Al-Mumtahana 60:12

Al-Mumtahana · from ayah 12

60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤی اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْـًٔا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِذَا جَآءَكَ الۡمُؤۡمِنٰتُ يُبَايِعۡنَكَ عَلٰٓى اَنۡ لَّا يُشۡرِكۡنَ بِاللّٰهِ شَيۡـئًا وَّلَا يَسۡرِقۡنَ وَلَا يَزۡنِيۡنَ وَلَا يَقۡتُلۡنَ اَوۡلَادَهُنَّ وَلَا يَاۡتِيۡنَ بِبُهۡتَانٍ يَّفۡتَرِيۡنَهٗ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِنَّ وَاَرۡجُلِهِنَّ وَلَا يَعۡصِيۡنَكَ فِىۡ مَعۡرُوۡفٍ‌ فَبَايِعۡهُنَّ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُنَّ اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏

اے پیغمبر! جب تمہارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ خدا کے ساتھ نہ شرک کریں گی نہ چوری کریں گی نہ بدکاری کریں گی نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھ لائیں گی اور نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O Prophet, when the believing women come to you pledging to you that they will not associate anything with Allah, nor will they steal, nor will they commit unlawful sexual intercourse, nor will they kill their children, nor will they bring forth a slander they have invented between their arms and legs, nor will they disobey you in what is right - then accept their pledge and ask forgiveness for them of Allah. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mumtahana

All translations of 60:12

اے نبیؐ، جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لیے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا نہ کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی، اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی، اور کسی امر معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی، تو ان سے بیعت لے لو اور اُن کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کرو، یقیناً اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پیغمبر! جب تمہارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ خدا کے ساتھ نہ شرک کریں گی نہ چوری کریں گی نہ بدکاری کریں گی نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھ لائیں گی اور نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے پیغمبر! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ وه اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا کاری نہ کریں گی، اپنی اوﻻد کو نہ مار ڈالیں گی اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی نیک کام میں تیری بےحکمی نہ کریں گی تو آپ ان سے بیعت کر لیا کریں، اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے اور معاف کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے نبی ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں مانیں گی، اور چوری نہیں کریں گی، اور زنا نہیں کریں گی، اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اور نہ کوئی ایسا بہتان باندھیں گی جو انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیا ہو، اور نہ کسی بھلے کام میں تمہاری نافرمانی کریں گی، تو تم ان کو بیعت کرلیا کرو، اور ان کے حق میں اللہ سے مغفرت کی دعا کیا کرو، یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللہ کا کچھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لو اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے نبی! جب آپ کی خدمت میں مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور چوری نہیں کریں گی اور بدکاری نہیں کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان سے کوئی جھوٹا بہتان گھڑ کر نہیں لائیں گی (یعنی اپنے شوہر کو دھوکہ دیتے ہوئے کسی غیر کے بچے کو اپنے پیٹ سے جنا ہوا نہیں بتائیں گی) اور (کسی بھی) امرِ شریعت میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی، تو آپ اُن سے بیعت لے لیا کریں اور اُن کے لئے اللہ سے بخشش طلب فرمائیں، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے نبی ! جب تیرے پاس مومن عورتیں آئیں، تجھ سے بیعت کرتی ہوں کہ وہ نہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ کوئی بہتان لائیں گی جو اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کے درمیان گھڑ رہی ہوں اور نہ کسی نیک کام میں تیری نافرمانی کرینگی تو ان سے بیعت لے لے اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کر۔ یقینا اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے نبی ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ان امور پر بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گی، نہ چوری کریں گی، نہ زنا کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی، اپنے ہاتھ اور پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی اور کسی نیک امر میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گی تو آپ ان سے بیعت کرلیجئے اور ان کے لئے اللہ سے معافی مانگئے۔ اللہ تعالیٰ یقینا بخشنے والا ہے رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے پیغمبر، جب تمہارے پاس مومنہ عورتیں اس بات پر بیعت کے لیے آئیں کہ وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ وہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کی مرتکب ہوں گی اور نہ وہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان سے متعلق کوئی بہتان تراشیں گی اور نہ کسی امر معروف میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو، بیشک اللہ غور و رحیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے نبی جب مومن عورتیں آپ کے پاس ان باتوں پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ نہ تو وہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک ٹھہرائیں گی نہ چوری کریں گی نہ زنا کریں گی نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ ہی وہ کوئی ایسا بہتان لائیں گی جس کو وہ گھڑیں اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان اور نہ ہی وہ آپ کی نافرمانی (اور حکم عدولی) کریں گی نیکی کے کسی بھی کام میں تو آپ ان کی بیعت کو قبول کرلیا کریں اور ان کے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کیا کریں بلاشبہ اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا انتہائی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اے پیغمبر جب مسلمان عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ کے ساتھ نہ کسی کو شریک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی نہ کوئی بہتان کی اولاد لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گڑھ لیں مشروع باتوں میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گی تو آپ ان کی بیعت کرلیا کیجئے۔ اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کرلیا کیجئے بیشک اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے نبی ﷺ جب آپ کے پاس آئیں مومن خواتین آپ سے بیعت کرنے کے لیے اس بات پر کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی اور نہ چوری کریں گی نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ کوئی بہتان باندھیں گی جو ان کے ہاتھوں اور پائوں کے مابین سے ہو تو (اے نبی ﷺ آپ ان سے بیعت لے لیں اور ان کے لیے استغفار کریں۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے و الا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر ! جب آپ کے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے آئیں کہ اللہ کے ساتھ نہ تو شرک کریں گی نہ چوری کریں گی، نہ بد کاری کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی، نہ اپنے ہاتھ پاؤں پر کوئی بہتان باندھ لائیں گی نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لیے اللہ سے بخشش مانگو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

O Prophet, when believing women come to you and pledge to you that they will not associate aught with Allah in His Divinity, that they will not steal, that they will not commit illicit sexual intercourse, that they will not kill their children, that they will not bring forth a calumny between their hands and feet, and that they will not disobey you in anything known to be good, then accept their allegiance and ask Allah to forgive them. Surely Allah is Most Forgiving, Most Compassionate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, when the believing women come to you, seeking bai‘ah (a pledge of allegiance) with you that they will not ascribe any partner to Allah, and will not commit theft, and will not commit fornication, and will not kill their children, and will not come up with a false claim (about the parentage of a child) that they falsely attribute (to the sperm of their husbands being dropped) between their hands and their feet (i.e. their private parts) , and will not disobey you in what is recognized (in Shari'ah) , then take them in your bai‘ah, and pray Allah for their forgiveness. Surely Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, when the believing women come to you, seeking bai‘ah (a pledge of allegiance) with you that they will not ascribe any partner to Allah, and will not commit theft, and will not commit fornication, and will not kill their children, and will not come up with a false claim (about the parentage of a child) that they falsely attribute (to the sperm of their husbands being dropped) between their hands and their feet (i.e. their private parts) , and will not disobey you in what is recognized (in Shariah) , then take them in your bai‘ah, and pray Allah for their forgiveness. Surely Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O Prophet! When the believing women come to you pledging to you that they will not associate anything with Allah, and that they will not steal, and that they will not commit Zina, and that they will not kill their children, and that they will not utter slander, fabricating from between their hands and their feet, and that they will not disobey you in Ma`ruf (good), Allah said to the faithful believers,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O Prophet! If believing women come unto thee, taking oath of allegiance unto thee that they will ascribe no thing as partner unto Allah, and will neither steal nor commit adultery nor kill their children, nor produce any lie that they have devised between their hands and feet, nor disobey thee in what is right, then accept their allegiance and ask Allah to forgive them. Lo! Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O Prophet, when the believing women come to you pledging to you that they will not associate anything with Allah, nor will they steal, nor will they commit unlawful sexual intercourse, nor will they kill their children, nor will they bring forth a slander they have invented between their arms and legs, nor will they disobey you in what is right - then accept their pledge and ask forgiveness for them of Allah. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Prophet, when believing women come to you pledging not to consider anything equal to God, not to steal, or to commit fornication, not to kill their children, or to bring false charges against anyone (such as ascribing others children to their husbands), and not to disobey you in lawful matters, accept their pledge, and ask forgiveness for them from God. God is All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

O Prophet! when believing women come to you giving you a pledge that they will not associate aught with Allah, and will not steal, and will not commit fornication, and will not kill their children, and will not bring a calumny which they have forged of themselves, and will not disobey you in what is good, accept their pledge, and ask forgiveness for them from Allah; surely Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

O Prophet! when believing women come Unto thee swearing fealty Unto thee, that they shall not associate aught with Allah, nor they shall steal, nor they shall commit fornication, nor they shall slay their children, nor they shall produce any falsehood that they have fabricated between their hands and feet, nor they shall disobey thee in anything reputable, then accept thou their fealty, and pray to Allah for their forgiveness. Verily Allah is Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

O Prophet! When believing women come to thee to take the oath of fealty to thee, that they will not associate in worship any other thing whatever with Allah, that they will not steal, that they will not commit adultery (or fornication), that they will not kill their children, that they will not utter slander, intentionally forging falsehood, and that they will not disobey thee in any just matter,- then do thou receive their fealty, and pray to Allah for the forgiveness (of their sins): for Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 60:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

خواتین کا طریقہ بیعت صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ہے جو مسلمان عورتیں آنحضرت ﷺ کے پاس ہجرت کر کے آتی تھیں ان کا امتحان اسی آیت سے ہوتا تھا جو عورت ان تمام باتوں کا اقرار کرلیتی اسے حضور ﷺ زبانی فرما دیتے کہ میں نے تم سے بیعت کی یہ نہیں کہ آپ ان کے ہاتھ سے ہاتھ ملاتے ہوں اللہ کی قسم آپ نے کبھی بیعت کرتے ہوئے کسی عورت کے ہاتھ کو ہاتھ نہیں لگایا صرف زبانی فرما دیتے کہ ان باتوں پر میں نے تیری بیعت لی، ترمذدی نسائی ابن ماجہ مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ حضرت امیہ بنت رفیقہ فرماتی ہیں کئی ایک عورتوں کے ساتھ میں بھی آنحضرت ﷺ سے بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئی تو قرآن کی اس آیت کے مطابق آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُمْتَحِنَة 18 جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں، یہ آیت فتح مکہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس کے بعد جب مکہ فتح ہوا تو قریش کے لوگ جوق در جوق حضور ﷺ سے بیعت کرنے کے لیے حاضر ہونے لگے۔ آپ نے مردوں سے کوہ صفا پر خود بیعت لی اور حضرت عمر کو اپنی طرف سے مامور فرمایا کہ وہ عورتوں سے بیعت لیں اور ان باتوں کا اقرار کرائیں جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں (ابن جریر بروایت ابن عباس۔ ابن ابی حاتم بروایت قتادہ)۔ پھر مدینہ واپس تشریف لے جا کر آپ نے ایک مکان میں انصار کی خواتین کو جمع کرنے کا حکم دیا اور حضرت عمر کو ان سے بیعت لینے کے لیے بھیجا (ابن جریر، ابن مردویہ، بزار، ابن حبان، بروایت ام عطیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–13

عورتوں کی بیعت يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ الایة، اس آیت میں مسلمان عورتوں سے ایک تفصیلی بیعت لینے کا ذکر ہے جس میں ایمان و عقائد کے ساتھ احکام شرعیہ کی پابندی کا بھی معاہدہ ہے، سابقہ آیات جن کے سیاق میں یہ آیت بیعت آئی ہے وہ اگرچہ ان مہاجرات کے ایمان کا امتحان کرنے کے سلسلے میں ہے اور یہ بیعت ان کے امتحان ایمان کی تکمیل ہے، لیکن الفاظ آیت عام ہیں، نو مسلم مہاجرات کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ سب مسلمان عورتوں کے لئے عام ہیں اور واقعہ بھی اسی طرح پیش آیا کہ بیعت مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے والی صرف نو مسلم مہاجرات ہی نہیں دوسری قدیم عورتیں بھی شریک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(یایھا النبی اذا جاءک المومنت یبایعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیئا ولا یسرقن ولا یزنین ولا یقتلن اولاد ھن ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن وارجلھن ولا یعصینک فی معروف فبایعھن واسغفرلھن اللہ ان اللہ غفور رحیم) (12)۔ (عام عورتوں سے متعلق ایک احتیاطی ہدایت)۔ اور جس طرح مہاجرات کے امتحان کی ہدایت فرمائی اسی طرح اس آیت میں یہ ہدایت فرمائی کہ جو عورتیں اسلام میں داخل ہونے کے لیے آئیں وہ بھی یوں ہی داخل نہ کرلی جائیں بلکہ ان سے اسلام کے تمام معروفات کی پابندی کے ساتھ ساتھ خاص طور پر ان برائیوں سے بچتے رہنے کا اقرار لیا جائے جو جاہلی معاشرے میں عام رہی ہیں تاکہ اسلامی معاشرہ میں ان برائیوں کے جراثیم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 یہ بیعت اس وقت لیتے جب عورتیں ہجرت کرکے آتیں جیسا کہ صحیح بخاری تفسیر سورة ممتحنہ میں ہے علاوہ ازیں فتح مکہ والے دن بھی آپ ﷺ نے قریش کی عورتوں سے بیعت لی بیعت لیتے وقت آپ ﷺ صرف زبان سے عہد لیتے کسی عورت کے ہاتھ کو آپ نہیں چھوتے تھے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں اللہ کی قسم بیعت میں نبی ﷺ کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا بیعت کرتے وقت آپ ﷺ صرف یہ فرماتے کہ میں نے ان باتوں پر تجھ سے بیعت لے لی۔ صحیح بخاری۔ بیعت میں آپ ﷺ یہ عہد بھی عورتوں سے لیتے تھے کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی گریبان چاک نہیں کریں گی سر کے بال نہیں نوچیں گی اور جاہلیت کی طرح بین نہیں کریں گی۔ صحیح بخاری۔ اس بیعت میں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

10: عربی محاورے کے مطابق ”ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان“ بہتان باندھنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ کھلم کھلا اور جانتے بوجھتے کسی پر جھوٹا بہتان باندھا جائے، اور ”ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان“ بہتان باندھنے کا دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو اپنے شوہر کا بیٹا قرار دیں جو درحقیقت اس کا نہیں ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں عورتیں یا تو کسی اور کا بچہ اٹھا لاتیں اور کہتیں کہ یہ میرے شوہر کا بچہ ہے، یا جانتے بوجھتے زنا کرتیں، اور اس حرام کی اولاد کو اپنے شوہر کی طرف منسوب کرتی تھیں۔ یہاں اس گھناؤنے جرم سے باز رہنے کا معاہدہ کرانا مقصود ہے۔ واضح رہے کہ جب آنحضرت ﷺ کسی عورت کو بیعت کرتے تھے تو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو بتایا جاتا ہے کہ یہ عورتیں جو مہاجر ہوگئی ہیں ان سے کن باتوں پر بیعت لی جائے گی۔ یہ عورتیں یا وہ عورتیں جو اسلام میں داخل ہونا چاہتی ہیں ان کی بیعت یہ ہوگی : یایھا النبی ............................ غفور رحیم (06 : 21) ” اے نبی جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لئے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیزکو شریک نہ کریں گی ، چوری نہ کریں گی ، زنانہ کریں گی ، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی ، اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی ، اور کسی امر معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی ، تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا کہ رسمی ننگ و عار کی وجہ سے لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے اور بعض اوقات فقروفاقہ کے خوف سے لڑکوں کو بھی قتل کر ڈالتے تھے۔ 6 طوفان باندھنا ہاتھ پاؤں میں، یہ کہ کسی پر جھوٹا دعویٰ کریں یا جھوٹی گواہی دیں یا کسی معاملہ میں اپنی طرف سے بنا کر جھوٹی قسم کھائیں، اور ایک معنی یہ کہ بیٹا جنا ہو کسی اور سے اور منسوب کردیں خاوند کی طرف، یا کسی دوسری عورت کی اولاد لے کر مکروفریب سے اپنی طرف نسبت کرلیں۔ حدیث میں ہے کہ جو کوئی ایک کا بیٹا دوسرے کی طرف لگائے جنت اس پر حرام ہے۔ 1 پہلے فرمایا تھا کہ مسلمان عورتوں کی (جو ہجرت کر کے آئیں) جانچ کی جائے۔ یہاں بتلا دیا کہ ان کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12{ یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ } ”اے نبی ﷺ جب آپ کے پاس آئیں مومن خواتین آپ سے بیعت کرنے کے لیے“ اب آگے بیعت کا وہ متن دیا گیا ہے جس کا ذکر سطور بالا میں ہوا تھا : { عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا } ”اس بات پر کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی“ { وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَہُنَّ } ”اور نہ چوری کریں گی ‘ نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی“ { وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُہْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْہِنَّ وَاَرْجُلِہِنَّ } ”اور نہ وہ کوئی بہتان باندھیں گی جو ان کے ہاتھوں اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 عورتوں کی بیعت کن باتوں پر :۔ یعنی امتحان کے بعد ان مہاجر عورتوں کو نیز عام مسلمان عورتوں کو بیعت کا حکم ہوا۔ اور یہ بیعت صرف رسول اللہ لیں گے۔ کیونکہ اس آیت کے مخاطب آپ ہی ہیں۔ اور جن گناہوں سے اجتناب پر بیعت لی جائے گی وہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔ ان میں سب سے بڑا گناہ تو شرک ہے جو بالخصوص اللہ کے حق سے تعلق رکھتا ہے۔ دوسرے سب گناہ حدی جرائم ہیں۔ اور حقوق العباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان پانچ گناہوں میں سے شرک کے علاوہ باقی چار گناہ ایسے ہیں جن پر حد لگتی ہے۔ یہ تو وہ گناہ ہیں جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کئی ایسے گناہ کے کاموں سے اجتناب پر بیعت لیتے تھے جن کا ذکر احادیث میں مذکور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21۔ (بلالحاظ ان کے تاریک اور گندے ماضی کے) (آیت) ” ان ؛...... شیئا “۔ شرک کے مرض میں تو جاہلیت عرب کی ساری ہی عورتوں مبتلا تھیں، (آیت) ” ولا یسرقن “۔ چوری بھی جاہلیت کے قانون اور رواج میں اس درجہ معیوب وشرمناک نہ تھی۔ (آیت) ” ولا یزنین “۔ حرام کاری تو تہذیب عرب میں اسی طرح داخل فیشن تھی جیسی آج جاہلیت فرنگ کی تہذیب میں ہے۔ (آیت) ’ ولایقتلن اولادھن “۔ اس کے تحت میں دختر کشی واولاد کشی بلکہ اسقاط اور منع حمل کی چلی ہوئی ساری صورتیں آگئیں۔ (آیت) ” ولا .... ارجلھن “۔ عربی محاورہ میں اس کا مطلب ہے اپنی بدکاری کی اولاد کو اپنے شوہر کی اولاد بنا دینا، یا کسی غیر کا بچہ اٹھا لاکر اسے اپنی اور اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–13

عورتوں کی بیعت : جب مکہ فتح ہوا تو قریش کے لوگ جوق در جوق حضور ﷺ سے بیعت کرنے کے لئے آنے لگے آپ ﷺ نے مردوں سے کوہ صفا پر خود بیعت لی، اور حضرت عمر ؓ کو اپنی طرف سے مامور فرمایا کہ وہ عورتوں سے بیعت لیں اور ان باتوں کا اقرار کرائیں جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں (ابن جریر بروایت ابن عباس ؓ پھر مدینہ واپس لے جا کر آپ ﷺ نے ایک مکان میں انصار کی خواتین کو جمع کرنے کا حکم دیا اور حضرت عمر ؓ کو ان سے بیعت لینے کے لئے بھیجا۔ (ابن جریر) ان مواقع کے علاوہ بھی مختلف اوقات میں عورتیں فرداً فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کرتی رہیں جن کا ذکر متعدد احادیث میں ہے۔ ابوسفیان ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا النبی اذا جاءک المومنت یبایعنک علی ان الا یشرکن باللہ شیئا ولا یسرقن ولا یزنین ولا یقتلن اولادھن ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن وارجلھن ولا یعصینک فی معروف فبا یعھن واستغفر لھن اللہ ان اللہ غفور رحیم . ” اے نبی ! اگر مسلمان عورتیں آپ کے پاس (اس غرض سے) آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہ بہتان کی اولاد لائیں گی جس کے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان (نطفہ شوہر سے جنی ہوئی اولاد) ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرتی ہوں اور نہ شرعی باتوں میں آپ کی نافرمانی کریں گی تو آپ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے نبی اکرم فتح مکہ کے بعد جب اہل مکہ کی مسلمان عورتیں آپ کے پاس آئیں اور آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی اور نہ اس چیز کو حلال سمجھیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی زندہ لڑکیوں کو دفن کریں گی اور نہ ان باتوں کو حلال سمجھیں گی اور نہ کوئی بہتان کی اولاد لائیں گی کہ جس کو اپنے خاوند کی طرف منسوب کردیں کہ یہ تیرا لڑکا ہے اور میں نے جنا ہے اور تمام ان باتوں میں جن کا آپ ان کو حکم دیں اور جسن سے آپ ان کو منع کریں آپ کی خلاف ورزی نہیں کریں گی۔ مثلا نوحہ نہیں کریں گی بال نہیں رلائیں گی، کپڑے نہیں پھاڑیں گی، چہرے نہیں نوچیں گی،…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ یٰٓـاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ۔۔۔۔: عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ جو مومن عورتیں آپ ﷺ کی طرف ہجرت کر کے آتیں آپ ان کا امتحان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ لیتے تھے :(یٰٓـاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ۔۔۔۔ غفور رحیم) تو ان مومن عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کرلیتی رسول اللہ ﷺ اسے فرماتے :(قد بایعتک) ”میں نے تم سے بیعت لے لی“۔ صرف کلام کے ساتھ اور اللہ کی قسم ! آپ ﷺ کے ہاتھ سے بیعت لیتے وقت کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا ، آپ ان سے صرف ان الفاظ کے ساتھ بیعت لیتے تھے :(قد بایعتک علم ذلک) (بخاری ، التفسیر ، سورة الممتحنۃ ، باب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیات۔ 12 تفسیر اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یا یھا ………جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ کو فتح کیا تو مکہ مکرمہ کی عورتیں بیعت کرنے کے لئے آئیں تو نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ان سے عہد لیں کہ وہ شرک نہیں کریں گی۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ تھیں نے کہا : مومن عورتیں جب رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کرتیں تو ان کا امتحان اس آیت کے ساتھ لیا جاتا یایھا……(2) ۔ مومنات میں سے جس نے اقرار کرلیا تو اس نے محنۃ کا اقرار کرلیا۔ جب وہ یہ اقرار کرلیتیں تو رسول اللہ ﷺ انہیں فرماتے :” جائو میں نے تم سے بیعت لے لی ہے “۔ اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ نے کسی عورت کے ہاتھ کو مس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–13

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید والبخاری وابن ماجہ وابن المنذر وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت کے مطابق اس عورت کا امتحان لیتے تھے جو مومن عورتوں میں سے آپ کی طرف ہجرت کر کے آتی تھی آیت یا ایہا النبی اذاجاءک المومنت یبایعنک سے لے کر غفور رحیم تک۔ اے نبی اگر مسلمان عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں۔ جو عورت ایمان والی عورتوں میں سے اس شرط پر اقرار کرلیتی۔ تو اس کو رسول اللہ ﷺ فرماتے میں نے تیری بیعت کرلی ہے۔ اللہ کی قسم کبھی آپ نے عورت کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوا بیعت کرنے میں جو آپ ان سے بیعت فرماتے تھے مگر یہ بات فرماتے تھے کہ میں نے اس آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ : اے نبی جب کبھی آئیں آپ کے پاس مومن عورتیں ][ يُبَايِعْنَكَ : (کہ) وہ بیعت کرتی ہیں آپ سے ][ عَلٰٓي ان : اس بات پر کہ ][ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَـيْـــــًٔــا : وہ شریک نہیں کریں گی اللہ کے ساتھ کسی چیز کو ][وَّلَا يَسْرِقْنَ : اور وہ چوری نہیں کریں گی ][وَلَا يَزْنِيْنَ : اور وہ زنا نہیں کریں گی ][ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ : اور قتل نہیں کریں گی اپنی اولاد کو ][ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَان : اور وہ نہیں لائیں گی کوئی ایسا بہتان ][يَّفْتَرِيْنَهٗ : انھوں نے گھڑا ہو جس کو ][ بَيْنَ اَيْدِيْ هِنَّ وَاَرْجُلِ هِنَّ : اپنے ہاتھوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

بیعت کے الفاظ اور شرائط کا بیان صلح حدیبیہ کے اگلے سال مکہ معظمہ فتح ہوگیا، اہل مکہ تو ڈر رہے تھے کہ دیکھو ہماری زیادتیوں کے بدلہ میں ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے لیکن حضور اقدس ﷺ نے لاتثریب علیکم الیوم پڑھ کر سب کچھ معاف فرما دیا اکاد کا بعض افراد کے سوا عموماً اہل مکہ سب ہی مسلمان ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے مردوں سے بھی عہد لیا اور عورتوں سے بھی، عورتوں سے جو عہد لیا تھا وہ اس آیت میں بیان فرمایا ہے عام طور پر جو عورتیں ہجرت کر کے آتی تھیں رسول اللہ ﷺ ان سے ان چیزوں پر عہد لیتے تھے اور زبانی بیعت فرما کر رخصت کردیتے تھے۔ آیت بالا میں چھ چیزیں مذکور ہیں جن پر بیعت کرنے کا حکم ہے۔ علماء نے بتایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–13

حکم امتحان مہاجرات مومن ات و احکام بیعت و اطاعت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ..... الی ...... من اصحب القبور “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ دوستی اور موالات کے کچھ احکام بیان کیے گئے تھے اور یہ تلقین کی گئی تھی کہ مسلمانوں کو اس معاملہ میں اسوۂ ابراہیماختیار کرنا چاہئے اور نہایت واضح طور پر منع کردیا گیا کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ کسی طرح موالات و دوستی جائز نہیں اسی کے ساتھ ان کافروں سے بہتر سلوک کرنے کی اجازت دے دی گئی جو نہ تو کبھی مسلمانوں سے لڑے اور نہ کسی قسم کی دشمنی کی اب ان آیات میں بعض خاص احکام ایسی عورتوں کے متعلق بیان کیے جارہے ہیں جو ہجرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:۔ ” یا ایہا النبی “ یہ عورتوں کی بیعت کا قانون ہے۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ جب مؤمنہ عورتیں آپ سے بیعت کرنے آئیں تو آپ شرائط ذیل کے مطابق ان کو بیعت فرما لیا کریں۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے جب عورتوں سے بیعت لی تو ان میں ابو سفیان ؓ کی بیوی ہندہ بنت عتبہ بھی موجود تھی اور رسول اللہ ﷺ نے شرائط بیعت پڑھ کر سنائے تو وہ ہر شرط پر تبصرہ کرتی جاتی تھی۔ ابتداء میں آپ نے اس کو نہ پہچانا لیکن دوران گفتگو قرائن سے آپ نے اس کو پہچان لیا۔ پہلی شرط ” لایشرکن باللہ شیئا “ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں۔ اللہ کے سوا کسی نبی، ولی، فرشتہ، جن وغیرہ کو حاجت روا سمجھ کر مافوق الاسباب نہ پکاریں۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–13

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ نے مہاجر عورتوں کے امتحان کا قانون بیان فرمایا کہ اگر کوئی عورت مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو بیعت کرنے سے پہلے ان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیا کرو کہ کیا واقعی انہوں نے دین کی خاطر ہجرت کی ہے یا اس سے کوئی دیگر دنیوی مفاد وابستہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ خاوندوں سے ناراض ہو کر آئی ہوں یا وہ کسی دوسرے شخص کی محبت کی وجہ سے آگئی ہیں ، لہٰذا ان کے متعلق تحقیق کرلینا ضروری ہے۔ اگر قرائن سے معلوم ہوجائے کہ وہ واقعی محض دین کی خاطر ہجرت پر مجبور ہوئی ہیں تو پھر ان کو اپنے ہاں روک لو اور واپس کافروں کی طرف نہ بھیجو۔ عورتوں کے لئے بیعت : اب آج کے درس میں اللہ نے عورتوں کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰٓي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللہِ شَـيْـــــًٔــا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَہُنَّ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُہْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَہٗ بَيْنَ اَيْدِيْہِنَّ وَاَرْجُلِہِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ فَبَايِعْہُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَہُنَّ اللہَ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝ 12 نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة «2» ، وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–13

ترکیب : اذا جاء شرط یبایعنک حال من المؤمنات ولایسرقن ومابعدہ معطوف علی ان لا یشرکن یفترینہ لغت لبھتان اوحال من الضمیر فی یاتین فبایعھن وماعطف علیہ جواب الشرط غضب اللہ علیہم الجملۃ لغت لقوم قد یئسوا الخ۔ لغت اخریٰ من اصحاب القبور متعلق یئس ای یئسوا من بعث اصحاب القبور ویمکن ان یکون حالا ای کائنین من اصحاب القبوروالکاف فی کما فی محل النصب۔ تفسیر : پہلی آیات میں مومنات کے امتحان کا ذکر تھا جب کہ وہ ہجرت کرکے آئیں اور اس کے بعد ہجرت سے جو تفرقہ کافر خاوند اور بیوی میں تھا اس کے احکام تھے کہ باہمی معاہدے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ اب یہاں ان عورتوں کے احکام بیان کرتا ہے جو آنحضرت ﷺ سے بیعت کرنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓـاَیُّھَاالنَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَـکَ عَلٰٓی اَنْ لاَّیُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلاَ یَسْرِقْنَ وَلاَ یَزْنِیْنَ وَلاَ یَقْتُلْنَ اَوْلاَدَھُنَّ وَلاَ یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَـہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاْرْجُلِھِنَّ وَلاَ یَعْصِیْنَـکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْھُنَّ وَاسْتَغْفِرْلَھُنَّ اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (الممتحنۃ : 12) (اے پیغمبر ! جب آپ کے پاس مومن عورتیں آئیں کہ وہ آپ سے بیعت کریں اس بات پر کہ وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ وہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کا ارتکاب کریں گی اور نہ وہ اپنی اولاد کو قتل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیات میں ایمان لانے والی مہاجر عورتوں سے امتحان لینے کا حکم تھا اور اب امتحان کے لیے چند اصول بتلائے جا رہے ہیں۔ پہلی آیت میں نبی ﷺ کی بجائے صحابہ کو خطاب کیا گیا ہے کہ جب مدینہ کی طرف ہجرت کر کے آنے والی عورتیں اپنے ایمان کا دعویٰ کریں تو ان کے ایمان کی جانچ پڑتال کرلیا کرو۔ اب بیعت لینے کے لیے نبی ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ جب آپ کے پاس ایمان لانے والی عورتیں حاضر ہوں تو آپ ان سے ان امور پر بیعت لیا کریں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ 2۔ کسی کا مال چوری نہ کریں۔ 3۔ بدکاری نہ کریں۔ 4۔ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں۔ 5۔ اپنے ہاتھوں اور پاؤں سے کسی پر تہمت نہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شرائط بیعت : 12 : یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآ ئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ (اے نبی اکرم ﷺ اگر مسلمان عورتیں آپ کے پاس (اس غرض سے آئیں کہ ) نحو : یُبَایِعْنَکَ یہ حال ہے۔ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًاوَّلَایَسْرِقْنَ (آپ سے ان ان باتوں پر بیعت کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ) وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْ تِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ (کسی چیز کو شریک نہیں کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گے اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی۔ اور نہ بہتان کی اولاد لائیں گی۔ جس کو وہ اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” وان فاتکم “ اے اہل ایمان۔ ” شیء من ازواجکم الی الکفار “ پس وہ ان کو جاملیں مرتد ہوکر۔ فعاقبتم کے معنی میں مفسرین کے اقوال ” فعا قبتم “ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس کا معنی ہے تم غنیمت حاصل کرو یعنی تم جہاد کرو پھر تم کفار سے عقبیٰ یعنی غنیمت حاصل کرو۔ اور کہا گیا ہے تم غالب ہوجائو اور انجام تمہارے لئے ہو اور کہا گیا ہے تم ان کو قتال میں سزا پہنچائو حتیٰ کہ تم غنیمت حاصل کرلو۔ حمیدا عرج نے فعقبتم “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور زہری (رح) نے ” فعقبتم “ تخفیف کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے اور مجاہد (رح) نے ” فاعقبھم “ پڑھا ہے یعنی تم ان کے ساتھ ویسا کرو جیسا انہوں نے تمہارے ساتھ کیا اور یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–13

12۔ 13۔ جن مہاجر عورتوں کے امتحان لینے کا ذکر اوپر تھا ان ہی کی بیعت کا ذکر ہے یہ بیعت فتح مکہ سے پہلے اور صحیح حدیبیہ کے بعد مدینہ میں لے جاتی تھی اور پھر فتح مکہ کے بعد مکہ کی عام عورتوں سے بھی مکہ میں یہی بیعت لی گئی تھی۔ بیعت کے معنی معاہدے کے ہیں یہ معاہدے شریعت میں کئی طرح کے ہیں۔ ایک یہ معاہدہ ہے اس کو معاہدہ اسلام کہتے ہیں اسی طرح تنگ دست مہاجروں سے ایک معاہدہ یہ لیا گیا تھا کہ وہ کسی سے کوئی چیز مانگا نہ کریں۔ ان کے سواء اور بھی معاہدے ہیں جن کا ذکر اپنی اپنی جگہ ہے یہی معاہدہ اسلام مردوں سے بھی مکہ میں فتح مکہ کے بعد لیا گیا تھا بعض مفسروں نے اس معاہدہ کو وہ معاہدہ خیال کیا ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اس آیت کریمہ میں مذکورہ شرائط عورتوں کی بیعت کے نام سے موسوم ہیں جو ان مشرت کہ واجبا کی ادئیگی پر بیعت کرتی تھیں جو تمام اوقات میں مردوں اور عورتوں پر واجب ہیں رہے مرد، تو ان کے احوال و مراتب کے مطابق جو واجبات ان پر لازم آتے اور متعین ہوتے ہیں، ان میں تفاوت ہے اللہ تعالیٰ نبی کو جو حکم دیتا تھا آپ اس کو بجالاتے تھے جب عورتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی درخواست کرتیں اور ان مذکورہ شرائط کا التزام کرتیں تو آپ ان سے بیعت لے لیا کرتے تھے آپ ان کے دل جوئی کرتے اور ان امور میں اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بخشش طلب کرتے جن میں انسے کوتاہی واقع ہوتی اور انہی جملہ مومنین میں ان شرائط کے ساتھ شامل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–13

مہاجر خواتین کے بارے میں حضور ﷺ کو کیا حکم ہوا ؟ قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اذا جآء ک المومنات مھاجرات، اے ایمان لانے والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آجائیں) تا آخر آیت۔ زہری نے عروہ سے، انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ سے اور انہوں نے حضور ﷺ کے صحابہ سے روایت کی ہے کہ صلح حدیبیہ میں سہیل بن عمرو نے قریش کی طرف سے حضور ﷺ کو ایک شرط یہ پیش کی تھی کہ ہمارا کوئی آدمی اگر آپ لوگوں کے پاس آجائے گا تو آپ اسے ضرور ہمارے پاس واپس بھیج دیں گے خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ سہیل بن عمرو کے بیٹے حضرت ابوجندل ؓ کو واپس ان کے باپ کے پاس بھیج دیا گیا بلکہ اس مدت میں جو مرد بھی بھاگ کر حضور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 44] عورتوں کی بیعت سے متعلق بعض خاص ہدایات کا ذکر وبیان : سو اس سے عورتوں سے بیعت لینے کے بارے میں بعض خاص ہدایات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب آپ کے پاس ایماندار عورتیں بیعت کرنے کیلئے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔ خواہ وہ لکڑی پتھر وغیرہ کی کوئی بےجان مورتی ہو، یا کوئی زندہ یا مردہ انسان ہو، یا کوئی بھی اور چیز " شیئا " کی تنکیروتعمیم ان سب کو عام وشامل ہے، سو جس طرح اوپر مہاجرات کے امتحان کی ہدایت فرمائی گئی تھی اسی طرح اب اس آیت کریمہ میں یہ ہدایت فرمائی جا رہی ہے کہ جو عورتیں آپ کے پاس اسلام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–13

اسلام امن کا مذہب ہے، عورتوں کے خاص معاملات تشریح : پچھلی آیات میں جو غیر مسلموں سے دوستی اور اعتبار سے منع کیا گیا ہے تو خاص حالات میں، یعنی جنگ کے حالات میں کیونکہ، دشمن کو کبھی بھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے،۔ مخالفین اکثر مسلمان کو دہشت گرد کہتے ہیں تو ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں دہشت گردی کو کبھی پسند نہیں کیا بلکہ اسلام تو نام ہی امن و سلامتی کا ہے۔ ہماری تاریخ اور نبی اکرم ﷺ کی زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ آپ ﷺ نے صبر سے کفار کی سختیاں برداشت کیں اور پھر چپکے سے ہجرت کر گئے پھر جنگ بدر، احد اور حنین۔ تینوں دفاعی جنگیں تھیں۔ معاہدہ حدیبیہ مکمل طور پر صلح و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–13

آیات 7 تا 13۔ اسرار ومعارف۔ اللہ قادر ہے کہ وہ تمہارے دشمنوں یعنی کافروں میں سے بھی تمہارے دوست پیدا کردے یعنی بعض کو ایمان نصیب ہوجائے کہ اللہ بہت بڑابخشنے والامہربان ہے۔ کافر سے تعلقات کی نوعیت۔ لیکن اگر وہ مسلمان نہ بھی ہوں تو جن کفار سے اندیشہ نہ ہو کہ مسلمانوں یا اسلام کو نقصان پہنچے گا جو تمہارے خلاف جنگ میں کسی بھی طرح سے شریک نہ ہوں اور مسلمانوں کے گھراجاڑنے اور انہیں گھروں سے نکل جانے پر مجبور کرنے میں ان کا حصہ نہ ہو ان سے حسن سلوک کیا کرو اور مسلمانوں کی فلاحی ریاست کے فلاحی امور سے وہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں نیز سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 حمل کو روکنا یا وقت سے پہلے گرا دینا بھی اس کے تحت آتا ہے بشرطیکہ کسی طبعی یا شرعی مجبوری کے تحت نہ ہو۔11 شاہ صاحب لکھتے ہیں : ایک معنی یہ کہ بیٹا جنا کسی اور سے اور لگا دیں کسی اور کو یا بن جنا ڈال لیویں اور باپ لگا دیں۔ حدیث فرمایا : جو عورت بیٹا لگا دے کسی کا کسی کو، اس پر بہشت کی بو حرام ہے۔ (موضح)12 یعنی آپ کی شریعت کے خلاف کوئی کام نہ کریں جیسے مصیبت میں نوحہ کرنا یا بیاہ شادی کے موقع پر ایسی رسموں کے پابندی کرنا جن سے مال کی بربادی کے علاوہ لاتعداد اخلاقی اور اجتماعی خرابیاں جنم لیتی ہیں اور جو سراسر جاہل مشرک قوموں کی نقالی ہے۔13 حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ ہجرت کر کے آنے والی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(60:12) یایھا النبی : یا حرف نداء ۔ النبی منادی ہے۔ جب منادی پر الف لام داخل ہو تو مذکر میں ایھا اور مؤنث میں ایتھا یاء کے ساتھ بڑھایا جاتا ہے جیسے کہ مذکر کی صورت میں یایھا النبی (آیت ہذا) اور مؤنث کی صورت میں یایھا النفس المطمئنۃ (89:27) یایھا النبی۔ اے نبی۔ اذا۔ ظرف زمان۔ شرطیہ۔ اذا جاء ک ۔۔ الخ جملہ شرطیہ ہے۔ جاء ک۔ تیرے پاس آئے۔ یہاں جاء بمعنی صیغہ جمع ہے۔ جب تیرے پاس آئیں ۔ یبایعنک۔ مضارع جمع مؤنث غائب مبایعۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ وہ عورتیں بیعت کریں۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تیری۔ جب آپ کے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لئے آئیں ۔ یبایعنک حال ہے المؤمنت سے۔ علی اس بات پر۔ ان لا یشرکن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 12–13

لغات القرآن۔ یبایعن۔ وہ بیعت کرتی ہیں۔ لا یسفرقن۔ وہ چوری نہ کریں گی۔ قدیئسوا۔ وہ مایوس ہوچکے۔ اصحاب القبور۔ قبروں والے۔ تشریح : یہ آیات فتح مکہ سے کچھ عرصے پہلے نازل ہوئی تھیں۔ فتح مکہ کے بعد تو یہ حال تھا کہ جماعتیں کی جماعتیں حلقہ اسلام میں داخل ہو رہی تھیں۔ اس وقت آپ ﷺ نے کوہ صفا پر نئے ہونے والے مسلمانوں سے بیعت لی اور حضرت عمر فاروق ؓ سے فرمایا کہ وہ ان تمام باتوں پر عورتوں سے بیعت لیں جو قرآن اور احادیث میں ذکر کی گئی ہیں۔ بیعت کا مفہوم یہ تھا کہ اس میں ایمان و یقین، عقائد اور شرعی احکامات کی پابندی کا عہد لیا جائے۔ عورتوں سے بیعت لینے کی (1) پہلی شرط یہ تھی کہ وہ ایمان لائیں اور شرک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

مہاجرین عورتوں کی بیعت شرائط بیعت اور طریقہ بیعت کا ذکر۔ (ف 1) اے محبوب ﷺ جب تمہارے پاس جو عورتیں مسلمان ہوکر آئیں اور بیعت چاہیں اور اس بات پر بیعت قبول کریں، اور یہ شرط مانیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی نہ زنا کریں گی نہ چوری کریں گی نہ اولاد کو قتل کریں گی جو جاہلیت کے زمانہ میں دستور تھا لڑکیوں کو جیتا گاڑ دیا کرتے تھے اور شوہر کے نطفہ سے لڑکی پیدا ہو تو اس کی جگہ کسی کا لڑکالے کر زچہ کے پہلو میں ڈال دیتے تھے تاکہ اس عورت کے شوہر کو یہ معلوم ہو کہ اس کے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے جس وقت عورت کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس عورت کے ہاتھ پیروں کے سامنے آن پڑتا ہے، اسی واسطے بجائے لڑکی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 11–12

[15] جس طرح مہاجر عورتوں کی جانچ پڑتال کی تاکید فرمائی اسی طرح اس آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ جو عورتیں اسلام میں داخل ہونے کے لئے آئیں وہ بھی یوں داخل نہ کرلی جائیں جب تک کہ اسلام کے تمام معروفات کے ساتھ ان برائیوں سے بچتے رہنے کا اقرار نہ لے لیا جائے جو جاہلی معاشرے میں عام تھیں تاکہ اسلامی معاشرے میں ان برائیوں کے جراثیم نہ پھیلنے پائیں۔ [16] اسقاط حمل بھی اس حکم میں داخل ہے۔ [17] عربی محاورے میں اس کا مطلب ہے اپنی بدکاری کی اولاد کو اپنے شوہر کی اولاد بنادینا یا کسی غیر کا بچہ اٹھا لا کر اسے اپنی اور اپنے شوہر کی اولاد مشہور کردینا۔ [18] یہاں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت پر نیک کام میں اطاعت کی قید…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–13

بیعت سے متعلقہ غلط فہمیاں 1: بہت کا استقاق بیع سے ہے ۔ جس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ مرید شیخ کے ہاتھوں بک جاتا ہے ۔ اور اس کو پھر اختیار حاصل نہیں رہتا ۔ کہ وہ اس کے احکام کو سن کرتال اور جھجھک کا اظہار کرے ۔ اس کا فرض ہے کہ وہ ہمہ اطاعت وانقیادین ہوئے ۔ اور پندولیل وحجت سبل کے لئے ارشاد کے لئے آمادہ ہوجائے ۔ مگر یہاں چند غلط فہمیاں ہیں ۔ جس کا دور ہونا ضروری ہے ۔ یہ خیال کہ شیخ معصوم ہے ۔ اور بقول حافظ کے ع رنگین کن گرت پیر مغاں گوید غیر مشروط اطاعت کا مستحق ہے ۔ حالانکہ اسلامی نگاہ سے ایسی بیعت ناجائز ہے ۔ لاطعۃ المخلوق فی مصحیۃ الحق حدیث ہے ۔ جس کے معنی یہ ہیں ۔ کہ کوئی شخص اس قابل نہیں ہے ۔ کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) اے پیغمبر جب مسلمان عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر وہ بیعت کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز چیز کو شریک نہ کریں گی اور یہ کہ وہ چوری نہ کریں گے اور یہ کہ وہ نہ بدکاری کریں گی اور یہ کہ نہ وہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی۔ اور یہ کہ وہ کوئی ایسا بہتان نہیں لائیں گی جو اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان گھڑ لیا ہو اور کسی امر شرعی میں آپ کی نافرمانی کریں گی اگر ان امور پر آپ سے بیعت کریں تو آپ ان عورتوں کو بعیت کرلیا کیجئے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور بخشش طلب کیا کیجئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو عورت مومنہ ان امور پر آپ سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ جاہلیت میں بعض عورتوں کا دستور تھا کہ کسی غیر کا بچہ اٹھا لائیں اور کہہ دیا کہ میرے خاوند کا ہے، اور یا کسی سے بدکاری کی، اور اس نطفہ حرام کو اپنے خاوند کا بتلا دیا کہ اس میں علاوہ گناہ زنا کے الحاق والد کا ہے غیر من لہ الوالد کے ساتھ جس پر حدیث میں بھی وعید آئی ہے۔ 3۔ مطلب یہ کہ جب ان احکام کے حق اور واجب العمل سمجھنے کا اظہار کریں تو ان کو مسلمان سمجھئے اور ہرچند کہ خود اسلام ہی سے مغفرت ذنوب ماضیہ ہوجاتی ہے مگر امر بالاستغفار یا تو کمال ترتب آثار مغفرت کے لئے ہے، یا حاصل اس کا دعا ہے قبول ایمان کی، جو ملزوم ہے مغفرت کا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نبی اعظم و آخر ﷺ کو مومن عورتوں سے بیعت لینے کا حکم 12 ؎ ( یبایعن) جمع مؤنث غائب مضارع مبایعۃ وہ عورتیں جو عہد و پیمان کریں ۔ وہ عورتیں جو بیعت کریں ۔ صلح حدیبیہ کے بعد اور خصوصاً مکہ فتح ہونے کے بعد لوگ عموماً مسلمان ہونے لگے ، افراد بھی اور بعض پورے کے پورے خاندان بھی اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے اور اس طرح بہت سی عورتیں بھی اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئیں ۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے عورتوں سے بیعت لی اور یہ بیعت کیا تھی ؟ یہ ایک معاہدہ ہوتا تھا کہ جو مسلمان ہونے والی عورتوں اور مردوں کے لیے کیا جاتا تھا۔ زیر نظر آیت میں عورتوں کے معاہدہ کا مخصوص ذکر کیا ہے اور ان باتوں کا بھی جن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–13

Bai'ah of Women ا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِ‌كْنَ بِاللَّـهِ شَيْئًا (0 Prophet, when the believing women come to you, seeking bai'ah [ a pledge of allegiance ] with you that they will not ascribe anything as a partner to Allah, ....60:12). This verse requires the Holy Prophet k to take a pledge from the Muslim women not only to adhere to Islamic articles of faith, but also to all the Islamic precepts. Previously, in verse [ 10] Allah had directed that when the emigrant women come to the believers, they should be tested and examined.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

18 As we have explained above, this verse was sent down some time before the conquest of Makkah. After the conquest the Quraish stated coming to the Holy Prophet in large numbers to take the oath of allegiance. From the men he took the oath himself on Mount Safa, As for the woman he appointed Hadrat 'Umar to administer the oath to them on his behalf and to ask them to pledge that they would refrain from the things mentioned in this verse. (Ibn Jarir, on the authority Of Ibn 'Abbas; Ibn Abi Hatim, on the authority of Qatadah) . Then. on his return to Madinah he ordered the Muslim women of…

Read the full tafseer →