کے انداز بیان سے یہ بات متعرشم ہوتی ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوا تھا جب رسول اللہ ﷺ نے بنی نضیر کو مدینہ سے نکل جانے کے لیے دس دن کا نوٹس دیا تھا۔ اور ان محاصرہ شروع ہونے میں کئی دن باقی تھے۔ بنی نضیر کو جب یہ نوٹس ملا تو عبد اللہ بن ابی نے ان کو یہ کہلا بھیجا کہ ہم دو ہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری مدد کو آئیں گے۔ اس لیے مسلمانوں کے آگے ہتھیار مت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
شیطان انسان کو دھوکہ دیتا ہے پھر انجام یہ ہوتا ہے کہ دوزخ میں داخل ہونے والے بن جاتے ہیں
ان دونوں آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ قبیلہ بنی نضیر کو جو جلاوطنی کی سزا بھگتنی پڑی اور منافقین کا ان کی پیٹھ ٹھونکنا کام نہیں آیا (کیونکہ منافقین نے بےیارو مددگار چھوڑ دیا) یہ کوئی نئی بات نہیں ہے شیطان کا یہ طریقہ ہے کہ انسان کو کفر پر ابھارتا رہتا ہے جب وہ کفر اختیار کرلیتا ہے تو پوری ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہہ کر جدا ہوجاتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور ساتھ ہی یوں بھی کہہ دیتا ہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں غزوہ بدر کے موقع پر شیطان نے جو بےرخی دکھائی تھی اور بیزاری کا اعلان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
احوال منافقین وکاذبین بعد بیان اوصاف مخلصین وصادقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تر الی الذین نافقوا ...... الی ..... وذلک جزؤا الظلمین “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مال فئی اور اس کے مستحقین کا ذکر کرتے ہوئے ان اہل ایمان واخلاص کا بیان فرمایا جو اپنے ایمانی اوصاف میں وہ عظمت وبلندی حاصل کرنے والے ہیں کہ ان کو قرآن کریم نے ” الصادقون “ اور ” المفلحون “ کے لقب سے یاد کیا، ان کے برعکس اب ایک گروہ منافقین وکاذبین کا بیان ہے جن کے قبائح اور بدترین خصلتوں کو ذکر کے ان کی ذلت وناکامی کو بیان فرمایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا۔
اے ہمارے پیغمبر کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نفاق کا پیشہ اختیار کر…
Read the full tafseer →17:۔ ” فکان عاقبتھما “ یہ شیطان اور کافر کا انجام ہے۔ دنیا میں تو شیطان انسان کو گمراہ کر کے الگ ہوجاتا ہے لیکن آخرت میں دونوں کا انجام جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ایسے ظالموں کی یہی سزا ہے بعینہ یہی انجام ان منافقوں اور یہودیوں کا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
منافقین کی اسلام دشمنی :
گزشتہ دروس میں بنی نضیر کے یہودیوں کی بدعہدی اور ان کے محاسبے کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں ان منافقین کا ذکر ہورہا ہے جنہوں نے یہودیوں کو عہد شکنی پر اکسایا اور اہل ایمان کے خلاف ان کی مدد کا وعدہ کیا۔ ترتیب نزولی کے اعتبار سے واقعہ کا یہ حصہ پہلے آنا چاہیے تھا اور سورة کا ہپلا رکوع اس کے بعد۔ مگر واقعہ کی اہمیت کے پیش نظر یہودیوں کی سزا یابی کا پہلے ذکر کیا گیا ہے اور اس کے اسباب کا ذکر اب بعد میں آرہا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے جب مسلمانوں نے بنی نضیر کا محاصرہ کرلیا تو یہودی قلعہ بند ہوگئے اور اہل اسلام کی تمام تر کوشش کے باوجود وہ باہر نکل کر جنگ کرنے پر…
Read the full tafseer →فَكَانَ عَاقِبَتَہُمَآ اَنَّہُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيْہَا 0 ۭ وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا الظّٰلِـمِيْنَ 17 ۧ
عاقب
والعاقِبةَ إطلاقها يختصّ بالثّواب نحو : وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] ، وبالإضافة قد تستعمل في العقوبة نحو : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] ،
( ع ق ب ) العاقب
اور عاقبتہ کا لفظ بھی ثواب کے لئے مخصوص ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] اور انجام نیک تو پرہیز گاروں ہی کا ہے ۔ مگر یہ اضافت کی صورت میں کبھی آجاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ترکیب : کتشبیہ مثلم قریبا ای استقروا من قبلھم اوذاقواو بال امرھم قریبا ای عن قریب فکان عاقبتھما یقرء بالنصب علی الخبر وانھما فی النار و یقرء بالعکس دخالدین حال دحسن لماکرر الظرف ویقرء خالدان علی انہ خبران، ابن الصائغ۔
تفسیر : یہود بنی نضیر نے اپنی نالائقی کی ایسی سزا پائی جیسا کہ ابھی ان سے پہلے لوگ اپنے افعالِ بد کا وبال اور سزا پا چکے ہیں۔ دنیا میں اور آخرت میں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ ان بنی نضیر سے پہلے تھوڑے دنوں آگے کون لوگ آسمانی تازیانے سے پٹے تھے ؟ مجاہد کہتے ہیں مشرکین مکہ تھے جو بدر میں قتل اور قید ہوئے بنی نضیر کے واقعے سے پہلے۔ ابن عباس ؓ عنھما کہتے ہیں بنی قینقاع کی طرف اشارہ ہے،…
Read the full tafseer →فَکَانَ عَاقِبَتَھُمَآ اَنَّھُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْھَا ط وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الحشر : 17)
(پھر دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ وہ دونوں جہنم میں جائیں گے، اس میں ہمیشہ رہیں گے، اور ظالموں کی یہی جزاء ہے۔ )
دنیا میں جن لوگوں نے شیطان کی طرح دوسروں کو بہکایا، اور جب مشکل گھڑی آئی تو دامن جھاڑ کر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور ساری ذمہ داری ان پر ڈال دی جنھیں وہ اکساتے رہے اور اپنی معاونت کا یقین دلاتے رہے۔ اور اس حرکت کے بعد انھوں نے یہ سمجھا کہ جن لوگوں کو ہم نے اکسایا وہ کیسے ہی نا گفتہ بہ انجام سے دوچار ہوئے ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، نہ ہم پر اس کی کوئی ذمہ داری ہے۔ لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کی بزدلی کا ذکرجاری ہے۔
نبی معظم ﷺ کو منافقین کی سازش بتلانے کے بعد یہ بھی بتلادیا گیا ہے کہ منافق اور یہودی کبھی بھی اکٹھے ہو کر تمہارے سامنے نہیں آسکتے، سوائے اس کے کہ وہ اپنے قلعوں میں رہ کر یا دیواروں کی اوٹ میں تمہارے خلاف لڑنے کی کوشش کریں کیونکہ ان کے آپس میں شدید اختلافات ہیں۔ آپ انہیں متحد سمجھتے ہیں حالانکہ ان کے دل آپس میں ایک دوسرے سے دور ہیں۔ ایسا اس لیے کہ یہ لوگ حقیقی سمجھ نہیں رکھتے۔ ان کا حال ان لوگوں کی طرح ہے جو ان سے تھوڑی مدت پہلے اپنے کیے کی سزا پا چکے ہیں۔ قیامت کے دن ان کے لیے اذّیت ناک عذاب ہے۔ پہلے لوگوں سے مراد اہل مکہ ہیں جو بدر میں…
Read the full tafseer →17 : فَکَانَ عَاقِبَتَھُمَآ (پس آخری انجام دونوں کا یہ ہوا) دونوں کافر انسان اور شیطان کا انجام اَنَّھُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْھَا (دونوں دوزخ میں گئے جہاں ہمیشہ رہیں گے) اَنَّ اپنے اسم و خبر سمیت یہ موضع رفع میں کانؔ کا اسم ہے اور عاقبتہما یہ اس کی خبر ہے اور خالدین حال ہے۔ وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُاالظّٰلِمِیْنَ (اور ظالموں کی یہی سزا ہے)
Read the full tafseer →16 ۔” کمثل الشیطان “ منافقین کے غرور کی مثال اور بنو نضیر کی مثال شیطان کے رسواہونے کی طرح ہے۔ ” اذقال للانسان اکفر فلما کفر قال انی بری منک “۔
ایک راہب کا قصہ اور کفر پر اس کا انجام
ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ ایام فطرت (انقطاع نبوت کا زمانہ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سے رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک تھا) میں ایک راہب (تارک الدنیا درویش) تھا جس کو برصیصا کہا جاتا ہے۔ ستر برس تک یہ راہب اپنے عبادت خانہ میں اللہ کی عبادت کرتارہا، کبھی ایک لمحہ کے لئے اللہ کی نافرمانی نہیں کی اس کے سلسلہ میں ابلیس اپنی ساری تدبیریں کرکے عاجز آگیا مگر اس کو نہیں بہکا سکا۔ آخر ایک دن اس نے تمام خبیث شیطانوں کو جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
15۔ 24۔ مجاہد 1 ؎ کے قول کے حوالہ سے تفسیر سدی اور تفسیر مقاتل بن حیان میں اس آیت کی تفسر یوں کی ہے کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد وہ کفار قریش ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے مگر امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اس تفسیر کے مخالف ہیں وہ یہ فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلا وطنی بنی نضیر کی جلا وطنی سے پہلے ہوئی جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل اس قصہ کا اسی قدر ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبد اللہ بن سلام ہیں۔ اس قبیلہ سے اور آنحضرت ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر ان کی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد…
Read the full tafseer →(فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَآ) پس ان دونوں کا انجام یہ ہوا۔ یعنی داعی جو کہ شیطان ہے اور مدعو جو کہ انسان ہے جبکہ وہ شیطان کی اطاعت کرے۔ (اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيْهَا ۭ ) دونوں جہنم میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول (انما یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحاب السعیر۔ فاطر 6) ۔ ہو تو اپنے گروہ کو اس لیے دعوت دیتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہوجائیں۔ ( وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا الظّٰلِمِيْنَ ) اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔ جنہوں نے ظلم اور کفر میں اشتراک کیا، اگرچہ ان کے لیے عذاب کی شدت مختلف ہوگی۔
شیطان کا اپنے تمام دوستوں کے ساتھ یہی رویہ ہے وہ ان کو دعوت دیتا ہے اور فریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔
صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟
قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →[ 45] ضلال اور مضل دونوں کا انجام دوزخ۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں دوزخ میں ہوں گے جہاں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ اور یہی جزا ہے ظالموں کی۔ جو حق سے منہ موڑتے اور اس سے منہ موڑنے پر ایک دوسرے کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں، اور اس طرح وہ اپنی محرومی کو اور گہرا کرتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا، والعیاذ باللّٰہ سو جرم کرکے اس کی ذمہ داری کا بوجھ دوسروں پر ڈال کر خود کو بچانے کی جو کوشش کی جاتی ہے اس کا فائدہ ان میں سے کسی فریق کو بھی نہیں پہنچے گا، بلکہ دونوں کو جہنم میں پڑنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
منافقین کے احوال
تشریح : ان آیات میں کفار و مشرکین کا ذکر ہے خاص طور سے منافقین کی فطرت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کا زوال ہوا تو اس کی سب سے بڑی وجہ منافقین ہی ہوتے ہیں۔ منافقین بڑے ہی بزدل ہوتے ہیں کیونکہ ان کا نہ کوئی دین ہوتا ہے اور نہ ایمان بس وہ تو ہوا کے رخ پر چلتے ہیں یعنی تھالی کے بینگن ہوتے ہیں بجائے اللہ سے ڈرنے کے وہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ انتہائی بےوقوف، بد عہد، بےعقیدہ، بزدل، خود غرض جھوٹے، مکار اور بد دیانت لوگ ہوتے ہیں۔ جھوٹ سچ بول کر وقتی فائدہ اٹھانے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اور خود اپنے لیے اور اپنے پیروکاروں کے لیے انتہائی نقصان دہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
آیات 11 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ تو دیکھ رہے ہیں اور ہر مخاطب سمجھ رہا ہے کہ منافقین اپنے یہودی دوستوں کو کہتے ہیں کہ اگر تم پر مصیبت آئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے تمہیں ملک بدر وہ کرسکے گا جو تمہارے ساتھ ہمیں بھی نکال باہر کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کا مشورہ قبول نہ کریں گے ۔ حتی کہ اگر تمہارے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے مگر اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں کہ منافق نہ کسی کادوست ہوتا ہے اور نہ کسی سے سچی بات کرتا ہے اس لیے اگر ان کفار کو کبھی ملک بدر ہوناپڑا تو یہ ان کا ساتھ نہ دیں گے اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو اول تو یہ ان کا ساتھ ہی نہ دیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 2 یعنی اپنی نجات کی فکر سے غافل ہوگئے اور اس بنا پر گناہوں میں پڑے ہے اور عذاب آخرت سے بچنے کے لئے نیک اعمال کی راہ اختیار نہ کی۔
Read the full tafseer →(59:17) آیت 15 متذکرۃ الصدر میں فرمایا کہ :۔
شیطان دنیا میں انسان کو بہکاتا ہے اور ورغلاتا ہے اور جب اس کے بہکاوے میں آکر انسان گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو انسان سے الگ ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے کب تم کو ایسا کرنے پر اکسایا تھا۔ مجبور کیا تھا۔ میں تو خدائے رب العالمین ڈرتا ہوں۔ اور میں ایسا کیسے کرسکتا ہوں کہ دوسروں کو گناہ کرنے پر مجبور کروں۔ یہ بھی اس کا جھوٹ ہے اور دکھاوا ہے کیونکہ خدا کا خوف شیطان کی سرشت میں ہے ہی نہیں۔ سو اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ :۔
فکان عاقبتھما انھما فی النار خلدین فیہا۔ پھر ان دونوں کا (یعنی شیطان کا اور جس کو اس نے بہکایا تھا) یہ انجام ہوگا کہ وہ دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
لغات القرآن۔
نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔
تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(ف 1) امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس اس کی یہ تفسیر فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلاوطنی بنی نضیر کی جلاوطنی سے پہلے ہوئی ، جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل یہ ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبداللہ بن سلام ہیں اس قبیلہ کا نبی ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر انکی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد نبی ﷺ نے ان پر چڑھائی کی اور جب یہ لوگ مغلوب ہوگئے توعبداللہ بن ابی کی سفارش پر ان کی جان بخشی کی جاکران کو جلاوطن کرایا گیا ، غرض جلاوطن ہونے والوں کی مشابہت اور تمثیل جلاوطن والوں سے ایک پوری مشابہت اور تمثیل ہے ، اوپر گذرچکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
[21] یعنی اس کے احکام سے بےپروائی کی۔
[22] یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی مت ماری کہ خود اپنے نفع حقیقی کو نہ سمجھا اور نافرمانیوں میں غرق ہو کر دائمی خسارے اور ابدی ہلاکت میں پڑگئے۔
Read the full tafseer →دنیا کی جمال آرائیاں
1: غرض یہ ہے ۔ کہ اصل زندگی دنیائے دوں کی یہ عارضی اور ظاہری زندگی نہیں ہے ۔ بلکہ باوجود اس کی جازبیتوں اور جمال آرائیوں کے یہ تمہید ہے ۔ ایک دوسرے دور حیات کی ۔ اور یہ مقدمہ ہے ۔ پیش آئند کتاب زندگی کا اس لئے تقویٰ اور دینداری کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ سالک اس کو منزل نہ قرار دے لے ۔ اور اس کو اپنا نصب العین نہ قراردے لے ، بلکہ اپنے طرز عمل سے ثابت کرے ۔ کہ یہ کوچ کا مقام ہے ۔ اور جہاں جانا ہے ۔ وہ جگہ آگے ہے ۔ یہاں رہ کو آدمی یہ سوچے ۔ کہ اس مستقبل کے لئے اس عالم دائمی کے لئے ہم نے کیا کیا ہے ۔ کس قدر تیاری اور اہتمام سے کام لیا ہے ۔ مادراہ بھی موجود ہے ۔ یا نہیں ۔ پھر اس…
Read the full tafseer →(17) پھر ان دونوں یعنی شیطان اور انسان کا انجام یہ ہوا کہ دونوں آگ میں گئے اور دونوں اس آگ میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی سزا ہے گناہگاروں کی۔ یعنی دونوں کا انجام جہنم ہوا یعنی شیطان کا بھی اور کافر انسان کا بھی یہی انجام مدینے کے منافقین اور بنی نضیر اور بنی قینقاع کا ہوا کہ وہ دنیا میں تباہ و برباد ہوئے اور آخرت میں جہنم واصل ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ف 3۔ پس جس طرح اس شیطان نے اس انسان کو اول بہکایا پھر وقت پر ساتھ نہ دیا اور دونوں خسران میں پرے، اسی طرح ان منافقین نے اول بنی نضیر کو بری رائے دی کہ تم نکلو نہیں، پھر عین وقت پر ان کو دغا دی، اور دونوں بلا میں پھنسے، بنی نضیر تو بلائے اخراج میں اور منافقین ناکامیابی میں۔
Read the full tafseer →شیطان اور اس کے چیلوں کا انجام جو آخر کار ہونے والا ہے
17 ؎ جرم ہر حال میں جرم ہے اور جرم کا انجام کبھی بھی اچھا نہیں ہو سکتا ۔ پھر جس طرح جرم کرنا برائی ہے جرم پر آمادہ کرنا بھی برائی ہے اور برائی کا انجام کیا ہے ؟ دوزخ ہے۔ بس یہی بات زیر نظر آیت میں بیان کی جا رہی ہے کہ جرم کرنے اور جرم کرانے کا انجام ایک ہی جیسا ہے اگر جرم کرنے والا مجرم ہے تو یاد رکھو کہ جرم پر آمادہ کرنے والا بھی مجرم ہے دونوں کا انجام آگ ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا اور بدلہ ہے اور قانون الٰہی میں طے ہے کہ برائی کا ازالہ صرف اور صرف یہ ہے کہ برائی کرنے والا اپنی زندگی میں معافی طلب کرلے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ (The example [ of the hypocrites ] is like the Shaitan when he says to a human being, "Become a disbeliever" then once he disbelieves, he says, "I disown you; I fear Allah, the Lord of the worlds."....59:16) This is another example of the hypocrites who made false promises of solidarity and support to the Banu Nadir, and provoked the latter to fight against the Messenger of Allah ﷺ . But when the Muslims besieged them, not a single hypocrite came forward to assist. The Qur'an here uses a simile to illustrate the similarity between a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
27 That is, "These hypocrites arc treating the Bani an-Nadir in much the same way as Satan treats men. Today they are urging them to stand firm and go forth and clash with the Muslims making them believe that they would come to their aid, but when they actually clash with the Muslims, they would renounce their pledges and promises and would never even look back to see their fate. The same way does Satan treat every disbeliever, and a similar treatment had he given to the disbelieving Quraish at Badr, as has been mentioned in Surah al-Anfal: 48 above. First. he incited them with false hopes…
Read the full tafseer →