Explained with ayahs 10–11
صلح حدیبیہ کا ایک پہلو
سورة فتح کی تفسیر میں صلح حدیبیہ کا واقعہ مفصل بیان ہوچکا ہے، اس صلح کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ اور کفار قریش کے درمیان جو شرائط ہوئی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ جو کافر مسلمان ہو کر حضور ﷺ کے پاس چلا جائے آپ اسے اہل مکہ کو واپس کردیں، لیکن قرآن کریم نے ان میں سے ان عورتوں کو مخصوص کردیا کہ جو عورت ایمان قبول کر کے آئے اور فی الواقع ہو بھی وہ سچی ایمان دار تو مسلمان اسے کافروں کو واپس نہ دیں، حدیث شریف کی تخصیص قرآن کریم سے ہونے کی یہ ایک بہترین مثال ہے اور بعض سلف کے نزدیک یہ آیت اس حدیث کی ناسخ ہے۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابو میط ؓ مسلمان…
Read the full tafseer →سورة الْمُمْتَحِنَة 14
اس حکم کا پس منظر یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد اول اول تو مسلمان مرد مکہ سے بھاگ بھاگ کر مدینہ آتے رہے اور انہیں معاہدے کی شرائط کے مطابق واپس کیا جاتا رہا۔ پھر مسلمان عورتوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور سب سے پہلے ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ہجرت کر کے مدینے پہنچیں۔ کفار نے معاہدے کا حوالہ دے کر ان کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا اور ام کلثوم کے دو بھائی ولید بن عقبہ اور عمارہ بن عقبہ انہیں واپس لے جانے کے لیے مدینے پہنچ گئے۔ اس وقت یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر وہ مسلمان ہوں اور یہ اطمینان کرلیا جائے کہ واقعی وہ ایمان ہی کی خاطر ہجرت کر کے آئی ہیں، کوئی اور چیز انہیں نہیں لائی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
سبب نزول کا واقعہ
(یہ آیتیں بھی ایک خاص موقع کے متعلق ہیں اور وہ موقع صلح حدیبیہ کا ہے، جس کا بیان آغاز سورة فتح میں ہوا ہے، منجملہ ان شرطوں کے جو صلح نامہ میں لکھی گئی تھیں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو شخص مسلمانوں میں سے کافروں کی طرف چلا جاوے وہ واپس نہ دیا جاوے اور جو شخص کافروں میں سے مسلمانوں کی طرف چلا جاوے وہ واپس دے دیاجاوے، چناچہ بعض مسلمان مرد آئے اور واپس کردیئے گئے پھر بعضی عورتیں مسلمان ہو کر آئیں، ان کے اقارب نے ان کی واپسی کی درخواست کی، اس پر یہ آیتیں حدیبیہ میں نازل ہوئیں، جس میں عورتوں کے واپس کرنے کی ممانعت کی گئی، پس عموم مضمون صلح نامہ کا اس مخصوص اور منسوخ ہوگیا…
Read the full tafseer →4۔ آگے آیات۔ 10۔ 13 کا مضمون
آگے اسی (لا تتخذ واعدوی وعدو کم اولیاء) والی ہدایت کی روشنی میں جو پہلی آیت میں مذکور ہوئی پہلے مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ مکہ سے جو عورتیں ہجرت کر کے آئیں۔ ان کے ایمان و اسلام کی تحقیق کی جائے، مجرد اس بنیاد پر ان کو اپنے اندر شامل نہ کرلیا جائے کہ وہ ان کے پاس آگئی ہیں اور ان کے اندر شامل ہونا چاہتی ہیں۔ ہاں تحقیق سے ثابت ہوجائے کہ ان کی ہجرت فی الواقع دین ہی کی خاطر ہے تب ان کو شامل کیا جائے ورنہ واپس کردیا جائے۔ اسی طرح مہاجرین میں سے جن کی بیویاں مکہ میں ہیں اور وہ کافر ہیں ان کو اپنے عقد نکاح میں باندھے رکھنا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے بلکہ ان کو…
Read the full tafseer →10۔ 1 معاہدہ حدیبیہ میں ایک شق یہ تھی کہ مکہ سے کوئی مسلمانوں کے پاس چلا جائے گا تو اس کو واپس کرنا پڑے گا لیکن اس میں مرد و عورت کی صراحت نہیں تھی بظاہر کوئی احد میں دونوں ہی شامل تھے چناچہ بعد میں بعض عورتیں مکہ سے ہجرت کرکے مسلمانوں کے پاس چلی گئیں تو کفار نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا جس پر اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی اور یہ حکم دیا امتحان لینے کا مطلب ہے اس امر کی تحقیق کرو کہ ہجرت کر کے آنے والی عورت جو ایمان کا اظہار کر رہی ہے اپنے کافر خاوند سے ناراض ہو کر یا کسی مسلمان کے عشق میں یا کسی اور غرض سے تو نہیں آئی ہے اور صرف یہاں پناہ لینے کی خاطر ایمان کا دعوی کر رہی ہے۔…
Read the full tafseer →5: اس آیت نے یہ واضح حکم عطا فرما دیا کہ کوئی مسلمان عورت کسی بھی غیر مسلم کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ اگر کسی غیر مسلم کی بیوی مسلمان ہوجائے تو اس کے شوہر کو بھی اسلام لانے کی پیشکش کی جائے گی، اگر وہ بھی عورت کی عدت کے دوران اسلام قبول کرلے تو ان کا نکاح باقی رہے گا، لیکن اگر وہ مسلمان نہ ہو، تو اس کی مسلمان بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی، اور عدت کے بعد کسی مسلمان سے نکاح کرسکے گی۔
6: جو شادی شدہ عورتیں مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آتیں، ان کے شوہروں سے ان کا نکاح ختم ہوجاتا تھا، لیکن چونکہ مکہ مکرمہ کے کافروں سے اس وقت صلح کا معاہدہ تھا، اس لیے ان کو یہ سہولت دی گئی تھی کہ انہوں نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اب سیاق سورت کی طرف آتے ہیں۔ اب مومنات مہاجرات کی بات۔
یایھا الذین .................................... بہ مومنون (0 : 11) 06 : 01۔ 11)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب مومن عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو (ان کے مومن ہونے کی) جانچ پڑتال کرلو ، اور ان کے ایمان کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال۔ ان کے کفار شوہروں نے جو مہران کو دیئے تھے وہ انہیں پھیر دو ۔ اور ان سے نکاح کر لنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں…
Read the full tafseer →1 یعنی دل کا حال تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ لیکن ظاہری طور سے ان عورتوں کی جانچ کرلیا کرو۔ آیا واقعی وہ مسلمان ہیں اور محض اسلام کی خاطر وطن چھوڑ کر آئی ہیں۔ کوئی دنیاوی یا نفسانی غرض تو ہجرت کا سبب نہیں ہوا۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت عمر ؓ ان کا امتحان کرتے تھے۔ اور حضور ﷺ کی طرف سے ان سے بیعت لیتے تھے۔ اور کبھی حضور ﷺ خود بہ نفس نفیس بیعت لیا کرتے تھے جو آگے (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰٓي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ باللّٰهِ شَـيْـــــًٔــا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ…
Read the full tafseer →آیت 10{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَآئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ } ”اے اہل ِایمان ! جب تمہارے پاس آئیں مومن خواتین ہجرت کر کے تو ان کا امتحان لے لیا کرو۔“
یعنی ہر خاتون سے ضروری حد تک جانچ پڑتال اور تحقیق و تفتیش کرلیا کرو کہ آیا واقعی وہ سچی اور مخلص مومنہ ہے۔
{ اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِہِنَّ } ”اللہ تو ان کے ایمان کے بارے میں بہت اچھی طرح جانتا ہے۔“
کسی کے دل میں ایمان ہے یا نہیں ‘ اور اگر ہے تو کتنا ایمان ہے ‘ اس کا صحیح علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ تم لوگ اپنے طور پر کسی کے ایمان کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتے۔ لیکن محض ایک احتیاطی تدبیر کے…
Read the full tafseer →20 ہجرت کرنے والوں کی تین قسمیں :۔ آیت نمبر دس اور گیارہ میں ایک نہایت اہم معاشرتی مسئلہ کا حل پیش کیا گیا ہے جو آغاز ہجرت سے ہی کئی طرح کی الجھنوں کا باعث بنا ہوا تھا۔ مکہ میں بہت سے ایسے لوگ تھے جو خود تو مسلمان ہوچکے تھے مگر ان کی بیویاں کافر تھیں یا بیویاں مسلمان ہوچکی تھیں تو شوہر کافر تھے۔ ہجرت کرنے سے یہ مسئلہ مزید سنگین بن گیا تھا۔ ہجرت کرنے والوں کی تین قسمیں تھیں۔
(1) میاں بیوی دونوں مسلمان اور ہجرت کرکے مدینہ آگئے :۔ ایک وہ جو دونوں میاں بیوی مسلمان ہوں اور دونوں نے ہجرت کی ہو۔ جیسے سیدنا عثمان ؓ اور ان کی اہلیہ یعنی رسول اللہ کی صاحبزادی۔ ایسے لوگوں کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ اور…
Read the full tafseer →15۔ (آیت) ” فامتحنوھن ...... بایمانھن “۔ یہاں مسلمانوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ جب دار الحرب سے ہجرت کرکے بیویاں تمہارے پاس آئیں تو تم اسکی جانچ کرلیا کرو آیا وہ ظاہری اعتبار سے مومن ہیں بھی۔ اور یہ ظاہر کی جانچ پڑتال انتظامی ضرورتوں اور دنیوی مصلحتوں سے ہے، ورنہ عالم الغیب کو کسی جانچ پڑتال کی کیا حاجت اور پھر ایمان حقیقی کو تحقیق تو بندوں کے بس کی چیز ہے بھی نہیں۔ (آیت) ” اذا .... مھجرت “۔ یعنی جب دارالحرب سے یہ بیویاں تمہارے پاس دارالاسلام حکمی یا حقیقی میں آئیں۔ (آیت) ” ال مومنت .... مومنت “۔ سے مراد اس سیاق میں وہ بیویاں ہیں، جو اپنے کو مسلمانہ کہتی تھیں۔ قرآن مجید نے محض ان کے دعوی اسلام…
Read the full tafseer →شان نزول :
یا یھا الذین امنوا اذا جاء کم المومنت مھاجرات (الآیۃ) یہ آیتیں صلح حدیبیہ کے موقع پر ایک خاص واقعہ کے متعلق نازل ہوئی ہیں اس واقعہ کا بیان سورة فتح کے آغاز میں گذر چکا ہے۔
معاہدہ صلح حدیبیہ کی بعض شرائط کی تحقیق :
واقعہ حدیبیہ کی تفصیل سورة فتح میں گذر چکی ہے، جس میں قریش مکہ اور آنحضرت ﷺ کے درمیان ایک معاہدہ صلح دس سال کے لئے لکھا گیا تھا اس معاہدہ کی بعض شرائط ایسی تھیں جن میں دب کر صلح کرنے اور مسلمانوں کی بظاہر مغلوبیت محسوس ہوتی تھی، اسی لئے صحابہ کرام ؓ میں اس پر غم و غصہ کا اظہار ہوا مگر رسول اللہ ﷺ باشارات ربانی یہ محسوس فرما رہے تھے کہ اس وقت کی چند روزہ مغلوبیت بالآخر…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا اذ جاء کم المومنت مھجرات فامتحنوھن اللہ اعلم بایمانھن فان علمتموھن مومنت فلا ترجعوھن الی الکفار لاھن حل لھم ولا ھم یحلون لھن واتوھم انفقوا .
” اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں (دارالحرب سے) ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کی جانچ کرلیا کرو ‘ ان کے ایمان کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ سو اگر (جانچ کرنے کے بعد) تم ان کو مسلمان جانو تو پھر کافروں کی طرف ان کو واپس مت کرو (کیونکہ) نہ وہ عورتیں کافروں کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان مسلمان عورتوں کے لیے حلال ہیں اور کافروں نے (ان عورتوں پر) جو کچھ خرچ کیا ہو (یعنی ان کو دیا ہو) وہ کافروں کو ادا کر دو ۔
فَامْتَحِنُوْھُنَّ : یعنی…
Read the full tafseer →اے ایمان والو جب تمہارے پاس اللہ کا اقرار کرنے والی عورتیں مکہ سے حدیبیہ یا مدینہ منورہ آجائیں تو تم ان سے دریافت کرو اور قسم لو کہ کیوں آئیں ان کے حقیقی ایمان کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے سو اگر ان کو امتحان کی رو سی مسلمان سمجھو تو پھر ان کو ان کے کافر خاوندوں کی طرف واپس مت کرو نہ تو وہ مسلمان عورتیں ان کافروں کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان عورتوں کے لیے حلال ہیں یا یہ کہ نہ کوئی مسلمان عورت کسی کافر کے لیے اور نہ کافر وہ عورت کسی مومن کے لیے حلال ہے اور ان کے خاوندوں نے جو مہر کی نسبت ان پر خرچ کیا ہے وہ ان کو ادا کردو۔
یہ آیت حضرت سبیعہ بنت حارث اسلمیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ حدیبیہ…
Read the full tafseer →1۔ یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَآئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ۔۔۔۔۔: ان آیات میں مشرکین سے قطع تعلق کی وجہ سے پیش آنے والے کئی معاملات کا حکم بیان فرمایا ، مثلاً کفار کی بیویاں جو مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مسلمانوں کے پاس آجائیں ، انہیں واپس کیا جائے گا یا نہیں اور میاں بیوی میں سے کسی ایک کے مسلمان ہوجانے سے ان کا باہمی نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں وغیرہ۔
2۔ حدیبیہ کے موقع پر کفا ر کے نمائدے سہیل بن عمرو نے صلح کی جو شرائط طے کی تھیں ان میں سے ایک شرط جو مسلمانوں کو منظور نہ تھی مگر سہیل نے اس کے بغیر صلح کرنے سے انکار کردیا ، یہ تھی (لا یاتیک منا احد وان کان علی دینک الا رددتہ…
Read the full tafseer →تفسیر
اس آیت میں سولہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا…… جب اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے ساتھ دوستی کے ترک کرنے کا حکم دیا اس امر نے یہ تقاضا کیا کہ مسلمان مشرکوں کے علاقے چھوڑ کر مسلمانوں کے علاقوں کی طرف ہجرت کر جائیں۔ باہم نکاح، باہم دوستی کا موکد ترین سبب تھا، تو عورتوں کی ہجرت کے احکام کو بیان کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قریش کے مشرکوں کے ساتھ حدیبیہ کے سال صلح ہوئی کہ مکہ مکرمہ میں سے جو بھی شخص مدینہ طیبہ آئے گا اسے ان کی طرف واپس کردیا جائے گا ابھی تحریر سے فراغت ہوئی تھی کہ حارث اسلمیہ کی بیٹی حضرت سعیدہ آگئی۔ ابھی نبی کریم و حدیبیہ میں ہی تھے اس کا خاوند آگیا جبکہ وہ کافر تھا اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
1۔ بخاری نے مسور بن مخرمہ اور مروان بن الحکم رحمہما اللہ دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن جب کفار قریش سے معاہدہ کیا تو مومن عورتیں آئیں (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرات۔ اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آجائیں۔ حتی کہ یہاں تک پہنچے آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر اور تم کافر عورتوں کے تعلقات ازدواجی کو باقی مت رکھو۔ تو حضرت عمر ؓ نے اس دن اپنی دونوں عورتوں کو طلاق دیدی جو مشرکہ تھیں۔
صلح حدیبیہ
2۔ بخاری وابو داوٗد ناسخہ اور بیہقی نے السنن میں مروان بن الحکم اور مسور بن مخرمہ رحمہما اللہ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَاۗءَكُمُ : اے لوگو جو ایمان لائے جب کبھی آئیں تمہارے پاس ][الْمُؤْمِنٰتُ : ایمان لانے والیاں ][ مُهٰجِرٰتٍ : ہجرت کرنے والیاں ہو کر ][ فَامْتَحِنُوْهُنَّ : تو تم لوگ جانچ لیا کرو ان کو ][ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَان هِنَّ : اللہ خوب جاننے والا ہے ان کے ایمان کو ][ فَان عَلِمْتموْهُنَّ : پھر اگر تم لوگ جانو ان کو ][ مُؤْمِنٰتٍ : ایمان لانے والیاں ][ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ : تو واپس مت کرو ان کو ][ اِلَى الْكُفَّارِ : کافروں کی طرف ][لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ : یہ خواتین حلال نہیں ہیں ان کے لیے ][ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ : اور نہ وہ لوگ حلال ہوں گے…
Read the full tafseer →مومنات مہاجرات کے بارے میں چند احکام
6 ہجری میں جب رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لئے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تو راستہ میں معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ عمرہ کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کا ارادہ كئے ہوئے ہیں آپ نے تحقیق حال کے لئے حضرت عثمان ؓ کو مشرکین مکہ کے پاس بھیجا اور خود مقام حدیبیہ میں تشریف فرما ہوگئے حضرات صحابہ بھی آپ کے ساتھ وہیں ٹھہر گئے اہل مکہ نے سہیل بن عمر و کو بھیجا (وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) باتیں ہوتی رہیں یہاں تک کہ آپس میں صلح کرنے پر راضی ہوگئے دس شرطوں پر دس سال کے لئے صلح ہوگئی جس کی تفصیل سورة الفتح کی تفسیر میں گزر چکی ہے، ان دس شرطوں میں یہ بھی تھا کہ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
حکم امتحان مہاجرات مومن ات و احکام بیعت و اطاعت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ..... الی ...... من اصحب القبور “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ دوستی اور موالات کے کچھ احکام بیان کیے گئے تھے اور یہ تلقین کی گئی تھی کہ مسلمانوں کو اس معاملہ میں اسوۂ ابراہیماختیار کرنا چاہئے اور نہایت واضح طور پر منع کردیا گیا کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ کسی طرح موالات و دوستی جائز نہیں اسی کے ساتھ ان کافروں سے بہتر سلوک کرنے کی اجازت دے دی گئی جو نہ تو کبھی مسلمانوں سے لڑے اور نہ کسی قسم کی دشمنی کی اب ان آیات میں بعض خاص احکام ایسی عورتوں کے متعلق بیان کیے جارہے ہیں جو ہجرت…
Read the full tafseer →13:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ مؤمنات مہاجرات کے بارے میں قانون ہے۔ صلح حدیبیہ کے شرائط میں مردوں کے بارے میں مذکور تھا کہ اگر کوئی کافر مرد مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آجائیگا تو اس کو واپس کردیا جائیگا لیکن اگر کوئی مسلمان کافروں کے یہاں چلا گیا تو اس کو واپس نہیں کیا جائیگا مگر عورتوں کے بارے میں اس صلحنامہ میں کوئی شرط مذکور نہیں تھی اس لیے عورتوں کے بارے میں قانون بیان کیا گیا یعنی اگر مؤمنات مکہ سے ہجرت کر کے تمہارے پاس آجائیں تو ان کے ایمان کا امتحان کرلو۔ ان سے پوچھ لو کہ وہ مومنہ ہیں اگر وہ زبان سے ضروریات دین کا اقرر کرلیں تو یہی کافی ہے، کیونکہ ان کے دل کا ایمان تو اللہ کو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ربط آیات :
گزشتہ درس میں اللہ نے غیر حربی کا فروں کے ساتھ احسان کرنے کی اجازت دی اور حربی کافروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کردیا۔ معاہدہ حدیبیہ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر کافروں کا کوئی آدمی بھاگ کر مدینہ آجائے گا تو مسلمان اسے واپس کردیں گے ، اور اگر مسلمانوں کا کوئی آدمی مکہ چلا جائے گا۔ تو کفار اسے واپس نہیں کریں گے۔ یہ معاہدہ تو مردوں کے لئے تھا مگر جب کچھ عورتیں مکہ سے ہجرت کرکے مدینے آگئیں اور ان کے اقرباء ان کے پیچھے آئے تو سوال پیدا ہوا کہ ان کو ٹھہرانے یا واپس کرنے کے متعلق کیا احکام ہیں ؟ مشرکین مکہ نے عورتوں کو بھی مردوں پر محمول کیا اور ان کی واپسی کا مطالبہ کیا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَاۗءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ 0 ۭ اَللہُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَانِہِنَّ 0 ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْہُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْہُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ 0 ۭ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ يَحِلُّوْنَ لَہُنَّ 0 ۭ وَاٰتُوْہُمْ مَّآ اَنْفَقُوْا 0 ۭ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْہُنَّ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ 0 ۭ وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا 0 ۭ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللہِ 0 ۭ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ 0 ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ترکیب : مہاجرات حال من المومنات فامتحنوھن جواب راذا۔ اللہ اعلم جملۃ معترضہ مومنات مفعول ثان لعلمتم من مفعول اول فلا ترجعوھن الجملۃ جواب الشرط الاھن الجملۃ فی موضع التعلیل لقولہ فلا ترجعوا ولاتمسکو امن الامساک وقراء ابوعمرویعقوب بالتشدید والاخرون بالتخفیف بعصم جمع عصمتہ وھی مایعتصم بہ من العقدد النسب والعہد والمرادبہ ہنہا النکاح الکوافر جع کافرۃ وان فاتکم ای سبقکم وانفلت منکم شیء فاعل فاتکم من ازواجکم بیان لشیء وایقاع شیء موقعہ للتحقیر والا شباع فی التعمیم او شیء من فھو رازواجکم۔ فعاقبتم ای فجاءت عقبتکم اے نوبتکم من اداء المھر۔ شبہ الحکم باداء ھؤلاء مہوراولئک تارۃً واداء اولئک مھور نساء…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَآئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُھٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْھُنَّ ط اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِھِنَّ ج فَاِنْ عَلِمْتُمُوْھُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلاَ تَرْجِعُوْھُنَّ اِلَی الْـکُفَّارِ ط لاَ ھُنَّ حِلٌّ لَّھُمْ وَلاَ ھُمْ یَحِلُّوْنَ لَھُنَّ ط وَاٰتُوْھُمْ مَّـآ اَنْفَقُوْا ط وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اَنْ تَنْـکِحُوْھُنَّ اِذَٓا اٰ تَیْتُمُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ ط وَلاَ تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْـکَوَافِرِ وَسْئَلُوْا مَا اَنْفَقْتُمْ وَلْیَسْئَلُوْا مَـآ اَنْفَقُوْا ط ذٰلِکُمْ حُکْمُ اللّٰہِ ط یَحْکُمُ بَیْنَـکُمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (الممتحنۃ : 10)
(اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے قتال کے مسائل بیان ہوئے ہیں، قتال کے دوران ہجرت کا معاملہ پیش آنا فطری بات ہے اس لیے مہاجر عورتوں کے بارے میں بالخصوص ہدایات دی گئی ہیں۔
صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جو معاہدہ ہوا تھا اس میں ا ہل مکہ کی طرف سے یہ شرط تھی کہ مسلمانوں میں سے کوئی شخص مکہ آنا چاہے تو ہم اسے واپس نہیں کریں گے۔ اگر ہم میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا تو اسے آپ کو واپس کرنا پڑے گا۔ معاہدے کے تھوڑے عرصہ بعد ایک مسلمان ابوبصیر ؓ بھاگ کر مدینہ آیا تو نبی ﷺ نے اسے واپس کردیا۔ اسی دوران کچھ مسلمان خواتین مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچیں جن میں امِّ کلثوم بن عتبہ ؓ بھی تھیں ام کلثوم کا…
Read the full tafseer →10 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِذَا جَآ ئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُھٰجِرٰتٍ (اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں دارالحرب سے ہجرت کر کے آئیں) ان کو مومنہ کہا کیونکہ وہ زبان سے اقرار شہادت کرنے والیاں ہیں۔ نمبر 2۔ وہ امتحان کے ذریعہ ثبات ایمان کو جھانکنے والی ہیں اس لئے ان کو مومنہ کہہ دیا گیا۔ نحو : یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
امتحان کا مطلب :
فَامْتَحِنُوْھُنَّ (پس تم ان کی جانچ کرلیا کرو) علامات پر نگاہ ڈال کر ان کا امتحان لو۔ تاکہ ان کے ایمان کی سچائی کا تمہیں غالب گمان ہوجائے۔
قول ابن عباس ؓ :
اس کا امتحان یہ ہے کہ تم کہو تو شہادتین کا اقرار کر۔ اَللّٰہُ اَعْلَمُ…
Read the full tafseer →9 ۔” انما ینھا کم اللہ عن الذین قاتلو کم فی الدین واخرجوکم من دیارکم وظاھروا علی اخراجکم “ اور وہ مشرکین مکہ ہیں۔ ” ان تولوھم ومن یتولھم فاولئک ھم الظالمون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10۔ 11۔ صلح حدیبیہ کے زمانہ سے مکہ کے لوگوں کی آمد و رفت مدینہ کو جاری ہوگئی تھی اس آمد و رفت میں بعض عورتیں اپنے آپ کو مہاجر بتاتی تھیں لیکن مسلمانوں کو یہ شبہ رہتا تھا کہ معلوم نہیں ان عورتوں کا بیان کہاں تک صحیح ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ان عورتوں کے امتحان لینے کا حکم نازل فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ آدمی کے دل کا حال تو اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن اس امتحان کے بعد ان عورتوں کو مسلمان مہاجر سمجھا جائے۔ صحیح 1 ؎ سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق اس امتحان کا طریقہ یہ تھا کہ اس طرح کی عورتوں سے ان کے بیان کی تصدیق ان کو قسم دے کر کی جاتی تھی۔ حدیبیہ کے صلح نامہ میں اگرچہ…
Read the full tafseer →صلح حدیبیہ میں جب رسول اللہ نے مشرکین مکہ کے ساتھ اس شرط پر معاہدہ کیا کہ کفار میں سے جو کوئی مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آئے تو وہ مشرکین کو واپس کردیا جائے گا یہ عام اور مطلق لفظ تھا جس کے عموم میں مرد اور عورت سب شامل ہیں مردوں کو اللہ تعالیٰ نے ایفائے شرط اور معاہدہ صلح کو پورا کرنے کے لیے کفار کی طرف واپس لوٹانے سے اپنے رسول کو منع نہیں کیا جو سب سے بڑی مصلحت تھی۔
رہی عورتیں تو چن کہ ان کے واپس لوٹانے میں بہت سے مفاسد تھے اس لیے اللہ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کرکے ان کے پاس آئیں اور ان کو ان عورتوں کے ایمان کی صداقت میں شک ہو، تو سخت قسم وغیرہ کے ذریعے سے ان کی اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
مشرک کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
قول باری ہے (لا ینھا کم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین۔ اللہ تمہیں ان لوگوں سے (حسن سلوک اور انصاف کرنے سے ) نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے) تا آخر آیت
ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے حضور ﷺ سے پوچھا تھا کہ ان کی ایک مشرک ماں ہے جو ان کے پاس آئی ہوئی ہے، آیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں ؟ حضور ﷺ نے اس کا جواب اثبات میں دیا تھا اور فرمایا تھا کہ اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان لوگوں سے حسن سلوک اور انصاف کرنے سے (نہیں روکتا) ) اہل ذمہ…
Read the full tafseer →[ 29] مہاجر عورتوں کے بارے میں تحقیق حال کا حکم و ارشاد :
سو اس سے ہجرت کرکے آنے والی عورتوں کے بارے میں تحقیق حال کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے، تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ واقعی یہ دل و جان سے مومن ہیں یا صرف ظاہری طور پر ایمان کا دعویٰ کرتی ہیں، اور محض وقتی مصالح و مفادات کی بنا پر ایسا کہتی ہیں اور انہوں نے جو ہجرت کی ہے وہ محض اللہ و رسول کے لئے، اور اس نے دین کی خاطر کی ہے یا اس کے پیچھے والی غرض کار فرما ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ ایسی ہر عورت سے قسم دے کر پوچھتے کہ کیا اس نے کہیں اپنے شوہر سے ناراضگی کی بناء پر تو ہجرت نہیں کی ؟ یا محض کسی جگہ سے تنگ ہوکر، یا کسی دوسری جگہ کو پسند کرنے کی بناء پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
اسلام امن کا مذہب ہے، عورتوں کے خاص معاملات
تشریح : پچھلی آیات میں جو غیر مسلموں سے دوستی اور اعتبار سے منع کیا گیا ہے تو خاص حالات میں، یعنی جنگ کے حالات میں کیونکہ، دشمن کو کبھی بھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے،۔ مخالفین اکثر مسلمان کو دہشت گرد کہتے ہیں تو ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں دہشت گردی کو کبھی پسند نہیں کیا بلکہ اسلام تو نام ہی امن و سلامتی کا ہے۔ ہماری تاریخ اور نبی اکرم ﷺ کی زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ آپ ﷺ نے صبر سے کفار کی سختیاں برداشت کیں اور پھر چپکے سے ہجرت کر گئے پھر جنگ بدر، احد اور حنین۔ تینوں دفاعی جنگیں تھیں۔ معاہدہ حدیبیہ مکمل طور پر صلح و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
آیات 7 تا 13۔
اسرار ومعارف۔
اللہ قادر ہے کہ وہ تمہارے دشمنوں یعنی کافروں میں سے بھی تمہارے دوست پیدا کردے یعنی بعض کو ایمان نصیب ہوجائے کہ اللہ بہت بڑابخشنے والامہربان ہے۔
کافر سے تعلقات کی نوعیت۔
لیکن اگر وہ مسلمان نہ بھی ہوں تو جن کفار سے اندیشہ نہ ہو کہ مسلمانوں یا اسلام کو نقصان پہنچے گا جو تمہارے خلاف جنگ میں کسی بھی طرح سے شریک نہ ہوں اور مسلمانوں کے گھراجاڑنے اور انہیں گھروں سے نکل جانے پر مجبور کرنے میں ان کا حصہ نہ ہو ان سے حسن سلوک کیا کرو اور مسلمانوں کی فلاحی ریاست کے فلاحی امور سے وہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں نیز سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی انہیں آزما لو کہ وہ حقیقت میں مسلمان ہیں بھی کہ نہیں ؟ مسور بن محزمہ مروان بن حکم سے راوی ہے کہ جب حدیبیہ کے روز آنحضرت کا قریش سے معاہدہ ہوا تو کچھ مسلمان عورتیں آپ کے پاس چلی آئیں انہی کے بارے میں آیت نازل ہوئی (شوکانی)2 یعنی اللہ تعالیٰ کو تو معلوم ہے کہ وہ ایماندار ہیں یا نہیں لیکن تمہیں چونکہ حقیقت حال نہیں ہے اس لئے ان عورتوں کو آزمائے بغیر اپنے ہاں پناہ نہ دو شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” طاہر میں ان کا جانچنا یہ کہ اگلی آیت میں جو حکم ہیں یہ قبول کریں۔ “3 اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان عورت کا نکاح کافر ( مرد سے نہیں ہوسکتا اور کافر کی بیوی مسلمان ہوجائے تو اس سے کے شوہر سے جا کردیا اور…
Read the full tafseer →(60:10) اذا : جب ظرف زمان ہے یہاں پر شرط کے معنی کے لئے آیا ہے۔
مھجرت۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث مھاجرۃ (مفاعلہ) مصدر ہے۔ ہجرت کرنے والیاں۔ یہ المؤمنت سے حال ہے یعنی بحالت ہجرت یا مہاجر ہو کہ آئیں ۔
فامتحنوھن :جواب شرط کا۔ امتحنوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر امتحان (افتعال) مصدر۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ تو ان کا امتحان کرلو۔
اللہ اعلم بایمانھن جملہ معترضہ ہے اعلم افعل التفضیل کا صیغہ علم۔ سے۔ خوب جاننے والا۔ بہتر جاننے والا۔ ب تعدیہ کے لئے ہے۔ ایمانھن مضاف ، مضاف الیہ۔ (اللہ ان کے ایمان کو بہتر جانتا ہے) ۔
فان :تعقیب کے لئے ہے ان شرطیہ ہے۔ پھر اگر۔
علمتموھن۔ علمتم ماضی جمع مذکر حاضر۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
لغات القرآن۔ مجھرات۔ ہجرت کرنے والیاں۔ امتحنوا۔ تم آزمالو۔ جانچ لو۔ اجور۔ اجر۔ بدلہ ۔ مہر۔ لا تمسکوا۔ تم نہ روکو۔ تم تعلق قائم نہ کرو۔ عصم۔ تعلقات نکاح۔
تشریح : ان آیات کو سمجھنے کے لئے بنیادی طور پر ان کے پس منظر پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اصل میں صلح حدیبیہ میں جو شرائط طے کی گئی تھیں ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی شخص مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئے گا تو اس کو واپس کردیا جائے گا اس کے برخلاف اگر کوئی مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو کفار قریش اس کو واپس کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جس میں بظاہر عورتیں اور مردو دونوں شامل تھے لیکن پے در پے کچھ ایسے واقعات پیش آئے جن…
Read the full tafseer →مہاجرین عورتوں کے امتحان لینے کا ذکر۔
(ف 1) صلح حدیبیہ کے زمانہ سے مکہ کے لوگوں کی آمدورفت مدینہ کو جاری ہوگئی تھی اس آمد ورفت میں بعض عورتیں اپنے آپ کو مہاجر بتلاتی تھیں لیکن مسلمانوں کو یہ شبہ رہتا تھا کہ معلوم نہیں کہ ان عورتوں کا بیان کہاں تک صحیح ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ان عورتوں کا امتحان لینے کا حکم نازل فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ آدمی کے دل کا حال اللہ ہی کو معلوم ہے، لیکن اس امتحان کے بعد ان عورتوں کو مسلمان مہاجر سمجھاجائے ، صحیح سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق اس امتحان کا طریقہ یہ تھا کہ اس طرح کی عورتوں سے انکے بیان کی تصدیق ان کو قسم دی جاکر کی جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
[8] صلح حدیبیہ کے بعد جو مسلمان مرد مکہ سے بھاگ کر مدینے آتے تھے تو معاہدے کی رو سے انہیں واپس کرنا پڑتا تھا۔ لیکن پھر کئی مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو کفار مکہ نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔
[9] یعنی وہ مسلمان ہو کر کافر شوہروں کی زوجیت سے خارج ہوگئیں اور ان کے نکاح خودبخود ٹوٹ گئے۔
[10] یعنی جو مہر کافروں نے دئیے تھے وہ ان کو واپس کردو۔
[11] یعنی اب جو مسلمان بھی ان میں سے کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے وہ اس کا مہر ادا کرے اور اس سے نکاح کرے۔ یہ ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا کہ اب اس سے نکاح کرنے والا مسلمان یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ابھی ایک مہر تو اس کے کافر شوہر کو واپس کیا…
Read the full tafseer →عورتوں کے متعلق چند ضروری احکام
1: ایک مغنیہ عورت سارہ کی وجہ سے چو کہ حاطب بن ابی طبقہ والی سازش بروئے کار آئی تھی ۔ اور خطرہ تھا ۔ کہ اسی طرح دوسری عورتیں داد الاسلام میں آکر کہیں جاسوسی کے فرائض انجام نہ دیں ۔ اس لئے یہ آیات نازل ہوئیں ۔ کہ جب بظاہر مومن عورتیں مدینہ ہجرت کرکے آئیں ۔ تو انہیں خوب اچھی طرح جانچ لینا چاہیے ۔ کہ ان کی آمد کا مقصد کیا ہے ۔ کیا وہ اپنے خاوند سے روٹھ کر آئی ہیں یا مدینہ کی زیارت کا شوق انکو کھینچ لایا ہے ۔ یا کوئی اور جذبہ ہے ۔ جن سے ان کو یہاں آنے پر مجبور کردیا گیا ہے ۔ جب تک یہ صاف طور پر حلفیہ نہ کہہ دیں ۔ کہ ہم محض اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں یہاں آئی…
Read the full tafseer →(10) اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں دارالحرب سے ہجرت کرکے آجائیں تو ان کے ایمان کو پرکھ لیا کرو اور ان کے ایمان کا امتحان لے لیا کرو یعنی یہ معلوم کرلیا کرو کہ انہوں نے صرف ایمان کی خاطر ہجرت کی ہے یا کسی کے عشق میں مبتلا ہو کر آئی ہیں یا خاوند سے دنیوی معاملات میں ناراض ہوکر چلی آئی ہیں یوں تو ان کے ایمان کو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے گھر اگر تم واقعی ان کو مسلمان سمجھو تو ان کو کافروں کی طرف واپس مت کرو کیونکہ نہ تو وہ مسلمان ہجرت کرنے والی عورتیں ان کافروں کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان عورتوں کے لئے حلال ہے۔
یعنی یہ مہاجر عورتیں نے اپنے کافر خاوندوں کے لئے حلال ہیں اور نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 6۔ یعنی اس امتحان میں ظاہری ایمان پر اکتفا کیا کرو کیونکہ ان کے حقیقی ایمان کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے، تم کو تحقیق ہو ہی نہیں سکتا۔
1۔ یعنی جو تمہاری بیبیاں دارالحرب میں کفر کی حالت میں رہ گئیں ان کا نکاح تم سے زائل ہوگیا۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کو مہاجرات کا امتحان کرنے اور آزمائش کے بعد روکنے کی ہدایت
10 ؎ صلح حدیبیہ کی شرطوں میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ قریش کا جو آدمی اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس جائے گا محمد رسول اللہ ﷺ اس کو واپس کردیں گے ۔ صلح پر دستخط ہوچکے تھے کہ ابو جندل مکہ سے بھاگ کر حدیبیہ کے مقام پر پہنچ گیا لیکن رسول اللہ ﷺ نے ایک معاہدہ طے پا جانے کے بعد مجبوری کے باعث پرنم آنکھوں سے ابو جندل کو واپس کردیا لیکن اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا دی اور اس طرح ابو بصیر کے ساتھ بھی ہوا جس شرط کا اوپر ذکر کیا ہے ۔ اس کے الفاظ یہ تھے کہ : علی ان لا یاتیک منارجل وان کان علی دینک الا رددتہ…
Read the full tafseer →Commentary
Cause of Revelation
Peace Treaty of Hudaibiyah and an Analysis of some of its Clauses
These verses are related to the event of the treaty of Hudaibiyah which was discussed at legnth in Surah Al-Fath. After protracted negotiation, a treaty was concluded between the Quraish of Makkah and the Messenger of Allah ﷺ for ten years. Some of the terms of the treaty were accepted only under pressure and the Muslims apparently felt subdued and thus were greatly disturbed. Therefore, the noble Companions expressed extreme grief and indignation but the Messenger of Allah ﷺ was working under…
Read the full tafseer →14 The background of this injunction is that after the peace treaty of Hudaibiyah, in the beginning, the Muslim men started fleeing Makkah and arriving at Madinah and they were sent back according to the terms of the treaty. Then the Muslim women started arriving and, first of all, Umm Kulthum Uqbah bin Abi Mu'ait emigrated to Madinah, The disbelievers invoked the treaty and demanded return, ands two brothers of Umm Kulthum, Walid bin `Uqbah and 'Amarah bin `Uqbah, came to Madinah to take her back. At this the question arose whether the treaty of Hudaibiyah applied to the women as well. Allah…
Read the full tafseer →