61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 61:1–3

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

مومنو ! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جو کیا نہیں کرتے

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

خدا اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں

آیات۔ 1۔ 3 تفسیر پہلی آیت کی تفسیر سورة حدید کی پہلی آیت کے تحت گزر چکی ہے۔ دوسری دو آیات کے ضمن میں پانچ مسائل بیان کئے گئے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا……۔ داری ابو محمد نے اپنی مسند میں روایت نقل کی ہے کہ محمد بن کثیر، اوزاعی سے وہ یحیٰی بن ابی کثیر سے وہ ابو سلمہ سے وہ حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں : ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کی ایک جماعت بیٹھی ہم نے آپس بات چیت کی ہم نے کہا : اگر ہم جانتے کے اعمال میں سے کون سا عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ محبوب ہے تو ہم اس پر ضرور عمل کرتے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات سبح اللہ ……۔ ……۔ کو نازل فرمایا۔ ابو سلمہ نے کہا : حضرت ابن سلام نے انہیں ہم پر تلاوت کیا۔ یحییٰ نے کہا : ابو سلمہ نے انہیں ہم پر پڑھا، انہیں یحییٰ نے ہم پر پڑھا، اوزاعی نے انہیں ہم پر پڑھ اور محمد نے انہیں ہم پر پڑھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے کہا : اگر ہم ایسا عمل جانتے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے محبوب ہے تو ہم اس پر عمل کرتے ؟ جب جہاد کا حکمنازل ہوا تو صحابہ نے اس ناپسند کیا (2) ۔ کلبی نے کہا : مومنوں نے کہا : یا رسول اللہ ! اگر ہم ایسے عمل کو جانتے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ محبوب ہے تو ہم اس عمل کو بجا لانے میں جلدی کرتے تو یہ آیت نازل ہوئی ھل ادلکم……۔ صحابہ کرام طویل زمانہ تک رکے رہے وہ کہتے : کاش ! ہم جانتے کہ وہ کیا ہے تو ہم انہیں اموال، اپنی جانوں اور اہل کے بدلے خرید لیتے ؟ اللہ تعالٰ نے انہیں اپنے ارشاد کے ساتھ انہیں آگاہ کیا تومنون ………۔ غزوہ احد کے موقع پر آزمایا گیا تو وہ بھاگ گئے اس وعدہ خلاف کرنے پر انہیں عار دلانے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔ محمد بن کعب نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے شہداء بدر کے ثواب کے بارے میں خبر دی تو صحابہ نے کہا : اے اللہ ! گواہ رہنا اگر ہمیں جنگ کا موقع ملا تو ہم اپنی پوری طاقت صرف کردیں گے، وہ غزوہ احد کے موقع پر بھاگ گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس پر عار دلائی (1) ۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو یہ کہتے تھے : ہم نے جہاد کیا، ہم نے فلاں کو قتل کیا جبکہ انہوں نے اس طرح نہیں کیا تھا۔ حضرت صہیب رومی نے کہا : ایک آدمی تھا جس نے غزوہ بدر کے موقع پر مسلمانوں کو بڑی مصیبت میں ڈالا اور انہیں زخمی کیا تو میں نے اسے قتل کردیا۔ ایک آدمی نے کہا : اے للہ کے نبی ! میں نے فلاں کو قتل کیا ہے تو نبی کریم ﷺ اس وہ سے خوش ہوئے۔ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا : اے صہیب ! کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں بتایا کہ میں نے فلاں کو قتل کیا ہے ؟ فلاں آدمی اس کے قتل کو اپنی طرف منسوب کررہا تھا۔ حضرت صہیب رومی نے بتایا : رسول اللہ ﷺ نے پوچھا ! ” اے ابو یحییٰ ! کیا بات اسی طرح ہے ؟ “ عرض کی : جی ہاں، اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ﷺ ! تو جس نے اس قتل کو اپنی طرف منسوب کیا تھا اس کے بارے میں آیت نازل ہوئی۔ ابن زید نے کہا : یہ آیات منافقین کے حق میں نازل ہوئیں (2) ۔ وہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کو کہا کرتے تھے : اگر تم نکلے اور تم نے جنگ کی تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور جنگ کریں گے۔ جب وہ نکلے تو منافق ان سے پیچھے ہٹ گئے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ آیت اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ جس آدمی نے اپنے اوپر کوئی عمل لازم کیا جس میں طاقت ہو تو وہ اس کو پورا کرے صحیح مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے آپ نے اہل بصرہ کے قراء کی طرف پیغام بھیجا تو آپ کی خدمت میں تین سو آدمی حاضر ہوئے جنہوں نے قرآن پڑھ رکھا تھا (3) ۔ فرمایا : تم اہل بصرہ کے بہترین لوگ ہو اور ان کے قاری ہو تم اس کی تلاوت کرو تم پر کوئی عرصہ نہ گزرے کہ تمہارے دل سخت ہوجائیں جس طرح ان کے دل سخت ہوگئے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، ہم ایک ایسی سورت پڑھتے تھے جو طوالت اور شدت میں سورة براءت جیسی تھی، مجھے وہ بھلا دی گئی مگر مجھے اتنی بات یاد ہے کہ اس میں تھا اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو تیسری وادی کی خواہش کرتا ہے متئی کے سوا کوئی چیز انسان کے پیٹ کو بھر نہیں سکتی۔ ہم ایک سورت پڑھا کرتے تھے جسے ہم مسبحات سورتوں میں سے ایک کے مشابہ خیال کرتے تو وہ مجھے بھلادی گئی مگر مجھے اس میں سے یہ یاد ہے : اے مومنو ! تم وہ کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔ تمہاری گردنوں میں بطور شہادت اسے لکھ دیا جائے گا اور قیامت کے روز تم سے اس بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ابن عربی نے کہا : یہ سب باتیں دین میں ثابت ہیں جہاں تک یایھا الذین ……۔ کا تعلق ہے یہ تو دین میں لفظ اور معنی کے اعتبار سے اس سورت میں ثابت ہے (1) ۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ تمہاری گردنوں میں شہادت ہوئی اور قیامت کے روز اس بارتے میں تم سے پوچھا جائے گا، یہ معنی کے اعتبار سے دین میں ثابت ہے کیونکہ جو کسی چیز کو اپنے اوپر لازم کرتا ہے وہ شرعا اس پر لازم ہوجاتی ہے۔ جو چیز لازم ہوتی ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔ ا : نذر، نذر کی بھی دو قسمیں ہیں (1) جو ابتداء عبادت ہو جس طرح کسی کا یہ قول ہے : للہ …… اللہ کے لئے مجھ پر نماز، روزہ، اور صدقہ ہے یا اسی طرح کسی عبادت کا ذکر کرے۔ بالاجماع اس کو پورا کرنا لازم ہے۔ (2) نذر مباح۔ اس سے راد ایسی نذر ہے جس کو اس نے پسندیدہ شرط کے ساتھ معلق کیا ہو جس طرح اس کا قول ہے : اگر میرا غائب آیا تو مجھ پر صدقہ لازم ہے۔ یا کسی خوف والی شرط کے ساتھ معلق کرے جیسے : اگر اللہ تعالیٰ میری فلاں تکلیف کے لئے کافی ہوگیا تو مجھ پر صدقہ لازم ہے۔ علماء نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ امام مالک اور امام ابوحنیفہ نے کہا : اس کو پورا کرنا لازم ہے۔ امام شافعی نے اپنے ایک قول میں کہا : اس کو پورا کرنا لازم نہیں آیت کا عموم ہماری دلیل ہے، کیونکہ آیت کا مطلق ہونا ان آدمیوں کی مذمت کو شامل ہے جو کسی طور پر بھی ایسا نہ کرے خواہ وہ مطلق ہو یا شرط کے ساتھ مقید ہو۔ امام شافعی کے اصحاب نے کہا : بیشک وہ نذر جس سے عبادت کا مقصد ہو۔ یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب وہ عبادت کی جنس سے ہو۔ یہ اگرچہ عبادت کی جنس سے تو ہے مگر اس کے ساتھ عبادت کا قصد نہیں کیا گیا بلکہ اس سے یہ قصد کیا گیا ہے کہ اپنے نفس کو کسی فعل سے روکنے یا کسی فعل کے کرنے کا قصد کیا گیا ہے۔ ہم کہتے ہیں : تمام شرعی عبادات حقیقت میں مشقتیں اور مشکل امور ہیں، اگرچہ یہ عبادات ہیں۔ یہ کسی نفع کے حصول یا تکلیف کو دور کرنے کے لئے کسی مشقت کے ساتھ قربت کا لازم کرنا ہے۔ تو یہ امور مکلف بنانے سے خارج نہ ہوں گے۔ ابن عربی نے کہا : اگرچہ جو بات کی گئی ہے وہ وعدہ ہے تب بھی اس سے خالی نہیں کہ یہ کسی سبب پر منحصر ہو جس طرح کوئی کہتا ہے : ان تزوجت……، اگر میں نے شادی کی تو ایک دینار کے ساتھ تیری مدد کروں گا یا اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں تجھے یہ عطا کروں گا۔ یہ لازم ہے فقہاء کا اس پر اتفاق ہے۔ اگر صرف وعدہ ہو تو ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ اپنے مطلق ہونے کی وجہ سے لازم ہوگیا۔ انہوں نے آیت کے سبب سے استدلال کیا گیا ہے۔ کیونکہ روایات کی گئی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : اگر ہم ایسا عمل جانتے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب افضل ہے یا اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے محبوب ہے تو ہم ضرور اس پر عمل کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ یہ ایسی حدیث ہے جس میں کوئی کجی نہیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے جب آیت کو سنا تو کہا : میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے آپ کو روکے رکھوں گا یہاں تک کہ شہید کیا جائوں۔ میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ وعدہ عذر کے بغیر ہر صورت میں پورا کرنا لازم ہے۔ میں کہتا ہوں : امام مالک نے کہا جہاں تک وعدہ کا تعلق ہے جس طرح ایک آدمی کسی سے سوال کرتا ہے کہ وہ اسے کوئی چیز ہبہ کرے تو وہ آدمی کہتا ہے : ہاں ٹھیک ہے۔ پھر اس کے لئے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایسا نہ کرے تو میں اسے نہیں دیکھتا کہ یہ اس پر لازم ہوگا۔ ابن قاسم نے کہا : جب اس نے قرض خواہوں سے وعدہ کیا اور کہا : میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے ہبہ کردیا جو وہ تمہیں دے دے گا۔ یہ اس پر لازم ہوجائے گا، مگر اس کا یہ کہنا : ہاں میں ایسا کروں گا۔ پھر اس کے لئے ظاہر ہوا ( کہ وہ اسے نہ دے) تو میں اس پر کوئی چیز لازم نہیں دیکھتا۔ میں کہتا ہوں : اس پر اس چیز کو لازم نہیں کیا جائے گا۔ جہاں تک مکارم اخلاق اور حسن مروت کا تعلق ہے تو اس حد تک تو ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کی تعریف کی ہے جس نے اپنے وعدے کو سچ کر دکھایا اور اپنی نذر کو پورا کیا فرمایا : و الموفون……(البقرہ : 177) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واذکر فی الکتب……(مریم :54) اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ امام نخفی نے کہا : تین آیات ایسی ہیں جنہوں نے مجھے منع کر رکھا ہے کہ میں لوگوں کو وعظ و نصیھت کروں اتامروں ………(البقرہ :44) وما ارید ……(ہود : 88) یایھا الذین ……۔ (الصف) ابو نعیم حافط نے مالک بن دینار سے وہ ثمامہ سے وہ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں ایسی قوم کے پاس آیا جن کے منہ آگ کی قینچوں سے کاٹے جا رہے تھے جب بھی انہیں کاٹا جاتا تو وہ پھر بڑھ جاتے۔ میں نے پوچھا : اے جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ حضرت جبریل امین نے عرض کی : یہ تیری امت کے خطباء ہیں جو کہتے ہیں، عمل نہیں کرتے، وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے “ (1) ۔ سلف صالحین کے بارے میں مروی ہے : ان سے عرض کی گئی : ہمیں کچھ بیان کیجئے تو وہ خاومش رہے پھر انہیں کیا گیا : ہمیں کچھ بیان کیجئے۔ فرمایا : کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ میں ایسی بات کروں جو میں خود نہ کروں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا جلدی مستحق ہوجائوں۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ لم تقولون مالا تفعلون۔ کلمہ استفہام انکار اور تو بیخ کے لئے ہے کہ انسان بھلائی کا ذکر تو کرے مگر خود اس پر عمل نہ کرے، اگر یہ ماضی سے متعلق ہو تو یہ جھوٹ ہوگا اگر مستقبل سے متعلق ہو تو یہ وعدہ خلافی ہوگی۔ دونوں چیزوں مذموم ہیں۔ سفیان بن عینیہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی یہ تاویل بیان کی ہے جو معاملہ تمہارے قبضہ میں نہیں تو وہ کیوں کہتے ہو تم نہیں جانتے کہ کیا تم اس کو کرسکو گے یا نہیں کرسکے گے۔ اس صورت میں کلام ظاہر معنی پر محمول ہوگی کہ ایسے قول پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ کبیر مقتا ……۔ امام شافعی کے ایک قول کے مطابق غضب کی حالت میں بھی وفا کرنا ضروری ہے۔ ان ما بعد سے ملکر مبتدا ہے اور ماقبل اس کی خبر ہے گویا فرمایا : تمہارا ایسی بات کرنا جس پر خود عمل نہ کرو یہ مذموم ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مبتدا مخذوف کی خبر ہو۔ کسائی نے کہا : ان نقل رفع میں ہے کیونکہ کبرا ایسا فعل ہے جس بئس رجلا اخوک کے قائم مقام ہے اور مقتا تمیز کے طور پر منصوب ہے۔ معنی یہ بنتا ہے۔ کجر قولھم مالا یفعمون مقتا ان کا ایسک بات کرنا جا پر وہ عمل پیرا نہ ہوں یہ بری ناراضگی کا باعث ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حال ہے مقت اور مقاتہ یہ دونوں مصد رہیں یوں کہا جاتا ہے : رجل مقیت و مسقوت جب لوگ اسے پسند نہ کریں۔
Ayah 61:4

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی راہ میں (ایسی طور) پر پرے جما کر لڑتے ہیں گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں وہ بیشک محبوب مددگار ہیں

تفسیر اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ ان اللہ ……… وہ صف بندی کرتے ہیں۔ مفعول بہ مضمر ہے تقدیر کلام یہ ہے یصفون انفسھم صفا۔ کانھم……۔ فراء نے کہا : وہ سیسہ پلائی ہوی دیوار ہیں (1) ۔ مبرد نے کہا : یہ رصحت البناء سے مشتق ہے جب تو اسے اس طرح بنا دے کہ وہ ایک ٹکڑے کی طرح ہوجائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ رصیص سے مشتق ہے اس سے مراد دانتوں کا ایک دوسرے کے ساتھ جڑنا ہے۔ تراص سے مراد باہم جڑنا ہے۔ اسی سے تراصوانی الصف ہے آیت کا معنی ہے۔ جو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنی جگہ جم جاتا ہے جس طرح دیوار ایک جگہ ثابت رہتی ہے۔ سعید ب جبیر نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کیجانب سے مومنین کو تعلیم ہے کہ جب دشمنوں سے جنگ کا مرحلہ ہو تو وہ کیسے رہیں (2) ۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ بعض اہل تاویل نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ پیدل کا جہاد شاہسوار کے جہاد سے افضل ہے کیونہ شاہسوار اس طریقہ سے صف بندی نہیں کرتے۔ مہدوی نے کہا : یہ درست نہیں کیونکہ شہسوار کے اجر اور غنیمت میں فضیلت کا ذکر ہے۔ شاہسوار آیت کے معنی سے خارج نہیں کیونکہ اس کا معنی ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ صف سے نکلنا جائز نہیں مگر ایسی ضرورت کی بناء پر جو انسان کو لاحق ہوتی ہے یا ایسے پیغام کی وجہ سے جو امام بھیجتا ہے یا ایسی منفعت میں جو خاص مقام میں ظاہر ہوتی ہے یا فرصت جس کا موقع ملتا ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ دعوت مبارزت کے لئے صف سے نکلنے میں دو قول ہیں۔ (1) اس بارے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مقصد دشمن کو خوفزدہ کرنا ہے، شہادت کو طلب کرنا ہے اور قتال پر برانگیختہ کرنا ہے۔ ہمارے اصحاب کہتے ہیں : یوئی آدمی دعوت مبارزت کیلے نہ نکلے کیونکہ اس میں ریاکاری اور اس امر کی طرف نکلنا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔ مبارزت اس وقت ہے جب کافر اسے طلب کرے جس طرح حضور ﷺ کی موجودگی میں غزوہ بدر اور غزوہ خیبر میں ہوا۔ سلف صالحین کا یہی انداز رہا۔ سورة بقرہ آیت 195 میں ولا تقلوا بایدیکم الیل التھلکۃ کے ضمن میں مفصل بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 61:5

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔ تو جب ان لوگوں نے کجروی کی خدا نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے اور خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

تفسیر واذ قال موسیٰ لقومہ جب جہاد کے امر کا ذکر کیا تو یہ بیان کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے توحید کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کا حکم دیا اور جن لوگوں نے ان کی مخالفت کی ان پر عقاب نازل ہوا، اے محمد ! ﷺ ! اپنی قوم کے سامنے اس قصہ کا ذکر کیجئے۔ یقوم لم توذوننی یہ اس وقت ہوا جب آپ کی قوم نے آپ پر اور وہ (ایک بیماری جس کی وجہ سے خصیتین پھولجاتے ہیں) کی تہمت لگائی جس طرح سورة احزاب میں گزرا۔ اذی سے مراد وہ ہے جس کا ذکر قارون کے واقعہ میں گزر چکا ہے۔ قارون نے ایک عورت کے ساتھ سازش کی تھی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فسق و فجور کا دعویٰ کرتی۔ اور اذی سے مراد وہ قول بھی ہے جس کا ذکر اس ارشاد باری میں ہے۔ اجعل ………(الاعراف :138) فاذھب انت ……(المائدہ :24) اور ان کا یہ قول کہ تو نے باردون کا قتل کر یا۔ اس کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ وقد …… رسول کا احترام کیا جاتا ہے اور ان کی تعظیم بجا لائی جاتی ہے۔ ثعلمون پر قد تاکید کے لئے ہے گویا فرمایا : تم یقینی علم جانتے ہو، تمہارے لئے اس میں کوئی شبہ نہیں۔ فلما زاغوا جب وہ حق سے مائل ہوئے ازاغ اللہ قلوبھم انہیں ہدایت سے دور کرایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ طاعت سے پھرے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت سے پھیر دیا (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان سے پھیرا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ثواب سے پھیر دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے احترام اور رب کی طاعت کو ترک کردیا جن کا انہیں حکم دیا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں گمراہی کو پیدا کردیا جو ان کے فعلوں پر ان کے لئے عقوبت ہے۔
Ayah 61:6

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں (اور) جو (کتاب) مجھ سے پہلے آچکی ہے (یعنی) تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہو (پھر) جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

تفسیر واذ قال عیسیٰ ابن مریم ان کے لئے یہ قصہ بھی بیان کرو فرمایا : اے بنی اسرائیل ! اے میری قوم نہیں فرمایا جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ان میں نسب نہیں تھا کہ وہ ان کی قومہوتے۔ انی رسول اللہ………میں انجیل دے کر تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں، تورات میں میری صفت موجود ہے، میں تمہارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لایا جو تورات کے خلاف ہو کہ تم مجھ سے نفرت کرتے۔ اور میں رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں۔ مبشرا حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ اس میں عامل ارسال کا معنی ہے۔ الیکم رسول کا صلہ ہے۔ یاتی ……، ابن کثیر اور ابو عمرو نے من بعد میں یاء کر فتحۃ دیا ہے (1) ۔ یہ سلمی، زربن حبیش اور ابوبکر کی عاصم سے منقول قراءت ہے : ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ کیونکہ یہ اسم ہے، جس طرح بعدک میں کاف اور قمتہ میں تاء مفتوح ہے۔ باقی قراء نے اسے ساکن پڑھا ہے۔ من …… میں یاء کو لفظوں سے حذف کردیا ہے۔ احمد یہ ہمارے نبی ﷺ کا نام ہے۔ یہ ایسا اسم علم ہے جو صفت سے منقول ہے فعل سے منقول نہیں۔ اس صفت سے مراد اسم تفضیل ہے۔ احمد کا معنی حمد کرنے والوں میں سے اپنے رب کی سب سے زیادہ حمد کرنے والا۔ تمام انبیاء اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے والے ہیں اور ہمارے نبی ان میں سے سب سے زیادہ حمد کرنے والے ہیں۔ جہاں تک لفظ محمد کا تعلق ہے۔ یہ بھی صفت سے منقول ہے۔ یہ محمد کے معنی میں ہے لیکن اس میں مبالغہ تکرار کا معنی پایا جاتا ہے۔ پس محمد اس کہیں گے جس کی یکے بعد دیگرے تعریف کی جاتی ہو جس طرح مکرم ہے جس کی بار بار تکریم کی جاتی ہو اسی طرح ممدح وغیرہ ہے۔ اسم محمد اپنے معنی کے مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا نا اس سے قبل رکھا کہ اپنا یہ نام رکھتے یہ نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کیونکہ آپ ﷺ کا نام آپ ﷺ پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ آپ ﷺ دنیا میں محمود ہیں کیونکہ آپ کے علم و حکمت کی طرف رہنائی کی گئی اور اس سے نفع اٹھایا گیا، وہ آخرت میں شفاعت کی وجہ سے محمود ہیں جس طرح لفظ تقاضا کرتا ہے اس طرح محمد کی معنی میں تکرار ہے۔ پھر آپ ﷺ محمد نہ ہوتے یہاں تک کہ آپ ﷺ احمد ہوتے آپ ﷺ نے اپنے رب کی حمد کی، اس کی عظمت شان اور شرف کو بیان کیا، اسی وجہ سے احمد کا اسم اس اسم پر مقدم ہوا جو محمد ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا ذکر کیا فرمایا : اسمہ احمد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا ذکر کیا جب ان کے رب نے انہیں ارشاد فرمایا : وہ احمد ﷺ کی امت ہے۔ فرمایا : اے اللہ ! مجھے احمد ﷺ کی امت میں سے بنا دے۔ انہوں نے محمد کے ذکر سیقبل احمد کا ذکر کیا کیونکہ آپ ﷺ نے اپنے رب کی جو حمد کی ہے وہ اسے قبل واقع ہوا جب لوگوں نے آپ ﷺ کی حمد کی۔ جب آپ ﷺ کی ذات پائی گئی اور آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو آپ ﷺ بالفعل محمد ہوگئے۔ شفاعت میں بھی صورت حال اسی طرح ہے۔ آپ ﷺ اپنے رب کی ایسے الفاظ کے ساتھ حمدی کریں گے۔ جو اللہ تعالیٰ ان پر القا کرے گا، آپ تمام لوگوں سے بڑھ کر حمد کرنے والوں ہوں گے پھر آپ ﷺ شفاعت کریں گے تو شفاعت کی وجہ سے آپ ﷺ کی تعریف کی جائے گی۔ یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشا فرمایا :” تو رات میں میرا نام احید ہے کیونکہ میں اپنی امت کو آگ سے دور کروں گا (1) ۔ زبور میں میرا نام ماحی ہے اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے بت پرستی کو مٹایا ہے۔ انجیل میں میرا نام احمد ہے اور قرآن میں میرا نام محمد ہے، کیونکہ میں اہل سماء اور اہل زمین میں محمود ہوں “۔ صحیح میں ہے :” میرے پانچ نام ہیں میں محمد، احمد، ماحی : اللہ تعالیٰ میرے ذریعے کفر کو مٹاتا ہے) حاشر (میرے قدموں پر لوگوں کو اٹھائے گا) اور عاقب ہوں “ (2) ۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ فلما جاء ھم بالبینت ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں بینات سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت محمد ﷺ ہیں قالو ھذا سحر مبین کسائی اور حمزہ نے اسے ساحر پڑھا ہے۔ یہ رجل کی صفت ہے۔ ایک روایت یہ بیان کی گئی ہے : یہ حضرت ابن مسعود کی قراءت ہے باقی قراء نے سحر پڑھی ہے۔ یہ اس کی صفت ہے جو رسول اللہ ﷺ لائے۔
Ayah 61:7

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون کہ بلایا جائے تو اسلام کی طرف اور وہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

تفسیر ومن اظلم یعنی اس سے بڑھ کو کوئی ظالم نہیں۔ ممن افتری علی اللہ الکذب اس کے بارے میں گفتگو پہلے کئی بار گزر چکی ہے۔ وھو یدعی الی الاسلام اس آدمی پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے جس نے معزات کے ظاہر ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا۔ طلحہ بن مصرف نے وھو یدعی قراءت کی ہے، یعنی وہ منسوب ہوتا ہے۔ یدعی اور ینتمسبو دونوں برابر ہیں۔ واللہ ……۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ میں ہے کہ اس پر گمراہی کی مہر لگائی جائے گی۔
Ayah 61:8

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ خدا (کے چراغ) کی روشنی کو منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں۔

تفسیر یریدون……اطفاء کا معنی بجھانا ہے (3) ۔ دونوں لفظ آگ کے بارے میں استعمال ہوتے ہیں۔ اطفاء اور اخما دنیا اور ظہور میں بھی استعمال ہوتے ہیں جو آگ کے قائم مقام ہیں۔ اطفاء اور اخماد میں ایک وجہ سے فرق ہے۔ اطفاء قلیل اور کثیر دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اور اخماد کثیر میں استعمال ہوتا ہے، قلیل میں استعمال نہیں ہوتا، یہ جملہ تو کہا جاتا ہے : اطفات السراج یہ نہیں کہا جاتا : اخمدت السراج۔ نور اللہ کے بارے میں یہاں پانچ قول ہیں۔ (1) مراد قرآن ہے، وہ قول کے ذریعے اس کو باطل کرنے اور جھٹلانے کا ارادہ کرتے ہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس اور ابن زید کا قول ہے۔ (2) مراد اسلام ہے۔ وہ کلام کے ذریعے اس کو رد کرنا چاہتے ہیں ؛ یہ سدی کا قول ہے۔ (3) مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ وہ بناوٹی جھوٹی خبروں کے ساتھ آپ کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں : یہ ضحاک کا قول ہے۔ (4) اللہ تعالیٰ کے دلائل ہیں وہ اپنے انکار اور تکذیب کے ساتھ دلائل کا ابطال چاہتے ہیں ؛ یہ ابن بحر کا قول ہے۔ (5) یہ ضرب المثل ہے۔ جس نے اپنے منہ سے سورج کے نور کو بجھانا چاہا تو وہ اسے محال اور ممتنع پائے گا اسی طرح جس نے حق کو باطل کرنے کا ارادہ کیا ؛ اسے ابن عیسیٰ نے بیان کیا ہے۔ اس آیت کا شان نزول ہے جو عطا نے حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ پر چالیس روز تک وحی نہیں آئی تو کعب بن اشرف نے کہا : اے یہودیو ! خوشخبری ہو اللہ تعالیٰ نے اس نور کو بجھا دیا جو ان پر نازل ہوتا تھا ان کا معاملہ مکمل ہونے والا نہیں رسول اللہ ﷺ غمگین ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا اور اس کے بعد وحی کا اتصال رہا ؛ ماوردی نے ان تمام چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ واللہ متم نورہ ولو کرہ الکفرون۔ آفاق میں ظاہر کرنے کے ساتھ۔ ابن کثیر، حمزہ، کسائی اور بعض نے عاصم سے واللہ متم نورہ اصفافت کے ساتھ قراءت کی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کل نفس ……(آل عمران :185) اور اس جیسی دوسری آیات ہیں جس طرح اس کی وضاحت سورة آل عمران میں گزر چکی ہے باقی قراء نے متم نورہ پڑھا ہے کیونکہ اسم فاعل کا صیغہ مستبقل کے معنی میں ہے تو یہ عمل کرے گا۔ ولو کرہ الکفرون۔ تمام قسم کے کافر اسے ناپسند کریں۔
Ayah 61:9

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو برا ہی لگے۔

تفسیر ھو الذی …… وہی ذات پاک ہے جس نے حضرت محمد ﷺ کو حق اور ہدایت کے ساتھ مبعوث کیا۔ لیظھرہ علی الدین کلہ یعنی دلائل کے ساتھ اسے تمام ادیان پر غالب کردے۔ ظھور سے مراد جنگ میں طاقت کے ذریعے غلبہ ہے۔ طھور سے مراد یہ نہیں کہ کوئی دوسر ادین باقی ہی نہ رہے بلکہ مراد یہ ہے کہ مسلمان غالب اور بلند ہونگے اور آخر زمانہ میں اسلام کے سوا کوئی دین باقی نہیں رہے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : لیظھرہ … یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ظاہر ہونے کے ساتھ دین غالب ہوگا اس وقت کوئی کافر باقی نہیں رہے گا مگر سب مسلمان ہوجائیں گے۔ مجاہد نے کہا : یہ اس وقت ہوگا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اتریں گے تو زمین میں کوئی دین باقی نہیں رہے گا مگر صرف دین اسلام ہوگا (1) ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” حضرت ابن مریم (علیہ السلام) عادل ثالث کی حیثیت سے اتریں گے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کردیں گے، نوجوان اونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائے گا ان پر کوشش نہیں کی جائے گی دشمنی، باہم بغض اور باہم حسد ختم ہوجائے گا، مال کی طرف لوگوں کو بلایا جائے گا تو اسے کوئی بھی قبول نہیں کرے گا “ (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو تمام ادیان پر مطلع فرمائے گا یہاں تک کہ آپ ان کے علام اور ان کی بطلان کی وجہ سے آگاہ ہوجائیں گے اور انہوں نے جو تحریف اور تبدیلی کی ہے اس پر مطلع ہوجائیں گے۔ علی الدین مراد تمام دین ہیں کیونکہ دین مصدر ہے اس کے ساتھ جمع کو بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
Ayahs 61:10–13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

مومنو ! میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں عذاب الیم سے مخلصی دی۔

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

(وہ یہ کہ) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو باغہاے جنت میں جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور پاکیزہ مکانات میں جو بہشت ہائے جاودانی میں (تیار) ہیں داخل کرے گا یہ بڑی کامیابی ہے

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی تمہیں) خدا کی طرف سے مدد (نصیب ہوگی) اور فتح (عن) قریب ہوگی اور مومنو کو (اس کی) خوشخبری سنا دو

تفسیر اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا…… مقاتل نے کہا : یہ آیت حضرت عثما بن مظعون کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : کاش ! آپ ﷺ مجھے اجازت دیتے تو میں خولہ کو طالق دیتا، رہبانیت اختیار کرتا، اپنے آپ کو خصی کرلیتا، گوشت کو اپنے اوپر حرام کرلیتا، رات کو کبھی بھی نہ سوتا اور دن کو کبھی بھی افطار نہ کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میری سنت میں سے نکاح بھی ہے، اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں میری امت کی رہبانیت اللہ کی راہ میں جہاد ہے، میری امت کا خصی ہونا روزہ رکھنا ہے، اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم پر حلال کی ہیں انہیں اپنے اوپر حرام نہ کرو۔ میری سنت یہ بھی ہے کہ میں سوتا ہوں، میں قیام کرتا ہوں، میں روزہ افطار کرتا ہوں اور روزہ رکھتا بھی ہوں۔ جو میری سنت سے اعراض کرے تو وہ مجھ سے نہیں “ (1) ۔ حضرت عثمان ؓ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں پسند کرتا ہوں کہ میں یہ جانوں کہ کونسی تجارت اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب ہے ؟ تو میں وہ تجارت کروں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے۔ ادلکم کا معنی ہے میں عنقریب تمہیں بتائوں گا۔ تجارت سے مراد جہاد ہے ؛ اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : انا للہ ……(التوبہ : 111) یہ خطاب تمام مومنوں کو ہے۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : یہ خطاب اہل کتاب کو ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ تنجیکم من عذاب الیم۔ تمہیں دردناک عذاب سے چھٹکارہ دلائے۔ اس کے بارے میں بحث پہلے گزر چکی ہے۔ عام قراءت تنجیکم ہے۔ حضرت حسن بصری، ابن عامر اور ابو حیوہ نے تنجیکم مشدد پڑھا ہے یہ تنجیہ سے مشتق ہے پتھر تجارت کی وضاحت کی۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ تومنون ……اموال کا پہلے ذکر کیا کیونکہ خرچ کرنے کا سلسلہ اس سے شروع ہوتا ہے۔ ذلکم، خیر لکم تمہارا یہ فعل تمہارے اموال اور تمہاری ذاتوں سے بہتر ہے۔ ان کنتم تعلمون، مبرد اور زجاج کے نزدیک تومنون، امونا کے معنی میں ہے اسی وجہ سے جواب امر کے طور پر یغفرلکم مجروم ہے۔ عبد اللہ کی قراءت میں امنوا باللہ ہے۔ فراء نے کہا یغفرلکم استفہام جواب ہے۔ یہ اس صورت میں صحیح ہوگا جب اسے معنی پر محمول کریں یہ صورت اس وقت ہوگی جب تومنون باللہ وتجاھدون، ھل ادلکم علی تجارۃ ……۔ کا عطف بیان ہوگو یا تجارت کا پتہ نہیں تھا وہ کیا ہے ؟ تو ایمان و جہاد اس کا بیان ہے۔ گویا فرمایا : کیا تم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو اور جہاد کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے گا۔ زمحشری نے کہا : دلالت کا متعلق تجارت (2) اور تجارت کی تفسیر ایمان و جہاد سے بیان کی گئی ہے گویا فرمایا : کیا تم ایمان و جہاد کے ساتھ تجارت کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے گا۔ مہدوی نے کہا : اگر تو اس کلام کو مقدر نہ کرے تو مسئلہ صحیح نہ ہوگا تقدیر کلام یوں ہوگی، ان دللتم یغفرلکم، غفران کی صفت قبول و ایمان سے لگائی گئی ہے، دلالت کے ساتھ اس کی صفت نہیں لگائی گئی۔ زجاج نے کہا : اس طرح نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ انہیں ایسی چیز پر راہنمائی کرے جو انہیں بخش دے بیشک اللہ تعالیٰ انہیں بخشا جب وہ ایمان لائیں اور جہاد کریں۔ زید بن علی نے تومنو اور وتجاھدوا قرقاء تک ہے یعنی لام امر مضمر ہے ؛ جس طرح شاعر کا قول ہے : اے محمد ! یہ نفس تیرے نفس پر فدا ہوجائے جب تو کسی چیز سے ہلاکت کا خوف کرے۔ مراد لتفد ہے۔ بعض نے ادغام کیا اور کہا : یغفرلکم بہترین ادغام کو ترک کرنا ہے کیونہ راء حرف متکر رہے، قوی ہے اس کا ادغام لام میں اچھا نہیں کیونکہ اقوی کو اضعف میں مدغم نہیں کیا جاتا… مسئلہ نمبر 4 ۔ ومسکن طیبۃ ابو الحسین آضری نے حضرت حسن بصری نے روایت نقل کی ہے کہا : میں نے حضرت عمران بن حصین اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے اس آیت ومسکن طیبۃ کی تفسیر کے بارے میں پوچھا دونوں نے کہا : باخبر آدمی کے پاس تو پہنچا ہے۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا فرمایا :” جنت میں یہ موتی سے بنا محل ہے جس میں سرخ یا قوت کی سر حویلیاں ہونگی اور ہر حویلی میں ستر سبز زجر جد کے کمرے ہونگے، ہر کمرے میں ستر پلنگ ہونگے، ہر پلنگ پر مختلف قسم کے ستر بستر ہونگے اور ہر بستر پر ستر حوریں ہونگی، ہر کمرے میں ستر دستر خوان ہونگے، ہر دستر خوان پر ستر قسم کے کھانے ہونگے، ہر کمرے میں ستر خادم اور خادمائیں ہونگی اللہ تعالیٰ ہر مومن کو ایک دن میں اتنی قوت عطا کرے گا جس کے باعث تمام حوروں کے پاس جاسکے گا “ (1) ۔ فی جنت عدن کا معنی ٹھہرنا ہے۔ زلک الفوز العظیم۔ یہ دائمی اور بڑی سعادت ہے۔ کامیابی کی اصل یہ ہے کہ انسان دائمی چیز حاصل کرے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ واخری تحبونھا فراء اور اخفش نے کہا : اخری کا عطف تجارۃ پر ہے۔ یہ محل جر میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا محل رفع ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی لکم خسلہ……۔ نصر من اللہ تقدیر کلام یہ ہے۔ ھو نصر من اللہ۔ اس تعبیر کی صورت میں نصر، اخری کی تفسیر ہے۔ ایک قول یہ کیا گی ا ہے۔ نصر، اخری سے بدل ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی۔ ولکم ……۔ یعنی دنیا میں غنیمت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد فتح مکہ ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : مراد ایران اور روم کی فتح ہے (2) ۔ وبشر المومنین۔ مومنوں کو بشارت دو کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے۔
Ayah 61:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

مومنو ! خدا کے مددگار بن جاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا کہ (بھلا) کون ہیں جو خدا کی طرف (بلانے میں) میرے مددگار ہوں ؟ حواریوں نے کہا کہ ہم خدا کے مددگا رہیں تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر رہا۔ آخر الامر ہم نے ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد دی اور وہ غالب ہوگئے

تفسیر جہاد کے امر کو موکد کیا یعنی اپنے نبی کے حواری بنو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے مخالفین پر غلبہ دے جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو ان کے مخالفین پر غلبہ دیا۔ ابن کثیر، ابو عمرو اور نافع نے انصار۔۔۔۔۔ تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ انہوں نے کہا : کیونکہ اس کا معنی ہے تم ثابت قدم رہو اور تلوار کے ساتھ اس کے دشمنوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کے مددگار بنو۔ باقی قراء جو بصرہ، کوفہ اور شام سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے اسے انصار اللہ تنوین کے بغیر پڑھا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس سے لام اضافت حذف کردیا ہے۔ ابو عبید نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : نحن انصار اللہ یہاں تنوین نہیں۔ اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار بن جائو۔ پھر کہا : کلام میں اضمار ہے یعنی اے محمد ! انہیں کہو اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جائو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعاولیٰ کی جانب خطاب کا آغاز ہے یعنی تم حمایتی بن جائو جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب نے کیا۔ بحمد اللہ وہ انصار تھے اور وہ حواری تھے اور حواری رسولوں کے خاص لوگ ہوتے ہیں۔ معمر نے کہا : بحمد اللہ انہوں نے مدد کی تو ان کی تعداد ستر تھی انہیں لوگوں نے ہی عقبہ کی رات سروردو عالم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ قریش میں سے تھے، قتادہ نے ان کا نام بھی لیا یعنی حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد بن مالک، حضرت ابو عبیدہ بن جراح ان کا نام عامر تھا، حضرت عثمان بن مظعون، حضرت حمزہ بن مطلب، حضرت سعید کا ذکر نہیں کیا اور حضرت جعفر بن ابی طالب کا ذکر کیا ؓ کا معنی ہے وہ صحبت اور برہان کے ساتھ غالب آگئے کیونکہ جو روایت کی گئی ہے اس میں ہے انہوں نے کہا : کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سویا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نہیں سوتا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کھانا کھایا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نہیں کھاتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ آیت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصدوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن اسحاق نے کہا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جن حواریوں اور پیروکاروں کو بھیجا ان میں فطرس اور بولس کو رومیہ کی جانب، اندراییس اور متی کو اس علاقہ کی جانب جہاں کے لوگ انسانوں کو کھا جاتے تھے تو م اس کو بابل کی جانب جو مشرق کی جانب تھا۔ فیبلس کو قرطانجنہ کی جانب جو افریقہ ہے۔ یحنس کو دقسوس کی جانب جو اہل کہف کی بستی ہے۔ یعقوبیس کو اور یشلم کی جانب جو بیت المقدس ہے۔ ابن حلما کو عرب کی جانب جو حجاز کا علاقہ ہے۔ سیمن کو بربر کے علاقہ کی جانب۔ یہود اور بردس کو اسکندریرہ اور اس کے اردگرد کے علاقہ کی جانب۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد دلیل کے ساتھ کی۔ فاصبحو ظھرین۔ وہ غالب آگئے۔ یہ تیرے اسی قول سے ماخوذ ہے : ظھرت علی الحافظ میں دیوار پر چڑھا۔ اللہ تعالیٰ ہی حقیقت حال کو بہتر جانتا ہے اور اسی کی طرف لوٹنا اور ٹھکانا ہے۔