60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الممتحنہ سورة نمبر 60 کل رکوع 2 آیات 13 الفاظ و کلمات 370 حروف 1593 مقام نزول مدینہ منورہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب بدر کو اتنی عظمت عطا فرمائی ہے کہ ان کی بڑی سے بڑی غلطیاں بھی معاف کی جاسکتی ہیں۔ چناچہ جب حضرت حاطب ابن ابی بلتعہ (رض) سے ایک سخت قصور ہوا تو حضرت عمر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اس کی گردن اڑا دوں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا حضرت حاطب (رض) نے جنگ بدر میں حصہ لیا ہے۔ تمہیں کیا خبر ہو سکتا ہے اللہ نے اہل بدر کو ملاحظہ فرما کر فیصلہ فرما دیا ہو کہ تم خواہ کچھ بھی کرو میں نے تمہیں معاف کردیا۔ یہ سن کر حضرت عمر فاروق (رض) رو پڑے اور انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی سب کچھ جانتے ہیں۔ آج بھی اگر کسی سے بیعت لی جائے تو اس کی یہی شرطیں رکھی جائیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے، چوری نہ کریں گے، زنا نہ کریں گے اور اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے ۔ وہ کسی پر بہتان نہ لگائیں گے اور وہ معروف چیزوں میں شریعت کے خلاف کوئی کام نہ کریں گے۔ اگر کوئی ان شرائط کو مانتا ہے تو اس سے بیعت لی جاسکتی ہے۔ آخر میں اس کے لئے دعائے مغفرت بھی کی جائے تاکہ اللہ اس کے پچھلے گناہوں کو معاف فرمادیں ۔ : ان آیات کے خلاصے سے پہلے ایک واقعہ کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ بات پوری طرح سمجھ میں آجائے۔ صلح حدیبیہ کے معاہدے کی کفار مکہ کی طرف سے جب مسلسل خلاف ورزیاں ہوتی چلی گئیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرکے تیاریاں شروع کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کسی مہم پر تشریف لے جاتے تو سوائے چند مخصوص لوگوں کے کسی کو اپنے ارادے سے مطلع نہ فرماتے۔ اس موقع پر بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوائے چند مخصوص اصحاب (رض) کے کسی کو اپنے ارادے اور پروگرام سے مطلع نہ کیا تھا۔ خاموشی اور نہایت احتیاط سے تیاریاں شروع کردی گئیں۔ اسی دوران مکہ معظمہ سے بنی عبد المطلب کی ایک غلام عورت جس نے آزاد ہونے کے بعد گانے بجانے کا پیشہ اختیار کرلیا تھا وہ حالات سے تنگ آکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ منورہ کسی مال امداد کے لئے پہنچی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی عبد المطلب سے اپیل کرکے اس کی مدد کرا دی۔ جب وہ مکہ مکرمہ جانے لگی تو بدری صحابی حضرت حاطب (رض) ابن ابی بلتعہ نے اسے سرداران مکہ کے نام ایک خط دیا اور کہا کہ یہ خط چپکے سے مکہ کے سرداروں تک پہنچا دینا اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا۔ اسے رازداری کے لئے دس دینار بھی دیدئیے۔ ابھی وہ مدینہ سے روانہ ہوئی تھی کہ اللہ نے وحی کے ذریعہ بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے مطلع فرمادیا۔ آپ نے حضرت علی (رض) ، حضرت زبیر (رض) اور حضرت مقداد (رض) ابن اسود کو اس عورت کے پیچھے بھیجا۔ کچھ دور میں وہ عورت مل گئی۔ ان صحابہ (رض) نے کہا کہ جو خط تم لے کر جا رہی ہو وہ ہمیں دیدو۔ پہلے تو اس نے انکار کیا لیکن جب اس کو دھمکی دی گئی تو اس نے وہ خط نکال کر صحابہ کرام (رض) کے حوالے کردیا۔ اس خط کو صحابہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کردیا۔ اس خط میں حضرت حاطب (رض) نے سرداران مکہ کو اس بات کی خبر دی تھی کہ بہت جلد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب حضرت حاطب (رض) سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری والدہ، بھائی اور بچے مکہ میں ہیں اور میں قریش کے قبیلے کا آدمی نہیں ہوں۔ جب وقت پڑے گا تو جن کے اہل و عیال مکہ میں رہ گئے ہیں ان کو تو ان کے قبیلے والے بچالیں گے مجھے کوئی قبیلہ بچانے والا نہ ہوگا۔ میں نے قریش پر احسان رکھنے کے لئے یہ خط لکھا تا کہ وہ میرے اہل و عیال کا خیال رکھیں اور ان کی حفاظت کریں۔ یہ سن کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حاطب (رض) نے سچی بات کہی ہے یعنی یہ سب کچھ کرنے میں وہ اسلام سے منکر نہیں ہوئے انہوں نے محض اپنے گھر والوں کی خاطر ایسا قدم اٹھایا۔ سورة الممتحنہ میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے مومنو ! اگر تم میری رضا و خوشنودی کے لئے اپنے گھر بار کو چھوڑ کر نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بنائو۔ تم تو ان سے محبت کا اظہار کرتے ہو مگر انہوں نے تو اس سچائی کا وہی انکار کردیا ہے جس سے اللہ نے تمہیں نوازا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور تمہیں صرف اس وجہ سے شہر مکہ معظمہ چھوڑنے پر مجبور کردیا کردیا تھا کہ تم اس پر اللہ پر ایمان لے آئے ہو جو تمہارا رب ہے۔ یہ قطعاً مناسب نہیں ہے کہ تم چھپا کر ان کو دوستی کے پیغام بھیجو۔ ہر ایک کو یاد رکھنا چاہیے کہ تم نے جس کام کو چھپ کر یا کھل کر کیا اسے اللہ پوری طرح جانتا ہے۔ جو شخص تم میں سے کوئی ایسا کام کرے گا تو یہ ایک راستہ سے بھٹک جانے کی بات ہوگی۔ فرمایا کہ ان کافروں کا یہ حال ہے کہ اگر وہ آج تم پر قابو پالیں تو نہ صرف تم سے دشمنی نکالیں گے بلکہ تمہیں ہاتھ اور زبان سے تکلیفیں پہنچائیں گے۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کافر بن جائو۔ لیکن یاد رکھو قیامت کے اس دن تمہاری رشتہ داریاں اور تمہاری اولادیں تمہارے کام نہ آسکیں گی جب وہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ وہ تمہارے ہر فعل کو اچھی طرح جانتا ہے تمہارے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی زندگی ایک بہترین نمونہ اور مثال ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہم تم سے اور تمہارے ان من گھڑت معبودوں سے نفرت کرتے ہیں جنہیں تم نے اللہ کی عبادت اور بندگی میں شریک کر رکھا ہے۔ تمہارے اور ہمارے درمیان ہمیشہ کی دشمنی ، مخالفت اور عداوت ہی کیوں نہ ہو جب تک اللہ پر ایمان نہ لائو گے ہم تم سے الگ رہیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب تک معلوم نہ تھا انہوں نے اپنے والد سے یہ کہہ دیا تھا کہ میں آپ کے لئے دعائے مغفرت کروں گا لیکن جب ان کو معلوم ہوا تو انہوں نے اس اقدام سے بیزاری کا اظہار کردیا تو یہ واقعہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا فرماتے تھے اے ہمارے پروردگار ! ہم آپ پر بھروسہ کرتے ہیں آپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں کیونکہ ہمیں آپ ہی کے پاس پلٹ کر آنا ہے۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنا دیجئے گا، ہماری مغفرت فرما دیجئے۔ بیشک آپ ہی زبردست حکمت والے ہیں۔ فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کی روش زندگی تمہارے لئے اور ہر اس شخص کے لئے بہترین نمونہ زندگی ہے جو اللہ اور قیامت کے دن اللہ کی رحمت کا امیدوار ہے۔ اگر کوئی اس سے منہ پھیرتا ہے تو اللہ بےنیاز اور تمام تعریفوں کا حق دار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (١) یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان الفت و محبت پیدا کردے جو تم سے آج دشمنی کر رہے ہیں وہ اللہ ہر چیز قدرت رکھنے والا، مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ (٢) فرمایا کہ اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا معاملہ کرو جن لوگوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالنے میں کسی طرح کی مدد کی۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تمہیں ان لوگوں سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی۔ تمہیں تمہارے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا اور اس سلسلہ میں ایک دوسرے کی مدد کی۔ ان ظالموں سے بچنے کی ضرورت ہے۔ (٣ ) فرمایا کہ اے ایمان والو ! جب مومن عورتیں (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ) ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو ان کو اچھی طرح جانچو لو۔ ویسے اللہ تو ہر ایک کے حقیقت ایمان سے واقف ہے۔ جب تمہیں یقین ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کے حوالے نہ کرو۔ کیونکہ وہ کافروں کے لئے اور کافران کے لئے حلال نہیں ہیں۔ مہر کے متعلق فرمایا ؛ ٭ان کے کافر شوہروں نے جو مہر ان کو دئیے تھے وہ انہیں واپس کردو۔ ان سے اگر تم نکاح کرنا چاہتے ہو تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے تم ان کے مہر ادا کردو۔ ٭اور تم خود بھی ایسی عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ رکھو جو کافر ہیں۔ جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دئیے تھے وہ تم ان سے واپس مانگ لو اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دئیے تھے وہ انہیں واپس مانگ لیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے وہ اللہ جو ہر بات کی ہر حکمت کو جانتا ہے۔ ٭اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہارا نمبر آجائے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دئیے ہوئے مہروں کے برابر ہو۔ اس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر ایمان لائے ہو۔ (٦) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جب وہ عورتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیعت کرنے کے لئے آئیں اور وہ اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنانہ کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی، اپنے ہاتھ اور پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی اور کسی معروف بات میں نافرمانی نہ کریں گی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے بیعت لے لیجئے۔ ان کے لئے دعائے مغفرت کیجئے۔ بیشک اللہ مغفرت کرنے والا ہے۔ آخر میں ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان لوگوں کو دوست نہ بنائو جن پر اللہ نے غضب نازل کیا ہے جو آخرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر (اللہ کی رحمت سے) مایوس ہیں۔

Ayahs 60:1–6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو کہ تم ان کو دوستی کے پیغام بھیجنے لگو۔ حالانکہ جو دین تمہارے پاس آیا ہے اس کا وہ انکار کرتے ہیں۔ وہ رسول ﷺ کو اور تمہیں صرف اس لئے (تمہارے گھروں سے) نکال چکے ہیں کہ تم اس اللہ پر ایمان لے آئے ہو جو تمہارا پروردگار ہے۔ (اے مومنو ! ) اگر تم میرے راستے میں جہاد کرنے کے لئے نکلے ہو اور میری رضا مندی چاہتے ہو تو تم ان کو دوستی کے پیغام نہ بھیجو۔ حالانکہ تم جو کچھ چھپا کر کرتے ہو یا کھلم کھلا کرتے ہو اسے میں خوب جانتا ہوں۔ اور تم میں سے جو بھی ایسا کرے گا تو (اس بات کو اچھی طرح جان لے کہ) وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا ہے۔

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر وہ (کافر) تم پر (کسی طرح) قابو پا لیں تو وہ دشمنی پر اتر آئیں گے اور تمہارے اوپر برائی کے ساتھ دست درازی اور زبان درازی کریں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ (کسی طرح) تم کافر بن جائو۔

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

(یاد رکھو) قیامت کے دن نہ تو تمہاری رشتہ داریاں کام آئیں گی نہ اولادیں۔ اس دن (تو فیصلے کا دن ہوگا اور ) وہ تمہارے درمیان فیصلہ کردے گا اور تم جو کچھ کرتے ہو اسے اللہ دیکھ رہا ہے۔

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

(حضرت) ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کا ساتھ دینے والوں ( کے عمل میں) تمہارے لئے بہترین نمونہ زندگی ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ہم تم سے اور جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو ان سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم (تمہارے ہر عمل سے ) انکار کرتے ہیں۔ تمہارے اور ہمارے درمیان عداوت اور دشمنی ظاہر ہوگی جب تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان نہ لائو گے۔ مگر (حضرت) ابراہیم (علیہ السلام) کی وہ بات کہ جب انہوں نے اپنے والد سے کہا تھا کہ میں تمہارے لئے مغفرت کی دعا کروں گا (اس سے الگ بات ہے) انہوں نے کہہ دیا تھا کہ میں اللہ کے مقابلے میں کسی چیز کا بھی مالک نہیں ہوں۔ اے ہمارے پروردگار ہم نے آپ پر بھروسہ کیا ہے اور آپ ہی کی طرف ہمیں لوٹنا ہے اور آپ کی طرف ہی ٹھکانا ہے۔

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہمیں کافروں کے لئے آزمائش نہ بنائیے گا۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں معاف کردیجئے۔ بیشک آپ ہی زبردست حکمت و دانائی والے ہیں۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

البتہ یقینا تم جو اللہ اور قیامت پر امید رکھتے ہو ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ اور جو شخص منہ پھیرے گا تو بیشک اللہ بےنیاز اور تمام خوبیوں کا مالک ہے۔

لغات القرآن۔ ابتغاء۔ تلاش کرنا۔ یثقفوا۔ وہ پکڑتے ہیں۔ یبسطوا۔ وہ کھولتے ہیں۔ ارحام۔ رشتہ داریاں۔ اسوۃ ۔ نمونہ۔ حسنۃ۔ بہترین۔ براء و ا۔ وہ بری ہیں۔ بدا۔ وہ ظاہر ہوا۔ استغفر۔ میں مغفرت (کی دعا ) مانگوں گا۔ تشریح : نبی کریم ﷺ نے مکہ والوں سے صلح حدیبیہ میں ایک معاہدہ کیا تھا جس پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے پوری طرح عمل کیا لیکن کفار مکہ نے جگہ جگہ عہد شکنی کی اور معاہدہ کے اصولوں کی پابندی نہیں کی۔ قریش مکہ کی ان حرکتوں کی وجہ سے آپ نے نہایت رازداری اور خاموشی کے ساتھ کفار قریش کو اس کی سزا دینے کے لئے تیاریاں شروع کردیں۔ ان تیاریوں کا علم چند صحابہ ؓ کے علاوہ کسی اور کو نہیں تھا۔ ان میں سے ایک بدری صحابی حضرت حاطب ابن ابی بلتعتہ بھی تھے جنہیں ان تیاریوں کا پورا علم تھا۔ اتفاق کی بات ہے کہ اسی زمانہ میں مکہ مکرمہ سے ایک عورت آئی جو کبھی بنی عبد المطلب کی باندی تھی۔ اس نے آزاد ہونے کے بعد گانے بجانے اور لوگوں کا دل بہلانے کا دھندہ شروع کردیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ نبی کریم ﷺ انتہائی شفیق اور مہربان شخص ہیں اور وہ ہر ایک کے ساتھ ہمدردی ضرور کرتے ہیں۔ اس نے مدینہ آکر کہا کہ جب سے آپ کے اور کفار قریش کے درمیان جنگ جیسے حالات شروع ہوئے تو لوگوں نے اس کے گانے بجانے کی طرف توجہ کم کردی اور وہ شدید تنگ دست ہو کر آپ ﷺ کی خدمت میں مدد کے لئے حاضرہوئی ہے۔ آپ ﷺ نے بنی اعبد المطلب سے اس کی مدد کرنے کیلئے کہا جس سے اس کی یہ حاجت پوری ہوگئی۔ اور وہ مکہ مکرمہ واپس جانے لگی تو حضرت حاطب ابن ابی بلتعہ اس سے ملے اور اسے دس دینار دے کر اور رازداری کا وعدہ لے کر مکہ کے بعض سرداروں کے نام ایک خط دیا جس میں کفار قریش کو اس بات کی اطلاع دی گئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ مکہ پر چڑھائی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ جب وہ عورت مدینہ منورہ سے روانہ ہوئی اور ابھی بہت زیادہ دور نہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل کے ذریعہ آپ ﷺ کو اس کی اطلاع کردی۔ آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ ، حضرت زبیر ؓ اور حضرت مقداد ابن اسود ؓ کو اس عورت کے پیچھے اس ہدایت کے ساتھ بھیجا کہ وہ عورت تمہیں روضہء خاخ کے مقام پر ملے گی جس میں مشرکین کے نام ایک خط لکھا گیا ہے اس کو اس عورت سے زبردستی چھین کرلے آئو خواہ اس کے لئے اس پر بڑی سے بڑی سختی کرنی پڑے۔ یہ تینوں صحابہ کرام ؓ جب روضہ خاخ (جو مدینہ سے بارہ میل کے فاصلے پر تھا) پہنچے تو وہ عورت ان کو ملی۔ اس سے خط مانگا۔ پہلے تو اس نے انکار کیا۔ ان صحابہ کرام ؓ نے اچھی طرح اس کی تلاشی لی مگر وہ خط کہیں نہیں ملا۔ لیکن ان صحابہ کرام ؓ کو یقین تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے تو یہ خط اس پاس ضرور ہوگا۔ صحابہ ؓ نے فرمایا کہ دیکھو وہ خط ہمارے حوالے کر دو ورنہ ہمیں ننگا بھی کرنا پڑا تو ہم کریں گے۔ وہ عورت اس دھمکی کی سنجیدگی کو سمجھ گئی اور اس نے اپنی چوٹی میں سے خط نکال کر دیدیا۔ اور وہ خط انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے حوالے کردیا جس میں اتنے بڑے جنگی راز کو کھولا گیا تھا۔ حضرت عمر تو اتنی بڑی بات سے لرز گئے کہ اگر یہ راز کفار تک پہنچ جاتا تو مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچتا۔ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کو اسی جگہ قتل کردوں۔ آپ ﷺ نے حضرت حاطب ؓ کو بلا کر پوچھا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے معاملے میں جلدی نہ فرمائیں اور پہلے میری بات سن لیجئے۔ اصل میں میں نے جو کچھ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے بچے اور والدہ مکہ میں ہیں۔ میں قریش یا مکہ کے کسی قبیلے کا آدمی نہیں ہوں بلکہ اہل قریش نے میرے گھر والوں کو پناہ دے رکھی ہے مہاجرین میں سے جن کے اہل و عیال مکہ میں ہیں ان کو تو ان کا قبیلہ کسی نہ کسی طرح بچا ہی لے گا مگر میرا وہاں کوئی قبیلہ نہیں ہے جو ان کو کفار کے ظلم و ستم سے بچالے گا۔ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ خط میں نے اس لئے نہیں لکھا تھا کہ میں کافر و مرتد ہوگیا ہوں یا دین اسلام کے سوا میں کسی اور دین کو پسند کرنے لگا ہوں بلکہ میں نے یہ خط اس لئے لکھا تھا تاکہ قریش پر میرا یہ احسان ہوجائے اور وہ میرے اہل خانہ کی حفاظت کرسکیں۔ آپ ﷺ نے سن کر فرمایا کہ حاطب ؓ نے سچی بات کہیں۔ حضرت عمر ؓ اس تمام تر عذر کے باوجود یہ چاہتے تھے کہ ایسے آدمی کی گردن اڑا دی جائے مگر آپ ﷺ نے فرمایا کہ حاطب ؓ نے غزوہ بدر میں حصہ لیا ہے۔ تمہیں کیا خبر کہ اللہ تعالیٰ نے بدر والوں کی قربانیوں کو دیکھ کر یہ کہہ دیا ہو کہ تم کچھ بھی کرو میں نے تمہیں معاف کردیا ہے۔ اہل بدر کا یہ مقام ہے حضرت عمر ؓ سن کر رو پڑے اور عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ اس طرح ان کا عذر سن کر ان کو معاف کردیا گیا۔ (بخاری۔ ترمذی۔ نسائی) ۔ حضرت حاطب کے اس واقعہ کو تقریبا ً سب ہی مفسرین نے زیر مطالعہ آیات کا شان نزول قرار دیا ہے۔ قرآن کریم میں اس واقعہ کو بیان کرنے کی مصلحت یہ ہے کہ ہر صاحب ایمان کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ جب بھی کفر و اسلام کے درمیان مقابلہ ہو تو وہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے کفار کو کسی طرح کی بھی قوت مل جائے اور راز کو راز رکھنا چاہیے کیونکہ حضرت حاطب ؓ تو بدری صحابی تھے جنہیں معافی کا پروانہ مل گیا لیکن اگر کسی اور نے ایسا کیا تو اس کی معافی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے بات یہ فرما دی ہے کہ انسان زندگی بھر جس اولاد، بیوی اور رشتہ داروں کے لئے بہت کچھ کرتا ہے وہ قیامت کے دن اس کے کسی کام نہ آئیں گے وہاں ہر شخص کو اپنے ذاتی اعمال کے ساتھ حاضر ہونا ہے۔ اگر تم اپنے اعمال کی جوابدہی میں پھنس گئے تو یہ سب رشتے ناطے تمہارے کسی کام نہ آسکیں گے لہٰذا اولاد، بیوی اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن معاملہ تو اچھی بات ہے لیکن ان کی وجہ سے اپنی آخرت کو برباد کرلینا سب سے بری بات ہے۔ تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ حضرت ابراہیم ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ زندگی ہے جنہوں نے اس بات کی پر اہ نہیں کی کہ اگر میں نے سچی بات کہی تو میرا انجام کیا ہوگا بلکہ دل گردے اور بہادری کی بات یہ ہے کہ انہوں سے سب کے سامنے صاف صاف اعلان کردیا کہ میں اللہ کو چھوڑ کر ان کی بندگی نہیں کرسکتا جن کی تم عبادت و بندگی کرتے ہو بلکہ میں اپنی نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتا ہوں اور تمہارے ہر عمل کو میں نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہیں لائو گے اس وقت تک ہم تمہیں اپنا دشمن ہی سمجھتے رہیں گے۔ فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو بھی اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے چھوڑ دیا تا اگرچہ انہوں نے اپنے والد سے کہا تھا کہ تمہارے لئے دعائے مغفرت کروں گا لیکن جب ان پر یہ بات کھل گئی کہ ان کا باپ تو اللہ کا دشمن ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سے بھی بیزاری کا اظہار کردیا۔ یہ ہے وہ بہترین نمونہ زندگی کہ اصل اللہ کی ذات اور اس کی رضا ہے جس کے لئے ہر رشتہ اور تعلق کو ٹھکرا دینا اصل ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایمان کی یہی پختگی عطا فرمائے۔ آمین۔
Ayahs 60:7–9

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

شاید کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تمہاری دشمنی ہے دوستی پیدا کردے۔ اللہ قدرت رکھنے والا اور مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ احسان و انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے۔ نہ انہوں نے تمہیں گھروں سے نکالا۔ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

اللہ تمہیں ان لوگوں کی دوستی سے منع کرتا جو تمہارے دین کے بارے میں جنگ کرتے ہیں جنہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے خلاف تمہارے نکالنے والوں کی مدد کی اور جو بھی ان جیسے لوگ لوگوں سے دوستی کرے گا تو یقینا وہ ظالموں میں سے ہوگا۔

لغات القرآن۔ عسی ۔ شاید۔ امید ہے کہ ۔ عادیتم۔ تم نے دشمنی کی۔ ان تبروا۔ یہ کہ تم نیکی (نہ ) کرو گے۔ تفسطوا۔ تم انصاف کرو گے۔ تشریح : انسان دنیا کے کسی بھی خطے میں رہتا بستا ہوا اپنے گھرو الوں اور رشتہ داروں کی محبت کو دل سے نہیں نکال سکتا۔ مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد ان اہل ایمان سے جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر محض اللہ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت میں مدینہ منورہ آگئے تھے ان سے فرمایا گیا کہ تم کافر رشتہ داروں سے قطع تعلق کرلو۔ ان کے ساتھ حسن سلوک سے نہیں بلکہ قلبی محبت رکھنے کو منع فرما دیا گیا تھا۔ اہل ایمان اس حکم پر پوری طرح عمل نہایت صبرو برداشت سے کر رہے تھے لیکن ان پر کیا گذر رہی ہوگی اس کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ لوگ جو ا اج تمہارے دشمن بنے ہوئے ہیں بہت جلد تمہارے دوست بن جائیں گے۔ یہ ارشاد ایک تسلی بھی تھی اور فتح مکہ کی خوش خبری بھی چناچہ چند ہفتے نہیں گزرتے تھے کہ مکہ مکرمہ بغیر جنگ کے فتح ہوگیا اور وہی قریش مکہ اور مشرکین جو پہلے دشمن تھے انہوں نے دین اسلام کو قبول کرلیا۔ دشنی دوستی میں بدل گئی۔ اسی بات کو زیر مطالعہ آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ جو ہر طرح کی قدرت رکھنے والا اور اپنے بندوں کی مغفرت کرنے والا ہے ممکن ہے کہ وہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تمہاری دشمنی ہے دوستی پیدا کردے۔ اس جگہ ایک اصول بات بھی بتائی گئی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ احسان کرنے اور عدل و انصاف کرنے سے نہیں روکتا جو نہ تو تمہارے دین کے بارے میں تم سے جھگڑتے ہیں اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالنے میں حصہ لیا ہے۔ ان کے ساتھ عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جانا چاہیے کیونکہ اللہ کو ایسے لوگ بہت پسند ہیں جو انصاف سے کام لیتے ہیں۔ البتہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کی دوستی سے منع کرتا ہے جو تمہارے دین کے بارے میں تم سے جنگ کرتے ہیں۔ جنہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یا ان لوگوں کی مدد کی جنہوں نے تہیں تمہارے گھروں سے نکالنے کی کوشش کی۔ ان جیسے لوگوں سے دوستی کرنا بڑے ظلم کی بات ہے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ یقینا ظالموں میں سے ہوگا۔
Ayahs 60:10–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں (دار الحرب سے) ہجرت کرکے آئیں تو ان کو جانچ لیا کرو۔ اللہ ان کے ایمان (کی حقیت) کو کون جانتا ہے۔ پھر اگر تم ان کو واقعی مومن سمجھتے ہو تو ان کو کافروں کی طرف مت لوٹائو کیونکہ نہ تو وہ عورتیں ان کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ اور جو (ان کے پہلے والے شوہروں نے ) مہر دیا ہو وہ ان کے خاوندوں کو واپس کردو۔ اور تمہیں ان ہجرت کرنے والی مومن عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے جب کہ تم ان کو ان کے مہرادا کردو۔ اور تم ان کافرہ عورتوں سے زوجیت کا تعلق قائم نہ رکھو جو (دار الحرب میں رہ گئی ہیں) یا مرتد ہو کر واپس لوٹ گئی ہیں۔ البتہ جو مہر تم نے دیا ہو وہ کافروں سے واپس لے لو۔ اور اسی طرح جو مہر کافروں نے دیا تھا وہ اپنا دیا ہوا مہر تم سے واپس لے لیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت کافروں میں رہ جائے بالکل تمہارے ہاتھ نہ آئے اور پھر (کافروں کو مہردینے کی) نوبت آجائے تو جن مسلمانوں کی عورتیں ہاتھ سے نکل گئی ہیں تو جتنا مہر انہوں نے ان عورتوں پر خرچ کیا تھا اس کے برابر تم ان کو دیدو۔ اور وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو تم اسی سے ڈرتے رہو۔

لغات القرآن۔ مجھرات۔ ہجرت کرنے والیاں۔ امتحنوا۔ تم آزمالو۔ جانچ لو۔ اجور۔ اجر۔ بدلہ ۔ مہر۔ لا تمسکوا۔ تم نہ روکو۔ تم تعلق قائم نہ کرو۔ عصم۔ تعلقات نکاح۔ تشریح : ان آیات کو سمجھنے کے لئے بنیادی طور پر ان کے پس منظر پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اصل میں صلح حدیبیہ میں جو شرائط طے کی گئی تھیں ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی شخص مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئے گا تو اس کو واپس کردیا جائے گا اس کے برخلاف اگر کوئی مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو کفار قریش اس کو واپس کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جس میں بظاہر عورتیں اور مردو دونوں شامل تھے لیکن پے در پے کچھ ایسے واقعات پیش آئے جن میں کچھ عورتوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو ان کے متعلقین نے حضور اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ معاہدہ کے تحت ان عورتوں کو واپس کیا جائے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے یہ کہہ کر ان مسلمان عورتوں کو مکہ واپس بھیجنے سے انکار کردیا کہ یہ معاہدہ مردوں کے لئے تھا عورتوں کے لئے نہیں۔ چنانچہ مختلف روایات سے بعض خواتین کے مدینہ آنے کا ثبوت ملتا ہے جس پر یہ احکامات نازل ہوئے۔ سعیدہ بنت الحارث الاسلیمہ، ام کلثوم عمرو ابن عاص اور ام کلثوم عتبہ ابن معیط ان تینوں کا ذکر ملتا ہے کہ یہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آگئیں۔ سعیدہ بنت الحارچ جو صفی ابن اخطب کے نکاح میں تھیں جب وہ مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آگئیں تو ان کے شوہر صفی بھی ان کے پیچھے پیچھے مدینہ منورہ آگئے اور انہوں نے معاہدہ صلح حدیبیہ کے تحت آپ سے اپنی بیوی کی واپسی کے لئے درخواست کی تو آپ نے سعیدہ سے تمام حالات معلوم کئے اور جب آپ ﷺ کو یقین ہوگیا کہ سعیدہ نے دل سے اسلام کو قبول کرلیا ہے تب آپ نے صفی ابن اخطب سے کہا کہ ہمارا معاہدہ مردوں کے لئے تھا عورتوں کے لئے نہیں۔ اسی طرح دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ ام کلثوم عمرو ابن عاص کے نکاح میں تھیں۔ ام کلثوم نے تو اسلام قبول کرلیا تھا لیکن عمرو ابن عاص نے ابھی تک اسلام قبول نہ کیا تھا۔ ام کلثوم کے ساتھ دو بھائی بھی بھاگ کر مدینہ منورہ آگئے تھے۔ جب عمرو ابن عاص نے ان سب کی واپسی کا مطالبہ کیا تو آپ نے دونوں بھائیوں کو تو مکہ مکرمہ واپس بھیج دیا لیکن ام کلثوم کو یہ کہہ کر واپس کردینے سے انکار کردیا کہ یہ شرط مردوں کے لئے تھی عورتوں کے لئے نہیں۔ اگرچہ نبی کریم ﷺ نے پہلے ہی اس فیصلے کا اعلان کردیا تھا لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے اس فیصلے کی تصدیق فرما دی۔ مہر کی ادائیگی کے لئے کچھ اصولی باتیں بھی ارشاد فرمادیں۔ فرمایا کہ 1۔ جن عورتوں نے مدینہ منورہ ہجرت کرلی ہے اور وہ مومن ہیں تو ان کے کافر شوہروں نے ان کو جوا بھی مہر ادا کیا ہو وہ ان کے شوہروں کو واپس کردیا جائے۔ چونکہ ہجرت کرنے والی مومن عورت کا نکاح کافر شوہر سے فسخ ہوچکا ہے۔ اب وہ مشرک مرد پر حرام ہوچکی ہے لہٰذا وہ عورت کسی بھی مسلمان مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ 2۔ مشرک اور کافر مرد اگرچہ زندہ ہو جب کسی عورت نے اسلام قبول کرلیا اور وہ مدینہ آگئی تو اس کا نکاح ٹوٹ گیا۔ اس کے شوہر نے اس کو اطلاع دی ہو یا نہ دی ہو اس کو کسی مسلمان مرد سے نکاح کرنا حلال قرار دیا گیا ہے۔ 3۔ اگر کوئی عورت مرتد ہو کر دار الحرب کی طرف لوٹ گئی ہے تو فرمایا کہ اس سے زوجیت کا تعلق قائم نہ کرو اور تم نے جو مہر دیا ہے وہ کافروں سے واپس لے لیا جائے اور جو مہر کافروں نے مسلمانوں ہوجانے والی عورتوں کو دیا تھا وہ مہ رمسلمانوں سے واپس لے لیں۔ 4۔ مہر کی واپسی کا حکم مہاجر عورتوں سے نہیں کیا گیا بلکہ مسلمان مردوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ واپس کریں۔ یقینا مہر کا جو مال انہوں نے اپنی عورتوں کو دیا ہوگا وہ ختم ہوچکا ہوگا۔ اب اس کی واپسی کی صورت یہی ہوسکتی ہے کہ عام مسلمان اس فرض کا ادا کریں، بیت المال سے ادا کریں یا مسلمان آپس میں چندہ کرکے ادا کریں۔ ان آیات میں ایک بات یہ فرمائی گئی کہ جب کچھ عورتیں دار الحرب سے ہجرت کرکے آئیں تو ان کے حالات کو جانچ لیا جائے۔ جب تم اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ واقعی وہ مومن ہیں تو پھر ان کو تحفظ دیدو اور کبھی ان کو کفار کے حوالے نہ کرو کیونکہ وہ عورتیں کافرو مشرک مردوں پر حلال نہیں ہیں اور نہ کافر و مردان کے لئے حلال ہیں۔ لہٰذا ان عورتوں کا اچھی طرح امتحان لے لیا جائے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے رایت ہے کہ مہاجر عورتوں سے اس بات پر حلف لیا جاتا تھا کہ (1) ۔ وہ اپنے شوہروں سے کسی بغض و حسد یا نفرت کی بنا پر نہیں آئی ہیں۔ (2) ۔ نہ مدینہ کے کسی آدمی کی محبت میں وہ یہاں آئی ہیں۔ (3) اور نہ وہ کسی اور دنیاوی غرض سے آئی ہیں بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور رسول اللہ ﷺ کی محبت و اطاعت کے جذبے سے آئی ہیں۔ جب وہ یہ حلف کرلیتیں یعنی قسم کھا لیتیں تو رسول اللہ ﷺ ان کو مدینہ منورہ میں رہنے کی اجازت عطا فرما دیتے تھے اور ان عورتوں نے اپنے کافر شوہروں سے جو مہر وصول کیا تھا وہ ان کے شوہروں کو واپس دیدتے تھے۔ (قرطبی) ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر مومن ہر آن اللہ سے ڈرتا رہے کیونکہ اس سے ڈرنا ہی سب سے بڑی نیکی ہے۔
Ayahs 60:12–13

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے نبی ﷺ جب مومن عورتیں آپ کے پاس آئیں تو ان سے ان باتوں پر بیعت لیجئے۔ (1) کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی۔ (2) وہ چوری نہ کریں گی۔ (3) نہ وہ زنا کریں گی۔ (4) نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی۔ (5) ۔ اور نہ کوئی ایسا بہتان لائیں گی جو اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان گھڑا گیا ہو۔ (6) اور نہ کسی شرعی کام میں آپ کی نافرمانی کریں گی۔ تو آپ ان سے بیعت لی لیجئے۔ اور ان کے لئے دعائے مغفرت کیجئے۔ بیشک اللہ مغفرت کرنے والا مہربان ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ نے غصہ اور غضب نازل کیا ہے۔ ان کا یہ حال ہے کہ وہ آخرت کے ثواب سے ایسے ناامید ہیں جیسے وہ کافر ناامید ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں۔

لغات القرآن۔ یبایعن۔ وہ بیعت کرتی ہیں۔ لا یسفرقن۔ وہ چوری نہ کریں گی۔ قدیئسوا۔ وہ مایوس ہوچکے۔ اصحاب القبور۔ قبروں والے۔ تشریح : یہ آیات فتح مکہ سے کچھ عرصے پہلے نازل ہوئی تھیں۔ فتح مکہ کے بعد تو یہ حال تھا کہ جماعتیں کی جماعتیں حلقہ اسلام میں داخل ہو رہی تھیں۔ اس وقت آپ ﷺ نے کوہ صفا پر نئے ہونے والے مسلمانوں سے بیعت لی اور حضرت عمر فاروق ؓ سے فرمایا کہ وہ ان تمام باتوں پر عورتوں سے بیعت لیں جو قرآن اور احادیث میں ذکر کی گئی ہیں۔ بیعت کا مفہوم یہ تھا کہ اس میں ایمان و یقین، عقائد اور شرعی احکامات کی پابندی کا عہد لیا جائے۔ عورتوں سے بیعت لینے کی (1) پہلی شرط یہ تھی کہ وہ ایمان لائیں اور شرک سے بچی رہیں (2) دوسری شرط یہ تھی کہ وہ اس بات کا عہد کریں کہ وہ کبھی چوری نہ کریں گی (3) تیسری شرط یہ تھی وہ زنا نہ کریں گی (4) چوتھی شرط یہ تھی کہ وہ اپنے بچوں کو قتل نہ کریں گی (5) پانچویں شرط یہ تھی کہ وہ کسی پر بہتان اور الزام نہ لگائیں گی (6) چھٹی شرط یہ تھی کہ وہ نیک اور بھلے کام میں رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی نہ کریں گی۔ بہت سی احادیث وہ ہیں جن میں ان باتوں کے علاوہ چند اور باتوں پر بھی بیعت لی گئی ہے مثلا۔ 1۔ دور جہالت میں عورتیں مرنے والوں پر نوحہ کیا کرتی تھیں، کپڑے پھاڑ لیتیں، منہ نوچتیں، بال کاٹتیں اور خوب بیان کیا کرتی تھیں۔ بخاری، مسلم اور نسائی میں ہے کہ آپ ﷺ اس بات پر بھی بیعت لیتے تھے کہ وہ عورتیں مرنے والوں پر نوحہ نہ کریں گی۔ 2۔ حضور اکرم ﷺ کی ایک خالہ سلمیٰ بنت قیس فرماتی ہیں کہ میں انصار کے چند عورتوں کے ساتھ آپ کے پاس بیعت کے لئے حاضر ہوئی تو آپ نے قرآن کریم میں بیان کی گئی شرائط کے ساتھ بیعت لی اور ہم سے کہا کہ دیکھو شوہروں کے ساتھ دھوکے بازی مت کرنا۔ (مسند احمد) ۔ 3۔ حضرت فاطمہ ؓ کی خالہ امیمہ بنت رقیقہ نے حضرت عبد اللہ بن عمرو العاص ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور اکرم ﷺ ان سے اس بات پر بھی بیعت لی کہ نوحہ نہ کرنا اور جاہلیت کے جیسے بنائو سنگھار کرکے اس کی نمائش نہ کرنا۔ ) (مسند احمد) جب کبھی نبی کریم ﷺ عورتوں سے بیعت لیتے تو اس کا طریقہ یہ تھا کہ جس طرح آپ مردوں کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بیعت کرتے تھے اسی طرح آپ ﷺ عورتوں کے ہاتھ پر ہاتھ نہ رکھتے بلکہ ان سے زبانی طور پر عہد لے کر آپ ﷺ فرما دیتے تھے کہ میں نے تجھ سے بیعت لی۔ (بخاری) ۔ اسی لئے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی قسم بیعت میں حضور اکرم ﷺ کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ سے چھوا تک نہیں۔ آپ ﷺ عورتوں سے بیعت لیتے وقت بس زبان سے فرما یتے کہ میں نے تجھ سے بیعت لی۔ (بخاری) اب قیامت تک عورتوں سے بیعت لینے کا یہی طریقہ ہے کہ ان سے زبانی اقرار کرا کے ان سے کہہ دیا جائے کہ میں نے ان سے بیعت لے لی۔ لیکن مردوں کے لئے بیعت لینے کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھا جائے اور ان تمام باتوں کا اقرار لیا جائے جس کا حکم قرآن کریم اور احادیث میں دیا گیا ہے۔ لیکن اگر بیعت کرنے والے زیادہ ہوں تو بہتر ہے سب مل کر کوئی کپڑا یا چادر پکڑ لیں اور بیعت کرلیں۔ بیعت لینے کے بعد تمام لوگوں کے لئے ان گناہوں اور بھول چوک سے معافی کی دعا کرنی چاہیے اور آئندہ ہر گناہ سے بچنے کی تلقین کی جائے۔ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربانی ہے وہ ضرور تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔ آخر میں فرمایا گیا کہ اے مومنو ! تم ان لوگوں سے قلبی تعلق اور دوستی قائم نہ کرو جن پر اللہ کا غصہ اور غضب نازل کیا گیا ہے کیونکہ تمہیں تو اللہ سے اس کی امید ہے کہ تم جو بھی بھلا کرو گے اللہ اس کی جزائے خیر عطا فرمائے گا لیکن یہ کفار اور اللہ کے دشمن تو ہر ثواب سے اسی طرح مایوس ہیں کہ تمام رشتہ دار جو قبروں میں دفن کئے جا چکے ہیں وہ کبھی زندہ ہو کر دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔