62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsمظہر القرآن

Ayah 62:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی1 ہر چیز بیان کرتی ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ، جو بادشاہ نہایت پاکی والا، غالب حکمت والا ہے ۔

صفات باری تعالی۔ (ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کا ذکر اس لیے فرمایا کہ مشرک لوگوں کو یہ تنبیہ ہوجائے کہ آسمان و زمین اور ان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے ، اسی واسطے ہر چیز اپنی حالت کے موافق اللہ تعالیٰ کے نام کی تسبیح اور اس کی تعظیم اور عبادت میں لگی ہوئی ہے باوجود اس کے جن وانس میں جو کوئی اللہ کی عبادت سے منہ موڑ لے گا تو وہ بڑی غلطی پر ہے وہ اللہ ایک ہے بادشاہ ہے وہ ازل سے ابد تک ایک حال پر ہے زوال وفنا نہیں، وہ قدوس ہر عیب سے پاک ہے ولدوشریک سے منزہ ہے ہر شے پر غالب کافروں کو سزا دینے والا اوراقتضا واوامر میں حکمت والا ہے اور حکم دیا ہے کہ سوائے اس کے اور کی پرستش حرام ہے۔
Ayah 62:2

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہی ہے1 جس نے ان پڑھوں میں ان ہی میں سے (یعنی عرب میں سے) ایک رسول (یعنی محمد کو) بھیجا کہ ان پر اللہ کی آیتیں (یعنی قرآن) پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کو (عقائد باطلہ و اخلاق رذیلہ و خبائث جاہلیت و قبائح اعمال سے) پاک کرتے ہیں اور ان کو کتاب (یعنی قرآن) اور دانشمندی (یعنی شریعت) سکھاتے ہیں اور بیشک وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے ۔

(ف 1) عرب کی قوم میں ملت ابراہمی کا عمل اٹھ کر ان میں جہالت کے سبب بت پرستی پھیل گئی تھی خدا کو بالکل بھولے ہوئے تھے اس لیے عرب کو ان پڑھ فرمایا، اللہ تعالیٰ نے اسی قوم میں سے ایک رسول جن کا نام پاک محمد ﷺ ہے بھیجا جن کی صفت نبی امی ہے لیکن باوجود امی ہونے کے اپنی قوم کو اللہ کی سب سے زیادہ عظیم الشان کتاب یعنی قرآن پڑھ کر سناتے اور عجیب و غریب علوم ومعارف اور حکمت دانائی کی باتیں سکھلاکر ایسا حکم وشائستہ بنائے کہ دنیا کے بڑے بڑے حکیم ودانا اور عالم وعارف ان کے سامنے زانوائے طے کرتے ہیں۔
Ayahs 62:3–4

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

و نیز مبعوث کیا ان پیغمبر2 کو ایک دوسری قوم بنی آدم میں سے جو ابھی ان اگلوں مسلمانوں سے نہ ملی اور وہی غالب حکمت والا ہے ۔

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

(رسول کے ذڑیعہ سے ہدایت کی طرف آنا) یہ خدا کا فضل ہے ، یہ فضل جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑا فضل والا ہے ۔

حضور ﷺ کی عالمگیر نبوت و رسالت۔ (ف 2) نبی ﷺ عرب میں مبعوث ہوئے ہیں ان کی ہدایت کرتے اور نیز سوائے عرب کے جس قدر اور ممالک مشارق ومغارب ارض میں سارے جہان کی وہ ہدایت کرتے ہیں جو لوگ ابھی نہیں آئے زمانہ کے آخر تک جب تک دنیا باقی ہے اور دنیا میں آدمی ہیں اس وقت تک کے ہادی ہیں خواہ عرب ہوں خواہ عجم ، خواہ آزاد خواہ غلام ، اس وقت موجود ہوں یا بعد میں آنے والے، غرض آپ کی نبوت عرب عجم وغیرہ سب مخلوقات کے لیے عام ہے خدا بڑی عزت والا ہے غالب ہے جو اس پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے گا اس کی سزادینے والا حکیم ہے اپنے اوامر ونواہی اور مجاری قضا وقدر میں حکمت والا ہے اس نے حکم دیدیا ہے کہ سوائے اس مقدس مذہب اسلام کے اور سب مذاہب قطعا گمراہ اور باطل ہیں یہ دین اسلام ونبوت واکرام خدا کا فضل ہے وہ مالک ہے جسے چاہے اپنا فضل ارزانی فرمائے اور جس پر چاہے اکرام کرے اور اللہ بڑے فضل ورحمت والا ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو ایسے عالی مرتبہ رسول خاتم النبین سے شرف ومعزز کیا گمراہی سے بچا کر مذہب مقدس اسلام کی ہدایت کی۔
Ayahs 62:5–8

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

مثال1 ان لوگوں کی جن کو توریت پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا، پھر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا، ان کی مثال گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوں (کہ بوجھ کے سوا ان سے کچھ بھی نفع نہ پائے) کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں اور اللہ ایسے ظالموں کو راہ (کی توفیق) نہیں دیتا۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

(اے محبوب) تم (ان یہودیوں سے) فرماؤ : اے یہودیو ! اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ تم سب لوگوں کے سوا اللہ کے دوست ہو پس موت کی آرزو تو کرو اگر تم (اس دعوی میں) سچے ہو۔

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور وہ کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے بہ سبب (خوف سزا) ان اعمال (کفریہ) کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اللہ ان ظالموں (کے حال) کو جانتا ہے ۔

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

تم (ان سے) فرماؤ بیشک وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو بیشک وہ (موت ایک روز) تم سے ضرور ملنی ہے ، پھر تم اللہ کی طرف پھیرے جاؤ گے جو پوشیدہ اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے پس وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم نے کیا تھا۔

بےعمل علمائ۔ (ف 1) اوپر گزرچکا ہے کہ نبی ﷺ کی نبوت سے پہلے یہود کے دل میں نبی ﷺ کی یہ عظمت تھی کہ لڑائیوں کے وقت حضور کے نام کے وسیلہ کے ساتھ فتح کی دعایہ لوگ مانگا کرتے تھے تورات میں جو آپ کے اوصاف تھے ان سے یہ لوگ آپ کو اس طرح پہچانتے تھے کہ جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ شام کے ملک کی سکونت چھوڑ کر مدینہ کے اطراف میں یہ لوگ اسی ارادہ سے آن کررہے تھے کہ جب نبی آخزالزمان مدینہ کو آئیں گے تو تورات کے حکم کے موافق ان کا ہر طرح ساتھ دیں گے لیکن تورات کے حکم کے موافق عمل کرنے کا وقت جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو دکھایا تو ازلی بدبختی کے سبب سے یہ لوگ نبی آخزالزمان کے پورے دشمن ہوگئے اور تورات کی ان آیتوں کو انہوں نے بالکل بدل ڈالا، جن نبی آخرالزمان کے اوصاف تھے اسی واسطے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تورات کے حکم کے موافق عمل کرنے کا بوجھ جو ان لوگوں کے ذمہ رکھا گیا تھا اس بوجھ کو انہوں نے آخرکواس طرح اٹھایا، جس طرح گدھے کی پیٹھ پر کتابیں لادی جاتی ہیں۔ جیسے کہ وہ نادان جانور یہ نہیں جانتا کہ اس کی پیٹھ پر کیا چیز لدی ہے ایسے ہی یہ نادان لوگ تو ارت بغل میں لیے پھرتے ہیں اور اس بات کو انہوں نے بھلا رکھا ہے کہ تورات میں جو لکھا گیا تھا کہ انہوں نے بدل ڈالا پھر فرمایا جو لوگ اللہ کی آیتوں کو اس طرح جھٹلاویں، اور بدلیں ان کی مثال بری گویا گدھے سے بھی بدتر ہے کیونکہ گدھا تو ناسمجھ ہے اور انہوں نے جو کچھ کیا وہ جان بوجھ کر کیا اسی لیے اللہ ایسے بےانصاف لوگوں کو مجبور کرکے راہ راست پر لانا نہیں چاہتا، کس لیے کہ اس طرح کی مجبوری کی اطاعت اس کی بارگاہ میں قبول نہیں یہ بھی گذرچکا ہے کہ یہودی لوگ سوائے اپنے اور کسی امت کو جنتی نہیں قرار دیتے تھے اس واسطے فرمایا کہ اے محبوب تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم کو مرنے کے ساتھ جنت میں جانے کا یقین کامل ہے تو پھر دنیا کے جینے کی اس قدر حرص تمہیں کیوں ہے جس سے عقبی کو تم نے بھلارکھا ہے مرتے کے ساتھ ہی جنت کے ملنے کا یقین کامل تو یہ چاہتا ہے کہ تم لوگ موت کی آرزو کرو تاکہ مرتے ہی سیدھے جنت میں چلے جاؤ، پھر پیشین گوئی کے طور پر فرمایا کہ اللہ کو معلوم ہے کہ ایسے بدلوگ اپنی بدیوں کے انجام سے ڈر کر موت کی آرزو ہرگز نہیں کرتے بلکہ وہ تو موت کے نام سے بھاگتے ہیں مگر ان کو یہ جتلادو کہ جس موت کے نام سے یہ لوگ بھاگتے ہیں وہ ضرور ایک دن ان کو آن دبائے گی اور پھر مرتے ہی ان کا جنت میں جانا تو درکنار بلکہ مرتے ہی فوران کو اپنے کیے کا پورا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ کیونکہ جو کچھ دنیا میں یہ لوگ کررہے ہیں وہ سب اس غیب داں کو معلوم ہے ۔ مسند امام احمد ، صحیح بخاری نسائی وغیرہ میں انس بن مالک عبادہ بن صامت اور ابوہریرہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بعض صحابہ نے نبی ﷺ سے پوچھا تھا کہ حضور یہ تو ہر انسان کی جبلی عادت ہے کہ وہ موت سے گھبراتا ہے اگر اسی کا نام موت سے بھاگنا ہے تو بڑی مشکل ہے۔ نبی ﷺ نے جواب دیا کہ آدمی کے آخری ووقت کا اس باب میں بڑا اعتبار ہے کیونکہ اس وقت نیک آدمی کو رحمت کے فرشتے نظر آتے ہیں جو اس کو جنت کی خوش خبری دیتے ہیں جس سے اس کے چہرے پر ایک طرح کی بشاشت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور بدآدمی کو اس وقت عذاب کے فرشتے نظر آتے ہیں اور اس کو دوزخ کے عذاب میں پکڑے جانے کا حال سناتے ہیں جس سے اس کے چہرے پر ایک طرح کے غم کے آثار پائے جاتے ہیں ان آیتوں میں موت سے بھاگنے کا جوذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں ایسے گرفتار اور عقبی سے ایسے غافل ہیں کہ حالت صحت میں تو ان کا موت کو یاد درکنار بلکہ یہ لوگ تو اپنی بداعمالی کے سبب سے اس وقت بھی موت سے بھاگنے نظر آئیں گے جب موت بالکل ان کو آن دبائے گی اور موت کے وقت فرشتے ان کو نظر آنے لگیں گے۔
Ayahs 62:9–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

اے مسلمانو !1 جب جمعہ کے روز (نماز جمعہ) کے لیے اذا کہی جائے تو تم اللہ کی یاد (یعنی نماز و خطبہ) کی طرف جلدی چلو اور خریدوفروخت (اور اسی طرح دوسرے مشاغل جو چلنے سے مانع ہوں 9 چھوڑو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پس جب نما (جمعہ) ہوچکے تو زمین میں چلو پھرو اور اللہ کا فضل (یعنی روزی) تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کو فلاح ہو۔

جمعہ کی نماز کی شرائط۔ (ف 1) اے مسلمانو ! خدا اور رسول پر ایمان لانے والو، جب جمعہ کی نماز کے واسطے اذان دی جائے تو خدا کی طرف تم کو بلایاجائے تو سب باتیں چھوڑ کر اللہ کے ذکر، خطبے کے سننے ، نماز کے پڑھنے کے لیے کوشش کروفورا متوجہ ہوجاؤ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی اذان ہوتے ہی خریدوفروخت حرام ہوتی ہے اور دنیا کے تمام مشاغل جو ذکرالٰہی سے غفلت کا سبب ہوں اسمیں داخل ہیں ۔ اذان ہونے کے بعد سب کو ترک کرنا لازم ہے۔ مسئلہ : اس آیت سے نماز جمعہ کی فرضیت اور بیع وغیرہ مشاغل دنیویہ کی حرمت اور سعی یعنی اہتمام نماز کا وجوب ثابت ہوا اور خطبہ بھی ثابت ہوا۔ مسئلہ : جمعہ مسلمان مرد مکلف ، آزاد تندرست ، مقیم پر شہر میں واجب ہوتا ہے ، نابینا اور لنگڑے پر واجب نہیں ہوتا۔ صحت جمعہ کے لیے سات شرطیں ہیں۔ (1) شہر جہاں فیصلہ مقدمات کا اختیار رکھنے والا کوئی حاکم موجود ہو، یا فنا شہر جو شہر سے متصل ہو اور اہل شہر اس کو اپنے حوائج کے کام میں لاتے ہوں۔ (2) حاکم۔ (3) وقت ظہر (4) خطبہ کے وقت اندر (5) خطبہ قبل نماز ہونا اتنی جماعت میں جو جمعہ کے لیے ضروری ہے (6) جماعت اور اس کی اقل مقدار تین مرد ہیں سوائے امام کے۔ (7) اذان عام کہ نمازیوں کو مقام نماز میں آنے سے روکا نہ جائے۔ ذالکم خیرلکم ان کنتم تعلمون “ کا مطلب یہ ہے کہ نیک کاموں کے بدلے میں تم سے جو جنت کے ملنے کا وعدہ جگہ جگہ قرآن میں کیا گیا ہے اگر اس کو تم سمجھو اور غوروفکر کرو کہ جنت کی تھوڑی سی جگہ بھی تمام دنیا سے بہتر ہے تو یہ بات اچھی طرح سے تمہاری سمجھ میں آسکتی ہے کہ جمعہ کی اذان سے جمعہ کی نماز کے ختم ہوجانے تک خریدوفروخت کے تھورے سے نفع کا خیال نہ کرنا، اور اذان کے سنتے ہی جمعہ کی نماز کی تیاری میں مصروف ہوجانا تمہارے حق میں بہتر ہے ۔ جمعہ کے دن تجارت کی مناہی فقط جمعہ کی اذان سے لے کر جمعہ کی نماز ختم ہونے تک ہے جمعہ کی شان تک کی نہیں اس واسطے صاف کھول کر فرمایا۔ تجارت میں نفع۔ کہ جب جمعہ کی نماز ہوچکے تو ہر مسلمان جو خریدوفروخت چاہے وہ کرے، یا طلب علم یا عیادت مریض ، یا شکت جنازہ یا زیارت علماء اور اس کے مثل کاموں میں مشغول ہوکرنیکیاں حاصل کرے اس طرح کی جائز تجارت میں اللہ کے فضل وکرم سے نفع کی امید رکھے۔ اکثر سلف نے یہ اپنا تجربہ بیان کیا کہ جس کسی نے آیتوں کے حکم کی پابندی تجارت میں کی اس کو ضرور نفع ہوا آگے فرمایا کہ اللہ کا ذکر زبانی ، قلبی، ہر وقت ہر حالت میں خوب کیا کرو تاکہ تم اس کے عذاب وغصہ سے نجات پاؤ۔
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور جب1 ان مسلمانوں نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور تمہیں خطبہ میں کھڑا چھوڑ گئے، (اے محبوب) تم (ان سے) فرماؤ کہ جو (ثواب تمہارے لیے) اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ سب اچھی روزی دینے والا ہے ۔

(ف 1) شان نزول۔ نبی ﷺ مدینہ طیبہ میں روز جمعہ خطبہ فرما رہے تھے اس حال میں تاجروں کا ایک قافلہ آیا اور حسب دستور اعلان کے لیے طبل بجایا گیا زمانہ بہت تنگی اور گرانی کا تھا لوگ بایں خیال اس کی طرف چلے گئے کہ ایسا نہ ہو کہ دیر کرنے سے اجناس ختم ہوجائیں۔ اور ہم نہ پاسکیں۔ اور مسجد شریف میں صرف بارہ آدمی رہ گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ سوداگری اور دنیا کا کھیل تماشہ کیا چیز ہے وہ ابدی دولت حاسل کرو جو اللہ کے پاس ہے اور جو رسول کی صحبت اور مجالس ذکر و عبادت میں ملتی ہے باقی قحط کی وجہ سے روزی کا کھٹکا جس کی بنا پر تم اٹھ کر چلے گئے سو یاد رکھو روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہی بہترین روزی دینے والا ہے اس مالک کے غلام کو یہ اندیشہ نہیں ہونا چاہیے ۔