Explained with ayahs 10–11
صلح حدیبیہ کا ایک پہلو
سورة فتح کی تفسیر میں صلح حدیبیہ کا واقعہ مفصل بیان ہوچکا ہے، اس صلح کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ اور کفار قریش کے درمیان جو شرائط ہوئی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ جو کافر مسلمان ہو کر حضور ﷺ کے پاس چلا جائے آپ اسے اہل مکہ کو واپس کردیں، لیکن قرآن کریم نے ان میں سے ان عورتوں کو مخصوص کردیا کہ جو عورت ایمان قبول کر کے آئے اور فی الواقع ہو بھی وہ سچی ایمان دار تو مسلمان اسے کافروں کو واپس نہ دیں، حدیث شریف کی تخصیص قرآن کریم سے ہونے کی یہ ایک بہترین مثال ہے اور بعض سلف کے نزدیک یہ آیت اس حدیث کی ناسخ ہے۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابو میط ؓ مسلمان…
Read the full tafseer →سورة الْمُمْتَحِنَة 17
اس معاملہ کی دو صورتیں تھیں اور اس آیت کا انطباق دونوں سورتوں پر ہوتا ہے ایک صورت یہ تھی کہ جن کفار سے مسلمانوں کے معاہدانہ تعلقات تھے ان سے مسلمانوں نے یہ معاملہ طے کرنا چاہا کہ جو عورتیں ہجرت کر کے ہماری طرف آگئی ہیں ان کے مہر ہم واپس کردیں گے، اور ہمارے آدمیوں کی جو کافر بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کے مہر تم واپس کردو۔ لیکن انہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا۔ چناچہ امام زہری بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے مسلمان ان عورتوں کے مہر واپس دینے کے لیے تیار ہوگئے جو مشرکین کے پاس مکہ میں رہ گئی تھیں، مگر مشرکوں نے ان عورتوں کے مہر واپس دینے سے انکار کردیا…
Read the full tafseer →وَاِنْ فَاتَكُمْ شَيْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُم الایة، عاقبتم، معاقبہ سے مشتق ہے جس کے ایک معنی انتقام اور بدلہ لینے کے بھی ہیں، یہاں یہ معنی بھی مراد ہو سکتے ہیں (کماروی عن قتادة و مجاہد، قرطبی) اس صورت میں مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ مسلمان کی کچھ عورتیں اگر کفار کے قبضہ میں آجائیں تو شرط صلح کے ماتحت اوروں پر لازم تھا کہ ان کے مسلمان شوہروں کو ان کا دیا ہوا مہر وغیرہ واپس کریں جیسا کہ مسلمانوں کی طرف سے مہاجرات کے کافر شوہروں کو ان کا مہر واپس کیا گیا، لیکن جب کفار نے ایسا نہ کیا اور مسلمانوں عورتوں کے مہران کو ادا نہ کئے تو ان کے ال عمل کا اگر تم انتقام اور بدلہ لے…
Read the full tafseer →(وان فاتکم شی من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم فاتوا الذین ذھبت ازواجھ تمثل ما انفقوا واتقوا اللہ الذی انتم بہ مومنون) (11)۔ (عاقبتم) کے معنی ہیں کہ (صادق العقبی لکم) یعنی پھر تمہاری باری آگئی یا تمہیں موقع مل گیا۔
(بدلے کی ایک منصفاد شکل)۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ کفار کی طرف سے (واسئلوا ما انفقتم ولیسئلو ما انفقوا) کے اصول کی خلاف ورزی ہو، وہ کسی ایسی عورت کا مہر واپس نہ کریں جو اس کے مسلمان شوہر نے اس کو دیا تو اس صورت میں مسلمانوں کو حق ہوگا کہ اگر ان کو کسی عورت کا مہر کفار کو ادا کرنا ہے تو ان کو ادا کرنے کے بجائے اپنے اس بھائی کو ادا کردیں جس کی چلی جانے والی بیوی…
Read the full tafseer →11۔ 1 فعاقبتم۔ پس تم سزا دو یا بدلہ لو۔ کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ مسلمان ہو کر آنے والی عورتوں کے حق مہر، جو تمہیں ان کے کافر شوہروں کو ادا کرنے تھے، وہ تم ان مسلمانوں کو دے دو ، جن کی عورتیں کافر ہونے کی وجہ سے کافروں کے پاس چلی گئی ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کو مہر ادا نہیں کیا (یعنی یہ بھی سزا کی ایک صورت ہے) دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تم کافروں سے جہاد کرو اور جو مال غنیمت حاصل ہو اس میں تقسیم سے پہلے ان مسلمانوں کو، جن کی بیویاں دارالکفر چلی گئی ہیں، ان کے خرچ کے بقدر ادا کردو، گویا مال غنیمت سے مسلمانوں کے نقصان کا (ازالہ) یہ بھی سزا ہے (ایسر التفاسیر و ابن کثیر) اگر مال غنیمت سے بھی ازالہ کی…
Read the full tafseer →8: یعنی تمہیں اپنا دیا ہوا مہر ان عورتوں کے نئے شوہروں سے وصول کرنے کی نوبت آئے۔
9: یہ خطاب ان مسلمانوں سے ہے جنہوں نے مسلمان ہونے والی شادی شدہ عورتوں سے نکاح کیا، اور ان کے ذمے واجب ہوگیا کہ وہ ان کے پرانے شوہروں کو ان کا دیا ہوا مہر لوٹائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اب سیاق سورت کی طرف آتے ہیں۔ اب مومنات مہاجرات کی بات۔
یایھا الذین .................................... بہ مومنون (0 : 11) 06 : 01۔ 11)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب مومن عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو (ان کے مومن ہونے کی) جانچ پڑتال کرلو ، اور ان کے ایمان کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال۔ ان کے کفار شوہروں نے جو مہران کو دیئے تھے وہ انہیں پھیر دو ۔ اور ان سے نکاح کر لنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں…
Read the full tafseer →4 یعنی جس مسلمان کی عورت گئی اور کافر اس کا خرچ کیا ہوا نہیں پھیرتے تو جس کافر کی عورت مسلمان کے ہاں آئے اس کا جو خرچ دینا تھا اس کافر کو نہ دیں۔ بلکہ اسی مسلمان کو دیں جس کا حق مارا گیا ہے ہاں اس مسلمان کا حق دے کر جو بچ رہے وہ واپس کردیں۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی مسلمان کافر کا خرچ کیا ہوا واپس نہیں کرسکتا تو بیت المال سے دیا جائے۔ اللہ اکبر ! کس قدر عدل و انصاف کی تعلیم ہے۔ لیکن اس پر کار بند وہی ہوگا جس کے دل میں اللہ کا ڈر ہو اور اس پر ٹھیک ٹھیک ایمان رکھتا ہو (تنبیہ) " فَعَاقَبْتُمْ " کے دو ترجمے مترجم محقق نے کیے۔ " پھر تم ہاتھ مارو۔ " اور " پھر تمہاری باری آئے۔ " ہم نے دوسرے…
Read the full tafseer →آیت 1 1{ وَاِنْ فَاتَـکُمْ شَیْئٌ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ اِلَی الْکُفَّارِ } ”اور اگر تمہاری بیویوں کے مہر میں سے کچھ کفار کی طرف رہ جائے“
اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے فرض کریں کہ ایک مسلمان مرد ہجرت کر کے مدینہ آگیا اور اس کی مشرکہ بیوی مکہ میں ہی رہ گئی۔ بعد میں اس مسلمان نے اس خاتون کو پیغام بھجوایا کہ میرا تمہارا تعلق زوجیت ختم ہوچکا ہے لہٰذا تم مہر کی رقم مجھے لوٹا دو۔ اب اگر اس عورت نے مہر کی رقم واپس نہیں کی تو اس مسئلے کا حل بتایا جا رہا ہے کہ ایسی صورت میں تمہیں کیا کرنا ہے۔
{ فَعَاقَـبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَہَبَتْ اَزْوَاجُہُمْ مِّثْلَ مَآ اَنْفَقُوْاط } ”تو جب تمہیں موقع ہاتھ…
Read the full tafseer →24 اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ فریقین کے حق میں نہایت منصفانہ اور حکیمانہ تھا۔ جو مسلمانوں کے لیے تو بہرحال واجب الاطاعت تھا لیکن کافروں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ وہ ان کافر عورتوں کا سابقہ حق مہر ان مسلمانوں کو دینے کے لیے تیار نہ ہوئے جن کے نکاح میں وہ پہلے تھیں۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے دو طریقے بتائے۔ جن سے مسلمانوں کو اس رقم کی ادائیگی ہوسکتی تھی جو انہوں نے اپنی کافر بیویوں کو دی تھی اور یہ دونوں طریقے لفظ عاقَبْتُمْ سے ماخوذ ہیں۔ اس لفظ کا ایک مفہوم تو ترجمہ میں واضح کردیا گیا ہے۔ کہ ایسے مسلمانوں کو ان کا حق اموال غنائم سے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو بیت المال سے ادا کردیا گیا…
Read the full tafseer →20۔ (اور اسی کے خوف کا استحضار کرکے ہرگز کسی خیانت، تساہل یا چالاکی کے مرتکب نہ ہو) (آیت) ” وان .... فعاقبتم “۔ یعنی نہ ہو بیوی ہی ملے، اور نہ اس کے بجائے اس کے مہر کی رقم ہی تمہیں ملے، یہ عاقبتم۔ عقاب سے نہیں عقب سے ہے، اور مراد یہ ہے کہ تمہاری کوئی بیوی کافروں کے پاس چھوٹ جائے، یا تمہارے ذمہ کسی کا مہر واجب الادا رہ جائے۔ من العقبۃ لامن العقاب وحاصل المعنی ان لحق احدمن ازواجکم بالکفار اوفاتکم شیء من مھورھن ولزمکم اداء المھر کمالزم الکفار (روح) (آیت) ” فاتو ا ..... انفقوا “۔ یعنی یہ رقم واجب الاداء بجائے ان کافروں کو دینے کے ان مسلمان شوہروں کو دے دو ، جو کافر بیویوں اور ان کے معاوضہ مہر…
Read the full tafseer →وان قاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم (الآیۃ) اس معاملہ کی دو صورتیں تھیں ایک صورت یہ تھی کہ جن کفار سے مسلمانوں کے معامہدانہ تعلقات تھے ان سے مسلمانوں نے یہ معاملہ طے کرنا چاہا کہ جو عورتیں ہجرت کر کے ہماری طرف آگئی ہیں ان کی مہر ہم واپس کردیں گے اور ہمارے آدمیوں کی جو کافر بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کے مہر تم واپس کردو، لیکن انہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا، چناچہ امام زہری بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے مسلمان ان عورتوں کا مہر ادا کرنے کے لئے تیار ہوگئے جو مشرکین کے پاس مکہ میں رہ گئی تھیں، مگر مشرکوں نے ان کے مہر دینے سے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا…
Read the full tafseer →وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم فاتوا الذین ذھبت ازواجھم مثل ما انفقوا واتقوا اللہ الذی انتم بہ مؤمنون .
” اور اگر تمہاری بیبیوں میں سے کوئی (کافروں کے پاس چلی جائے اور وہیں رہ پڑنے کی وجہ سے) بالکل تمہاے ہاتھ نہ آئے۔ پھر تمہاری نوبت آئے تو جن کی بیبیاں ہاتھ سے نکل گئیں ‘ جتنا (مہر) انہوں نے خرچ کیا تھا اس کے برابر تم ان کو (ضرور) دے دو اور اللہ سے جس پر تم ایمان رکھتے ہو ‘ ڈرتے رہو۔ “
وَاِنْ فَاتَکُمْ : اور اگر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے ‘ فوت ہوجائے۔
شَیْ ءٌ : کوئی بی بی۔
اِلَی الْکُفَّارِ : پھر مرتد ہو کر کافروں سے جا ملے۔ اَحَدٌ : (کوئی شخص) کی جگہ شَیْ ءٌ : (کوئی چیز) کا استعمال…
Read the full tafseer →اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی عورت کفار کی طرف چلی جائے اور تمہارے اور ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی عہد اور صلح نہ ہو اور پھر تم اپنے دشمنوں سے غنیمت میں حاصل کرلو تو تم وہ مہر جو اس مہاجرہ کے لیے اس کے پہلے خاوند کو دینا تھا ان مسلمانوں کو دے دو جن کی بیویاں مہر پاکر کفار کے پاس چلی گئیں اور احکام الہی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔
مسلمان عورتوں میں سے صرف چھ عورتیں مرتد ہوئی تھیں دو تو حضرت عمر فاروق کی تھیں ام سلمہ اور ام کلثوم بنت حبرول اور ام الحکم بنت ابی سفیان جو عباد ابن شدد کے نکاح میں تھیں اور فاطمہ بنت ابی امیہ اور بروع بنت عقبہ جو شماس بن عثمان کے نکاح میں…
Read the full tafseer →وَ اِنْ فَاتَکُمْ شَیْئٌ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ اِلَی الْکُفَّارِ۔۔۔۔: یعنی اگر کافر ان عورتوں کا مہر مسلمانوں کو واپس نہ کریں جو کافر ہو کر یا کافر رہ کر دارالاسلام سے کفار کے ہاں چلی جائیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ کافروں کا جو مال لوٹیں اس میں سے ان مسلمان شوہروں کا خرچ ادا کریں جن کی بیویاں دارالکفر کو بھاگ جائیں ، یا دارالکفر سے جو عورتیں مسلمان ہو کر دارالاسلام میں آجائیں ان کے مہر کافروں کو واپس کرنے کے بجائے ان مسلمان شوہروں کو ادا کریں جن کی بیویاں دارالکفر کو بھاگ جائیں۔ (فعاقبتم“ (پھر تم بدلا حاصل کرو) کے مفہوم میں دونوں چیزیں شامل ہیں ، یعنی لڑائی میں مال غنیمت حاصل کرنا یا مقابلہ میں…
Read the full tafseer →تفسیر
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ وان فاتکم شئی من ازواجکم روایت میں ہے کہ مسلمانوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے اس پر ہم راضی ہیں اور مسلمانوں نے مشرکوں کو خط لکھے تو انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تو یہ حصہ نازل ہوا۔ وان فاتکم ……زہری نے عروہ سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے وسئلو…… مسلمانوں نے کفار کو خط لکھے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اگر ہماری کوئی عورت تمہارے پاس آئے تو تم ہمیں مہر دو اور اگر تمہاری کوئی عورت ہمارے پاس آئے تو ہم اس کا مہر تمہیں دیں گے۔ جواب میں انہوں نے مسلمانوں کو خط لکھے : جہاں تک ہمارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
1۔ بخاری نے مسور بن مخرمہ اور مروان بن الحکم رحمہما اللہ دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن جب کفار قریش سے معاہدہ کیا تو مومن عورتیں آئیں (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرات۔ اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آجائیں۔ حتی کہ یہاں تک پہنچے آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر اور تم کافر عورتوں کے تعلقات ازدواجی کو باقی مت رکھو۔ تو حضرت عمر ؓ نے اس دن اپنی دونوں عورتوں کو طلاق دیدی جو مشرکہ تھیں۔
صلح حدیبیہ
2۔ بخاری وابو داوٗد ناسخہ اور بیہقی نے السنن میں مروان بن الحکم اور مسور بن مخرمہ رحمہما اللہ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[وَان فَاتَكُمْ : اور اگر ہاتھ سے نکل جائے ][ شَيْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ : کوئی بھی تمہاری بیویوں میں سے ][ اِلَى الْكُفَّارِ : کافروں کی طرف ][ فَعَاقَبْتم : پھر تم لوگ بدلے (کا موقع پائو کافروں سے)][ فَاٰتُوا الَّذِينَ : تو تم لوگ دو ان کو ][ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ : گئیں جن کی بیویاں [ مِّثْلَ مَآ انفَقُوْا : اس کے جیسا جو انھوں نے خرچ کیا ][وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيٓ: اور تقوٰی اختیار کرو اس اللہ کا ][ انتم بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ : تم لوگ جس پر ایمان رکھنے والے ہو ]
Read the full tafseer →﴿وَ اِنْ فَاتَكُمْ ﴾ (الآیۃ) اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی بیوی کافروں میں رہ جانے کی وجہ سے تمہارے ہاتھ سے نکل گئی یعنی تمہارے ذمہ اسی طرح کا کوئی حق کسی کافر کا نکل آئے تو ان مسلمانوں کو جن کی بیویاں دارالحرب میں رہ گئیں اس قدر دیدو جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا یعنی تمہارے ذمہ جو کافروں کو ان کی سابق بیویوں کو مہر دینا واجب ہے (جو مسلمان ہوگئیں اور دار السلام میں آگئیں) ان مسلمانوں کو دے دو جن کی بیویاں ان کے ہاتھوں سے نکل گئیں اگر برابر برابر ہے تو کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں اگر کمی بیشی ہو تو اس کو معاملات کے طور پر سوچ لیں یعنی جو کافر کا حق ہے وہ ادا کردیں اور جو اپنا حق باقی ہے اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
حکم امتحان مہاجرات مومن ات و احکام بیعت و اطاعت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ..... الی ...... من اصحب القبور “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ دوستی اور موالات کے کچھ احکام بیان کیے گئے تھے اور یہ تلقین کی گئی تھی کہ مسلمانوں کو اس معاملہ میں اسوۂ ابراہیماختیار کرنا چاہئے اور نہایت واضح طور پر منع کردیا گیا کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ کسی طرح موالات و دوستی جائز نہیں اسی کے ساتھ ان کافروں سے بہتر سلوک کرنے کی اجازت دے دی گئی جو نہ تو کبھی مسلمانوں سے لڑے اور نہ کسی قسم کی دشمنی کی اب ان آیات میں بعض خاص احکام ایسی عورتوں کے متعلق بیان کیے جارہے ہیں جو ہجرت…
Read the full tafseer →15:۔ ” وان فاتکم “ عاقبتم یہ العقبۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی باری کے ہیں یعنی جب تمہارے دینے کی باری آئے یا یہ عقاب سے اور اس کے معنی ہیں تم کافروں کو سزا دو اور ان سے قتال کرو اور مال غنیمت ہاتھ آئے۔ ای فجاءت عقبتکم ای نوبتکم من اداء المہر، فاصبتم فی القتال عبقوبۃ حتی غنمتم (روح ج 28 ص 79) ۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ اگر تمہاری عورتوں کا مہر کافروں کے پاس ہی رہ جائے اور وہ ادا نہ کریں تو جس وقت تمہارے دینے کی باری آئے تو تم کافروں کو نہ دو بلکہ اس مسلمان کو دیدو جس کا حق کافروں کے پاس رہ گیا ہے اور دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ جب کبھی مال غنیمت ہاتھ آئے تو اس میں سے ان مسلمانوں کا حق ادا کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ربط آیات :
گزشتہ درس میں اللہ نے غیر حربی کا فروں کے ساتھ احسان کرنے کی اجازت دی اور حربی کافروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کردیا۔ معاہدہ حدیبیہ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر کافروں کا کوئی آدمی بھاگ کر مدینہ آجائے گا تو مسلمان اسے واپس کردیں گے ، اور اگر مسلمانوں کا کوئی آدمی مکہ چلا جائے گا۔ تو کفار اسے واپس نہیں کریں گے۔ یہ معاہدہ تو مردوں کے لئے تھا مگر جب کچھ عورتیں مکہ سے ہجرت کرکے مدینے آگئیں اور ان کے اقرباء ان کے پیچھے آئے تو سوال پیدا ہوا کہ ان کو ٹھہرانے یا واپس کرنے کے متعلق کیا احکام ہیں ؟ مشرکین مکہ نے عورتوں کو بھی مردوں پر محمول کیا اور ان کی واپسی کا مطالبہ کیا…
Read the full tafseer →وَاِنْ فَاتَكُمْ شَيْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِيْنَ ذَہَبَتْ اَزْوَاجُہُمْ مِّثْلَ مَآ اَنْفَقُوْا 0 ۭ وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِيْٓ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ 11
فوت
الْفَوْتُ : بُعْدُ الشیء عن الإنسان بحیث يتعذّر إدراکه، قال : وَإِنْ فاتَكُمْ شَيْءٌ مِنْ أَزْواجِكُمْ إِلَى الْكُفَّارِ [ الممتحنة/ 11] ، وقال : لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ [ الحدید/ 23] ، وَلَوْ تَرى إِذْ فَزِعُوا فَلا فَوْتَ [ سبأ/ 51] ، أي : لا يَفُوتُونَ ما فزعوا منه، ويقال : هو منّي فَوْتَ الرّمح «2» ، أي : حيث لا يدركه الرّمح، وجعل اللہ رزقه فَوْتَ فمه . أي :
حيث يراه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ترکیب : مہاجرات حال من المومنات فامتحنوھن جواب راذا۔ اللہ اعلم جملۃ معترضہ مومنات مفعول ثان لعلمتم من مفعول اول فلا ترجعوھن الجملۃ جواب الشرط الاھن الجملۃ فی موضع التعلیل لقولہ فلا ترجعوا ولاتمسکو امن الامساک وقراء ابوعمرویعقوب بالتشدید والاخرون بالتخفیف بعصم جمع عصمتہ وھی مایعتصم بہ من العقدد النسب والعہد والمرادبہ ہنہا النکاح الکوافر جع کافرۃ وان فاتکم ای سبقکم وانفلت منکم شیء فاعل فاتکم من ازواجکم بیان لشیء وایقاع شیء موقعہ للتحقیر والا شباع فی التعمیم او شیء من فھو رازواجکم۔ فعاقبتم ای فجاءت عقبتکم اے نوبتکم من اداء المھر۔ شبہ الحکم باداء ھؤلاء مہوراولئک تارۃً واداء اولئک مھور نساء…
Read the full tafseer →وَاِنْ فَاتَـکُمْ شَیْ ئٌ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ اِلَی الْـکُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰ تُوا الَّذِیْنَ ذَھَبَتْ اَزْوَاجُھُمْ مِّثْلَ مَـآ اَنْفَقُوْا ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ ۔ (الممتحنۃ : 11)
(اور اگر تمہاری بیویوں کے مہر میں سے کچھ کافروں کی طرف رہ جائے تو پھر جب تمہیں موقع ہاتھ آئے تو جن کی بیویاں گئی ہیں ان کو ادا کردو جو کچھ انھوں نے خرچ کیا، اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے تم مومن ہو۔ )
گزشتہ آیت کے حکم کا تتمہ
اوپر کی آیت میں حکم دیا گیا تھا کہ مہروں کا معاملہ اور ان کا مبادلہ اجتماعی طور پر کرلیا جائے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ تم نے جن بیویوں کو ان کے کفر کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے قتال کے مسائل بیان ہوئے ہیں، قتال کے دوران ہجرت کا معاملہ پیش آنا فطری بات ہے اس لیے مہاجر عورتوں کے بارے میں بالخصوص ہدایات دی گئی ہیں۔
صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جو معاہدہ ہوا تھا اس میں ا ہل مکہ کی طرف سے یہ شرط تھی کہ مسلمانوں میں سے کوئی شخص مکہ آنا چاہے تو ہم اسے واپس نہیں کریں گے۔ اگر ہم میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا تو اسے آپ کو واپس کرنا پڑے گا۔ معاہدے کے تھوڑے عرصہ بعد ایک مسلمان ابوبصیر ؓ بھاگ کر مدینہ آیا تو نبی ﷺ نے اسے واپس کردیا۔ اسی دوران کچھ مسلمان خواتین مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچیں جن میں امِّ کلثوم بن عتبہ ؓ بھی تھیں ام کلثوم کا…
Read the full tafseer →1 1 : وَاِنْ فَاتَکُمْ شَیْ ئٌ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ اِلَی الْکُفَّارِ (اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی بالکل تمہارے ہاتھ نہ آئے۔ کفار کے ہاں رہ پڑے) اگر ان میں سے کوئی عورت کفار کی طرف نکل جائے۔
قراءت : ابن مسعودؓ کی قراءت میں احد ہے۔ فَعَاقَبْتُمْ (پھر تمہاری نو بت آئے) پس تم ان کو لڑائی میں خوب سزا دو یہاں تک کہ تم غنیمت پائو۔ قال الزجاج۔ فَـٰاتُوا الَّذِیْنَ ذھَبَتْ اَزْوَاجُھُمْ مِّثْلَ مَآ اَنْفَقُوْا (تو جن کی بیویاں ہاتھ سے نکل گئیں جتنا مہر انہوں نے خرچ کیا تھا۔ اس کے برابر تم ان کو دیدو) پس ان مسلمانوں کو دو جن کی بیویاں مرتدہ ہو کر دارالحرب میں چلی گئی ہیں ان کی بیویوں کے مہراس مال…
Read the full tafseer →آیت مبارکہ کا شان نزول
10 ۔ یایھا الذین امنوا اذا جاء کم المومنات مھاجرات فامتحنوھن “ مروان اور مسور بن مخرمہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے خبر دیتے ہیں کہ جب اس دن سہیل بن عمر نے لکھا تو جو شرائط سہیل بن عمرو نے نبی کریم ﷺ پر لگائی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ہماری طرف سے اگر کوئی شخص آپ (علیہ السلام) کے پاس آئے گا، اگرچہ وہ آپ (علیہ السلام) کے دین پر ہو تو آپ (علیہ السلام) اس کو ہمارے پاس واپس بھیج دیں گے تو مومنین نے اس شرط کو ناپسند سمجھا اور سہیل نے اس پر اصرار کیا تو نبی کریم ﷺ نے اس شرط پر لکھوادیا تو اس دن نبی کریم ﷺ نے ابوجندل کو ان کے والد سہیل بن عمرو کو واپس کردیا اور اس مدت میں آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10۔ 11۔ صلح حدیبیہ کے زمانہ سے مکہ کے لوگوں کی آمد و رفت مدینہ کو جاری ہوگئی تھی اس آمد و رفت میں بعض عورتیں اپنے آپ کو مہاجر بتاتی تھیں لیکن مسلمانوں کو یہ شبہ رہتا تھا کہ معلوم نہیں ان عورتوں کا بیان کہاں تک صحیح ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ان عورتوں کے امتحان لینے کا حکم نازل فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ آدمی کے دل کا حال تو اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن اس امتحان کے بعد ان عورتوں کو مسلمان مہاجر سمجھا جائے۔ صحیح 1 ؎ سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق اس امتحان کا طریقہ یہ تھا کہ اس طرح کی عورتوں سے ان کے بیان کی تصدیق ان کو قسم دے کر کی جاتی تھی۔ حدیبیہ کے صلح نامہ میں اگرچہ…
Read the full tafseer →(وَاِنْ فَاتَكُمْ شَيْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ ) اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے اس سبب کہ وہ مرتد ہو کر واپس چلی گئی ہو ( فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِيْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَآ اَنْفَقُوْا ۭ ) تو تم (مال غنیمت میں سے) ان کو جن کی بیویاں چلی گئی ہیں اتنا مال دے دو جتنا انہوں نے خرچ کیا۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ جب کفار مسلمانوں سے اس مہر کا بدل وصول کرتے تھے جو ان کی بیویوں کے پاس مسلمانوں کی طرف چلا جاتا تھا تو مسلمانوں میں سے کسی بیوی کفار کے پاس چلی جائے اور وہ اس سے محروم ہوجائے تو مسلمانوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
مشرک کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
قول باری ہے (لا ینھا کم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین۔ اللہ تمہیں ان لوگوں سے (حسن سلوک اور انصاف کرنے سے ) نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے) تا آخر آیت
ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے حضور ﷺ سے پوچھا تھا کہ ان کی ایک مشرک ماں ہے جو ان کے پاس آئی ہوئی ہے، آیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں ؟ حضور ﷺ نے اس کا جواب اثبات میں دیا تھا اور فرمایا تھا کہ اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان لوگوں سے حسن سلوک اور انصاف کرنے سے (نہیں روکتا) ) اہل ذمہ…
Read the full tafseer →[ 41] اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت کا حوالہ و ذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ سب کچھ جانتا نہایت حکمت والا ہے۔ پس وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو پوری طرح جانتا ہے، اور ان کے لیے جو حکم بھی فرماتا ہے وہ نہایت ہی حکمت پر مبنی ہوتا ہے، اور اس میں ان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہوتا ہے، اس لئے اس کے ہر حکم کو دل و جان سے اپنانا چاہیے۔ اللّٰہم ارزقنا التوفیق لذالک والدوام والثبات علیہ۔ سو اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حکم و ارشاد کا کوئی بدیل اور متبادل ممکن نہیں، کیونکہ کمال علم اور کمال حکمت اسی وحدہٗ لاشریک کی شان اور اس کی خصوصیت ہے۔ اس کے سوا کسی اور کے لیے یہ ممکن ہی نہیں۔ سبحانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
اسلام امن کا مذہب ہے، عورتوں کے خاص معاملات
تشریح : پچھلی آیات میں جو غیر مسلموں سے دوستی اور اعتبار سے منع کیا گیا ہے تو خاص حالات میں، یعنی جنگ کے حالات میں کیونکہ، دشمن کو کبھی بھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے،۔ مخالفین اکثر مسلمان کو دہشت گرد کہتے ہیں تو ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں دہشت گردی کو کبھی پسند نہیں کیا بلکہ اسلام تو نام ہی امن و سلامتی کا ہے۔ ہماری تاریخ اور نبی اکرم ﷺ کی زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ آپ ﷺ نے صبر سے کفار کی سختیاں برداشت کیں اور پھر چپکے سے ہجرت کر گئے پھر جنگ بدر، احد اور حنین۔ تینوں دفاعی جنگیں تھیں۔ معاہدہ حدیبیہ مکمل طور پر صلح و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
آیات 7 تا 13۔
اسرار ومعارف۔
اللہ قادر ہے کہ وہ تمہارے دشمنوں یعنی کافروں میں سے بھی تمہارے دوست پیدا کردے یعنی بعض کو ایمان نصیب ہوجائے کہ اللہ بہت بڑابخشنے والامہربان ہے۔
کافر سے تعلقات کی نوعیت۔
لیکن اگر وہ مسلمان نہ بھی ہوں تو جن کفار سے اندیشہ نہ ہو کہ مسلمانوں یا اسلام کو نقصان پہنچے گا جو تمہارے خلاف جنگ میں کسی بھی طرح سے شریک نہ ہوں اور مسلمانوں کے گھراجاڑنے اور انہیں گھروں سے نکل جانے پر مجبور کرنے میں ان کا حصہ نہ ہو ان سے حسن سلوک کیا کرو اور مسلمانوں کی فلاحی ریاست کے فلاحی امور سے وہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں نیز سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتے…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی اگر کافر ان عورتوں کا مہر مسلمانوں کو واپس نہ کریں جو کافر ہو کر یا کافر رہ کر دارالاسلام سے کافر کے ہاں چلی جائیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ کافروں کو جو مال لوٹیں اس میں سے ان مسلمان شوہروں کا خرچ ادا کریں جن کی بیویاں داراظفر آجائیں یا دارالکفر سے جو عورتیں مسلمان ہو کر دارالاسلام آجائیں ان کے مہر کافروں کو واپس کرنے کی بجائے ان مسلمان شوہروں کو ادا کریں جن کی بیویاں دارالکفر بھگ جائیں …… کافروں کو سزا دینے کے مفہوم میں یہ دونوں چیزیں شامل ہیں یعنی لڑائی میں مال غنیمت حاصل کرنا یا مقابلہ میں ان کی عورتوں کا مہر ادا کرنا۔ مختلف مفسرین نے یہ دونوں معنی مراد لئے ہیں۔ چناچہ حافظ بن کشمر…
Read the full tafseer →(60:11) وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار۔ جملہ شرطیہ ہے ان شرطیہ۔ فاتکم فات۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکرغائب، فوت (باب نصر) مصدر۔ الفوت کسی چیز کا ہاتھ سے نکل جانا ۔ کسی چیز کا انسان سے اتنی دور ہوجانا کہ اس کا حصول اسکے لئے دشوار ہو۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ شیء بمعنی احد ہے تذلیل اور تحقیر کے لئے لفظ شئی استعمال ہوا ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ (اے مسلمانو ! ) اگر تمہاری بیبیوں میں کوئی عورت تم سے دور (تم کو چھوڑ کر کفار کہ طرف چل جائے اور اس کی واپسی کی کوئی امید نہ ہو) ۔
فعاقبتم :تعقیب کا ۔ پھر۔ عاقبتہ۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ معاقبۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ تمہاری باری آئے۔
فعاقبتم فجاءت عقبتکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
لغات القرآن۔ مجھرات۔ ہجرت کرنے والیاں۔ امتحنوا۔ تم آزمالو۔ جانچ لو۔ اجور۔ اجر۔ بدلہ ۔ مہر۔ لا تمسکوا۔ تم نہ روکو۔ تم تعلق قائم نہ کرو۔ عصم۔ تعلقات نکاح۔
تشریح : ان آیات کو سمجھنے کے لئے بنیادی طور پر ان کے پس منظر پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اصل میں صلح حدیبیہ میں جو شرائط طے کی گئی تھیں ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی شخص مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئے گا تو اس کو واپس کردیا جائے گا اس کے برخلاف اگر کوئی مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو کفار قریش اس کو واپس کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جس میں بظاہر عورتیں اور مردو دونوں شامل تھے لیکن پے در پے کچھ ایسے واقعات پیش آئے جن…
Read the full tafseer →(ف 1) شان نزول : اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مسلمانوں نے تو مہاجر عورتوں کے مہر ان کے کافر شوہروں کو ادا کردیے اور کافروں نے مرتدات کے مہر مسلمانوں کو ادا کرنے سے نکار کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس نے ان عورتوں کے مہر دینے میں جو مرتد ہوکردارالحرب میں چلی گئی تھیں فرمایا کہ مومنین مہاجرین کی عورتوں میں چھ عورتیں ایسی تھیں جنہوں نے دارالحرب کو اختیار کیا اور مشرکین کے ساتھ لاحق ہوئیں اور مرتد ہوگئیں رسول کریم نے ان کے شوہروں کو مال غنیمت سے ان کے مہر عطا فرمائے۔
(فائدہ) ان آیتوں میں مہاجرات کے امتحان اور کفار نے اپنی بی بیوں پر جو خرچ کیا ہو وہ بعد ہجرت انہیں دینا، اور مسلمانوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
[15] جس طرح مہاجر عورتوں کی جانچ پڑتال کی تاکید فرمائی اسی طرح اس آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ جو عورتیں اسلام میں داخل ہونے کے لئے آئیں وہ بھی یوں داخل نہ کرلی جائیں جب تک کہ اسلام کے تمام معروفات کے ساتھ ان برائیوں سے بچتے رہنے کا اقرار نہ لے لیا جائے جو جاہلی معاشرے میں عام تھیں تاکہ اسلامی معاشرے میں ان برائیوں کے جراثیم نہ پھیلنے پائیں۔
[16] اسقاط حمل بھی اس حکم میں داخل ہے۔
[17] عربی محاورے میں اس کا مطلب ہے اپنی بدکاری کی اولاد کو اپنے شوہر کی اولاد بنادینا یا کسی غیر کا بچہ اٹھا لا کر اسے اپنی اور اپنے شوہر کی اولاد مشہور کردینا۔
[18] یہاں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت پر نیک کام میں اطاعت کی قید…
Read the full tafseer →ف 1: یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ کسی مسلمان مرد کی بوی مرتد ہوکر دارلکفر میں چی جائے یا فرار ہوجائے ۔ اور تو وہ کافر جو اس کو اپنے عقد میں لے مسلمان کو اس کا خرچہ نہ دے ۔ ایسی حالت میں جو کافر عورت دارالاسلام میں آئیگی ۔ اور مسلمان سے نکاح کرلے گی ۔ اس کا خرچہ اس کافر کو نہیں دیاجائیگا ۔ جو اس کا دارالکفر میں خاوند تھا ۔ بلکہ اس مسلمان کو دیا جائیگا ۔ جو اپنا خرچہ کفار سے نہیں وصول کرسکا ۔
Read the full tafseer →(11) اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی عورت کافروں کی طرف چلے جانے سے تم کو چھوڑ جائے اور کافر اس کا مہر تم کو واپس نہ کریں پھر تمہاری نوبت آجائے یعنی مہر واپس کرنے کی مثلاً کوئی کافرہ عورت مسلمان ہوکر آجائے تو وہ مہر بجائے کافروں کے ان مسلمانوں کو اس قدر دو جتنا کہ انہوں نے خرچ کیا تھا جن کی بیویاں ہاتھ سے نکل گئی ہیں اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ یعنی اگر کفار تمہارے مہر نہ دیں جیسا کہ انہوں نے نقص عہد کیا کہ اپنی عورتوں کے مہر تو وصول کرتے اور جب کسی مرتدہ کا جو مدینے سے نکل کر مکہ بھاگ آئی مہر دینا پڑتا تو انکار کردیتے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر ایسا موقعہ آجائے تو تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 6۔ یعنی اس امتحان میں ظاہری ایمان پر اکتفا کیا کرو کیونکہ ان کے حقیقی ایمان کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے، تم کو تحقیق ہو ہی نہیں سکتا۔
1۔ یعنی جو تمہاری بیبیاں دارالحرب میں کفر کی حالت میں رہ گئیں ان کا نکاح تم سے زائل ہوگیا۔
Read the full tafseer →اگر کفار کی طرف سے حق مہر واپس نہ ملے جو تم نے ان بیویوں کو دیا تھا ، تو اس کا حکم
11 ؎ (عاقبتم) کا مادہ ع ق ب ہے ۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ۔ تم نے بدلہ دیا ، تم نے سزا دی ، تمہاری باری آئی ( معاقبۃ) زیر نظر آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ” اگر جاتی رہیں تمہارے ہاتھ سے کوئی تمہاری عورتیں کافروں کی طرف پھر تمہاری نوبت آئے تو ان کو اتنا مال دے دو جن کی عورتیں کفار کی طرف چلی گئی ہیں ان لوگوں کو جتنا کہ انہوں نے ان عورتوں کو حق مہر دیا تھا لیکن کفار اس حق مہر کو لوٹانے پر راضی نہ ہوئے تھے اب جب تمہاری باری آگئی ہے تو اتنا مال روک کر تم خود ان لوگوں کو ادا کر دو تاکہ عدل اور برابری قائم رہ سکے ۔ یہ…
Read the full tafseer →وَإِن فَاتَكُمْ شَيْءٌ مِّنْ أَزْوَاجِكُمْ إِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَآتُوا الَّذِينَ ذَهَبَتْ أَزْوَاجُهُم مِّثْلَ مَا أَنفَقُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي أَنتُم بِهِ مُؤْمِنُونَ
And if some of your [ non-Muslim ] wives have slipped from you, [ and their present non-Muslim husbands do not pay to you the dower as aforesaid,] and you have your turn [ of paying dower to the previous non-Muslim husbands of your present wives ], then [ instead of paying dower to them,] give those whose wives have slipped the like amount of what they had paid [ to them ]. And fear Allah, the One in…
Read the full tafseer →17 This thing had two alternatives and the verse applies to both. First, with the disbelievers with whom the Muslims had treaty relations, they wanted to settle the matter, thus: "We shall return the dowers of the women who have emigrated to us, and you will return the dowers of the pagan wives of our men) who have been left on your side." But the disbelievers did not agree to this. However, according to Imam Zuhri, the Muslims, in obedience to the Divine Command became ready to return the dowers of the women who were left behind with the pagans in Makkah, but the pagans refused to return the…
Read the full tafseer →