کفار سے دلی دوستی کی ممانعت
اس سورت کی ابتداء میں جو حکم تھا وہی انتہا میں بیان ہو رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے جن پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت اتر چکی ہے اور اللہ کی رحمت اور اس کی شفقت سے دور ہوچکے ہیں تم ان سے دوستانہ اور میل ملاپ نہ رکھو، وہ آخرت کے ثواب سے اور وہاں کی نعمتوں سے ایسے ناامید ہوچکے ہیں جیسے قبروں والے کافر، اس پچھلے جملے کے دو معنی کے گئے ہیں ایک تو یہ کہ جیسے زندہ کافر اپنے مردہ کافروں کے دوبارہ زندہ ہونے سے مایوس ہوچکے ہیں، دوسرے یہ کہ جس طرح مردہ کافر ہر بھلائی سے ناامید ہوچکے ہیں وہ مر کر آخرت کے احوال دیکھ چکے اور اب انہیں کسی قسم کی بھلائی کی توقع نہیں…
Read the full tafseer →سورة الْمُمْتَحِنَة 24
اصل الفاظ ہیں قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْرِ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ آخرت کی بھلائی اور اس کے ثواب سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح زندگی بعد موت سے انکار کرنے والے اس بات سے مایوس ہیں کہ ان کے جو عزیز رشتہ دار قبروں میں جا چکے ہیں وہ کبھی پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ یہ معنی حضرت عبداللہ بن عباس، اور حضرات حس بصری، قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ نے بیان کیے ہیں۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ وہ آخرت کی رحمت و مغفرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر ہر خیر سے مایوس ہیں، کیونکہ انہیں اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
عورتوں کی بیعت
يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ الایة، اس آیت میں مسلمان عورتوں سے ایک تفصیلی بیعت لینے کا ذکر ہے جس میں ایمان و عقائد کے ساتھ احکام شرعیہ کی پابندی کا بھی معاہدہ ہے، سابقہ آیات جن کے سیاق میں یہ آیت بیعت آئی ہے وہ اگرچہ ان مہاجرات کے ایمان کا امتحان کرنے کے سلسلے میں ہے اور یہ بیعت ان کے امتحان ایمان کی تکمیل ہے، لیکن الفاظ آیت عام ہیں، نو مسلم مہاجرات کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ سب مسلمان عورتوں کے لئے عام ہیں اور واقعہ بھی اسی طرح پیش آیا کہ بیعت مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے والی صرف نو مسلم مہاجرات ہی نہیں دوسری قدیم عورتیں بھی شریک…
Read the full tafseer →(یایھا الذین امنوا لا تتولوا قوما غضب اللہ علیھم قد یعسوا من الاخرۃ کما یئس الکفار من اصحب القبور) (13)۔
(آخر میں ابتداء مضمون کا اعادہ)۔ اس آخری آیت میں اس مضمون کی پھر یاددہانی ہے جس سے سورة کا آغاز ہوا ہے۔ قرآن میں ایسی مثالیں بہت ہیں کہ جس مضمون سے سورة کا آغاز ہوتا ہے اس پر اس کا اختتام بھی ہوتا ہے۔ یہ چیز قرآن میں نظم کی ایک بہت بڑی شہادت ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا ہے (یایھا الذین امنوا لا تتخذو عددی وعدو کم اولیاء) (اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو) اللہ اور اہل ایمان کے دشمن یہود بھی تھے اور مشرکین قریش بھی اس سورة (الممتحۃ) سے پہلے جو مسبحات سورتیں گزری ہیں ان میں…
Read the full tafseer →13۔ 1 اس سے بعض یہود، بعض منافقین اور بعض نے تمام کافر مراد لئے ہیں۔ یہ آخری قول ہی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اس میں یہود و منافقین بھی آجاتے ہیں، علاوہ ازیں سارے کفار ہی غضب الٰہی کے مستحق ہیں، اس لئے مطلب یہ ہوگا کہ کسی بھی کافر سے دوستانہ تعلق مت رکھو، جیسا کہ یہ مضمون قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔
13۔ 2 آخرت سے مایوس ہونے کا مطلب، قیامت کے برپا ہونے سے انکار ہے۔ ایک دوسرے معنی اس کے یہ کئے گئے ہیں کہ قبروں میں مدفون کافر، ہر قسم کی خیر سے مایوس ہوگئے۔ کیونکہ مر کر انہوں نے اپنے کفر کا انجام دیکھ لیا، اب وہ خیر کی کیا توقع کرسکتے ہیں (ابن جریر طبری)۔
Read the full tafseer →11: یعنی جس طرح کافر لوگ اپنے مرے ہوئے عزیزوں دوستوں اور باپ دادوں سے مایوس ہیں کہ وہ ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے، اسی طرح یہ لوگ آخرت کی زندگی سے مایوس ہیں۔ بعض مفسرین نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ ”یہ لوگ آخرت سے ایسے ہی مایوس ہوچکے ہیں جیسے وہ کافر مایوس ہیں جو قبروں میں جا چکے“ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جو کافر قبروں میں جا چکے ہیں، انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ آخرت کی زندگی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے اسی طرح یہ لوگ بھی آخرت کی زندگی سے مایوس ہوچکے ہیں۔
Read the full tafseer →آخر میں اثر انگیر تبصرہ :
یا یھا الذین .................... القبور (06 : 31) ” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، ان لوگوں کو دوست نہ بنایو ، جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے ، جو آخرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر مایوس ہیں “۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ اس قوم سے مراد یہودی ہیں ، جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اور اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ قرآن کریم میں کئی جگہ اس قوم کے لئے یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، لیکن یہ آیت عام بھی ہوسکتی ہے کہ اس کے مفہوم میں وہ لوگ بھی آجائیں جو مشرکین ہیں اور جن کا تذکرہ اس پوری سورت میں ہوا ہے اور اللہ کے تمام دشمن اس سے مراد ہوں۔ کیونکہ اللہ کے سب دشمن آخرت…
Read the full tafseer →3 شروع سورت میں جو مضمون تھا، خاتمہ پر پھر یاد دلا دیا۔ یعنی مومن کی شان نہیں کہ جس پر خدا ناراض ہو اس سے دوستی اور رفاقت کا معاملہ کرے۔ جس پر خدا کا غصہ ہو، خدا کے دوستوں کا بھی غصہ ہونا چاہیے۔
4 یعنی منکروں کو توقع نہیں کہ قبر سے کوئی اٹھے گا اور پھر دوسری زندگی میں ایک دوسرے سے ملیں گے۔ یہ کافر بھی ویسے ناامید ہیں۔ (تنبیہ) بعض مفسرین کے نزدیک " من اصحب القبور " کفار کا بیان ہے یعنی جس طرح کافر جو قبر میں پہنچ چکے وہاں کا حال دیکھ کر اللہ کی مہربانی اور خوشنودی سے بالکلیہ مایوس ہوچکے ہیں اسی طرح یہ کافر بھی آخرت کی طرف سے مایوس ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 13{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ } ”اے اہل ِایمان ! ان لوگوں کے ساتھ دوستی مت کرو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا ہے“
نوٹ کیجیے ‘ جس مضمون سے سورت کا آغاز ہوا تھا اختتام پر وہی مضمون دوبارہ آگیا ہے۔ قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ سے یہودی مراد ہیں اور یہاں اہل ایمان کو واضح طور پر منع کیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ تمہاری دوستی نہیں ہونی چاہیے۔
{ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۔ } ”یہ لوگ آخرت سے مایوس ہوچکے ہیں جیسے کہ کفار مایوس ہوچکے ہیں اصحابِ قبور میں سے۔“
آیت کے اس حصے کا ایک مفہوم تو…
Read the full tafseer →30 سورة کے آخر میں ایک دفعہ پھر تاکید مزید کے طور پر اسی بات کو دہرایا گیا ہے کہ معاند قسم کے کافر کبھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ لہذا ان سے دوستی کی پینگیں مت بڑھاؤ۔ نہ ہی ان پر اعتماد کرو۔ جن پر اللہ ناراض ہے۔ اللہ کے دوستوں کو ان سے ناراض ہی رہنا چاہئے۔
31 اصحاب قبور سے کافروں کی مایوسی کی مختلف توجہیات :۔ اس جملہ کے دو مختلف مطلب صحابہ سے منقول ہیں۔ ایک یہ کہ کافروں کا نہ آخرت پر ایمان ہے، نہ ہی قبروں سے مردوں کے دوبارہ جی اٹھنے پر۔ وہ آخرت میں جزاء و سزائے اعمال کی ویسے ہی توقع نہیں رکھتے جیسے مردوں کے قبروں سے جی اٹھنے کی توقع نہیں رکھتے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو کافر قبروں میں پہنچ…
Read the full tafseer →23۔ یعنی جس طرح ملحدین ومنکرین آخرت میتوں اور مردوں کی طرف سے ہر طرح کی آس توڑے رہتے ہیں۔ اسی طرح یہ مغضوب ومقہور قوم یوہد بھی آخرت سے اپنا رشتہ توڑے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” قوما غضب اللہ علیھم “۔ اشارہ یہود کی جانب ہے، انہیں کے لئے قرآن مجید میں دوسری جگہ صراحت کے ساتھ مغضوبیت کا ذکر ہے۔ عن الحسن وابن زید ومنذربن سعید انھم الیھود لانہ عزوجل قد عبر عنھم فی غیر ھذہ الایۃ بالمغضوب علیھم (روح) وھم الیھود (معالم) (آیت) ” یئسوا من الاخرۃ “۔ یہود ایک خالص دینی اور موحد قوم تھی، لیکن رفتہ رفتہ یاد آخرت کو بالکل بھلا چکی تھی، ان کی توریت کے اندر آج بھی جتنے صحیفے اور نوشتے موجود ہیں، سب میں ذکر فلاح دنیوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
عورتوں کی بیعت :
جب مکہ فتح ہوا تو قریش کے لوگ جوق در جوق حضور ﷺ سے بیعت کرنے کے لئے آنے لگے آپ ﷺ نے مردوں سے کوہ صفا پر خود بیعت لی، اور حضرت عمر ؓ کو اپنی طرف سے مامور فرمایا کہ وہ عورتوں سے بیعت لیں اور ان باتوں کا اقرار کرائیں جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں (ابن جریر بروایت ابن عباس ؓ پھر مدینہ واپس لے جا کر آپ ﷺ نے ایک مکان میں انصار کی خواتین کو جمع کرنے کا حکم دیا اور حضرت عمر ؓ کو ان سے بیعت لینے کے لئے بھیجا۔ (ابن جریر) ان مواقع کے علاوہ بھی مختلف اوقات میں عورتیں فرداً فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کرتی رہیں جن کا ذکر متعدد احادیث میں ہے۔
ابوسفیان ؓ…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا لا تتولوا قوما غضب اللہ علیھم قد یئسوا من الاخرۃ کما یئس الکفار من اصحاب القبور . ” اے ایمان والو ! ان لوگوں سے (بھی) دوستی مت کرو جن پر اللہ نے غضب (نازل)
فرمایا ہے۔ وہ آخرت (کے ثواب اور فلاح سے ایسے ناامید ہوگئے ہیں جیسے کفار قبر والوں سے۔ “
قَوْمًا غَضِبَ اللہ عَلَیْھِمْ : جن پر خدا نے غضب کیا ہے یعنی یہودی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہی فرمایا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کچھ غریب مسلمان یہودیوں سے جوڑ اور تعلق رکھتے اور ان کو مسلمانوں کی کچھ خبریں پہنچا دیتے تھے اور یہودیوں کے پاس سے ان کو کچھ پھل مل جاتے تھے۔ اللہ نے اس کی ممانعت فرما دی۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ عام کافر مراد…
Read the full tafseer →عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی مدد کرنے اور حضور کا راز فاش کرنے میں ان یہودیوں سے دوستی مت کرو جن پر اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ غضب فرمایا، ایک مرتبہ اس وقت جبکہ ان لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بند ہیں، اور دوسری مرتبہ حضور کی تکذیب پر یہ جنت کی نعمتوں سے ایسے ناامید ہوگئے جیسا کہ کفار مکہ مردوں کی واپسی سے یا یہ کہ منکر نکیر کے سوال سے یا یہ مطلب ہے کہ مغضوب علیہم سے مت دوستی کرو بلکہ ان لوگوں میں سے ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں۔
شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا (الخ)
ابن منذر نے بواسطہ ابن اسحاق، محمد، عکرمہ، ابوسعید، حضرت عباس…
Read the full tafseer →1۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللہ ُ عَلَیْھِمْ : سورت کے شروع میں ”لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیا“ میں مشرکین کی دوستی سے منع فرمایا تھا، آخر میں یہود کی دوستی سے منع فرمایا۔ قرآن مجید میں ”مغضوب علیہم“ عموماً یہود کو کہا گیا ہے۔ دیکھئے سورة ٔ فاتحہ میں ”غیر المغضوب علیھم“ کی تفسیر۔
2۔ قَدْ یَـئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الکُفَّارُمِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ : اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے ، ایک یہ کہ ”من“ بیانیہ ہے اور ”اصحب القبور“”الکفار“ کا بیان ہے۔ یعنی ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ تعالیٰ غصے ہوگیا (کیونکہ انہوں نے حق کو جانتے…
Read the full tafseer →یا یھا الذین امنوا لا تتولوا قوما غضب اللہ علیھم۔ قوما سے مراد یہودی ہیں۔ اس کہ وجہ یہ ہے کہ مسلمان فقراء میں سے کچھ لوگ یہودیوں کو مومنوں کو خبریں دیتے اور ان کے ساتھ تعلقات قائم کرتے اس طرح ان سے کچھ پھل حاصل کرلیتے تو انہیں اس امر سے منع کیا گیا۔
قد یئسو…… مراد یہود یہیں ؛ یہ ابن زید کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد منافق ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : مراد یہود و نصاری ہیں (3) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے انہوں نے آخرت کے لئے عمل کو ترک کردیا اور دنیا کو ترجیح دے دی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ آخرت کے ثواب سے مایوس ہوگئے (1) ؛ یہ مجاہد کا قول ہے : کما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید والبخاری وابن ماجہ وابن المنذر وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت کے مطابق اس عورت کا امتحان لیتے تھے جو مومن عورتوں میں سے آپ کی طرف ہجرت کر کے آتی تھی آیت یا ایہا النبی اذاجاءک المومنت یبایعنک سے لے کر غفور رحیم تک۔ اے نبی اگر مسلمان عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں۔ جو عورت ایمان والی عورتوں میں سے اس شرط پر اقرار کرلیتی۔ تو اس کو رسول اللہ ﷺ فرماتے میں نے تیری بیعت کرلی ہے۔ اللہ کی قسم کبھی آپ نے عورت کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوا بیعت کرنے میں جو آپ ان سے بیعت فرماتے تھے مگر یہ بات فرماتے تھے کہ میں نے اس آیت…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَوْا قَوْمًا : اے لوگو جو ایمان لائے تم لوگ دوستی مت کرو کسی ایسی قوم سے ][غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ : غضب کیا اللہ نے جن پر ][ قَدْ يَىِٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ : وہ لوگ مایوس ہوگئے ہیں آخرت سے ][ كَمَا يَىِٕسَ الْكُفَّارُ : جیسے کہ مایوس ہوئے کافر لوگ ][مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ : قبروں والوں سے ]
نوٹ۔ 2 : آیت۔ 13 ۔ کے آخری حصے کے دو معنی کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ آخرت کی بھلائی اور اس کے خواب سے اسی طرح مایوس ہیں جیسے موت کے بعد کی زندگی سے انکار کرنے والے اس بات سے مایوس ہیں کہ ان کے جو رشتہ دار قبروں میں جا چکے ہیں وہ کبھی پھر زندہ کر کے اٹھائے…
Read the full tafseer →اہل کفر سے دوستی نہ کرنے کا دوبارہ تاکیدی حکم
شروع سورت میں اور درمیان سورت میں کافروں کو دوست بنانے کی ممانعت کا تذکرہ تھا یہاں اس آیت میں خصوصی طور پر یہودیوں سے دوستی کرنے کی ممانعت فرمائی ہے، یوں تو تمام کافروں پر اللہ کا غضب ہے لیکن بعض آیات میں چونکہ یہودیوں کے مغضوب علیہم ہونے کا خصوصی تذکرہ آیا ہے۔ (کمافی سورة البقرہ فبآء وا بغضب علی غضب) و کمافی سورة آل عمران ﴿ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ﴾ اسی لیے بعض مفسرین نے یہاں ﴿ قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ﴾ سے یہودیوں کو مراد لیا ہے، مفسر قرطبی نے لکھا ہے کہ بعض فقراء مسلمین یہودیوں کو مومنین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
حکم امتحان مہاجرات مومن ات و احکام بیعت و اطاعت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ..... الی ...... من اصحب القبور “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ دوستی اور موالات کے کچھ احکام بیان کیے گئے تھے اور یہ تلقین کی گئی تھی کہ مسلمانوں کو اس معاملہ میں اسوۂ ابراہیماختیار کرنا چاہئے اور نہایت واضح طور پر منع کردیا گیا کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ کسی طرح موالات و دوستی جائز نہیں اسی کے ساتھ ان کافروں سے بہتر سلوک کرنے کی اجازت دے دی گئی جو نہ تو کبھی مسلمانوں سے لڑے اور نہ کسی قسم کی دشمنی کی اب ان آیات میں بعض خاص احکام ایسی عورتوں کے متعلق بیان کیے جارہے ہیں جو ہجرت…
Read the full tafseer →17:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ آخر میں مومنین پر زجر ہے تاکہ انتہائے سورت ابتدا سے مرتبط ہوجائے۔ مغضوب علیہم سے یہود یا یہود و نصاری یا تمام کفار مراد ہیں۔ (قرطبی، روح) ۔ ” من اصحاب القبور “ میں من بیانیہ ہے یا ابتدائیہ پہلی صورت میں الاخرۃ سے پہلے ثواب مضاف مقدر ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ اے ایمان والو ! ایسے کفار سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا قہر و غضب نازل ہوچکا ہے اور وہ آخرت کے اجر وثواب سے بالکل اسی طرح محروم و مایوس ہوچکے ہیں جس طرح وہ کفار جو مر کر قبروں میں پہنچ چکے ہیں اور دوسری صورت میں ” الکفار “ وضع مظہر موضع مظمر کے قبیل سے ہوگا اور مفہوم یہ ہوگا کہ یہ کفار آخرت کی آمد سے اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ نے مہاجر عورتوں کے امتحان کا قانون بیان فرمایا کہ اگر کوئی عورت مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو بیعت کرنے سے پہلے ان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیا کرو کہ کیا واقعی انہوں نے دین کی خاطر ہجرت کی ہے یا اس سے کوئی دیگر دنیوی مفاد وابستہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ خاوندوں سے ناراض ہو کر آئی ہوں یا وہ کسی دوسرے شخص کی محبت کی وجہ سے آگئی ہیں ، لہٰذا ان کے متعلق تحقیق کرلینا ضروری ہے۔ اگر قرائن سے معلوم ہوجائے کہ وہ واقعی محض دین کی خاطر ہجرت پر مجبور ہوئی ہیں تو پھر ان کو اپنے ہاں روک لو اور واپس کافروں کی طرف نہ بھیجو۔
عورتوں کے لئے بیعت :
اب آج کے درس میں اللہ نے عورتوں کی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللہُ عَلَيْہِمْ قَدْ يَىِٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ كَـمَا يَىِٕسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ 13 ۧ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ترکیب : اذا جاء شرط یبایعنک حال من المؤمنات ولایسرقن ومابعدہ معطوف علی ان لا یشرکن یفترینہ لغت لبھتان اوحال من الضمیر فی یاتین فبایعھن وماعطف علیہ جواب الشرط غضب اللہ علیہم الجملۃ لغت لقوم قد یئسوا الخ۔ لغت اخریٰ من اصحاب القبور متعلق یئس ای یئسوا من بعث اصحاب القبور ویمکن ان یکون حالا ای کائنین من اصحاب القبوروالکاف فی کما فی محل النصب۔
تفسیر : پہلی آیات میں مومنات کے امتحان کا ذکر تھا جب کہ وہ ہجرت کرکے آئیں اور اس کے بعد ہجرت سے جو تفرقہ کافر خاوند اور بیوی میں تھا اس کے احکام تھے کہ باہمی معاہدے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ اب یہاں ان عورتوں کے احکام بیان کرتا ہے جو آنحضرت ﷺ سے بیعت کرنے…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ قَدْیَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الْـکُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ ۔ (الممتحنۃ : 13)
(اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو ان لوگوں کو دوست نہ بنائو جن پر اللہ کا غضب ہوا، جو آخرت سے اس طرح مایوس ہیں جس طرح کفار قبر والوں سے مایوس ہیں۔ )
آخر میں ابتدائی مضمون کا اعادہ
صلبِ مضمون کے اعتبار سے اس آیت اور اس صورت کی پہلی آیت میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ اسی لیے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ اسی مضمون کی یاددہانی ہے جو پہلی آیت میں بیان فرمایا گیا۔ اسے یوں کہنا چاہیے کہ جس مضمون سے سورة کا آغاز ہوا تھا آخری آیت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : الممتحنہ کی ابتدا جس حکم کے ساتھ کی گئی ہے اسی پر اس کا اختتام کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بڑی تفصیل کے ساتھ مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی صورت بھی اللہ اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائیں۔ اس کے دلائل دیتے ہوئے مشرکین کے خلاف ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا اعلانِ برأت پیش کیا گیا جس کے لیے ارشاد ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کا طریقہ وہی شخص اختیار کرے گا جو اللہ کے حضور حاضر ہونے اور آخرت کی جوابدہی کا عقیدہ رکھتا ہے بالفاظ دیگر دوسرے شخص سے ایسے مضبوط ایمان اور جرأت مندانہ کردار کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کے بعد اس بات کی وضاحت…
Read the full tafseer →13 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَاتَتَوَ لَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ (اے ایمان والو ! ان لوگوں سے دوستی مت کرو جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا) ایک قول اس سے مراد مشرکین ہیں۔
ایک نکتہ :
سورت کو جس مضمون سے شروع فرمایا اسی پر اختتام فرمایا۔ جیسا کہ گذشتہ سورت میں بھی تھا۔
قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ (وہ آخرت سے ناامید ہوگئے ہیں) ۔ یعنی اس کے ثواب سے۔ کیوں کہ وہ بعث بعدالموت کے قائل نہیں۔ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ (جیسا کفار قبروں والوں سے مایوس ہوگئے) ای کما یئسوا۔ البتہ ظاہرکو ضمیر کی جگہ لے آئے۔ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ (ان کے واپس لوٹنے سے یا جیسا ان کے وہ اسلاف جو کہ…
Read the full tafseer →عورتوں کی بیعت کرنے کا ذکر
آیات 12
12 ۔” یایھا النبی اذاجاء ک المومنات یبایعنک “ اور یہ فتح مکہ کے دن جب رسول اللہ ﷺ مردوں کی بیعت سے فارغ ہوئے اور آپ (علیہ السلام) صفا پر تھے اور عمر بن خطاب ؓ آپ (علیہ السلام) سے نیچے تھے اور وہ عورتوں کی بیعت کررہے تھے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے اور آپ (علیہ السلام) سے ان کو باتیں پہنچا رہے تھے اور ہند بنت عتبہ ابوسفیان کی بیوی پردہ کرتے ہوئے چھپتی چھپاتی آئی عورتوں کے ساتھ اس خوف سے کہ رسول اللہ ﷺ اس کو پہچان لیں گے۔
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ان سے بیعت کرتا ہوں ” علی ان لا یشرکن باللہ شیئا “ تو ہند نے اپنا سر اٹھایا اور کہا اللہ کی قسم ! آپ (علیہ السلام) ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12۔ 13۔ جن مہاجر عورتوں کے امتحان لینے کا ذکر اوپر تھا ان ہی کی بیعت کا ذکر ہے یہ بیعت فتح مکہ سے پہلے اور صحیح حدیبیہ کے بعد مدینہ میں لے جاتی تھی اور پھر فتح مکہ کے بعد مکہ کی عام عورتوں سے بھی مکہ میں یہی بیعت لی گئی تھی۔ بیعت کے معنی معاہدے کے ہیں یہ معاہدے شریعت میں کئی طرح کے ہیں۔ ایک یہ معاہدہ ہے اس کو معاہدہ اسلام کہتے ہیں اسی طرح تنگ دست مہاجروں سے ایک معاہدہ یہ لیا گیا تھا کہ وہ کسی سے کوئی چیز مانگا نہ کریں۔ ان کے سواء اور بھی معاہدے ہیں جن کا ذکر اپنی اپنی جگہ ہے یہی معاہدہ اسلام مردوں سے بھی مکہ میں فتح مکہ کے بعد لیا گیا تھا بعض مفسروں نے اس معاہدہ کو وہ معاہدہ خیال کیا ہے جو…
Read the full tafseer →یعنی اے مومنوا اگر تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو اس کی رضا کی اتباع کرتے ہو اور اس کی ناراضی سے دور رہتے ہو تو (لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ) ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ ناراض ہوا ہے، اور اللہ تعالیٰ محض ان کے کفر کی وجہ سے ان پر ناراض ہے اور یہ کفر کی تمام اصناف کو شامل ہے۔ (قَدْ يَىِٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ ) وہ آخرت سے اس طرح مایوس ہوچکے ہیں، یعنی انہیں آخرت کی بھلائی سے محروم کردیا گیا اس لیے آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہ ہوگا۔ اس لیے تم ان کو دوست بنانے سے بچو ورنہ تم بھیان کے شریک اور شر میں موافقت کرنے لگو گے اور اس طرح تم بھی آخرت کی بھلائی سے محروم ہوجاؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
مہاجر خواتین کے بارے میں حضور ﷺ کو کیا حکم ہوا ؟
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اذا جآء ک المومنات مھاجرات، اے ایمان لانے والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آجائیں) تا آخر آیت۔
زہری نے عروہ سے، انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ سے اور انہوں نے حضور ﷺ کے صحابہ سے روایت کی ہے کہ صلح حدیبیہ میں سہیل بن عمرو نے قریش کی طرف سے حضور ﷺ کو ایک شرط یہ پیش کی تھی کہ ہمارا کوئی آدمی اگر آپ لوگوں کے پاس آجائے گا تو آپ اسے ضرور ہمارے پاس واپس بھیج دیں گے خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔
چنانچہ سہیل بن عمرو کے بیٹے حضرت ابوجندل ؓ کو واپس ان کے باپ کے پاس بھیج دیا گیا بلکہ اس مدت میں جو مرد بھی بھاگ کر حضور…
Read the full tafseer →[ 49] مغضوب علیہ قوم سے دوستی کی ممانعت کا ذکر وبیان :
سو ایمان والوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان لوگوں سے دوستی نہیں کرنا جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ یعنی یہود جو " مغضوب علیہم " کی صفت کے ساتھ مشہور و معروف ہیں، نیز نصاریٰ اور دوسرے سب کفار بھی اسی میں داخل ہیں، کہ درحقیقت وہ سب ہی دین حق سے منہ پھیر کر اللہ کی ناراضگی اور اس کے غضب کے مستحق ہوچکے ہیں، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہر کافر پر اللہ کا غضب ہے۔ لان کل کافرٍ علیہ غضب من اللّٰہ [ البحر، القرطبی، الصفوۃ وغیرہ ] پس جیسا کہ علامہ ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں آیت اپنے ظاہر و مفہوم پر ہے، لہٰذا یہود نصاریٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
اسلام امن کا مذہب ہے، عورتوں کے خاص معاملات
تشریح : پچھلی آیات میں جو غیر مسلموں سے دوستی اور اعتبار سے منع کیا گیا ہے تو خاص حالات میں، یعنی جنگ کے حالات میں کیونکہ، دشمن کو کبھی بھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے،۔ مخالفین اکثر مسلمان کو دہشت گرد کہتے ہیں تو ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں دہشت گردی کو کبھی پسند نہیں کیا بلکہ اسلام تو نام ہی امن و سلامتی کا ہے۔ ہماری تاریخ اور نبی اکرم ﷺ کی زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ آپ ﷺ نے صبر سے کفار کی سختیاں برداشت کیں اور پھر چپکے سے ہجرت کر گئے پھر جنگ بدر، احد اور حنین۔ تینوں دفاعی جنگیں تھیں۔ معاہدہ حدیبیہ مکمل طور پر صلح و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
آیات 7 تا 13۔
اسرار ومعارف۔
اللہ قادر ہے کہ وہ تمہارے دشمنوں یعنی کافروں میں سے بھی تمہارے دوست پیدا کردے یعنی بعض کو ایمان نصیب ہوجائے کہ اللہ بہت بڑابخشنے والامہربان ہے۔
کافر سے تعلقات کی نوعیت۔
لیکن اگر وہ مسلمان نہ بھی ہوں تو جن کفار سے اندیشہ نہ ہو کہ مسلمانوں یا اسلام کو نقصان پہنچے گا جو تمہارے خلاف جنگ میں کسی بھی طرح سے شریک نہ ہوں اور مسلمانوں کے گھراجاڑنے اور انہیں گھروں سے نکل جانے پر مجبور کرنے میں ان کا حصہ نہ ہو ان سے حسن سلوک کیا کرو اور مسلمانوں کی فلاحی ریاست کے فلاحی امور سے وہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں نیز سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتے…
Read the full tafseer →ف 1 مراد تمام کافر ہیں چاہے وہ یہودی ہوں یا نصاریٰ یا مشرک یا منافق2 یعنی انہیں یہ امید نہیں ہے کہ کوئی شخص قبر میں جانے کے بعد پھر اٹھے گا اور ان سے ملاقات کرے گا…دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جیسے قبر والوں میں سے کافر مایوس ہوچکے۔ “ یعنی انہوں نے مرنے کے بعد جب آخرت کے عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیا تو وہ آخرت کے ثواب اور نجات سے بھی مایوس ہوگئے
Read the full tafseer →(60:13) لا تتولوا۔ فعل نہی، جمع مذکر حاضر۔ تولی (تفعل) مصدر۔ دوستی مت رکھو۔ دوستی نہ کرو۔
قوما۔ منصوب بوجہ مفعول۔ اس قوم سے۔
غضب اللہ علیہم : ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع قوما ہے۔ جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ جن پر اللہ غصہ ہوا۔ قوما کی نعت ہے۔ قوم سے مراد یا تو یہودی ہیں یا عام کافر مراد ہیں۔
قد یئسوا۔ ماضی پر داخل ہوکر قد تاکید کا فائدہ دیتا ہے۔ یئسوا ماضی جمع مذکر غائب یاس (باب سمع) مصدر۔ تحقیق وہ ناامید ہوگئے (آخرت سے) یہ بھی قوما کی نعت ہے۔
کما یئس : کما مرکب ہے ک تشبیہ اور ما موصولہ سے اور بعد کو آنے والا جملہ ما کا صلہ ہے۔
یئس۔ ماضی واحد مذکر غائب (اوپر ملاحظہ فرمائیں یئسوا آیت ہذا) ۔
یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
لغات القرآن۔
یبایعن۔ وہ بیعت کرتی ہیں۔ لا یسفرقن۔ وہ چوری نہ کریں گی۔ قدیئسوا۔ وہ مایوس ہوچکے۔ اصحاب القبور۔ قبروں والے۔
تشریح : یہ آیات فتح مکہ سے کچھ عرصے پہلے نازل ہوئی تھیں۔ فتح مکہ کے بعد تو یہ حال تھا کہ جماعتیں کی جماعتیں حلقہ اسلام میں داخل ہو رہی تھیں۔ اس وقت آپ ﷺ نے کوہ صفا پر نئے ہونے والے مسلمانوں سے بیعت لی اور حضرت عمر فاروق ؓ سے فرمایا کہ وہ ان تمام باتوں پر عورتوں سے بیعت لیں جو قرآن اور احادیث میں ذکر کی گئی ہیں۔
بیعت کا مفہوم یہ تھا کہ اس میں ایمان و یقین، عقائد اور شرعی احکامات کی پابندی کا عہد لیا جائے۔ عورتوں سے بیعت لینے کی (1) پہلی شرط یہ تھی کہ وہ ایمان لائیں اور شرک…
Read the full tafseer →(ف 1) اے مسلمانو اسلام کے دعوی کرنے والوں اس قوم کے ساتھ دوستی و محبت کا دم نہ بھرو، ان کی مدد نصرت نہ کرو، اور راز یابی اہل اسلام تھوڑے سے لالچ کے لیے اس قوم پر فاش نہ کروجن پر خدا کا غضب نازل ہوا ہے یہ لوگ نعیم جنت سے اس طرح ناامید ومایوس ہوگئے ہیں جیسے کافر اصحاب قبور کے لوٹنے سے ، یعنی جیسے کافر منکرین حشر اس بات سے قطعا ناامید ہیں کہ مر کر دوبارہ زندہ ہوں یوں ہی یہ بھی ثواب اخروی سے ناامید ہوکر مرکردوبارہ زندہ ہوں یوں ہی یہ بھی ثواب اخروی سے نامید ہیں کہ اپنی بدکاریاں دیدہ دانستہ خد اور رسول خوب جانتے ہیں بعض سوال منکر نکیر مراد لیتے ہیں جو قبر میں ہوتا ہے کہ کافر اس کے منکر تھے۔
Read the full tafseer →[19] مراد اس سے یہود ہیں جیسا کہ سورة مائدہ آیت 6 صفحہ 240 میں ارشاد ہوا ہے۔ شروع سورت میں جو مضمون تھا خاتمے پر پھر یاد دلایا۔ یعنی مومن کی یہ شان نہیں کہ جو اللہ کا مغضوب ہو اس سے دوستی اور رفاقت کا معاملہ کرے۔ یہاں یہود کی تخصیص غالباً اس وجہ سے ہے کہ مدینے میں یہود بہت زیادہ تھے اور وہ شریر اور مفسد بھی بہت تھے۔
[20] یعنی آخرت کی رحمت و مغفرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر ہر خیر سے مایوس ہیں، کیونکہ انہیں اپنے مبتلائے عذاب ہونے کا یقین ہوچکا ہے۔ یہود ایک خالص موحد قوم تھی لیکن رفتہ رفتہ یاد آخرت بھلا چکی تھی۔ ان کی توریت کے اندر آج بھی جتنے صحیفے اور نوشتے موجود ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
بیعت سے متعلقہ غلط فہمیاں
1: بہت کا استقاق بیع سے ہے ۔ جس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ مرید شیخ کے ہاتھوں بک جاتا ہے ۔ اور اس کو پھر اختیار حاصل نہیں رہتا ۔ کہ وہ اس کے احکام کو سن کرتال اور جھجھک کا اظہار کرے ۔ اس کا فرض ہے کہ وہ ہمہ اطاعت وانقیادین ہوئے ۔ اور پندولیل وحجت سبل کے لئے ارشاد کے لئے آمادہ ہوجائے ۔ مگر یہاں چند غلط فہمیاں ہیں ۔ جس کا دور ہونا ضروری ہے ۔ یہ خیال کہ شیخ معصوم ہے ۔ اور بقول حافظ کے ع
رنگین کن گرت پیر مغاں گوید
غیر مشروط اطاعت کا مستحق ہے ۔ حالانکہ اسلامی نگاہ سے ایسی بیعت ناجائز ہے ۔ لاطعۃ المخلوق فی مصحیۃ الحق حدیث ہے ۔ جس کے معنی یہ ہیں ۔ کہ کوئی شخص اس قابل نہیں ہے ۔ کہ…
Read the full tafseer →(13) اے دعوت ایمانی کے قبول کرنے والو ! ان لوگوں سے دوستی اور موالات نہ کرو جن پر اللہ تعالیٰ نے غصہ اور غضب فرمایا ہے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ آخرت کے اجروثواب سے ایسے ہی ناامید ہوئے جیسے وہ کافر ناامید ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں۔ کہتے ہیں کہ بعض فقراء مسلمین یہود سے اس بنا پر تعلق رکھتے تھے کہ وہ ان کو اپنے باغات کی کوئی خدمت دے دیا کرتے تھے اور اس سے کچھ منفعت ہوجاتی تھی اور یہ ہوسکتا ہے کہ جب کوئی آدمی خدمت کرتا ہے تو اس سے کسی وقت کوئی بات بلا قصد ایسی بھی نکل جاتی ہوگی جو مفاد عامہ مسلمین کے خلاف ہوتی ہوگی۔
اس بنا پر ارشاد ہوا کہ مغضوب قوم سے دوستی اور موالات وموادات نہ کرو جو اپنے اعمال…
Read the full tafseer →ف 4۔ مراد اس سے یہود ہیں۔
5۔ جو کافر مرجاتا ہے بوجہ اس کے کہ اس کو معائنہ آخرت کا ہوجاتا ہے حقیقت امر پر یقین کے ساتھ مطلع ہوجاتا ہے کہ اب میری بخشش نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →ایمان والوں سے خطاب کہ اللہ کے دشمنوں کو درست مت بنائو
13 ؎ اسی مضمون سے یہ سورت شروع ہوئی تھی اور اسی پر اس کو ختم کیا جا رہا ہے ۔ وہ قوم جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا وہ یہود ہیں اور ان کے بعد نبی اعظم و آخر ﷺ کی اپنی قوم قریش کے مشرکین ہیں ۔ دونوں ہی سے بچنے کی تلقین کی جا رہی ہے کہ ان لوگوں کا جب دائوچلے گا تو وہ تم مسلمانوں کو پریشان کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ آخرت کے بارے میں ان دونوں گروہوں کا ایمان نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ بھی برائے نام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں گروہوں سے خصوصاً بچنے کی ہدایت فرمائی گئی کہ ان لوگوں نے اپنی آنکھوں پر تعصب کی پٹی باندھ رکھی ہے اور یہ لوگ اپنے تعصب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
Bai'ah of Women
ا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّـهِ شَيْئًا (0 Prophet, when the believing women come to you, seeking bai'ah [ a pledge of allegiance ] with you that they will not ascribe anything as a partner to Allah, ....60:12). This verse requires the Holy Prophet k to take a pledge from the Muslim women not only to adhere to Islamic articles of faith, but also to all the Islamic precepts. Previously, in verse [ 10] Allah had directed that when the emigrant women come to the believers, they should be tested and examined.…
Read the full tafseer →24 The words in the original can have two meanings: First, that they have despaired of their well-being and rewards in the Hereafter just as the deniers of the life-after-death have despaired of the resurrection of their near and dear ones, who are dead and gone into the graves. This meaning has been given by Hadrat 'Abdullah bin 'Abbas and Hadrat Hasan Basri, Qatadah and Dahak (may AIlah bless them) . The second meaning can.be: They have despaired of the mercy and forgiveness of the Hereafter just as the disbelievers, who are Iying in the graves, have despaired of every good, for they are…
Read the full tafseer →