64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 64:1–4

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی1 ہر چیز بیان کرتی ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پس تم میں کوئی کافر ہے اور تم میں کوئی مسلمان، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ دیکھنے والا ہے ۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اسی نے آسمان اور زمین میں درست تدبیر سے بنائے اور تمہاری صورتیں بنائیں تو تمہاری اچھی صورت بنائی اور (آخرت میں) اسی طرف (سب کو) لوٹنا ہے ۔

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ، جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو، اور اللہ دلوں تک کی باتوں کو جانتا ہے ۔

صفات باری تعالی۔ (ف 1) بےجان چیزوں کی تسبیح کا ذکر اوپر گذرچکا ہے ، لہ الملک ولہ الحمد۔ کا یہ مطلب ہے کہ زمین وآسمان میں اسی کی ساری بادشاہت ہے اسی لیے ہر ایک چیز اپنے حال کے موافق اسی کی حمد وثنا لگی ہوئی ہے ، وھو علی کل شئی قدیر۔ کا یہ مطلب ہے کہ اس کی بادشاہت دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں ہے بعض باتیں ان کے اختیار سے خارج ہیں بلکہ وہ اپنی بادشاہت میں جو چاہے سو کرسکتا ہے چناچہ اس کی تفصیل سورة الملک میں آئے گی ھوالذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مومن۔ کی تفسیر اہل سنت کے مذہب کے موافق یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے اس سب کو اور نیک اور بد لوگوں کو اللہ نے اپنے علم ازلی سے جان لیا ہے کہ اور جو کچھ قیامت تک ہوگا وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے پھر انسان کو پیدا کرکے نیک وبد کام کرنا انسان کے اختیار پر چھوڑ دی ا ہے جیسا کہ کوئی کرے گا ویسا ہی پائے گا اب جو کچھ دنیا میں ہوتا ہے آخر کو وعلم ازلی الٰہی کے مطابق پڑتا ہے کیونکہ ہر شخص اپنے اختیار سے وہی کام کرتا ہے جو اللہ کے علم ازلی میں تھا، غرض دنیا میں پیدا ہونے کے بعد اپنے اختیار سے جو کچھ کرنے والا تھا اس کو اللہ نے لکھ لیا ہے اور علم ازلی سے معلوم کرلیا ہے لیکن اس علم ازلی کے موافق کسی کو کسی کام پر اللہ نے مجبور نہیں کیا، بلکہ باوجود اس کے کہ اللہ نے اپنے علم ازلی سے نیک وبد کو جان لیا تھا اس پر بھی اللہ ہر ایک پیدا ہونے والے کو فطرت اسلام پر پیدا کرتا ہے پھر شعور پکڑنے کے بعد وہ ماں باپ کی صحبت کے سبب سے یا شیطان کے بہکانے سے فطرت اسلام کو چھوڑ کر اور ڈھنگ سے لگ جاتا ہے۔ چنانچہ اس باب کی صحیح حدیثیں بھی اوپر گزرچکی ہیں اور تقدیر کے مسئلہ کے ذکر میں اس مسئلہ کی تفصیل بھی ص 595 میں گذرچ کی ہے اور یہ بھی گزرچکا ہے کہ ازلی بد کو نیک کردینا اب بھی اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے ، حاصل کلام یہ ہے کہ جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے وہ اللہ کو معلوم اور اس کے روبرو ہے اسی لیے فرمایا کہ جو کچھ تم کررہے ہو اللہ وہ سب دیکھتا ہے اور ہر چیز کا دیکھنابھالنا اور انسان کی نیت تک جانچنا اور ہر شخص کے عملوں کے لکھنے کے لیے دوفرشتوں کا مقرر کرنا اس واسطے ہے کہ آسمان زمین میں جو کچھ ہے اس کو وہ فرشتے لکھ لیویں اور خصوصا اچھی صورت وشکل میں انسان کو اسی نے اسی عدل و انصاف کی بنیاد پر اس لیے پیدا کیا ہے کہ دنیا میں جو کچھ نیک وبد ہورہا ہے وہ دنیا کے ختم تک ہوجائے تو اس کے بعد نسان کو پھر دوبارہ پیدا کرکے نیکوں کو ان کی نیکی کی جزا دی جائے اور بروں کو ان کی برائی کامواخذہ کیا جائے۔
Ayahs 64:5–6

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تمہیں1 ان کی خبر نہ آئی جنہوں نے تم سے پہلے کفر کیا، انہوں نے اپنے کام کا وبال (دنیا میں بھی) چکھا اور (آخرت میں) ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس سبب سے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لاتے، پس وہ کہتے : کیا آدمی ہم کو راہ بتائیں گے، پس کافر ہوئے اور (ایمان سے) پھرگئے اور اللہ بےنیاز ہے ، اور اللہ غنی ہے سب خوبیوں والا۔

حشر کے منکروں کو قائل کرنے اور اللہ کے رسول پر ایمان لانے کا ذکر۔ (ف 1) کیا امم ماضیہ وقرون سابقہ کے حالات کہ ان کا کیا حال ہوا تم کو قران میں نہیں پہنچے، جیسے قوم عاد فرعون وغیرہ انہوں نے کفر کیا اور اپنے کفر کا مزہ چھا، وبال بھگتا، سزا پائی دنیا میں عذاب پایا ، ہلاک ہوگئے آخرت میں عذاب الیم دردرساں ملے گا، اے کافرو، اگر تمنے بھی ایسا ہی کیا تو یادر کھنا کہ ایک نہ ایک دن تم کو بھی ان کی سی تباہی کی صورت دیکھنی پڑے گی اور اللہ تعالیٰ تم کو بھی نیست ونابود کردے گا یہ دنیا کی چند روزہ زندگی ہے جو چاہے سو کرلو ایک دن ہمارے دربار میں لوٹ کر آنا ہے۔
Ayahs 64:7–10

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

کافروں نے (عذاب آخرت سن کر) یہ دعوی2 کیا کہ وہ ہرگز (مرنے کے بعد دوبارہ) نہ اٹھائے جائیں گے ۔ تم فرماؤ : کیوں نہیں، مجھے اپنے پروردگار کی قسم ! تم ضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر تم کو تمہارے عملوں کی خبر دی جائے گی اور یہ اللہ کے نزدیک آسان ہے ۔

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور (یعنی قرآن) پر جو ہم نے اتارا ہے ، اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردا رہے ۔

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

(اس دن کو یاد کرو) جس دن تم سب کو اللہ قیامت میں اکٹھا کرے گا ، وہی دن کافروں کے نقصان ظاہر ہونے کا ہے ، اور جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھے کام کرے اللہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اس کو (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہی بڑی کامیابی ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہی لوگ دوزخی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ دوزخ بری جگہ ہے ۔

(ف 2) کافروں نے یہ گمان پکای اور خیال کیا کہ وہ مرکرخاک ہوجائیں گے پھر نہ اٹھیں گے مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندگی نہ پائیں گے اے محبوب تم فرماؤ کہ اے لوگو میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سب مرے پیچھے ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر ہر بات کی اچھائی براء کی جو دنیا می کی ہوگی تم کو خبر دی جائے گی اور اس کا بدلہ ملے گا تم اس کو کوئی امرمحال سمجھتے ہو، یہ ساراکارخانہ بعد فنا پھر اٹھا کر کھڑا کردیناخدا کے نزدیک بہت ہی آسان امر ہے ، پس اللہ ورسول پر ایمان لاؤ بعثت بعد الموت کی تصدیق کرو اس کی چمکتی ہوئی نور کی روشی کو جس کو ہم نے بذریعہ جبرائیل محمد پر اتارا یعنی قرآن شریف۔ اے لوگو ! اللہ کو ان سب باتوں کا علم اور ہر امر کی خبر ہے جو تم خیر وشر دنیا میں کرتے ہو اور اے لوگو اس دن کو یاد کرتے ہو اور اے لوگو اس کو یاد کرو جبکہ اللہ تعالیٰ تم سب کو اولین وآخرین کو جمع کرے گا، تمام جن وانس اولین وآخرین کا مجمع عظیم اور جمگھٹ کا دن ہے اور یوم التغابن یہی ہے کہ اس دن کافر بڑے خسارے اور ٹوٹے میں پڑجائیں گے ان کے لیے جو گھر جنت میں بنے ہوں گے وہ سب مسلمانوں کو ملیں گے معہ اسباب و سامان عشرت وخدم وحشم، اہل ازواج کافرن ان سب چیزوں کو جو اس کے لیے ہیں تیار ہوئی تھیں کھودے گا اور مسلمان اسکو لیں گے کافروں نے اپنی جان کو نقصان پہنچایا ہوگا اور مسلمانوں کو دیکھ کر حسرت کریں گے کاش ہم اگر ایمان لاتے تو یہ چیزیں جو ہمارے لیے خدا نے تیار کی تھیں ہم کو ملتیں اور دوسرے نہ لیتے۔ اہل ایمان کے لیے نعمتیں۔ آخر کو اللہ نے فرمایا جو اللہ ورسول پر ایمان لائے گا اور خاصا لوجہ اللہ نیک کام کرے گا تو اس دن خدا اس کے گناہ بابرکت کلمہ توحید بخش دے گا اور برائیاں چھپادے گا، اور اس کو جنت میں داخل کرے گا جن کے درختوں اور مکانوں کے نیچے شراب وآب شریں وشیر شہد کی نہریں جاری ہوں گی وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے نہ مرنا نہ نکلنا، یہ نہایت اعلی مرتبہ کی بات ہے کہ جنت ملے دوزخ سے بچے اور جنہوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کو رسول کو جھٹلایا، وہ دوزخ والے ہوں گے وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے نہ موت آئے گی نہ نکلنا نصیب ہوگا وہ بہتر براٹھکانہ ہے۔
Ayahs 64:11–13

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

کوئی مصیبت1 نہیں پہنچتی مگر خدا کے حکم سے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے ۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، پھر اگر (اطاعت سے) منہ پھیرو گے تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ ظاہر پیغام پہنچا دینا ہے ۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔

اجزائے ایمان اور مصیبت کے وقت صبر کرنے کا اجر۔ (ف 1) اوپر اللہ اور اللہ کے رسول و قرآن شریف پر ایمان لانے کا حکم فرما کر ان آیتوں میں تقدیر الٰہی پر ایمان لانے کا ذکر فرمایا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی، اور ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں حضرت علی کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا، ایماندار بننے کے لیے چار باتوں پر ہر آدمی کو ایمان لانا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ اللہ کا وحدہ لاشریک ہے۔ دوسرے یہ کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور جو دین کے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں لایا ہوں وہ سب برحق ہیں، تیسرے یہ کہ مرنے کے بعد قیامت کا آنا حق ہے۔ چوتھے تقدیر الٰہی کا دل میں پورا اعتقاد رکھنا، آیت اور حدیث یہ مطلب نکلا کہ مثلا آدمی کو کوئی تکلیف دنیا میں پہنچے تو آدمی دل میں پورا اعتقاد رکھے کہ مجھ کو یہ اللہ کے اس حکم کے موافق پہنچی ہے جو حکم دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ نے لوح محفوظ میں لکھا ہے اور یہی اعتقاد دنیا کے باقی امور میں رکھنا چاہیے۔ چنانچہ صحیح مسلم کی عبداللہ بن عمر بن العاص کی حدیث اس باب میں اوپر گذرچ کی ہے اس اعتقاد سے یہ فائدہ ہوگا کہ آدمی کے دل میں صبر کی ہمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوجائے گی جس سے دنیا میں تکلیف کی برداشت آسان ہوجائے گی اور صبر کا اجر ملے گا، یہی مطلب ومن یومن باللہ یھد قلبہ کا ہے مشرکین یہ کہتے تھے کہ اگر یہ اہل اسلام حق پر ہوتے ہیں تو ان کو یہ دنیا کی طرح طرح کی مصیبتیں نہ پہنچتیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائین اور فرمایا کہ جو لوگ حق پر ہیں ان کو دنیا کی مصیبتیں تقدیرالٰہی کے موافق اس مصلحت سے پہنچائی جاتی ہیں کہ وہ لوگ اللہ کی توفیق کی مدد سے ان مصیبتوں پر صبر کریں جس کے اجر می ان کے ثواب کا درجہ عقبی میں بڑھے، ابوہریرہ کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ بعض ایماندار لوگوں کو اللہ عقبی میں ایسا درجہ دینا چاہتے ہیں جو ان کے عملوں سے بڑھ کر ہے اس لیے ان کو دنیا میں کچھ مصیبتوں میں مبتلا فرماتا ہے اور پھر ان مصیبتوں پر صبر کریں توفیق عنایت فرماتا ہے تاکہ اس صبر کے اجر میں وہ لوگ اس بڑے درجہ تک پہنچ جائیں ۔ اس باب میں اور بھی حدیثیں ہیں یہ سب حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں ۔ واللہ بکل شئی علیم کا مطلب یہ ہے کہ کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں اس لیے مصیبت کے وقت صبر کرنے والوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے اسی کے موافق وہ ان کو عقبی میں اجر عنایت فرمائے گا طبرانی کبیر میں حضرت عبداللہ بن عباس کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا جب حشر کرنے والوں کو بےحساب اجرملے گا، تو جو لوگ دنیا میں عافیت سے رہے ہیں وہ یہ آرزو کریں گے کہ دنیا میں کوئی تکلیف پہنچتی ور اس تکلیف پر صبر کرتے تو اچھا ہوتا کہ آج اس صبر کا اجرملتا، مصیبت کے وقت بشریت کے سبب سے آدمی ذراگھبراتا ہے اسی لیے فرمایا کہ ایسے وقت میں اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا پوراخیال رکھ کر کوئی بات خلاف شریعت نہ کی جائے اور دنیا عالم اسباب ہے اس میں تکلیف پہنچتی اور اس تکلیف پر صبر کرتے تو اچھا ہوتا کہ آج اس صبر کراجرملتا، مصیبت کے وقت بشریت کے سبب سے آدمی ذرا گھبرا جاتا ہے اسی لیے فرمایا کہ ایسے وقت میں اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا پوراخیال رکھ کر کوئی خلاف شریعت نہ کی جائے اور دنیا عالم اسباب ہے اس میں تکلیف کا اگر سبب ہو تو اس سبب میں کوئی مستقل تاثیر نہ خیال کی جائے بلکہ ایسے وقت میں پورا بھروسہ اللہ پر رکھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں وحدہ لاشریک ہے کسی سبب کو اس کی قدرت میں کوئی مستقبل دخل نہیں ہے وقت مصیبت ان اللہ واناالیہ راجعون، پڑھے اور اللہ کی عطا پر شکر اور مصیبت پر صبر کرے۔ بیچ میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے رسول کے ذمہ احکام الٰہی کا بیان کردینا ہے ان احکام کو جو مانے گا اسی کو بھلا ہے۔
Ayahs 64:14–18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

اے مسلمانو ! بیشک1 تمہاری بعض بیبیاں اور بعض تمہاری اولاد تمہاری (نیکیوں کے) دشمن ہیں پس ان سے بچو، اور اگر معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بیشک اللہ (بھی تمہارے گناہوں کا) بخشنے والا مہربان ہے ۔

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہاری آزمائش ہیں اور (جو ان میں پر کر اللہ کو یاد رکھے گا تو ) اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے ۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

پس جہاں تک ہوسکے تم اللہ سے ڈرو اور (اس کے ) فرمان سنو اور حکم مانو، اور اپنی جانوں کی بہتری کے لیے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو، اور جو کوئی اپنے نفسانی بخل سے بچ گیا پس وہی لوگ (آخرت میں) فلاح پانے والے ہیں۔

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کو (خوش دلی سے) اچھا قرض دو گے تو وہ ان کو تمہارے لیے دو چند (اضافہ) کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بڑا قدس شناس ہے اور بردبار ہے ۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

پوشیدہ اور ظاہر جاننے والا، غالب حکمت والا ہے ۔

مال اور اولاد آزمائش۔ (ف 1) شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ترمذی اور مستدرک حاکم میں روایت ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے کچھ مسلمان مکہ میں رہ گئے تھے جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی بچوں نے ان کو ہجرت سے روکا اور کہا کہ ہم تمہاری جدائی پر صبر نہ کرسکیں گے تم چلے جاؤ گے تمہارے پیچھے ہلاک ہوجائیں گے یہ بات ان پر اثر کرگئی اور وہ ٹھہرگئے کچھ دنوں کے بعد جب انہوں نے اصحاب رسول اللہ کو دیکھا کہ وہ دین میں بڑے ماہر اور فقیہ ہوگئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا اور اس پچھتاوے کے غصہ میں ان لوگوں نے چاہا کہ اپنی بی بی بچوں کے ساتھ کسی بدسلوکی سے پیش آویں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ بی بی بچوں کے ساتھ کوئی بدسلوکی تو نہیں کرنی چاہیے لیکن بی بی بچوں کی اس طرح کی محبت سے بچنا چاہیے جس میں دین کے کسی کام میں فتور پڑے۔ اور اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کو مال متاع اور بی بی بچوں کی الفت پر ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔