60. Surah Al-Mumtahana
الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة الممتحنہ سورة نمبر 60 کل رکوع 2 آیات 13 الفاظ و کلمات 370 حروف 1593 مقام نزول مدینہ منورہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب بدر کو اتنی عظمت عطا فرمائی ہے کہ ان کی بڑی سے بڑی غلطیاں بھی معاف کی جاسکتی ہیں۔ چناچہ جب حضرت حاطب ابن ابی بلتعہ (رض) سے ایک سخت قصور ہوا تو حضرت عمر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اس کی گردن اڑا دوں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا حضرت حاطب (رض) نے جنگ بدر میں حصہ لیا ہے۔ تمہیں کیا خبر ہو سکتا ہے اللہ نے اہل بدر کو ملاحظہ فرما کر فیصلہ فرما دیا ہو کہ تم خواہ کچھ بھی کرو میں نے تمہیں معاف کردیا۔ یہ سن کر حضرت عمر فاروق (رض) رو پڑے اور انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی سب کچھ جانتے ہیں۔ آج بھی اگر کسی سے بیعت لی جائے تو اس کی یہی شرطیں رکھی جائیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے، چوری نہ کریں گے، زنا نہ کریں گے اور اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے ۔ وہ کسی پر بہتان نہ لگائیں گے اور وہ معروف چیزوں میں شریعت کے خلاف کوئی کام نہ کریں گے۔ اگر کوئی ان شرائط کو مانتا ہے تو اس سے بیعت لی جاسکتی ہے۔ آخر میں اس کے لئے دعائے مغفرت بھی کی جائے تاکہ اللہ اس کے پچھلے گناہوں کو معاف فرمادیں ۔ : ان آیات کے خلاصے سے پہلے ایک واقعہ کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ بات پوری طرح سمجھ میں آجائے۔ صلح حدیبیہ کے معاہدے کی کفار مکہ کی طرف سے جب مسلسل خلاف ورزیاں ہوتی چلی گئیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرکے تیاریاں شروع کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کسی مہم پر تشریف لے جاتے تو سوائے چند مخصوص لوگوں کے کسی کو اپنے ارادے سے مطلع نہ فرماتے۔ اس موقع پر بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوائے چند مخصوص اصحاب (رض) کے کسی کو اپنے ارادے اور پروگرام سے مطلع نہ کیا تھا۔ خاموشی اور نہایت احتیاط سے تیاریاں شروع کردی گئیں۔ اسی دوران مکہ معظمہ سے بنی عبد المطلب کی ایک غلام عورت جس نے آزاد ہونے کے بعد گانے بجانے کا پیشہ اختیار کرلیا تھا وہ حالات سے تنگ آکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ منورہ کسی مال امداد کے لئے پہنچی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی عبد المطلب سے اپیل کرکے اس کی مدد کرا دی۔ جب وہ مکہ مکرمہ جانے لگی تو بدری صحابی حضرت حاطب (رض) ابن ابی بلتعہ نے اسے سرداران مکہ کے نام ایک خط دیا اور کہا کہ یہ خط چپکے سے مکہ کے سرداروں تک پہنچا دینا اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا۔ اسے رازداری کے لئے دس دینار بھی دیدئیے۔ ابھی وہ مدینہ سے روانہ ہوئی تھی کہ اللہ نے وحی کے ذریعہ بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے مطلع فرمادیا۔ آپ نے حضرت علی (رض) ، حضرت زبیر (رض) اور حضرت مقداد (رض) ابن اسود کو اس عورت کے پیچھے بھیجا۔ کچھ دور میں وہ عورت مل گئی۔ ان صحابہ (رض) نے کہا کہ جو خط تم لے کر جا رہی ہو وہ ہمیں دیدو۔ پہلے تو اس نے انکار کیا لیکن جب اس کو دھمکی دی گئی تو اس نے وہ خط نکال کر صحابہ کرام (رض) کے حوالے کردیا۔ اس خط کو صحابہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کردیا۔ اس خط میں حضرت حاطب (رض) نے سرداران مکہ کو اس بات کی خبر دی تھی کہ بہت جلد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب حضرت حاطب (رض) سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری والدہ، بھائی اور بچے مکہ میں ہیں اور میں قریش کے قبیلے کا آدمی نہیں ہوں۔ جب وقت پڑے گا تو جن کے اہل و عیال مکہ میں رہ گئے ہیں ان کو تو ان کے قبیلے والے بچالیں گے مجھے کوئی قبیلہ بچانے والا نہ ہوگا۔ میں نے قریش پر احسان رکھنے کے لئے یہ خط لکھا تا کہ وہ میرے اہل و عیال کا خیال رکھیں اور ان کی حفاظت کریں۔ یہ سن کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حاطب (رض) نے سچی بات کہی ہے یعنی یہ سب کچھ کرنے میں وہ اسلام سے منکر نہیں ہوئے انہوں نے محض اپنے گھر والوں کی خاطر ایسا قدم اٹھایا۔ سورة الممتحنہ میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے مومنو ! اگر تم میری رضا و خوشنودی کے لئے اپنے گھر بار کو چھوڑ کر نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بنائو۔ تم تو ان سے محبت کا اظہار کرتے ہو مگر انہوں نے تو اس سچائی کا وہی انکار کردیا ہے جس سے اللہ نے تمہیں نوازا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور تمہیں صرف اس وجہ سے شہر مکہ معظمہ چھوڑنے پر مجبور کردیا کردیا تھا کہ تم اس پر اللہ پر ایمان لے آئے ہو جو تمہارا رب ہے۔ یہ قطعاً مناسب نہیں ہے کہ تم چھپا کر ان کو دوستی کے پیغام بھیجو۔ ہر ایک کو یاد رکھنا چاہیے کہ تم نے جس کام کو چھپ کر یا کھل کر کیا اسے اللہ پوری طرح جانتا ہے۔ جو شخص تم میں سے کوئی ایسا کام کرے گا تو یہ ایک راستہ سے بھٹک جانے کی بات ہوگی۔ فرمایا کہ ان کافروں کا یہ حال ہے کہ اگر وہ آج تم پر قابو پالیں تو نہ صرف تم سے دشمنی نکالیں گے بلکہ تمہیں ہاتھ اور زبان سے تکلیفیں پہنچائیں گے۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کافر بن جائو۔ لیکن یاد رکھو قیامت کے اس دن تمہاری رشتہ داریاں اور تمہاری اولادیں تمہارے کام نہ آسکیں گی جب وہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ وہ تمہارے ہر فعل کو اچھی طرح جانتا ہے تمہارے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی زندگی ایک بہترین نمونہ اور مثال ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہم تم سے اور تمہارے ان من گھڑت معبودوں سے نفرت کرتے ہیں جنہیں تم نے اللہ کی عبادت اور بندگی میں شریک کر رکھا ہے۔ تمہارے اور ہمارے درمیان ہمیشہ کی دشمنی ، مخالفت اور عداوت ہی کیوں نہ ہو جب تک اللہ پر ایمان نہ لائو گے ہم تم سے الگ رہیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب تک معلوم نہ تھا انہوں نے اپنے والد سے یہ کہہ دیا تھا کہ میں آپ کے لئے دعائے مغفرت کروں گا لیکن جب ان کو معلوم ہوا تو انہوں نے اس اقدام سے بیزاری کا اظہار کردیا تو یہ واقعہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا فرماتے تھے اے ہمارے پروردگار ! ہم آپ پر بھروسہ کرتے ہیں آپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں کیونکہ ہمیں آپ ہی کے پاس پلٹ کر آنا ہے۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنا دیجئے گا، ہماری مغفرت فرما دیجئے۔ بیشک آپ ہی زبردست حکمت والے ہیں۔ فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کی روش زندگی تمہارے لئے اور ہر اس شخص کے لئے بہترین نمونہ زندگی ہے جو اللہ اور قیامت کے دن اللہ کی رحمت کا امیدوار ہے۔ اگر کوئی اس سے منہ پھیرتا ہے تو اللہ بےنیاز اور تمام تعریفوں کا حق دار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (١) یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان الفت و محبت پیدا کردے جو تم سے آج دشمنی کر رہے ہیں وہ اللہ ہر چیز قدرت رکھنے والا، مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ (٢) فرمایا کہ اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا معاملہ کرو جن لوگوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالنے میں کسی طرح کی مدد کی۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تمہیں ان لوگوں سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی۔ تمہیں تمہارے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا اور اس سلسلہ میں ایک دوسرے کی مدد کی۔ ان ظالموں سے بچنے کی ضرورت ہے۔ (٣ ) فرمایا کہ اے ایمان والو ! جب مومن عورتیں (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ) ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو ان کو اچھی طرح جانچو لو۔ ویسے اللہ تو ہر ایک کے حقیقت ایمان سے واقف ہے۔ جب تمہیں یقین ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کے حوالے نہ کرو۔ کیونکہ وہ کافروں کے لئے اور کافران کے لئے حلال نہیں ہیں۔ مہر کے متعلق فرمایا ؛ ٭ان کے کافر شوہروں نے جو مہر ان کو دئیے تھے وہ انہیں واپس کردو۔ ان سے اگر تم نکاح کرنا چاہتے ہو تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے تم ان کے مہر ادا کردو۔ ٭اور تم خود بھی ایسی عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ رکھو جو کافر ہیں۔ جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دئیے تھے وہ تم ان سے واپس مانگ لو اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دئیے تھے وہ انہیں واپس مانگ لیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے وہ اللہ جو ہر بات کی ہر حکمت کو جانتا ہے۔ ٭اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہارا نمبر آجائے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دئیے ہوئے مہروں کے برابر ہو۔ اس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر ایمان لائے ہو۔ (٦) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جب وہ عورتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیعت کرنے کے لئے آئیں اور وہ اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنانہ کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی، اپنے ہاتھ اور پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی اور کسی معروف بات میں نافرمانی نہ کریں گی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے بیعت لے لیجئے۔ ان کے لئے دعائے مغفرت کیجئے۔ بیشک اللہ مغفرت کرنے والا ہے۔ آخر میں ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان لوگوں کو دوست نہ بنائو جن پر اللہ نے غضب نازل کیا ہے جو آخرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر (اللہ کی رحمت سے) مایوس ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader
اے ایمان والو ! تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو کہ تم ان کو دوستی کے پیغام بھیجنے لگو۔ حالانکہ جو دین تمہارے پاس آیا ہے اس کا وہ انکار کرتے ہیں۔ وہ رسول ﷺ کو اور تمہیں صرف اس لئے (تمہارے گھروں سے) نکال چکے ہیں کہ تم اس اللہ پر ایمان لے آئے ہو جو تمہارا پروردگار ہے۔ (اے مومنو ! ) اگر تم میرے راستے میں جہاد کرنے کے لئے نکلے ہو اور میری رضا مندی چاہتے ہو تو تم ان کو دوستی کے پیغام نہ بھیجو۔ حالانکہ تم جو کچھ چھپا کر کرتے ہو یا کھلم کھلا کرتے ہو اسے میں خوب جانتا ہوں۔ اور تم میں سے جو بھی ایسا کرے گا تو (اس بات کو اچھی طرح جان لے کہ) وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا ہے۔
اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader
اگر وہ (کافر) تم پر (کسی طرح) قابو پا لیں تو وہ دشمنی پر اتر آئیں گے اور تمہارے اوپر برائی کے ساتھ دست درازی اور زبان درازی کریں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ (کسی طرح) تم کافر بن جائو۔
لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader
(یاد رکھو) قیامت کے دن نہ تو تمہاری رشتہ داریاں کام آئیں گی نہ اولادیں۔ اس دن (تو فیصلے کا دن ہوگا اور ) وہ تمہارے درمیان فیصلہ کردے گا اور تم جو کچھ کرتے ہو اسے اللہ دیکھ رہا ہے۔
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader
(حضرت) ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کا ساتھ دینے والوں ( کے عمل میں) تمہارے لئے بہترین نمونہ زندگی ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ہم تم سے اور جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو ان سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم (تمہارے ہر عمل سے ) انکار کرتے ہیں۔ تمہارے اور ہمارے درمیان عداوت اور دشمنی ظاہر ہوگی جب تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان نہ لائو گے۔ مگر (حضرت) ابراہیم (علیہ السلام) کی وہ بات کہ جب انہوں نے اپنے والد سے کہا تھا کہ میں تمہارے لئے مغفرت کی دعا کروں گا (اس سے الگ بات ہے) انہوں نے کہہ دیا تھا کہ میں اللہ کے مقابلے میں کسی چیز کا بھی مالک نہیں ہوں۔ اے ہمارے پروردگار ہم نے آپ پر بھروسہ کیا ہے اور آپ ہی کی طرف ہمیں لوٹنا ہے اور آپ کی طرف ہی ٹھکانا ہے۔
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader
اے ہمارے پروردگار ہمیں کافروں کے لئے آزمائش نہ بنائیے گا۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں معاف کردیجئے۔ بیشک آپ ہی زبردست حکمت و دانائی والے ہیں۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader
البتہ یقینا تم جو اللہ اور قیامت پر امید رکھتے ہو ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ اور جو شخص منہ پھیرے گا تو بیشک اللہ بےنیاز اور تمام خوبیوں کا مالک ہے۔
عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader
شاید کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تمہاری دشمنی ہے دوستی پیدا کردے۔ اللہ قدرت رکھنے والا اور مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader
اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ احسان و انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے۔ نہ انہوں نے تمہیں گھروں سے نکالا۔ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader
اللہ تمہیں ان لوگوں کی دوستی سے منع کرتا جو تمہارے دین کے بارے میں جنگ کرتے ہیں جنہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے خلاف تمہارے نکالنے والوں کی مدد کی اور جو بھی ان جیسے لوگ لوگوں سے دوستی کرے گا تو یقینا وہ ظالموں میں سے ہوگا۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader
اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں (دار الحرب سے) ہجرت کرکے آئیں تو ان کو جانچ لیا کرو۔ اللہ ان کے ایمان (کی حقیت) کو کون جانتا ہے۔ پھر اگر تم ان کو واقعی مومن سمجھتے ہو تو ان کو کافروں کی طرف مت لوٹائو کیونکہ نہ تو وہ عورتیں ان کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ اور جو (ان کے پہلے والے شوہروں نے ) مہر دیا ہو وہ ان کے خاوندوں کو واپس کردو۔ اور تمہیں ان ہجرت کرنے والی مومن عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے جب کہ تم ان کو ان کے مہرادا کردو۔ اور تم ان کافرہ عورتوں سے زوجیت کا تعلق قائم نہ رکھو جو (دار الحرب میں رہ گئی ہیں) یا مرتد ہو کر واپس لوٹ گئی ہیں۔ البتہ جو مہر تم نے دیا ہو وہ کافروں سے واپس لے لو۔ اور اسی طرح جو مہر کافروں نے دیا تھا وہ اپنا دیا ہوا مہر تم سے واپس لے لیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔
وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader
اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت کافروں میں رہ جائے بالکل تمہارے ہاتھ نہ آئے اور پھر (کافروں کو مہردینے کی) نوبت آجائے تو جن مسلمانوں کی عورتیں ہاتھ سے نکل گئی ہیں تو جتنا مہر انہوں نے ان عورتوں پر خرچ کیا تھا اس کے برابر تم ان کو دیدو۔ اور وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو تم اسی سے ڈرتے رہو۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader
اے نبی ﷺ جب مومن عورتیں آپ کے پاس آئیں تو ان سے ان باتوں پر بیعت لیجئے۔ (1) کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی۔ (2) وہ چوری نہ کریں گی۔ (3) نہ وہ زنا کریں گی۔ (4) نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی۔ (5) ۔ اور نہ کوئی ایسا بہتان لائیں گی جو اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان گھڑا گیا ہو۔ (6) اور نہ کسی شرعی کام میں آپ کی نافرمانی کریں گی۔ تو آپ ان سے بیعت لی لیجئے۔ اور ان کے لئے دعائے مغفرت کیجئے۔ بیشک اللہ مغفرت کرنے والا مہربان ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader
اے ایمان والو ! تم ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ نے غصہ اور غضب نازل کیا ہے۔ ان کا یہ حال ہے کہ وہ آخرت کے ثواب سے ایسے ناامید ہیں جیسے وہ کافر ناامید ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں۔