Ayahs 66:1–4حضور کی زیادہ ازواج مطہرات پر عیسائی اور آریوں کے اعتراض پر جواب۔
(ف 1) شان نزول : ہر زوجہ مطہرہ کو محبت اور تعلق حضور کے ساتھ تھا اور ہر ایک زوجہ کی تمنا اور کوشش تھی کہ وہ زائد از زائد حضور کی توجہات کامرکز بن کردارین کی برکات وفیوض سے متمع ہو آپ کی عادت تھی کہ عصر کے بعد سب ازواج کے ہاں تھوڑی دیر کے لیے تشریف لے جاتے جب ام المومنین زینب بنت جحش ؓ کے یہاں حضور تشریف لے جاتے تو وہ شہدپیش کرتیں، اس ذریعہ سے انکے یہاں کچھ زیادہ تشریف فرمارہتے ، یہ بات حضرت عائشہ وحفصہ ؓ وغیرہما کو ناگوار گذری اور انہیں رشک ہوا انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ جب حضور ﷺ تشریف فرما ہوں تو عرض کیا جائے کہ دہن مبارک سے مغافیر کی بوآرہی ہے اور مغافیر کی بوحضور ﷺ کو ناپسند تھی چناچہ ایسا کیا گیا کہ حضور کو ان کا منشامعلوم تھا فرمایا، مغافیر تو میرے قریب نہیں آیا، زینب کے یہاں شہد میں نے پیا ہے اس کو میں اپنے اوپر حرام کرتا ہوں مقصود یہ کہ حضرت زینب کے یہاں شہد کاشغل ہونے سے تمہاری دل شکنی ہوتی ہے تو ہم شہد ہی ترک کردیتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ اس شان نزول میں یہ بھی کہ نبی ﷺ ام المومنین حفصہ ؓ کے ہاں رونق افروز ہوئے وہ حضور کی اجازت سے اپنے والد حضرت عمر کی عیادت کے لیے تشریف لے گئیں، حضور نے حضرت ماریہ قبطیہ کو سرفراز خدمت کیا یہ حضرت حفصہ پر گراں گزراحضور نے فرمایا کہ میں نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کیا ار میں تمہیں خوش خبری سناتا ہوں کہ میرے بعد امور امت کے مالک ابوبکر وعمر ؓ ہوں گے وہ اس سے خوش ہوگئیں اور نہایت خوشی میں انہوں نے یہ تمام گفتگو حضرت عائشہ کو سنائی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ جو چیزیں اللہ نے آپ کے لیے حلال کی یعنی ماریہ قبطیہ آپ انہیں اپنے لیے کیوں حرام کیے لیتے ہیں اپنی بی بیوں حفصہ اور عائشہ ؓ کی رضاجوئی کے لیے۔
فلسفہ تعدد ازواج۔
بعض علماء عیسائی نے اسلام پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اسلام میں ایک سے زیادہ عورتوں کو نکاح میں رکھنا بڑی معیوب بات ہے، اور اسی باب میں خاص نبی آخرالزمان ﷺ کی ذات پر یہ اعتراض کیا ہے کہ نوعورتوں کا آپ کے نکاح میں ایک ساتھ ہونا غلبہ خواہش نفسانی کی علامت ہے جو نبوت کی شان کے برخلاف ہے اہل اسلام نے ان اعتراضات کے جو جواب دیے ہیں ان کا خلاصہ بیان کیا جاتا ہے۔
(نمبر 1) اہل کتاب اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے ہیں اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت اور طریقہ کو اپنے اس اعتراض میں گویا معیوب ٹھہراتے ہیں کیونکہ کوئی اہل کتاب اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک ساتھ ساراوہاجرہ دوبی بیاں تھیں۔
(2) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی چار بیویاں تھیں جن کا کوئی اہل کتاب انکار نہیں کرسکتا، تورات کی کتاب التکوین کا 29 واں باب دیکھنا چاہیے۔
(3) حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کی بیبیوں کی کثرت کا کسی اہل کتاب کا انکار نہیں کیونکہ صحائف مقدسہ میں کے صحیفہ سمویل ثانی کے پانچویں باب میں حضرت داؤد کا اور صحیفہ ملوک اول کے گیارویں باب میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا یہ ذکر موجود ہے۔
(4) تورات کی کتاب الاستثناء کے اکیسویں باب میں ایک سے زیادہ بی بیوں کے ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کی اجازت موجود ہے اسی لیے یہ اعتراض تورات کے خلاف ہے حالانکہ شریعت موسوی اور شریعت عیسوی دونوں شریعتوں میں تورات واجب العمل ہے۔
(5) جوش جوانی گذرجانے کے بعد 53 برس کی عمر کے قریب نبی آخزالزمان نے مکہ سے مدینہ کو ہجرت کے قیام کے زمانہ میں پہلے حضرت خدیجہ اور پھر حضرت خدیجہ کے انتقال کے بعد حضرت سودہ، اس طرح سے 53 برس کی عمر تک آپ کے نکاح میں ایک ہی بی بی رہی، ہجرت کے بعد اہل اسلام کی عورتوں کی کثرت ہوئی اور عورتوں سے خصوصیت رکھنے والے ایسے مسائل مدینہ میں نازل ہوئے جن کی تعلیم اجنبی عورتوں کے ذریعہ ممکن نہ تھی تو اللہ کے حکم سے اللہ کے رسول نے معلمہ دینی کے طور جوش جوانی کا زمانہ گزرجانے کے بعد دینی ضرورت سے زیادہ عورتیں اپنے نکاح میں رکھیں۔ غرض اس طرح سے زیادہ سے زیادہ عورتوں کا نکاح میں رکھنا آپ کے نبی ہونے کی پوری دلیل ہے جو کوئی اس غلبہ خواہش نفسانی کی علامت بتلاتا ہے اس کا قول تاریخی واقعات کے بالکل برخلاف ہے۔
عیسائی علماء کے دیکھا دیکھی بعض آریہ فرقہ کے لوگوں نے بھی یہی اعتراض کیا اسلام پر کہ اہل اسلام نے پہلاجواب تو اس اعتراض کا وہی دیا ہے جو سورة طلاق میں گزرا کہ وید جب تک کتاب آسمانی ثابت نہ ہوں آریہ فرقے کے لوگوں کو کسی آسمانی کتاب پر اعتراض کرنے کا حق حاصل نہیں، پھر فرقے آریہ کے الزام دینے کو یہ جواب بھی دیا ہے کہ پندٹ دیانندی کی، ستیارتھ پر کاش، کے موافق جس طرح دائم المرض مرد کی عورت کی نیوگ کی اجازت ہے اسی طرح دائم المرض عورت کے مرد کو بھی نیوگ کی اجازت ہے یہ ایک ظاہر بات ہے کہ آریہ مذہب کے احکام کی خامی اور کوتاہی کے سبب سے نیوگ کی بدکاری آریہ مذہب میں داخل ہوئی ورنہ طلاق کا حکم آریہ مذہب کی کتابوں میں ہوتا تو دائم المرض مرد کی عورت بیمارشوہر سے طلاق حاصل کرکے دوسرا شوہر کرسکتی تھی ، اسی طرح دوسری عورت سے شادی کا حکم آریہ مذہب میں ہوتاتودائم المرض عورت کا شوہر دوسری شادی کرسکتا تھا یہ احکام کی خامی اس بات کی گواہ ہے کہ وید کی کتاب آسمانی نہیں کیونکہ آسمانی کتاب میں اس طرح کی احکام کی خامی کوئی مخالف ہرگز نہیں بتلاسکتا ، اور یہی احکام کی پختگی قرآن کی کتاب آسمانی ہونے کی پوری دلیل ہے اس کی تفصیل سورة طلاق میں گذرچ کی ہے۔
Ayah 66:5(ف 1) یہ تخویف ہے ازواج مطہرات کو کہ اگر انہوں نے سیدعالم کو آزردہ کیا اور حضور انور نے انہیں طلاق دی توحضورکو اللہ اپنے لطف وکرم سے اور بہتر بی بیاں عطافرمائے گا اس تخویف سے ازواج مطہرات متاثر ہوئیں اور انہوں نے نبی ﷺ کے شرف خدمت کو ہرنعمت سے زیادہ سمجھا اور حضور کی دل جوئی اور رضاطلبی مقدم جانی لہذا آپ نے انہیں طلاق نہ دی۔
Ayahs 66:6–7اہل و عیال کی دینی تربیت۔
(ف 2) ہر مسلمان آدمی اپنی جان کو اور اپنے گھروالوں کو دوزخ کی آگ سے یوں بچاسکتا ہے کہ جن باتوں کے بجالانے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے ان کے بجالانے کی اور جن سے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کی خود بھی کوشش کرے اور جن سے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کی خود بھی کوشش کرے اور اپنے گھروالوں کو بھی اس کی تاکید کرتا رہے سمجھاکرڈرا کر پیار سے مار سے جس طرح ہوسکے دیندار بنانے کی کوشش کرے روزہ وحج زکوۃ ایسے فرائض ہیں جن کے ادا کرنے کا وقت سال میں یا عمر میں ایک دفعہ آتا ہے۔ نماز ایک ایسافرض ہے کہ دن رات میں پانچ وقت ہے اس لیے گھروالوں کو اس کی خاص تاکید رکھنے کا حکم سورة طہ کی آیت، وامر اھلک بالصلوۃ، میں گذرچکا ہے یہ تو نماز کا دنیا کا اہتمام ہوا کہ قرآن اور حدیث میں جگہ جگہ اس کا ذکر ہے ، عقبی میں بھی باقی کے سب فرائض سے پہلے نماز کا حساب ہوگا، چناچہ معتبر سند سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس کا ذکر ہے اسی واسطے مسند امام احمد اور ابوداؤد وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان میں ہے کہ سات برس کے لڑکے کو نماز کی زبانی تاکید کی جائے اور دس برس کے لڑکے یالڑ کی پر نماز فرض نہیں ہے لیکن یہ تاکید اس لیے ہے کہ بالغ ہونے کے بعد مسلمانوں کی اولاد کو نماز کی عادت رہے۔
آتش دوزخ۔
آگے فرمایا کہ وہ آگ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں مراد یہ ہے کہ جہنم کی آگ بہت شدید الحرارت ہے اور جس طرح دنیا کی آگ لکڑی وغیرہ سے جلتی ہے جہنم کی آگ کافر اور بت وغیرہ ان چیزوں سے جلتی ہے اس پر ایسے فرشتے مسلط ہیں یعنی زبانیہ ، جو نہایت غصہ اور سختی والے اور بڑی قوت و شوکت دہشت والے ہیں، حضرت عمر ؓ کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا دوزخ پر جو فرشتے تعینات ہیں اگر ان میں سے ایک فرشتہ بھی زمین پر آجائے تو اس کی خوفناک صورت دیکھ کر تمام دنیا کے لوگ مرجائیں آگے فرمایا کہ دنیا کے جیل خانے میں جیل کے داروغہ یانگہبان کبھی بعض قیدیوں سے مل جاتے ہیں اور ان قیدیوں کی طرح طرح سے رعایت کرنے لگتے ہیں اس لیے فرمایا کہ دوزک کے داروغہ نگہبانوں کا یہ حال نہیں ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پورے فرمانبردار ہیں اس واسطے وہ اللہ کے حکم کی پوری تعمیل کریں گے۔
صحیح مسلم کی انس بن مالک ؓ کی حدیث ہے کہ قیامت کے دن بعض گناہ گار اپنے گناہوں کے اقبال کرنے میں پہلے پہل طرح طرح کے عذر کریں گے ، آخر اللہ ان کے منہ پرسکوت کی مہرلگا کر ان کے ہاتھ پیروں کی گواہی کے ادا کرنے کا حکم دے گا، اور ایسے لوگوں کے ہاتھ پیر ان کے سب عملوں کی شہادت ادا کریں گے اور پھر ان لوگوں کا کوئی عذر نہ سناجائے گا، غرض ان آیتوں میں جس وقت کے عذر کے نہ سنے جانے کا ذکر ہے اس وقت کی یہ حدیث تفسیر ہے۔ جسکا حاصل یہ ہے کہ نافرمان لوگوں کو پہلے عذرداری کا موقعہ دیاجائے گا اور آخر شہادت پر فیصلہ ہوکر اس طرح وہ فیصلہ آخر ان لوگوں کو سنادیاجئے گا نیک وبد سے ایک طرح کا برتاؤکرنا بڑی ناانصافی ہے اس لیے اے نافرمان لوگو، تمہارے حق میں منصفانہ فیصلہ یہی ہے کہ تم اپنے کیے کی سزا بھگتو۔
Ayah 66:8توبہ اور شرائط کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں توبہ کا ذکر فرمایا، تاکہ معلوم ہوجائے کہ جن کاموں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کا ارادہ رکھتے ہوئے بشریت کے تقاضے سے اگر کوئی شخص براکام کربیٹھے اور پھر فورا اس پر نادم ہوکر اللہ تعالیٰ سے توبہ اور استغفار کرے تو اللہ تعالیٰ ہر گناہ گار کی توبہ قبول کرتا ہے۔ مسند ابی یعلی اور طبرانی میں معتبر سند سے عبداللہ بن مسعود کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا جنت کے آٹھ دروازے ہیں سات تو بند ہیں قیامت کے دن جب لوگ جنت میں جائیں گے اور اس وقت دروازہ کھلیں گے ہاں ایک دروازہ توبہ کے لیے کھلاہوا ہے اسی میں سے ہر ایک توبہ کرنے والے کی توبہ اللہ کی بارگاہ میں جاتی اور قبول ہوتی ہے ۔
صفوان بن عسال سے ترمذی اور بہیقی میں روایت ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے قریب جب آفتاب مغرب سے نکلے گا اس وقت تک توبہ کا دروازہ کھلا رہے گا، ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے سورة النساء میں توبہ کی شرائط اور توبہ کے وقت کی تفصیل گذرچ کی ہے۔
توبہ نصوح کے معنی : ایسی خالص توبہ کے ہیں کہ توبہ کرتے وقت پچھلے گناہوں پر پوری ندامت اور آئندہ کے گناہوں سے باز رہنے کا ارادہ ہو، مستدرک حاکم میں ہے کہ کسی شخص نے حضرت عمر سے توبہ نصورح کے معنی پوچھے تو آپ نے یہی معنی بتلائے جو اوپرذکر کیے گئے ، حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے معتبر سند سے تمام مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کی ابوسعید خدری کی حدیث جس میں شیطان نے قسم کھاکر اللہ کے روبروبنی آدم کے بہکانے کا دعوی کیا ہے اور اللہ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھاکر اس ملعون کو جواب دیا کہ بنی آدم گناہ کرکے خالص دل سے جب تک توبہ استغفار کریں تو ان کے سب گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ کی حدیث جس میں ہر نیکی کا اجردس سے لے کر سات سو تک ہے۔ صحیح مسلم کی عبداللہ ابن عمر و بن العاص کی حدیث جس میں اللہ نے اپنے رسول سے وعدہ فرمایا کہ قیامت کے دن امت محمدیہ کے ایماندار گناہ گاروں کے ساتھ اللہ وہ برتاؤ کریں گے جس سے نبی ﷺ خوش ہوجائیں گے۔
روز قیامت کے تین مشکل مراحل۔
معتبر سند سے ابوداؤد اور مستدرک حاکم کی حضرت عائشہ ؓ کی حدیث جس میں نبی ﷺ نے نامہ اعمال کے بٹنے کے موقع کو، نامہ اعمال کے تولے جانے کے موقع کو قیامت کے تین مشکل کاموں میں شمار فرمایا ہے، یہ سب حدیثیں اوپر گزرچکی ہیں جو ان دونوں آیتوں سے پہلی آیت کی گویا تفسیر ہیں۔ ان حدیثوں اور آیت کو ملا کر حاصل مطلب یہ قرار پایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن امت محمدیہ ﷺ کے ایماندار گناہ گاروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے نیکیوں کا اجر بڑھا کر اور گناہوں کو توبہ و استغفار سے معاف فرما کر نامہ اعمال کے بٹنے کے اور اعمال کے تولے جانے کے دونوں مشکل موقعوں کو آسان کردیا، کیونکہ گناہوں کے معاف ہوجانے سے نامہ اعمال میں فقط نیکیاں رہ جائیں گی جس سے اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیے جانے کے قابل ہوجائیں گے ، اسی طرح نیکیوں کے اجر کے بڑھ جانے سے میزان میں نیکیوں کا وزن زیادہ ہوجائے گا۔ رہاتیسرا مشکل موقع پل صراط کا، اس کے لیے فرمایا کہ پل صراط کے اندھیرے کو جلدی سے طے کرنے کی غرض سے ان لوگوں کے اعمال کے موافق ان کو روشنی دی جائے گی تاکہ پل صراط کو طے کرکے یہ لوگ جھٹ پٹ جنت میں جاپہنچیں۔
نور کا ذکر۔
اپنی مخلوق کو اللہ نے نورعطا کیا ہے اس نور کی عنایت کے تین زمانے ہیں۔ ایک زمانہ تو ازل کا ہے ، جس وقت تک مخلوق دنیا میں پیدا ہوئی تھی بلکہ مخلوق کا اس وقت تک عالم اراوح کا حال تھا اس نور کے ذکر میں ترمذی اور مسند امام احمد کی حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں جب پیدا کیا تو جن و انسان سب پر خواہش نفسانی کا ایک اندھیراچھایا ہوا تھا پھر اللہ نے انکو ایک نورعنایت کیا جس نے اس نور کا پوراحصہ پایاوہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد نیک ہوا، اور جس نے اس نور کا پوراحصہ نہیں پایا دنیا می پیدا ہونے کے بعد بد ہوا۔ اور دوسر ازمانہ نور کے عنایت ہونے کا دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کا ہے جس کا ذکر آیت، افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھوعلی نور من ربہ، میں گذرا ہے یہ درجہ نور کا دنیا میں انسان کو اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ انسان کی تمام نفسانی خواہشیں شرع کے احکام کے تابع ہوجاتی ہیں اس درجہ کو نبی ﷺ نے صحیح مسلم کی حضرت عباس کی روایت میں فرمایا ہے کہ یہ حلاوت ایمان کا درجہ آدمی کو جب ملتا ہے جس کا ذکر صحیین کی حضرت انس کی حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ تین خصلتیں اس آدمی میں پیدا ہوجاتی ہیں تمام دنیا کی چیزوں سے بڑھ کر اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت اس شخص کے دل میں سماجاتی ہے اور وہ شخص دنیا میں جس کسی سے الفت پیدا کرتا ہے وہ غرض دینی سے ہوا کرتی ہے اور ایسے شخص کو کوئی آگ میں ڈال دے تو اس کو قبول ہے مگر اسلام کی باتوں کو چھوڑ دینا اس کو ہرگز گوارا نہیں ہوتا۔
تیسرا وہ نور ہے جو پل صراط پر گذرنے کے وقت ہر ایک کے عمل کے موافق ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ عنایت کریں گے جس کا ذکر سورة حدید میں گزرچکا ہے اگرچہ اس آیت میں بھی اسی قیامت کے دن کے پل صراط پر کے نور کا ذکر ہے لیکن وہ نور دنیا کی ایمان داری اور دنیا کے نیک عملوں کے سبب سے دیاجائے گا، اس واسطے شاہ صاحب نے اس آیت کے اردوفائدہ میں دنیا کی ایمانداری اور دنیا کے ایمان کے نور اور حلاوت ایمان کے درجہ کا ذکر کیا ہے۔ سورة حدید میں گزرچکا ہے کہ منافقون کی روشنی بجھتی دیکھ کر ایماندار لوگ اپنی روشنی کے حق میں اللہ سے یہ دعامانگیں گے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔
Ayah 66:9(ف 1) آنحضرت ﷺ کا خلق اور نرم خوئی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اوروں کو فرماتا ہے ، تحمل کرو اور آپ کو فرماتا ہے کہ سختی کرو، یعنی کفار سے جہاد کیجئے تلوار سے ان کی خبر لیجئے، اور منافقین مدینہ کو سزا دیجئے اول زبان سے ڈرائیے دھمکائیے نہ مانیں تو سزا دیجئے اور دونوں گروہوں پر خوب سختی کیجئے ان سب کاٹھکانہ جہنم ہے وہ بری جگہ ہے۔
Ayahs 66:10–12چار عورتوں کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں میں تمثیل کے طور پر چار عورتوں کا ذکر فرمایا جن میں دو عورتیں حضرت نوح اور حضرت لوط (علیہما السلام) دوپیغمبروں کی بی بیاں تھیں لیکن ان دونوں عورتوں کے ذاتی اعمال اچھے نہ تھے اس واسطے پیغمبروں کی رشتہ داری ان کے کچھ کام نہیں آئی بلکہ ان کے ذاتی عملوں کی خرابی کے سبب سے ان کی عقبی برباد ہوگئی تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کسی نبی کی بیوی سے بدکاری کا گناہ سرزد نہیں ہوا تھا کہ اللہ کے نبی کی کسر شان نہ ہو۔ اس قول کے موافق حضرت نوح اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کی دغا کے معنی ، بےدینی ، کے ہیں بدکاری کے معنی نہیں ہیں اب آگے مسلمانوں کی تسلی کے لیے فرعون کی بی بی کا قصہ بیان فرمایا، فرعون کی بی بی کا نام آسیہ بنت مزاحم تھا، حضرت موسیٰ کا جادوگروں پر غالب ہونے کا قصہ دیکھ کر جب آسیہ نے اللہ کے وحدہ لاشریک ہونے کی دل سے تصدیق کی اور زبان سے اس کی تصدیق کا اقرار بھی کیا تو فرعون نے یہ حال سن کر ان پر طرح طرح کے عذاب شروع کردیے انہیں چومیخا کیا اور بھاری چکی سینہ پر رکھی اور دھوپ میں ڈال دیا لیکن آسیہ اپنے ایمان پر قائم رہی اور اسی عذاب کی حالت میں انہوں نے اللہ سے دعا کی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسیہ کی دعا قبول فرمائی اور بہت جلدی فرعون کے ظلم سے ان جنتی بھی بی بی کو نجات دے کر عقبی میں بہت بڑا درجہ انہیں عنایت فرمایا۔
صحیح بخاری ومسلم میں ابوموسی اشعری کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا مردوں میں تو بہت کامل لوگ ہوئے مگر عورتوں میں آسیہ بنت مزاحم مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہما کا اللہ کے نزدیک کاملین کا درجہ ہے ، حاصل اس تمثیل کا یہ ہے کہ جس مرد یا عورت کے دل میں حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویوں کی طرح بالکل نور ایمانی نہیں ہے ان کی نجات کے لیے اللہ کے پیغمبروں کی قرابت داری بھی کافی نہیں ہوسکتی، اور جن کے دل میں حضرت مریم اور آسیہ کی طرح نور ایمانی ہے ان کو فرعون جیسے بدقرابت داری کی بدی بھی کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتی ، اور جو لوگ حضرت نوح اور لوط (علیہما السلام) کی بیویوں کی طرح ایمان سے بالکل بےبہرہ نہیں ہیں بلکہ ان کے دل میں اگر ذرہ برابر بھی ایمان ہے تو ایسے لوگوں کی نجات کامل الایمان قرابت داروں مسلمانوں کی شفاعت سے ممکن ہے۔