63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 63:1–4

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

(اے محبوب)1 جب منافق تمہارے پاس حاضر ہوتے ہیں تو (ظاہر میں) کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشک اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک تم اللہ کے رسول ہو اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں۔

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

ان لوگوں نے اپنی قسموں کو (اپنی جان و مال بچانے کے لیے) ڈھال ٹھہرا لیا ہے پھر یہ لوگ (دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ وہ لوگ ظاہر میں ایمان لائے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

پھر دل سے کافر ہوئے تو اللہ کی طرف سے ان کے دلوں پر مہر کردی گئی تو وہ اب (حق بات کو) نہیں سمجھتے۔

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور (اے مخاطب) جب تو ان کو دیکھے تو تجھے ان کے جسم بھلے معلوم ہوں اگر وہ بات کریں تو تو ان کی بات غور سے سنے گویا کہ وہ دیوار کے سہارے لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں (جن میں نہ ایمان کی روح اور نہ انجام سوچنے کی عقل ہے) ہر بلند آواز کو اپنی ہلاکی کا پیغام سمجھتے ہیں ( کہ کوئی بلا آئی) یہی لوگ دشمن ہیں، پس ان سے بچتے رہو، اللہ ان کو غارب کرے (دین حق سے) کہاں اوندھے جاتے ہیں۔

منافقوں اور ان کی علامات کا ذکر۔ (ف 1) زبان سے تو منافق لوگ قسمیں کھا کر نبی ﷺ کو اللہ کا رسول اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن ان کے دل میں کفر اور نفاق بھرا ہوا تھا، اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ زبان سے ایمان اور سلام کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے دل کے نفاق کے سبب سے جس کا حال اللہ کو معلوم ہے اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کی زبان پر کچھ اور ہے دل میں کچھ ہے بیچ میں اپنے محبوب کی تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہرلگا دی ہے کہ جو کچھ زبان سے نیک بات یہ لوگ کہتے ہیں اس نیک بات کا اثر ان لوگوں کے دل تک نہیں پہنچتا، صحیح حدیث اوپرگذرچ کی ہے کہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرتے کرتے آدمی کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے جس سے نیک بات اس کے دل پر اثر نہیں کرتی، اس زنگ کو دل کی مہر فرمایا ، ان منافقوں کی جھوٹی قسموں کا سبب یہ فرمایا کہ انہوں نے اپنے ظاہری اسلام پر جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے جان ومال کے بچاؤ کی ایک ڈھال ان قسموں کو ٹھہرارکھا ہے جس سے خود بھی یہ گمراہ ہیں اور بعض اور نادانوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں عبداللہ بن ابی ، جد بن قیس، معتب بن قشیر منافقوں میں چالاک لوگ تھے، ان کی چالیں دیکھ کر ان کی قوم کے اور نادان لوگوں کو بھی ان کے ڈھنگ سیکھتے تھے۔ اس لیے یہ فرمایا کہ یہ خود بھی گمراہ ہیں اوروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں پھر فرمایا جو کچھ یہ کررہے ہیں وہ ان کے حق میں برا ہے کس لیے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے انکے دل کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ اس واسطے ایمانداروں کی مجلس میں ان کی سی اور بےایمانوں کی مجلس میں ان کی سی باتیں کرکے دونوں کو بہکا لیتے ہیں اور ان کے دل پر زنگ لگ جانے سے یہ لوگ اپنے کاموں کی برائی کو نہیں بلکہ اپنی بدعادت کی برائی کے سمجھنے کے بجائے ان کی یہ بدعادت ان کو ایسی بھلی معلوم ہونے لگی ہے کہ رات دن اسی میں لگے رہتے ہیں اور رات دن اس عادت کے نہ چھوڑنے کے سبب سے ان کے دل میں یہ عادت ایسی بس گئی ، کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبروجھوٹی قسمیں کھا کر یہ لوگ اپنے آپ کو ایماندار بتلائیں گے اور اس جھوٹے ایمان سے اپنی نجات کی توقع رکھیں گے لیکن اس غیب دان کے روبرو کسی کا دھوکہ کیا چل سکتا ہے، ان کا یہ دھوکہ ان کو اسی قسم کی سزا دلوائے گا کہ پل صراط کے اندھیرے کو طے کرنے کے لیے جب پکے ایماندار لوگوں کو روشنی ملے گی تو ان کی زبانی ایمان کی مدھم روشنی کے موافق ان کو بھی کچھ روشنی مل جائے گی، جو پل صراط کے عین اندھیرے میں بجھ جائے گی اور یہ لوگ آخر دوزخ کے نیچے کے طبقے میں گرپڑیں گے ، منافقوں کے دوزخ کے طبقہ کا حال سورة النساء میں اور ان کی روشنی بجھ جانے کا حال سورة الحدید (پارہ نمبر 27) میں اور اللہ تعالیٰ کے روبرو ان کی جھوٹی قسمیں کھانے کا حال سورة المجادلہ میں گذرچکا ہے اب آگے منافقوں کے ایک اور حال کا ذکر فرمایا کہ ان کی صورت شکل ڈیل ڈول سے چرب زبانی سے اور مسجدنبوی کی دیواروں سے لگ کر بڑی توجہ کے ساتھ بیٹھ جانے سے تو دیکھنے والے کو ان کے ظاہری حال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بات کے سمجھنے کا پورامادہ ہوگا لیکن ان کی شامت اعمال سے ان کے دلوں پر وہ زنگ چھایا ہوا ہے کہ ان کا وہ دیوار سے لگ کر بڑی توجہ کے ساتھ بیٹھنا بالکل ایسا ہے جس طرح کڑی یا شہتیر دیوار سے لگا کر کھڑے کردیتے ہیں کہ جن میں بات کے سمجھنے کا کچھ بھی مادہ نہیں ہوتا، اور ان کی دو دلی کے سبب سے ان کا دل کسی طرف سے مطمئن نہیں ہے اسی لیے کہ کوئی صدمہ پیش آجانے کا کھٹکا ان کے دل میں ہر وقت لگارہتا ہے مثلا دو مسلمان آپس میں باتیں کریں تو ان کو خیال ہوتا ہے کہ شاید ان ہی کی مذمت میں کوئی نئی آیت اتری ہے اسی کا یہ چرچا ہورہا ہے اور لڑائی چڑھائی کا کچھ تذکرہ ہو تو یہ وسوسہ پیدا ہوجاتا ہے کہ ہم کو بھی لڑائی پر جانا پڑے گا پھر معلوم نہیں کہ لڑائی کا انجام کیا ہو اگر ہوسکے تو دشمنوں کے فائدہ کی کوئی جاسوسی کی جائے، تاکہ دشمنوں سے بھی میل بنا رہے ، اسی واسطے فرمایا کہ کوئی بھید کی بات ان کے روبرو کہنے سے بچنا چاہیے اور ہرگز یہ دوست نہیں ان کی جھوٹی دوستی کی باتوں پر نہ جانا، اطمینان نہ کرنا، آخرکو فرمایا جب باوجود اس قدرفہمائش کے بھی یہ لوگ راہ راست سے پھرے جاتے ہیں اور اپنی بدعادتوں سے باز نہیں آتے تو ان پر خدا کی پھٹکار ہے۔
Ayahs 63:5–8

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور1 جب منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ آؤ (عذر بیا کرو) رسول اللہ تمہارے لیے بخشش طلب کریں۔ تو وہ اپنے سر گھماتے ہیں اور تم انہیں دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں۔

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

(جب ان کے کفر کی یہ حالت ہے تو) ان کے حق میں برابر ہے خواہ تم ان کے لیے معافی چاہو یا نہ چاہو، اللہ ان کو ہرگز بخشے گا (اس لیے کہ وہ نفاق میں پختہ ہوچکے) بیشک اللہ فاسقوں کے گروہ کو راہ (کی توفیق) نہیں دیتا۔

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہ یوہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان پر خرچ نہ کرو جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ منتشر ہوجائیں اور آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے لیے ہیں (وہی سب کا رازق ہے) و لیکن منافق نہیں سمجھتے۔

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ اگر ہم اب (اس غزوہ سے) مدینہ میں لوٹ کر گئے تو جو بڑی عزت والے ہیں وہ اس میں سے نہایت ذلیلوں (یعنی مسلمانوں) کو نکال دیں گے (یہ ان کی جہالت ہے بلکہ) عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے و لیکن منافق جانتے نہیں۔

شان رسالت مآب سے منافق حسد سے جل جاتے ہیں اور عاشق خوش ہوتے ہیں۔ (ف 1) شان نزول : امام بخاری (رح) وغیرہ روایت کرتے ہیں کہ غزوہ مریسع سے فارغ ہوکرجب نبی ﷺ نے سرچاہ نزول فرمایا تو وہاں یہ واقعہ پیش آیا، کہ حضرت عمر کے اجیر جہجاہ غفاری اور ابن ابی کے حلیف سنان بن وبرجہنی کے درمیان جنگ ہوگئی جہجاہ نے مہاجرین اور سنان نے انصار کو پکارا۔ اس وقت ابن ابی منافق نبی ﷺ کی شان میں گستاخانہ بےہودہ باتیں بکیں اور یہ کہا کہ مدینہ طیبہ پہنچ کر ہم میں سے عزت والے ذلیلوں کو نکال دیں گے کیونکہ یہ بدبخت اپنے آپ کو بڑا معزز سمجھتا تھا اور مسلمانوں کو ذلیل جانتا تھا اور اپنی قوم سے کہنے لگا کہ تم انہیں کچھ خرچ نہ دو تاکہ یہ خرچ سے تنگ ہوکر مدینہ سے بھاگ جائیں، اس کی یہ ناشائستہ گفتگو سن کر زید بن ارقم کو تاب نہ رہی انہوں نے اس سے فرمایا کہ خدا کی قسم تو ہی ذلیل ہے اپنی قوم میں بغض ڈالنے والاا اور نبی ﷺ کے سرمبارک پر معراج کا تاج ہے ۔ حضرت رحمن نے انہیں عزت وقوت دی ہے ابن ابی کہنے لگا کہ چپ میں تو ہنسی سے کہہ رہا تھا، زید بن ارقم نے حضور کی خدمت میں یہ خبر پہنچائی ، حضرت عمر نے ابن ابی کے قتل کی اجازت چاہی، نبی ﷺ نے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ لوگ کہیں گے کہ محمد اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں حضور انور نے ابن ابی سے دریافت فرمایا تو نے یہ باتیں کہی تھیں وہ مکر گیا اور قسم کھا گیا کہ میں نے کچھ بھی نہیں کہا، اس کے ساتھ جو مجلس شریف میں حاضر تھے وہ عرض کرنے لگے کہ ابن ابی بوڑھا بڑا شخص ہے جو کہتا ہے ٹھیک ہی کہتا ہے زید بن ارقم کو شاید دھوکہ ہوا ہو اور بات یاد نہ رہی ہو، پھر جب آیتیں نازل ہوئیں اور ابن ابی کا جھوٹ ظاہر ہوگیا، تو اس سے لوگوں نے کہا کہ جانبی ﷺ سے درخواست کر، حضور تیرے لیے اللہ سے معافی چاہیں تو گردن پھیری اور کہنے لگا کہ تم نے کہا کہ ایمان لا تو میں ایمان لے آیاتم نے کہا زکوۃ دے تو میں نے زکوۃ دی اب یہی باقی رہ گیا ہے کہ محمد ﷺ کو سجدہ کروں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس آیت کے نازل ہونے کے چند ہی روز بعد ابن ابی منافق اپنے نفاق کی حالت میں مرگیا۔
Ayahs 63:9–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

اے مسلمانو ! کہیں تمہیں تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کی یاد (یعنی پنجگانہ نماز و دینی امور وغیرہ) سے غافل نہ رہیں اور جو ایسا کرے (یعنی غافل ہوا) تو وہی لوگ نقصان میں ہیں۔

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو اس دن سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے ، پھر وہ (بطور تمنا و حسرت) کہنے لگے کہ میرے پروردگار ! کاش تو مجھے ایک تھوڑٰ مدت تک اور مہلت دیتا کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوجاتا۔

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور اللہ ہرگز کسی جان کو مہلت نہ دے گا، جب اس کا وعدہ (عمر کے ختم ہونے کا) آجائے اور اللہ خبردار ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

(ف 1) اوپر ابن ابی منافق کا ذکر تھا اس نے اپنی دنیا داری کی غفلت میں عقبی کو یہاں تک بھلادیا تھا کہ طرح طرح کے گناہوں کے بعد جب اس سے ان گناہوں پر نادم ہوکر اللہ اور رسول کی خدمت میں حاضر ہونے اور مغفرت کی دعا کرانے کے لیے کہا گیا تو اس نے انکار کیا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ کسی مسلمان آدمی کو منافقوں کی مانند اس طرح دنیا میں گرفتار نہ ہونا چاہیے جس سے اللہ کی عبادت یعنی پنج گانہ نماز ودینی اومر وغیرہ میں پڑ کر اس کی عقبی خراب ہوجائے پھر فرمایا کہ جو کوئی اس حکم الٰہی کے برخلاف عمل کرے گا اس کا بہت نقصان ہوگا۔ خیرات اور آداب خیرات کا ذکر۔ صحیح مسلم میں مستور بن شداد کی حدیث ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ آخرت کی خوبیوں کی اک مثال دری ا کے مقابلے میں تمام دنیا ایک قطرہ کے برابر ہے یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے ایک قطرہ کے پیچھے ایک دریا کو ہاتھ سے کھودیا اس کے نقصان کا کچھ ٹھکانہ نہیں اب آگے عبادت بدنی کے بعد عبادت مالی کا ذکر فرمایا ، صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ کی حدیث ہے جس میں نبی نے جو کچھ فرمایا اس کی اصل یہ ہے کہ بڑا اجر اس کا صدقہ خیرات کا ہے۔ جو آدمی اپنی تندرستی کے زمانہ میں آخری وقت سے پہلے دیدے۔ کیونکہ اول تو آخری وقت پر آدمی کہتا کچھ ہے، اور اوپر والے عمل کچھ اور کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ آخری وقت پر آدمی کا دل دنیا کی چیزوں سے اٹھ جاتا ہے، اور یہ سورة بقرہ میں گذر چکا ہے کہ دل سے اتری ہوئی چیز کی خیرات اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ یہ حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے، اور حدیث کو ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ آدمی کو جو کچھ اپنی عقبی پاک کرنے کے لیے اللہ کے نام پر دینا ہو، وہ اپنی تندرستی میں دیوے۔ کیونکہ موت کا وقت اچانک آنے والا ہے، اور اس طرح آنے والا ہے کہ پھر وہ ٹل بھی نہیں سکتا۔ اس لیے ایسے وقت پر یا تو خیرات کا ارادہ پورا ہی نہ ہوگا، یا ہوگا توعقبی میں تندرستی کی خیرات کے برابر فائدہ نہ دے گا۔ آخر کو فرمایا کہ عبادت بدنی یا مالی جس نیت سے انسان کرتا ہے، وہ اللہ کو سب معلوم ہے۔