67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 67:1–5

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

وہ1 (اللہ) بڑی برکت والا ہے کہ جس کے قبضہ میں (دونوں جہان کی) بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

وہ خدا کے جس نے موت اور زندگی پیدا کی تاکہ تم کو (دنیا کی زندگی میں) آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ نیک ہے اور وہ غالب بخشنے والا ہے ۔

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

وہ خدا جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کیے ، اے دیکھنے والے تو خدا کے بنانے میں کچھ فرق دیکھتا ہے پس تو پھر (آسمان کی طرف) نگاہ اٹھا کر دیکھ کہ تجھے کوئی دراڑ نظر آتی ہے ؟

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر دوبارہ (یعنی بار بار ) نگاہ اٹھا (آخر کار) تیری نگاہ ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی (اور تجھے بناوٹ میں فرق نہ معلوم ہوگا) ۔

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں سے) زینت دی اور بیشک ہم نے ان (ستاروں) کو شیطان کا آلہ رجم بنایا اور ہم نے شیاطین کے لیے (آخرت میں بوجہ ان کے کفر کے) دوزخ کا عذاب تیار کیا۔

خدا کا حقیقی بادشاہ ہونا، حاکمیت اعلی اور دنیوی بادشاہوں میں فرق ۔ (ف 1) سورة زخرف میں گذرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا چند روزہ انتظام اس طرح فرمادیا ہے کہ کسی کو بادشاہ کیا کسی کو رعیت ، اور ایک کی ضرورت دوسرے لگادی ، مثلا رعیت کے لوگ کھیتی کرکے بادشاہ کو محصول دیتے ہیں، فوج کے لوگ ضرورت کے وقت بادشاہ کی طرف سے لڑتے ہیں لکھنے پڑھنے والے لوگ بادشاہ کے دفتری کاموں کا انجام دیتے ہیں، جس طرح ان کاموں میں بادشاہ کی ضرورتیں رعیت اور نوکروں سے متعلق ہیں اسی طرح کھیتی کے لیے زمین کے ملنے کی رعیت کی ضرورت خرچ کے لیے تنخواہ کے ملنے کی ضرورت ، فوج اور قسم کے نوکروں کی ضرورتیں بادشاہ سے متعلق ہیں یہ سب کچھ ہے مگر بادشاہ اور رعیت سب پر اصل بادشاہی اللہ تعالیٰ کی ہے ، تمام رعیت کے لوگ کئی سال موسم پر مینہ برسنے کی تمنا کرتے ہیں مگر جب تک اس بادشاہ حقیقی کو حکم نہ ہو، دنیا کے بادشاہوں سے کیا ہوسکتا ہے ، تمام رعیت کے لوگ اور نوکر ایک بادشاہ کا صاحب اولاد ہوجانا، یا ایک بادشاہ کا کسی مرض سے اچھا ہوجانا چاہتے ہیں لیکن بغیر حاکم حقیقی کے کچھ نہیں ہوسکتا، روم کے بادشاہ کی حکومت مثلا ایران میں نہیں ، اور ایران کے بادشاہ کی حکومت روم میں نہیں وہی بادشاہ حقیقی ہے جس کی بادشاہی ایک وتیرہ پر تمام دنیا میں جاری ہے۔ غرض دنیا کے بادشاہوں کی نہ تمام دنیا میں حکومت ہے نہ ہر طرح کا دنیا کا کارخانہ انکے قبضہ کے ملک کا ان کے اختیار سے چل سکتا ہے۔ ہر جگہ اور ہر طرح کا کام اللہ تعالیٰ کے ہی اختیار میں ہے اس واسطے بادشاہ اور فقیر سب کے سمجھانے کو فرمایا کہ تمام دنیا کا مالک ، تمام دنیا کی بادشاہی اور اس بادشاہی میں ہر طرح کی حکومت اس ایک ذات وحدہ لاشریک کے ہاتھ میں ہے جس نے تمام دنیاکواس آزمائش کے لیے پیدا کیا کہ دنیا میں پیداہوکر کون نیک کام کرتا ہے اور کون بد پھر اپنی پیدا کی ہوئی ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو انسان کی قدرت سے باہر ہیں تاکہ انسان کے دل میں اللہ کی قدرت کا پورا یقین جم جائے موت وحیات کے پیدا کرنے سے یہ مطلب ہے کہ انسان کی ایک حالت تو وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کی کہ وہ دنیا میں نابود، اور علم الٰہی میں ایک وقت مقررہ پر اس کا دنیا میں آنا مقرر تھا پھر اس کو دنیا میں پیدا کیا جس کے سبب سے اس کی نابودی کی حالت جاتی رہی اور زندگی کی حالت میں آگیا۔ ” کنتم امواتا فاحیاکم خلق الموت والحیوۃ “ کی پوری تفسیر سے پھر فرمایا کہ انسان کو حالت نابودی سے حالت زندگی اس لیے دی گئی ہے تاکہ دنیا کی ظاہری حالت میں کھل جائے کہ دنیا میں کس نے اچھے کام کیے اور کس نے برے ورنہ اللہ کے علم ازلی میں دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے ہی نیک وبد کا حال کھل چکا ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پ ہے جو کچھ دنیا کے پیدا کرنے کے بعد ہونے والا تھا اپنے علم ازلی کے موافق وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے انصاف کے موافق جزا وسزا کا مدار اپنے اس علم ازلی پر نہیں رکھا، سبب جزاوسزا کا مدار دنیا کی ظاہری حالت پر رکھا ہے کہ جیسا کوئی کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا ۔ عزیز کے معنی ، زبردست حقیقت میں وہ ایسا زبردست ہے کہ اس کے حکم کے آگے سب زبردست زیر ہیں بخشنے والا وہ ایسا ہے کہ ایسے کلمہ گولوگوں کو جنہوں نے اپنی تمام عمر میں کوئی نیک کام نہیں کیا، دوزخ سے نکال کر جنت میں بھیج دے گا۔ چنانچہ صحیح بخاری مسلم میں ابوسعید خدری ؓ کی ایک بہت بڑی حدیث میں اس کا ذکر ہے سات آسمان اس طرح بنائے کہ جس طرح پہلاآسمان دنیا کی چھت ہے اسی طرح ہر ایک آسمان دوسرے آسمان کی چھت ہے اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کے راستہ کا فاصلہ ہے ۔ ہر آسمان کا دل پانسو برس کی راہ کا ہے بغیر کسی سہارے کے اتنے بڑے دل کی ہی تہہ پر تہہ سات چھتیں جدا جدا فقط اس کی قدت سے کھڑی ہیں پھر فرمایا کہ جو کوئی اللہ کی اس قدرت کو گھڑی گھڑی غور کی نگاہ سے دیکھے گا تو آخر اس کی نگاہ تھک جائے گی مگر کسی کا کیا مقدور ہے کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیز میں کسی طرح کا عیب پکڑ سکے، اس کے بعد اپنی قدرت کاملہ سے آسمان میں ستاروں کو پیدا کرکے ان کی روشنی سے آسمانوں کی زینت اور رونق جوبڑھائی، اس کا ذکر فرمایا کہ آسمان کی طرف دیکھو رات کے وقت ستاروں کی جگمگاہٹ سے کیسی رونق شان معلوم ہوتی ہے یہ قدرتی چراغ ہیں جن سے دنیا کے بہت سے منافع وابستہ ہیں آگے فرمایا کہ چوری سے شیاطین آسمان پر کی کچھ خبریں سننے جو آتے ہیں انہی ستاروں میں سے آگ کے شعلہ لے کر اللہ کے فرشتے ان پر انگارے برسات ہیں زیادہ تفصیل اس کی سورة جن ، سورة حجروغیرہ میں ہے۔
Ayahs 67:6–11

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور1 جنہوں نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا (خواہ انسان ہوں یا جنات) ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو اس کی آواز مانند گدھے کی آواز کے سنیں گے اور وہ دوزخ جوش مارتی ہے۔

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

معلوم ہوتا ہے کہ غصہ سے پھٹ جائے ، جب کبھی اسمیں کوئی گروہ (کافروں کا) ڈالا جائے گا تو دوزخ کے داروغہ (نگران) اس گروہ سے پوچھیں گے : کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا پیغمبر نہ آیا تھا ؟

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

(کافر) کہیں گے : بیشک ہمارے پاس ڈر سنانے والے پیغمبر تشریف لائے تھے، پس ہم نے جھٹلایا، اور کہا : اللہ نے کچھ نہیں اتارا تم تو محض بڑی گمراہی میں ہو۔

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور کافر فرشتوں سے ( یہ بھی) کہیں گے کہ اگر ہم (رسولوں کی ہدایت) سنتے یا سمجھتے (یعنی مانتے) تو دوزخ والوں میں نہ ہوتے۔

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

پس اپنے گناہ کا اقرار کیا (تو اس وقت کا اقرار کچھ نافع نہیں) پس دوزخ والوں کو لعنت ہو۔

شیطان کے بہکاوے سے بچنے کا ذکر اور جو نہ بچے اس کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسول کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھادیاجائے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنادشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں نہ آئیں ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آئے گا اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھردیاجائے گا، اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتے کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کے اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکرآن پڑے۔ اس لیے وہ فرتے ان دوزخی آدمیوں سے پوچھیں گے کہ اللہ کے انتظام کے موافق کیا اللہ کے رسولوں نے اس دن کی آفت سے تم لوگوں کو نہیں ڈرایا، وہ دوزخی جواب دیں گے کہ اللہ کے رسولوں نے تو ہم کو ڈرایا تھا مگر ہم نے اپنی کم بختی کے سبب سے اللہ کے رسولوں کی نصیحت کو نہ مانا، بلکہ ان سے کہہ دیا کہ تم خود بہکے ہوئے ہوجوہم کو ہمارے باپ دادا کے طریقہ سے جدا طریقہ سکھاتے ہو، پھر پچھتا کر یہ بھی کہیں گے کہ اگر دنیا میں ہم رسولوں کی نصیحت کو مان لیتے اور شیطان کے بہکاوے کے وقت کچھ خدا کی دی ہوئی عقل سے کام لیتے تو آج ہم اس بلا میں نہ پڑتے۔ مگر اس وقت کا پچھتانا اور گناہوں کا اقرار کرنا ان کے کچھ کام نہ آئے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے یہ پھٹکار ملے گی کہ اے کم بختو، دور ہو اللہ کی رحمت سے ، ایسے نافرمان دوزخ کے مستحق ہیں جن کا اس وقت کا پچھتانا اور گناہوں کا اقرار کرنا اللہ کی جناب میں ہرگز قابل قبول نہیں۔ ” شھیق کے معنی “۔ شھیق کا معنی خوفناک آواز کے ہیں یہ دوزخ کا دھاڑنا اور خوفناک آوازوں کانکالنا اس وقت ہوگا جب کافروں میں سے کوئی گروہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے ۔ یہود یا نصاری کافر یا مشرکین وغیرہ وغیرہ تو وہ اس وقت اس دوزخ کی آوز سنیں گے جیسے گدھا رینگتا ہے، بڑی ہیبت ناک آواز سے چیختی ہوگی جوش میں ابل رہی ہوگی کافرو کے اوپر ایسے غصہ اور طیش میں ہوگی کہ آپے سے باہر ہوگ، قریب ہوگا کہ جوش خروش سے غیظ وغضب سے پھٹ پڑے۔ مسند امام احمد مستدرک حاکم وغیرہ میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب شیطان مردود ٹھہرایاجاکر آسمان سے اتاراجانے لگا تو اس نے قسم کھاکر اللہ کے روبرویہ بات کہی کہ جب تک ہی آدم کے دم میں دم ہے میں ہر وقت ہر طرح کے بہکانے میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھاکر اس مردود سے فرمایا کہ تیرے بہکانے گناہ کرکے جب تک وہ خالص دل سے توبہ استغفار کریں گے میں بھی ان کے گناہوں کے بخش دینے میں کبھی کوتاہی نہ کروں گا۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے، غرض شیطان کی دشمنی تو ایسی پکی ہے کہ وہ اس دشمنی پر خدا کے روبرو حلف اٹھاچکا ہے ایسے پکے دشمن کے پھندے میں پھنس کر باقتضائے بشریت آدمی سے جب کوئی گناہ ہوجائے تو اس مرض کی دوا سے جس کا ذکر اس حدیث میں ہے آدمی کو ہرگز غافل نہیں رہنا چاہیے ، تاکہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرتے کرتے دل پر اس کے زنگ لگ جانے کی نوبت نہ آجائے جس کا ذکر ویل المطففین میں آتا ہے ، جس زنگ سے دل بالکل مرجاتا ہے ، اور بغیر موت کے آنکھوں کے سامنے آجانے کے ایسے مردے دل آدمیوں کو توبہ کی توفیق ہرگز نہیں ہوتی، اور یہ تو سورة نساء میں گذرچکا ہے کہ ایسی ناامیدی کے وقت کی توبہ بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ہوتی۔
Ayah 67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

بیشک1 جو لوگ اپنے پروردگار سے بےدیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔

(ف 1) اوپر دوزخیوں کے گروہ کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں جنتی گروہ کی نشانی کا ذکر فرمایا ہے کہ اگرچہ شیطان جس طرح بد لوگوں کو بہکاتا ہے اسی طرح نیک لوگوں کو بھی بہکاتا ہے اور جس طرح بدلوگوں نے دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے نہیں دیکھا، اسی طرح نیک لوگوں نے بھی دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے نہیں دیکھا، لیکن وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے کلام کا پورا یقین اپنے دل میں رکھتے ہیں اور بغیر آنکھوں سے دیکھنے کے ان آنکھوں سے غائب چیزوں کا خوف ان کے دل میں اس قدر ہے کہ گویا آج عذاب آخرت ان کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس واسطے وہ لوگ شیطان کے بہکانے میں کم آتے ہیں اور بدکام کا چھوڑنا، نیک کام کا کرنا، جو کچھ کرتے ہیں دنیا کے دکھلاوے کی نیت سے نہیں کرتے، بلکہ محض ثواب آخرت کی نیت سے کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ ان کی نیت پوری کرے گا اور عقبی میں بہت بڑا ثواب ان کو عنایت فرمائے گا۔
Ayahs 67:13–14

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور2 تم لوگ اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے (اس کو سب خبر ہے) وہ تو دلوں تک کی باتوں کو جانتا ہے ۔

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

کیا وہ (اپنی مخلوق کے احوال کو) نہ جانے گا ؟ جس نے پیدا کیا ہے ، اور وہی ہے ہر باریکی دیکھنے والا خبردار ہے ۔

علم الٰہی ۔ (ف 1) شان نزول : مشرکین اسلام کی اور نبی ﷺ کی اور مسلمانوں کی مذمت کرتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ چپکے چپکے باتیں کرو، ایسانہ ہو کہ محمد ﷺ کا خدا ہماری باتیں سن پائے ، اسی پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو دل کا بھید تک معلوم ہے اس سے کوئی بات کس طرح چھپی رہ سکتی ہے۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی ہے1 جس نے زمین کو تمہارے لیے پست کردیا تاکہ تم اس کے رستوں میں چلو (پھر) اور اللہ کی روزی میں سے (جو تمہارے لیے اس نے پیدا کی ہے ) کھاؤ، اور اسی کی طرف اٹھنا ہے ۔

(ف 1) یعنی زمین کو تمہارے سامنے کیساپست و ذلیل اور مسخر ومنقاد کردیا کہ جو چاہو اس میں تصرف کرو، تو چاہیے کہ اس پر اور اس کے پہاڑوں پرچلو پھرو، اور روزی کماؤ، مگر اتنا یاد رکھو کہ جس نے روزی دی ہے اسی کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم2 اس سے بےخوف ہوگئے کہ جو آسمان میں ہے کہ تم کو زمین میں دھنسا دے پس ناگہاں زمین تھرتھرا نے لگے۔

(ف 2) پہلے انعامات یاد دلائے تھے اب شان قہر وانتقام یاد دلا کر ڈرانا مقصود ہے یعنی زمین بیشک تمہارے لیے مسخر کردی گئی مگر یاد رہے اس پر حکومت اسی آسمان والے کی ہے ، وہ اگر چاہے تو تم کو زمین میں دھنسا دے اس وقت زمین بھونچال سے لرزنے لگے اور تم اس کے اندر اترتے چلے جاؤ، لہذا آدمی کو جائز نہیں کہ اس مالک ومختار سے نڈر ہوکر شرارتیں شروع کردے، اور اس کے ڈھیل دینے پر مغرور ہوجائے۔
Ayah 67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس3 سے بےخوف ہوگئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر (مثل قوم لوط کے) پتھر برسا دے، پس4 (عذاب دیکھ کر) جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا ؟

(ف 3) یعنی بیشک زمین پرچلو پھرو اور روزی کماؤ، لیکن خدا کو نہ بھولو، ورنہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر ایک سخت آندھی بھیج دے یا پتھروں کامینہ برسا دے پھر تم کیا کرو گے ساری دوڑ دھوپ یوں ہی رکھی رہ جائے گی۔ (ف 4) یعنی جس عذاب سے ڈرایا جاتا تھا وہ کیسا تباہ کن ہولناک ہے۔
Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور1 بیشک ان سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں انہوں نے (بھی) جھٹلایا تھا تو (دیکھو ان پر) میری سزا کیسی ہوئی۔

(ف 1) یعنی عاد وثمود وغیرہ کے ساتھ جو معاملہ ہوچکا ہے اس سے عبرت پکڑو دیکھو ان کی حرکات پر ہم نے انکار کیا تھا تو وہ انکار کیسے عذاب کی صورت میں ظاہر ہو کررہا۔
Ayahs 67:19–21

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا ان2 لوگوں نے اپنے اوپر پرندے نہ دیکھے (ہوا میں اڑتے وقت) پر کھولتے اور کبھی سمیٹتے ہیں جن کو (گرنے سے) اللہ کے سوا کوئی نہیں تھامتا۔ بیشک وہ ہر چیز کو دیکھتا ہے3 ۔

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا وہ کون سا تمہارا لشکر ہے جو خدا کے مقابل میں تمہاری مدد کرے ؟ (اگر وہ تمہیں عذاب کرنا چاہے) کافر تو سراسر دھوکے میں ہیں (کہ ان پر عذاب نازل نہ ہوگا) ۔

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے جو تم کو روزی دے، اگر اللہ اپنی روزی روک لے (تو اس کے سوا کوئی روزی دینے والا نہیں) بلکہ (اصل یہ ہے کہ ) کافر سرکشی اور نفرت میں ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں (یعنی حق کے قریب نہیں ہوتے) ۔

پرندے قدرت الٰہیہ کانمونہ۔ (ف 2) پہلے آسمان و زمین کا ذکر ہوا تھا یہاں درمیانی چیز کا ذکر ہے یعنی خدا کی قدرت دیکھو، پرندے زمین وآسمان کے درمیان کبھی پرکھول کر اور کبھی بازوسمیٹے ہوئے کس طرح اڑتے رہتے ہیں اور باوجود جسم ثقیل مائل الی المرکز ہونے کے نیچے نہیں گرپڑتے، نہ زمین کی قوت جاذبہ اس ذرا سے پرندے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے بتلاؤ رحمان کی سوا کس کا ہاتھ ہے جس نے انہیں فضا میں تھام رکھا ہے بیشک رحمان نے اپنی رحمت و حکمت سے انکی ساخت ایسی بنائی اور ان میں وہ قوت رکھی جس سے وہ بےتکلف ہوا میں گھنٹوں ٹھہرسکیں۔ وہ ہی ہر چیز کی استعداد کو جانتا ہے اور تمام مخلوق کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے شائد پرندوں کی مثال بیان کرنے سے یہاں اس طرف بھی اشارہ ہو کہ اللہ آسمان سے عذاب بھیجنے قادر ہے اور کفار اپنے کفروشرارت سے اس کے مستحق بھی ہیں لیکن جس طرح رحمان کی رحمت نے پرندوں کو ہوا میں روک رکھا ہے عذاب بھی اس کی رحمت سے رکا ہوا ہے۔ قدرت کی نشانیاں۔ (ف 3) مشرکین کے دلوں میں یہ بات جو بسی ہوئی ہے کہ وقت پڑنے پر ان کے بت کچھ ان کی مدد کریں گے منکر سخت دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے باطل معبودوں اور فرضی دیوتاؤں کی فوج ان کو اللہ کے عذاب اور آنے والی آفت سے بچالے گی خوب سمجھ لو کہ جس خالق کی یہ ظاہر قدرتین تمہیں نظر آتی ہیں اس اللہ کے سوا عذاب الٰہی سے کوئی نہیں بچالی گی خوب سمجھ لو کہ جس خالق کی یہ ظاہر قدرتیں تمہیں نظر آتی ہیں اس اللہ کے سوا عذاب الٰہی سے کوئی نہیں بچاسکتا پھر قحط کے عذاب کی مثال دیکھ کر سمجھایا کہ اگر ایک برس آسمان سے مینہ نہ برسے تو بھلاسوا اللہ کے کسی بت میں قدرت ہے کہ اس مصیبت کو ٹال سکے، غرض اللہ اگر روزی کے سامان بند کرلے تو کسی کی طاقت نہیں تم پر ورزی کا دروازہ کھول دے ۔ اس قحط کے ذکر میں یہ بھی فرمایا کہ اتنی بری تنبیہ کا اثر جوان لوگوں پر کچھ نہیں ہوا، اس کا سبب یہی ہے کہ اپنی شرارت سے یہ لوگ قرآن کی نصیحت کے سننے سے بدکتے ہیں اور بدکنے کے سبب سے وہ شرارت ان کے دلون میں گھس گئی ہے۔
Ayahs 67:22–27

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا وہ1 جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو کھڑا ہوکر سیدھے رستے پر چلتا ہے ۔

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

(اے محبوب) تم فرماؤ : وہی (اللہ) ہے جس نے تم کو پیدا کیا ہے اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں دل بنائے ہیں (مگر اس پر بھی) تم بہت کم شکر کرتے ہو۔

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور تم اسی کی طرف (قیامت کے دن) اٹھائے جاؤ گے۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور کافر (جب قیامت کا ذکر سنتے ہیں تو مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو۔

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

(تو بتاؤ) تم فرماؤ کہ یہ علم تو خدا کے پاس ہے میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں۔

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پھر جب اس وعدے کو پاس آتا ہوا دیکھیں گے تو (اس وقت مارے دہشت و غم کے) کافروں کے منہ بگڑ جاویں گے اور (ان سے) کہا جاوے گا : یہی ہے وہ (عذاب) جس کو تم (ہمارے رسول سے) مانگتے تھے ۔

(ف 1) قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ مشرک لوگ اس بات کو سمجھیں کہ جب نعمتیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں کسی کا اس میں دخل نہیں ہے اور کوئی مصیبت آن کو ان نعمتوں کو کچھ زوال پہنچ جائے تو اس زوال کی مصیبت کو بھی سو اللہ تعالیٰ کے اور کوئی دفع نہیں کرسکتا، تو پھر یہ کافر لوگ اندھاراستہ چل رہے ہیں کہ بتوں کو پوجتے اور اس کا شریک کرتے ہیں، اسی پر یہ مثال فرمائی ہے کہ خدا کو معبود ٹھہرانے والے لوگ اپنے پیروں سے سیدھی چال چلتے ہیں اور کافر لوگ ایسے جیسے کوئی پیروں سے چلنا چھوڑ کر منہ کے بل چلنے لگے۔ پھر فرمایا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے اس نے تو نصیحت کے سننے کے لیے کافی قدرت کے نمونے مثلا دیکھنے کے لیے آنکھیں ، ہر بات پر غور کرنے کے لیے ان کے دل میں عقل سب کچھ دیا ہے اس پر یہ اندھا راستہ چلیں گے تو قیامت کے دن اس اوندھی چال کی سزا بھی ان لوگوں کو اسی طرح کی دی جائے گی کہ جب آحشر کے دن یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو منہ کے بل اٹھیں گے جس کا ذکر قرآن شریف اور صحیحین وغیرہ کی حدیث میں اوپرگزرچکا ہے۔ ” قل ھوالذی ذراکم فی الارض والیہ تحشرون “ کی تفسیر وہی ہے جو اوپر گزری کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کھیل کے طور پر بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ انسان کے پیدا کرنے کا نتیجہ وہی ہے جو کئی جگہ قرآن میں بیان کردیا گیا ہے کہ چند روزہ زیست میں انسان سے جو نیک وبد ہوسکے وہ کرلیوے اور دنیا سے اٹھ جانے کے بعد اس کے سب دنیا کے ختم کے بعد اس کو پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس کے عمر بھر کے نیک وبد کی جزاوسزا ہوگی تاکہ انسان کا پیدا کرنا رائیگاں نہ ہو، اس نصیحت کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ بھی فرمایا کہ اب تو یہ کافر لوگ سرکشی سے یہ کہتے ہیں کہ قرآن کی نصیحت نہ ماننے پر جس عذاب سے ڈرایا جاتا ہے۔ آخر وہ عذاب کب آئے گا فرمایا کہ ان کافروں سے اس کے جواب میں کہیے کہ عذاب کے آنے کا وقت تو اللہ کو معلوم ہے لیکن اتنایاد رہے کہ جب عذاب کا وقت آئے گا توسرکشی سب نکل جائے گی اور بڑے بڑے سرکشوں کی صورت مارے دہشت وغم کے پہچانی نہ جائے گی، اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی والے دن اور مکہ کے قحط کے وقت دنیا میں تو یہ حال گذرچکا ، عقبی کے عذاب کا وقت مرنے کے بعد آئے گا اور اس وقت قائل کرنے کے لیے ان سے کہہ دیاجائے گا کہ جس عذاب کی دنیا میں تم جلدی کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔
Ayahs 67:28–30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

تم (ان کافروں سے1) فرماؤ : بھلا دیکھو تو اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو (تمہاری تمنا کے موافق ہلاک کردے) یا (موافق ہماری امید اور وعدے کے) ہم پر رحمت فرمائے۔ تو کافروں کو (آخرت کے) دردناک عذاب سے کون بچا لے گا ؟

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

تم فرماؤ : وہی اللہ ہے جس پر ہم ایمان لائے اور اسی پر ہم نے بھروسہ کیا پس عقنریب جان لو گے کہ کون صریح گمراہی میں ہے ۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

تم فرماؤ : بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی جو (کنوؤں میں ہے) نیچے کو (اتر کر) غائب ہوجائے پس وہ کون ہے جو تمہارے پاس بہتا ہوا صاف پانی لا دے (یعنی کنوؤں کی سوت کو جاری کردے) ۔

(ف 1) سورة والطور میں گذرچکا ہے کہ مکہ کے مشرک لوگ نبی ﷺ اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی موت کی آرزو کیا کرتے تھے اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی اس آرزو کا جواب دیدیا، یہاں بھی ان مشرکوں کے عذاب کی جلدی پر فرمایا اے محبوب ان مشرکوں سے کہہ دو کہ ہم تو اللہ کے حکم کے تابعدار ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے تمہاری یہ آرزو اگر برآئی کہ ہم کو موت آگئی تو اللہ تعالیٰ اپنی فرمانبرداری کا اجر اپنے وعدہ کے موافق ضرورہ میں دے گا تم اپنی کہو کہ تمہاری نافرمانی کی سزا کے طور پر دنیا یا آخرت میں تم پر کوئی عذاب الٰہی آگیا تو اس عذاب سے تم کو کون چھڑائیگا۔ جن بتوں پر تمہارا بھروسہ ہے ان کا حال قحط کے وقت تم نے دیکھ لیا ہے دنیا میں تو ان بتوں نے کچھ بھی تمہاری مدد نہیں کی، عقبی میں یہ تم سے ایسی بےزاری ظاہر کریں گے جس کو دیکھ کر تم کو نہایت درجہ پچھتانا اور یہ کہنا پڑے گا کہ کیا اچھا ہوتا اگر دنیا میں ایک دفعہ اور ہمارا جانا ہوتاتا کہ ہم بھی ان سے اسی طرح بےزاری ظاہر کرتے جس طرح کی بےزاری آج انہوں نے ہم سے ظاہر کی ہے پھر قحط کی سی مصیبت یاد دلانیا وربتوں کی بےکسی جتانے ک لیے فرمایا جن کنوؤں کا پانی تم لوگ پیتے ہو وہ صاحب قدرت خدا جس نے یہ موتی کی طرح صاف شفاف پانی مہیا کردیا اگر فرض کروچشموں اور کنوؤں کا پانی خشک ہوکرزمین کے اندر اترجائے تو کیا تمہارے جھوٹے معبودوں میں اتنا دم ہے کہ وہ تمہارے پینے کے میٹھے پانی کا انتظام کردیں گے جو تمہاری زندگی اور بقاء کے لیے کافی ہو۔ خدائی پکڑ کی ایک ادنی جھلک۔ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ یہ آیتیں ایک ظالم بادشاہ کے روبروپڑھی گئیں تو اس نے کہا اگر خدا کنوؤں کا پانی خشک کردے گا تو ہم کدال پھاؤرے سے زمین کھود کر پھر پانی نکالیں گے یہ بات اس ظالم کی زبان پر آئی تھی کہ فورا اس کی آنکھوں کا پانی بالکل خشک ہوگیا اور وہ ظالم اندھا ہوکربیٹھ گیا۔