61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 61:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

تمام مخلوقات اور ہر ایک زندہ چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں اور اس کا ذکر کرتی ہیں اور وہی زبردست حکمت والا ہے۔
Ayahs 61:2–3

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

مومنو ! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جو کیا نہیں کرتے

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

خدا اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں

(2۔ 3) اے ایمان والو ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔ اور وجہ یہ پیش آئی کہ بعض صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ کاش ہمیں معلوم ہوجاتا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے تو ہم اسے کرتے تو اس عمل کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰي تِجَارَةٍ (الخ) اچنانچہ اس آیت کے نزول کے بعد جتنا اللہ کو منظور ہوا صحابہ کرام ٹھہرے رہے اور ان سے اس کامیابی والی تجارت کی تفصیل نہیں بیان کی گئی، چناچہ انہوں نے پھر عرض کیا کاش ہمیں معلوم ہوجاتا کہ وہ کیا ہے تاکہ ہم اس میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنے گھروں کو خرچ کرتے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے تفصیل بیان کردی کہ تو منون باللہ و رسولہ (الخ) کہ ایمان میں ثابت قدم رہو اور اطاعت خداوندی میں اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرو، چناچہ اس چیز میں احد کے دن ان کی آزمائش کرلی گئی کہ جن میں بعض جہاد سے بھاگ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں اور ایسا وعدہ کیوں کرتے ہو جو پورا نہیں کرتے اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت ناراضی کی بات ہے کہ ایسی بات کہو جو تم نہیں کرتے۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (الخ) امام ترمذی اور حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام میں سے کچھ لوگ آپس میں گفتگو کرنے بیٹھے تو ہم نے کہا کاش ہمیں معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے تو ہم اس پر عمل کرتے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے سبح للہ ما سے مالا تفعلون تک یہ آیات نازل فرمائیں، پھر حضور اکرم نے ان آیتوں کو ہمارے سامنے پڑھ کر سنایا۔ اور ابن جریر نے ابن عباس سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اور نیز ابو صالح سے روایت کیا ہے کہ ہم نے کہا کاش ہمیں معلوم ہوجاتا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ اور افضل ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ (الخ) تو پھر جہاد سے گھبرانے لگے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور ابن ابی حاتم نے علیل عن ابن عباس سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اور نیز عکرمہ کے واسطہ سے ابن عباس سے اور ابن جریر نے ضحاک سے نقل کیا ہے کہ آیت کریمہ لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو قتال کا دعوے کرتا ہے اور ابھی تک اس نے ضرب طعن اور قتال سے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔
Ayah 61:4

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی راہ میں (ایسی طور) پر پرے جما کر لڑتے ہیں گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں وہ بیشک محبوب مددگار ہیں

اب اللہ تعالیٰ ان کو جہاد فی سبیل اللہ پر ابھارتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو میدان جنگ میں سیسہ پلائی عمارت کی طرح ملکر اور جم کر لڑتے ہیں۔
Ayah 61:5

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔ تو جب ان لوگوں نے کجروی کی خدا نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے اور خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے جبکہ حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے منافقوں سے کہا کہ مجھے کیوں تکلیف پہنچاتے ہو اور ان کی قوم ان کو نامرد کہا کرتی تھی۔ جیسا کہ سورة احزاب میں واقعہ گزر گیا نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ لوگ حق و ہدایت سے دور رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو حق و ہدایت سے اور دور کردیا یا یہ کہ جب انہوں نے حضرت موسیٰ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو توحید سے ہٹا دیا اور اللہ تعالیٰ تو ایسے فاسقوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دیتا۔
Ayah 61:6

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب مریم کے بیٹے عیسیٰ ؑ نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں (اور) جو (کتاب) مجھ سے پہلے آچکی ہے (یعنی) تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہو (پھر) جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جبکہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میرے بعد جو ایک رسول آئیں گے جن کا نام مبارک احمد ہوگا ان کی خوشخبری دینے والا ہوں۔ چناچہ جب ان لوگوں کے پاس حضرت عیسیٰ یا محمد اوامرو نواہی اور معجزات لے کر آئے تو وہ کہنے لگے یہ تو محض جھوٹ اور جادو ہے۔
Ayah 61:7

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون کہ بلایا جائے تو اسلام کی طرف اور وہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

اور یہودیوں سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر بہتان لگاتے ہیں حالانکہ رسول اکرم ان کو توحید کی طرف بلا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے یہودیوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دیا کرتا۔
Ayahs 61:8–9

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ خدا (کے چراغ) کی روشنی کو منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو برا ہی لگے۔

(8۔ 9) یہود و نصاری دین الہی یا یہ کہ کتاب اللہ کو جھوٹا ثابت کرنے کی فکر میں کہ اپنی زبان درازوں سے اس پر اثر اندازی کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنی کتاب کے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے، اگرچہ یہود و نصاری اور مشرکین عرب اس سے کتنے ہی بددل کیوں نہ ہوں۔ اسی نے رسول اکرم کو توحید یا قرآن اور دین اسلام دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو تمام بقیہ ادیان پر غالب کردے۔ چناچہ قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ کوئی ایسا شخص نہ باقی رہا ہو مگر یہ کہ وہ دین اسلام میں داخل ہوگیا ہو یا اس نے جذیہ ادا کردیا ہو اگرچہ یہ یہود و نصاری اور مشرکین کو ناگوار گزرے۔
Ayahs 61:10–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

مومنو ! میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں عذاب الیم سے مخلصی دی۔

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

(وہ یہ کہ) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

(10۔ 11) اے ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتا دوں جو تمہیں آخرت میں دردناک عذاب سے بطالے۔ ایمان میں سچے رہو اور اپنی جان و مال سے جہاد کرو یہ جہاد تمہارے اموال سے بہتر ہے اگر تم ثواب خداوندی کی تصدیق کرنے والے ہو۔ شان نزول : تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ (الخ) ابن ابی حاتم نے مقاتل سے روایت کیا ہے کہ احد کے دن میدان جنگ سے بھاگنے کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اور نیز سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتلاؤں الخ تو اس پر مسلمان بولے کاش ہمیں اس تجارت کا علم ہوجاتا کہ وہ کیا ہے تو ہم اس میں اپنے مالوں اور گھر والوں کو دے دیتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 61:12

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو باغہاے جنت میں جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور پاکیزہ مکانات میں جو بہشت ہائے جاودانی میں (تیار) ہیں داخل کرے گا یہ بڑی کامیابی ہے

اللہ تعالیٰ جہاد اور نفاق فی سبیل اللہ سے تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا اور تمہیں جنت کے باغوں میں داخل کرے گا او جو دار الرحمن میں ہوں گے یہ ان کے لیے بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 61:13

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی تمہیں) خدا کی طرف سے مدد (نصیب ہوگی) اور فتح (عن) قریب ہوگی اور مومنو کو (اس کی) خوشخبری سنا دو

اور ایک اور کامیابی یہ ہے کہ جس کو تم بھی پسند کرتے ہو کہ کفار قریش کے مقابلہ میں اپنے نبی کی اللہ ہی کی طرف سے اور جلدی فتح یابی ہے یعنی مکہ مکرمہ کی اور مومنین کو اگر وہ ان صفات پر ہوں جنت کی خوشخبری دے دیجیے۔
Ayah 61:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

مومنو ! خدا کے مددگار بن جاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا کہ (بھلا) کون ہیں جو خدا کی طرف (بلانے میں) میرے مددگار ہوں ؟ حواریوں نے کہا کہ ہم خدا کے مددگا رہیں تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر رہا۔ آخر الامر ہم نے ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد دی اور وہ غالب ہوگئے

اے ایمان والو دشمنوں کے خلاف تم رسول اکرم کے مددگار ہوجاؤ جیسا کہ حضرت عیسیٰ کے فرمانے پر ان کے حواری کہنے لگے ہم اللہ کے دین میں اس کے دشمنوں کے خلاف آپ کے مددگار ہیں اور یہ بارہ حواری تھے جو سب سے پہلے حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے اور ان کی مدد کی۔ اور بنی اسرائیل میں سے حضرت عیسیٰ پر کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ منکر رہے جن کو بولس نے گمراہ کردیا تھا اس کے نتیجہ میں ہم نے ان لوگوں کی جنہوں نے دین عیسوی کی مخالفت نہیں کی تھی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد اور حمایت کی سو حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے والے غالب ہوگئے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے یا یہ کہ وہ تسبیح و تقدیس کرنے والوں میں سے تھے۔