68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsمظہر القرآن

Ayah 68:1

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

قسم1 ہے قلم اعلی کی (جو نوری ہے) اور اس کی کہ (اعمال بنی آدم کے نگہبان) فرشتے لکھتے ہیں۔

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے قلم کی قسم ذکرفرمائی اس قلم سے مراد یاتولکھنے والوں کے قلم ہیں جن سے دینی دنیوی مصالح وفوائد وابستہ ہیں یاقلم اعلی مراد ہے جو نوری قلم ہے اور اس کا فاصلہ زمین وآسمان کے برابر ہے اس نے بحکم الٰہی لوح محفوظ پر قیامت تک ہونے والے تمام امور لکھ دیے ہیں۔
Ayah 68:2

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

(اے محبوب2) تم اپنے پروردگار کے فضل سے مجنون نہیں (جیسا کہ کافر کہتے ہیں) ۔

حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کا جواب۔ (ف 1) مشرکین مکہ حضور کو العیاذ بااللہ مجنون کہتے تھے کہ کوئی شیطان کا اثر ہے جو یک بیک تمام قوم سے الگ ہوکرایسی باتیں کرنے لگے ہیں جن کو کوئی نہیں مان سکتا، تو اللہ نے اس خیال باطل کی تردید اور آپ کی تسلی فرمائی کہ اس کالطف وکرم تمہارے شامل حال ہے اس نے تم پر انعام و احسان فرمائے نبوت اور حکمت عطا کی، فصاحت تامہ ، عقل کامل، پاکیزہ خصائل ، پسندیدہ اخلاق عطا فرمائے ، مخلوق کے لیے جس قدرکمالات امکان میں ہیں سب علی وجہ الکمال عطا فرمائے ہر عیب سے ذات عالی صفات کو پاک رکھا، جس پر اللہ تعالیٰ کے ایسے ایسے فضل وانعام ہوں جن کو ہر آنکھ والامشاہدہ کررہا ہے کیا اسے مجنون کہنا خود اپنی مجنون گی کی دلیل نہیں۔ آج آپ کو العیاذ باللہ مجنون ک لقب سے یاد کرنا بالکل وہی زنگ رکھتا ہے جس رنگ میں دنیا کے تمام جلیل القدر مصلحین کو ہر زمانے کے شریروں سے اور بےعقلوں نے یاد کیا ہے لیکن جس طرح تاریخ نے ان مصلحین کے اعلی کارناموں پر بقاء دوام کی مہر ثبت کی اور ان مجنون کہنے والوں کا نام ونشان باقی نہ چھوڑا۔ قریب ہے کہ قلم اور اس کے ذریعہ سے لکھی ہوئی تحریریں آپ کے ذکر اور آپ کے بےمثال کارناموں اور علوم ومعارف کو ہمیشہ کے لیے روشن رکھیں گی اور آپ کو مجنو بتلانے والوں کا وجود صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ کررہے گا، ایک وقت آئے گا جب ساری دنیا آپ کی حکمت و دانائی کی داددے گی اور آپ کے کامل ترین انسان ہونے کی بطور ایک اجماعی عقیدہ کے تسلیم کرے گی بھلا خداوندوقدوس جس کی فضیلت و برتری کو ازل لازوال میں اپنے قلم سے نور سے لوح محفوظ کی تختی پر نقش کرچکا کسی کی طاقت ہے کہ محض مجنون ومفتون کی پھبتیاں کس کر اسکے ایک شوشہ کو مٹاسکے، جو ایساخیال رکھتا ہے کہ پرلے درجہ کا مجنون یا جاہل اور کاذب ہے۔
Ayah 68:3

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور1 بیشک تمہارے لئے بیشمار اجر ہے ۔

(ف 1) اے محبوب ﷺ تم کو تو اس تبلیغ احکام و اشاعت اسلام کے عوض میں اتنا ثواب اعلی جنت میں ملے گا جو ہرگز ممنون یعنی کبھی منقطع نہ ہوگا تم پر احسان نہ جتایاجائے گا۔
Ayahs 68:4–5

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور2 بیشک تم اعلی درجہ کے خلق پر ہو۔

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

پس عنقریب تم (ان کافروں کی حالت) دیکھو گے ۔

(ف 2) یعنی اللہ تعالیٰ نے جن اعلی اخلاق و کمالات پر آپ کو پیدا کیا ہے کیا دیوانوں میں ان اخلاق و کمالات کا تصور کیا جاسکتا ہے ایک مجنون کے اقوال وافعال میں قطعا نظم وترتیب نہیں ہوتی نہ اس کا کلام اس کے کاموں پر منطبق ہوتا ہے برخلاف اس کے آپ کی زبان قرآن ہے اور آپ کے اعمال واخلاق قرآن کی خاموش تفاسیر۔ قرآن جس نیکی جس خوبی اور بھلاء کی طرف دعوت دیتا ہے وہ آپ میں فطرت موجود ہیں جس بدی وزشتی سے روکتا ہے آپ طبعا اس سے نفوذ بےزار ہیں ۔ پیدائشی طور پر آپ کی ساخت اور ترتیب اسیی وواقع ہوئی ہے کہ آپ کی کوئی حرکت اور کوئی چیز حد تناسب اعتدال سے ایک انچ ادھر ادھر ہٹنے نہیں پاتی۔ آپ کا حسن اخلاق اجازت نہ دیتا تھا کہ جاہلوں اور کینوں کے طعن وتشنیع پر کان دھریں جس شخص کا خلق اس قدر عظیم اور مطمح ہوبھلاوہ کس طرح مجنون کے مجنون کہنے پر کیا التفات کرے گا آپ تو اپنے مجنون کہنے والوں کی نیک خواہی اور دردمندی میں اپنے کو گھلائے ڈالتے ہو۔
Ayah 68:6

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

اور3 یہ (بھی تمہارا مرتبہ) دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون مجنون تھا۔ ؟

(ف 3) اے محبوب یہ حال کہ کون دیوانہ ہے حق سے بیگانہ ہے عنقریب کھلاجاتا ہے اب عذاب اترتا ہے تم اور یہ سب کے سب جان لیں گے اور صاف ظاہر ہوگا کہ دونوں میں سے کون ہوشیار اور عاقبت اندیش تھا اور کون احمق مجنون تھا۔
Ayah 68:7

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

بیشک1 تمہارا پروردگار خوب ہے ، جو اس کی راہ سے بہکے اور وہ راہ پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے ۔

(ف 1) یعنی پوری طرح علم تو اللہ ہی کو ہے کہ کون لوگ راہ پر آنے والے ہیں اور کون بھٹکنے والے لیکن نتائج جب سامنے آجائیں گے تو سب کو نظر آجائے گا کہ کون کامیابی کی منزل پر پہنچا اور کون شیطان کی راہ زنی کی بدولت ناکام ونامراد رہا۔
Ayahs 68:8–9

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

بس2 تم جھٹلانے والوں کا کہنا نہ ماننا۔

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

وہ اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم (تبلیغ میں) نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑجائیں۔

مصلحت پرستی کی ممانعت۔ (ف 2) شان نزول : کفار مکہ حضور ﷺ سے کہتے تھیے کہ آپ بت پرستی کی نسبت اپناسخت رویہ ترک کردیں اور ہمارے معبودوں کی تردید نہ کریں ہم بھی آپ کے خدا کی تعظیم کریں گے اور آپ کے طورطریق اور مسلک ومشرب سے معترض نہ ہوں گے ممکن تھا کہ ایک مصلح اعظم کے دل میں جو خلق عظیم پر پیدا کیا گیا ہے نیک نیتی سے یہ خیال آجائے کہ تھوری سی نرمی اختیار کرنے اور ڈھیل دینے کام بنتا ہے تو برائے چندے نرم روش اختیار کرنے میں کیا مضائقہ ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمادیا کہ آپ ان مکذبین کا کہنا نہ مانئے ان کی غرض محض آپ کو نرم کرنا ہے ایمان لانا، اور صداقت کو قبول کرنا مقصود نہیں، راہ پر آنے والے اور نہ آنے والے سب اللہ کے علم محیط میں طے شدہ ہیں ۔ لہذا آپ دعوت وتبلیغ کے معاملہ میں رورعایت نہ کریں جس کو راہ پر آنا ہوگا آئے گا اور جو محروم ازلی ہے وہ کسی لحاظ ومروت سے ماننے والا نہیں۔
Ayah 68:10

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور3 ہر ایسے شخص کا کہنا نہ مانو جو بہت (جھوٹی) قسمیں کھانے والا ہے ۔

(ف 3) یعنی جس کے دل میں خدا کے نام کی عظمت نہیں جھوٹی قسم کھالینا ایک معمولی بات سمجھتا ہے اور چونکہ لوگ اس کی باتوں پر اعتبار نہیں کرتے اس لیے یقین دلانے کے لیے بارہا قسمیں کھاکر بےقدر اور ذلیل ہوتا ہے۔
Ayahs 68:11–13

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

ذلیل ہے ، طعنے دینے والا ہے ،4 چغلخور ہے (لوگوں میں فساد ڈالنے والا ہے) ۔

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

نیکی سے باز رہنے والا ہے ، حد سے بڑھنے والا ہے ، گنہگار ہے۔

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

سخت مزاج ہے، سب میں بڑھ کر یہ کہ اس کی اصل میں خطا۔

(ف 4) یعنی ان خصلتوں کے ساتھ بدنام اور سوائے عالم بھی ہے ، حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ سب کافر کے وصف ہیں آدمی اپنے اندر دیکھے اور یہ خصلتیں چھوڑے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو ولید بن مغیرہ نے اپنی ماں سے جاکرکہا کہ محمد ﷺ نے میرے حق میں دس باتیں فرمائیں ہیں نوکوتو میں جانتا ہوں کہ مجھ میں موجود ہیں لیکن دسویں بات اصل میں خطا ہونے کی اس کا حال مجھے معلوم نہیں یا تو مجھے سچ سچ بتادے ورنہ میں تیری گردن ماردوں گا، اس پر اس کی ماں نے کہا تیراباپ نامرد تھا مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ جائے تو اس کا مال غیر لے جائیں گے تو میں نے چرواہے کو بلالیا تو اس سے ہے۔ فائدہ : ولیدنے نبی کریم ﷺ کی شان میں ایک جھوٹا کلمہ کہا تھا، مجنون، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اس کے دس واقعی عیوب ظاہر فرمادیے اس سے نبی کی فضیلت اور شان محبوبیت معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 68:14

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس لیے کہ وہ1 مال اور اولاد رکھتا ہے ۔

(ف 1) یعنی یہ باتیں اسی گھمنڈ اور غرور میں کرتا ہے کہ مال اور اولاد والا ہے ، نوہزار مثقال چاندی اس کا مال محفوظ تھا دس لڑکے تھے۔
Ayah 68:15

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب2 ہماری آیتیں (یعنی قرآن) اس پر پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ پہلوں کی کہانیاں ہیں (یعنی جھوٹ ہے) ۔

(ف 2) جب اس کو قرآن کی آیتیں سنائی جاتیں اور امر ونواہی سنتا ہے تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے بنائے ہوئے قصے ہیں جھوٹی باتیں اگلے لوگوں کی چلی آتی ہیں کہ قیامت جنت دوزخ ہوگی حساب کتاب لیاجائے گا اور وغیرہ وغیرہ کچھ بھی نہیں ، اس کا یہ کہنا اس کا نتیجہ ہے کہ ہم نے اس کو مال واولاد دی۔
Ayah 68:16

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

ہم عنقریب3 اس کی ناک پر داخ لگاویں گے۔

(ف 3) یعنی اس کا چہرہ بگاڑ دیں گے اور اس کی بدباطنی کی علامت اس کے چہرہ پر نمودار کردیں گے تاکہ اس کے لیے سبب عار ہو، آخرت میں تو یہ سب کچھ ہوگا ہی مگر دنیا میں یہ خبر پوری ہوکر رہی اور اس کی ناک دغیلی ہوگئی کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی والے دن ولید بن مغیرہ کی ناک کٹ گئی۔
Ayahs 68:17–33

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

بیشک4 ہم نے انہیں (قحط اور بھوک سے) آزمایا جیسا کہ ہم نے اس باغ والوں کو آزمایا تھا۔ جبکہ ان لوگوں نے قسم کھائی کہ اس باغ کے پھل ضرور صبح ہوتے ہی توڑ لیں گے (تاکہ مسکینوں کو خبر نہ ہو) ۔

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انشاء اللہ نہیں کہا۔

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

پس اس باغ پر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک (گرم ہوا کی) بلا گھر آئی اور وہ اپنے گھروں میں) سوتے تھے۔

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

پھر صبح کو وہ باغ کٹی ہوئی کھیتی کے مانند ہوگیا۔

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

پھر انہوں نے صبح ہوتے آپس میں ایک دوسرے کو پکارا۔

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

اگر تم کو پھل توڑنے ہیں تو سویرے ہی اپنے باغ کو چلو۔

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

پس چلے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے ۔

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ (دیکھو) ہرگز آج کوئی مسکین تمہارے باغ میں آنے نہ پائے۔

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور سویرے (اپنے زعم میں) بخل کی نیت پر قادر سمجھ کر پہنچے۔

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

پھر جب اس باغ کو دیکھا تو بولے : بیشک ہم راستہ بھول گئے ۔

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

(غور سے دیکھ کر کہا : نہیں جگہ تو وہی ہے) بلکہ ہم محروم کردئے گئے۔

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

پھر ان میں جو سب سے اچھا شخص تھا، بولا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے۔

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

تب بولے : ہم اپنے پروردگار کو پاکی سے یاد کرتے ہیں بیشک ہم ظالم تھے (جو مسکینوں کو نہ دیا) ۔

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر ایک دوسرے کو مخاطب بنا کر ملامت کرنے لگے۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

(پھر سب متفق ہوکر) کہنے لگے : ہائے ہماری خرابی ! بیشک ہم سرکش تھے۔

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

(سب مل کر توبہ کرلو) امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہم کو اس سے اچھا باغ اس کے بدلے میں دے، بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف رغبت لاتے ہیں۔

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

(دیکھو اے کفار مکہ ! دنیاوی) عذاب ایسا ہوتا ہے اور بیشک آخرت کا عذاب بہت بڑا ہے ۔ کاش یہ (عذاب آخرت کو) جانتے (تو ایمان لے آتے۔

(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی طرح آئی تھی جیسے باغ والوں پر ان کے باغ کے اجڑنے کے وقت آئی تھی۔ غرباء اور مستحقین کی امداد نہ کرنے کا انجام اور توبہ کی فضیلت۔ اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ یمن کے ملک میں ایک کا ایک باغ تھا وہ شخص نیک نیت تھا باغ کے میوے کثرت سے فقراء کو دیتا تھا جب باغ میں جا تو فقراء کو بلالیتا، تمام گرپڑے میوے فقراء لے لیتے اور باغ میں بستر بچھادیے جاتے جب میوتے توڑ جاتے تو میوے بستروں پر گرتے وہ بھی فقراء کو دیدیے جاتے ، اور جو خالص اپنا حصہ ہوتا اس میں دسواں حصہ فقراء کودے دیتا۔ اسی طرح کھیتی کاٹنے کے وقت بھی اس نے فقراء کے حقوق بہت زیادہ مقرر کیے تھے اس کی وفات کے بعد اس کے تین بیٹے وارث ہوئے انہوں نے باہم مشورہ کیا کہک مال قلیل ہے کنبہ بہت ہے اگر والد کی طرح ہم بھی خیرات جاری رکھیں گے تو تنگ دست ہوجائیں گے آپس میں مل کر قسمیں کھائیں کہ صبح سویرے لوگوں کے اٹھنے سے پہلے باغ چل کر میوے توڑ کر گھر لے آئیں فقراء جائیں تو وہاں کچھ نہ پائیں گے اور اپنی اس تدبیر پر ایسا یقین جمایا کہ انشاء اللہ بھی نہ کہا انہوں نے اپنی ناشکری کا یہ پھل پایا کہ وہاں رات کو اللہ کے حکم آگ لگ گئی اور ساراباغ جل کر خاک سیاہ ہوگیا۔ جب یہ لوگ باغ تک پہنچے تو اس کی حالت دیکھ کر ان کو خیال ہوا کہ شاید اندھیرے کی وجہ سے ہم راستہ بھول گئے اور کہیں اور آگئے ، پھر جب جگہ پہچان گئے تو اپنی ناشکری کی نیت پر بڑا افسوس کیا، منجھلابھائی ان میں زیادہ ہوشیار تھا اس نے مشورہ کے وقت متنبہ کیا تھا کہ اللہ کو مت بھولویہ سب اسی کا انعام سمجھو، محتاج کی خدمت سے دریغ نہ کرو، جب کسی نے اس کی بات پر کان نہ دھراچپ رہا اور انہی کا شریک حال ہوگیا۔ اب یہ تباہی دیکھ کر اس نے وہ پہلی بات یاد دلائی اور اب اپنی تقصیر کا اعتراف کرکے رب کی طرف رجوع ہوئے اور آخر میں سب مل کر کہنے لگے کہ واقعی ہماری سب کی زیادتی تھی کہ ہم نے فقیروں اور محتاجوں کا حق مارنا چاہا، اور حرص وطمع میں آکر اصل بھی کھوسبیٹھے یہ جو کچھ کھوبیٹھے یہ جو کچھ خرا بھی آئی اس مین ہم ہی قصوروار ہیں مگر اب بھی ہم اپنے رب سے ناامید نہیں کیا عجیب ہے وہ اپنی رحمت سے پہلے باغ سے بہتر باغ عطا فرمائے ، ان لوگوں نے صدق واخلاص سے توبہ کی تو اللہ نے انہیں اس کے عوض اس سے بہتر باغ عطافرمائے اورس میں کثرت پیداوار اور لطافت وآب ہواکایہ عالم تھا کہ اس کے انگوروں کا ایک خوشہ گدھے پر بار کیا جاتا تھا آخر آیت میں قریش کو ہوشیار کیا کہ دیکھو خدا کی نافرمانی اور اس کی نعمتوں کی ناشکری سے دنیا میں بھی خدا کی آفتیں یوں آیا کرتی ہیں اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ چند روزہ دنیا ہی کیا اور اس کی چلتی پھرتی آفت ہی کیا، یہ تو دنیا کے عذاب کا ایک چھوٹا سانمونہ ہے جسے کوئی ٹال نہ سکا۔ آخرت کی آفت بڑی آفت ہے جس کی مدت کا کچھ ٹھکانہ نہیں۔