Al-Mumtahana 60:10

Al-Mumtahana · from ayah 10

60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ ؕ— اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ ۚ— فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَی الْكُفَّارِ ؕ— لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ ؕ— وَاٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا ؕ— وَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ ؕ— وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَسْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَلْیَسْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا ؕ— ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ ؕ— یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ ؕ— وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ۟يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا جَآءَكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامۡتَحِنُوۡهُنَّ‌ ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِاِيۡمَانِهِنَّ‌ ۚ فَاِنۡ عَلِمۡتُمُوۡهُنَّ مُؤۡمِنٰتٍ فَلَا تَرۡجِعُوۡهُنَّ اِلَى الۡكُفَّارِ‌ ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّوۡنَ لَهُنَّ‌ ۚ وَاٰ تُوۡهُمۡ مَّاۤ اَنۡفَقُوۡا‌ ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ تَنۡكِحُوۡهُنَّ اِذَاۤ اٰ تَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ‌ ؕ وَلَا تُمۡسِكُوۡا بِعِصَمِ الۡكَوَافِرِ وَسۡـئَـلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ وَلۡيَسۡـئَـلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقُوۡا‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ حُكۡمُ اللّٰهِ‌ ؕ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ

مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔ (اور) خدا تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو۔ کہ نہ یہ ان کو حلال ہیں اور نہ وہ ان کو جائز۔ اور جو کچھ انہوں نے (ان پر) خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو۔ اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو (یعنی کفار کو واپس دے دو) اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہو تم ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے (اپنی عورتوں پر) خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں۔ یہ خدا کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کئے دیتا ہے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, when the believing women come to you as emigrants, examine them. Allah is most knowing as to their faith. And if you know them to be believers, then do not return them to the disbelievers; they are not lawful [wives] for them, nor are they lawful [husbands] for them. But give the disbelievers what they have spent. And there is no blame upon you if you marry them when you have given them their due compensation. And hold not to marriage bonds with disbelieving women, but ask for what you have spent and let them ask for what they have spent. That is the judgement of Allah; He judges between you. And Allah is Knowing and Wise.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mumtahana

All translations of 60:10

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو (ان کے مومن ہونے کی) جانچ پڑتال کر لو، اور ان کے ایمان کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے پھر جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لیے حلال ان کے کافر شوہروں نے جو مہر اُن کو دیے تھے وہ انہیں پھیر دو اور ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ تم اُن کے مہر اُن کو ادا کر دو اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیے تھے وہ تم واپس مانگ لو اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔ (اور) خدا تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو۔ کہ نہ یہ ان کو حلال ہیں اور نہ وہ ان کو جائز۔ اور جو کچھ انہوں نے (ان پر) خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو۔ اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو (یعنی کفار کو واپس دے دو) اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہو تم ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے (اپنی عورتوں پر) خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں۔ یہ خدا کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کئے دیتا ہے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو تم ان کا امتحان لو۔ دراصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے واﻻ تو اللہ ہی ہے لیکن اگر وه تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو اب تم انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو، یہ ان کے لیے حلال نہیں اور نہ وه ان کے لیے حلال ہیں، اور جو خرچ ان کافروں کا ہوا ہو وه انہیں ادا کردو، ان عورتوں کو ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناه نہیں اور کافر عورتوں کی ناموس اپنے قبضہ میں نہ رکھو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو، مانگ لو اور جو کچھ ان کافروں نے خرچ کیا ہو وه بھی مانگ لیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو تمہارے درمیان کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ بڑے علم (اور) حکمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کو جانچ لیا کرو۔ اللہ ہی ان کے ایمان کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ مومن عورتیں ہیں تو تم انہیں کافروں کے پاس واپس نہ بھیجنا۔ وہ ان کافروں کے لیے حلال نہیں ہیں، اور وہ کافر ان کے لیے حلال نہیں ہیں۔ اور ان کافروں نے جو کچھ (ان عورتوں پر مہر کی صورت میں) خرچ کیا ہو، وہ انہیں ادا کرو۔ اور تم پر ان عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے، جب تک کہ تم نے ان کے مہر ادا نہیں کردیے ہوں۔ اور تم کافر عورتوں کی عصمتیں اپنے قبضے میں باقی نہ رکھو، اور جو کچھ تم نے (ان کافر بیویوں پر مہر کی صورت میں) خرچ کیا تھا، وہ تم (ان کے نئے شوہروں سے) مانگ لو۔ اور انہوں نے جو کچھ (اپنی مسلمان ہوجانے والی بیویوں پر) خرچ کیا تھا، وہ (ان کے نئے مسلمان شوہروں سے) مانگ لیں۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے، وہی تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے، اور اللہ بڑے علم والا، بڑی حکمت والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں کفرستان سے اپنے گھر چھوڑ کر آئیں تو ان کا امتحان کرو اللہ ان کے ایمان کا حال بہتر جانتا ہے، پھر اگر تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو انہیں کافروں کو واپس نہ دو، نہ یہ انہیں حلال نہ وہ انہیں حلال اور ان کے کافر شوہروں کو دے دو جو ان کا خرچ ہوا اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کرلو جب ان کے مہر انہیں دو اور کافرنیوں کے نکاح پر جمے نہ رہو اور مانگ لو جو تمہارا خرچ ہوا اور کافر مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تم میں فیصلہ فرماتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو انہیں اچھی طرح جانچ لیا کرو، اللہ اُن کے ایمان (کی حقیقت) سے خوب آگاہ ہے، پھر اگر تمہیں اُن کے مومن ہونے کا یقین ہو جائے تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ بھیجو، نہ یہ (مومنات) اُن (کافروں) کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ (کفّار) اِن (مومن عورتوں) کے لئے حلال ہیں، اور اُن (کافروں) نے جو (مال بصورتِ مَہر اِن پر) خرچ کیا ہو وہ اُن کو ادا کر دو، اور تم پر اس (بات) میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اِن سے نکاح کر لو جبکہ تم اُن (عورتوں) کا مَہر انہیں ادا کر دو، اور (اے مسلمانو!) تم بھی کافر عورتوں کو (اپنے) عقدِ نکاح میں نہ روکے رکھو اور تم (کفّار سے) وہ (مال) طلب کر لو جو تم نے (اُن عورتوں پر بصورتِ مَہر) خرچ کیا تھا اور وہ (کفّار تم سے) وہ (مال) مانگ لیں جو انہوں نے (اِن عورتوں پر بصورتِ مَہر) خرچ کیا تھا، یہی اللہ کا حکم ہے، اور وہ تمہارے درمیان فیصلہ فرما رہا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کی جانچ پڑتال کرو، اللہ ان کے ایمان کو زیادہ جاننے والا ہے۔ پھر اگر تم جان لو کہ وہ مومن ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس نہ کرو، نہ یہ عورتیں ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہوں گے۔ اور انھیں دے دو جو انھوں نے خرچ کیا ہے اور تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کرلو، جب انھیں ان کے مہر دے دو۔ اور کافر عورتوں کی عصمتیں روک کر نہ رکھو اور تم مانگ لو جو تم نے خرچ کیا ہے اور وہ (کفار) مانگ لیں جو انھوں نے خرچ کیا ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو ان کی جانچ پڑتال کرلیا کرو۔ اللہ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ پھر اگر تمہیں یہ معلوم ہو کہ وہ (فی الواقع) مومن ہیں تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو۔ ایسی عورتیں ان (کافروں) کے لئے حلال نہیں اور نہ ہی وہ ان عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ اور کافروں نے جو کچھ (ایسی مومن عورتوں پر) خرچ کیا ہو انہیں دے دو۔ اور ان سے نکاح کرلینے میں تم پر کچھ گناہ نہیں جبکہ تم انہیں ان کے حق مہر ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ رکھو۔ اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہے وہ ان (کافروں) سے مانگ لو۔ اور جو مہر کافروں نے اپنی (مسلمان) بیویوں کو دیئے تھے وہ ان (مسلمانوں) سے مانگ لیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے، دانا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

(اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کی تحقیق کرو، یوں اللہ تو انکے ایمان سے اچھی طرح واقف ہی ہے، پس اگر تم ان کو مومنہ پائو تو ان کو کفار کی طرف نہ لوٹائو، نہ وہ عورتیں ان کے لیے جائز ہیں اور نہ وہ ان عورتوں کے لیے جائز ہیں اور انہوں نے جو کچھ خرچ کیا ہو وہ ان ان کو ادا کر دو اور تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ ان کے مہران کو ادا کرو اور کافرہ عورتوں کی عصمتوں پر قابض نہ رہو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا اس کا مطالبہ کرو اور وہ بھی مطالبہ کریں اس کا جو انہوں نے خرچ کیا ہے یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو وہ تمہارے درمیان کر رہا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو جب مومن عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو تم ان کی جانچ پڑتال کرلیا کرو اللہ تو خوب جانتا ہے ان کے ایمان (کی حقیقت) کو (پر تمہیں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے) پس اگر تمہیں وہ مومن معلوم ہوں تو تم انہیں کفار کی طرف واپس نہیں کرنا (کیونکہ) نہ تو یہ عورتیں ان (کفار) کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لئے حلال ہیں البتہ ان کے شوہروں نے جو کچھ (ان کے مہر وغیرہ میں) خرچ کیا ہو وہ تم ان کو دے دو اور ان سے نکاح کرلینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کو ان کے مہر دے دیا کرو اور تم خود بھی کافر عورتوں کی عصمتوں کو اپنے قبضے میں نہ رکھو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو وہ (ان کافروں سے) مانگ لیا کرو اور جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہو وہ ان کو مانگ لینا چاہیے یہ اللہ کا حکم ہے وہ خود تمہارے درمیان فیصلہ فرماتا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا بڑا ہی حکمت والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو ان کا امتحان کرلیا کرو اللہ ان کے ایمان سے خوب واقف ہے۔ پس اگر انہیں مسلمان سمجھ لو تو انہیں کافروں کی طرف مت واپس کرو وہ عورتیں ان (کافروں) کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لئے حلال ہیں۔ اور ان (کافروں) کو وہ ادا کردو جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہے۔ اور تم کو ان عورتوں سے نکاح کرنے میں کچھ گناہ نہیں تم ان کے مہر ان کے حوالہ کردو اور تم کافر عورتوں کے تعلقات کو مت باقی رکھو۔ اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہے وہ ان (کافروں سے) طلب کرلو اور جو کچھ ان کافروں نے خرچ کیا ہے وہ تم سے مانگ لیں یہ اللہ کا حکم ہے وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ِایمان ! جب تمہارے پاس آئیں مومن خواتین ہجرت کر کے تو ان کا امتحان لے لیا کرو اللہ تو ان کے ایمان کے بارے میں بہت اچھی طرح جانتا ہے۔ پھر اگر تم جان لو کہ وہ واقعی مومنات ہیں تو انہیں کفار کی طرف مت لوٹائو۔ نہ اب یہ ان (کافروں) کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ ان کے لیے حلال ہیں اور ان (کافروں) کو ادا کر دو جو کچھ انہوں نے خرچ کیا تھا۔ اور (اے مسلمانو !) تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم ان خواتین سے نکاح کرلو جبکہ تم انہیں ان کے مہر ادا کر دو۔ اور تم مانگ لو وہ مال جو تم نے (بطورِ مہر) خرچ کیا ہے اور وہ (کافر) بھی مانگ لیں جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے وہ تمہارے مابین فیصلہ کر رہا ہے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مومنو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔ اور اللہ تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو کہ نہ یہ ان کو حلال ہے اور نہ وہ ان کو جائز اور جو کچھ انہوں نے ان پر خرچ کیا ہو وہ ان کو دیدو اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو۔ اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضہ میں نہ رکھو (کفار کو واپس دے دو) اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہو ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے اپنی عورتوں پر خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں یہ اللہ کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کیے دیتا ہے۔ اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers, when believing women come to you as Emigrants (in the cause of faith), examine them. Allah fully knows (the truth) concerning their faith. And when you have ascertained them to be believing women, do not send them back to the unbelievers. Those women are no longer lawful to the unbelievers, nor are those unbelievers lawful to those (believing) women. Give their unbelieving husbands whatever they have spent (as bridal-dues); and there is no offence for you to marry those women if you give them their bridal-dues. Do not hold on to your marriages with unbelieving women: ask for the return of the bridal-due you gave to your unbelieving wives and the unbelievers may ask for the return of the bridal-due they had given to their believing wives. Such is Allah's command. He judges between you. Allah is All-Knowing, Most Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, when the believing women come to you as emigrants, put them to a test. Allah knows best about their faith. So, if you find them faithful, do not send them back to the disbelievers. 3 Neither these (women) are lawful for them, nor are those (disbelievers) lawful for these (women) . And give them (the disbelievers) that (dower) which they had paid (to these women) . And there is no sin for you if you marry them, when you give them their dowers. And do not hold on to the ties of marriage with the disbelieving women, and ask (their new Non-Muslim husbands to pay to you) that (dower) which you had paid (to your previous wives) , and they (the previous Non-Muslim husbands of the Muslim women) should ask (their new Muslim husbands) to pay that (dower) which they had paid (to their previous wives) . That is the decision of Allah. He decides between you. And Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, when the believing women come to you as emigrants, put them to a test. Allah knows best about their faith. So, if you find them faithful, do not send them back to the disbelievers. 3 Neither these (women) are lawful for them, nor are those (disbelievers) lawful for these (women) . And give them (the disbelievers) that (dower) which they had paid (to these women) . And there is no sin for you if you marry them, when you give them their dowers. And do not hold on to the ties of marriage with the disbelieving women, and ask (their new Non-Muslim husbands to pay to you) that (dower) which you had paid (to your previous wives) , and they (the previous Non-Muslim husbands of the Muslim women) should ask (their new Muslim husbands) to pay that (dower) which they had paid (to their previous wives) . That is the decision of Allah. He decides between you. And Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! When believing women come to you as emigrants, examine them; Allah knows best as to their faith, then if you ascertain that they are true believers, send them not back to the disbelievers. They are not lawful for the disbelievers nor are the disbelievers lawful for them. But give them (disbelievers) that which they have spent (on their dowery). And there will be no sin on you to marry them if you have paid their due to them. Likewise do not keep the disbelieving women, and ask for that which you have spent (on their dowery) and let them (the disbelievers) ask for that which they have spent. That is the judgement of Allah, He judges between you. And Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! When believing women come unto you as fugitives, examine them. Allah is Best Aware of their faith. Then, if ye know them for true believers, send them not back unto the disbelievers. They are not lawful for them (the disbelievers), nor are they (the disbelievers) lawful for them. And give them (the disbelievers) that which they have spent (upon them). And it is no sin for you to marry such women when ye have given them their dues. And hold not to the ties of disbelieving women; and ask for (the return of) that which ye have spent; and let them (the disbelievers) ask for that which they have spent. That is the judgment of Allah. He judgeth between you. Allah is Knower, Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, when the believing women come to you as emigrants, examine them. Allah is most knowing as to their faith. And if you know them to be believers, then do not return them to the disbelievers; they are not lawful [wives] for them, nor are they lawful [husbands] for them. But give the disbelievers what they have spent. And there is no blame upon you if you marry them when you have given them their due compensation. And hold not to marriage bonds with disbelieving women, but ask for what you have spent and let them ask for what they have spent. That is the judgement of Allah; He judges between you. And Allah is Knowing and Wise.

— Saheeh International

Believers, when believing immigrant women come to you, test them. God knows best about their faith. If you know that they are believers, do not return them to the disbelievers. Such women are not lawful for them and disbelievers are not lawful for such women. Give the disbelievers whatever they have spent (on such women for their dowry). There is no offense for you to marry them if you agree to give them their dowry. Do not hold unto your disbelieving wives; you may get back what you have spent on them for their dowry and the disbelievers may also ask for what they have spent. This is the command of God by which He judges you. God is All-knowing and All-wise.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! when believing women come to you flying, then examine them; Allah knows best their faith; then if you find them to be believing women, do not send them back to the unbelievers, neither are these (women) lawful for them, nor are those (men) lawful for them, and give them what they have spent; and no blame attaches to you in marrying them when you give them their dowries; and hold not to the ties of marriage of unbelieving women, and ask for what you have spent, and let them ask for what they have spent. That is Allah's judgment; He judges between you, and Allah is Knowing, Wise.

— Muhammad Habib Shakir

O ye who believe! when believing women come Unto you as emigrants examine them. Allah is the best Knower of their faith. Then if ye know them to be true believers, send them not back Unto the infidels; they are not lawful Unto them, nor are they lawful Unto them. And give them that which they have expended. Nor is it any crime in you if ye marry them when ye have given their hires. And hold not to the ties of the infidel women, and ask back that which ye have expended, and let them ask back that which they have expended. That is the judgment of Allah; He judgeth between you, And Allah is Knowing, Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! When there come to you believing women refugees, examine (and test) them: Allah knows best as to their Faith: if ye ascertain that they are Believers, then send them not back to the Unbelievers. They are not lawful (wives) for the Unbelievers, nor are the (Unbelievers) lawful (husbands) for them. But pay the Unbelievers what they have spent (on their dower), and there will be no blame on you if ye marry them on payment of their dower to them. But hold not to the guardianship of unbelieving women: ask for what ye have spent on their dowers, and let the (Unbelievers) ask for what they have spent (on the dowers of women who come over to you). Such is the command of Allah: He judges (with justice) between you. And Allah is Full of Knowledge and Wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 60:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–11

صلح حدیبیہ کا ایک پہلو سورة فتح کی تفسیر میں صلح حدیبیہ کا واقعہ مفصل بیان ہوچکا ہے، اس صلح کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ اور کفار قریش کے درمیان جو شرائط ہوئی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ جو کافر مسلمان ہو کر حضور ﷺ کے پاس چلا جائے آپ اسے اہل مکہ کو واپس کردیں، لیکن قرآن کریم نے ان میں سے ان عورتوں کو مخصوص کردیا کہ جو عورت ایمان قبول کر کے آئے اور فی الواقع ہو بھی وہ سچی ایمان دار تو مسلمان اسے کافروں کو واپس نہ دیں، حدیث شریف کی تخصیص قرآن کریم سے ہونے کی یہ ایک بہترین مثال ہے اور بعض سلف کے نزدیک یہ آیت اس حدیث کی ناسخ ہے۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابو میط ؓ مسلمان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُمْتَحِنَة 14 اس حکم کا پس منظر یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد اول اول تو مسلمان مرد مکہ سے بھاگ بھاگ کر مدینہ آتے رہے اور انہیں معاہدے کی شرائط کے مطابق واپس کیا جاتا رہا۔ پھر مسلمان عورتوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور سب سے پہلے ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ہجرت کر کے مدینے پہنچیں۔ کفار نے معاہدے کا حوالہ دے کر ان کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا اور ام کلثوم کے دو بھائی ولید بن عقبہ اور عمارہ بن عقبہ انہیں واپس لے جانے کے لیے مدینے پہنچ گئے۔ اس وقت یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر وہ مسلمان ہوں اور یہ اطمینان کرلیا جائے کہ واقعی وہ ایمان ہی کی خاطر ہجرت کر کے آئی ہیں، کوئی اور چیز انہیں نہیں لائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر سبب نزول کا واقعہ (یہ آیتیں بھی ایک خاص موقع کے متعلق ہیں اور وہ موقع صلح حدیبیہ کا ہے، جس کا بیان آغاز سورة فتح میں ہوا ہے، منجملہ ان شرطوں کے جو صلح نامہ میں لکھی گئی تھیں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو شخص مسلمانوں میں سے کافروں کی طرف چلا جاوے وہ واپس نہ دیا جاوے اور جو شخص کافروں میں سے مسلمانوں کی طرف چلا جاوے وہ واپس دے دیاجاوے، چناچہ بعض مسلمان مرد آئے اور واپس کردیئے گئے پھر بعضی عورتیں مسلمان ہو کر آئیں، ان کے اقارب نے ان کی واپسی کی درخواست کی، اس پر یہ آیتیں حدیبیہ میں نازل ہوئیں، جس میں عورتوں کے واپس کرنے کی ممانعت کی گئی، پس عموم مضمون صلح نامہ کا اس مخصوص اور منسوخ ہوگیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

4۔ آگے آیات۔ 10۔ 13 کا مضمون آگے اسی (لا تتخذ واعدوی وعدو کم اولیاء) والی ہدایت کی روشنی میں جو پہلی آیت میں مذکور ہوئی پہلے مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ مکہ سے جو عورتیں ہجرت کر کے آئیں۔ ان کے ایمان و اسلام کی تحقیق کی جائے، مجرد اس بنیاد پر ان کو اپنے اندر شامل نہ کرلیا جائے کہ وہ ان کے پاس آگئی ہیں اور ان کے اندر شامل ہونا چاہتی ہیں۔ ہاں تحقیق سے ثابت ہوجائے کہ ان کی ہجرت فی الواقع دین ہی کی خاطر ہے تب ان کو شامل کیا جائے ورنہ واپس کردیا جائے۔ اسی طرح مہاجرین میں سے جن کی بیویاں مکہ میں ہیں اور وہ کافر ہیں ان کو اپنے عقد نکاح میں باندھے رکھنا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے بلکہ ان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 معاہدہ حدیبیہ میں ایک شق یہ تھی کہ مکہ سے کوئی مسلمانوں کے پاس چلا جائے گا تو اس کو واپس کرنا پڑے گا لیکن اس میں مرد و عورت کی صراحت نہیں تھی بظاہر کوئی احد میں دونوں ہی شامل تھے چناچہ بعد میں بعض عورتیں مکہ سے ہجرت کرکے مسلمانوں کے پاس چلی گئیں تو کفار نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا جس پر اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی اور یہ حکم دیا امتحان لینے کا مطلب ہے اس امر کی تحقیق کرو کہ ہجرت کر کے آنے والی عورت جو ایمان کا اظہار کر رہی ہے اپنے کافر خاوند سے ناراض ہو کر یا کسی مسلمان کے عشق میں یا کسی اور غرض سے تو نہیں آئی ہے اور صرف یہاں پناہ لینے کی خاطر ایمان کا دعوی کر رہی ہے۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

5: اس آیت نے یہ واضح حکم عطا فرما دیا کہ کوئی مسلمان عورت کسی بھی غیر مسلم کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ اگر کسی غیر مسلم کی بیوی مسلمان ہوجائے تو اس کے شوہر کو بھی اسلام لانے کی پیشکش کی جائے گی، اگر وہ بھی عورت کی عدت کے دوران اسلام قبول کرلے تو ان کا نکاح باقی رہے گا، لیکن اگر وہ مسلمان نہ ہو، تو اس کی مسلمان بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی، اور عدت کے بعد کسی مسلمان سے نکاح کرسکے گی۔ 6: جو شادی شدہ عورتیں مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آتیں، ان کے شوہروں سے ان کا نکاح ختم ہوجاتا تھا، لیکن چونکہ مکہ مکرمہ کے کافروں سے اس وقت صلح کا معاہدہ تھا، اس لیے ان کو یہ سہولت دی گئی تھی کہ انہوں نے اپنی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–11

اب سیاق سورت کی طرف آتے ہیں۔ اب مومنات مہاجرات کی بات۔ یایھا الذین .................................... بہ مومنون (0 : 11) 06 : 01۔ 11) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب مومن عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو (ان کے مومن ہونے کی) جانچ پڑتال کرلو ، اور ان کے ایمان کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال۔ ان کے کفار شوہروں نے جو مہران کو دیئے تھے وہ انہیں پھیر دو ۔ اور ان سے نکاح کر لنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی دل کا حال تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ لیکن ظاہری طور سے ان عورتوں کی جانچ کرلیا کرو۔ آیا واقعی وہ مسلمان ہیں اور محض اسلام کی خاطر وطن چھوڑ کر آئی ہیں۔ کوئی دنیاوی یا نفسانی غرض تو ہجرت کا سبب نہیں ہوا۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت عمر ؓ ان کا امتحان کرتے تھے۔ اور حضور ﷺ کی طرف سے ان سے بیعت لیتے تھے۔ اور کبھی حضور ﷺ خود بہ نفس نفیس بیعت لیا کرتے تھے جو آگے (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰٓي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ باللّٰهِ شَـيْـــــًٔــا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَآئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ } ”اے اہل ِایمان ! جب تمہارے پاس آئیں مومن خواتین ہجرت کر کے تو ان کا امتحان لے لیا کرو۔“ یعنی ہر خاتون سے ضروری حد تک جانچ پڑتال اور تحقیق و تفتیش کرلیا کرو کہ آیا واقعی وہ سچی اور مخلص مومنہ ہے۔ { اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِہِنَّ } ”اللہ تو ان کے ایمان کے بارے میں بہت اچھی طرح جانتا ہے۔“ کسی کے دل میں ایمان ہے یا نہیں ‘ اور اگر ہے تو کتنا ایمان ہے ‘ اس کا صحیح علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ تم لوگ اپنے طور پر کسی کے ایمان کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتے۔ لیکن محض ایک احتیاطی تدبیر کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 ہجرت کرنے والوں کی تین قسمیں :۔ آیت نمبر دس اور گیارہ میں ایک نہایت اہم معاشرتی مسئلہ کا حل پیش کیا گیا ہے جو آغاز ہجرت سے ہی کئی طرح کی الجھنوں کا باعث بنا ہوا تھا۔ مکہ میں بہت سے ایسے لوگ تھے جو خود تو مسلمان ہوچکے تھے مگر ان کی بیویاں کافر تھیں یا بیویاں مسلمان ہوچکی تھیں تو شوہر کافر تھے۔ ہجرت کرنے سے یہ مسئلہ مزید سنگین بن گیا تھا۔ ہجرت کرنے والوں کی تین قسمیں تھیں۔ (1) میاں بیوی دونوں مسلمان اور ہجرت کرکے مدینہ آگئے :۔ ایک وہ جو دونوں میاں بیوی مسلمان ہوں اور دونوں نے ہجرت کی ہو۔ جیسے سیدنا عثمان ؓ اور ان کی اہلیہ یعنی رسول اللہ کی صاحبزادی۔ ایسے لوگوں کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

15۔ (آیت) ” فامتحنوھن ...... بایمانھن “۔ یہاں مسلمانوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ جب دار الحرب سے ہجرت کرکے بیویاں تمہارے پاس آئیں تو تم اسکی جانچ کرلیا کرو آیا وہ ظاہری اعتبار سے مومن ہیں بھی۔ اور یہ ظاہر کی جانچ پڑتال انتظامی ضرورتوں اور دنیوی مصلحتوں سے ہے، ورنہ عالم الغیب کو کسی جانچ پڑتال کی کیا حاجت اور پھر ایمان حقیقی کو تحقیق تو بندوں کے بس کی چیز ہے بھی نہیں۔ (آیت) ” اذا .... مھجرت “۔ یعنی جب دارالحرب سے یہ بیویاں تمہارے پاس دارالاسلام حکمی یا حقیقی میں آئیں۔ (آیت) ” ال مومنت .... مومنت “۔ سے مراد اس سیاق میں وہ بیویاں ہیں، جو اپنے کو مسلمانہ کہتی تھیں۔ قرآن مجید نے محض ان کے دعوی اسلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

شان نزول : یا یھا الذین امنوا اذا جاء کم المومنت مھاجرات (الآیۃ) یہ آیتیں صلح حدیبیہ کے موقع پر ایک خاص واقعہ کے متعلق نازل ہوئی ہیں اس واقعہ کا بیان سورة فتح کے آغاز میں گذر چکا ہے۔ معاہدہ صلح حدیبیہ کی بعض شرائط کی تحقیق : واقعہ حدیبیہ کی تفصیل سورة فتح میں گذر چکی ہے، جس میں قریش مکہ اور آنحضرت ﷺ کے درمیان ایک معاہدہ صلح دس سال کے لئے لکھا گیا تھا اس معاہدہ کی بعض شرائط ایسی تھیں جن میں دب کر صلح کرنے اور مسلمانوں کی بظاہر مغلوبیت محسوس ہوتی تھی، اسی لئے صحابہ کرام ؓ میں اس پر غم و غصہ کا اظہار ہوا مگر رسول اللہ ﷺ باشارات ربانی یہ محسوس فرما رہے تھے کہ اس وقت کی چند روزہ مغلوبیت بالآخر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا الذین امنوا اذ جاء کم المومنت مھجرات فامتحنوھن اللہ اعلم بایمانھن فان علمتموھن مومنت فلا ترجعوھن الی الکفار لاھن حل لھم ولا ھم یحلون لھن واتوھم انفقوا . ” اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں (دارالحرب سے) ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کی جانچ کرلیا کرو ‘ ان کے ایمان کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ سو اگر (جانچ کرنے کے بعد) تم ان کو مسلمان جانو تو پھر کافروں کی طرف ان کو واپس مت کرو (کیونکہ) نہ وہ عورتیں کافروں کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان مسلمان عورتوں کے لیے حلال ہیں اور کافروں نے (ان عورتوں پر) جو کچھ خرچ کیا ہو (یعنی ان کو دیا ہو) وہ کافروں کو ادا کر دو ۔ فَامْتَحِنُوْھُنَّ : یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے ایمان والو جب تمہارے پاس اللہ کا اقرار کرنے والی عورتیں مکہ سے حدیبیہ یا مدینہ منورہ آجائیں تو تم ان سے دریافت کرو اور قسم لو کہ کیوں آئیں ان کے حقیقی ایمان کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے سو اگر ان کو امتحان کی رو سی مسلمان سمجھو تو پھر ان کو ان کے کافر خاوندوں کی طرف واپس مت کرو نہ تو وہ مسلمان عورتیں ان کافروں کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان عورتوں کے لیے حلال ہیں یا یہ کہ نہ کوئی مسلمان عورت کسی کافر کے لیے اور نہ کافر وہ عورت کسی مومن کے لیے حلال ہے اور ان کے خاوندوں نے جو مہر کی نسبت ان پر خرچ کیا ہے وہ ان کو ادا کردو۔ یہ آیت حضرت سبیعہ بنت حارث اسلمیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ حدیبیہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَآئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ۔۔۔۔۔: ان آیات میں مشرکین سے قطع تعلق کی وجہ سے پیش آنے والے کئی معاملات کا حکم بیان فرمایا ، مثلاً کفار کی بیویاں جو مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مسلمانوں کے پاس آجائیں ، انہیں واپس کیا جائے گا یا نہیں اور میاں بیوی میں سے کسی ایک کے مسلمان ہوجانے سے ان کا باہمی نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں وغیرہ۔ 2۔ حدیبیہ کے موقع پر کفا ر کے نمائدے سہیل بن عمرو نے صلح کی جو شرائط طے کی تھیں ان میں سے ایک شرط جو مسلمانوں کو منظور نہ تھی مگر سہیل نے اس کے بغیر صلح کرنے سے انکار کردیا ، یہ تھی (لا یاتیک منا احد وان کان علی دینک الا رددتہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

تفسیر اس آیت میں سولہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا…… جب اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے ساتھ دوستی کے ترک کرنے کا حکم دیا اس امر نے یہ تقاضا کیا کہ مسلمان مشرکوں کے علاقے چھوڑ کر مسلمانوں کے علاقوں کی طرف ہجرت کر جائیں۔ باہم نکاح، باہم دوستی کا موکد ترین سبب تھا، تو عورتوں کی ہجرت کے احکام کو بیان کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قریش کے مشرکوں کے ساتھ حدیبیہ کے سال صلح ہوئی کہ مکہ مکرمہ میں سے جو بھی شخص مدینہ طیبہ آئے گا اسے ان کی طرف واپس کردیا جائے گا ابھی تحریر سے فراغت ہوئی تھی کہ حارث اسلمیہ کی بیٹی حضرت سعیدہ آگئی۔ ابھی نبی کریم و حدیبیہ میں ہی تھے اس کا خاوند آگیا جبکہ وہ کافر تھا اس کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–11

1۔ بخاری نے مسور بن مخرمہ اور مروان بن الحکم رحمہما اللہ دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن جب کفار قریش سے معاہدہ کیا تو مومن عورتیں آئیں (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرات۔ اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آجائیں۔ حتی کہ یہاں تک پہنچے آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر اور تم کافر عورتوں کے تعلقات ازدواجی کو باقی مت رکھو۔ تو حضرت عمر ؓ نے اس دن اپنی دونوں عورتوں کو طلاق دیدی جو مشرکہ تھیں۔ صلح حدیبیہ 2۔ بخاری وابو داوٗد ناسخہ اور بیہقی نے السنن میں مروان بن الحکم اور مسور بن مخرمہ رحمہما اللہ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَاۗءَكُمُ : اے لوگو جو ایمان لائے جب کبھی آئیں تمہارے پاس ][الْمُؤْمِنٰتُ : ایمان لانے والیاں ][ مُهٰجِرٰتٍ : ہجرت کرنے والیاں ہو کر ][ فَامْتَحِنُوْهُنَّ : تو تم لوگ جانچ لیا کرو ان کو ][ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَان هِنَّ : اللہ خوب جاننے والا ہے ان کے ایمان کو ][ فَان عَلِمْتموْهُنَّ : پھر اگر تم لوگ جانو ان کو ][ مُؤْمِنٰتٍ : ایمان لانے والیاں ][ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ : تو واپس مت کرو ان کو ][ اِلَى الْكُفَّارِ : کافروں کی طرف ][لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ : یہ خواتین حلال نہیں ہیں ان کے لیے ][ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ : اور نہ وہ لوگ حلال ہوں گے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مومنات مہاجرات کے بارے میں چند احکام 6 ہجری میں جب رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لئے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تو راستہ میں معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ عمرہ کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کا ارادہ كئے ہوئے ہیں آپ نے تحقیق حال کے لئے حضرت عثمان ؓ کو مشرکین مکہ کے پاس بھیجا اور خود مقام حدیبیہ میں تشریف فرما ہوگئے حضرات صحابہ بھی آپ کے ساتھ وہیں ٹھہر گئے اہل مکہ نے سہیل بن عمر و کو بھیجا (وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) باتیں ہوتی رہیں یہاں تک کہ آپس میں صلح کرنے پر راضی ہوگئے دس شرطوں پر دس سال کے لئے صلح ہوگئی جس کی تفصیل سورة الفتح کی تفسیر میں گزر چکی ہے، ان دس شرطوں میں یہ بھی تھا کہ جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–13

حکم امتحان مہاجرات مومن ات و احکام بیعت و اطاعت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ..... الی ...... من اصحب القبور “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ دوستی اور موالات کے کچھ احکام بیان کیے گئے تھے اور یہ تلقین کی گئی تھی کہ مسلمانوں کو اس معاملہ میں اسوۂ ابراہیماختیار کرنا چاہئے اور نہایت واضح طور پر منع کردیا گیا کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ کسی طرح موالات و دوستی جائز نہیں اسی کے ساتھ ان کافروں سے بہتر سلوک کرنے کی اجازت دے دی گئی جو نہ تو کبھی مسلمانوں سے لڑے اور نہ کسی قسم کی دشمنی کی اب ان آیات میں بعض خاص احکام ایسی عورتوں کے متعلق بیان کیے جارہے ہیں جو ہجرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

13:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ مؤمنات مہاجرات کے بارے میں قانون ہے۔ صلح حدیبیہ کے شرائط میں مردوں کے بارے میں مذکور تھا کہ اگر کوئی کافر مرد مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آجائیگا تو اس کو واپس کردیا جائیگا لیکن اگر کوئی مسلمان کافروں کے یہاں چلا گیا تو اس کو واپس نہیں کیا جائیگا مگر عورتوں کے بارے میں اس صلحنامہ میں کوئی شرط مذکور نہیں تھی اس لیے عورتوں کے بارے میں قانون بیان کیا گیا یعنی اگر مؤمنات مکہ سے ہجرت کر کے تمہارے پاس آجائیں تو ان کے ایمان کا امتحان کرلو۔ ان سے پوچھ لو کہ وہ مومنہ ہیں اگر وہ زبان سے ضروریات دین کا اقرر کرلیں تو یہی کافی ہے، کیونکہ ان کے دل کا ایمان تو اللہ کو معلوم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–11

ربط آیات : گزشتہ درس میں اللہ نے غیر حربی کا فروں کے ساتھ احسان کرنے کی اجازت دی اور حربی کافروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کردیا۔ معاہدہ حدیبیہ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر کافروں کا کوئی آدمی بھاگ کر مدینہ آجائے گا تو مسلمان اسے واپس کردیں گے ، اور اگر مسلمانوں کا کوئی آدمی مکہ چلا جائے گا۔ تو کفار اسے واپس نہیں کریں گے۔ یہ معاہدہ تو مردوں کے لئے تھا مگر جب کچھ عورتیں مکہ سے ہجرت کرکے مدینے آگئیں اور ان کے اقرباء ان کے پیچھے آئے تو سوال پیدا ہوا کہ ان کو ٹھہرانے یا واپس کرنے کے متعلق کیا احکام ہیں ؟ مشرکین مکہ نے عورتوں کو بھی مردوں پر محمول کیا اور ان کی واپسی کا مطالبہ کیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَاۗءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ۝ 0 ۭ اَللہُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَانِہِنَّ۝ 0 ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْہُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْہُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ۝ 0 ۭ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ يَحِلُّوْنَ لَہُنَّ۝ 0 ۭ وَاٰتُوْہُمْ مَّآ اَنْفَقُوْا۝ 0 ۭ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْہُنَّ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ۝ 0 ۭ وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا۝ 0 ۭ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللہِ۝ 0 ۭ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ۝ 0 ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۝…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–11

ترکیب : مہاجرات حال من المومنات فامتحنوھن جواب راذا۔ اللہ اعلم جملۃ معترضہ مومنات مفعول ثان لعلمتم من مفعول اول فلا ترجعوھن الجملۃ جواب الشرط الاھن الجملۃ فی موضع التعلیل لقولہ فلا ترجعوا ولاتمسکو امن الامساک وقراء ابوعمرویعقوب بالتشدید والاخرون بالتخفیف بعصم جمع عصمتہ وھی مایعتصم بہ من العقدد النسب والعہد والمرادبہ ہنہا النکاح الکوافر جع کافرۃ وان فاتکم ای سبقکم وانفلت منکم شیء فاعل فاتکم من ازواجکم بیان لشیء وایقاع شیء موقعہ للتحقیر والا شباع فی التعمیم او شیء من فھو رازواجکم۔ فعاقبتم ای فجاءت عقبتکم اے نوبتکم من اداء المھر۔ شبہ الحکم باداء ھؤلاء مہوراولئک تارۃً واداء اولئک مھور نساء…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَآئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُھٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْھُنَّ ط اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِھِنَّ ج فَاِنْ عَلِمْتُمُوْھُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلاَ تَرْجِعُوْھُنَّ اِلَی الْـکُفَّارِ ط لاَ ھُنَّ حِلٌّ لَّھُمْ وَلاَ ھُمْ یَحِلُّوْنَ لَھُنَّ ط وَاٰتُوْھُمْ مَّـآ اَنْفَقُوْا ط وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اَنْ تَنْـکِحُوْھُنَّ اِذَٓا اٰ تَیْتُمُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ ط وَلاَ تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْـکَوَافِرِ وَسْئَلُوْا مَا اَنْفَقْتُمْ وَلْیَسْئَلُوْا مَـآ اَنْفَقُوْا ط ذٰلِکُمْ حُکْمُ اللّٰہِ ط یَحْکُمُ بَیْنَـکُمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (الممتحنۃ : 10) (اے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–11

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے قتال کے مسائل بیان ہوئے ہیں، قتال کے دوران ہجرت کا معاملہ پیش آنا فطری بات ہے اس لیے مہاجر عورتوں کے بارے میں بالخصوص ہدایات دی گئی ہیں۔ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جو معاہدہ ہوا تھا اس میں ا ہل مکہ کی طرف سے یہ شرط تھی کہ مسلمانوں میں سے کوئی شخص مکہ آنا چاہے تو ہم اسے واپس نہیں کریں گے۔ اگر ہم میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا تو اسے آپ کو واپس کرنا پڑے گا۔ معاہدے کے تھوڑے عرصہ بعد ایک مسلمان ابوبصیر ؓ بھاگ کر مدینہ آیا تو نبی ﷺ نے اسے واپس کردیا۔ اسی دوران کچھ مسلمان خواتین مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچیں جن میں امِّ کلثوم بن عتبہ ؓ بھی تھیں ام کلثوم کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِذَا جَآ ئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُھٰجِرٰتٍ (اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں دارالحرب سے ہجرت کر کے آئیں) ان کو مومنہ کہا کیونکہ وہ زبان سے اقرار شہادت کرنے والیاں ہیں۔ نمبر 2۔ وہ امتحان کے ذریعہ ثبات ایمان کو جھانکنے والی ہیں اس لئے ان کو مومنہ کہہ دیا گیا۔ نحو : یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ امتحان کا مطلب : فَامْتَحِنُوْھُنَّ (پس تم ان کی جانچ کرلیا کرو) علامات پر نگاہ ڈال کر ان کا امتحان لو۔ تاکہ ان کے ایمان کی سچائی کا تمہیں غالب گمان ہوجائے۔ قول ابن عباس ؓ : اس کا امتحان یہ ہے کہ تم کہو تو شہادتین کا اقرار کر۔ اَللّٰہُ اَعْلَمُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” انما ینھا کم اللہ عن الذین قاتلو کم فی الدین واخرجوکم من دیارکم وظاھروا علی اخراجکم “ اور وہ مشرکین مکہ ہیں۔ ” ان تولوھم ومن یتولھم فاولئک ھم الظالمون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–11

10۔ 11۔ صلح حدیبیہ کے زمانہ سے مکہ کے لوگوں کی آمد و رفت مدینہ کو جاری ہوگئی تھی اس آمد و رفت میں بعض عورتیں اپنے آپ کو مہاجر بتاتی تھیں لیکن مسلمانوں کو یہ شبہ رہتا تھا کہ معلوم نہیں ان عورتوں کا بیان کہاں تک صحیح ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ان عورتوں کے امتحان لینے کا حکم نازل فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ آدمی کے دل کا حال تو اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن اس امتحان کے بعد ان عورتوں کو مسلمان مہاجر سمجھا جائے۔ صحیح 1 ؎ سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق اس امتحان کا طریقہ یہ تھا کہ اس طرح کی عورتوں سے ان کے بیان کی تصدیق ان کو قسم دے کر کی جاتی تھی۔ حدیبیہ کے صلح نامہ میں اگرچہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

صلح حدیبیہ میں جب رسول اللہ نے مشرکین مکہ کے ساتھ اس شرط پر معاہدہ کیا کہ کفار میں سے جو کوئی مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آئے تو وہ مشرکین کو واپس کردیا جائے گا یہ عام اور مطلق لفظ تھا جس کے عموم میں مرد اور عورت سب شامل ہیں مردوں کو اللہ تعالیٰ نے ایفائے شرط اور معاہدہ صلح کو پورا کرنے کے لیے کفار کی طرف واپس لوٹانے سے اپنے رسول کو منع نہیں کیا جو سب سے بڑی مصلحت تھی۔ رہی عورتیں تو چن کہ ان کے واپس لوٹانے میں بہت سے مفاسد تھے اس لیے اللہ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کرکے ان کے پاس آئیں اور ان کو ان عورتوں کے ایمان کی صداقت میں شک ہو، تو سخت قسم وغیرہ کے ذریعے سے ان کی اچھی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–11

مشرک کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان قول باری ہے (لا ینھا کم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین۔ اللہ تمہیں ان لوگوں سے (حسن سلوک اور انصاف کرنے سے ) نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے) تا آخر آیت ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے حضور ﷺ سے پوچھا تھا کہ ان کی ایک مشرک ماں ہے جو ان کے پاس آئی ہوئی ہے، آیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں ؟ حضور ﷺ نے اس کا جواب اثبات میں دیا تھا اور فرمایا تھا کہ اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان لوگوں سے حسن سلوک اور انصاف کرنے سے (نہیں روکتا) ) اہل ذمہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 29] مہاجر عورتوں کے بارے میں تحقیق حال کا حکم و ارشاد : سو اس سے ہجرت کرکے آنے والی عورتوں کے بارے میں تحقیق حال کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے، تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ واقعی یہ دل و جان سے مومن ہیں یا صرف ظاہری طور پر ایمان کا دعویٰ کرتی ہیں، اور محض وقتی مصالح و مفادات کی بنا پر ایسا کہتی ہیں اور انہوں نے جو ہجرت کی ہے وہ محض اللہ و رسول کے لئے، اور اس نے دین کی خاطر کی ہے یا اس کے پیچھے والی غرض کار فرما ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ ایسی ہر عورت سے قسم دے کر پوچھتے کہ کیا اس نے کہیں اپنے شوہر سے ناراضگی کی بناء پر تو ہجرت نہیں کی ؟ یا محض کسی جگہ سے تنگ ہوکر، یا کسی دوسری جگہ کو پسند کرنے کی بناء پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–13

اسلام امن کا مذہب ہے، عورتوں کے خاص معاملات تشریح : پچھلی آیات میں جو غیر مسلموں سے دوستی اور اعتبار سے منع کیا گیا ہے تو خاص حالات میں، یعنی جنگ کے حالات میں کیونکہ، دشمن کو کبھی بھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے،۔ مخالفین اکثر مسلمان کو دہشت گرد کہتے ہیں تو ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں دہشت گردی کو کبھی پسند نہیں کیا بلکہ اسلام تو نام ہی امن و سلامتی کا ہے۔ ہماری تاریخ اور نبی اکرم ﷺ کی زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ آپ ﷺ نے صبر سے کفار کی سختیاں برداشت کیں اور پھر چپکے سے ہجرت کر گئے پھر جنگ بدر، احد اور حنین۔ تینوں دفاعی جنگیں تھیں۔ معاہدہ حدیبیہ مکمل طور پر صلح و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–13

آیات 7 تا 13۔ اسرار ومعارف۔ اللہ قادر ہے کہ وہ تمہارے دشمنوں یعنی کافروں میں سے بھی تمہارے دوست پیدا کردے یعنی بعض کو ایمان نصیب ہوجائے کہ اللہ بہت بڑابخشنے والامہربان ہے۔ کافر سے تعلقات کی نوعیت۔ لیکن اگر وہ مسلمان نہ بھی ہوں تو جن کفار سے اندیشہ نہ ہو کہ مسلمانوں یا اسلام کو نقصان پہنچے گا جو تمہارے خلاف جنگ میں کسی بھی طرح سے شریک نہ ہوں اور مسلمانوں کے گھراجاڑنے اور انہیں گھروں سے نکل جانے پر مجبور کرنے میں ان کا حصہ نہ ہو ان سے حسن سلوک کیا کرو اور مسلمانوں کی فلاحی ریاست کے فلاحی امور سے وہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں نیز سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی انہیں آزما لو کہ وہ حقیقت میں مسلمان ہیں بھی کہ نہیں ؟ مسور بن محزمہ مروان بن حکم سے راوی ہے کہ جب حدیبیہ کے روز آنحضرت کا قریش سے معاہدہ ہوا تو کچھ مسلمان عورتیں آپ کے پاس چلی آئیں انہی کے بارے میں آیت نازل ہوئی (شوکانی)2 یعنی اللہ تعالیٰ کو تو معلوم ہے کہ وہ ایماندار ہیں یا نہیں لیکن تمہیں چونکہ حقیقت حال نہیں ہے اس لئے ان عورتوں کو آزمائے بغیر اپنے ہاں پناہ نہ دو شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” طاہر میں ان کا جانچنا یہ کہ اگلی آیت میں جو حکم ہیں یہ قبول کریں۔ “3 اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان عورت کا نکاح کافر ( مرد سے نہیں ہوسکتا اور کافر کی بیوی مسلمان ہوجائے تو اس سے کے شوہر سے جا کردیا اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(60:10) اذا : جب ظرف زمان ہے یہاں پر شرط کے معنی کے لئے آیا ہے۔ مھجرت۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث مھاجرۃ (مفاعلہ) مصدر ہے۔ ہجرت کرنے والیاں۔ یہ المؤمنت سے حال ہے یعنی بحالت ہجرت یا مہاجر ہو کہ آئیں ۔ فامتحنوھن :جواب شرط کا۔ امتحنوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر امتحان (افتعال) مصدر۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ تو ان کا امتحان کرلو۔ اللہ اعلم بایمانھن جملہ معترضہ ہے اعلم افعل التفضیل کا صیغہ علم۔ سے۔ خوب جاننے والا۔ بہتر جاننے والا۔ ب تعدیہ کے لئے ہے۔ ایمانھن مضاف ، مضاف الیہ۔ (اللہ ان کے ایمان کو بہتر جانتا ہے) ۔ فان :تعقیب کے لئے ہے ان شرطیہ ہے۔ پھر اگر۔ علمتموھن۔ علمتم ماضی جمع مذکر حاضر۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–11

لغات القرآن۔ مجھرات۔ ہجرت کرنے والیاں۔ امتحنوا۔ تم آزمالو۔ جانچ لو۔ اجور۔ اجر۔ بدلہ ۔ مہر۔ لا تمسکوا۔ تم نہ روکو۔ تم تعلق قائم نہ کرو۔ عصم۔ تعلقات نکاح۔ تشریح : ان آیات کو سمجھنے کے لئے بنیادی طور پر ان کے پس منظر پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اصل میں صلح حدیبیہ میں جو شرائط طے کی گئی تھیں ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی شخص مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئے گا تو اس کو واپس کردیا جائے گا اس کے برخلاف اگر کوئی مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو کفار قریش اس کو واپس کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جس میں بظاہر عورتیں اور مردو دونوں شامل تھے لیکن پے در پے کچھ ایسے واقعات پیش آئے جن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

مہاجرین عورتوں کے امتحان لینے کا ذکر۔ (ف 1) صلح حدیبیہ کے زمانہ سے مکہ کے لوگوں کی آمدورفت مدینہ کو جاری ہوگئی تھی اس آمد ورفت میں بعض عورتیں اپنے آپ کو مہاجر بتلاتی تھیں لیکن مسلمانوں کو یہ شبہ رہتا تھا کہ معلوم نہیں کہ ان عورتوں کا بیان کہاں تک صحیح ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ان عورتوں کا امتحان لینے کا حکم نازل فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ آدمی کے دل کا حال اللہ ہی کو معلوم ہے، لیکن اس امتحان کے بعد ان عورتوں کو مسلمان مہاجر سمجھاجائے ، صحیح سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق اس امتحان کا طریقہ یہ تھا کہ اس طرح کی عورتوں سے انکے بیان کی تصدیق ان کو قسم دی جاکر کی جاتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–10

[8] صلح حدیبیہ کے بعد جو مسلمان مرد مکہ سے بھاگ کر مدینے آتے تھے تو معاہدے کی رو سے انہیں واپس کرنا پڑتا تھا۔ لیکن پھر کئی مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو کفار مکہ نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [9] یعنی وہ مسلمان ہو کر کافر شوہروں کی زوجیت سے خارج ہوگئیں اور ان کے نکاح خودبخود ٹوٹ گئے۔ [10] یعنی جو مہر کافروں نے دئیے تھے وہ ان کو واپس کردو۔ [11] یعنی اب جو مسلمان بھی ان میں سے کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے وہ اس کا مہر ادا کرے اور اس سے نکاح کرے۔ یہ ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا کہ اب اس سے نکاح کرنے والا مسلمان یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ابھی ایک مہر تو اس کے کافر شوہر کو واپس کیا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

عورتوں کے متعلق چند ضروری احکام 1: ایک مغنیہ عورت سارہ کی وجہ سے چو کہ حاطب بن ابی طبقہ والی سازش بروئے کار آئی تھی ۔ اور خطرہ تھا ۔ کہ اسی طرح دوسری عورتیں داد الاسلام میں آکر کہیں جاسوسی کے فرائض انجام نہ دیں ۔ اس لئے یہ آیات نازل ہوئیں ۔ کہ جب بظاہر مومن عورتیں مدینہ ہجرت کرکے آئیں ۔ تو انہیں خوب اچھی طرح جانچ لینا چاہیے ۔ کہ ان کی آمد کا مقصد کیا ہے ۔ کیا وہ اپنے خاوند سے روٹھ کر آئی ہیں یا مدینہ کی زیارت کا شوق انکو کھینچ لایا ہے ۔ یا کوئی اور جذبہ ہے ۔ جن سے ان کو یہاں آنے پر مجبور کردیا گیا ہے ۔ جب تک یہ صاف طور پر حلفیہ نہ کہہ دیں ۔ کہ ہم محض اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں یہاں آئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں دارالحرب سے ہجرت کرکے آجائیں تو ان کے ایمان کو پرکھ لیا کرو اور ان کے ایمان کا امتحان لے لیا کرو یعنی یہ معلوم کرلیا کرو کہ انہوں نے صرف ایمان کی خاطر ہجرت کی ہے یا کسی کے عشق میں مبتلا ہو کر آئی ہیں یا خاوند سے دنیوی معاملات میں ناراض ہوکر چلی آئی ہیں یوں تو ان کے ایمان کو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے گھر اگر تم واقعی ان کو مسلمان سمجھو تو ان کو کافروں کی طرف واپس مت کرو کیونکہ نہ تو وہ مسلمان ہجرت کرنے والی عورتیں ان کافروں کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان عورتوں کے لئے حلال ہے۔ یعنی یہ مہاجر عورتیں نے اپنے کافر خاوندوں کے لئے حلال ہیں اور نہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

ف 6۔ یعنی اس امتحان میں ظاہری ایمان پر اکتفا کیا کرو کیونکہ ان کے حقیقی ایمان کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے، تم کو تحقیق ہو ہی نہیں سکتا۔ 1۔ یعنی جو تمہاری بیبیاں دارالحرب میں کفر کی حالت میں رہ گئیں ان کا نکاح تم سے زائل ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والوں کو مہاجرات کا امتحان کرنے اور آزمائش کے بعد روکنے کی ہدایت 10 ؎ صلح حدیبیہ کی شرطوں میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ قریش کا جو آدمی اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس جائے گا محمد رسول اللہ ﷺ اس کو واپس کردیں گے ۔ صلح پر دستخط ہوچکے تھے کہ ابو جندل مکہ سے بھاگ کر حدیبیہ کے مقام پر پہنچ گیا لیکن رسول اللہ ﷺ نے ایک معاہدہ طے پا جانے کے بعد مجبوری کے باعث پرنم آنکھوں سے ابو جندل کو واپس کردیا لیکن اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا دی اور اس طرح ابو بصیر کے ساتھ بھی ہوا جس شرط کا اوپر ذکر کیا ہے ۔ اس کے الفاظ یہ تھے کہ : علی ان لا یاتیک منارجل وان کان علی دینک الا رددتہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Cause of Revelation Peace Treaty of Hudaibiyah and an Analysis of some of its Clauses These verses are related to the event of the treaty of Hudaibiyah which was discussed at legnth in Surah Al-Fath. After protracted negotiation, a treaty was concluded between the Quraish of Makkah and the Messenger of Allah ﷺ for ten years. Some of the terms of the treaty were accepted only under pressure and the Muslims apparently felt subdued and thus were greatly disturbed. Therefore, the noble Companions expressed extreme grief and indignation but the Messenger of Allah ﷺ was working under…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 The background of this injunction is that after the peace treaty of Hudaibiyah, in the beginning, the Muslim men started fleeing Makkah and arriving at Madinah and they were sent back according to the terms of the treaty. Then the Muslim women started arriving and, first of all, Umm Kulthum Uqbah bin Abi Mu'ait emigrated to Madinah, The disbelievers invoked the treaty and demanded return, ands two brothers of Umm Kulthum, Walid bin `Uqbah and 'Amarah bin `Uqbah, came to Madinah to take her back. At this the question arose whether the treaty of Hudaibiyah applied to the women as well. Allah…

Read the full tafseer →