Ayah 65:1طلاق اور اس کی اقسام اور احکام۔
(ف 1) شان نزول : یہ آیت حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے حق میں نازل ہوئی انہوں نے اپنی بی بی کو عورتوں کے ایام مخصوصہ میں طلاق دی تھی ، سرور دوعالم نے انہیں حکم دیا کہ رجعت کریں پھر اگر طلاق دینا چاہیں تو طہر یعنی پاکی کے زمانہ میں طلاق دیں اس آیت میں عورتوں سے مدخول بہاعورتیں ہیں (جو اپنے شوہروں کے پاس گئی ہوں ) صغیرہ، حاملہ اور آئسہ نہ ہوں ، آئسہ وہ عورت ہے جس کے ایام بڑھاپے کی وجہ سے بند ہوگئے ہوں ان کا وقت نہ رہا ہو۔
مسئلہ : غیر مدخول بہا پر عدت نہیں ہے باقی تین قسم کی عورتیں جن کا ذکر ہوا انہیں ایام نہیں ہوتے تو ان کی عدت حیض سے شمار نہ ہوگی۔
مسئلہ : غیرمدخول بہا کو حیض میں طلاق دینا جائز ہے آیت میں جو حکم دیا گیا اس سے مراد ایسی مدخول بہا عورتیں ہیں جن کی عدت حیض سے شمار کی جائے انہیں طلاق دینا ہو تو ایسے طہر میں طلاق دیں جس میں ان سے جماع نہ کیا گیا ہو پھر عدت گذرنے تک ان سے تعرض نہ کریں اس کو طلاق حسن کہتے ہیں۔ طلاق حسن غیر موطوہ عورت یعنی جس سے شوہر نے قربت نہ کی ہو اس کو ایک طلاق دینا طلاق حسن ہے خواہ یہ طلاق حیض میں ہو، اور موطوہ عورت اگر صاحب حیض نہ ہو تو اس کو تین طلاقیں ایسے طہروں میں دینا جن میں اس سے قربت نہ کی ہوطلاق حسن ہے ۔ اگر موطوہ صاحب حیض نہ ہو تو اس کو تین طلاقیں تین مہینوں میں دینا طلاق حسن ہے۔ طلاق بدعی حالت حیض میں طلاق دینا ایسے طہر میں طلادینا جس میں قربت کی گئی ہو طلاق بدعی ہے ایسے ہی ایک طہر میں تین یا دوطلاقیں یک بارگی یا دومرتبہ میں دینا طلاق بدعی ہے ۔ اگرچہ اس طہر میں وطی نہ کی گئی ہو۔
مسئلہ : طلاق بدعی مکروہ ہے مگر واقع ہوجاتی ہے اور ایسی طلاق دینے والا گناہ گار ہوتا ہے آگے فرمایا کہ خدا سے ڈرو اس کی نافرمانی نہ کرو، اس نے جو وقت بتایا اس کے خلاف طلاق نہ دو خدا جو تمہارا پروردگار ہے اس کی مخالفت سے پرہیزکرو، عدت کے انقضا تک تم ان کو گھروں سے جہاں وہ رہتی تھیں جہاں تم نے ان کو طلاق دی ہے نہ نکالو، اور نہ ان عورتوں کو خود وہاں سے نکلنا چاہیے اور آگے فرمایا کہ اگر ان سے کوئی فسق ظاہر صادر ہو جس پر حد آتی ہو مثل زنا وچوری کے اس کے لیے انہیں نکالنا ہی ہوگا۔
مسئلہ : اگر عورت فحش بکے اور گھر والوں کو ایذادے تو اس کو نکالنا جائز ہے کیونکہ وہ ناشزہ کے حکم میں ہے۔
مسئلہ : جو عورت طلاق رجعی یا بائن کی عدت میں ہو اس کو گھر سے نکالنا جائز نہیں اور جو موت کی عدت میں ہو اگر حاجت پڑے تو دن میں نکل سکتی ہے۔ لیکن شب گذارنا اس کو شوہر کے گھر ہی میں ضروری ہے۔
مسئلہ : جو عورت طلاق بائن کی عدت میں ہو اس کے اور شوہر کے درمیان پردہ ضروری ہے اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ کوئی اور عورت ان دونوں کے درمیان حائل ہو۔
مسئلہ : اگر شوہر فاسق ہو یا مکان بہت تنگ ہو تو شوہر کو اس مکان سے چلاجانا بہتر ہے۔ اب آگے فرمایا کہ یہ اللہ کی حدیں ہیں کہ اس نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کردی ہیں اس کے احکام وفرائض ہیں کہ عدت طلاق میں روٹی کپڑ اور رہنے کی جگہ زوج کے ذمہ ہے جو شخص اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا اس کے احکام کو نہ مانے گاروٹی کپڑا اور رہنے کی جگہ نہ دے گا تو وہ اپنی جان پر ظلم کرے گا، گناہ گار ہوگا عذاب پائے گا قیامت کے دن اسکو اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اے عورت کے طلاق دینے والے تو حالت عدت میں زوجہ کو اپنے گھر رکھ اور روٹی کپڑا دے کہ اس میں جو بھید ہے تو نہیں جانتا، تجھ کو کیا خبر اللہ تعالیٰ بعد ان سب قصوں طلاق وغیرہ کے کوئی اور نیا امر پیدا کردے یعنی شاید تیرے دل میں اللہ تعالیٰ پھر خیال ڈال دے کہ تو طلاق رجعی کے بعد پھر عدت کے اندر اندر اس سے رجوع کرے اور پھر محبت مابین زوجین قائم ہوجائے۔
Ayahs 65:2–3(ف 1) یعنی طلاق رجعی میں جب عدت ختم ہونے کو آئے تو تم کو دو باتوں میں ایک کا اختیار ہے ۔ (1) یاعدت ختم ہونے سے پہلے عورت کو دستور کے موافق رجعت کرکے اپنے نکاح میں رہنے دو ، اور دل میں پھر دوبارہ طلاق دینے کا ارادہ نہ رکھو (2) یاعدت منقفی ہونے پر معقول طریقہ سے مہر وغیرہ انکے حق ادا کرکے ان سے جدائی کرلو، اور انہیں ضرر نہ پہنچاؤ، مطلب یہ ہے کہ رکھنا ہوتب اور الگ کرنا ہو تب ہر حالت میں آدمیت اور شرافت کا برتاؤ کرو، یہ بات مت کرو کہ رکھنا بھی مقصود نہ ہو اور خواہ مخواہ تطویل عدت کے لیے رجعت کرلیاکرو، یا رکھنے کی صورت میں اسے ایذا پہنچاؤ، اور طعن وتشنیع کرو، پس ان کو پریشانی میں مت ڈالو، خواہ رجعت کرویافرقت اختیار کرو، دونوں صورتوں میں دفع تہمت اور رفع نزاع کے لیے دو مسلمانوں کو ان معاملوں پر گواہ کرلو، وہ جو عادل ہوں ، ثقہ ہوں ، مرد آزاد نیک چلن اور گواہی کو اچھی طرح پختہ کرلو، کسی حاکم کے سامنے ثابت کرادو پھر جھگڑوغل نہ رہے، اب آگے گواہوں کو ہدایت فرمائی کہ جو معاملہ ہوشہادت کے وقت ٹیڑھی ترچھی بات نہ کریں سچی اور سیدھی نہایت صفائی سے بات کہنی چاہیے اب آگے فرمایا کہ یہ جو احکام بیان کیے گئے ہیں ان زریں نصیحتوں سے منتفع وہی شخص ہوسکتا ہے جس کو خدا پر اور یوم آخرت پر یقین ہو کیونکہ یہی یقین انسان کے دل میں اللہ کا ڈر پیدا کرتا ہے اور اسی ڈر سے آدمی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم سب کسی قہار ہستی کے قبضہ واقتدار میں ہیں، یہ ہی ایک خیال ہے جو آدمی کو ہر حالت میں ظلم تعدی سے روک سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری پر ابھارتا ہے اسی لیے تقوی پرہیزگاری سے ہر مشکل آسان اور رزق میں کشادگی۔
سورة ہذا میں خصوصی طور پر پرہیزگاری اور خدا کے خوف پر بہت زور دیا گیا ہے پھر فرمایا کہ جو گناہ سے بچتا ہے مصیبت میں صبر کرتا ہے خدا کی نافرمانی اور شکایت نہیں کرتا، اور اللہ سے ڈر کر اس کے احکام کی تعمیل کرتا ہے خواہ کتنی ہی مشکلات وشدائد کا سامنا کرنا پڑے تو خدا اس کی تمام مشکلات آسان فرمادیتا ہے ، اس کو مصیبت سے آسانی کی طرف نکلنے کا اور گناہ سے تقوی کی طرف اور دوزخ سے جنت کی طرف نکلنے کا راستہ ظاہر فرمادیتا ہے اور اس کو خزانہ غیب سے اس طرح روزی دیتا ہے جس کا اس کو سان و گمان نہیں ہوتا، اور ایک عجیب قلبی سکون اطمینان نصیب ہوتا ہے جس کے بعد کوئی سختی سختی نہیں رہتی ، اور تمام پریشانیاں اندر ہی اندر کافور ہوجاتی ہیں اور جو مشکل اور مصیبت کے وقت خدا پر بھروسہ رکھتا ہے اور رزق میں اسی پر وثوق رکھتا ہے تو اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے آدمی کو دل تنگ نہ ہونا چاہیے اللہ اپنے قضا وقد کو ضرور پورا کرنے والا ہے ، جزع وفزع بےفائدہ، اس کے احکام قضا وقدر دوبارہ مصیبت و آسائش سب مقدر ہیں وہ سب کو ایک حدتک پہچانے والا ہے اللہ نے ہر شے کے واسطے ایک اندازہ ایک حدمقرر فرمائی ہے کہ وہ شے اس حد تک پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے پس ہر مصیبت اور ہر عیش دنیوی فنا ہونے والا ہے اسلیے اگر کسی چیز کے حاصل ہونے میں دیرہو تو متوکل کو گھبرانا نہیں چاہیے، عوف بن مالک ؓ کے فرزند کو مشرکین نے قید کرلیا توعوف نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ بھی عرض کیا کہ میرا بیٹا مشرکین نے قید کرلیا ہے اور اسی کے ساتھ اپنی محتاجی وناداری کی شکایت کی، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا ڈررکھو، اور صبر کرو، اور کثرت سے لاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم، پڑھتے رہو، عوف نے گھبرا کر اپنی بی بی سے یہ کہا اور دونوں نے پڑھناشروع شروع کیا وہ یہ پڑھ ہی رہے تھے کہ بیٹے نے دروازہ کھٹکھٹایا دشمن غافل ہوگیا تھا اس نے موقعہ پایا قید سے نکل بھاگا، اور چلتے ہوئے چار ہزار بکریاں بھی دشمن کی ساتھ لے آیا، عوف نے خدمت اقدس میں حاضر ہوکر دریافت کیا کہ کیا یہ بکریاں ان کے لیے حلال ہیں حضور ﷺ نے اجازت دی اور یہ آیت نازل ہوئی، ایک حدیث میں حضور نے فرمایا کہ جو شخص اس آیت کو پڑھے ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے شبہات دنیا وغمرات موت شدائد روز قیامت سے خلاص کی راہ نکالے گا۔
Ayah 65:4(ف 1) شان نزول :
مستدرک ، حاکم اسحاق بن راہو، یہ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت ابی بن کعب کی صحیح سند سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ جب سورة بقر میں یہ حکم نازل ہوا، کہ طلاق والی عورت کی عدت کی مدت تین حیض ہیں تو بعض صحابہ نے کہا کہ عمریاحاملہ ہونے کے سبب سے جن عورتوں کو حیض نہیں آتا، یا بڑی عمر ہوجانے سے جن عورتوں کو حیض کی عادت جاتی رہتی ہے اس کی طرح عورتوں کی عدت کی مدت کایارسول اللہ کیا حکم ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اب سورة بقرہ اور اس سورة کی آیتیں اور ان آیتوں کی تفسیر میں جو حدیثیں آئی ہیں ان سب کے ملانے سے عدت کے مسئلہ کا حاصل یہ ہوا کہ ایسی طلاق والی عورت جس سے نکاح ہو اور صحبت نہیں ہوئی ایسی عورت کی تو کچھ عدت نہیں ہے اور آزاد طلاق والی عورت کی عدت کی مدت تین حیض ہیں اور لونڈی کی عدت دوحیض اور چھوتی عمر یا بڑی ہونے کے سبب سے جن عورتوں کو حیض نہیں آتا، ان کی عدت کی مدت تین مہینے کی ہے اور جس عورت کا خاوند مرجائے اور وہ عورت حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت کی مدت چار مہینے دس روز کی ہیے اور اگر ایسی حالت میں کسی عورت کا خاوند مرجائے کہ وہ عورت حاملہ ہوتوعورتوں کی عدت وضع حمل ہے خواہ وہ عدت طلاق کی ہو یا وفات کی ہو۔
طلاق پر عیسائیوں اور آریاؤں کا اعتراض اور اس کا جواب۔
(ف 1) جملہ جملہ کے بعد اتقاء اللہ کے ڈر کا مضمون مختلف پیرایوں میں دہرایا گیا ہے تاکہ پڑھنے والا بار بار متنبہ ہوکر عورتوں کے معاملہ میں اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے بعض عیسائی لوگوں نے قرآن کے طلاق کے مسئلہ پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس مسئلہ کا شریعت موسوی اور عیسوی میں کہیں پتہ نہیں لگتا ، حالانکہ مسلمانوں کا یہ دعوی ہے کہ پچھلی شریعتوں میں قرآن کے مسائل کی صداقت موجود ہے اہل اسلام نے اس اعتراض کے جواب میں امورذیل لکھے ہیں۔
(1) یہ اعتراض تورات اور انجیل کے برخلاف ہے کیونکہ تورات کے حصہ کتاب الاستثناء کے چوبیسویں باب میں طلاق کا مسئلہ اس طرح موجود ہے جس طرح شرع محمدی ہے ۔
(2) جب بنی اسرائیل نے طلاق کو بلاضرورت کام میں لانا شروع کیا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے شریعت موسوی کے طلاق کے مسئلہ میں احتیاطا یہ قید لگادی تھی کہ سوا عورت کی بدکاری کے قصور کے اور کسی قصور پر عورت کو طلاق نہ دی جائے، متی کی انجیل کا پانچواں اور انیسواں باب دیکھاجائے۔
(3) اہل اسلام نے قرآن کے حکم مقصدقا لمابین یدیہ ، کے موافق جو کہا ہے قرآن شریف مین پچھلی شریعتوں کی صداقت موجود ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی شریعتوں میں جو مسائل وحی آسمانی کے موافق ہیں ان کی صداقت قرآن سے اور قرآن کی صداقت ان سے نکلتی ہے ، یہ مطلب اہل اسلام کے اس قول کا ہرگز نہیں ، کہ مثلا یہود کے فرقے سامری اور باقی فرقوں کے اختلاف اور تورات کے احکام میں تگیر وتبدل کردینے سے ایک تورات کی چند توراتیں اور عیسائیوں کے فرقے پروٹسٹ اررومن کیتھولک کے اسی طرح باہمی اختلاف اور انجیل کے تغیر وتبدل کے سبب سے ایک انجیل کی چند انجیلیں جو بن گئی ہیں انکی صداقت قرآن سے یا قرآن کی صداقت ان سے نکلتی ہے کیونکہ شرعیت موسوی اور عیسوی میں ایجادی باتیں جو شریک ہوگئی ہیں ان کی صداقت کا قرآن میں پایاجانا تو درکنار شریعت موسوی اور عیسوی کی اصل کتابوں میں بھی ان ایجادی باتوں کی تصدیق نہیں ہے چناچہ توریت اور انجیل کے حوالہ سے طلاق کے مسئلہ کی مثال اس بارہ میں اوپر گزرچکی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہر وقت کے نبی معرفت اس وقت کی عام مخلوقات کی ہدایت کے لیے ایک کتاب آسمانی نازل ہوئی ہے تورات وانجیل کے مختلف نسخہ جات کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے نازل ہونا کوئی یہودی یا نصرانی نہ آج تک ثابت کرسکا ہے نہ قیامت تک ثابت کرسکے گا، کیونکہ کتاب آسمانی کی یہ شان ہرگز نہیں ہے کہ اس کے نسخہ جات میں باہمی اختلاف ہو بلکہ کتاب آسمانی شان تو وہی ہے جس کا ذکر قرآن مجید کے آسمانی ہونے کے ثبوت کے طور پر اللہ نے سورة النساء میں ان الفاظ سے فرمایا ہے، ولوکان من عندغیر اللہ لوجدوافیہ اختلافا کثیرا، جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کو اللہ کا کلام نہیں جانتے ان کو یہ یہ دھیان کرنا چاہیے کہ اگر یہ قرآن اللہ کا کلام نہ ہوتا تو اس کے اول وآخر عبارت یا اس کے نسخہ جات میں باہمی اختلاف ضرور پایاجاتا۔ کس لیے کہ بشر کے کلام کا خاصہ یہی ہے کہ اس سے یہ بھی نکلا کہ تورات اور انجیل میں باہمی اختلاف اسی سبب سے ہے کہ اہل کتاب نے ان کتابوں کو اصلی حالت پر نہیں رکھا، یہ ذکر قرآن میں چند جگہ صراحت سے بھی آیا ہے۔
(4) یہود نے جو تورات میں تغیر وتبدل کیا ہے اس کا عیسائیوں کو اقرار ہے وہ اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ یہود نے حضرت عیسیٰ کی نبوت کو اور انجیل کے کتاب آسمانی ہونے کو اسی سبب سے نہیں مانا کہ انہوں نے تورت کی اصلی آیتوں میں تبدل و تغیر کیا ورنہ تورات میں حضرت عیسیٰ کے نبی ہونے کی اور انجیل کے کتاب آسمانی ہونے کی پوری صداقت ہے ، اگرچہ بعض عیسائی علماء اس تغیر وتبدل کو معنوی کہتے ہیں کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہود نے تورات کی آیتوں ک لفظوں کو نہیں بدلا، بلکہ ان آیتوں کا مطلب غلط قرار دیا لیکن علماء اسلام نے یہود کے بہت سے تغیرات لفظی تورات کی آیتوں کے ثابت کیے۔
(5) انجیل میں اس کثرت سے تبدل ہوا کہ حضرت عیسیٰ کے بعد ابتدا میں تو انجیل کے نسخوں کی تعداد ستر کے قریب تک پہنچ گئی تھی پھر ایک عرصہ کے بعد علماء نصاری نے ان چارانجیلوں کو معتبر قرار دیا۔ انجیل متی۔ انجیل مرقس۔ انجیل لوقا۔ انجیل یوحنا۔ مگر ان چاروں کے مضمون بالکل مختلف ہیں کسی میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا لکھا ہے کسی میں رسول، کسی میں یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ کو سولی پر چڑھادیا ، کس میں یہ ہے کہ خود حضرت عیسیٰ نے یہود کو پیدا کیا ، اب ان چار انجیلوں کے مولفوں کا حال یہ ہے کہ ہر ایک اپنی انجیل کو صحیح اور دوسرے کی انجیل کو غلط بتلاتا ہے۔ جس سے کسی انجیل کو بھی صحیح نہیں کہا جاسکتا، سب انجیلوں سے پہلے متی کی انجیل ہے جس کی بابت اکثر متقدمین اور متاخرین علماء عیسائی اس بات کے قائل یہ اصل انجیل عبرانی زبان میں تھی ، اس کا پتہ نہیں یہ ترجمہ ہے اور اس کا ترجمہ کا حال معلوم نہیں ہوتا کہ کب اور کس شخصنے یہ ترجمہ کیا ہیی ان چاروں انجیلوں کے شروع میں علماء عیسائی نے بعض بعض آیتوں کو لکھا ہے کہ یہ آیتیں اصلی نہیں ہیں ۔ تثلیث کا مسئلہ ۔ بیت المقدس سے مشرق کی جانب قبلہ مسیحی کے بدل جانے کا مسئلہ۔ ختنہ طلاق اور ایک نکاح سے زائد نکاح کے ناجائز ہونے کا مسئلہ اور اس قسم کے اور ایجادی مسئلے بولس اور قسطنطین بادشاہ روم کے زمانہ میں مذہب عیسائی کا جزوجوٹھہرائے گئے ہیں اور اسی اختلاف کے سبب سے اس وقت کے عیسائیوں کی بولس سے بڑی خونخوار لڑائی ہے۔ اس کا حال اس وقت کی معتبر تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے ، حاصل یہی ہے کہ مشرکین مکہ نے ملت ابراہیمی اور اہل کتاب نے شرعیت موسوی اور عیسوی میں ایجادی باتیں جو اپنی طرف سے گھڑ لیں تھیں ان کی اصلاح کے لیے یہ آخری کتاب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی جس کا نام قرآن ہے اس آسمانی آخری کتاب میں اس سے پہلے کی ایجادی باتوں کی صداقت پائی جانے لگی تو پھر آسمانی کتاب اور یجادی باتوں میں فرق کیا باقی رہے، عیسائی علماء کی ریس کرکے بعض آریہ لوگوں نے بھی قرآن کے طلاق اور اس قسم کے اور چند مسائل میں اعتراض کیا ۔ اہل اسلام نے اس کا جواب بھی دیا ہے کہ آریہ فرقہ کے لوگوں نے اپنے چاروں ویدوں کو آسمانی کتب ثابت نہیں کیا، اس لیے انکو کسی اہل کتاب کی ریس کرنی یا کسی آسمانی کتاب پر اعتراض کرنے کا حق اظہار حق کے طور پتواب تک کسی مباحثہ میں حاصل نہیں ہوا۔
رہایہ الزامی مباحثہ بعض آریہ لوگوں نے طلاق کے مسئلہ کو شرمناک کہا ہے اس کا جواب اہل اسلام نے وید کے نیوگ کے مسئلہ کو پیش کرکے یہ دیا ہے کہ جو نیوگ کا مسئلہ کا حاصل یہ ہے کہ مثلاکسی عورت کا شوہر دائم المرض ہو تو وید میں طلاق کا مسئلہ نہ ہونے کے سبب وہ عورت چھوٹ تو نہیں سکتی لیکن کسی غیر مرد سے ناجائز تعلق پیدا کرکے اس کو دس بچے تک پیدا کرنے کی اجازت وید میں ہے ، اسی طرح اور الزامی مباحثوں میں طرفین سے بہت سی کتابیں شائع ہوچکی ہیں ہر حق پسند شخص ان کتابوں کو نظرانصاف سے دیکھ سکتا ہے اور ناانصاف لوگوں کا مباحثہ کج بحثی یہ تو سلف سے لے کر آج تک کبھی طے نہیں ہوا۔
Ayah 65:5طلاق کے بارے میں احکام کا ذکر۔
(ف 1) مسئلہ ۔ طلاق دی ہوئی عورت کو تاعدت رہنے کے لیے اپنے حسب حیثیت مکان دینا شوہر پر واجب ہے اور اس زمانہ میں نفقہ دینا بھی واجب ہے۔
Ayah 65:6(ف 1) مکان کے دینے میں ایسی تنگی نہ کرے کہ ان کے شریک مسکن کرکے یا اور کوئی ایسی ایذادے کہ وہ تنگ آکرنکلنے پر مجبور ہوجائیں۔
(ف 2) حمل کی مدت کبھی طویل ہوجاتی ہے اور اس کو خصوصیت سے بتلادیا کہ خواہ کتنی ہی طویل ہو وضع حمل تک اس کو نفقہ دینا ہوگا یہ نہیں کہ مثلا تین مہینے نفقہ دے کر بند کرلو۔
مسئلہ : نفقہ جیسا حاملہ کو دینا واجب ہے ایسا ہی غیرحاملہ کو بھی ، خواہ اس کو طلاق رجعی دی ہو یا بائن۔
احکام رضاعت (دودھ پلانا)
(ف 3) بچہ پیدا ہوجانے کے بعدیہ عورت بالکل اجنبی ہوجائے گی اور اس لیے اگر عورت تمہاری خاطر بچہ کو دودھ پلائے تو جو اجرت کسی دوسری انا کو دیتے وہ اس کو دی جائے اور معقول طریقہ سے دستور کے موافق باہم مشورہ کرکے مقرر کرلیں، خواہ مخواہ ضد اور کجروی اختیار نہ کریں ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کا برتاؤ رکھیں نہ عورت دودھ پلانے سے انکار کرے نہ مرد اس کو چھوڑ کر کسی دوسری عورت سے پلوائے۔
مسئلہ : کسی عورت کو معین اجرت پر دودھ پلانے کے لیے مقرر کرنا جائز ہے۔
مسئلہ : غیر عورت کی بہ نسبت اجرت پر دودھ پلانے کی ماں زیادہ مستحق ہے۔
مسئلہ : دودھ پلائی پر بچہ کونہلانا، اس کے کپڑے دھونا، اس کے تیل لگانا، اس کی خوراک کا انتطام رکھنا لازم ہے لیکن ان سب چیزوں کی قیمت اس کے والد پر ہے۔
مسئلہ : اگر دودھ پلانے والی نے بچہ کو بجائے اپنے بکری کا دودھ پلایایاکھانے پر رکھاتو وہ اجرت کی مستحق نہیں۔
(ف 4) یعنی اگر آپس کی ضد اور تکرا رسے عورت دودھ پلانے پر راضی نہ ہو تو کچھ اس پر موقوف نہیں کوئی دوسری عورت دودھ پلانے والی مل جائے گی اس کو اتنا گھمند نہیں کرنا چاہیی اور اگر مرد خواہ بچہ کو اس کی ماں سے دودھ پلوانا نہیں چاہتا، توبہر حال کوئی دوسری عورت دودھ پلانے آئے گی اور آخر اس کو بھی کچھ دینا پڑے گا پھر بچہ کی ماں ہی کو کیوں نہ دے۔
Ayah 65:7(ف 1) یعنی بچہ کی تربیت کا خرچ باپ پر ہے مقدور والے کو اپنے مقدور کے مناسب خرچ کرنا چاہیے، اگر کسی شخص کو زیادہ فراخی نصیب نہ ہو محض نپی تلی روزی اللہ نے دی ہو وہ اسی میں سے اپنی گنجائش کے موافق خرچ کیا کرے ، اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، جب تنگی کی حالت میں اس کے حکم کے موافق خرچ کرو گے وہ تنگی اور سختی کو فراخی اور آسانی سے بدل دے گا انسان کو گھبرانا نہیں چاہیے۔
Ayahs 65:8–12نافرمانوں کا انجام۔
(ف 2) اوپر کی آیتوں میں تعمیل طلب چند احکام کا ذکر تھا ان آیتوں میں پچھلی سرکش قوموں کی ہلاکت اور عذاب الٰہی میں پکڑے جانے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے بھی جو کوئی احکام الٰہی کی تعمیل نہ کرے گا اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلی سرکش قوموں کا ہوا، اس لیے احکام شریعت کی پوری پابندی رکھو، اگر نافرمانی کرو گے تو یادر ہے کہ کتنی ہی بستیاں اللہ ورسول کی نافرمانی کی پاداش میں تباہ ہوچکی ہیں جس وقت وہ لوگ تکبر کرکے حد سے نکل گئے ہم نے ان کا جائزہ لی اور سختی سے لیا کہ ایک عمل کو بھی معاف نہیں کیا، پھر ان کو ایسی نرالی آفت میں پھنسایا جو آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی آگے حال کے صاحب عقل لوگوں کو یہ ارشاد فرمایا ہے کہ انہیں پچھلی قوموں جیسی کم عقلی اور سرکشی سے بچنا اور اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔
کم عقل اور عقل مند کون ؟
اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کے کاموں میں کوئی آدمی اگرچہ بڑا ہوشیار ہو لیکن جب وہ دنیا کے عجائبات کو دیکھ کر اللہ کے پہچاننے کی عقل دہریوں کی طرح رکھتا ہو تو وہ بڑا کم عقل ہے کیونکہ ایک تھوڑی سی عقل کا آدمی بھی مثلا بستی کے باہر جنگل میں پہلی دفعہ ایک میدان دیکھے اور پھر کچھ عرصہ کے بعد اس میدان میں ایک خوش وضع مکان بنا ہوا دیکھے تو وہ بغیر کہے کس معمار کے دیکھنے کے اپنی تھوڑی سی عقل سے ضروریہ نتیجہ نکالے گا کہ ایسے خوش وضع مکان کا بنانے والا کوئی بڑاکاریگر معمار ہے اب جن لوگوں نے دنیا کے ہزارہا عجائبات کو آنکھوں سے دیکھ کر ان عجائبات کے آثار سے بغیر دیکھے اللہ کی ہستی کا اقرار نہیں کیا اور اللہ کو نہیں پہچانا بلاشک ان کی عقل میں فتور ہے اسی طرح جس شخص نے اپنی اور اپنی زیست بھر کی راحت و آرام کی چیزوں پر غور کرکے یہ نتیجہ اپنی عقل سے نہیں نکالا کہ یہ اتنا بڑا انتطام کھیل تماشے کے طور پر نہیں ہے۔ بلکہ جتنا بڑا انتظام ہے اتنا ہی بڑ اس کا کوئی نتیجہ ضرور ہے کیونکہ تجربہ سے دنیا کا کوئی چھوٹا ساکام بھی جب بغیر کسی نتیجہ کے کوئی نہیں کرتا، تو پھر دنیابھر کا پیدا کرنا بغیر کسی نتیجہ کے کیونکر ہوسکتا ہے علاوہ اس کے یہ کم عقل تو ایسے شخص نے کی سو کی، اوپر سے سرکشی بھی کی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی معرفت آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے نیک وبد کی جزاوسزا کو دنیا کی پیدائش کا نتیجہ ایسے شخصوں کو سمجھایاتوسرکشی سے اس فہمائش کو ایسے لوگوں نے نہ مانا اور آخر اپنادین دنیا کا نقصان کیا، معتبر سند سے شداد بن اوس کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا عقل مند وہ شخص ہے جو موت کے بعد کا کچھ سامان کرلیوے، یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسری ہے آگے فرمایا کہ قرآن کی ان مفصل آیتوں کے نازل فرمانے اور رسول بھیجنے سے مقصود یہ ہے جو شخص اللہ کے احکام کے ماننے اور نیک کام کرنے کا قصد کرے دنیا میں اللہ تعالیٰ اس کو جہالت سے نکال کر اس کے دل میں نور ہدایت پیدا کرے گا اور عقبی میں اس کو جنت عطا فرمائے گا، قداحسن اللہ لہ رزقا، کا یہ مطلب ہے کہ جنت میں عام جنتیوں کو اچھی سے اچھی نعمتیں ملیں گی جو یہاں بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں سورة بنی اسرائیل میں معراج کی صحیح حدیثیں گزرچکی ہیں جن میں سات آسمانوں کے اور عجائبات کا ذکر اسی طرح سورة النبا میں حدیثیں آئیں گی جن کا حاصل یہ ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کا راہ کا فاصلہ ہے اور اسی قدر ہر ایک آسمان کی موٹائی ہے یہ سب حدیثیں آیت کے ٹکڑے ، اللہ الذی خلق سبع سموات کی گویا تفسیر ہیں۔
کسی کی جائیداد ، زمین پر ناجائز قبضہ کا عذاب۔
سورۃ النبا میں یہ صحیح حدیث بھی آئے گی کہ جو شخص ایک بالشت بھرزمین بھی کسی کی دبائے گا قیامت کے دن ساتوں زمینوں کے اسی قدر ٹکڑے کا ایک طوق بناکر ایسے شخص کے گلے میں ڈالاجائے گا اس سے معلوم ہوا کہ آسمانوں کی طرح سات زمین بھی تہ بہ تہ ہیں۔ ابن کثیر کے قول کے موافق اصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ نبی ﷺ کے بتلانے سے آسمانوں کے اور آنکھوں کے دیکھنے سے پہلی زمین کے جو کچھ عجائبات لوگوں کو معلوم ہوئے ہیں ان پر غور کرکے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ کی قدرت بہت بڑی ہے کہ جس نے اپنی قدرت سیہ سب کچھ پیدا کیا ہے، اور اس کا علم بڑا وسیع ہے کہ اسنے دنیا کے پیدا کرنے سے ہزارہا برس پہلے دنیا کا سب انتظام اپنے علم ازلی سے معلوم کرلیا ہے جس کے موافق آسمان سے زمین پر روزانہ احکام کے سبب سے دنیا کا ہر طرح کا انتظام چل رہا ہے۔