Explained with ayahs 11–17
کفر بز دلی کی گود ہے
تلبیس ابلیس کا ایک انداز :۔ عبداللہ بن ابی اور اسی جیسے منافقین کی چالبازی اور عیاری کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے یہودیان بنو نضیر کو سبز باغ دکھا کر جھوٹا دلاسا دلا کر غلط وعدہ کر کے مسلمانوں سے لڑوا دیا، ان سے وعدہ کیا کہ ہم تمہارے ساتھی ہیں لڑنے میں تمہاری مدد کریں گے اور اگر تم ہار گئے اور مدینہ سے دیس نکالا ملا تو ہم بھی تمہارے ساتھ اس شہر کو چھوڑ دیں گے، لیکن بوقت وعدہ ہی ایفا کرنے کی نیت نہ تھی اور یہ بھی کہ ان میں اتنا حوصلہ بھی نہیں کہ ایسا کرسکیں نہ لڑائی میں ان کی مدد کرسکیں نہ برے وقت ان کا ساتھ دیں، اگر بدنامی کے خیال سے میدان میں آ بھی جائیں تو یہاں آتے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة الْحَشْر 27
یعنی یہ منافقین بنی نضیر کے ساتھ وہی معاملہ کر رہے ہیں جو شیطان انسان کے ساتھ کرتا ہے۔ آج یہ ان سے کہہ رہے ہیں کہ تم مسلمانوں سے لڑ جاؤ اور ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ مگر جب وہ واقعی لڑ جائیں گے تو یہ دامن جھاڑ کر اپنے سارے وعدوں سے بری الذمہ ہوجائیں گے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھیں گے کہ ان پر کیا گزری ہے۔ ایسا ہی معاملہ شیطان ہر کافر سے کرتا ہے، اور ایسا ہی معاملہ اس نے کفار قریش کے ساتھ جنگ بدر میں کیا تھا، جس کا ذکر سورة انفال، آیت 48 میں آیا ہے۔ پہلے تو وہ ان کو بڑھاوے دے کر بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ پر لے آیا اور اس نے ان سے کہا کہ لَا غَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
(آیت) كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ الایة یہ دوسری مثال ان منافقین کی ہے جنہوں نے بنو نضیر کو جلا وطنی کا حکم نہ ماننے اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ پر جنگ کرنے کے لئے ابھارا اور ان کی مدد کرنے کا وعدہ کیا، مگر جب مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کیا تو کوئی منافق امداد کو نہ پہنچا ان کی مثال قرآن کریم نے شیطان کے ایک واقعہ سے دی ہے کہ شیطان نے انسان کو کفر پر آمادہ کیا اور اس سے طرح طرح کے وعدے کئے، مگر جب وہ کفر میں مبتلا ہوگیا تو سب سے مکر گیا۔
شیطان کے ایسے واقعات خدا جانے کتنے ہوئے ہوں گے، ان میں سے ایک واقعہ تو خود قرآن کریم میں منصوص ہے جس کا بیان سورة انفال کی ان آیات میں…
Read the full tafseer →(کمثل الشطین اذ قال للانسان کفر فلما کفرقالدانی بری منک انی اخاف اللہ رب العلمین) (16)۔
(منافقین کی مثال شیطان سے)۔ یہ بنو قریظہ کو ابھارنے والے منافقین کی مثال بیان ہوئی ہے کہ یہ کہتے تو ہیں کہ آپ لوگ نکالے گئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلیں گے اور اگر آپ لوگوں پر حملہ ہوا تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے اور اس معاملے میں ہرگز کسی کا کوئی دبائو نہیں قبول کریں گے لیکن یہ شیطان کے بھائی ہیں اور اسی کا رویہ اختیار کریں گے۔ جس طرح وہ انسان کو خدا کی نافرمانی کی راہ سمجھاتا ہے اور جب آدمی اس کے چکمے میں آ کر کوئی جرم کر بیٹھتا ہے تو وہ ناصح بن کر اس کو ملامت کرتا اور اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اسی طرح یہ…
Read the full tafseer →1 6 ۔ 1 یہ یہود اور منافقین کی ایک اور مثال بیان فرمائی کہ منافقین نے یہودیوں کو اسی طرح بےیارو مددگا چھوڑ دیا جس طرح شیطان انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے پہلے وہ انسان کو گمراہ کرتا ہے اور جب انسان شیطان کے پیچھے لگ کر کفر کا ارتکاب کرلیتا ہے تو شیطان اس سے براءت کا اظہار کردیتا ہے۔ 16۔ 2 شیطان اپنے اس قول میں سچا نہیں ہے، مقصد صرف اس کفر سے علیحدگی اور چھٹکارا حاصل کرتا ہے جو انسان شیطان کے گمراہ کرنے سے کرتا ہے۔
Read the full tafseer →12: شیطان کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ شرع میں تو انسان کو کفر اور گناہوں پر اکساتا ہے، لیکن جب اس کے نتیجے میں اس کی بات ماننے والوں کو کسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ ان سے بےتعلقی اختیار کرلیتا ہے اس کا ایک واقعہ غزوہ بدر کے سلسلے میں سورة انفال : 48 میں گذر چکا ہے۔ اور آخرت میں تو وہ کافروں کی ذمہ داری لینے سے صاف مکر ہی جائے گا۔ جس کی تفصیل سورة ابراہیم : 22 میں بیان ہوئی ہے۔ اسی طرح یہ منافق لوگ شروع میں تو یہودیوں کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہے، لیکن جب وقت آیا تو مدد کرنے سے صاف مکر گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
کمثل الشیطن .................... الظلمین (71) ” ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر ، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں ، مجھے تو اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جائیں ، اور ظالموں کی یہی جزا ہے “۔
شیطان انسانوں کے ساتھ جو سلوک کرتا ہے وہی سلوک منافقین اہل کتاب کافروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیکن انسان ہیں کہ پھر اس کے کہے پر چلتے ہیں۔ یہ ایک دائمی حقیقت ہے اور قرآن کریم اس عارضی واقعہ کے حوالے سے اسے یہاں بیان کردیتا ہے کہ اس طرح اس جزئی واقعہ سے بھی ایک دائمی اور کلی نصیحت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
8 یعنی شیطان اول انسان کو کفر و معصیت پر ابھارتا ہے۔ جب انسان دام اغواء میں پھنس جاتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تجھ سے الگ اور تیرے کام سے بیزار ہوں مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے (یہ کہنا بھی ریاء اور مکاری سے ہوگا) نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خود بھی دوزخ کا کندہ بنا اور اسے بھی بنایا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " شیطان آخرت میں یہ بات کہے گا اور " بدر " کے دن بھی ایک کافر کی صورت میں لوگوں کو لڑواتا تھا۔ جب فرشتے نظر آئے تو بھاگا۔ جس کا ذکر سورة " انفال " میں گزر چکا ہے۔ یہی مثال منافقوں کی ہے۔ وہ " بنی نضیر " کو اپنی حمایت ورفاقت کا یقین دلادلا کر بھرے پر چڑھاتے رہے۔ آخر جب وہ مصیبت میں پھنس گئے، آپ الگ…
Read the full tafseer →آیت 16{ کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْ } ”جیسے شیطان کی مثال ‘ جب وہ انسان کو کہتا ہے کہ کفر کر !“
{ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓئٌ مِّنْکَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ۔ } ”پھر جب وہ کفر کا ارتکاب کرلیتا ہی تو وہ شیطان کہتا ہے میں تم سے لاتعلق ہوں ‘ میں تو ڈرتا ہوں اللہ سے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“
Read the full tafseer →22 شیطان کا طریقہ واردات :۔ شیطان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ انسان کو کئی طرح کے سبزباغ دکھا کر اسے اپنے دام تزویر میں پھنسا لیتا ہے۔ پھر جب انسان شیطانی جال میں پھنس کر اس کا آلہ کار اور ایجنٹ بن جاتا ہے تو شیطان نیا شکار تلاش کرنے لگتا ہے۔ اور پہلے کی طرف سے مطمئن اور بےنیاز ہوجاتا ہے۔ اس کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ شیطان قیامت کے دن اپنے پیروکاروں کے سامنے ایسی ہی تقریر کرکے خود صاف طور پر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرے گا۔ اور اس کی عملی شکل میدان بدر میں پیش آئی۔ جب شیطان میدان بدر میں بنوکنانہ کے رئیس سراقہ بن مالک کی شکل دھار کر نمودار ہوا اور کافروں کو اکسانے اور فتح کی یقین دہانی کرانے لگا۔…
Read the full tafseer →26۔ یہاں مراد منافقین ہیں۔ اور تشبیہ عین وقت پر نکل جانے اور کام نہ آنے میں ہے۔ اے مثل المنافقین فی اغراءھم الیھود علی القتال (مدارک)
27۔ یعنی جس طرح شیطان پہلے تو انسان کو بہکانا، بھڑکاتا ہے، اور پھر وقت پڑنے پر ساتھ نہیں دیتا۔ اسی طرح منافقین مدینہ نے پہلے تو نبی نضیر کو خوب بڑھاوے دیئے، لیکن جب وقت آیا تو صاف نکل گئے۔ (آیت) ” فلما کفر “۔ یعنی جب کفر اور وبال کفر کا تحقق انسان پر ہوجاتا ہے۔ اس کا ظہور خواہ دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ (آیت) ” الشیطن ..... للانسان “۔ دونوں سے مراد جنس شیطان وجنس انسان ہے۔ والمجھور علی ان المراد باشیطن والانسان الجنس (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
کمثل الشیطان اذ قال للانسان اکفر (الآیۃ) یہ یہود اور منفاقین کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے کہ منافقین نے یہودیوں کو اس طرح بےیارو مددگار چھوڑ دیا جس طرح شیطان انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے، پہلے وہ انسان کو گمراہ کرتا ہے اور جب انسان شیطان کے پیچھے لگ کر کفر کا ارتکاب کرلیتا ہے تو شیطان اس سے برأت کا اعلان کردیتا ہے اور جھوٹے ہی کہہ دیتا ہے کہ میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں، اذقال للانسان میں انسان سے اسم جنس مردا ہے، اور ہا گیا ہے کہ شیطان نے جس انسان سے اکفر کہا تھا وہ برصیصانام کا ایک راہب تھا، اس کے پاس ایک عورت آئی شیطان نے راہب کے دل میں وسوسہ ڈالا اس راہب نے اس عورت کو اپنے پاس…
Read the full tafseer →کمثل الشیطن اذ قال للانسان اکفر فلما کفر قال انی بری منک انی اخاف اللہ رب العالمین
” شیطان کی ایسی مثال ہے کہ (اوّل تو) انسان سے کہتا ہے کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو اس سے کہتا ہے میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں اللہ ربّ العالمین سے ڈرتا ہوں۔ سو آخری انجام دونوں کا یہ ہوا کہ دونوں دوزخ میں گئے جہاں ہمیشہ رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔ “
کَمَثِل الشَّیْطٰنِ..... یعنی عبداللہ بن ابی اور اس جیسے دوسرے منافق جو یہودیوں کو جنگ پر آمادہ کرتے تھے ‘ ان کی مثال شیطان جیسی ہے۔
اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْ.... بغوی نے لکھا ہے کہ عطاء وغیرہ نے بحوالۂ ابن عباس ؓ بیان کیا کہ ایّام فترت…
Read the full tafseer →اور ان منافقین کی مثال بنو قریظہ کے ساتھ جبکہ انہوں نے ان کو رسوا کیا راہب کے ساتھ شیطان کی سی مثال ہے کہ پہلے تو شیطان اسے کہتا ہے کہ تو کافر ہوجا اور جب وہ کفر اختیار کرلیتا ہے تو پھر شیطان کہہ دیتا ہے کہ میرا تجھ سے اور تیرے دین سے کوئی واسطہ نہیں میں تو رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔
Read the full tafseer →کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْ۔۔۔۔۔۔ یعنی بنو قریظہ کو لڑنے پر ابھارنے والے منافقوں کا حال شیطان کے حال جیسا ہے اور وہ انہیں اسی طرح بےیارو مدد گار چھوڑ دیں گے جیسے شیطان انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے کہ وہ انسان کو گمراہ کرتا ہے ، پھر سب وہ اس کے پیچھے الگ کر کفر کا ارتکاب کرلیتا ہے تو شیطان کہہ دیتا ہے کہ میرا تجھ سے کوئی تعلق نہیں ، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کتنے انسانوں کو اس طرح گمراہ کیا اور گمراہ کرنے کے بعد ان سے بری ہوگیا۔ قرآن مجید میں اس کی مثال دنیا میں بدر کے موقع پر شیطان کی کفار قریش کو اپنی حمایت کا یقین دلا کر یین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
تفسیر
کمثل الشیطن اذ قال للانسان کفریہ منافقوں اور یہودیوں کے لئے ضرب المثل ہے کہ وہ بےیارومددگار چھوڑ دیتے ہیں اور مدد کے وعدہ کو پورا نہیں کرتے (1) ۔ حرف عطف کو حذف کیا کمثل الشیطان نہیں کہا کیونکہ حرف عطف اکثر حذف ہوتا ہے جس طرح تو کہتا ہے : انت عاقل۔ انت کریم۔ انت عالم۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” وہ انسان جسے شیطان نے کہا تھا تو کفر کر وہ ایک راہب تھا اس کے ہاں ایک عورت چھوڑ دی گئی جس کو سایہ کا مرض تھا تاکہ وہ اس کے حق میں دعا کرے۔ شیطان نے اس راہب کے لئے اس عمل کو مزین کیا تو راہب نے اس عورت سے وطی کی تو وہ عورت حاملہ ہوگئی پھر شرمندگی سے بچنے کے لئے اس عورت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
1۔ عبدالرزاق وابن راہویہ واحمد فی الزہد وعبد بن حمید والبخاری فی تاریخہ وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی اپنے گرجا گھر میں عبادت کرتا تھا۔ اور ایک عورت اپنے بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی وہ بیمار ہوگئی اس کو اس کے پاس لے آئے۔ اس عورت نے اس کے لیے اپنے آپ کو آراستہ کیا تو وہ اس پر واقع ہوگیا۔ اس کے پاس شیطان آیا اور کہا اس عورت کو قتل کردے کیونکہ اگر تیرے بارے میں ان پر یہ معاملہ ظاہر ہوگیا تو تو رسوا ہوجائے گا۔ تو اس نے اس عورت کو قتل کر کے دفن کردیا اس کے بھائی اس کے پاس آئے اور اس کو پکڑ کرلے گئے۔ اس درمیان کہ…
Read the full tafseer →[كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ : (اور منافقوں کی مثال) شیطان کی مثال کی مانند ہے ][ اِذْ قَالَ لِلْانسَان : جب اس نے کہا انسان سے ][اكْفُرْ : تو کفر کر ][ فَلَمَا كَفَرَ : پھر جب اس نے کفر کیا ][ قَالَ انى بَرِيْۗءٌ مِّنْكَ : تو اس نے کہا میں بریٔ الذمہ ہوں تجھ سے ][انىٓ اَخَافُ اللّٰهَ : بیشک میں ڈرتا ہوں اللہ سے ][رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ : جو تمام جہانوں کا رب ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
شیطان انسان کو دھوکہ دیتا ہے پھر انجام یہ ہوتا ہے کہ دوزخ میں داخل ہونے والے بن جاتے ہیں
ان دونوں آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ قبیلہ بنی نضیر کو جو جلاوطنی کی سزا بھگتنی پڑی اور منافقین کا ان کی پیٹھ ٹھونکنا کام نہیں آیا (کیونکہ منافقین نے بےیارو مددگار چھوڑ دیا) یہ کوئی نئی بات نہیں ہے شیطان کا یہ طریقہ ہے کہ انسان کو کفر پر ابھارتا رہتا ہے جب وہ کفر اختیار کرلیتا ہے تو پوری ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہہ کر جدا ہوجاتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور ساتھ ہی یوں بھی کہہ دیتا ہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں غزوہ بدر کے موقع پر شیطان نے جو بےرخی دکھائی تھی اور بیزاری کا اعلان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
احوال منافقین وکاذبین بعد بیان اوصاف مخلصین وصادقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تر الی الذین نافقوا ...... الی ..... وذلک جزؤا الظلمین “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مال فئی اور اس کے مستحقین کا ذکر کرتے ہوئے ان اہل ایمان واخلاص کا بیان فرمایا جو اپنے ایمانی اوصاف میں وہ عظمت وبلندی حاصل کرنے والے ہیں کہ ان کو قرآن کریم نے ” الصادقون “ اور ” المفلحون “ کے لقب سے یاد کیا، ان کے برعکس اب ایک گروہ منافقین وکاذبین کا بیان ہے جن کے قبائح اور بدترین خصلتوں کو ذکر کے ان کی ذلت وناکامی کو بیان فرمایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا۔
اے ہمارے پیغمبر کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نفاق کا پیشہ اختیار کر…
Read the full tafseer →16:۔ ” کمثل الشیطان “ یہ منافقین اور یہود کے لیے دوسری تمثیل ہے منافقین کے یہود سے وعدوں کی مثال شیطان کے وعدوں کی سی ہے جو انسان کو مختلف آرزوئیں دلا کر اور اسے سبز باغ دکھا کر کفر و شرک پر آمادہ کرتا ہے اور جب آدمی اس کے چالوں میں آ کر کفر کرلیتا ہے اور اس کی پاداش میں عذاب خداوندی میں مبتلا ہوجاتا ہے تو شیطان اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے اور صاف کہ دیتا ہے کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ پروردگار عالم سے ڈرتا ہے اس لیے میں تم سے بری الذمہ ہوں اور تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ یہود سے کیے گئے منافقین کے وعدے بھی اسی طرح پر فریب ہیں آڑے وقت میں وہ بھی ان کی مدد نہیں کریں گے اور مختلف حیلوں بہانوں سے کنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
منافقین کی اسلام دشمنی :
گزشتہ دروس میں بنی نضیر کے یہودیوں کی بدعہدی اور ان کے محاسبے کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں ان منافقین کا ذکر ہورہا ہے جنہوں نے یہودیوں کو عہد شکنی پر اکسایا اور اہل ایمان کے خلاف ان کی مدد کا وعدہ کیا۔ ترتیب نزولی کے اعتبار سے واقعہ کا یہ حصہ پہلے آنا چاہیے تھا اور سورة کا ہپلا رکوع اس کے بعد۔ مگر واقعہ کی اہمیت کے پیش نظر یہودیوں کی سزا یابی کا پہلے ذکر کیا گیا ہے اور اس کے اسباب کا ذکر اب بعد میں آرہا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے جب مسلمانوں نے بنی نضیر کا محاصرہ کرلیا تو یہودی قلعہ بند ہوگئے اور اہل اسلام کی تمام تر کوشش کے باوجود وہ باہر نکل کر جنگ کرنے پر…
Read the full tafseer →كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ 0 ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكَ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ 16
شطن
الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112]
( ش ط ن ) الشیطان
اس میں نون اصلی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ترکیب : کتشبیہ مثلم قریبا ای استقروا من قبلھم اوذاقواو بال امرھم قریبا ای عن قریب فکان عاقبتھما یقرء بالنصب علی الخبر وانھما فی النار و یقرء بالعکس دخالدین حال دحسن لماکرر الظرف ویقرء خالدان علی انہ خبران، ابن الصائغ۔
تفسیر : یہود بنی نضیر نے اپنی نالائقی کی ایسی سزا پائی جیسا کہ ابھی ان سے پہلے لوگ اپنے افعالِ بد کا وبال اور سزا پا چکے ہیں۔ دنیا میں اور آخرت میں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ ان بنی نضیر سے پہلے تھوڑے دنوں آگے کون لوگ آسمانی تازیانے سے پٹے تھے ؟ مجاہد کہتے ہیں مشرکین مکہ تھے جو بدر میں قتل اور قید ہوئے بنی نضیر کے واقعے سے پہلے۔ ابن عباس ؓ عنھما کہتے ہیں بنی قینقاع کی طرف اشارہ ہے،…
Read the full tafseer →کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْقَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْ ج فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ مِّنْـکَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الحشر : 16)
(ان شہ دینے والوں کی مثال شیطان کی سی ہے، جو انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو اس وقت وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ )
منافقین کی مثال شیطان سے
یہ منافقین جس طرح بنی نضیر کو شہ دے رہے تھے اور ساتھ دینے کے جھوٹے وعدے کرکے انھیں ڈٹ جانے کی ترغیب دے رہے تھے۔ اس آیت کریمہ میں ان کی مثال شیطان سے دی گئی ہے کہ ان کا رویہ وہی ہے جو انسان کی گمراہی میں شیطان کا رویہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کی بزدلی کا ذکرجاری ہے۔
نبی معظم ﷺ کو منافقین کی سازش بتلانے کے بعد یہ بھی بتلادیا گیا ہے کہ منافق اور یہودی کبھی بھی اکٹھے ہو کر تمہارے سامنے نہیں آسکتے، سوائے اس کے کہ وہ اپنے قلعوں میں رہ کر یا دیواروں کی اوٹ میں تمہارے خلاف لڑنے کی کوشش کریں کیونکہ ان کے آپس میں شدید اختلافات ہیں۔ آپ انہیں متحد سمجھتے ہیں حالانکہ ان کے دل آپس میں ایک دوسرے سے دور ہیں۔ ایسا اس لیے کہ یہ لوگ حقیقی سمجھ نہیں رکھتے۔ ان کا حال ان لوگوں کی طرح ہے جو ان سے تھوڑی مدت پہلے اپنے کیے کی سزا پا چکے ہیں۔ قیامت کے دن ان کے لیے اذّیت ناک عذاب ہے۔ پہلے لوگوں سے مراد اہل مکہ ہیں جو بدر میں…
Read the full tafseer →منافقین کا حال شیطان کے مشابہ :
16 : کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْقَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْ ئٌ مِّنْکَ اِنِّیْ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ (شیطان کی ایسی مثال ہے کہ انسان سے کہتا ہے کافرہوجا۔ جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو اس سے کہتا ہے میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں) منافقین کی یہودیوں کو لڑائی پر ابھارنے اور ان سے نصرت کا وعدہ کرنے پھر ان کے چھوڑنے اور مخالفت کرنے کی مثال شیطان جیسی ہے کہ جب وہ اپنے فریب سے انسان کو گمراہ کرلیتا ہے۔ تو آخرت میں اس سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔ ایک قول یہ ہے اس سے شیطان کا قریش کو گمراہ کر کے…
Read the full tafseer →15 ۔” کمثل الذین من قبلھم “ یعنی یہود کی مثال ایسی ہے جو ان سے پہلے ہے۔ ” قریباً “ مشرکین مکہ کے قریب ” ذاقو اوباامرھم “ اس سے مراد بدر کے دن کا قتال ہے اور اس سے پہلے غزوہ بنی نضیر ہے۔ مجاہد (رح) اور ابن عباس (رح) کا قول ہے کہ ” کمثل الذین من قبلھم “ سے مراد بنی قینقاع ہے اور بعض نے کہا کہ بنو قریظہ کی مثال ایسی ہے جیسے بنی نضیر ” ولھم عذاب الیم “ پھر منافقین اور یہود سب کی مثال بیان کی ہے ان کو دھوکہ دینے میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
15۔ 24۔ مجاہد 1 ؎ کے قول کے حوالہ سے تفسیر سدی اور تفسیر مقاتل بن حیان میں اس آیت کی تفسر یوں کی ہے کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد وہ کفار قریش ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے مگر امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اس تفسیر کے مخالف ہیں وہ یہ فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلا وطنی بنی نضیر کی جلا وطنی سے پہلے ہوئی جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل اس قصہ کا اسی قدر ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبد اللہ بن سلام ہیں۔ اس قبیلہ سے اور آنحضرت ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر ان کی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد…
Read the full tafseer →ان منافقین کی مثال جنہوں نے اپنے اہل کتاب بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے (كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ ۚ ) شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا رہتا ہے کہ کافر ہوجا۔ یعنی شیطان نے انسان کے سامنے کفر کو مزین کرکے خوبصورت بنادیا اور اسے کفر کی طرف دعوت دی۔ جب انسان نے دھوکے میں مبتلا ہو کر کفر ارتکاب کیا اسے بدبختی حاصل ہوئی تو شیطان اس کے کسی کام نہ آیا جس نے اسکی سرپرستی کی تھی اور کفر کی طرف دعوت دی تھی بلکہ شیطان نے اس سے برات کا اظہار کیا اور (قَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكَ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ ) کہا کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں میں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔
صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟
قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →[ 42] حق کے دشمنوں کی مثال شیطان کی سی۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کے دشمنوں اور حق کے خلاف ابھارنے والوں کی مثال شیطان کی سی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی مثال شیطان کی سی ہے۔ یعنی ان منافقین کی مثال جنہوں نے یہود و بنو نضیر کو اپنے جھوٹے وعدوں کے ذریعے حق اور اہل حق کے خلاف اکسایا ابھارا اور ان کو لڑائی پر تیار اور آمادہ کیا، ان کی مثال شیطان کی ہے، کہ وہ بھی انسان کو کفر و بغاوت پر اکساتا ابھارتا ہے، اور اس طرح وہ اس کو تباہی کے گڑھے میں ڈال کر خود اس سے الگ ہوجاتا ہے، [ خازن، صفوۃ وغیرہ ] سو ان منافقوں نے یہود، بنو نضیر کو ابھارہ کہ اگر آپ لوگوں کو نکالا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
منافقین کے احوال
تشریح : ان آیات میں کفار و مشرکین کا ذکر ہے خاص طور سے منافقین کی فطرت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کا زوال ہوا تو اس کی سب سے بڑی وجہ منافقین ہی ہوتے ہیں۔ منافقین بڑے ہی بزدل ہوتے ہیں کیونکہ ان کا نہ کوئی دین ہوتا ہے اور نہ ایمان بس وہ تو ہوا کے رخ پر چلتے ہیں یعنی تھالی کے بینگن ہوتے ہیں بجائے اللہ سے ڈرنے کے وہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ انتہائی بےوقوف، بد عہد، بےعقیدہ، بزدل، خود غرض جھوٹے، مکار اور بد دیانت لوگ ہوتے ہیں۔ جھوٹ سچ بول کر وقتی فائدہ اٹھانے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اور خود اپنے لیے اور اپنے پیروکاروں کے لیے انتہائی نقصان دہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
آیات 11 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ تو دیکھ رہے ہیں اور ہر مخاطب سمجھ رہا ہے کہ منافقین اپنے یہودی دوستوں کو کہتے ہیں کہ اگر تم پر مصیبت آئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے تمہیں ملک بدر وہ کرسکے گا جو تمہارے ساتھ ہمیں بھی نکال باہر کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کا مشورہ قبول نہ کریں گے ۔ حتی کہ اگر تمہارے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے مگر اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں کہ منافق نہ کسی کادوست ہوتا ہے اور نہ کسی سے سچی بات کرتا ہے اس لیے اگر ان کفار کو کبھی ملک بدر ہوناپڑا تو یہ ان کا ساتھ نہ دیں گے اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو اول تو یہ ان کا ساتھ ہی نہ دیں گے…
Read the full tafseer →ف 1 شیطان کو حقیقت میں خدا کا ڈر نہیں ہے محض آدمی سے پچیھا چھڑانے کے لئے اس سے کہتا ہے کہ مجھے خدا کا ڈر ہے اس لئے مجھے اپنی مدد سے معذور سمجھو۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” شیطان آخرت میں یہ کہے گا اور بدر کے دن بھی ایک کافر کی صورت میں لوگوں کو لڑواتا تھا۔ جب فرشتے نظر آئے تو بھاگا۔ یہ کہاوت ہے منافقوں کی۔ “ مطلب یہ ہے کہ منافق بھی یہود کو ایسا دھوکہ دیتے ہیں جب شیطان نے انسان کو دیا۔ (جامع البیان)
Read the full tafseer →(59:16) کمثل الشیطان اس آیت میں خبر کا مبتدا محذوف ہے۔ عبارت یوں ہوگی مثلہم کمثل الشیطن : ان کی مثال شیطان کی سی مثال ہے۔ مثلھم کی ضمیر یہاں منافقون کے لئے ہے جب کہ سابقہ آیت میں یہود بنی نضیر کے لئے تھی۔ بعض نے کہا کہ ہر دو جگہ ہر دو فریق کے لئے ہے۔
اذقال ۔۔ الخ۔ شیطان کا کردار ہے جس کی مثال دی گئی ہے یعنی وہ انسان سے کہتا ہے کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا۔ تو کہنے لگا مجھے تجھ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ مجھے خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔
اسی طرح مدینہ کے منافقین بھی یہود بنی نضیر کو رسول اللہ ﷺ کے خلاف جھوٹی باتوں کے گھمنڈ پر ابھارتے رہتے تھے۔ اور جب ان پر آپڑی تو بجائے ان کی مدد کرنے کے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
لغات القرآن۔
نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔
تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(ف 1) امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس اس کی یہ تفسیر فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلاوطنی بنی نضیر کی جلاوطنی سے پہلے ہوئی ، جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل یہ ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبداللہ بن سلام ہیں اس قبیلہ کا نبی ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر انکی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد نبی ﷺ نے ان پر چڑھائی کی اور جب یہ لوگ مغلوب ہوگئے توعبداللہ بن ابی کی سفارش پر ان کی جان بخشی کی جاکران کو جلاوطن کرایا گیا ، غرض جلاوطن ہونے والوں کی مشابہت اور تمثیل جلاوطن والوں سے ایک پوری مشابہت اور تمثیل ہے ، اوپر گذرچکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
[21] یعنی اس کے احکام سے بےپروائی کی۔
[22] یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی مت ماری کہ خود اپنے نفع حقیقی کو نہ سمجھا اور نافرمانیوں میں غرق ہو کر دائمی خسارے اور ابدی ہلاکت میں پڑگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ف 1: منافقین نے یہودیوں کو بہکا کر ذلیل ورسوا کیا ۔ اور آخر میں جب کہ وہ اپنی بستیاں چھوڑ رہے تھے ۔ اور اپنے مال ومتاع سے جدا کئے جارہے تھے ۔ ان سے کچھ بھی کام نہ آسکے ۔ حالانکہ نصرت واعانت کا پورا پورا معاہدہ تھا ۔ فرمایا ۔ ان لوگوں کی مثال شیطان کی طرح ہے ۔ کہ دنیا میں انسان کو گمراہ کرتا ہے ۔ کفر پر آمادہ کرتا ہے ۔ اور عاقبت کے باب میں طرح طرح کے فریبوں سے کام لیتا ہے ۔ مگر جب وہ مقررہ وقت آپہنچے گا ۔ یہ بالکل الگ جاکھڑا ہوگا ۔ اور کامل بیزاری کا اعلان کرے گا ۔ اس وقت ان فریب خوروگان معصیت کو معلوم ہوگا ۔ کہ ہم دنیا میں محض بیوقوف بنے رہے ۔ اور ہم نے اس زندگی کے متعلق جو کچھ سوچ رکھا تھا ۔…
Read the full tafseer →(16) اور ان منافقوں کی مثال شیطان کی سی مثال ہے کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ منکر ہوجا اور کافر بن جا پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو کہتا ہے میں تجھ سے بےتعلق اور الگ ہوں میں تو اس اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو اقوام عالم کا پروردگار ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شیطان آخرت میں یہ کہے گا اور بدر کے دن بھی ایک کافر کی صورت بن کر لوگوں کو لڑوادیا جب فرشتے نظر آتے تو بھاگا سورة انفال میں بیان ہوچکا یہ کہاوت ہے منافقوں کی۔
خلاصہ : یہ ہے کہ ان منافقوں کی مثال شیطان کی سی ہے یہ بھی لوگوں کو ابھار کر جنگ پر آمادہ کردیتے ہیں اور اپنی امداد کا وعدہ دلاتے ہیں پھر جب میدان کار زار گرم ہوجاتا ہے تو وہ خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ف 3۔ پس جس طرح اس شیطان نے اس انسان کو اول بہکایا پھر وقت پر ساتھ نہ دیا اور دونوں خسران میں پرے، اسی طرح ان منافقین نے اول بنی نضیر کو بری رائے دی کہ تم نکلو نہیں، پھر عین وقت پر ان کو دغا دی، اور دونوں بلا میں پھنسے، بنی نضیر تو بلائے اخراج میں اور منافقین ناکامیابی میں۔
Read the full tafseer →شیطان کے روپ کی مزید وضاحت تاکہ اس کی پہچان ہو سکے
16 ؎ شیطان جو انسان کا ابدی دشمن بھی ہے اور اس کے اندر موجود بھی کہ وہ انسان کے اندر القاء کرتا ہے اور اس کو کفر وشرک اور برائی پر آمادہ کرتا ہے اور بدستور اس کو سبز باغ دکھاتا رہتا ہے اور ایک کام کو اس کے سامنے مزین کردیتا ہے حالانکہ وہ کام سراسر گناہ اور زیادتی کا کام ہوتا ہے لیکن وہ اس کی آنکھوں میں اس طرح دھول جھونکتا ہے کہ اس کو کچھ نہیں سوجھتا اور ایک ان ہونے کام کو وہ کر گزرتا ہے اور جب وہ کرلیتا ہے اس وقت اس کی عقل درست ہوتی ہے اور پردہ اس کی آنکھوں سے ہٹ جاتا ہے تو وہی اس کے سامنے کھڑا ہو کر صاف انکار کردیتا ہے کہ یہ کام جس نے کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ (The example [ of the hypocrites ] is like the Shaitan when he says to a human being, "Become a disbeliever" then once he disbelieves, he says, "I disown you; I fear Allah, the Lord of the worlds."....59:16) This is another example of the hypocrites who made false promises of solidarity and support to the Banu Nadir, and provoked the latter to fight against the Messenger of Allah ﷺ . But when the Muslims besieged them, not a single hypocrite came forward to assist. The Qur'an here uses a simile to illustrate the similarity between a…
Read the full tafseer →26 The allusion is to the disbelievers of the Quraish and the Jewish clan of the Bani Qrainuqa who had been defeated by a handful of ill-equipped Muslims in spite of their larger numbers and superior equipment, due mainly to these weaknesses
Read the full tafseer →