61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الصف سورة نمبر 61 کل رکوع 2 آیات 14 الفاظ و کلمات 223 حروف 991 مقام نزول مدینہ منورہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے فرمایا ہے کہ تم دنیا کی جس تجارت میں لگے ہوئے ہو اس سے بہتر یہ ہے کہ تم اپنے جان و مال کو اللہ کے راستے میں لگا دو اور وہ یہ ہے کہ تم پوری طرح اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لا کر اس پر مضبوطی سے صراط مستقیم پر قائم رہو اور اپنی جانوں اور مال سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ اس کے بدلے اللہ تمہیں دنیا میں فتح و نصرت اور آخرت میں جنت کی راتیں عطا فرمائے گا وہ جنت جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوگی۔ ٭ حضرت عیسیٰ کے حواریوں کا قصہ بیان کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دین اسلام کی طرف بلایا اور ان سے کہا کہ تم اللہ کے لئے اس کے دین کے مددگار بن جائو۔ دعوت دینے کے بعد جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے حواریوں سے پوچھا کہ تم میں سے اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے کون کون میرا ساتھ دے گا ؟ تو ان سب نے کہا کہ ہم سب اللہ کے دین کے مددگار ہیں۔ ان حواریوں کی محنت سے اس زمانہ میں دین اسلام کو فروغ حاصل ہوا۔ کچھ لوگ ایمان لے آئے اور کچھ نے انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں زبردست تائید کی اور وہی غالب ہو کر رہے۔ ٭اللہ کی حمدو ثنا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اس کی حمدو ثنا اور تسبیح نہ کرتی ہو۔ ذرہ ذرہ اس کی تسبیح میں لگا ہوا ہے۔ ٭اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آدمی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس کو پورا کرتا ہے لیکن یہ ایک بدترین عادت ہے کہ آدمی جس بات کو زبان سے کہہ رہا ہے اس پر اسی طرح عمل نہیں کرتا۔ منافقین کی عادت ہے کہ وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ اللہ کو یہ بات قطعاً ناپسند ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اہل ایمان جب کسی سے جنگ کرتے ہیں تو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں یعنی اپنی صفوں کو درست رکھتے ہیں۔ ٭حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم مجھے اپنی باتوں سے اذیت اور تکلیف کیوں پہنچاتے ہو ؟ جب کہ میں خود اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔ بنی اسرائیل نے ان کی باتوں کو ماننے کے بجائے اپنے دلوں کو اوندھا کرلیا تو اللہ نے بھی ان کے مزاجوں کو اس طرح الٹ دیا کہ سیدھی بات بھی ان کی سمجھ میں نہ آتی تھی۔ ٭حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کا ذکر خیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ انہوں نے بھی اپنی قوم بنی اسرائیل سے یہی فرمایا کہ میں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔ مجھ سے پہلے اللہ نے تمہاری ہدایت کے لئے توریت نازل کی تھی میں اس کی تصدیق کرتا ہوں اور میرے بعد جو رسول تشریف لانے والے ہیں ان کا نام ” احمد “ ہوگا۔ ابنی اسرائیل نے ان کی تمام باتوں کو سن کر اور معجزات کو دیکھ کر ایک بےحقیقت جادو قرار دیا۔ ٭فرمایا کہ اللہ کے دین کا انکار کرنے والے ظالم لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے جس روشنی یعنی دین اسلام کو بھیجا ہے یہ اس کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں۔ ان کی تو یہی خواہش ہے کہ یہ چراغ بجھ جائے اور دین اسلام کی ترقی کو روک دیں لیکن یہ محض ان کی تمنا ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ وہ ہے جو ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے وہ اس روشنی کو مکمل کرکے رہے گا اگرچہ یہ کافر کتنے ہی ناراض کیوں نہ ہوں۔ وہ اللہ اپنی قدرت سے ان کے سارے ارادوں اور عزائم کو ناکام بنا کر رکھ دے گا۔ ٭اللہ نے اپنے نبی حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی لئے بھیجا ہے کہ وہ دین اسلام کو ہر مذہب پر پوری طرح غالب کردیں اور وہ غالب ہو کر رہے گا۔ ٭اہل ایمان سے فرمایا گیا ہے کہ تم دنیا کی جس تجارت میں لگے ہوئے ہو اس سے بہتر ہے کہ تم اپنی جان اور اپنے مال کو اللہ کے راستے میں لگا دو اور وہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پوری طرح ایمان لائو۔ مضبوطی سے صراط مستقیم پر قائم رہو اور اپنی جانوں اور مالوں کو اللہ کے راستے میں جہاد پر لگا دو ۔ اگر تم غور کرو گے تو یہ سودا اور لین دین تمہیں مہنگا نہیں پڑے گا۔ اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے۔ کیونکہ تمہیں آخرت میں اتنا کچھ نفع عطا کیا جائے گا جس کا تم اس دنیا میں رہ کر تصور بھی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ تمہاری ان قربانیوں کے بدلے میں ایسی جنتیں دی جائیں گی جن کی ہر چیز کو بقا ہے اور تم ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ فرمایا کہ تمہاری قربانیوں کا صلہ آخرت میں جنت اور اس کی راحتیں ہیں اور دنیا میں فتح و نصرت اور کامیابیاں ہیں جو تمہیں بہت جلد دیدی جائیں گی۔

Ayahs 61:1–14

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب مخلوق اسی کی پاکی بیان کرتی ہے۔ وہ زبردست حکمت والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

بیشک اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم ایسے بات کہو جس کو تم کرتے نہ ہو۔

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستے میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

( اور (یاد کرو) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم ! تم مجھے اذیت کیوں پہنچاتے ہو جب کہ تم (اچھی طرح) جانتے ہو میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ پھر جب وہ اپنے ٹیڑھے پن پر جمے رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو اور ٹیڑھا کردیا۔ اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے اور میں ایک ایسے رسول کی خوش خبری دیتا ہوں جو میرے بعد آئیں گے ان کا نام ” احمد ﷺ “ ہوگا پھر جب وہ کھلی نشانیوں کے ساتھ آگئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑتا ہے۔ حالانکہ اس کو اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں۔ حالانکہ اللہ تو اپنے نور (ہدایت) کو مکمل کرکے رہے گا اگرچہ وہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اس کو (دنیا بھر کے جھوٹے) مذہبوں پر غالب کردے۔ اگرچہ مشرکین اس کو کتنا ہی برا کیوں نہ سمجھیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی تجارت نہ بتائوں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دلا دے گی ؟

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

( وہ یہ ہے کہ ) اگر تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو اور تم اللہ کے راستے میں اپنی جان اور اپنے مال سے جہاد کرتے ہو اگر تم جانتے ہو تو تمہارے لئے اسی میں بہتری ہے۔

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں ایسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ نفیس اور خوبصورت مکانات ہمیشہ کی جنت میں ہوں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اس کے علاوہ ( تمہارے لئے وہ نعمت بھی ہوگی) ۔ جسے تم چاہتے ہو۔ (وہ ہے ) اللہ کی طرف سے مدد اور قریبی فتح۔ (اے نبی ﷺ آپ اہل ایمان کی خوش خبری سنا دیجئے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

اور کہہ دیجئے کہ اے ایمان والو ! تم اللہ کے (دین کے) مددگار بن جائو۔ جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم نے اپنے حواریوں ( صحابیوں) سے کہا تھا کہ اللہ کے لئے (کاموں میں) میرا مددگار کون ہے ؟ حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے (دین کے) مددگار ہیں۔ پھر بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے اور کچھ لوگوں نے انکار کردیا ۔ پھر ہم نے ان کو (عیسیٰ اب مریم (علیہ السلام) کو) ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت عطا فرمائی۔ پھر وہ غالب ہو کر رہے۔

لغات القرآن۔ لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔ تشریح : مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں پھلانگتا۔ مومن جرأت مند اور سخت سے سخت حالات کے سامنے ڈٹ کر صبر اور برداشت کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔ اس کے برخلاف منافق کی پہنچان یہ ہے کہ وہ نماز، روزہ، زکوٰۃ دیتے ہوئے بھی ریاکاری کرتا ہے اور اس کی زبان اور اس کا عمل مختلف ہوتا ہے۔ وہ حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے ان کے سامنے ڈھیر ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ اور گذشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے زمانے میں مخلص اور جرأت مند مسلمانوں میں کچھ ایسے منافق اور مفاد پرست بھی رہے ہیں جو دنیا کے معمولی اور وقتی فائدوں کے لئے جس بات کو زبان سے کہتے اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اسی طرف متوجہ کیا ہے کہ وہ اپنی زبان سے جو بات بھی نکالیں اسی پر اسی طرح عمل کریں جیسا کہ حکم دیا گی ا ہے۔ کیونکہ اللہ کو ایسے لوگ سخت ناپسند ہیں جن کے قول اور عمل میں مطابقت اور یکسانیت نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ نے منافقی کی چند علامتیں بتائی ہیں تاکہ تمام مومن ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں اور اپنے اندر ان جیسی بری عادتوں کو پروان نہ چڑھنے دیں۔ بخاری و مسلم میں نبی کریم ﷺ سے روایت بیان کی گئی ہے۔ فرمایا کہ منافقی کی تین نشانیاں ہیں اگر چہ وہ نماز پڑھتا اور روزے رکھتا ہو اور مسلمان ہونے کا دعوے دار بھی ہو (1) جب بھی بولتا ہے تو وہ بات جھوٹ ہوتی ہے (2) جب وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے (3) اور جب اس کے پاس کوئی امانت رکھوائی جاتی ہے تو وہ اس میں خیانت اور بددیانتی کرتا ہے۔ بخاری و مسلم ہی کی دوسری روایت میں منافقین کی چار صفات کو بیان کیا گیا ہے۔ اور فرمایا کہ جس میں چار خصلتیں پائی جاتی ہیں وہ خالص منافق ہے اور جس میں کوئی ایک صفت پائی جائے تو اس میں منافقت کی ایک خصلت اور صفت ہے۔ (1) جب اس کو کوئی امانت سپرد کی جائے تو وہ اس میں خیانت کرتا ہے (2) جب بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے (3) جب کوئی عہد یا وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے (4) اور جب لڑتا ہے تو اخلاق اور دیانت کی حدیں توڑ ڈالتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ جو لوگ صراط مستقیم کو چھوڑ کر گمراہی کے راستوں پر پڑجاتے ہیں اللہ ان کو اسی گمراہی کے راستے پر بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ سراسر انسان کا اپنا فیصلہ ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی میں سے کس راستے کو منتخب کرتا ہے۔ سیدھا راستہ اختیار کرکے اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارتا ہے یا غلط اور گمراہی کا راستہ منتخب کرکے اپنی دنیا اور آخرت کی ابدی زندگی کو تباہ وبرباد کرلیتا ہے۔ اہل مکہ اور قیامت تک آنے والے انسانوں سے کہا جا رہا ہے کہ جب اللہ کے آخری نبی اور رسول محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لا چکے ہیں تو اب آپ کے بعد کوئی نیا نبی یا نئی شریعت نہیں آئے گی لہٰذا وہ گمراہی کا راستہ اختیار نہ کریں بلکہ ہدایت کے راستے پر آجائیں۔ فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی اللہ کی طرف سے شریعت لے کر آئے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے دامن سے وابستگی کی وہی کامیاب رہے لیکن جنہوں نے ان کی مخالفت کی یا ان کے بتائے ہوئے راستے کے برخلاف دوسرے راستے اختیار کئے ان کی نہ صرف دنیا تباہ و برباد ہوئی بلکہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی آخرت کو بھی برباد کر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرمایا دیا کہ اللہ کسی انسان کی عبادت، تسبیح اور حمد وثنا کا محتاج نہیں ہے کیونکہ اگر تمام انسان اللہ کی حمدو ثنا نہیں کرین گے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہر وقت اور ہر آن اس کی حمدو ثنا میں لگا ہوا ہے اور جس کو جو حکم دیدیا گیا ہے اور اس کی تعمیل کر رہا ہے۔ ایمان والوں سے فرمایا گیا ہے کہ تم بھی وہی کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ تمہاری زبان اور عمل میں ایسی مطابقت ہونی چاہیے کہ تم جو کچھ زبان سے کہتے ہو اس پر اسی طرح عمل کرو اور اگر ایمان کا دعویٰ ہے تو جب اہل ایمان اور دین پر مشکل وقت آجائے تو پھر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جائو تاکہ کفر کی مجال نہ ہو کہ وہ اہل ایمان کی آنکھون میں آنکھیں ڈال کر بات بھی کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا جنہیں ان کی قوم نے سخت اذیتیں پہنچائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جیسا کہ تم جانتے ہو اور تم معجزات بھی دیکھ چکے ہو اور تمہیں معلو ہے کہ اللہ نے مجھے اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے پھر تم مجھے تکلیفیں کیوں پہنچاتے ہو ؟ مگر قوم اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتی چلی گئی۔ آخر کار اللہ نے کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ انہیں ہر سیدھی بات الٹی نظر آنے لگی۔ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی گمراہ قوم کی ہدایت کے لئے بھیجا تھا۔ حضرت عیٰسی (علیہ السلام) نے توریت کی تصدیق کی اور بتایا کہ میرے بعد ایک ایسے پیغمبر تشریف لانے والے ہیں جن کا نام ” احمد ﷺ “ ہوگا۔ تم میری بات بھی مانو اور ان کی بات بھی ماننا۔ ان کی قوم نے معجزات کو کھلی آنکھوں سے دیکھا لیکن ان کو تسلیم نہیں کیا اور وہ قوم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دشمنی میں اتنی آگے بڑھ گئی کہ اللہ کے پیغمبر کو سولی پر لٹکانے کے لئے تیار ہوگئی۔ اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو آسمانوں پر اٹھا لیا اور اب وہ قیامت کے قریب حضور اکرم ﷺ کے ایک امتی کی حیثیت سے دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہودو نصاری سے فرمایا ہے کہ اگر تم نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اسی طرح اذیتیں پہنچائیں جس طرح تم نے اپنے پیغمبروں کو تکلیفیں پہنچائی تھیں تو پھر اب تمہاری ہدایت کا کوئی طریقہ باقی نہ بچے گا۔ لہٰذا تم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دامن سے وابستگی اختیار کرلو۔ دنیا اور آخرت کی ساری کامیابیاں اسی میں پوشیدہ ہیں۔