Explained with ayahs 1–4
ایفائے عہد ایمان کی علامت ہے اور صف اتحاد کی علامت
پہلی آیت کی تفسیر کئی بار گذر چکی ہے اب پھر اس کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جو کہیں اور نہ کریں، وعدہ کریں اور وفا نہ کریں، بعض علمائ، سلف نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ وعدہ کا پورا کرنا مطلقاً واجب ہے جس سے وعدہ کیا ہے خواہ وہ تاکید کرے یا نہ کرے، ان کی دلیل بخاری و مسلم کی یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی تین عادتیں ہوتی ہیں (1) جب وعدہ کرے خلاف کرے (2) جب بات کرے جھوٹ بولے (3) جب امانت دیا جائے خیانت کے، دوسری صحیح حدیث میں ہے چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چار میں سے ایک ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة الصَّف 1
یہ اس خطبہ کی مختصر تمہید ہے۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة الحدید، حاشیہ 1۔ 2 کلام کا آغاز اس تمہید سے اس لیے کیا گیا ہے کہ آگے جو کچھ فرمایا جانے والا ہے اس کو سننے یا پڑھنے سے پہلے آدمی یہ بات اچھی طرح سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ بےنیاز اور اس سے بالاتر ہے کہ اس کی خدائی کا چلنا کسی کے ایمان اور کسی کی مدد اور قربانیوں پر موقوف ہو۔ وہ اگر ایمان لانے والوں کو ایمان میں خلوص اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ صداقت کا بول بالا کرنے کے لیے جان و مال سے جہاد کرو، تو یہ سب کچھ ان کے اپنے ہی بھلے کے لیے ہے۔ ورنہ اس کے ارادے اس کے اپنے ہی زور…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
سب چیزیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں (قالاً یا حالاً) جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں اور وہی زبردست حکمت والا ہے (پس جو ایسا باعظمت و شان ہو اس کی اطاعت ہر حکم میں ضروری ہے، جن میں سے ایک حکم جہاد کا ہے، جو اس سورت میں مذکور ہے، جس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ ایک بار بعض مسلمانوں نے باہم تذکرہ کیا کہ اگر ہم کو کوئی ایسا عمل معلوم ہو جو حق تعالیٰ کے نزدیک نہایت محبوب ہے تو ہم اس کو عمل میں لاویں اور اس سے قبل جنگ احد میں بعضے جہاد سے بھاگ چکے تھے جس کا قصہ سورة آل عمران میں ہے اور نیز وقت نزول حکم جہاد کے بعض کو وہ حکم گراں گزرا تھا، جس کا قصہ سورة نساء میں ہے اس پر یہ…
Read the full tafseer →1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(سبح للہ ما فی السموات وما فی الارض وھو العزیز الحکیم) (1)۔
(آیت تسبیح کا آگے کے مضمون سے ربط)۔ یہ آیت تشویق وتحریض کے محل میں بھی ہو سکتی ہے اور اظہار بےنیازی کے محل میں بھی۔ آگے جہاد سے جان چرانے والے منافقین کو ان کی بدعہدی وبزدلی پر ملامت کی گئی ہے۔ اس مضمون سے یہ آیت اپنے مذکورہ دونوں پہلوئوں سے ربط رکھنی ہے۔ اگر تشریق و ترغیب کے پہلو سے نگاہ ڈالیے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس خدا کی تسبیح و بندگی میں اس کائنات کی ہر چیز سرگرم ہے، جو ہر چیز پر غالب اور جس کے ہر کام میں حکمت ہے اس کی راہ میں جہاد سے اگر کوئی جان چرائے تو اس پر حیف ہے ! بےنیازی کے پہلو سے نگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2۔ 1 یہاں ندا اگرچہ عام ہے لیکن اصل خطاب ان مومنوں سے ہے جو کہہ رہے تھے کہ اللہ کو جو سب سے زیادہ پسند عمل ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے چاہئیں تاکہ ان پر عمل کیا جاسکے لیکن آپ ﷺ کے پاس جاکر پوچھنے کی جرت کوئی نہیں کر رہا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی (مسند احمد)
Read the full tafseer →1: یہ بات کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے، پیچھے کئی مقامات پر گذر چکی ہے، مثلاً سورة نور : 36 اور 41 اور سورة حشر : 24 اور سورة بنی اسرائیل : 44 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم ان کی تسیح کو سمجھتے نہیں ہو۔ پیچھے سورة حدید اور سورة حشر کو اور آگے سورة جمعہ اور سورة تغابن کو اللہ تعالیٰ نے اسی حقیقت کے بیان سے شروع فرمایا ہے اور بظاہر اس بات پر تنبیہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر تمہیں اپنی توحید پر ایمان لانے اور اپنی عبادت کرنے کا حکم دے رہا ہے تو اس میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ اس کی ذات بےنیاز ہے، تم اس کی عبادت کرو یا نہ کرو، کائنات کی ہر چیز اس کے آگے سر بہ خم…
Read the full tafseer →اللہ عزیز و حکیم کی تسبیح پوری کائنات کررہی ہے۔ سورت کے آغاز میں یہ بات لاکر اہل ایمان کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ تمہارا دین اس پوری کائنات کا دین ہے۔ اور یہ دین توحید ہے۔ اور تم اس کے امین ہو۔ اور کافرین اور مشرکین کا موقف غلط ہے اور وہ اس دین کی روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں۔ اللہ تمہیں دعوت دے رہا ہے کہ اس دین اور اس رسول کی نصرت کرو اور اللہ نے اس دین کا غلبہ مقرر کر رکھا ہے۔ اگرچہ کافر اور مشرک تو اس کو ختم کرنا چاہتے ہیں ، لیکن اللہ نے فیصلہ کردیا ہے کہ ان کے علی الرغم اسے غالب کرنا چاہتا ہے۔ اس آغاز کا مفہوم یہ ہے کہ یہ پوری کائنات کا دین ہے اور پوری کائنات کی امانت ہے۔ اور جس نظریہ کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
5 بندہ کو لاف زنی اور دعوے کی بات سے ڈرنا چاہیے کہ پیچھے مشکل پڑتی ہے۔ زبان سے ایک بات کہہ دینا آسان ہے، لیکن اس کا نباہنا آسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض اور بیزار ہوتا ہے جو زبان سے کہے بہت کچھ اور کرے کچھ نہیں۔ روایات میں ہے کہ ایک جگہ مسلمان جمع تھے، کہنے لگے ہم کو اگر معلوم ہوجائے کہ کون سا کام اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے تو وہ ہی اختیار کریں۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ یعنی دیکھو ! سنبھل کر کہو، لو ہم بتلائے دیتے ہیں، کہ اللہ کو سب سے زیادہ ان لوگوں سے محبت ہے جو اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں کے مقابلہ پر ایک آہنی دیوار کی طرح ڈٹ جاتے ہیں اور میدان جنگ میں اس شان سے صف آرائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 2 { یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ } ”اے مسلمانو ! تم کیوں کہتے ہو وہ جو کرتے نہیں ہو ؟“
اس آیت میں زجر و توبیخ اور جھنجھوڑنے کا وہی انداز پایا جاتا ہے جو اس سے قبل ہم سورة الحدید میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ بلکہ یہ اسلوب زیر مطالعہ مدنی سورتوں میں جگہ جگہ پایا جاتا ہے۔ قبل ازیں سورة الحدید کے تمہیدی کلمات میں اس اسلوب کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے کہ ان سورتوں کے زمانہ نزول 5 ہجری کے بعد تک پرانے مسلمانوں کی نسبت نومسلموں کی تعداد زیادہ ہوچکی تھی۔ ایمان کی گہرائی اور جذبہ ایثار و قربانی کے حوالے سے نووارد مسلمانوں کی کیفیت چونکہ ”السابقون الاولون“ اور…
Read the full tafseer →1 یہ اس سورة کے افتتاحی کلمات ہیں جن کی تشریح پہلے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →1۔ (اس کی صفات قوت و حکمت کا عین مقتضی بھی یہی ہے کہ سب کے سب اس کی حمد وثنا کریں) (آیت) ’ سبح ..... الارض “۔ یہ تسبیح ہر مخلوق اپنے اپنے مرتبہ وجود و شعور کے مطابق ومتناسب ہی کرتی ہے۔
Read the full tafseer →ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، زمین و آسمان میں ہر چیز اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے یعنی اس کی تنزیہ کرتی ہے (للہ) میں لام زائدہ ہے اور من کے بجائے، ما اکثر کو غلبہ دینے کے اعتبار سے لایا گیا ہے وہ اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی صنعت میں حکیم ہے اے ایمان والو ! طلب جہاد میں تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟ جب کہ تم احد میں شکست کھا گئے اس کا کہنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت ناپسند ہے مقتا تمیز ہے (ان تقولوا) کبر کا فاعل ہے، کہ تم وہ بات کہو جو تم کرتے نہیں ہو، بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے (یعنی) مدد اور اکرام کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف…
Read the full tafseer →سبح للہ مافی السموات وما فی الارض وھو العزیز الحکیم
” جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ‘ سب اللہ ہی کی پاکی بیان کرتی ہیں
وہی زبردست حکمت والا ہے ‘
Read the full tafseer →تمام مخلوقات اور ہر ایک زندہ چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں اور اس کا ذکر کرتی ہیں اور وہی زبردست حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ۔۔۔۔: اس سورت کا مضمون اللہ کے راستے میں جہاد و قتال ہے ، ابتداء اس کی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے ذکر سے کی گئی ہے۔ اللہ کی تسبیح سے ابتداء کی سورت کے مضمون سے مناسبت یہ ہے کہ وہ ہستی جس کی تسبیح ہر وہ چیز کرتی ہے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز بھی جو زمینوں میں ہے ، تو تمام مخلوق کی طرح انسان کے لیے بھی اس کی تسبیح کرنا لازم ہے۔ پھر جو لوگ تسبیح کی بجائے اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں تو ایمان والوں پر ان کے ساتھ لڑنا فرض ہے ، کیونکہ وہ ساری کائنات کے الٹ چل رہے ہیں اور تسبیح کے بجائے اللہ تعالیٰ کے لیے شریک بنا کر اس کے تمام عیوب و نقائص سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیات۔ 1۔ 3
تفسیر
پہلی آیت کی تفسیر سورة حدید کی پہلی آیت کے تحت گزر چکی ہے۔
دوسری دو آیات کے ضمن میں پانچ مسائل بیان کئے گئے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا……۔ داری ابو محمد نے اپنی مسند میں روایت نقل کی ہے کہ محمد بن کثیر، اوزاعی سے وہ یحیٰی بن ابی کثیر سے وہ ابو سلمہ سے وہ حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں : ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کی ایک جماعت بیٹھی ہم نے آپس بات چیت کی ہم نے کہا : اگر ہم جانتے کے اعمال میں سے کون سا عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ محبوب ہے تو ہم اس پر ضرور عمل کرتے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات سبح اللہ ……۔ ……۔ کو نازل فرمایا۔ ابو سلمہ نے کہا : حضرت ابن سلام نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ عبد بن حمید وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ ؓ نے یہ کہا اگر ہم جان لیتے کہ سب سے محبوب اعمال اللہ کے نزدیک کون سے ہیں تو ہم یقیناً وہ کرتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خبردیتے ہوئے فرمایا آیت ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانہم بنیان مرصوص۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خاص طور پر پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ان لوگوں نے اس کو ناپسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنو لم تقولون مالاتفعلون۔ اے ایمان والو ! ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں اور یہ بات اللہ بڑی ناراضگی کی ہے جو…
Read the full tafseer →[سَبَّحَ للّٰهِ مَا : تسبیح کرتی ہے اللہ کی (ہر) وہ چیز جو ][ فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ][ وَمَافِي الْاَرْضِ : اور (ہر) وہ چیز جو زمین میں ہے ][ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اور وہی بالادست ہے حکمت والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
جو کام نہیں کرتے ان کے دعوے کیوں کرتے ہو ؟
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت ہے کہ ہم چند صحابہ بیٹھے ہوئے تھے آپس میں ہم نے (اچھے) اعمال کا تذکرہ کیا اور ہم نے کہا کہ اگر ہمیں پتہ چل جاتا کہ کون ساعمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے تو ہم اس عمل کو اختیار کرلیتے اس پر اللہ جل شانہ نے ﴿سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ 1ۚ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 001 يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 002﴾ نازل فرمائی۔ (سنن الترمذی ابواب التفسیر سورة الصف)
اور معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب صحابہ نے کہا کہ اگر ہمیں معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
تسبیح وتحمید خداوندی مع ترغیب اہل ایمان برائے جہاد فی سبیل اللہ “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں کافروں سے موالات ودوستی پر تنبیہ ووعید تھی اور واضح طور پر یہ فرما دیا گیا تھا (آیت) ” لاتتولوا قوما غضب اللہ علیھم “۔ کہ اے مسلمانو ! ہرگز ایسی قوم کو اپنا دوست نہ بناؤ جن پر خدا کا غضب ہے، اب اس سورت میں حق تعالیٰ شانہ اپنی پاکی اور بےنیازی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ مسلمانوں کو حکم دیا کہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہو کر کافروں کے مقابلہ اور مقاتلہ کیلئے اٹھ کھڑے ہونا چاہئے اور یہ وصف اس وقت پیدا ہوگا جب مسلمان اپنے قول وفعل میں مطابقت اور یکسانیت پیدا کرلے، اس زمانہ میں عرب میں کھلبی مچی ہوئی تھی…
Read the full tafseer →2:۔ ” سبح للہ “ ابتداء میں مضمون توحید کا عادہ کیا گیا تاکہ یہ بات ذہن میں رہے کہ جہاد و قتال اسی مسئلہ کی خاطر ہے۔ اس آیت کی تفسیر کئی بار گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصف ہے جو اس کی چوتھی آیت میں آمدہ لفظ الصف سے موسوم ہے۔ صف قطار کو کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں جہاد کے لئے صف بندی کا ذکر ہے ، لہٰذا اس سورة کا نام الصف رکھا گیا ہے مفسرین بیان کرتے ہیں کہ مدنی زندگی میں یہ سورة …سورۃ التغابن کے بعد نازل ہوئی حالانکہ ترتیب تلاوت کے لحاظ سے یہ اس سے پہلے ہے۔ اس سورة مبارکہ کی چودہ آیات اور دو رکوع ہیں اور یہ سورة 221 الفاظ اور 926 حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط :
گزشتہ سورة الممتحنہ میں خدا ، اس کے رسول ، اس کے دین اور اس کی طرف سے آمدہ پروگرام کے دشمنوں سے دوستی کی ممانعت کی گئی تھی۔ اس واقعہ کا پس منظر…
Read the full tafseer →سَبَّحَ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ 0 ۚ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 1
سبح
السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : ان تقول الجملۃ بتاویل المصدر فاعل کبرمقتًا تمیز منہ عنداللہ متعلق بکبر صفًا حال من فاعل یقاتلون فی سبیلہ متعلق بہ۔ کانہم الجملۃ کذلک حال منہ و صفا بمعنی صافین قال صاحب الکشاف لم ہی لام الاضافۃ داخلۃ علی ما الاستفہامیۃ کمادخل علیھا غیرھا من حروف الجر کقولک بم وفیم و عم و مم و حذف الالف لان ماوالحرف کشیء واحد۔
تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ بھی اسی زمانے میں نازل ہوئی کہ جب ملک عرب میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔ کفار کا مسلمانوں پر ہر طرف سے نرغہ تھا اور مسلمانوں کی قلیل جماعت کو استقلال و جوانمردی سے اپنے دینی دشمنوں کا مقابلہ ضرور تھا اس لیے اس سورة میں ان باتوں کی…
Read the full tafseer →سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ج وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الصف : 1)
(اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔ )
آگے آنے والے مضمون کی تمہید
بعد کی آیات میں جو کچھ فرمایا جارہا ہے یہ اس کی مختصر تمہید ہے۔ اس آیت کے مضمون کے دو پہلو ہیں اور وہ دونوں ہی اس آیت کا مقصود معلوم ہوتے ہیں۔ ایک پہلو یہ ہے کہ اس آیت کے بعد جو کچھ فرمایا جارہا ہے اس کا بنیادی مضمون اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد، اعلائے کلمۃ الحق کے لیے کاوشیں اور اس راستے پر سب کچھ قربان کردینا ہے۔ جب کسی کی خاطر چھوٹی یا بڑی قربانی کی ترغیب دی جاتی ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط سورت : سورة الممتحنہ میں مسلمانوں کو کفار اور مشرکین کے ساتھ رشتہ داری کرنے اور قلبی محبت رکھنے سے منع کیا گیا۔ سورة الصف کی ابتدا میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ اگر کفار اور مشرکین کی طرح ایماندار لوگ بھی اللہ کی ذات اور اس کے فرمان کا انکار کردیں تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اس کے تابع اور اس کی حمد وثناء بیان کرتی ہے۔
یہ سورت مسبّحات میں سے تیسری سورت ہے۔ اس کا آغاز بھی اسی پرجلال لفظ سے کیا گیا ہے جس سے سورة الحدید اور سورة الحشر کا آغاز ہوا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جو چیز آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ذوالجلال کی تسبیح کرتی ہے اور…
Read the full tafseer →ایک روایت :
1 : سَبَّحَ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ روایت میں ہے کہ جہاد کا حکم دیے جانے سے قبل لوگوں نے کہا اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب ترین عمل کونسا ہے۔ تو ہم اس کو اپنا لیں۔ پس یہ آیت جہاد نازل ہوئی۔ پھر بعض نے سستی کی تو یہ آیت اتری۔
Read the full tafseer →سورة الصف
مدنی ہے اور عطائؒ فرماتے ہیں مکی ہے اور اس کی چودہ آیات ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ ترمذی ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں معتبر سند سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ لڑائی کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے بعض لوگ لڑائی کی آرزو ظاہر کرتے تھے جب لڑائی کا حکم نازل ہوا تو لڑائی سے گھبرانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ناخوش ہے کہ منہ سے کوئی شخص ایک بات کہے اور اس کے موافق عمل نہ کرے۔ اور صحیحین 2 ؎ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ زبان سے وعدہ کرکے اس کے موافق عمل نہ کرنا اور روز مرہ کی بات چیت میں جھوٹ بولنا اور امانت میں خیانت کرنا یہ منافق کی پہچان کی باتیں ہیں جو لوگ نیک کام کا ارادہ ظاہر کرکے پھر اس کے موافق عمل نہیں کرتے ان…
Read the full tafseer →یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے غلبے کا بیان ہے نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ تمام اشیا اس کے سامنے سرافگندہ ہیں اور آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے اپنی حوائج طلب کرتے ہیں ( وَهُوَ الْعَزِيْزُ ) اور وہ غالب ہے۔ یعنی اپنے غلبے اور تسلط کے ذریعے سے تمام اشیاء پر قاہر ہے۔ (الْحَكِيْمُ ) وہ پنے خلق وامر میں حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قول و فعل میں مطابقت اور جہاد کی فضیلت
تشریح : آسمانوں اور زمین کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کا تابع فرمان ہے ایک سیکنڈ کے لیے کوئی چیز اللہ کے بنائے ہوئے قانون اور حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی اور یہی ان کی تسبیح ہے۔ کیونکہ اللہ کے غلبے، علم اور حکمت سے باہر کوئی چیز بھی نہیں اور نہ ہی جاسکتی ہے۔ ہر چیز اس کی قدرت کے اندر گھری ہوئی ہے۔ اور وہ کارساز واحد ہے۔ اور وہ دلوں کے بھید بھی خوب اچھی طرح جانتا ہے اس لیے وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ کس کے قول و عمل میں کتنا تضاد ہے۔ کیونکہ مسلمان مخلص ہوتا ہے جب کہ منافق کہتا کچھ ہے کرتا کچھ ہے اور یہ رویہ اللہ کو کسی صورت بھی پسند نہیں۔ حدیث میں آتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیات 1 تا 9
اسرار ومعارف۔
آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے قال سے بھی اور حال سے بھی اور اللہ غالب ہے اور حکیم ہے سو اے ایمان والو جس کام کے کرنے کا ارادہ نہ ہو اس کے کرنے کا اعلان بھی مت کرو کہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ بات کہوجوتم کرنا نہیں چاہتے۔
گناہ کبیرہ اور تبلیغ۔
جس طرح آج کل کے لیڈر بہت بڑے دعوے نفاذ اسلام کے یاروٹی کپڑے مکان کے کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ان کا ارادہ قلبی ایسا کرنے کا نہیں ہوتا یہ گناہ کبیرہ ہے رہی تبلیغ کہ خود تو عمل میں کمزور ہے اور دوسروں کو دعوت دے رہا ہے تو دعوی اور دعوت میں فرق ہے مبلغ کو چاہیے کہ خود بھی عمل کرے لیکن اگر کمزوری سے…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی زبان حال یا قال سے شہادت دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے۔
Read the full tafseer →(61:1) سبح اللہ : سبح ماضی واحد مذکر غائب تسبیح (تفعیل) مصدر اس نے پاکی بیان کی۔ تسبیح بمعنی سبحان اللہ کہنا۔ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا۔
ما فی السموت : ما موصولہ فی السموت اس کا صلہ ۔ جو کوئی چیز آسمانوں میں ہے (نیز ملاحظہ ہو 57:1)
العزیز : غالب۔ زبردست، عذۃ سے (فعیل) کے وزن پر بمعنی فاعل۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔
الحکیم : حکمت والا۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔
تشریح :
مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
جہاد کے آداب۔
(ف 1) شان نزول : ترمذی، مستدرک حاکم وغیرہ میں معتبر سند سے جو شان نزول ان آیتوں کا بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ لڑائی کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے بعض لوگ لڑائی کی آرزو ظاہر کرتے تھے جب لڑائی کا حکم نازل ہوا تولڑائی سے گھبرانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ناخوش ہے کہ منہ سے کوئی شخص ایک بات کہے ، اور اس کے موافق عمل نہ کرنا اور روزمرہ کی بات چیت میں جھوٹ بولنا اور امانت میں خیانت کرنا یہ منافق کی پہچان کی باتیں ہیں جو لوگ نیک کام کا ارادہ ظاہر کرکے پھر اس کے موافق عمل نہیں کرتے ان کے ذکر سے پ ہے آسمان و زمین میں جو مخلوق اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن بعد کی آیت کو ان آیات کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اسلام کے لئے انفاق و جہاد کے دعوے تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے لیکن جب آزمائش کا وقت آتا تو بالکل بزدل ثابت ہوتے۔ ان کی اس کمزوری پر قرآن مجید میں کئی جگہ گرفت کی گئی ہے (ملاحظہ ہو سورة نساء آیت 77 صفحہ 194 اور سورة محمد آیت 20 صفحہ 1224) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
ان آیات میں انبیاء کے حالات کو بیان کیا ہے ۔ تاکہ حضور ﷺ کو معلوم ہو ۔ کہ امم سابقہ نے کیونکر حق و انصاف کی مخالفت کی ۔ اور کس طرح اپنے انبیاء کو بوقلمون اذیتوں سے شکستہ خاطر کیا ہے ۔ فرمایا ۔ کہ جب حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے کہا کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں ۔ اور تمہاری اصلاح کے لئے مبعوث ہوا ہوں ۔ تو انہوں نے کیا کہا ؟ کیا فوراً تسلیم کرلیا ؟ نہیں بلکہ مطالبہ کیا ۔ کہ ارنا اللہ جھرۃ پہلے جس خدا کی توحید کی طرف تم ہم کو دعوت دیتے ہو ۔ اس کو کھلم کھلا دکھاؤ۔ جب مانیں گے ۔ پھر گو سالہ کی پرستش شروع کردی ۔ اور خدا کی توحید کا…
Read the full tafseer →(1) ہروہ چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہ کمال قوت و حکمت کا مالک ہے۔ مخلوق کی تسبیح کرنے کا ذکر سورة حشر میں ہوچکا ہے تمام مخلوق کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز قالاً تسبیح کرتی ہو یا اس کے حال اور اس کی کیفیت سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا اظہار ہوتا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 6۔ پس جو ایسا باعظمت و شان ہو، اس کی اطاعت ہر حکم میں ضرور ہے، جن میں ایک حکم جہاد کا ہے جو اس سورة میں مذکور ہے جس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ ایک بار بعض مسلمانوں نے باہم تذکرہ کیا کہ اگر ہم کو کوئی ایسا عمل معلوم ہو جو حق تعالیٰ کے نزدیک نہایت محبوب ہو تو ہم اس کو عمل میں لاویں، اور اس کے قبل جنگ احد میں بعضے جہاد سے بھاگ چکے تھے، نیز وقت نزول حکم جہاد کے بعض کو وہ حکم گراں گزرا تھا اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تسبیح خواں ہے جو کچھ آسمانوں زمین میں ہے
1 ؎ زیر نظر آیت وہی آیت ہے جو اس سے پہلے سورة الحدید اور سورة الحشر کی پہلی آیت کے طور پر گزر چکی ہے اور اس جگہ سورة الصف میں بھی بطور پہلی آیت بیان کی گئی ہے اور جو مفہوم گزشتہ سورتوں میں اجاگر کیا گیا ہے بالکل اسی مضمون کی نسبت سے یہ آیت بیان ہوئی ہے ۔ اس لیے آپ سورة الحدید اور سورة الحشر کی پہلی آیت کی تفسیر پر ایک بار دو بار نظر ڈال لیں تو مفید ہوگا ۔ ایک بات مزید قابل غور ہے کہ ان تین سورتوں میں تو لفظ (سبح) بیان ہوا ہے لیکن آگے آنے والی سورت ( یسبح) سے شروع ہو رہی ہے اور ( یسبح) کا لفظ قرآن کریم میں سات بار آیا ہے ۔ مادہ…
Read the full tafseer →Commentary
Background of the revelation
Tirmidhi has recorded, on the authority of Sayyidna ` Abdullah Ibn Salam ؓ ، that a group of Companions discussed among themselves that if we come to know which is the dearest of actions in the sight of Allah, we shall act upon it. Hakim reported this Tradition and graded its chain as sahib'. Baghawi in his citation added the following words: "If we come to know which is the dearest of actions in the sight of Allah, we shall dedicate our lives and wealth to it." [ Mazhari ].
Ibn Kathir, with reference to Musnad of Ahmad, reports that some of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 This is a brief introduction to this discourse. For its explanation, see E.N.'s 1,2 of Surah AI-Hadid. The discourse has been opened with this introduction so that before hearing or reading what is going to follow, one may well understand that Allah is free from and far above this that the fimctioning of His Godhead should depend on someone s faith and another one's help and sacrifices. If He exhorts the believers to adopt sincerity in Faith and urges them to exert their utmost for the success and victory of the Truth, that is for the sake of their own good; otherwise the will of AIIah is…
Read the full tafseer →