61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 61:1–4

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

اللہ کی1 پاکی ہر چیز بیان کرتی ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے ، اور وہی غالب حکمت والا ہے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

اے مسلمانو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک یہ بات بڑٰ ناپسند ہے کہ جو بات کہو وہ کرو نہیں۔

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں (اور پیچھے ہٹنا جانتے نہیں) گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہیں۔

جہاد کے آداب۔ (ف 1) شان نزول : ترمذی، مستدرک حاکم وغیرہ میں معتبر سند سے جو شان نزول ان آیتوں کا بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ لڑائی کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے بعض لوگ لڑائی کی آرزو ظاہر کرتے تھے جب لڑائی کا حکم نازل ہوا تولڑائی سے گھبرانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ناخوش ہے کہ منہ سے کوئی شخص ایک بات کہے ، اور اس کے موافق عمل نہ کرنا اور روزمرہ کی بات چیت میں جھوٹ بولنا اور امانت میں خیانت کرنا یہ منافق کی پہچان کی باتیں ہیں جو لوگ نیک کام کا ارادہ ظاہر کرکے پھر اس کے موافق عمل نہیں کرتے ان کے ذکر سے پ ہے آسمان و زمین میں جو مخلوق اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے اس کا ذکر اس لیے فرمایا ہے کہ جن کا فعل ان کے قول کے موافق نہیں ، ان کو یہ معلوم ہوجائے کہ اگر یہ لوگ کسی نیک کام کے کرنے کا ارادہ ظاہر کرکے اس کے موافق پھر نیک عمل نہ کریں تو اللہ تعالیٰ کو ان کے نیک عمل کی کچھ پرواہ نہیں ان کے سوا اللہ کی ایک بڑی مخلوق اللہ کی مرضی کے موافق نیک کاموں میں لگی ہوئی ہے علاوہ اس کے اللہ تعالیٰ کی بادشاہت تو ایسی بےپروا بادشاہت ہے کہ نہ کسی کے نیک کام سے اس کی بادشاہت میں کچھ بڑھتا ہے نہ برے کام سے کچھ کم ہوتا ہے بلکہ جو نیک عمل کرے گا وہ اس کا اجر پائے گا اور جو برا کام کرے گا وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا آخرآیتوں میں فرمایا اللہ کے دین کو پھیلانے کی لڑائی وہ چیز ہے جس کو مضبوط صف بندی یعنی اتحاد واتفاق ہیں اور صف بندی میں وہ ایک دیوار ہیں جو نہایت مضبوطی سے اینٹ سے اینٹ ملاملا کر بنائی گئی ہے تو اللہ کو بہت پسند ہے اس میں جو لوگ اس لڑائی سے گھبراتے ہیں اور ان کو گویا یہ تنبیہ فرمائی کہ جو کام اللہ کو پسند ہے اس سے پہلوتہی کرنا ایماندار آدمی کا کام نہیں ہے۔
Ayah 61:5

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور1 یاد کرو جبکہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! مجھ کو کیوں ستاتے ہو اور بیشک تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا (پیغبر) ہوں، پھر جب وہ (اس پر بھی راہ حق سے) ٹیڑھے رہے تو اللہ نے ان کے دل (حق کی توفیق سے) ٹیڑھے کردیئے، اور اللہ ایسے فاسق لوگوں کو راہ (کی توفیق ) نہیں دیتا۔

(ف 1) یہ پوراقصہ سورة مائدہ اور سورة احزاب میں گزرچکا ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ اے رسول یاد کرو کہ حضرت موسیٰ نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے کہا کہ اے قوم باوجودیکہ تم مجھ کر رسول اللہ برحق جانتے ہو پھر مجھ کو کیوں طرح طرح سے ایذا دیتے ہو اور میرا کہا نہیں سنتے، جب بنی اسرائیل کے دل اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری سے پھرگئے تو اللہ نے بھی ان کو راہ راست پر آنے کی توفیق نہیں دی، کیونکہ اس طرح سے نافرمان لوگوں کو مجبور کرکے راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے برخلاف ہے اس قصہ میں نبی آخرالزمان کے عہد کے مخالف لوگوں کو یہ تنبیہ بھی ہے کہ جس طرح پچھلے مخالف لوگوں کا حال ہو اگر یہ لوگ ہمارے محبوب کی مخالفت سے باز نہ آئے تو وہی حال ان کا بھی ہوگا۔
Ayah 61:6

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور1 یاد کرو جبکہ عیسیٰ بن مریم نے کہا : اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا (پیغمبر) ہوں، مجھ سے پہلے جو کتاب توریت (آچکی) ہے میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد (ﷺ) ہے، پس جب احمد ان لوگوں کے پاس روشن نشانیاں لے کر شریف لائے کہنے لگے : یہ کھلا جادو ہے۔

(ف 1) اے محبوب ﷺ مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اے لوگو میں اللہ کا سچا رسول ہوں تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں مجھ سے پہلے جو رسول گزرچکے ہیں یعنی حضرت موسیٰ ان کی اور ان کی کتاب توریت کا تصدیق کرنے والا ہوں نفس توحید میں اور نیز بعض شرائع میں اسکے موافق ہوں میں ایک بہت ہی عمدہ خوش خبری تم کو سناتا ہوں، اور مبارک باد اور بشارت دیتا ہوں تاکہ تم اس کا خیال رکھو، کہ عنقریب ایک رسول تشریف لائیں گے میرے بعد دنیا میں آئیں گے ان کا نام پاک احمد ﷺ ہوگا، حضور ﷺ کا اسم مقدس محمد ﷺ بھی ہے اور احمد ﷺ ہے۔ محمد بالغہ مفعول ، بہت تعریف کیا گیا، احمد مبالغہ فاعل ہے بہت تعریف کرنے والا، احمد، جس میں کوئی برائی نہ ہو اس کی کوئی مذمت نہ کرے، محمد جس میں سب بھلائی ہوں سب اس کی تعریف کریں، اگرچہ توریت اور انجیل کی آیتوں کو بدل ڈالا، لیکن اب بھی تورات اور انجیل کے ترجمے جو موجود ہیں ان میں سے علماء نے نبی ﷺ کی نبوت کی تصدیق کو اسی طرح تفصیل سے نکالا ہے جس کی تفصیل حضرت عیسیٰ کے قول کی اس آیت میں ہے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کو جو ایذا یہود نے دی اس کا بیان سورة النساء میں گذرچکا ہے کہ حضرت مریم کا نام انہوں نے جادوگرنی رکھا تھا اور آخر انکے قتل پر مستعد ہوئے اسی طرح نبی کو انہوں نے زہردیا ایک بڑا پتھر آپ پر ڈالنے کا ارادہ کیا خندق کی لڑائی میں مشرکوں کے ساتھ آپ پر چڑھائی کی اسی واسطے فرمایا کہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے تورات کی عہدشکنی کی اور جان بوجھ کر عیسیٰ اور محمدرسول اللہ کے صریح معجزوں کو جادو بتلایا اور دوشریعتوں کی پیروی سے محروم رہے جس سے تورات کی پیروی بھی قائم نہ رہی کیونکہ تورات کی پیروی عین ان دونوں شریعتوں کی پیروی ہے۔
Ayahs 61:7–8

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور1 اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے ، اللہ ایسے ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا۔

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ کافر چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور سے (یعنی دین اسلام) کو (جادو اور شعر ار کہانت کہہ کر) اپنے مونہوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنا نور پورا کر کے رہے گا اگرچہ کافر کیسے ہی ناخوش ہوں۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور ناانصاف دنیا میں کون ہوسکتا ہے جو خدا پر جھوٹ تہمت افترا اٹھائے اس پاک پروردگار کے لیے جو روبچے ثابت کرے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے ظالم اور ناانصاف لوگوں کو راہ راست پر آنے کی کبھی توفیق نہیں دے گا بلکہ کتاب آسمانی کی مخالفت کی حالت میں ایسے لوگوں کا حشر ہوکرہمیشہ کے لیے ان کاٹھکانہ دوزخ قرار پائے گا۔ ہرپرچم سے اونچا پرچم اسلام ہوگا، دین اسلام اور شان رسالت ماب ﷺ کی روز افزوں ترقی۔ آگے فرمایا کہ یہ کافر لوگ اس بات کا ارادہ کرتے ہیں کہ کسی طرح اسلام کی چمکتی ہوئی پھیلتی ہوئی روشنی کو جو اللہ کا نور ہے اس کا مقدس دین ہے اس کی پاک کتاب قرآن ہے اپنی زبانوں درازیوں ڈھکوسلوں مخالفت سے بجھادیں یہ نہیں ہونا اللہ تو اپنے نور کو تمام ہی کرکے رہے گا اس کا اجالا تمام جہان میں پھیلادے گا اور کسی کی کچھ نہ چلے گی اگرچہ تمام جہان کے کافر ویہود نصاری مشرکین عرب ، عجم تمام فرقے مخالفین اسلام کے دل اس کو ناپسند کریں مگر وہ تو دن دونی رات چوگنی ترقی پائے گا۔
Ayah 61:9

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی2 (اللہ) ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین (یعنی اسلام) کے ساتھ بھیجا تاکہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ کیسے ہی ناخوش ہوں مشرک لوگ۔

(ف 2) یہ دین تو خدا کا ہے خدا کی وہ شان ہے کہ اس نے اپنے رسول کو سچی ہدایت یعنی توحید و قرآن اور سچا یقینی مقدس مذہب یعنی شہادت لا الہ الا اللہ دے کر دنیا میں بھیجا ، اس غرض سے کہ اپنے پاک دین کو اپنے برگزیدہ رسول کے ہاتھوں دنیا کے تمام ادیان و مذاہب ومدل پر غالب کرے ، اگرچہ مشرکین عرب یہود ونصاری مشرکین وغیرہ کے دل پاش پاش ہوجائیں اسلام بااعتبار حجت ہر دین پر قاہر و غالب ہے اور باعتبار حکومت بھی تمام ادیان پر افسر، مروی ہے کہ قیامت تک کوئی جگہ ایسی نہ رہے گی جہاں اسلام نہ پہنچے گا تمام ارباب مذاہب باطلہ یا اسلام قبول کرلیں گے یامغلوب ہوکر جزیہ دی گے مجاہد سے منقول ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نزول فرمائیں گے توروئے زمین پر سوائے اسلام کے اور کوئی دین نہ ہوگا۔
Ayahs 61:10–13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

اے مسلمانو ! کیا1 میں تمہیں وہ تجارت بتا دوں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچائے۔

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

(وہ یہ ہے کہ) تم لوگ اللہ پر ار اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

(اگر ایسا کرو گے تو) اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں اور پاکیزہ محلوں میں (داخل کرے گا) جو ہمیشہ رہنے کے باغوں میں ہیں، یہی بڑی کامیابی ہے ۔

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور (اس کے علاوہ) ایک نعمت تمہیں اور دے گا جو تمہیں پیاری ہے وہ نعمت اللہ کی طرف سے مدد اور جلد آنے والی فتح ہے اور (اے محبوب) مسلمانوں کو ( دنیا میں فتح کی اور آخرت میں جنت کی) خوشی سنا دو ۔

ایسی تجارت جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے۔ (ف 1) شان نزول : مومنین نے کہا تھا کہ اگر ہم جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو کون ساعمل بہت پسند ہے تو ہم وہی کرتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے مسلمانو اگر تم نیک کام کے اجر کمانے کا شوق ہے تو تم کو اس کمائی کے لیے ایسی سوداگری بتلائی جاتی ہے کہ جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے نقصان کا نام کہیں نہیں ہے ، پھر اس سوداگری کی تفصیل فرمائی کہ خالص دل سے اللہ اور اللہ کے رسول کے نافرمان ہیں ان کے راہ راست پر لانے میں جان ومال سے کوشش کرو، اللہ کے رسول جو شریعت اللہ کی طرف سے لائے ہیں اس کے برحق ہونے کا دل میں اعتقاد رکھنا، اور زبان سے اس اعتقاد کے موافق اقرار کرنا اور ہاتھ پاؤں سے شریعت کے موافق عمل کرکے اس اعتقاد اور اقرار کو مضبوط سچا کردینا سلف کے نزدیک کامل ایمان کی یہی نشانی ہے اس واسطے ایمان کے ساتھ فرض کفایہ جہادکاذکر کیا دنیا کی تجارت میں کوئی شخص تمام دنیا بھی نفع کے طور پر کمالیوے توعقبی کی تجارت کے نفع سے اس کو کچھ نسبت نہیں، فرمایا کہ عقبی کی تجارت سمجھدار کے لیے دنیا کی تجارت سے بہتر اور بڑی کامیابی کی تجارت ہے کہ اس میں ہمیشہ کے نفع کے طور پر جنت کی نعمتیں ہیں گناہوں کی معافی اور دوزخ کے عذاب سے نجات کا حاصل کرنا اور دنیا میں فتح یابی اور غنیمت کے مال کی خوش وقتی اس بےبدل نفع کے علاوہ ہے اس واسطے فرمایا، اے محبوب مسلمانوں کو اس تجارت کے سراپا نفع کی خوشی سنادو۔
Ayah 61:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

اے مسلمانو !1 تم اللہ کے دین کے مددگار ہوجاؤ جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے (اپنے) حواریوں سے کہا تھا : کون ہے جو اللہ کی طرف ہوکر میری مدد کرے حواریوں نے کہا : ہم اللہ (کے دین) کے مددگار ہیں، پس (اس کے بعد) بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ (عیسی پر) ایمان لایا اور ایک گروہ کافر رہا۔ پس ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلہ پر مدد دی پس وہ غالب ہوگئے۔

اشاعت دین اسلام کا حکم۔ (ف 1) اے مسلمانو ! رسول و قرآن کے ماننے والو اللہ کے انصار ہوجاؤ اسلام کے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ، رسول کی مدد کرو جیسا حضرت عیسیٰ نے اپنے حواری اور دوستوں سے کہا کہ میرے انصار خدا کی راہ میں کون ہیں ؟ میری مدد اور خدا کے دشمنوں سے لڑائی کون لیتا ہے تو ان کے حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ہم اللہ کے دین کی مدد کو تیار ہیں دشمنوں سے لڑیں گے بارہ آدمی تھے جو سب سے پہلے حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے تھے پس حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے تو تو ان کی قوم تین فرقوں میں منقسم ہوگئی ۔ ایک فرقہ نے حضرت عیسیٰ کی نسبت کہا کہ وہ اللہ تھا آسمان پرچلا گیا ۔ دوسرے فرقہ نے کہا کہ وہ اللہ کا بیٹا تھا اس نے اپنے پاس بلالیا، تیسرے فرقہ نے کہ اوہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے انہیں اس نے اٹھالیا یہ تیسرے فرقے والے مومن تھے اور ان کی دونوں فرقوں جنگ رہی اور کافر گروہ ان پر غالب رہے یہاں تک کہ نبی ﷺ نے ظہور فرمایا۔ اس وقت ایماندار گروہ ان کافروں پر غالب ہوا اس تقدیر پر مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے والوں کو ہم نے محمد ﷺ کی تصدیق کرنے سے مدد فرمائی۔