Ayah 62:1اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ ابوالعالیہ اور نصر بن عاصم نے الملک القدوس العزیز الحکیم قرأت کی ہے۔
یہ سب مرفوع ہیں تقدیر کلام یوں ہے ھو الملک۔
Ayah 62:2ھوالذی بعث فی الامین رسولاً منھم حضرت ابن عباس نے کہا : الامیون سے مراد تمام عرب ہیں خواہ ان میں سے کوئی لکھتا جانتا ہو یا لکھنا نہ جانتا ہو کیونکہ وہ اہل کتاب نہ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : امی سے مراد وہ ہیں جو لکھنا نہیں جانتے۔ قریش اسی طرح تھے۔ منصور نے ابراہیم سے روایت نقل کی ہے کہا : امی وہ ہے جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتا۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
رسولاً منھم مراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات ہے۔ عربوں میں سے کوئی قبیلہ ایسا نہیں مگر رسول اللہ ﷺ کی ان سے رشتہ داری تھی سب کا آپ سے نسبی تعلق ہے۔ حضرت ابن حاسق نے کہا، مگر بنی تغلب اس میں شامل نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے نصرانی ہونے کی وجہ سے اپنے نبی ﷺ کو ان سے پاک رکھا، انہیں آپ کے نسب سے تعلق نہیں۔ سرور دو عالم ﷺ امی تھے کوئی کتاب نہ پڑھی اور نہ کسی سے سیکھا۔ ماوردی نے کہا، اگر یہ سوال کیا جائے : احسان جتلانے کی وجہ کیا ہے (1) ؟ اگر نبی امی کو مبعوث کیا ؟ جواب تین طریقوں سے ہوگا۔ (1) انبیاء نے جو آپ ﷺ کے بارے میں بشارت دی اس کے یہ موافق ہے۔ (2) آپ ﷺ کا حال امیوں کے حال کے موافق ہے، ان کے ساتھ موافقت میں زیادہ قریب تھے۔ (3) ا سوئے ظن کی نفی مقصود ہے کہ آپ ان چیزوں کی تعلیم دیتے ہیں جو کتابیں آپ نے پڑھی ہیں اور وہ حکمتیں جن کی آپ نے تعلیم دی ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ سب کچھ ان کے معجزہ کی اور نبوت کی صداقت کی دلیل ہے۔
یتلوا علیھم ایتہ آیات سے مراد قرآن ہے۔ ویزکیھم اللہ تعالیٰ ایمان کے ساتھ ان کے دلوں کو پاکیزہ بناتا ہے (2) یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ انہیں کفر اور گناہوں کی آلودگیوں سے پاک کرتے ہیں، یہ ابن جریج اور مقاتل کا قول ہے۔ سدی نے کہا، آپ ان کے اموال کی زکوۃ وصول کرتے ہیں۔ ویعلمھم الکتب کتاب سے مراد قرآن ہے۔ والحکمۃ مراد سنت ہے، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے (3) حضرت ابن عباس نے کہا، کتاب سے مراد قلم کے ساتھ لکھنا ہے کیونکہ لکھنا عربوں میں شرع کی وجہ سے عام ہوا جب انہیں خط کے ساتھ علوم کو مقید کرنے کا حکم دیا گیا (4) حضرت امام مالک بن انس نے کہا، حکم سے مراد دین کی سمجھ ہے (5) اس بارے میں گفتگو سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔
وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین۔ قبل کا مضاف الیہ یا توہ ضمیر ہے یا ان یرسل الیھم ہے۔ یعنی آپ سے پہلے یا رسولوں کو معبوث کرنے سے پہلے وہ حق سے بہت دور تھے۔
Ayah 62:3واخرین منھم اس کا عطف الامین پر ہے یعنی امیوں میں اور دوسرے لوگوں میں رسول بھیجا۔ یہ بھی جائز ہے اس کا عطف یزکیھم ویعلمھم کی ضمیر پر ہو، یعنی انہیں تعلیم دیتا ہے اور دوسرے مومنوں کو تعلیم دیتا ہے کیونکہ تعلیم جب آخر زمانہ تک ترتیب وار ہوگی تو سب اول کی طرف منسوب ہوگی تو گویا تعلیم میں سے جو بھی چیز پائی گئی اس کی والی وہ پہلی ذات ہوگی۔
لما یلحقوابھم وہ ان کے زمانہ میں نہیں وہ ان کے بعد آئیں گے۔ حضرت ابن عمر اور سعید بن جیر نے کہا : مراد عجمی ہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے : ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورة جمعہ آپ ﷺ پر نازل ہوئی جب آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی واخرین منھم لما یلحقوابھم ایک آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ یہ کون لوگ ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ اس آدمی نے ایک دو یا تین دفعہ سوال دہرایا۔ اس آدمی نے کہا، ہم میں حضرت سلمان فاسری موجود تھے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ حضرت سلمان فارسی کے اوپر رکھا پھر فرمایا :” اگر ایمان ثریا پر ہوا تو ان میں سے لوگ اسے پا لیں گے “ (1) ایک روایت میں ہے :” اگر دین ثریا کے پاس وہا تو فارس کا ایک آدمی یا فارس کے بیٹوں میں سے ایک اس تک جائے گا یہاں تک کہ اسے حاصل کرے گا۔ “ الفاظ مسلم کے ہیں (2) عکرمہ نے کہا، اس سے مراد تابعین ہیں (3) مجاہد نے کہا : اس سے مراد سب لوگ ہیں یعنی عربوں کے بعد جن میں رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے، یہ ابن زید اور مقاتل بن حیان کا قول ہے (4) ۔ دونوں نے کہا : اس سے مراد نبی کریم ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد قیامت تک اسلام میں داخل ہونے والے افراد ہیں۔
سہل بن سعد ساعدی نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” میری امت کی پیٹھوں میں ایسے مرد اور عورتیں ہیں جو جنت میں حساب کے بغیر داخل ہونگے۔ “ پھر اس آیت کی تلاوت کی ذاخرین منھم لما یلحقوا بھم پہلا قول زیادہ پختہ ہے۔ یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں سیاہ بکریوں کو سیراب کر رہا ہوں، پھر ان کیپ یچھے مٹیالی بکریوں کو پانی پلاتا ہوں اے ابوبکر ! اس کی تاویل کیجیے۔ “ عرض کی : یا رسول اللہ ! جہاں تک سیاہ بکریوں کا تعلق ہے اس سے مراد عرب ہیں جاں تک مٹیالی بکریوں کا تعلق ہے عربوں کے بعد عجمی آپ ﷺ کی پیروی کریں گے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” فرشتے (جبریل امین) نے بھی یہی تاویل کی ہے۔ “ ابن ابی لیلی نے نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی سے روایت کی ہے : اس سے مراد حضرت علی شیر خدا ہیں۔ (5)
Ayah 62:4حضرت ابن عباس نے کہا، فضل سے مراد ہے عجم کو قریش کے ساتھ ملا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اسلام ہے (6) اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، یہ کلبی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد وحی اور نبوت ہے، یہ مقاتل کا قول ہے۔ چوتھا قول ہے : اس سے مراد وہ مال ہے جو طاعت میں خرچ کرتا ہے، یہ ابو صالح کے قول کا معنی ہے۔ امام مسلم، ابو صالح سے وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ مہاجر فقراء رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی : مالدار لوگ بلند درجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں لے گئے۔ پوچھا :” وہ کیا ؟ “ صحابہ نے عرض کی : وہ نماز پڑھتے ہیں جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں، وہ روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رزے رکھتے ہیں، وہ صدقہ کرتے ہیں، ہم صدقہ نہیں کرتے، وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم آزاد نہیں کرتے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں اگٓاہ نہ کروں جس کے ذریعے تم سبقت لے جانے والوں کو پالو گے اور بعد والوں سے سبقت لے جائو گے اور تم سے کوئی افضل نہیں ہوگا مگر اسی صورت میں جب وہ اس طرح کا عمل کرے جیسا تم عمل کرتے ہو۔ “ صحابہ نے عرض کی : کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! فرمایا :” تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمد اللہ کہا کرو۔ “ (1)
ابو صالح نے کہا : مہاجر قراء رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی : ہم نے جو عمل کیا اس کے بارے میں خوشحال لوگوں نے سنا تو انہوں نے بھی اسی کی مثل کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ “
پانچواں قول لوگوں کا بنی کریم ﷺ کی تصدیق میں اطاعت کرنا اور آپ ﷺ کے دین میں داخل ہونا اور آپ ﷺ کی مدد کرنا ہے (2) اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayah 62:5جب یہودیوں نے تورات پر عمل کو ترک کردیا اور وہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایک مثال بیان فرمائی۔
حملوا التورئۃ انہیں اس پر عمل کرنے کا مکلف بنایا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے جرجانی نے کہا، یہ حمالہ سے مشتق ہے جس کا معنی کفالت ہے، یعنی انہیں تورات کے احکام کا ضامن بنایا گیا۔ کمثل الحمار یحبل اسفاراً یہ سفر کی جمع ہے اس سے مراد بڑی کتاب ہے۔ جب اسے پڑھا جاتا ہے تو یہ معنی سے پردہ کو ہٹا دیی ہے۔ میمون بن مہران نے کہا : گدھا نہیں جانتا کہ اس کی پشت پر کتابیں ہیں یا گوبر ہے یہودیوں کی بھی یہی حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تنبیہ ہے کہ جو کتاب اٹھائے وہ اس کے معانی کو سیکھے، اس میں جو کچھ ہے وہ اس کو جانے تاکہ اسے بھی وہ مذمت لاحق نہ ہو جو انہیں لاحق ہوئی ہے۔ شاعر نے کہا :
زوامل لاسفار لا علم عندھم بجیدھا الا کعلم الابار
لعمرک ما یدری البعیر اذا غدا باوساتہ اور اح ما فی الغرائر
کتابیں اٹھانے والے جنہیں ان میں سے عمدہ چیز کا علم نہیں ہوتا ان کا علم ایسا ہے جیسے اونٹوں کا علم ہوتا ہے۔ تیری زگندی کی قسم اونٹ نہیں جانتا کہ بوریوں میں کیا ہے جب وہ اٹھائے جاتا ہے یا واپس آتا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا ،
ان الرواۃ علی جھل بما حملوا مثل الجمال علیھا یحمل الودع
لا الودع ینفعہ حمل الجمال لہ ولا الجمال بحمل الودع تنتفع
بے شک وہ راوی جو اس چیز سے ناوافق ہیں جس کے وہ حامل ہیں ان اونٹوں کی مانند ہیں جن پر ودیعتیں لادی گئی ہوں اونٹوں کا اس ودیعت کو اٹھانا اس امانت کو کوئی نفع نہیں دیتا اور نہ ہی امانت کا مال اٹھانے سے اونٹوں کو نفع ہوتا ہے۔
منذربن سعید بلوطی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے کہا اور خوب کہا ،
انعق بما شئت تجد انصاراً وزم اسفاراً تجد حماراً
یحمل ما وضعت من اسفار یحملہ کمثل الحمار
یحمل اسفاراً لہ وما دری ان کان ما فیھا صواباً و خطا
ان سئلوا قالوا کذا روینا ما ان کذبنا ولا اعتدینا
کبیرھم یصغر عنہ الحفل لانہ قلد اھل الجھل
جو چاہے تو آواز لگا تو مددگار پا لے گا تو کتابوں کو کس کر باندھ لے تو گدھا پا لے گا تو نے جو کتابیں باندھی ہیں وہ اسے اٹھا لیتا ہے جس طرح ایک گدھا اٹھاتا ہے وہ اسی طرح اٹھاتا ہے۔ وہ اپنی کتابیں اٹھاتا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ ان میں کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔ اگر ان سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں : ہم نے اسی طرح روایت کیا نہ ہم نے جھوٹ بولا اور نہ ہم نے غلطی کی۔
ان کا ب ڑا بھی مجمع میں حقیر ہوجاتا ہے کیونکہ اس نے جاہلوں کو علم کا قلاوہ پہنایا ہے۔
ثم لم یحملوھا انہوں نے اس پر عمل نہ کیا انہیں گدھوں کے ساتھ تشبیہ دی جبکہ تورات ان کے ہاتھوں میں ہے وہ اس پر عمل نہیں کرتے وہ گھر سے کتابیں اٹھاتے ہیں ان کے لے بوجھ کے سوا کوئی چیز نہیں اور نہ ہی ان کے لئے کوئی فائدہ ہے۔ یحمل حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ صفت ہونے کی حیثیت سے محل جر میں ہو کیونکہ الحمار جو معرف باللام ہونے کے باوجود نکرہ ہے جس طرح اللئیم نکرہ کے حکم میں ہے۔
ولقد امرعلی اللئیم یستبنی میں کمینے کے پاس سے گزرتا ہوں جو مجھے گالیاں دیتا ہے۔ یہاں بھی اللئیم نکرہ کے حکم میں ہے۔
بئس مثل القوم مثل القوم یہ فاعل ہے اور مخصوص بالذم مثل القوم الذین کذبوا بایت اللہ ہے تو اسم موصول سے پہلے مصاف محذوف ہے۔ واللہ لایھدی القوم الظلمین۔ اللہ تعالیٰ جس کے علم میں پہلے ہی موجود تھا کہ وہ کافر ہونگے انہیں ہدایت نہیں دیتا۔
Ayahs 62:6–7جب یہودیوں نے فضیلت کا دعویٰ کیا اور کہا : نحن ابنوآء اللہ واحبآء وہ (المائدہ :18) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ان زعمتم انکم اولیآء للہ من دون الناس تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اولیاء کو عظمت و شان حاصل ہے۔ فتمنوا الموت ان کنتم صدقین۔ تاکہ تم بھی وہاں پہنچ جائو جہاں اولیاء اللہ پہنچے ہیں۔ ولایتمنونہ ابداً بما قدمت ایدیھم۔ جو انہوں نے حضرت محمد ﷺ کی تکیذب کر رکھی ہے اس لئے وہ موت کی تمنا نہیں کریں گے۔ اگر وہ آرزو کرتے تو ضرور مر جاتے۔ اس میں ان کے قول کا بطلان ہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے پیارے ہونے کا جو دعویٰ کیا تھا اس کا بطلان ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا، والذی نفس محمد بیدہ لوتمنوا الموت ما یقی علی ظھرھا یھودی الامات اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ۔ اگر وہ لوگ موت کی تمنا کرتے تو زمین پر کوئی یہودی باقی نہ بچتا وہ مر جاتا۔ اس میں غیب کی خبر ہے اور نبی کریم ﷺ کا معجزہ ہے۔ سورة بقرہ آیت 94 قل ان کا نت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صدقین۔ میں بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 62:8زجاج نے کہا، یہ نہیں کہا اجتا : ان زید افمنطلق یہاں ارشاد فرمایا : فانہ ملقیکم کیونکہ الذی میں شرط کا معنی موجود ہے، تقدیر کلام یوں ہوگی ان فررتم منہ فانہ مل اقیکم ان کا فرار انہیں کوئی نفع نہ دے گا اس پر دلالت میں مبالغہ ہے۔
زبیر نے کہا :
ومن ھاب اسباب المنایا ینلنہ ولو رام اسباب السماء بسلم
جو آدمی موتوں کے اسباب سے ڈرتا ہے تو وہ اسے پا لیتی ہیں اگرچہ وہ سیڑھی کے ذریعے آسمان کے اسباب کا قصد کرے۔ میں کہتا ہوں : یہ جائز ہے کہ کلام اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر مکمل ہوجائے۔
الذین تقرون منہ پھر نئے سرے سے کلام شروع ہو فانہ ملقیکم۔ طرفہ نے کہا :
وکفی بالموت قاعلم واعضا لمن الموت علیہ قد قدر
فاذکر الموت و حاذر ذکرہ ان فی الموت لذی اللب عبر
کل شی سوف یلقی حتفہ فی مقام اوعلی ظھر سفر
والسایا حولہ ترصدہ لیس ینجیہ من الموت الحذر
تو جان لے موت اس کے لئے نصیحت کرنے والی کافی ہے جس پر موت مقدر کردی گئی ہے موت کو یاد کر یا اس کے ذکر سے بچ موت میں دانشمند کے لئے عبرتیں ہیں۔ ہر شی کسی قیام گاہ یا سفر میں اپنی موت سے ملاقات کرنے والی ہے۔ موتیں اس کے اردگرد اسے تاڑنے والی ہیں کوئی احتیاط موت سے اسے انجات نہیں دے سکتی۔
Ayahs 62:9–10اس میں تیرہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ یایھا الذین امنوا اذا نودی الصلوۃ من نوم الجمعۃ حضرت عبداللہ بن زبیر اور اعمش وغیرہ نے الجمعۃ میم کو ساکن کرتے ہوئے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں، ان دونوں کی جمع جمعہ اور جمعات آتی ہے۔ فراء نے کہا، الجمعۃ (میم کے سکون کے ساتھ) الجمعۃ (میم کے ضمہ کے ساتھ) اور الجمعہ میم کے فتحہ کے ساتھ یہ یوم کی صفت ہے، یعنی یہ لوگوں کو جمع کرتا ہے جس طرح ضحکۃ اسے کہتے ہیں جو لوگوں کو ہنساتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، قرآن حکیم تثقیل و تفخیم کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ اسے جمعہ پڑھا کرو یعنی میم مضموم ہے۔ فراء اور ابوعبیدہ نے کہا، تخفیف زیادہ مناسب اور اچھی ہے جس طرح غرفۃ سے غرف، طرفہ سے طرفہ، حجرہ سے حجر جمع آتی ہے۔ میم کا فتحہ بنی عقیل کی لغت ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے، یہ نبی کریم ﷺ کی لغت ہے۔ حضرت سلمان فارسی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اسے جمعہ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اس روز اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو جمع کیا (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ اس میں ہر شی کی تخلیق سے فارغ ہوا تو اس میں مخلوق جمع ہوگئیں۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے، اس میں جماعتیں جمع ہوتی ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، لوگ اس میں نماز کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ من، فی کے معنی میں ہے، یعنی ” جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اور نی ماذا خلقوا من الارض (فاطر : 40) یہاں بھی من فی کے معنی میں ہے۔
مسئلہ نمبر 2 :۔ ابو سلمہ نے کہا : جس نے سب سے پہلے اما بعد کے الفاظ کہے وہ کعب بن لوی سمجھتا یہی وہ پہلا شخص ہے جس نے جمعہ کو جمعہ کا نام دیا (1) یوم جمعہ کو عروبہ کہا جاتا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سب سے پہلے انصار نے اسے جمعہ کا نام دیا۔ ابن سیرین نے کہا، نبی کریم ﷺ نے مدینہ تشریف لانے سے قبل اور نماز جمعہ کی ادائیگی کا حکم آنے سے قبل جمعہ پڑھا اس کی وجہ یہ بنی کہ انصار نے کہا، یہودیوں کا بھی ایک دن ہے۔ جس میں وہ سب اکٹھے ہوتے ہیں ہر سات دنوں میں ایک دن ہے اور وہ ہفتے کا دن ہے۔ نصاریٰ کے لئے بھی اسی کی مثل ایک دن ہے۔ وہ اتوار ہے۔ آئو ہم بھی جمع ہوں تاکہ ہم ایک دن مقرر کریں جس میں ہم اللہ کا ذکر کریں اور اس میں نماز پڑھیں یا جس طرح انہوں نے بات کی۔ انہوں نے کہا، ہفتہ کا دن، یہودیوں کے لئے ہے، اتوار انصاری کے لئے ہے، تم وہ دن عروبہ کا معین کرلو۔ سب صحابہ حضرت اسعد بن زرارہ کے ہاں اکٹھے ہوئے حضتر اسعد بن زرارہ جو حضرت ابوامامہ کے والد تھے نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی اور انہیں نصیحت کی جب وہ جمع ہوئے تو انہوں نے اس کا نام یوم الجمعہ رکھ دیا۔ حضرت اسعد بن زراہ نے ان کے لئے ایک بکری ذبح کی۔ انہوں نے رات کا کھانا بھی اسی سے کھایا اور دن کا کھانا بھی اسی سے کھایا۔ اسلام میں یہ پہلا جمعہ تھا۔
میں کہتا ہوں : روایت بیان کی جاتی ہے : وہ کل بارہ افراد تھے جس طرح روایت بیان کی جاتی ہے۔ اس روایت میں یہ بھی آیا ہے، جس صحابی نے سب کو جمع کیا اور انہیں نماز پڑھائی وہ حضرت اسعد بن زرارہ تھے۔ عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے باپ کعب سے اسیط رح روایت نقل کرتے ہیں جس کا ذکر آنے والا ہے۔ بیہقی نے کہا، ہم نے موسیٰ بن عقبہ سے وہ ابن شہاب زہری سے وہ حضرت مصعب بن عمیر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت مصعب بن عمیر نے سب سے پہلے مسلمانوں کو مدینہ طیبہ میں جمعہ پڑھایا۔ یہ نبی کریم ﷺ کے مدینہ طیبہ آنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ بیہقی نے کہا : یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ حضرت مصعب بن عمیر نے حضرت اسعد بن زرارہ کی مدد سے انہیں جمع پڑھایا ہے تو حضرت کعب نے اس امر کو حضرت اسعد کی طرف مضاف کیا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
پہلا جمعہ جو نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو پڑھایا اہل سیر اور اہل تاریخ نے کہا : رسول اللہ ﷺ ہجرت کرتے ہوئے آئے یہاں تک کہ قباء میں بنی عمرو بن عوف کے ہاں بروز پیر بارہ ربیع الاول چاشت کے وقت جلوہ افروز ہوئے۔ اسی سال سے تاریخ کا شمار ہوتا ہے۔ آپ ﷺ وہاں جمعرات تک مقیم رہے اور ان کی مسجد کی بنیاد رکھی پھر آپ ﷺ جمعہ کے روز مدینہ طیبہ کے لئے نکلے تو نماز جمعہ کا وقت بنی سالم بن عوف کے ہاں ان کی وادی میں ہوگیا قوم نے اسی جگہ مسجد بنا لی نبی کریم ﷺ نے انہیں جمعہ کی نماز پڑھائی اور انہیں خطبہ دیا۔ یہ وہ پہلا خطبہ ہے جو آپ ﷺ نے مدینہ طیبہ میں دیا۔ اس میں فرمایا :” تمام تر تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، میں اس کی حمد کرتا ہوں، اس سے مدد کا خواستکار ہوں، اس سے بخشش کا طالب ہوں، اس سے ہدایت کا سوال کرتا ہوں، میں اس پر ایمان لاتا ہوں، میں اس کے ساتھ کفر نہیں کرتا، جو اس کا انکار کرتا ہے میں اس کے ساتھ دشمنی رکھتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول میں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ہدیات اور دین کے ساتھ نور، موعظہ اور حکمت کے ساتھ بھیجا جبکہ رسولوں کی بعثت میں انقطاع ہوچکا تھا، علم کی کمی تھی، لوگ گمراہ تھے، زمانے میں انقطاع واقع ہوچکا تھا، قیامت قریب آچکی ہے اور اجل قریب ہے جو آدمی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ ہدایت پا جائے گا اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو وہ گمراہ ہوجائے گا، تفریظ کا شکار ہوگیا اور گمراہی میں دور چلا جائے گا۔ میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہ وہ بہترین چیز ہے جس کی ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو وصیت کرتا ہے کہ اسے آخرت پر برانیگختہ کرے اور اسے اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دے اللہ تعالیٰ نے تمہیں جن چیزوں سے محتاط رہنے کا حکم دیا ہے ان سے محتاط رہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اس آدمی کے لئے، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اعمال کرتا ہے، سچی مدد ہے ان چیزوں کے لئے جو تم آخرت میں چاہتے ہ، جو آدمی پوشیدہ اور ظاہر حالت میں اپنے اور اپنے رب کے معاملات کو درست کرتا ہے وہ صرف اللہ کی رضا کا طالب ہوتا ہے، دنیا میں یہ اس کے لئے ذکر بن جاتا ہے اور موت کے بعد اس کے لئے ذخیرہ بن جاتا ہے۔ جب انسان اس چیز کا محتاج ہوتا ہے جو اس نے آگے بھیجا۔ جو اس کے علاوہ ہے اس کے بارے میں وہ چاہے گا کاش ! اس کے اور اس کے عمل کے درمیان بہت ہی دور ہو۔ ویحذرکم اللہ نفسہ، واللہ رئوف بالعباد۔ (آل عمران) اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پکڑ سے خبردار کرتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ شفقت فرمانے والا ہے، اس کا قول سچا ہے اور اس نے اپنا عدہ سچ کر دکھایا ہے۔ اس کی جانب سے کوئی وعدہ خلافی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : مایبدل القول لدی ومآ انا بظلام للعبید۔ (ق) جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سیات بخش دیتا ہے اور اسے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اس نے بہت بڑیکامیابی حاصل کی۔ بیشک اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اس کی ناراضگی سے بچاتا ہے، اس کی سزا سے محفوظ رکھتا ہے اور اس کی ناراضگی سے بچاتا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ سے تقویٰ چہروں کو روشن کرتا ہے، رب کو راضی کرتا ہے اور درجات کو بلند کرتا ہے۔ اپنا حصہ لو اور اللہ تعالیٰ کے حصہ میں کمی نہ کرو اس نے تمہیں اپنی کتاب کی تعلیم دی ہے، تمہارے لئے اپنا راستہ واضح کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں کو بھی جان لیں اور جھوٹوں کو ب ھی جان لے۔ اس طرح اچھے اعمال کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے، اس کے دشمنوں سے دشمنی کرو، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو جس طرح جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے ہی تمہیں چنا ہے اور تمہارا نام مسلمان رکھا ہے تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلل سے زندہ رہے۔ ولاحول ولا قو ۃ …العظیم اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو موت کے بعد کے لئے عمل کرو کیونکہ جو اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان معاملات کو دسرت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اور لوگوں کے درمیان معاملات کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر غالب ہے۔ لوگ اس پر غالب نہیں وہ لوگوں کا مالک ہے، لوگ اس کے مالک نہیں اللہ اکبرولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
اس کے بعد جو پہلا جمعہ کسی دیہات میں پڑھا گیا اسے ” جواثی “ کہتے، یہ بحیرن کے دیہاتوں میں سے ایک تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : سب سے پہلے جس نے اسے جمعہ کا نام دیا وہ کعب بن لوی بن غالب تھا کیونکہ اسی روز قریش کعب کے پاس جمع ہوئے تھے جس طرح یہ بات پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 3 :۔ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے لئے مومنین کو خطاب فرمایا ہے، کافروں کو خطاب نہیں فرمایا : مقصد ان کی تکریم اور شرف کا اظہار ہے۔ فرمایا : یایھا الذین امنوا پھر ندا کے ساتھ انہیں خاص کیا اگرچہ واذا نادیتم الی الصلاۃ کے عموم کے تحت یہ داخل ہے تاکہ اس کے وجوب اور فرض کی تاکید پر دلالت کرے۔ بعض علماء نے کہا، نماز جمعہ یہاں اجماع سے معلوم ہو رہی ہے۔ لفظ سے معلوم نہیں ہو رہی (1) ابن عربی نے کہا، میرے نزدیک یہ ایک نکتہ کی وجہ سے نفس لفظ سے معلوم ہو رہی ہے۔ وہ من یوم الجمعۃ کے الفاظ ہیں یہ ساے فائدہ بھی بہم پہنچاتا ہے کیونکہ وہ ندا جو اس دن کے ساتھ خاص ہے وہ اس نماز کے لئے ہی ندا ہے، باقی ندائیں تو تمام دنوں کے لئے ہیں۔ اگر اس سے مراد جمعہ کی ندا نہ ہو تو اس کی تخصیص اور اضافت کا کوئی معنی اور فائدہ نہ ہوتا۔
مسئلہ نمبر 4۔ اذان کا حکم سورة المائدہ میں گزر چکا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں آذان اس طرح تھی جس طرح تمام نمازوں کے لئے ہوتی تھی۔ نبی کریم ﷺ جب منبر پر بیٹھتے تو ایک آذان دی جاتی۔ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمراور ق، اور حضرت علی شیر خدا کوفہ میں اسی طرح کرتے تھے۔ جب مدینہ طیبہ میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو حضرت عثمان نے اپنے گھر پر تیسری آذان کا اضافہ کیا جو ان کے گھر پر دی جاتی۔ جس گھر کو زوراء کہتے۔ جب لوگ یہ آذان سنتے تو آجاتے یہاں تک کہ جب حضرت عثمان منبر پر بیٹھتے تو موذن آذان کہتا پھر حضرت عثمان خطبہ ارشاد فرماتے، اسے ابن ماجہ نے اپنی سنن میں محمد بن اسحاق سے وہ زہری سے وہ حضرت سائب بن یزید سے روایت نقل کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک موذن ہوتا جب آپ نیچے اترتے تو وہ اقامت کہتا۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاورق کے دور میں یہی معمول تھا۔ جب حضرت عثمان کا دور آیا اور لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو بازار میں ایک گھر کے اوپر ایک آذان کا اضافہ کیا جسے زوراء کہتے۔ جب حضرت عثمان باہر آتے تو موذن آذان دیتا اور جب منبر سے نیچے اترتے تو موذن اقامت کہتا۔ امام بخاری نے مختلف طریق سے اس معنی میں روایات نقل کی ہیں (2) اور بعض روایات میں ہے کہ جمعہ کے روز دسوری آذان کا حکم حضرت عثمان غنی نے دیا جب اہل اہل مسجد کی تعداد زیادہ ہوگئی۔ جمعہ کے روز آذان اس وقت دی جاتی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا۔ ماوردی نے کہا، جہاں تک پہلی آذان کا تعلق ہے یہ نیا عمل ہے (3) یہ حضرت عثمان غین نے شروع کیا تاکہ لوگ خطبہ سننے کے لئے تیار کریں۔ جب مدینہ طیبہ کا علاقہ وسیع ہوگیا تھا اور اس کے مکین زیادہ ہوگئے تھے حضرت عمر نے حکم دیا کہ مسجد کی سمت میں بازار میں آذان دی جائے تاکہ لوگ اپنی تجارت کو چھوڑ دیں۔ جب وہ مسجد میں جمع ہوجائیں تو مسجد میں آذان دی جائے تو حضرت عثمان غنی نے مسجد میں ہی دو آذانیں دینے کا معمولی بنا دیا، یہ ابن عربی کا قول ہے۔ حدیث صحیح میں ہے : رسول اللہ کے زمانہ میں آذان ایک تھی جب حضرت عثمان غنی کا دور آیا تو آپ نے زوراء کے مقام پر تیسری آذان دلوا کر اس کا اضافہ کیا۔ حدیث میں اسے تیسری آذان (1) کا نام دیا جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بین کل اذانی صلاۃ لمن شاء (2) یعنی آٰذان اور اقامت کے درمیان نماز کا وقت ہے جو چاہے اسے پڑھے۔ لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ اصلی آذان ہے، پھر انہوں نے تین موذ بنا دیئے۔ یہ وہم ہے پھر انہوں نے ایک وقت میں سب کو جمع کردیا۔ یہ وہم پر وہم ہے۔ میں نے انہیں مدینتہ السلام میں مینار کی آذان کے بعد امام کے سامنے منبر کے نیچے ایک جماتع کی صورت میں آذان دیتے ہوئے دیکھا جس طرح سابقہ حکومتوں میں ہمارے ہاں بھی ایسا ہی کیا جاتا تھا۔ یہ سب کچھ نیا عمل ہے۔
مسئلہ نمبر 5۔ فاسعوا الی ذکر اللہ، سعی کے معنی میں یہاں تین قول ہیں۔ (1) ارادہ کرنا۔ حضرت حسن بصری نے کہا۔ اللہ کی قسمچ یہ قدموں پر سعی نہیں بلکہ دلوں اور ینت کی سعی ہے۔ (2) مراد عمل ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و من ارادالاخرۃ و سعی لھا سعیھا وھو مومن (الاسرائ : 19) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان سعیکم لشتی۔ (اللیل) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وان لیس للانسان الا ماسعی۔ (النجم) یہ جمہور کا قول ہے۔ زہیر نے کہا :
سعی بعد ھم قوم لکن یدرکوھم
ان کے بعد ایک قوم نے عمل کیا تاکہ ان کو پالیں۔
نیز یہ بھی کہا :
سعی ساعیا غیظ بن مرہ بعد ما تبزل ما بین العشیرۃ بالذم
غیظ بن مرہ نے اچھی کاوش کی جبکہ قبیلہ میں صلح خون ریزی سے ٹوٹ پھوٹ چکی تھی۔
اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے عمل پیرا رہو اس کے اسباب غسل، وضو اور اس کی طرف توجہ میں مشغول رہو۔
(3) مرامد پیدل جاتا ہے۔ یہ فضیلت ہے شرط نہیں۔ بخاری شریف میں ہے (3) حضرت ابو عبس بن جبر جو کبار صحابہ میں سے تھے پیدل جمعہ کی نماز کیلئے جاتے تھے۔ کہا : میں نے رسول اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : من اغبرت قدماہ فی سبیل اللہ حرمۃ اللہ علی النار سج کے قدم اللہ تعالیٰ کی راہ میں غبار آلود ہوجائیں اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام کردیتا ہے۔
اس کلام کا ظاہر دوڑنے پر دلالت کرتا ہے۔ ابن عربی نے کہا، اجل صحابہ اور مقتدمین فقہاء نے اس کا انکار کیا (4) ۔ حضرت عمر نے یوں قرأت (1) کی : فامضوا الی ذکر اللہ مقصود یہ بتانا تھا کہ کلام کا ظاہر جس معنی پر دلالت کرتا ہے وہ مراد نہیں۔ حضرت ابن مسعود نے بھی یہ قرأت کی۔ کہا : اگر میں فاسعوا کی قرأت کروں تو میں دوڑوں گا یہاں تک کہ میری چادر گر جائے گی۔ ابن شہاب نے یوں قرأت کی فامضوالی ذکر اللہ سالکا تلک السبیل یہ سب ان کی جانب سے اس آیت کی تفسیر ہے۔ یہ قرآن منزل کی قرأت نہیں۔ قرآن کی قرأت تفسیر کے ساتھ تفسیر کے محل میں جائز ہے۔ ابوبکر انباری نے کہا : جس نے مصحف کی مخلافت کی وہ حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود کی قرأت اور خرشہ بن حر کے قول سے استدلال کرتا ہے۔ کہا : حضرت عمر نے مجھے دیکھا جبکہ میرے پاس ایک قطعہ تھا اس میں تھا (2) فاسعوا الی ذکر اللہ حضرت عمر نے مجھے کہا : تجھے کس نے یہ پڑھایا ہے۔ ؟ میں نے عرض کی : حضرت ابی نے فرمایا : حضرت ابی ہم میں سے منسوخ کی زیادہ قرأت کرنے والے ہیں۔ پھر حضرت عمر نے پڑھا فا مضوالی ذکر اللہ۔
ادریس، خلف سے وہ ہشیم سے وہ مغیرہ سے وہ ابراہیم سے وہ خرشہ سے اسی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔ محمد بن یحییٰ ، محمد سے جو ابن سعد ان ہے، وہ سفیان بن عینیہ سے وہ زہری سے وہ سالم سے وہ اپنے باپ سے روایت نقلک رتے ہیں : میں نے ہمیشہ حضرت عمر کو فامضوالی ذکر اللہ ہی قرأت کرتے ہوئے سنا ہے۔ ادریس، خلف سے وہ ہشیم سے وہ مغیرہ سے وہ ابراہیم سے روایت نقل کرتے ہیں (3) کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فامضوا الی ذکر اللہ قرأت کی ہے کہا، اگر فاسعوا ہوتا تو میں دوڑتا یہاں تک کہ میری چادر گر جاتی۔ ابوبکر نے کہا : ایسا قول کرنے والے کے خلاف اس چیز سے دلیل قائم کی جائے گی کہ امت کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول نے فاسعوا ہی ارشاد فرمایا، جاں تک کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کا تعلق ہے تو ان سے فامضوا کی روایت صحیح نہیں کیونکہ سند متصل نہیں کیونکہ ابراہیم نخی نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے کچھ بھی نہیں سنا۔ حضرت عمر سے فامضوا مروی ہے۔ جب کوئی فرد کسی ایسی روایت میں منفرد ہو جو آیت و اجماع کے خلاف ہو تو اس میں اس فرد کا نسیان ثابت ہوگا۔ عربوں کا اس پر اجماع ہے کہ سعی، جانے کے معنی میں ہے تاہم کوشش کے معنی سے خالی نہیں۔ زہیر نے کہا :
سعی ساعیا غیظ بن مرہ بعد ما تبزل ما بین العشیرہ بالذمہ
یہاں شاعر نے سعی سے مراد کدو کاوش سے امر بجا لانا لیا ہے، اس سے مراد قدموں سے دوڑنا اور تیز چلنا نہیں۔ فراء اور ابو عبید نے کہا : آیت میں سعی سے مراد امر بجالانا ہے۔ فراء نے عربوں کے اس قول سے استدلال کیا ہے : یسعی فی البلاد یطلب فضل اللہ وہ شہروں میں اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے کے لئے کوشش کرتا ہے۔ یہ امر محال ہے کہ یہ معنی حضرت ابن مسعود پر مخفی ہو جبکہ آپ بڑے فصیح اور عربی زبان میں بڑے پختہ تھے۔
میں کہتا ہوں : جو امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہاں مراد دوڑنا نہیں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : اذا اقیمت الصلوۃ فلاتاتوھا تسعون ولکن السکینۃ (1) جب نماز کھڑی ہوجائے تو تم دوڑتے ہوئے نہ آئو بلکہ اس کے لئے آئو جبکہ تمہارے اوپر سکون و وقار ہو۔ حرت حسن بصری نے کہا، خبردار اللہ کی قسم ! یہ قدموں پر دوڑنا نہیں بلکہ انہیں منع کیا گیا ہے کہ وہ نماز کے لئے آئیں مگر اس صورت میں کہ ان پر سکون و وقار ہو بلکہ یہاں مراد ہے کہ وہ دل کی حاضری، خلوص نیت اور خشوع کے ساتھ آئیں۔ قتادہ نے کہا، سعی یہ ہے کہ تو اپنے دل اور علم کے ساتھ سعی کرے۔ یہ بہت اچھا قول ہے۔ کیونکہ یہ تینوں اقوال کو جامع ہے۔ جمعہ کے روز غسل، خوشبو لگانے اور لباس سے آرساتہ ونے کے بارے میں کئی احادیث آئی ہیں جو کتب حدیث میں مذکور ہیں۔
مسئلہ نمبر 6۔ یایھا الذین امنوا اس امر پر اجماع ہے کہ یہاں خطاب صرف عاقل، بالغ مومنوں کو ہے، اس خطاب سے مریض، اپاہج، مسافر، غلام اور عورتیں خارج ہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک نابینا اور ایسا بوڑھا جو راہنما کے بغیر نہ چل سکتا ہو وہ بھی اس سے خارج ہو۔ ابوزبیر نے حضرت جابر سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جو آدمی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اس پر جمعہ کے روز جمعہ کی نماز لازم ہے مگر جو مریض ہو، مسافر ہو، عورت ہو، بچہ ہو یا غلام ہو جو آدمی لہو و لعب کی وجہ سے یا تجارت کی وجہ سے اس سے مستغنی ہوا اللہ تعالیٰ اس سے غنی ہے۔ وہ ہی حمد کے لائق ہے “ (2) ۔ اسے دار قطنی نے نقل کیا ہے۔
ہمارے علماء نے فرمایا : جس پر جمعہ ادا کرنا لازم ہے وہ جمعہ ادا کرنے سے پیچھے نہ رہے مگر ایسے عذر کی صورت میں جس کی موجودگی میں اس کے لئے بجا لانا ممکن نہ ہو جس طرح ایسا مرض جو اسے روک دے، مرض کے بڑھنے کا خوف، سلطان کے ظلم کا خوف خواہ مال میں ہو یا بدن میں ہاں حق لینے کا مسئلہ ہو تو صورت الگ ہے، موسلادھار بارش، ساتھ کیچڑ بھی ہو یہ عذر شمار ہوگا جبکہ بارش ختم نہ ہو۔ امام مالک نے اسے عذر شمار نہیں کیا، یہ مہدوی نے بیان کیا۔ جو آدمی کسی قریبی رشتہ دار کی تیماری داری وجہ سے جمعہ ادا نہیں کرتا جس کی موت کا وقت قریب ہو اور اس کے پاس کوئی ایسا شخص بھی نہ ہو جو اس کے امور بجا لائے تو یہ امید کی جاتی ہے کہ اس کے لئے اس میں گنجائش موجود ہے۔ حضرت ابن عمر نے ایسا ہی کیا۔ جو آدمی عذر عذر کے بغیر نماز جمعہ میں شامل نہ ہوا اس نے امام سے قبل نماز پڑھ لی تو وہ نماز کا اعادہ کرے۔ اس کے لئے جائز نہیں کہ اس سے پہلے نماز پڑھے جب نماز جمعہ میں شامل ہو سکتا تھا تو وہ اس میں شامل نہ ہوا وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا ہوگا۔
مسئلہ نمبر 7۔ اذا نودی للصلوۃ جمعہ کا وجوب اس آدی کے لئے خاص ہے جو آذان کو سنتا ہے۔ جہاں تک اس آدمی کا تعلق ہے جو دور ہے جو آذان کو نہیں سنتا تو وہ اس خطاب کے تحت داخل نہیں ہوگا جو آدمی کی نماز کے لئے آتا ہے وہ قریب رہتا ہے یا دور رہتا ہے اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عمر، حضرت ابوہریرہ اور حضرت انس سے مروی ہے : جمعہ اس پر واجب ہوگا جو شہر سے چھ میل کے فاصلہ پر ہو۔ ربیعہ نے کعہا : جو چار میل کے فاصلہ پر ہو۔ امام مالک اور لیث نے کہا، تین میل کے فاصلہ پر ہو، امام شافعی نے کہا : آذان سننے کا اعتبار ہوگا جبکہ موذن کی آواز بلند ہوا اور آوازیں پر سکون ہوں، ہوا ساکن ہو اور موذن شہر کی دیوار پر کھڑا ہو۔ صحیح میں حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ لوگ اپنے گھروں اورق ریبی دیہاتوں سے باری باری آتے وہ گرد و غبار میں آتے ان کے جسموں پر غبار لگ جاتا تو ان سے بوسی پیدا کرتا (1) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” کاش ! تم اس دن کے لئے غسل کرتے۔ “ ہمارے علماء کا کہنا ہے کہ آواز جب خوب بلند ہو، لوگ سکون میں ہوں تو آواز تین میل تک پہنچتی ہے۔ مدینہ طیبہ کے قریبی دیہات کم سے کم تین میل کے فاصلہ پر ہوتے تھے۔ امام احمد بن حنبل اور اسحاق نے کہا : جس نے جمعہ کی آدان سنی اس پر جمعہ کی نماز واجب ہے۔ دار قطنی نے عمرو بن شعیب سے وہ اپنے باپ سے وہ دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : انما الجمعۃ علی من سمع النداء (2) جو آذان سنے اس پر جمعہ کی نماز فرض ہے۔
امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب کہتے ہیں : جو آدمی شہر میں ہے وہ آذان کی آواز سنے یا نہ سنے اس پر جمعہ کی نماز واجب ہے اور جو آدمی شہر سے باہر ہے اگرچہ آذان کی آواز سنے اس پر جمعہ کی نماز واجب نہیں یہاں تک کہ آپ سے سوال کیا گیا : کیا اہل زبارہ پر جمعہ واجب ہے زبارہ اور کوفہ کے درمیان ایک دریا حائل تھا ؟ فرمایا : نہیں۔ ربیعہ سے یہ بھی مروی ہے، جو آدمی آذان کی آواز سنے اور پیدل گھر سے نکلے تو وہ نماز کو پا لے تو اس پر جمعہ کی نماز واجب ہے۔ زہری سے یہ مروی ہے کہ جمعہ کی نماز اس پر واجب ہے جو آذان کو سنے۔
مسئلہ نمبر 8۔ اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ یہ اس امر پر دلیل ہے کہ جمعہ آذان سے ہی واجب ہوتا ہے اور آذان وقت کے داخل ہونے سے ہو سکتی ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : اذا حضرت الصلوۃ فاذناثم اقیما و لیئومکما اکبر کما (3) جب نماز کا وقت ہو تو تم دونوں میں سے ایک آذان کہے پھر ایک اقامت کہے پھر تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے۔ حضور ﷺ نے یہ اشراد حضرت مالک بن حویرث اور اس کے ساتھی سے فرمایا تھا۔ بخاری شریف میں حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ جب سورج ڈھل جاتا تو آپ ﷺ نماز جمعہ ادا فرمایا کرتے تھے۔ (4) ابوبکر الصدیق اور امام احمد بن حنبل سے مرومی ہے کہ سورج ڈھلنے سے قبل نماز جمعہ پڑھی جائے گی۔ امام احمد بن حنبل نے اس میں حضرت سلمہ بن اکوع کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز جمعہ پڑھا کترے تھے پھر ہم واپس پلٹتے جبکہ دیواروں کے سائے نہیں ہوتے تھے اور حضرت ابن عمر کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں ہم نماز جمعہ کے بعد ہی قیلولہ اور دوپہر کا کھانا کھایا کرتے تھے، اسی کی مثل حضتر سہل سے روایت مروی ہے، اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ حضرت سلمہ کی حدیث کو بہت جلد ادائیگی پر مجمول کیا جائے گا۔ ہشام بن عبدالملک، یعلی بن حارث سے وہ ایاس بن سلمہ بن اکوع سے وہ اپنے باپ سے روایت حل کرتے ہیں وبیع، یعلی سے وہ ایاس سے وہ اپنے باپ سے روایت نقلک رتے ہیں کہ جب سورج ڈھل جاتا تو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کرتے پھر ہم سایہ کی تلاش کرتے ہوئے واپس آتے (1) یہ مقدمین اور متاخرین جمہور اسلاف کا نقطہ نظر ہے اور اسے ظہر کی نماز پرب ھی قیاس کیا جاتا ہے۔
حضرت ابن عمر اور حضرت سہل کی روایت اس امر پر دلیل ہے کہ صحابہ کرام دوپہر کے کھانے یا اس سے بھی پہلے نماز جمعہ کے لئے جلدی جایا کرتے تھے۔ وہ دوپہر کا کھانا نماز جمعہ کے بعد ہی کھایا کرتے تھے۔ امام مالک کی رائے ہے کہ جمعہ کو جلدی ادا کرنا اسی طرح ہے کہ زوال کے بالکل قریب ہی ادا کیا جائے اور نبی کریم ﷺ کے ارشاد سے اجتہاد کیا ہے : من راح فی الساعۃ الاولی فمکانما قزب بدنۃ (2) جو پہلی ساعت میں گیا گویا اس نے اونٹ کی قربانی دی۔ یہ سب ایک ہی ساعت ہے۔ دوسرے علماء نے اسے دن کی بارہ ساعتوں پر محمول کیا ہے۔ جو برابر ہیں یا مختلف ہیں جس طرح دن میں کمی یا زیادتی ہوتی ہے۔ ابن عربی نے کہا : حضرت ابن عمر کی حدیث کی وجہ سے یہ قول زیادہ صحیح ہے کہ وہ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے کیونکہ وہ بہت جلدی نماز جمعہ کے لئے چلے جایا کرتے تھے۔
مسئلہ نمبر 9۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان پر جمعہ فرض کیا ہے۔ اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو اسے فرض کفایہ کہتے ہیں۔ بعض شافعیہ سے یہ مقنول ہے۔ امام مالک یہ منقول ہے جو ثابت نہیں کہ نماز جمعہ سنت ہے۔ جمہور امت اور ائمہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ فرض عین ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ و ذر والبیع نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث ثابت ہے۔ لینتھین اقوام عن ودعھم الجمعات اولیختمن اللہ علی قلوبھم ثم لیکونن من الغافدین (3) جو لوگ جمعہ کی نماز کو چھوڑتے ہیں انہیں اس طرز عمل سے رک جانا چاہئے ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے۔ جمعہ کے وجوب اور اس کے فرض ہونے میں یہ واضح حجت ہے۔ سنن ابن ماجہ میں حضرت ابی جعد ضمری سے مروی ہے۔ جبکہ وہ صحابی بھی تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : من ترک الجمعۃ ثلاث مرات تھا رنا بھا طبع اللہ علی قلبہ (4) جس نے سستی کرتے ہوئے تین دفعہ جمعہ ترک کردیا اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔ اس کی سند صحیح ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ کی حدیث ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جس نے بغیر مجبوری کے تین جمعہ ترک کئے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ ابن عربی نے ہا : نبی کریم ﷺ سے یہ ثابت ہے فرمایا : الرواح الی الجمعۃ واجب علی کل مسلم (5) جمہ کی نماز کے لئے جانا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
مسئلہ نمبر 10۔ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے لئے سعی کو بغیر کسی شرط کے واجب قرار دیا ہے۔ تمام نمازوں کے لئے قرآن و سنت سے وضو کا شرط ہونا ثابت ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اذا قمتم الی اصلوۃ فاغسلوا وجوھکم (المائدہ : 6) جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اپنے چہروں کو دھو۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے : لایقبل اللہ صلاۃ بغیر طھور (1) اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز قبول نہیں فرماتا۔ ایک طائفہ نے عجیب و غریب بات کی ہے کہ جمعہ کا غسل فرض ہے۔ ابن عربی نے کہا، یہ باطل ہے کیونکہ امام نسائی اور ابو دائود نے اپنی اپنی سنن میں روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : من توضویم الجمعۃ فیھاد نعمت و من اغتسل فانغسل اقضل (2) جس نے جمعہ کے روز وضو کیا اس نے بہت اچھا کیا اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جس نے جمعہ کیر وز وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ کے لئے گیا اس نے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اللہ تعالیٰ ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور اس سے تین دن زائد کے گناہ بخش دیتا ہے۔ (3) جو سنگریزوں سے کھیلتا رہا اس نے لغو عمل کیا۔ یہ نص ہے۔ موطا شریف میں ہے : ایک آدمی جمعہ کے روز مسجد میں داخل ہوا جبکہ حضرت عمر خطبہ دے رہے تھے۔ یہاں تک آنے والے نے کہا، میں نے وضو کرنے کے سوا کوئی زائد عمل نہیں کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا : صرف وضو ؟ جبکہ تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ غسل کا حکم ارشاد فرماتے تھے۔ حضرت عمر نے غسل کا حکم تو دیا مگر اسے واپس جانے کا حکم ارشاد نہیں فرمایا۔ یہ بھی اس پر دال ہے کہ غسلک رنا مستحب ہے اب یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ سنت کی طرف لوٹتے جبکہ وہ فرض (جمعہ میں حاضر ہونا اور خطبہ سنا) کی بجا آوری میں شروع ہوچکے تھے۔ یہ اس وقت ہوا جب حضرت عمر کے اردگرد اور مسجد نبوی میں جلیل القدر صحابہ اور مہاجرین تشریف فرما تھے۔
مسئلہ نمبر 11۔ عید کے روز جمعہ ہوجائے تو نماز جمعہ ساقط نہیں ہوگی جبکہ امام احمد بن حنبل اس سے اختلافک رتے ہیں انہوں نے کہا، جب عید اور جمعہ اکٹھے ہوجائیں تو جمعہ کی فرضیت ساقط ہوجائے گی کیونکہ عید کی نماز جمعہ کی نماز سے پہلے ہوتی ہے اور عید کی مشغولیت کی وجہ سے لوگ جمعہ سے غافل ہوجاتے ہیں آپ نے اس میں حضرت عثمان بن عفان کے ایک قول سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے عوامی (4) کے باسیوں کو اجازت دی کہ وہ نماز جمعہ کے لئے نہ آئیں صحابہ میں سے ایک کا قول کوئی حجت نہیں جب اس کی مخالفت ھی ہو اور اس پر کوئی اتفاق نہ کیا گیا ہو۔ عید کے روز جمعہ کے لئے سعی کا حکم اسی طرح متوجہ ہوتا ہے جس طرح باقی ایام میں متوجہ ہوتا ہے۔ (5)
صحیح مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین اور جمعہ میں قراأت کیا کرتے تھے (6) سبح اسم رب الاعلی۔ (الاعلیٰ ) اور ھل اتک حدیث الغاشیۃ۔ (الغاشیہ) جب عید اور جمعہ ایک ہی دن میں جمع ہوجاتے تو دونوں نمازوں میں ان دونوں سورتوں کی قرأت کیا کرتے تھے۔ اسے ابو دائود، امام ترمذی، امام نسائی، اور ابن ماجہ رحمم اللہ نے نقل کیا ہے (٭)
مسئلہ نمبر 12 ذلی ذکر اللہ ذکر سے مراد نماز ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد خطبہ اور وعظ و نصیحت ہے، یہ سعید بن جبیر کا قول ہے۔ ابن عربی نے کہا : صحیح یہ ہے کہ یہ ان تمام چیزوں میں واجب ہے (1) ان میں سے پہلا خطبہ ہے، ہمارے علماء نے یہی کہا ہے مگر عبدالملک بن ماحبشون نے اختلاف کیا انہوں نے اسے سنت قرار دیا۔ اس کے وجوب کی دلیل یہ ہے کہ یہ بیع کو حرام کردیتا ہے۔ اگر خطبہ کا سننا واجب نہ ہوتا تو یہ بیع کو حرام قرار نہ یدتا کیونکہ مستحب امر مباح کو حرام قرار نہیں دیتا۔ جب ہم نے کہا : ذکر سے مراد نماز ہے تو خطبہ بھی نماز میں سے ہی ہے۔ بندہ اپنے فعل سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہوتا ہے جس طرح وہ اپنے فعل سے تسبیح کرنے والا ہوتا ہے۔ زمحشری نے کہا : اگر تو سوال کرے ذکر اللہ کی تفسیر خطبہ سے کیسے کی جاسکتی ہے جبکہ خطبہ میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہوتی ہیں ؟ (2)
میں اس کا جواب دوں گا : خطبہ میں جو رسول اللہ ﷺ کا ذکر ہوتا ہے، آپ ﷺ کی جو ثنا کی جاتی ہے، خلقاء راشدین کی جو ثنا کی جاتی ہے، مومن متقین کی جو تعریف کی جاتی ہے، اس میں جو نصیحت اور یاد دہانی ہوتی ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ذکرکے حکم میں ہوگا، اس کے علاوہ جو کچھ ہے جیسے ظالموں، ان کے القاب کا ذکر، ان کی ثنا اور ان کے لئے داع وغیرہ جبکہ وہ اس کے برعکس کے مستحق ہیں تو وہ شیطان کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے یہ کئی مراحل پر ہے۔
مسئلہ نمبر 13۔ وذروالبیع نماز جمعہ کے وقت بیع و شراء سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اور نماز جمعہ کے وقت میں اسے حرام قرار دیا ہے۔ یہ حرمت اس کے لئے ہے جو نماز جمعہ کی فرضیت کا مخاطب ہے۔ بیع شراء سے خلاین ہیں ہوتی اس لئے صرف بیع کا ذکر کردیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : سرابیل تقیکم الحر و سرابیل تقیکم باسکم (النحل : 81) صرف گری کا ذکر کیا حالانکہ یہ پاجامہ سردی سیب ھی بچاتا ہے۔ یہاں دوسرے امور کی بجائے صرف بیع (تجارت) کا ذکر کیا کیونکہ بازار والے عموماً اسی میں مصروف ہوتے ہیں۔ جس پر جمعہ کی نماز میں حاضر ہوناواجب نہیں اس کو بیع و شراء سے نہیں روکا جائے گا۔
حرام قرار دینے والے وقت میں دوق ول ہیں۔ ازوال کے بعد سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک، یہ ضحاک، حضرت حسن بصری اور عطا کا قول ہے۔ (2) خطبہ کی آذان سے لے کر نماز کے وقت تک، یہ امام شافعی کا قول ہے۔ امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ جب نماز جمعہ کے لئے آذان دی جائے تو بیع و شراء کو ترک کردیا جائے اس وقت جو بیع و شراء ہوئی وہ فسخ ہوگی، غلام کی آزادی، نکاح، طلاق وغیرہ فسخ نہ ہونگے کیونکہ لوگوں کی عادت نہیں کہ ایسے امور میں مشغول ہوں جس طرح وہ بیع و شراء میں مشغول ہوتے ہیں۔ علماء نے کہا : اسی طرح عقد شر کہ، عقدہبہ اور عقد صدقہ بھی نادر و نایاب ہی ہوتا ہے اس لئے وہب ھی فسخ نہ ہوگا۔ ابن عربی نے کا، صحیح یہی ہے کہ سب کچھ نسخ ہوگا کیونکہ بیع سے اس لئے منع کیا گیا ہے کیونک انسان اس میں ہی مشغول ہوجاتا ہے (3) عقود میں سے ہر ایسا امر جو نماز جمعہ سے غافل کر دے سب شرعا حرام اور جھڑکنے کے لئے فسخ قرار دیا جائے گا۔ مہدوی نے کہا : بعض علماء نے اس وقت میں بیع کو جائز قرار دیا ہے۔ انہوں نے نہی سے مراد ندب و استحباب لیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : ذلکم خیرلکم سے استدلال کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ امام شافعی کا مذہب ہے کیونکہ آپ کے نزدیک بیع منعقد ہوجاتی ہے۔ وہ فسخ نہیں ہوتی۔ زمحشری نے اپنی تفسیر میں کہا، عام علماء کی رائے ہے کہ بیع فسخ نہ ہوگی (1) انہوں نے کہا، بیع بالذات حرام نہیں لیکن اس میں مشغول ہونے سے ایک واجب سے غفلت ثابت وہتی ہے۔ یہ ایسے ہی جس طرح مغصوبہ زمین اور مغصوبہ کپڑے میں نماز پڑھی جائے اور مغصوبہ پانی سے وضو کیا جائے۔ بعض علماء سے یہ منقول ہے کہ یہ بیع فاسد ہے۔
میں کہتا ہوں : صحیح یہ ہے کہ ایسی بیع فاسد اور فسخ شدہ ہے (2) کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : کل عمل لیس علیہ امرنا فھورد ہر ایسا عمل جس بارے میں ہمارا امر نہ ہو تو وہ مردود ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
آیت
فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض امر کا صیغہ اباحت کے لئے ہے جس طرح اس آیت و اذا حللتم فاصطادوا (المائدہ : 2) میں امراباحت کیلئے ہے۔ فرمان ہے، جب تم نماز سے فارغ ہو جائو تو تجارت کے لئے اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے زمین میں پھیل جائو۔ وابتغوا من فضل اللہ اس کا رزق تلاش کرو۔ عراک بن مالک کا معمول تھا جب وہ نماز پڑھ چکتے تو مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوتے تو عرض کرتے : اے اللہ ! میں نے تیری دعوت کو قبول کیا، تیرے عائد کردہ فریضہ کو بجا لایا اور زمین میں پھیل گیا جس طرح تو نے مجھے حکم دیا (3) اپنے فضل سے مجھے رزق عطا فرما تو بہترین رزق دینے والا ہے۔ جعفر بن محمد نے وابتغوا من فضل اللہ کی یہ وضاحت کی : مراد عمل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد طلب علم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد نقل نماز ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے : دنیا کی کسی شی کو طلب کرنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ اس سے مراد مریضوں کی عیادت، نماز جنازہ میں حاضر ہونا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر بھائی سیم لاقات کرنا ہے۔
واذکروا اللہ کیثراً اطاعت کر کے اور زبان سے اس کا شکر بجا لائو۔ اللہ تعالیٰ نے جو فرائض کے بجا لانے کی توفیق دی اس انعام پر شکر بجا لائو۔ لعلکم تفلحون۔ یہاں لعل، کی کے معنی میں ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا، ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا، جس نے اس کی اطاعت نہ کی وہ ذکر کرنے والا نہیں اگرچہ وہ بہت زیادہ تسبیح کرتا ہو۔ سورة بقرہ میں اس بارے میں مفروع روایت گزر چکی ہے۔