Al-Hashr 59:15

Al-Hashr · from ayah 15

59:15

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ ۚ— وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۟ۚكَمَثَلِ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ قَرِيۡبًا‌ ذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِهِمۡ‌ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ‌ۚ

ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اور (ابھی) ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Theirs is] like the example of those shortly before them: they tasted the bad consequence of their affair, and they will have a painful punishment.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hashr

All translations of 59:15

یہ اُنہی لوگوں کے مانند ہیں جو اِن سے تھوڑی ہی مدت پہلے اپنے کیے کا مزا چکھ چکے ہیں اور اِن کے لیے دردناک عذاب ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اور (ابھی) ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان لوگوں کی طرح جو ان سے کچھ ہی پہلے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے کام کا وبال چکھ لیا اور جن کے لیے المناک عذاب (تیار) ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کی حالت ان لوگوں کی سی ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کرتوت کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کی سی کہاوت جو ابھی قریب زمانہ میں ان سے پہلے تھے انہوں نے اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اُن کا حال) اُن لوگوں جیسا ہے جو اُن سے پہلے زمانۂ قریب میں ہی اپنی شامتِ اعمال کا مزہ چکھ چکے ہیں (یعنی بدر میں مشرکینِ مکہ، اور یہود میں سے بنو نضیر، بنو قینقاع و بنو قریظہ وغیرہ)، اور ان کے لئے (آخرت میں بھی) دردناک عذاب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان لوگوں کے حال کی طرح جو ان سے پہلے قریب ہی تھے، انھوں نے اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے تھوڑی مدت پہلے اپنے کیے کا مزا چکھ چکے ہیں، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

(جن کو یہ دے رہے ہیں) ان کا وہی حال ہوگا جو ان لوگوں کا ہوا جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کیے کا وبال چکھ چکے ہیں اور ان کے لیے ایک درد ناک عذاب بھی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کا حال تو انہی لوگوں جیسا ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کئے کا مزہ چکھ چکے ہیں اور (آخرت میں تو) ان کے لئے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(ان کی) مثال ان لوگوں کی سی ہے جو ان کے کچھ ہی قبل ہوئے ہیں جو اپنے کردار کا مزہ چکھ چکے ہیں اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(ان کا وہی حال ہوگا) جیسے ان لوگوں کا معاملہ ہوا جو ان سے پہلے قریب ہی اپنے کیے کی سزا چکھ چکے ہیں اور ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کا حال ان لوگوں جیسا ہے جو ان سے کچھ ہی عرصہ پہلے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ چکے ہیں، اور ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب تیار ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They are like those who tasted the evil consequences of their deeds a short while before. A grievous chastisement awaits them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The example (of Banu NaDir) is like those who were before them in near past, who tasted the evil consequence of their conduct, and for them (in the Hereafter) there is a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

The example (of Banu NaDir) is like those who were before them in near past, who tasted the evil consequence of their conduct, and for them (in the Hereafter) there is a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They are like their immediate predecessors; they tasted the evil result of their conduct, and for them a painful torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On the likeness of those (who suffered) a short time before them, they taste the ill-effects of their own conduct, and theirs is painful punishment.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Theirs is] like the example of those shortly before them: they tasted the bad consequence of their affair, and they will have a painful punishment.

— Saheeh International

They are like those who, a short time before, suffered the consequences of their deeds. They, too, will suffer a painful torment.

— Muhammad Sarwar

Like those before them shortly; they tasted the evil result of their affair, and they shall have a painful punishment.

— Muhammad Habib Shakir

They are like those a little before them; they tasted the ill-effect of their affair, and theirs shall be a torment afflictive.

— Abdul Majid Daryabadi

Like those who lately preceded them, they have tasted the evil result of their conduct; and (in the Hereafter there is) for them a grievous Penalty;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 59:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–17

کفر بز دلی کی گود ہے تلبیس ابلیس کا ایک انداز :۔ عبداللہ بن ابی اور اسی جیسے منافقین کی چالبازی اور عیاری کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے یہودیان بنو نضیر کو سبز باغ دکھا کر جھوٹا دلاسا دلا کر غلط وعدہ کر کے مسلمانوں سے لڑوا دیا، ان سے وعدہ کیا کہ ہم تمہارے ساتھی ہیں لڑنے میں تمہاری مدد کریں گے اور اگر تم ہار گئے اور مدینہ سے دیس نکالا ملا تو ہم بھی تمہارے ساتھ اس شہر کو چھوڑ دیں گے، لیکن بوقت وعدہ ہی ایفا کرنے کی نیت نہ تھی اور یہ بھی کہ ان میں اتنا حوصلہ بھی نہیں کہ ایسا کرسکیں نہ لڑائی میں ان کی مدد کرسکیں نہ برے وقت ان کا ساتھ دیں، اگر بدنامی کے خیال سے میدان میں آ بھی جائیں تو یہاں آتے ہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَشْر 26 اشارہ ہے کفار قریش اور یہود بنی قینقاع کی طرف جو اپنی کثرت تعداد اور اپنے سر و سامان کے باوجود انہی کمزوریوں کے باعث مسلمانوں کی مٹھی بھر بےسرو سامان جماعت سے شکست کھاچکے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل (آیت) كَمَثَلِ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِيْبًا الخ، یہ بنو نضیر کی مثال کا بیان ہے اور الذین من قبلہم کی تفسیر میں حضرت مجاہد نے فرمایا کہ کفار اہل بدر مراد ہیں اور حضرت ابن عباس نے فرمایا بنو قینقاع (قبیلہ یہود) مراد ہیں اور دونوں کا انجام بد اور مقتول و مغلوب اور ذلیل و خوار ہونا اس وقت واضح ہوچکا تھا کیونکہ بنو نضیر کی جلاوطنی کا واقعہ غزوہ بدر و احد کے بعد واقع ہوا اور بنو قینقاع کا واقعہ بھی بدر کے بعد پیش آ چکا تھا، بدر میں مشرکین عرب کے ستر سردار مارے گئے اور باقی بڑی ذلت و خواری کے ساتھ واپس ہوئے اور بقول ابن عباس یہ مراد ہیں تو مطلب آیت کا واضح ہے کہ ان کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(کمثل الذین من قبلھم قریبا ذا قواوبال امرھم ولھم عذاب الیم) (15)۔ (بنو نضیر کے انجام کی مثال)۔ یہ مثال دی ہے ان لوگوں کے انجام کی جن کو یہ منافقین ابھا رہے تھے کہ اگر آپ لوگ نکالے گئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکل جائیں گے اور اگر آپ لوگوں پر حملہ ہوا تو ہم بھی آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں گے۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ ان کی بھڑی میں آ کر کوئی غلط قدم اٹھا بیٹھے تو یاد رکھیں کہ ان کا انجام بھی رہی ہوگا جو ان لوگوں کا ہوچکا ہے جو ابھی جلد ہی اپنی شرارت کا مزا چکھ چکے ہیں۔ (الذین من قبلھم قریبا ذا قواوبال امرھم) سے عام طور پر لوگوں نے قریش کو مراد لیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ اشارہ غزوہ ٔ بدر کی طرف ہے کہ جس طرح بدر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 اس سے بعض نے مشرکین مکہ مراد لیے ہیں جنہیں غزوہ بنی نصیر سے کچھ عرصہ قبل جنگ بدر میں عبرت ناک شکست ہوئی تھی یعنی یہ بھی مغلوبیت اور ذلت میں مشرکین ہی کی طرح ہیں جن کا زمانہ قریب ہی ہے بعض نے یہود کے دوسرے قبیلے بنو قینقاع کو مراد لیا ہے جنہیں بنو نضیر سے قبل جلا وطن کیا جا چکا تھا جو زمان ومکان دونوں لحاظ سے ان کے قریب تھے۔ ابن کثیر۔ 15۔ 2 یعنی یہ وبال جو انہوں نے چکھا، یہ تو دنیا کی سزا ہے، آخرت کی سزا اس کے علاوہ ہے جو نہایت دردناک ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–15

11: اس سے مراد ایک اور قبیلے بنوقینقاع کے یہودی ہیں۔ انہوں نے بھی حضور اکرم ﷺ سے امن اور باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا، لیکن پھر خود ہی آپ سے جنگ ٹھان لی جس کے نتیجے میں انہوں نے شکست بھی کھائی، اور ان کو بھی مدینہ منورہ سے جلا وطن کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

کمثل ................ عذاب الیم (95 : 51) ” یہ انہی لوگوں کے مانند ہیں جو ان سے تھوڑی ہی مدت پہلے اپنے کیے کا مزا چکھ چکے ہیں۔ اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے “۔ واقعہ بنی قینقاع غزوہ بدر سے قبل ہوا تھا۔ ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان عہد تھا۔ جب مسلمان نے بدر میں مشرکین پر غلبہ پالیا تو یہودیوں کو یہ بات بہت ہی بری لگی۔ اور انہوں نے مسلمانوں کی اس عظیم فتح کو دل سے قبول نہ کیا اور جل بھن گئے۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ مدینہ میں مسلمان جس قدر قوت پکڑتے ہیں اس قدر ان کی اہمیت گھٹتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ جو باتیں کرتے تھے رسول اللہ ﷺ کو ان کی رپورٹیں ملتی رہتی تھیں کہ یہ کسی شرکا ارادہ رکھتے ہیں۔ تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی ابھی قریب زمانہ میں یہود " بنی قینقاع " اپنی غداری کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ جب انہوں نے بدعہدی کی تو مسلمانوں نے ایک مختصر لڑائی کے بعد نکال باہر کیا۔ اور اس سے پیشتر ماضی قریب میں مکہ والے " بدر " کے دن سزا پاچکے ہیں، وہی انجام " بنی نضیر " کا دیکھ لو کہ دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں میں سزا مل چکی اور آخرت کا دردناک عذاب جوں کا توں رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15{ کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِہِمْ } ”ان کا وہی حال ہوگا جیسے ان لوگوں کا معاملہ ہوا جو ان سے پہلے قریب ہی اپنے کیے کی سزا چکھ چکے ہیں۔“ اس سے یہودی قبیلہ بنو قینقاع کے لوگ مراد ہیں جنہیں 2 ہجری میں غزوئہ بدر کے بعد مدینہ سے جلاوطن کیا گیا تھا ‘ جبکہ بنونضیر کی جلاوطنی ‘ جس کا ذکر ہم اس سورت میں پڑھ رہے ہیں ‘ 4 ہجری کو عمل میں آئی۔ اسی طرح 5 ہجری میں غزوئہ احزاب کے بعد یہود مدینہ کا تیسرا اور آخری قبیلہ بنوقریظہ بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ { وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ } ”اور ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

21 تھوڑی مدت پہلے یہود کے قبیلہ بنو قینقاع کو جس قدر ذلت و خواری سے نکالا گیا وہ یہ یہود بنی نضیر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور اس کی تفصیل پہلے اسی سورة کی آیت 2 کے حواشی میں گزر چکی ہے اور کافر تھوڑی مدت پہلے جنگ بدر میں اپنی کرتوتوں کی سزا پاچکے ہیں۔ یہ تو انہیں دنیا میں سزا ملی اور آخرت میں دردناک عذاب تو جوں کا توں باقی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25۔ (آخرت میں، جو اس دنیوی سزا کے علاوہ ہوگا) یہ حال یہود بنی نضیر کا بیان ہورہا ہے، اور انہیں کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ (آیت) ” کمثل “۔ یعنی یہود بنی نصیر کی مثال۔ تشبیہ محرومی دارین میں ہے۔ (آیت) ” الذین من قبلھم قریبا “۔ یعنی یہود بنی قینقاع۔ یہ بھی مدینہ وحوالی مدینہ میں آباد تھے، 2 ھ ؁ غزوۂ بدر کے بعد اس قبیلہ نے بدعہدی کرکے رسول اللہ سے محاربہ کیا، مغلوب ہوئے اور پھر جلاوطن۔ عن ابن عباس یعنی بنی قینقاع (ابن جریر) بعض نے مراد اہل بدر سے بھی لی ہے۔ عن مجاھد قال کفار قریش (ابن جریر) (آیت) ” وبال امرھم “۔ یعنی عداوت رسول کا خمیازہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

کمثل الذین من قبلھم قریباً (الآیۃ) یہ بنو نضیر کی مثال کا بیان ہے اور الذین من قبلھم کی تفسیر میں حضرت مجاہد رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار اہل بدر مراد ہیں اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہود کا قبیلہ بنو قینقاع مراد ہے دونوں کا انجام بد قریبی زمانہ میں واضح ہوچکا تھا، کیونکہ بنو نضیر کی جلاوطنی کا واقعہ غزوہ بدر واحد کے بعد واقع ہوا ہے اور بنو قینقاع کا واقعہ بھی واقعہ بدر کے بعد پیش آیا تھا۔ غزوہ بنی قینقاع : غزوہ بنی قینقاع 15 شوال بروز شنبہ 2 ھ میں واقع ہوا، بنی قینقاع عبداللہ بن سلام کی برادری کے لوگ تھے جو کہ نہایت شجاع اور بہادر تھے، زرگری کا کام کرتے تھے مدینہ کے جوہری بازار پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کمثل الذین من قبلھم قریبا ذاقوا وبال امرھم ولھم عذاب الیم . ” (ان کی) ان لوگوں کی سی مثال ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے ہوئے ہیں کہ وہ (دنیا میں بھی) اپنے کردار کا مزہ چکھ چکے اور (آخرت میں بھی) ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ “ کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَرِیْبًا : یعنی بنی نضیر کی مثال ویسی ہی ہے جیسی ان سے کچھ ہی پہلے والے لوگوں کی تھی۔ مجاہد کا قول ہے کہ : اَلَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَرِیْبًاسے مراد وہ مشرکین ہیں جو بدر میں مسلمانوں سے لڑے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بنی قینقاع کے یہودی مراد ہیں۔ بنی قینقاع حضرت عبداللہ ؓ بن سلام کے قبیلہ والے تھے۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی سلول یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

بد عہدی اور سزا کے اعتبار سے قریظہ والوں کی حالت ایسی ہے جیسی ان سے تقریبا دو سال پہلے والوں کی ہوئی یعنی بنو نضیر کی وہ اپنی بدعہدی کا مزہ چکھ چکے ہیں اور آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِہِمْ۔۔۔۔:”کمثل الذین“ سے پہلے مبتداء محذوف ہے : ’ ’ ای مثلھم“ یعنی ان بنو قریظہ کا حال جنہیں منافقین لڑنے پر ابھار رہے ہیں اور اپنی ہر طرح کی مدد کا یقین دلا رہے ہیں ان لوگوں کے حال جیسا ہے جو ان سے پہلے قریب ہی تھے۔ مراد ان سے بنو نضیر ہیں جنہوں نے اپنی بد عہدی کا وبال چکھا ، وہ اپنی تمام تر قلعہ بندیوں ، فوجی تیاریوں ، بہادری کے دعوؤں اور منافقین و مشرکین کی امداد کے وعدوں کے باوجود پہلی چوٹ بھی نہ سہ سکے اور اپنی زمینیں ، باغات اور مکانات مسلمانوں کے لیے چھوڑ کر ذلیل و رسوا ہو کر جلا وطن ہوگئے اور ان کے لیے آئندہ بھی دنیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیات۔ 15 تفسیر حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد بنو قینقاع ہیں۔ قتادہ نے کہا : مراد بنو نضیر ہیں (1) ۔ بنو قریظہ سے قبل اللہ تعالیٰ نے ان پر قدرت عطا فرمائی۔ مجاہد نے کہا : غزوہ بدر کے موقع پر قریش کے کفار مراد ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ ہر اس قوم کے بارے میں ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک بنو نضیر سے قبل اس کے کفر کی وجہ سے انتقام لیا۔ وبال کا معنی ان کے کفر کی جزا ہے۔ جس نے کہا : وہ بنو قریظہ ہیں تو اس نے وبال امر ھم کی تعبیر ان کے بارے میں حضرت سعد بن معاذ کے حکم پر اپنے قلعوں سے نیچے آنا ہے۔ حضرت سعد بن معاذ نے ان کے جنگجو افراد کو قتل کرنے اور ان کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–15

9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت الم تر الی الذین نافقوا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول رفاعہ بن تابوت عبداللہ بن نبتل، اوس بن قیظی اور ان کے بھائی بنو نضیر کے بارے میں ہے۔ منافقین کا یہود کو ابھارنا 10۔ ابن اسحاق وابن المنذر وابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنو عوف بن حارث میں سے ایک جماعت جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول، ودیعہ بن مالک، سوید اور داعش وغیرہ تھے انہوں نے بنو نضیر کی طرف پیغام بھیجا کہ تم ثابت قدم رہو اور اپنی جگہ پر رکے رہو۔ بیشک ہم تم کو کسی کے حوالے نہیں کریں گے۔ اگر وہ تم سے لڑیں گے تو ہم تمہارے ساتھ مل کر ان سے لڑیں گے اور اگر تم کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَمَثَلِ الَّذِينَ : (ان کی مثال) ان لوگوں کی مثال کی مانند ہے جو ][ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے تھے ][ قَرِيْبًا : قریبی زمانے میں ][ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ : انھوں نے چکھی اپنے کام کی سزا ][وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ : اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہود کے قبیلہ بنی قینقاع کی بیہودگی اور جلاوطنی کا تذکرہ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ مدینہ منورہ میں یہود کے تین بڑے قبیلے آباد تھے ایک قبیلہ بنی نضیر جن کی جلاوطنی کا تذکرہ اسی سورت کے شروع میں ہوا ہے، دوسرا قبیلہ بنی قریظہ تھا جن کے مردوں کے قتل كئے جانے اور عورتوں اور بچوں کے غلام بنائے جانے کا تذکرہ سورة احزاب کے تیسرے رکوع میں گزر چکا ہے۔ تیسرا قبیلہ بنی قینقاع تھا جن کی جلاوطنی کا قصہ اس آیت میں بیان فرمایا ہے تینوں قبیلوں سے رسول اللہ ﷺ کا معاہدہ تھا کہ نہ آپس میں جنگ کریں گے اور نہ آپ کے کسی دشمن کی مدد کریں گے ان تینوں قبیلوں نے غدر کیا اور اس کا انجام بھگت لیا۔ قبیلہ بنو قینقاع پہلا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–17

احوال منافقین وکاذبین بعد بیان اوصاف مخلصین وصادقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تر الی الذین نافقوا ...... الی ..... وذلک جزؤا الظلمین “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مال فئی اور اس کے مستحقین کا ذکر کرتے ہوئے ان اہل ایمان واخلاص کا بیان فرمایا جو اپنے ایمانی اوصاف میں وہ عظمت وبلندی حاصل کرنے والے ہیں کہ ان کو قرآن کریم نے ” الصادقون “ اور ” المفلحون “ کے لقب سے یاد کیا، ان کے برعکس اب ایک گروہ منافقین وکاذبین کا بیان ہے جن کے قبائح اور بدترین خصلتوں کو ذکر کے ان کی ذلت وناکامی کو بیان فرمایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا۔ اے ہمارے پیغمبر کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نفاق کا پیشہ اختیار کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ ” کمثل الذین “ یہ یہود اور منافقین کے لیے تمثیل اور تخویف ہے اور یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے اور ” الذین من قبلھم “ سے بنی قینقاع یا مقتولین بدر یا دونوں مراد ہیں (روح) ۔ ان منافقین کا حال اور انجام وہی ہونے والا ہے جو ماضی قریب میں بنی قینقاع اور صنادید قریش کا میدان بدر میں ہوا جو اپنے کفر وعصیان کا مزہ چکھ چکے ہیں اور آخرت میں بھی ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–17

منافقین کی اسلام دشمنی : گزشتہ دروس میں بنی نضیر کے یہودیوں کی بدعہدی اور ان کے محاسبے کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں ان منافقین کا ذکر ہورہا ہے جنہوں نے یہودیوں کو عہد شکنی پر اکسایا اور اہل ایمان کے خلاف ان کی مدد کا وعدہ کیا۔ ترتیب نزولی کے اعتبار سے واقعہ کا یہ حصہ پہلے آنا چاہیے تھا اور سورة کا ہپلا رکوع اس کے بعد۔ مگر واقعہ کی اہمیت کے پیش نظر یہودیوں کی سزا یابی کا پہلے ذکر کیا گیا ہے اور اس کے اسباب کا ذکر اب بعد میں آرہا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے جب مسلمانوں نے بنی نضیر کا محاصرہ کرلیا تو یہودی قلعہ بند ہوگئے اور اہل اسلام کی تمام تر کوشش کے باوجود وہ باہر نکل کر جنگ کرنے پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَمَثَلِ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَرِيْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِہِمْ۝ 0 ۚ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ 15 ۚ مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–17

ترکیب : کتشبیہ مثلم قریبا ای استقروا من قبلھم اوذاقواو بال امرھم قریبا ای عن قریب فکان عاقبتھما یقرء بالنصب علی الخبر وانھما فی النار و یقرء بالعکس دخالدین حال دحسن لماکرر الظرف ویقرء خالدان علی انہ خبران، ابن الصائغ۔ تفسیر : یہود بنی نضیر نے اپنی نالائقی کی ایسی سزا پائی جیسا کہ ابھی ان سے پہلے لوگ اپنے افعالِ بد کا وبال اور سزا پا چکے ہیں۔ دنیا میں اور آخرت میں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ ان بنی نضیر سے پہلے تھوڑے دنوں آگے کون لوگ آسمانی تازیانے سے پٹے تھے ؟ مجاہد کہتے ہیں مشرکین مکہ تھے جو بدر میں قتل اور قید ہوئے بنی نضیر کے واقعے سے پہلے۔ ابن عباس ؓ عنھما کہتے ہیں بنی قینقاع کی طرف اشارہ ہے،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (الحشر : 15) (یہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کیے کا وبال چکھ چکے ہیں، اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ ) بنو نضیر کے انجام کی مثال منافقین جن لوگوں کو شہ دے رہے تھے ان کا جو انجام ہونے والا ہے، اس کی ایک مثال ارشاد فرمائی گئی ہے۔ یعنی ان منافقین نے اس سے پہلے بنوقینقاع کو اسی طرح ابھار کر مسلمانوں کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کی ترغیب دی اور ان سے غلط وعدے کیے، بالآخر ان کا انجام یہ ہوا کہ وہ اپنی کثرت تعداد اور اپنے سروسامان کے باوجود مدینے سے نکلنے پر مجبور ہوگئے۔ اب یہ بالکل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–17

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی بزدلی کا ذکرجاری ہے۔ نبی معظم ﷺ کو منافقین کی سازش بتلانے کے بعد یہ بھی بتلادیا گیا ہے کہ منافق اور یہودی کبھی بھی اکٹھے ہو کر تمہارے سامنے نہیں آسکتے، سوائے اس کے کہ وہ اپنے قلعوں میں رہ کر یا دیواروں کی اوٹ میں تمہارے خلاف لڑنے کی کوشش کریں کیونکہ ان کے آپس میں شدید اختلافات ہیں۔ آپ انہیں متحد سمجھتے ہیں حالانکہ ان کے دل آپس میں ایک دوسرے سے دور ہیں۔ ایسا اس لیے کہ یہ لوگ حقیقی سمجھ نہیں رکھتے۔ ان کا حال ان لوگوں کی طرح ہے جو ان سے تھوڑی مدت پہلے اپنے کیے کی سزا پا چکے ہیں۔ قیامت کے دن ان کے لیے اذّیت ناک عذاب ہے۔ پہلے لوگوں سے مراد اہل مکہ ہیں جو بدر میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15 : کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (ان لوگوں کی سی مثال ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے ہوئے) ان کی مثال اہل بدر جیسی ہے۔ نحو : مبتدأ کو حذف کردیا گیا ہے۔ قَرِیْبًا۔ ای استقروا قریبًا جو ان سے قریبی زمانہ میں ان سے تھوڑا عرصہ قبل ہوئے۔ ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ (وہ اپنے کردار کا مزہ چکھ چکے) اپنے کفر کا برا انجام اور عداوت ِرسول ﷺ کا نتیجہ چکھ چکے۔ عرب کا قول ہے کلا وبیل بدمزہ بد انجام یعنی دنیا میں انہوں نے قتل کا عذاب پالیا۔ وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا) اس کے ساتھ ساتھ ان کے لئے دردناک عذاب آخرت میں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14” لا یقاتلونکم “ کفار اور منافق تم سے نہیں لڑیں گے۔ ” جمعیاً الا فی قری محصنۃ “ یعنی تمہارے مقابلے میں آکر تم سے نہیں لڑیں گے کیونکہ وہ تم سے سخت خوفزدہ ہیں۔ ” اومن وراء جدر “ بعض حضرات نے اس کو (جدار) پڑھا ہے۔ ” باسھم بینھم شدید “ وہ ایک دوسرے کے ساتھ خوب لڑتے ہیں ان کی آپس میں دشمنی ہے۔ ” باسھم بینھم شدید “ کا بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ جب یہ اپنے قلعوں میں موجود ہوتے ہیں تو مضبوط ہوتے ہیں اور جب اپنے قلعوں سے نکل آتے ہیں تو اللہ کے دلوں میں بزدلی ڈال دیتا ہے۔ ” تحسبھم جمیعا وقلوبھم شتی “ ان کے دل جدا جدا ہیں۔ قتادہ (رح) کا بیان ہے کہ اہل باطل کی مختلف رائے اور مختلف گواہی ہوتی ہیں۔ اعمال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–24

15۔ 24۔ مجاہد 1 ؎ کے قول کے حوالہ سے تفسیر سدی اور تفسیر مقاتل بن حیان میں اس آیت کی تفسر یوں کی ہے کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد وہ کفار قریش ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے مگر امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اس تفسیر کے مخالف ہیں وہ یہ فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلا وطنی بنی نضیر کی جلا وطنی سے پہلے ہوئی جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل اس قصہ کا اسی قدر ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبد اللہ بن سلام ہیں۔ اس قبیلہ سے اور آنحضرت ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر ان کی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

ان لوگوں کی مدد کا معدوم ہونا جنہوں نے ان کے ساتھ معاونت کا وعدہ کیا تھا (كَمَثَلِ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِيْبًا) ان کا حال ان لوگ کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر ہوئے۔ اس سے مراد وہ قریں جن کے اعمال کو شیطان نے مزین کیا اور کہا (لاغالب لکم الیوم۔۔۔ تا۔۔۔ ما لا ترون۔ الانفال 48) آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور میں تمہارا ساتھی ہوں جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو الٹے پاؤں بھاگ نکلا اور کہنے لگا میں تم سے بری الذمہ ہوں میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ چناچہ انہوں نے خود اپنے آپ کو فریب دیا اور ان کو فریب دینے والوں نے بھی فریب دیا جو ان کے کام آسکے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–24

قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔ صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟ قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 40] بنو نضیر کے انجام کی مثال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کیے کا مزہ چکھے چکے ہیں۔ یعنی یہود و بنو قینقاع جو کہ ان سے پہلے اپنی بد عہدی اور شرانگیزی کی بناء پر جلا وطنی کی ذلت اٹھا چکے ہیں، نیز مشرکین جو غزوہ بدر میں ذلت آمیز اور رسواکن سکشت سے دو چار ہوچکے ہیں، [ خازن، صفوۃ، بیضاوی، مراغی، ابن کثیر وغیرہ ] سو دین حق کی تکذیب و عداوت، اور اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت اور ان کی مخالفت کا نتیجہ و انجام بہرحال یہی ہوتا ہے، پہلے بھی یہی تھا اور اب بھی یہی ہے، پس اس کے قانون امہال سے کبھی دھوکہ میں نہیں پڑنا چاہیے۔ والعیاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–17

منافقین کے احوال تشریح : ان آیات میں کفار و مشرکین کا ذکر ہے خاص طور سے منافقین کی فطرت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کا زوال ہوا تو اس کی سب سے بڑی وجہ منافقین ہی ہوتے ہیں۔ منافقین بڑے ہی بزدل ہوتے ہیں کیونکہ ان کا نہ کوئی دین ہوتا ہے اور نہ ایمان بس وہ تو ہوا کے رخ پر چلتے ہیں یعنی تھالی کے بینگن ہوتے ہیں بجائے اللہ سے ڈرنے کے وہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ انتہائی بےوقوف، بد عہد، بےعقیدہ، بزدل، خود غرض جھوٹے، مکار اور بد دیانت لوگ ہوتے ہیں۔ جھوٹ سچ بول کر وقتی فائدہ اٹھانے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اور خود اپنے لیے اور اپنے پیروکاروں کے لیے انتہائی نقصان دہ لوگ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–17

آیات 11 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ تو دیکھ رہے ہیں اور ہر مخاطب سمجھ رہا ہے کہ منافقین اپنے یہودی دوستوں کو کہتے ہیں کہ اگر تم پر مصیبت آئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے تمہیں ملک بدر وہ کرسکے گا جو تمہارے ساتھ ہمیں بھی نکال باہر کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کا مشورہ قبول نہ کریں گے ۔ حتی کہ اگر تمہارے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے مگر اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں کہ منافق نہ کسی کادوست ہوتا ہے اور نہ کسی سے سچی بات کرتا ہے اس لیے اگر ان کفار کو کبھی ملک بدر ہوناپڑا تو یہ ان کا ساتھ نہ دیں گے اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو اول تو یہ ان کا ساتھ ہی نہ دیں گے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یہی مفہوم شاہ صاحب نے اپنے فوائد میں ذکر کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ان سے ” یہود بنی فیقاع “ مراد ہوں جن کو رسول اللہ ﷺ نے بنی نفیر سے تھوڑی مدت پہلے مدینہ سے نکال دیا تھا۔ یہ قول قتادہ اور محمد بن اسحاق کا ہے۔ اس یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔ ابن کثیر

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(59:15) کمثل الذین من قبلہم قریبا : اس سے قبل مبتدا محذوف ہے۔ ای مثلہم : (مثل یھود بنی النضیر فی ترک الایمان ومحاربۃ الرسول صلی اللہ علیہ لوسم ) کمثل الذین ۔۔ وبال امرھم۔ یعنی یہود بنی نضیر کی ترک ایمان اور رسول کریم ﷺ کے ساتھ لڑائی کی مثال ویسی ہی ہے جیسے ان سے کچھ ہی پہلے والے لوگوں کی تھی۔ یہ پہلے والے لوگ کون مراد ہیں ؟ مجاہد کا قول ہے کہ :۔ ان سے مراد وہ مشرکین ہیں جو بدر میں مسلمانوں سے لڑے تھے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ :۔ بنو قینقاع کے یہودی مراد ہیں۔ یہ لوگ حضرت عبد اللہ بن سلام کے قبیلہ والے تھے۔ انہوں نے عبد اللہ بن ابی بن سلول یا عبادۃ بن صامت وغیرہ سے معاہدہ کر رکھا تھا۔ یہ قوم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–24

لغات القرآن۔ نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔ تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–17

(ف 1) امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس اس کی یہ تفسیر فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلاوطنی بنی نضیر کی جلاوطنی سے پہلے ہوئی ، جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل یہ ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبداللہ بن سلام ہیں اس قبیلہ کا نبی ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر انکی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد نبی ﷺ نے ان پر چڑھائی کی اور جب یہ لوگ مغلوب ہوگئے توعبداللہ بن ابی کی سفارش پر ان کی جان بخشی کی جاکران کو جلاوطن کرایا گیا ، غرض جلاوطن ہونے والوں کی مشابہت اور تمثیل جلاوطن والوں سے ایک پوری مشابہت اور تمثیل ہے ، اوپر گذرچکا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[20] یعنی ابھی قریب زمانے میں یہودی قبیلہ قینقاع کے لوگ اپنی غداری کا مزا چکھ چکے تھے۔ جب انہوں نے بدعہدی کی تو مسلمانوں نے ایک مختصر لڑائی کے بعد ان کو گھروں سے نکال باہر کیا اور اس سے پیشتر ماضی قریب میں کفار مکہ جنگ بدر میں اپنے کئے کی سزا پاچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–16

ف 1: منافقین نے یہودیوں کو بہکا کر ذلیل ورسوا کیا ۔ اور آخر میں جب کہ وہ اپنی بستیاں چھوڑ رہے تھے ۔ اور اپنے مال ومتاع سے جدا کئے جارہے تھے ۔ ان سے کچھ بھی کام نہ آسکے ۔ حالانکہ نصرت واعانت کا پورا پورا معاہدہ تھا ۔ فرمایا ۔ ان لوگوں کی مثال شیطان کی طرح ہے ۔ کہ دنیا میں انسان کو گمراہ کرتا ہے ۔ کفر پر آمادہ کرتا ہے ۔ اور عاقبت کے باب میں طرح طرح کے فریبوں سے کام لیتا ہے ۔ مگر جب وہ مقررہ وقت آپہنچے گا ۔ یہ بالکل الگ جاکھڑا ہوگا ۔ اور کامل بیزاری کا اعلان کرے گا ۔ اس وقت ان فریب خوروگان معصیت کو معلوم ہوگا ۔ کہ ہم دنیا میں محض بیوقوف بنے رہے ۔ اور ہم نے اس زندگی کے متعلق جو کچھ سوچ رکھا تھا ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) مثال ان یہود بنی نضیر کی مانند ان لوگوں کے ہے اور ان لوگوں کی مثال ان لوگوں کی سی مثال ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے ہوئے ہیں جو دنیا میں بھی اپنے کردار اور اپنے اعمال کی سزا کا مزہ چکھ چکے اور ان کو دردناک عذاب ہونے والا ہے۔ شاید بنی قینقاع کی طرف مثال میں اشارہ ہے کہ انہوں نے بھی عذر کیا اور نقض عہد کیا اور لڑائی کی پھر مغلوب ہوکر قلعے میں بندہوگئے اور بالآخر قلعے سے باہر نکلے ان سب کی مشکیں باندھ لی گئیں اور اس شرط پر رہا کئے گئے کہ مدینے سے چلے جائیں۔ چناچہ وہ شام کی جانب چلے گئے اور ان کے اموال میں غنیمت کی طرح تقسیم ہوئی۔ بعض حضرات فرماتے ہیں اس مثال میں بدر کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ مرا دان سے یہود بنی قینقاع ہیں جن کا قصہ یہ ہوا کہ واقعہ بدر کے بعد انہوں نے آپ سے 2 ھ میں نقض عہد کر کے محاربہ کیا، پھر مغلوب و مقہور ہوئے اور قلعہ سے آپ کے فیصلہ پر باہر نکلے۔ اور سب کی مشکیں باندھی گئیں، پھر عبداللہ بن ابی کے الحاح سے ان کی اس شرط پر جان بخشی کی کہ مدینہ سے چلے جائیں، چناچہ وہ اذرعات شام کو نکل گئے اور ان کے اموال میں غنیمت کی طرح عمل ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آج نہیں مدت سے یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ مخالفین رسل اپنے انجام کو پہنچے ہیں 15 ؎ یہ سنت اللہ کا بیان ہے کہ تم گزشتہ دعوتوں میں سے ایک ایک کا تجزیہ کرتے چلے جائو کہ تم کو یہ حقیقت ہر جگہ ملے گی کہ انبیاء کرام اور رسل عظام (رح) کے مخالفین کو انجام کار عذاب الٰہی نے آگھیرا اور ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور وہ اپنے کیے کے انجام کو پہنچ گئے اور آخرت میں بھی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا عذاب تیارکھڑا ہے جو بہت ہی درد ناک عذاب ہے اور مسلمانوں نے اس وقت تک جب یہ آیات کریمات نازل ہو رہی تھیں قریش کی نخوت وتکبر کو اپنی آنکھوں سے پامال ہونے دیکھ لیا تھا اور اس کے بعد بنی قنیقاع کا جو حال ہوا وہ بھی ان سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary كَمَثَلِ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَرِ‌يبًا (...like those who were before them in near past ....59:15) This refers to the case of Banu Nadir, and Mujahid (رح) says that the phrase الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَرِ‌يبًا "those who were before them in near past " refers to the Quraish of Makkah who sustained an ignominious defeat at Badr. According to Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas ؓ it refers to Banu Qainuqa', a Jewish tribe, who were punished for their mischief and machinations after Badr. Banu Nadir were banished after the battles of Badr and 'Uhud, and Banu Qainuqa' had been…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

25 This refers to the second weakness of the hypocrites. The first weakness was that they were cowardly: they feared the men instead of fearing God and had no higher aim of lift before them like the believers, which might impel them to fight for it even at the cost of life. And their second weakness was that they had no common tic between them except hypocrisy, which might unite them together into a strong band. The only thing that had brought them together was that they were all feeling highly upset at the flourishing leadership and rulership of Muhammad (upon whom be Allah's peace and…

Read the full tafseer →