Al-Hashr 59:14

Al-Hashr · from ayah 14

59:14

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ ؕ— بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ ؕ— تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُهُمْ شَتّٰی ؕ— ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ ۟ۚلَا يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ جَمِيۡعًا اِلَّا فِىۡ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍؕ بَاۡسُهُمۡ بَيۡنَهُمۡ شَدِيۡدٌ ‌ؕ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيۡعًا وَّقُلُوۡبُهُمۡ شَتّٰى‌ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَعۡقِلُوۡنَ‌ۚ

یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے (بالمواجہہ) نہیں لڑ سکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر) یا دیواروں کی اوٹ میں (مستور ہو کر) ان کا آپس میں بڑا رعب ہے۔ تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ اکھٹے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will not fight you all except within fortified cities or from behind walls. Their violence among themselves is severe. You think they are together, but their hearts are diverse. That is because they are a people who do not reason.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hashr

All translations of 59:14

یہ کبھی اکٹھے ہو کر (کھلے میدان میں) تمہارا مقابلہ نہ کریں گے، لڑیں گے بھی تو قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر یہ آپس کی مخالفت میں بڑے سخت ہیں تم اِنہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں اِن کا یہ حال اِس لیے ہے کہ یہ بے عقل لوگ ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے (بالمواجہہ) نہیں لڑ سکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر) یا دیواروں کی اوٹ میں (مستور ہو کر) ان کا آپس میں بڑا رعب ہے۔ تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ اکھٹے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ سب مل کر بھی تم سے لڑ نہیں سکتے ہاں یہ اور بات ہے کہ قلعہ بند مقامات میں ہوں یا دیواروں کی آڑ میں ہوں، ان کی لڑائی تو ان میں آپس میں ہی بہت سخت ہے گو آپ انہیں متحد سمجھ رہے ہیں لیکن ان کے دل دراصل ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ اس لیے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ سب لوگ اکٹھے ہو کر بھی تم سے جنگ نہیں کریں گے، مگر ایسی بستیوں میں جو قلعوں میں محفوظ ہوں، یا پھر دیواروں کے پیچھے چھپ کر۔ ان کی آپس کی مخالفتیں بہت سخت ہیں۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو، حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ اس لیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں عقل نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں گے مگر قلعہ بند شہروں میں یا دُھسّوں (شہر پناہ) کے پیچھے، آپس میں ان کی آنچ (جنگ) سخت ہے تم انہیں ایک جتھا سمجھو گے اور ان کے دل الگ الگ ہیں، یہ اس لیے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ (مدینہ کے یہود اور منافقین) سب مل کر (بھی) تم سے جنگ نہ کرسکیں گے سوائے قلعہ بند شہروں میں یا دیواروں کی آڑ میں، اُن کی لڑائی اُن کے آپس میں (ہی) سخت ہے، تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو حالانکہ اُن کے دل باہم متفرّق ہیں، یہ اس لئے کہ وہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اکٹھے ہو کر تم سے نہیں لڑیں گے مگر قلعہ بند بستیوں میں، یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی آپس میں بہت سخت ہے۔ تو خیال کرے گا کہ وہ اکٹھے ہیں، حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں، یہ اس لیے کہ بیشک وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ اکٹھے ہو کر تم (مسلمانوں) سے جنگ نہیں کریں گے الا یہ کہ قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر (جنگ کریں) ان کی آپس میں شدید مخالفت ہے۔ آپ انہیں متحد سمجھتے ہیں حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ اس لیے کہ یہ لوگ بےعقل ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ تم سے کبھی اکٹھے ہو کر میدان میں نہیں لڑیں گے بلکہ قلعہ بند بستیوں میں یاد یواروں کی اوٹ سے لڑیں گے۔ ان کے درمیان شدید مخاصمت ہے۔ تم ان کو متحد گمان کر رہے ہو حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ عقل سے کام نہیں لیتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ کبھی اکٹھے ہو کر (کھلے میدان میں) تم سے نہیں لڑیں گے مگر قلعہ بند بستیوں میں یادیواروں کی آڑ میں ان کی لڑائی آپس میں بڑی سخت ہے تم ان کو اکٹھا سمجھتے ہو مگر (حقیقت یہ ہے کہ) ان کے دل آپس میں پھٹے ہوئے ہیں یہ اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ تو سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں گے مگر ہاں حفاظت والی بستیوں یا دیواروں کی آڑ میں۔ ان کی لڑائی آپس میں (ہی) بڑی تیز ہے تو انہیں متفق خیال کرتا ہے حالانکہ ان کے قلب غیر متفق ہیں یہ اس لئے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل کو کام میں نہیں لاتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ کبھی اکٹھے ہو کر تمہارے خلاف جنگ نہیں کریں گے سوائے اس کے کہ قلعہ بند بستیوں میں (رہ کر لڑیں) یا دیواروں کے پیچھے سے ان کے آپس کے جھگڑے بہت سخت ہیں۔ تم انہیں متحد گمان کرتے ہو حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ اس لیے کہ یہ ایک ایسا گروہ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے آمنے سامنے لڑ نہیں سکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں پناہ لے کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر، ان کی آپس میں لڑائی سخت ہے۔ آپ شاید سمجھتے ہو کہ یہ اکھٹے اور ایک جان ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں، یہ اس لیے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They will never fight against you as a body (in an open battlefield); and if they fight against you they will fight only in fortified townships or from behind walls. Intense is their hostility to one another. You reckon them united while their hearts are divided. That is because they are a people devoid of reason.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They do not fight you, even assembled together, but in fortified towns, or from behind the walls. Their quarrelling between themselves is severe. You think that they are united, while their hearts are divided. That is because they are a people who have no sense.

— Muhammad Taqi Usmani

They do not fight you, even assembled together, but in fortified towns, or from behind the walls. Their quarrelling between themselves is severe. You think that they are united, while their hearts are divided. That is because they are a people who have no sense.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They fight not against you even together, except in fortified townships, or from behind walls. Their enmity among themselves is very great. You would think they were united, but their hearts are divided. That is because they are a people who understand not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They will not fight against you in a body save in fortified villages or from behind walls. Their adversity among themselves is very great. Ye think of them as a whole whereas their hearts are divers. That is because they are a folk who have no sense.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will not fight you all except within fortified cities or from behind walls. Their violence among themselves is severe. You think they are together, but their hearts are diverse. That is because they are a people who do not reason.

— Saheeh International

They will not fight you united except with the protection of fortified towns or from behind walls. They are strong among themselves. You think that they are united, but in fact, their hearts are divided. They are a people who have no understanding.

— Muhammad Sarwar

They will not fight against you in a body save in fortified towns or from behind walls; their fighting between them is severe, you may think them as one body, and their hearts are disunited; that is because they are a people who have no sense.

— Muhammad Habib Shakir

They shall not fight against you, not even together, except in fenced townships or from behind walls. Their violence among themselves is strong; thou deemest them enjoined, whereas their hearts are diverse. That is because they are a people who reflect not.

— Abdul Majid Daryabadi

They will not fight you (even) together, except in fortified townships, or from behind walls. Strong is their fighting (spirit) amongst themselves: thou wouldst think they were united, but their hearts are divided: that is because they are a people devoid of wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 59:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–17

کفر بز دلی کی گود ہے تلبیس ابلیس کا ایک انداز :۔ عبداللہ بن ابی اور اسی جیسے منافقین کی چالبازی اور عیاری کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے یہودیان بنو نضیر کو سبز باغ دکھا کر جھوٹا دلاسا دلا کر غلط وعدہ کر کے مسلمانوں سے لڑوا دیا، ان سے وعدہ کیا کہ ہم تمہارے ساتھی ہیں لڑنے میں تمہاری مدد کریں گے اور اگر تم ہار گئے اور مدینہ سے دیس نکالا ملا تو ہم بھی تمہارے ساتھ اس شہر کو چھوڑ دیں گے، لیکن بوقت وعدہ ہی ایفا کرنے کی نیت نہ تھی اور یہ بھی کہ ان میں اتنا حوصلہ بھی نہیں کہ ایسا کرسکیں نہ لڑائی میں ان کی مدد کرسکیں نہ برے وقت ان کا ساتھ دیں، اگر بدنامی کے خیال سے میدان میں آ بھی جائیں تو یہاں آتے ہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَشْر 25 یہ منافقین کی دوسری کمزوری کا بیان ہے۔ پہلی کمزوری یہ تھی کہ وہ بزدل تھے، خدا سے ڈرنے کے بجائے انسانوں سے ڈرتے تھے اور اہل ایمان کی طرح کوئی بلند تر نصب العین ان کے سامنے نہ تھا جس کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دینے کا جذبہ ان کے اندر پیدا ہوتا۔ اور دوسری کمزوری یہ تھی کہ منافقت کے سوا کوئی قدر مشترک ان کے درمیان نہ تھی جو ان کو ملا کر ایک مضبوط جتھا بنا دیتی۔ ان کو جس چیز نے جمع کیا تھا وہ صرف یہ تھی کہ اپنے شہر میں باہر کے آئے ہوئے محمد ﷺ کی پیشوائی و فرمانروائی چلتے دیکھ کر ان سب کے دل جل رہے تھے، اور اپنے ہی ہم وطن انصاریوں کو مہاجرین کی پذیرائی کرتے دیکھ کر ان کے سینوں پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–14

خلاصہ تفسیر کیا آپ نے ان منافقین (یعنی عبداللہ بن ابی وغیرہ) کی حالت نہیں دیکھی کہ اپنے (ہم مذہب) بھائیوں سے کہ کفار اہل کتاب ہیں (یعنی بنی نضیر سے) کہتے ہیں (یعنی کہتے تھے، کیونکہ یہ سورت واقعہ جلا وطنی بنی نضیر کے بعد نازل ہوئی ہے، کمافی الروح مستدلاً بالحدیث والسیر) کہ واللہ (ہم ہر حال میں تمہارے ساتھ ہیں، پس) اگر تم (اپنے وطن سے جبراً) نکالے گئے تو ہم (بھی) تمہارے ساتھ (اپنے وطن سے) نکل جاویں گے اور تمہارے معاملہ میں ہم کبھی کسی کا کہنا نہ مانیں گے (یعنی ہم کو خواہ کوئی کیسا ہی سمجھاوے کہ خروج و قتال میں جو آئندہ مذکور ہے تمہارا ساتھ نہ دیں لیکن ہم نہ مانیں گے، پس جملہ لا نطیع سیاق وسباق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(لا یقلوتلونکم جمعیا الا فی قری مجصنۃ او من وراء جدر باسھم بینھم شدید تحسیھم جمعیاً وقلوبھم شی ذلک بانھم قوم لا یعقلون) (14) یعنی ان بزدلوں کی ان گیدڑ بھبھکیوں کو ذرا اہمیت نہ دو۔ ان میں اتنا جیوٹ نہیں ہے کہ یہ کبھی میدان میں نکل کر، منظم فوج کشی کی صورت میں، تم سے نبردار آزمائی کا حوصلہ کرسکیں۔ میدان میں نکلنا تو درکنار، ان پر تو اگر حملہ بھی ہوا تو یہ باہر نکل کر مدافعت کا حوصلہ نہیں کریں گے بلکہ بستیوں میں قلعہ بند ہو کر یا گھروں میں محصور ہوکر، دیواروں کی اوٹ ہی سے، اپنے کو بچانے کی کوشش کریں گے۔ یہ امر واضح رہے کہ قلعہ بندیا محصور ہو کر اول تو صرف دفاعی جنگ ہی لڑی جاسکتی ہے، حملہ آورانہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 یعنی یہ منافقین اور یہودی مل کر بھی کھلے میدان میں تم سے لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے البتہ قلعوں میں محصور ہو کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر تم پر وار کرسکتے ہیں جس سے یہ واضح ہے کہ یہ نہایت بزدل ہیں اور تمہاری ہیبت سے لرزاں وترساں ہیں۔ 14۔ 2 یعنی آپس میں یہ ایک دوسرے کے سخت خلاف ہیں۔ اس لئے ان میں باہم تو تکار اور تھکا فضیحتی عام ہے۔ 14۔ 3 یہ منافقین کا آپس میں دلوں کا حال ہے یا یہود اور منافقین کا یا مشرکین اور اہل کتاب کا مطلب یہ ہے کہ حق کے مقابلے میں یہ ایک نظر آتے ہیں لیکن ان کے دل ایک نہیں ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف بغض وعناد سے بھرے ہوئے 14۔ 4 یعنی یہ اختلاف…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–15

11: اس سے مراد ایک اور قبیلے بنوقینقاع کے یہودی ہیں۔ انہوں نے بھی حضور اکرم ﷺ سے امن اور باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا، لیکن پھر خود ہی آپ سے جنگ ٹھان لی جس کے نتیجے میں انہوں نے شکست بھی کھائی، اور ان کو بھی مدینہ منورہ سے جلا وطن کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لا یقاتلونکم ................ یعقلون (95 : 41) ” یہ کبھی اکٹھے ہوکر (کھلے میدان میں) تمہارا مقابلہ نہ کریں گے ، لڑیں گے بھی تو قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر۔ یہ آپس میں مخالفت میں بڑے سخت ہیں۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ حال اس لئے ہے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں “۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ منافقین اور اہل کتاب کی جو تصویر قرآن کریم نے کھینچی ہے وہ ابھی تک سچی ہے۔ منافقین اور کافر اہل کتاب جب بھی جہاں بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے ہیں تو یہ صورت سامنے ہوکر آگئی۔ حال ہی میں اخوان اہل ایمان اور یہودیوں کے درمیان فلسطین کی سر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی چونکہ ان لوگوں کے دل مسلمانوں سے مرعوب اور خوفزدہ ہیں، اس لیے کھلے میدان میں جنگ نہیں کرسکتے۔ ہاں گنجان بستیوں میں قلعہ نشین ہو کر یا دیواروں اور درختوں کی آڑ میں چھپ کر لڑ سکتے ہیں۔ ہمارے ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے، کہ یورپ نے مسلمانوں کی تلوار سے عاجز ہو کر قسم قسم کے آتشبار اسلحہ اور طریق جنگ ایجاد کیے ہیں۔ تاہم اب بھی اگر کسی وقت دست بدست جنگ کی نوبت آجاتی ہے تو چند ہی منٹ میں دنیا (لَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِيْعًا اِلَّا فِيْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَاۗءِ جُدُرٍ ) 59 ۔ الحشر :14) کا مشاہدہ کرلیتی ہے۔ باقی اس قوم کا تو کہنا ہی کیا جس کے نزدیک چھتوں پر چڑھ کر اینٹ پتھر پھینکنا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ لَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَآئِ جُدُرٍط } ”یہ کبھی اکٹھے ہو کر تمہارے خلاف جنگ نہیں کریں گے ‘ سوائے اس کے کہ قلعہ بند بستیوں میں رہ کر لڑیں یا دیواروں کے پیچھے سے۔“ { بَاْسُہُمْ بَیْنَہُمْ شَدِیْدٌ} ”ان کے آپس کے جھگڑے بہت سخت ہیں۔“ ان کے باہمی جھگڑوں اور مخاصمت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بزدلی اور خود غرضی ان میں سے ہر ایک کے مزاج کا جزولاینفک بن چکی ہے۔ ظاہر ہے اگر یہ لوگ اللہ اور رسول ﷺ سے مخلص نہیں ہیں تو آپس میں ایک دوسرے سے کیسے مخلص ہوسکتے ہیں۔ { تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُہُمْ شَتّٰی } ”تم انہیں متحد گمان کرتے ہو ‘ حالانکہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 یہود اور منافقین میں جرأت کا فقدان :۔ اس آیت کے مخاطب یہود بھی ہیں اور منافقین بھی۔ دونوں ایک جیسے مکار، دغاباز، وعدے کے جھوٹے اور مفاد پرست ہیں۔ ایسے لوگ بزدل ہوتے ہیں کبھی کھلے میدان میں لڑنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ ہاں ایسی جگہ بیٹھ کر لڑ سکتے ہیں جہاں ان کی جان کو کچھ خطرہ نہ ہو۔ مورچوں میں یا قلعہ بند ہو کر تو یہ تیر و تفنگ کا کھیل کھیل سکتے ہیں مگر سامنے آکر دست بدست جنگ کرنا ان کے بس کا روگ نہیں۔ بھلا جسے ہر وقت اپنی جان بچانے کا دھڑکا لگا رہتا ہو تو وہ مقابلہ کیا کرسکتا ہے ؟ کیا یہود کیا منافق اور کیا ان کی ذیلی شاخیں۔ ان کے اتحاد کی بنیادمحض اسلام دشمنی ہے :۔ ان سب کے اتحاد کی بنیاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23۔ (سوائے مسلمانو ! تم ان سے کچھ اندیشہ، ہراس نہ کرو) (آیت) ” قری محصنۃ “۔ عام ہے، حفاظت خواہ خندق سے یا حلقہ بندی سے ہو، یا اور کسی طریق پر۔ (آیت) ” جمیعا “۔ یعنی منافقین مدینہ اور یہود کے مختلف قبائل سب مل کر اور اکٹھے ہو کر بھی، مجتمعین یعنی الیھود والنصاری (مدارک) مطلب یہ ہوا کہ ان مخالفین میں لڑنے کی ہمت اور حوصلہ ہی کہاں، اول تو لڑینگے نہیں، اور اگر لڑے بھی تو میدان میں سامنے آکر نہیں بلکہ اس طرح بچ بچ کر اور ڈرتے ہوئے۔ یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ منافقین کو تو کبھی لڑنے ہی کی ہمت سرے سے نہ ہوئی۔ ہاں یہود خیبر اور بنی قریظہ نے مقابلہ کیا تو وہ اسی طرح پر۔ 24۔ (دین کے بارہ میں) اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

لایقاتلونکم جمعاً (الآیۃ) یعنی یہ منفاقین اور یہدی مل کر بھی کھلے میدان میں تم سے لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے، البتہ قعلوں میں محصور ہو کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر تم پروار کرسکتے ہیں، جس سے یہ واضح ہے کہ یہ نہایت بزدل ہیں، اور تمہاری ہیبت سے لرزاں و ترساں ہیں۔ تحسبھم جمعاً وقلوبھم شتی یہ منافین کی دوسری کمزوری کا بیان ہے، پہلی کمزوری یہ تھی کہ وہ بزدل تھے خدا سے ڈرنے کے بجائے انسانوں سے ڈرتے تھے، دوسری کمزوری یہ ہے کہ جن کو تم محتد و متفق سمجھ رہے ہو یہ اپٓس میں ایک دوسرے کے سخت خلاف ہیں، جس بات نے ان کو جمع کردیا ہے وہ صرف یہ بات ہے کہ اپنے شہروں میں باہر سے آئے ہوئے (محمد ﷺ ) کی پیشوائی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یقاتلونکم جمیعا الا فی قری محصنۃ او من وراء جدد باسھم بینھم شدید تحسبھم جمیعا و قلوبھم شی ذلک بانھم قوم لا یعقلون یہ لوگ سب مل کر بھی تم سے نہیں لڑیں گے۔ مگر حفاظت والی بستیوں میں یا (قلعے اور شہر پناہ کی) دیواروں کی آڑ میں ہو کر ان کی لڑائی آپس ہی میں بڑی تیز ہے۔ (اے مخاطب) تو انکو باہم متفق خیال کرتا ہے حالانکہ انکے دل غیر متفق (متفرق) ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ بےعقل لوگ ہیں۔ “ لَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ : یعنی کفار اور منافق تم سے نہیں لڑیں گے۔ جَمِیْعًا : یعنی کسی عزم اور متفقہ رائے پر جمع ہو کر۔ اِلاَّ فِیْ قُوًی مُّحَصَنَّۃٍ : مگر ان بستیوں میں رہ کو جو محفوظ ہیں ‘ قلعہ بند ہیں یا ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ بنی قریظہ اور نضیر سب ملکر بھی تم سے نہیں لڑیں گے مگر شہروں اور مضبوط قلعوں میں یا دیوار کی آر میں ان کی لڑائی بس آپس ہی میں بڑی تیز ہے حضور کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں، محمد آپ منافقین اور یہود نبی قریظہ اور نضیر کو ایک بات پر متفق خیال کرتے ہیں مگر ان کے دل غیر متفق ہیں اور یہ اختلاف اور خیانت اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ حکم خداوندی اور توحید الہی کو نہیں سمجھتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ لَایُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ۔۔۔۔۔”حصن“ کا معنی قلعہ ہے۔۔”محصنۃ“ قلعہ بنائی ہوئی محفوظ بستیاں۔”جدر“ ”جدار“ کی جمع ہے، دیواریں۔ یعنی یہ یہودی ایسے نا مرد اور بزدل ہیں کہ کبھی اکٹھے ہو کر میدان میں تمہارا سامنا نہیں کریں گے ، بلکہ قلعہ بند بستیوں میں یادیواروں کے پیچھے رہ کر ہی لڑیں گے۔ اسی طرح لڑنے والے ہمیشہ ذلیل ہی ہوتے ہیں ، کیونکہ جو میدان میں نکلنے کی جرأت نہیں رکھتا اسے قلعے اور دیواریں بھی نہیں بچا سکتیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ اصحاب رسول اللہ ﷺ کھلے میدان میں لڑنا پسند کرتے تھے اور چونکہ وہ شہادت کی تلاش میں لڑتے تھے ، اس لیے دشمن پہلی چوٹ ہی میں پیٹھ پھیر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیات۔ 14 تفسیر لا یقاتلونکم جمیعا وائو ضمیر سے مراد یہودی ہیں۔ الا فی قری محصنۃ وہ دیواروں اور گھروں کی اوٹوں میں رہتے ہوئے تم سے جنگ کریں گے وہ گمان کرتے ہیں کہ یہ دونوں چیزیں انہیں تم سے محفوظ رکھیں گی۔ اومن وراء جدر (دیواروں کے پچھے وہ وہ بزدلی اور خوف کی وجہ سے ان کے پیچھے چھپے ہیں۔ عام قرأ ت جدر ہے جو جمع کا صیغہ ہے ؛ یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : فی قری محصنۃ کی طرح ہے۔ اور قری جمع کا صیغہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، ابن کثیر، ابن محیصن اور ابو عمرو نے جدار واحد کا صیغہ پڑھا ہے۔ مکہ کے ایک قاری نے اسے جدر پڑھا ہے یہ بھی جدار میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–15

9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت الم تر الی الذین نافقوا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول رفاعہ بن تابوت عبداللہ بن نبتل، اوس بن قیظی اور ان کے بھائی بنو نضیر کے بارے میں ہے۔ منافقین کا یہود کو ابھارنا 10۔ ابن اسحاق وابن المنذر وابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنو عوف بن حارث میں سے ایک جماعت جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول، ودیعہ بن مالک، سوید اور داعش وغیرہ تھے انہوں نے بنو نضیر کی طرف پیغام بھیجا کہ تم ثابت قدم رہو اور اپنی جگہ پر رکے رہو۔ بیشک ہم تم کو کسی کے حوالے نہیں کریں گے۔ اگر وہ تم سے لڑیں گے تو ہم تمہارے ساتھ مل کر ان سے لڑیں گے اور اگر تم کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِيْعًا : وہ لوگ قتال نہیں کریں گے تم سے اکٹھے ہو کر ][ اِلَّا فِيْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ : مگر کچھ مضبوط کی ہوئی (قلعہ بند) بستیوں میں ][ اَوْ مِنْ وَّرَاۗءِ جُدُرٍ : یا دیواروں کے پیچھے سے ][بَاْسُهُمْ بَيْنَهُمْ : ان کی لڑائی ان کے مابین ][شَدِيْدٌ: شدید ہے ][تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا : تو سمجھتا ہے ان کو اکٹھا ][وَّقُلُوْبُهُمْ شَتّٰى: حالانکہ ان کے دل پراگندہ ہیں ][ذٰلِكَ بِانهُمْ قَوْمٌ : یہ اس سبب سے کہ وہ لوگ ایک ایسی قوم ہیں جو ][لَّا يَعقلوْنَ : عقل استعمال نہیں کرتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

چناچہ یہود بنی قریظہ اور اہل خیبر اسی طرح مقابل ہوئے اور سب نے اپنے منہ کی کھائی اور شکست کی مصیبت اٹھائی۔ پھر فرمایا ﴿بَاْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيْدٌ1ؕ﴾ (ان کی لڑائی آپس میں شدید ہے) وہ آپس میں اپنے عقائد کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ ﴿تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى 1ؕ﴾ (آپ خیال کرتے ہیں کہ وہ اکٹھے ہیں اور حال یہ ہے کہ ان کے دل متفرق ہیں) ۔ ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَۚ0014﴾ (ان کے قلوب کا منتشر ہونا اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں جو عقل نہیں رکھتے (اپنی اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے رہتے ہیں) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–17

احوال منافقین وکاذبین بعد بیان اوصاف مخلصین وصادقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تر الی الذین نافقوا ...... الی ..... وذلک جزؤا الظلمین “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مال فئی اور اس کے مستحقین کا ذکر کرتے ہوئے ان اہل ایمان واخلاص کا بیان فرمایا جو اپنے ایمانی اوصاف میں وہ عظمت وبلندی حاصل کرنے والے ہیں کہ ان کو قرآن کریم نے ” الصادقون “ اور ” المفلحون “ کے لقب سے یاد کیا، ان کے برعکس اب ایک گروہ منافقین وکاذبین کا بیان ہے جن کے قبائح اور بدترین خصلتوں کو ذکر کے ان کی ذلت وناکامی کو بیان فرمایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا۔ اے ہمارے پیغمبر کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نفاق کا پیشہ اختیار کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14:۔ لا یقاتلونکم جمیعا “ یہ مومنین کے لیے مزید تسلیہ اور تشجیع ہے۔ فرمایا اے اہل ایمان ! یہ منافقین اور یہود متحد ہو کر کبھی بھی تمہارے مقابلے میں نہیں آئیں گے وہ تمہاری قوت و شوکت اور تمہارے اتحاد و اتفاق سے اس قدر مرعوب ہیں کہ کھلے میدان میں تم سے لڑنے کی ہرگز جراءت نہیں کریں گے، البتہ وہ محفوظ بستیوں میں اور دیواروں کی اوٹ میں چھپ کر تم سے لڑنے کی جراءت کرسکتے ہیں۔ ” باسہم بینہم شدید “ لیکن یہ خیال نہ کرنا کہ وہ اپنی کمزوری اور بزدلی کی وجہ سے تمہارا مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ جب وہ آپس میں لڑتے ہیں تو ان کی باہمی لڑائی نہایت شدید ہوتی ہے اور تمہارے سامنے ان کی کمزوری محض تمہارے رعب کی وجہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–17

منافقین کی اسلام دشمنی : گزشتہ دروس میں بنی نضیر کے یہودیوں کی بدعہدی اور ان کے محاسبے کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں ان منافقین کا ذکر ہورہا ہے جنہوں نے یہودیوں کو عہد شکنی پر اکسایا اور اہل ایمان کے خلاف ان کی مدد کا وعدہ کیا۔ ترتیب نزولی کے اعتبار سے واقعہ کا یہ حصہ پہلے آنا چاہیے تھا اور سورة کا ہپلا رکوع اس کے بعد۔ مگر واقعہ کی اہمیت کے پیش نظر یہودیوں کی سزا یابی کا پہلے ذکر کیا گیا ہے اور اس کے اسباب کا ذکر اب بعد میں آرہا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے جب مسلمانوں نے بنی نضیر کا محاصرہ کرلیا تو یہودی قلعہ بند ہوگئے اور اہل اسلام کی تمام تر کوشش کے باوجود وہ باہر نکل کر جنگ کرنے پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِيْعًا اِلَّا فِيْ قُرًى مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَاۗءِ جُدُرٍ۝ 0 ۭ بَاْسُہُمْ بَيْنَہُمْ شَدِيْدٌ۝ 0 ۭ تَحْسَبُہُمْ جَمِيْعًا وَّقُلُوْبُہُمْ شَتّٰى۝ 0 ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ۝ 14 ۚ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–14

تفسیر : ایمانداروں کے اقسام بیان فرما کر ان کے مقابلے میں بدکاروں کا حال بیان فرماتا ہے کہ وہ بدبخت بجائے ان اصول سعادت کے جو پہلے مذکور ہوئے یہ باتیں کرتے ہیں فقال الم ترالی الذین نافقوا بطور تعجب کے منافقین کی پوشیدہ نالائق حرکات سے خبر دیتا ہے کہ ایسے موقع پر وہ اپنے کافر 1 ؎ بھائیوں سے یوں کہتے اور ایسے غلط وعدے دیتے ہیں جن کو ہرگز وہ پورا نہ کرسکیں گے۔ اللہ اور رسول کی مخالفت میں ان کے دشمنوں سے یہ سازباز اور زبان سے ایمان کا دعویٰ ۔ ایک وہ لوگ تھے ایک یہ ہیں۔ جب یہود بنی 2 ؎ نضیر سے آنحضرت ﷺ کی مخالفت ہو رہی تھی اور ابھی ان کا محاصرہ بھی نہیں ہوا تھا اس وقت مدینہ کے منافق اور ان کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لاَ یُقَاتِلُوْنَـکُمْ جَمِیْعًا اِلاَّ فِیْ قُرًی مُّنَحَصَّنَۃٍ اَوْمِنْ وَّرَآئِ جُدُرٍ ط بَاْسُھُمْ بَیْنَھُمْ شَدِیْدٌط تَحْسَبُھُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُہُمْ شَتّٰی ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لاَّیَعْقِلُوْنَ ۔ (الحشر : 14) (یہ کبھی اکٹھے ہو کر آپ سے میدان میں نہیں لڑیں گے، مگر قلعہ بند بستیوں یا دیواروں کی اوٹ سے، ان کے درمیان شدید مخاصمت ہے، آپ انھیں اکٹھا گمان کرتے ہیں مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ یہ عقل سے کام نہیں لیتے۔ ) منافقین کی بزدلی ان منافقین کی بزدلی کا عالم یہ ہے کہ آپ سے لڑنے اور میدان میں نکل کر آپ کے مقابلے کی ہمت نہیں کرسکیں گے۔ البتہ ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–17

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی بزدلی کا ذکرجاری ہے۔ نبی معظم ﷺ کو منافقین کی سازش بتلانے کے بعد یہ بھی بتلادیا گیا ہے کہ منافق اور یہودی کبھی بھی اکٹھے ہو کر تمہارے سامنے نہیں آسکتے، سوائے اس کے کہ وہ اپنے قلعوں میں رہ کر یا دیواروں کی اوٹ میں تمہارے خلاف لڑنے کی کوشش کریں کیونکہ ان کے آپس میں شدید اختلافات ہیں۔ آپ انہیں متحد سمجھتے ہیں حالانکہ ان کے دل آپس میں ایک دوسرے سے دور ہیں۔ ایسا اس لیے کہ یہ لوگ حقیقی سمجھ نہیں رکھتے۔ ان کا حال ان لوگوں کی طرح ہے جو ان سے تھوڑی مدت پہلے اپنے کیے کی سزا پا چکے ہیں۔ قیامت کے دن ان کے لیے اذّیت ناک عذاب ہے۔ پہلے لوگوں سے مراد اہل مکہ ہیں جو بدر میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : لَایُقَاتِلُوْنَکُمْ (وہ سب ملکر بھی تم سے نہیں لڑیں گے) یعنی تمہارے ساتھ لڑائی کی انہیں طا قت نہیں۔ جَمِیْعًا (اکٹھے مل کر) یعنی یہود و منافقین اِلاَّ (مگر یہ کہ ہوں) فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ (حفاظت والی بستیوں میں) خندقوں کی آڑ میں اَوْ مِنْ وَّ رَآ ئِ جُدُرٍ (یا دیواروں کی آڑ میں) قراءت : مکی، ابو عمرو نے جدار پڑھا ہے۔ بَاْسُھُمْ بَیْنَھُمْ شَدِیدٌ (ان کی لڑائی آپس میں ہی بڑی تیز ہے) یعنی سخت لڑائی جس سے وہ معروف ہیں وہ اپنے مابین لڑی جانے والی ہے جبکہ وہ ایک دوسرے سے لڑیں اور اگر وہ تم سے لڑیں گے تو ان کی مضبوطی اور جنگجوئی نہیں رہے گی کیونکہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی میں بڑے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔” لاانتم “ اے مسلمانوں کی جماعت ! ” اشد رھبۃ فی صدورھم من اللہ “ ان کا رہب تمہارے لئے اتنا سخت نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کا رعب ان کے لئے۔ ” ذلک “ یہ خوف ” بانھم قوم لایفقھون “ اللہ کی عظمت کو نہیں جانتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–14

11۔ 14۔ یہ آیتیں بھی بنی نضیر کے قصہ کی ایک حالت کے بیان میں ہیں حاصل اس حالت کا یہ ہے کہ مدینہ کے منافقوں نے بنی نضیر کی تسکین کے طور پر ان سے یہ کہلا بھیجا تھا کہ اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ مدینہ کی سکونت چھوڑ دیں گے اور تمہاری جلا وطنی کے بعد مدینہ کی سکونت کا کوئی ہم کو مشورہ بھی دے گا تو ہم ہرگز اس کا مشورہ نہ سنیں گے اور اگر تمہاری اور اور اہل اسلام کی لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کو تو ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے اس لئے اللہ نے فرمایا کہ ان منافقوں کی جس طرح اور سب باتیں زبانی ہیں ان کے دل میں ان باتوں کا کچھ اثر نہیں ہے اسی طرح یہ باتیں بھی ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(لَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِيْعًا) وہ سب مل کر بھی تم سے نہیں لڑ سکیں گے۔ یعنی اجتماعی حالت میں وہ تم سے قتال نہیں کریں گے۔ (اِلَّا فِيْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَاۗءِ جُدُرٍ ۭ ) مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کی اوٹ سے۔ یعنی وہ تمہارے خلاف لڑائی میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں نہ اس پر عزم کا مظاہرہ کرسکتے ہیں مگر صرف اس صورت میں جب وہ بستیوں میں قلعہ بند ہر کر لڑ رہے ہوں یا دیواروں اور فصیلوں کے پیچھے سے لڑ رہے ہوں تب اس سورت میں ان کو اپنی شجاعت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے قلعوں اور فصیلوں کے سہار بسا اوقات حفاظت حاصل ہوجاتی ہے اور یہ سب سے بڑی مذمت ہے۔ (بَاْسُهُمْ بَيْنَهُمْ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–24

قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔ صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟ قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 13–14

[ 35] جو اللہ سے نہیں ڈرتے وہ اس کی کمزور مخلوق سے ڈرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا : سو اس سے یہ اہم حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ یہ لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے وہ اس کی مخلوق سے ڈرتے ہیں۔ اور یہ قدرت کی طرف سے ان کو ایک نقد سزا ہے کہ جو اللہ پاک سے نہیں ڈرتا، وہ اس کی ضعیف اور کمزور مخلوق سے ڈرتا ہے اور جس کے دل میں اللہ پاک کی عظمت و خشیت راسخ ہوجاتی ہے، وہ کسی بڑی سے بڑی مخلوق کو بھی خاطر میں نہیں لاتا، اور وہ اللہ کے سوا اور کسی سے نہیں ڈرتا، بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تمہارے مقابلے میں اپنے ان بھائی بندوں کی نصرت و امداد کیلئے اس لئے نہیں اٹھیں گے کہ ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ تمہاری…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–17

منافقین کے احوال تشریح : ان آیات میں کفار و مشرکین کا ذکر ہے خاص طور سے منافقین کی فطرت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کا زوال ہوا تو اس کی سب سے بڑی وجہ منافقین ہی ہوتے ہیں۔ منافقین بڑے ہی بزدل ہوتے ہیں کیونکہ ان کا نہ کوئی دین ہوتا ہے اور نہ ایمان بس وہ تو ہوا کے رخ پر چلتے ہیں یعنی تھالی کے بینگن ہوتے ہیں بجائے اللہ سے ڈرنے کے وہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ انتہائی بےوقوف، بد عہد، بےعقیدہ، بزدل، خود غرض جھوٹے، مکار اور بد دیانت لوگ ہوتے ہیں۔ جھوٹ سچ بول کر وقتی فائدہ اٹھانے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اور خود اپنے لیے اور اپنے پیروکاروں کے لیے انتہائی نقصان دہ لوگ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–17

آیات 11 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ تو دیکھ رہے ہیں اور ہر مخاطب سمجھ رہا ہے کہ منافقین اپنے یہودی دوستوں کو کہتے ہیں کہ اگر تم پر مصیبت آئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے تمہیں ملک بدر وہ کرسکے گا جو تمہارے ساتھ ہمیں بھی نکال باہر کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کا مشورہ قبول نہ کریں گے ۔ حتی کہ اگر تمہارے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے مگر اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں کہ منافق نہ کسی کادوست ہوتا ہے اور نہ کسی سے سچی بات کرتا ہے اس لیے اگر ان کفار کو کبھی ملک بدر ہوناپڑا تو یہ ان کا ساتھ نہ دیں گے اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو اول تو یہ ان کا ساتھ ہی نہ دیں گے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 جیسا کہ نامردوں اور بزدلوں کا قاعدہ ہوتا ہے۔ میدان میں آنا پسند نہیں کرتے بلکہ مکانوں اور قلعوں کی آڑ لے کر دور ہی سے لڑنا پسند کرتے ہیں۔ محفوظ بستیوں سے مرادقلعے یا وہ بستیاں ہیں جن کے گرد فصیل یا خندق ہوتی ہے۔6 اگر عقل رکھتے تو حق کو پچانتے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(59:14) لایقاتلونکم۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب مقاتلۃ (مفاعلۃ) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم سے نہیں لڑیں گے۔ جمیعا۔ اکٹھے مل کر۔ یا کسی عزم اور متفقہ رائے پر جمع ہوکر یا جم کر بالمواجہہ نہیں لڑیں گے۔ لایقاتلونکم میں ضمیر فاعل ہر دو کفار و منافقین کے لئے استعمال ہوئی ہے۔ الا حرف استثناء ۔ مگر : (اگر لڑیں گے بھی تو ۔۔ ) فی قری محصنۃ : فی حرف جار قری محصنۃ موصوف و صفت ، یہ جمع قریۃ کی۔ بستیاں۔ محصنۃ حصن یحصن تحصین (تفعیل) جگہ کو مضبوط بنانا۔ بستی کی دیوار سے گھرنا اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ یعنی قلعہ کی طرح دیواروں سے گھیر کر بنائی ہوئی بستیاں۔ اس کا مادہ حصن ہے۔ تحصن (تفعل)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–24

لغات القرآن۔ نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔ تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–14

خدا کی رضامندی ان کے لیے جو عمل کریں اور صف باندھ کر لڑیں۔ (ف 1) یہ آیتیں بھی بنی نضیر کے قصہ کی ایک حالت کے بیان میں ہیں حاصل اس حالت کا یہ ہے کہ مدینہ کے منافقوں نے بنی نضیر کی تسکین کے طور پر ان سے یہ کہلابھیجا تھا کہ اگر تم جلاوطن کیے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ مدینہ کی سکونت چھوڑ دیں گے اور تمہاری جلاوطنی کے بعد مدینہ کی سکونت کا کوئی ہم کو مشورہ بھی دے گا تو ہم ہرگز اس کا مشورہ نہ سنیں گے اور اگر تمہاری اور اہل اسلام کی لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اللہ تعالیٰ کو تو ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ ان منافقوں کی جس طرح اور سب باتیں زبانی ہیں ان کے دل میں ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[19] یعنی ان کے ظاہر اتحاد سے دھوکا نہ کھاؤ۔ ان میں سے ہر ایک اپنی غرض اور خواہش کا بندہ ہے، پھر حقیقی یکجہتی کہاں حاصل ہوسکتی ہے لیکن عقل سے کام لیں تو اس بات کو سمجھیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–16

ف 1: منافقین نے یہودیوں کو بہکا کر ذلیل ورسوا کیا ۔ اور آخر میں جب کہ وہ اپنی بستیاں چھوڑ رہے تھے ۔ اور اپنے مال ومتاع سے جدا کئے جارہے تھے ۔ ان سے کچھ بھی کام نہ آسکے ۔ حالانکہ نصرت واعانت کا پورا پورا معاہدہ تھا ۔ فرمایا ۔ ان لوگوں کی مثال شیطان کی طرح ہے ۔ کہ دنیا میں انسان کو گمراہ کرتا ہے ۔ کفر پر آمادہ کرتا ہے ۔ اور عاقبت کے باب میں طرح طرح کے فریبوں سے کام لیتا ہے ۔ مگر جب وہ مقررہ وقت آپہنچے گا ۔ یہ بالکل الگ جاکھڑا ہوگا ۔ اور کامل بیزاری کا اعلان کرے گا ۔ اس وقت ان فریب خوروگان معصیت کو معلوم ہوگا ۔ کہ ہم دنیا میں محض بیوقوف بنے رہے ۔ اور ہم نے اس زندگی کے متعلق جو کچھ سوچ رکھا تھا ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) ان کی بزدلی کا یہ عالم ہے کہ یہ کافر سب اکٹھے ہوکر بھی اور سب مل کر بھی تمہارے بالمقابل نہیں لڑ سکتے الایہ کہ قلعہ بند بستیوں اور دیواروں کی آڑ میں محفوظ ہوکر ان کے مابین آپس میں بڑی سخت جنگ ہے اے مخاطب تو ان کافروں کو متفق اور متحدالخیال سمجھتا ہے حالانکہ ان کے قلوب غیر متفق اور پھٹے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کافر عقل نہیں رکھتے اور بےعقل واقع ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان یہوں میں اور منافقوں میں اتنی ہمت نہیں کہ یہ سب مل کر بھی تمہارا مقابلہ کرسکیں سوائے اس کے کہ قلعہ بند بستیوں میں چھپ کر یا کسی مضبوط دیوار کی آڑ میں ہوکر جیسے شہر پناہ وغیرہ کی آڑلے کر مقابلہکریں تو کریں سامنے آمنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–14

ف 1۔ یعنی گو عداوت اہل حق ان سب میں مابہ الاشتراک ہے مگر خود بھی تو انہیں اختلاف عقائد کی وجہ سے افتراق اور عداوت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بنی نضیر ہوں یا دوسرے یہودی قبائل اسلام کے خلاف وہ کھل کر میدان میں نہیں آئیں گے 14 ؎ بطور پیش گوئی بیان کیا جا رہا ہے کہ یہود کی حالت کا تقاضا ہے کہ وہ تمہارے مقابلے میں کبھی میدان جنگ میں نہیں اتریں گے ۔ اگر جنگ کی صورت حال پیدا بھی ہوئی تو وہ بستیوں میں اور قلعوں میں بند ہو کر لڑیں گے یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر جہاں سے وہ تم کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں تو کریں کھل کر مقابلہ کی ہمت ان میں ممکن ہی نہیں اور اس طرح کی ہمت دنیا پرستوں میں آ بھی کب سکتی ہے ۔ اس طرح کی جرأت ہمیشہ حق سے پیدا ہوتی ہے حق جب باطل کے مقابلہ میں آتا ہے تو وہ کھل کر آتا ہے اور آسکتا ہے اور یہ پیش گوئی ایک بار نہیں قرآن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–14

All Muslims after the Muhajirin and the Ansar are entitled to fai' وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ "And [ fai' is also ] for those who came after them ....59:10) This verse lays down that all Muslims until the Last Hour, after the noble Companions from amongst the Muhajirin and Ansar, are entitled to a share in the fai' property. This was the reason why Sayyidna ` Umar Al-Faruq ؓ conquered great territories like ` Iraq, Syria, Egypt and so on, but did not distribute them among the fighters. He retained them as public endowment for next generations, so that the income might accrue to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23 That is, "The reason why they dare not face you openly in the field is not that they are Muslim: and have fear of God in their hearts and are afraid that despite their claim to the Faith when they come out to help the disbelievers as against the believers, they will be held accountable before God. But what actually restrains them froth facing you is that when they see your profound love and spirit of self-sacrifice and devotion for Islam and the Holy Prophet Muhammad (Upon whom be Allah's peace and blessings) and the great unity and concord in your rattles, they become dispirited. They a…

Read the full tafseer →