61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 61:1–9

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، سب اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ اور وہ غالب ہیں ، حکمت والے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک یہ بات بہت ناپسندیدہ ہے کہ تم ایسی بات کہ جو تم کرو نہیں

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

بیشک اللہ ایسے لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اس کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح جم کر لڑتے ہیں

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم ! تم مجھے کیوں دکھ پہنچاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا پیغمبر ہوں ۔ تو جب وہ لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیے۔ اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتے

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم (علیہا السلام) نے فرمایا ، اے بنی اسرائیل ! بیشک میں تمہارے پاس اللہ کا پیغمبر ہوں۔ مجھ سے پہلے جو تورات آچکی ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ اور ایک پیغمبر کی بسارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئیں گے۔ ان کا نام احمد ﷺ ہوگا۔ پھر جب وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ لوگ کہنے لگے یہ تو صاف جادو ہے

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور وہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہو۔ اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتے

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور (اسلام) کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں۔ حالانکہ اللہ اپنے نور کو پورا فرما کر رہیں گے خواہ کافروں کو یہ بات کتنی ہی ناپسند ہو

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے اور خواہ مشرک کتنے ہی ناخوش ہوں

آیات 1 تا 9 اسرار ومعارف۔ آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے قال سے بھی اور حال سے بھی اور اللہ غالب ہے اور حکیم ہے سو اے ایمان والو جس کام کے کرنے کا ارادہ نہ ہو اس کے کرنے کا اعلان بھی مت کرو کہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ بات کہوجوتم کرنا نہیں چاہتے۔ گناہ کبیرہ اور تبلیغ۔ جس طرح آج کل کے لیڈر بہت بڑے دعوے نفاذ اسلام کے یاروٹی کپڑے مکان کے کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ان کا ارادہ قلبی ایسا کرنے کا نہیں ہوتا یہ گناہ کبیرہ ہے رہی تبلیغ کہ خود تو عمل میں کمزور ہے اور دوسروں کو دعوت دے رہا ہے تو دعوی اور دعوت میں فرق ہے مبلغ کو چاہیے کہ خود بھی عمل کرے لیکن اگر کمزوری سے نہ کرسکے تو نیکی طرف دعوت دینے اور بلانے میں کوتاہی نہ کرے یہ ایسا عمل ہے جواز خود توفیق عمل عطا کردیتا ہے۔ اور اللہ کی رضا تو ان لوگوں کے لیے جو اس کی راہ میں جہاد اور قتال کرتے ہیں بزور بازو ظالم کو مٹاتے ہیں اور ایسے جم کر لڑتے ہیں گویا سیسہ پلائی ہوئی دیواریں ہوں اور ایسے نہ ہوں جیسے موسیٰ کی قوم کو جہاد کے حکم پر انکار کردیا کہ آپ لڑو اور آپ کا رب ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں تو انہوں نے فرمایا تم جانتے ہو میں اللہ کا رسول ہوں کوئی حکم اپنی طرف سے نہیں دیتا اس کے باوجود مجھے ایذا دیتے ہو یہ کس قدر زیادتی کی بات ہے۔ ایذارسول قلب سے کیفیات ختم کردیتی ہے۔ وہ باز نہ آئے تو اللہ نے دل پھیر دیے کیفیات ایمانی کم کردیں کہ اللہ ایسے بدکاروں کو جو اپنے رسول کی اطاعت نہ کرکے اس کا دل دکھانے کا سبب بنیں ہدایت نہیں دیتا۔ اور یہی حال عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہوا کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرتا ہوں کوئی انوکھی بات نہیں کہہ رہا وہی عقیدہ پیش کررہا ہوں جو مجھ سے پہلے اللہ کے رسولوں اور اللہ کی کتابوں نے کیا۔ عیسی (علیہ السلام) کی بشارت۔ بلکہ اس پر یہ زائد کہ میں اپنے سے بعد میں آنے والے اس عظیم رسول کی خوش خبری بھی دے رہا ہوں جو میرے بعد مبعوث ہوں گے اور ان کا نام نامی احمد ہوگا اور واضح دلائل ارشاد فرمائے مگر انہوں نے کہا یہ سب جادو کا اور سحر کا کرشمہ ہے کہ ان کے معجزات عجیبہ تھے مردوں کا زندہ کردینا مٹی کے پرندوں میں روح پیدا ہوجانا اس طرح کے بیشمار بیماروں کی شفا وغیرہ انہیں حاصل تھے آپ کے بارے بشارت کو انجیل کی تحریف میں اگرچہ مسخ کرنے کی بہت کوشش کی گئی مگر پھر بھی موجود ہیں اور مولانا رحمت اللہ کر انوی کی کتاب اظہارالحق جس کا ترجمہ مولانااکبرعلی صاحب اور مولانا محمد تقی عثمانی صاحب نے کراچی سے شائع کیا ہے قابل مطالعہ ہے۔ کفار کا ارادہ تو ہمیشہ یہ رہا کہ اپنی کوششوں اور پراپیگنڈے سے اللہ کا نور یعنی دین اسلام کی شمع بجھادیں لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتے کہ اللہ نے اپنے دین کی روشنی کو پورا کرنا ہے خواہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہی گزرے۔ اور اللہ وہ عظیم ذات ہے جس نے اپنے رسول یعنی حضرت محمد کو مبعوث فرمایا جن کا عظیم معجزہ ہے کہ ایسی کتاب لائے جس میں ساری انسانیت کے لیے صحیح درست اور نفع بخش نظام حیات بھی ہے اور دین حق بھی اور اس لیے لائے کہ اسے دنیا میں پھیلے ہوئے تمام نظام ہائے حیات اور مذاہب جو سب باطل ہیں پر غلبہ حاصل ہو اور انسانیت عقیدے اور عمل کی تباہی سے بچ جائے اور ایساضرور ہوگا اگرچہ مشرکین کو یہ بات بہت ناگوار گزرے۔ بعثت نبوی اور عظیم معجزہ۔ بعثت نبوی کے وقت روئے زمین پر کوئی اللہ کا نام جاننے والا نہ تھا اور ہر طرف کفر وشرک کے ساتھ ظلم کا دور دورہ تھا نیز بیشمار اقوام میں الگ الگ ادیان کے ساتھ الگ الگ نظام بھی رائج تھے جو سب ظلم پر مبنی تھے آپ نے ساری انسانیت کے لیے ایک نظام حیات دیا جو سیاست معیشت ، عدالت ، اخلاقیات تک سب پر محیط تھا جبکہ اقوام عالم میں زبانیں غذائیں ، لباس ، موسم اوقات تک مختلف تھے اور روئے زمین پر کفار ومشرکین کی بڑی بڑی حکومتیں موجود تھیں مگر اللہ کی مدد سے مسلمان صحرائے عرب سے اٹھے اور تکمیل کتاب کے ربع صدی بعد روئے زمین پر اسلام نہ صرف پہنچا دیا بلکہ معلوم دنیا کے ایک چوتھائی حصے پر عملا نافذ کردیا اور آج تک روئے زمین پر ہر جگہ ہر موسم میں اس پر عمل ہورہا ہے اگر آج کے مسلم کی کمزوری نے نظام اسلام ختم کردیا جو مسلمانوں کے ذمے فرض ہے کہ جہاد کرکے اسے رائج کریں مگر اسلامی احکام پر عمل آج بھی ویسا ہی ممکن اور آسان ہے جیسا روز اول تھا۔
Ayahs 61:10–14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

اے ایمان والو ! کیا میں تم کو ایسی تجارت بتاوں جو تم کو دردناک عذاب سے بچا لے

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

اگر تم اللہ پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاتے ہو اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہو (تو) تمہارے لئے یہی بہتر ہے اگر تم سمجھتے ہو تو

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

وہ (اللہ) تمہارے گناہ معاف فرمادیں گے اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے تابع نہریں بہتی ہیں اور عمدہ مکانوں میں جو ہمیشہ رہنے والی بہشت میں ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور ایک اور چیز جو تمہیں بہت محبوب ہے (یعنی) اللہ کی طرف سے مدد ، اور عنقریب فتح (نصیب ہوگی) اور ایمان والوں کو (اس کی) خوشخبری سنادیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ کے مددگار بن جاؤ جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم (علیہا السلام) نے حواریوں سے فرمایا تھا کہ اللہ کی طرف (بلانے میں) میرے کون مددگار ہوں گے ! حواریوں نے کہا ، ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر رہا۔ آخر ہم نے ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد دی تو وہ غالب ہوگئے

آیات 10 تا 14۔ اسرار ومعارف۔ نظام اسلام۔ اے ایمان والو تمہیں سب سے اچھی تجارت اور سب سے اعلی کاروبار کے بارے خبر کردوں جو دنیا کا نفع بھی دے اور آخرت میں دردناک عذاب سے بھی بچالے تو وہ ہے واللہ پر ایمان کہ جس طرح رسول اللہ ماننے کا حکم دیں ویسا اللہ کو مانے اور اللہ کے رسول پر ایمان جس کی دلیل ہے زندگی کے اس نظام کو مانے جس کو رسول اللہ منوائیں اور اس کے نفاذ کے لیے جان ومال سے جہاد کرے تمہارے لیے یہی کام سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان جاؤ تو ایسے مجاہدین فی سبیل اللہ سے انسانی کمزوری کے باعث اگر غلطی ہوگئی تو بھی اللہ معاف فرمائے گا اور انہیں جنت کے خوبصورت گھروں اور بینظیر باغوں میں داخل فرمائے گا جو ایک بہت بڑی کامیابی بلکہ حقیقی کامیابی ہے اور دوسری بات جو تمہاری آرزو ہے کہ کفر پر فتح نصیب ہو اور اللہ کی مدد نصیب ہو تو اسے میرے حبیب جو اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوں انہیں اللہ کی مدد اور فتح کی جو عنقریب ہوگی خوش خبری دے دیجئے۔ اے ایمان والو اللہ کے مددگار یعنی اس کے سپاہی بن جاؤ جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کوئی اللہ کے لیے میرامعاون ہوگا تو ان کے پیروکاروں میں سے کچھ نے کہا ہم ہیں اللہ کے دین کے لیے مدد کرنے والے یہ کل بارہ آدمی تھے اور دوسرے کفر میں مبتلا ہوئے کہ کسی نے آسمانوں پر اٹھائے جانے کے بعد انہیں خدا مانا اور کسی نے خدا کا بیٹا مگر یہ اگرچہ بہت کم تھے مگر اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور سب کفار کی مخالفت کے باجود پیغام حق پہنچانے میں کامیاب رہے گو بعد میں عرصہ گزرنے پر دین میں تحریف ہوگئی اور یہ تو تمام پہلے ادیان کے ساتھ ہوامگر جس طرح کفار کا یہ خیال تھا کہ ابھی سے دین عیسوی کی دعوت ختم ہوجائے وہ نہ کرسکے اور یہی مقابلہ تھا کہ قتال اس مذہب میں نہ تھا نہ جہاد کا تصور تھا۔