Ayahs 61:1–3جو کام نہیں کرتے ان کے دعوے کیوں کرتے ہو ؟
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت ہے کہ ہم چند صحابہ بیٹھے ہوئے تھے آپس میں ہم نے (اچھے) اعمال کا تذکرہ کیا اور ہم نے کہا کہ اگر ہمیں پتہ چل جاتا کہ کون ساعمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے تو ہم اس عمل کو اختیار کرلیتے اس پر اللہ جل شانہ نے ﴿سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ 1ۚ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 001 يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 002﴾ نازل فرمائی۔ (سنن الترمذی ابواب التفسیر سورة الصف)
اور معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب صحابہ نے کہا کہ اگر ہمیں معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب عمل کیا ہے تو ہم اس عمل کو اختیار کرلیتے اور ہم اپنے جان و مال خرچ کرتے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ ﴾ نازل فرمائی پھر قریب ہی غزوہ احد کا واقعہ پیش آگیا جب اس میں ابتلا ہوا تو بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت ﴿ لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 002﴾ نازل فرمائی کہ تم وہ بات کیوں کہتے ہو جسے کرتے نہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ جب شہداء بدر کا ثواب سنا تو صحابہ نے کہا کہ اگر آئندہ ہم کسی جہاد کے موقعہ پر حاضر ہوئے تو پوری قوت کے ساتھ جنگ کریں گے پھر اگلے سال جب غزوہ احد کا موقع آیا تو بھاگ کھڑے ہوئے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وہ بات کیوں کہتے ہو جسے کرتے نہیں ہو۔
روح المعانی میں ابن زید ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جو وہ مسلمانوں سے جھوٹے وعدے کیا کرتے تھے کہ ہم مدد کریں گے پھر ساتھ نہیں دیتے تھے۔
مفسر قرطبی نے ایک اور بھی قصہ لکھا ہے کہ وہ یہ کہ ایک شخص مسلمانوں کو بہت ایذا دیتا تھا۔ حضرت صہیب ؓ نے اسے قتل کردیا قتل تو کیا انہوں نے لیکن ایک آدمی نے اس عمل کو اپنی طرف منسوب کرلیا اور خدمت عالی میں جاکر عرض کیا کہ فلاں شخص کو میں نے قتل کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کے قتل کی خبر سے خوشی ہوئی اس کے بعد حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے حضرت صہیب ؓ کو توجہ دلائی کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر کیوں نہ دی کہ میں نے قتل کیا ہے دوسرے شخص نے اسے اپنی طرف منسوب کرلیا۔ (اور رسول اللہ ﷺ کو غلط خبر دیدی) اس پر صہیب ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو صحیح صورت حال بتادی۔ اس پر آیت کریمہ ﴿لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 002﴾ نازل ہوئی۔ جس میں غلط خبر دینے والے آدمی کو تنبیہ فرمادی۔
آیت کریمہ کا سبب نزول اگر وہ سب امور ہوں جن کا مذکورہ بالا روایات میں تذکرہ کیا گیا ہے تو اس میں کچھ بعد نہیں ہے آیت میں مسلمانوں کو جو عمومی خطاب فرمایا ہے سب کو اس میں غور کرنا لازم ہے ہر شخص آیت کے مضمون کو سوچے اور اپنی جان پر نافذ کرے اور یہ دیکھے کہ زندگی میں کیا کیا جھول جھال ہیں اور قول اور فعل میں جو یکسانیت ہونی چاہئے وہ ہے یا نہیں، ہر مسلمان ایمان کے تقاضے پورے کرے اللہ تعالیٰ سے جو وعدے كئے ہیں ان کو پورا کرے جو نذر کرے اسے پوری کرے جس کسی سے جو وعدہ کرے اسے بھی پورا کرے۔ (بشرطیکہ گناہ کا وعدہ نہ ہو، گناہ کا وعدہ کرنا بھی گناہ ہے اور اسے پورا کرنا بھی گناہ ہے) جو کوئی کام خیر کا نہ کیا ہو اسے اپنی طرف منسوب نہ کرے، لوگوں کے سامنے دینی باتیں بیان کرے اور امرو نہی والی آیات اور احادیث پڑھ کر سنائے اور اس پر خود بھی عمل کرے۔ ﴿لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 002﴾كے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ﴿ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 003 ﴾ (اللہ کے نزدیک یہ ناراضگی کی بات ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو) ۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنے کی ہر شخص کوشش کرے اور اپنے قول اور فعل میں یکسانیت رکھے۔
ان خطباء کی بد حالی جن کے قول وفعل میں یکسانیت نہیں :
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس رات مجھے سیر کرائی گئی اس رات میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں، میں نے جبرائیل سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ آپ کی امت کے خطیب ہیں جو لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور اپنی جانوں کو بھول جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کی امت کے خطیب ہیں جو وہ باتیں کہتے ہیں جن پر خود عامل نہیں اور اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور عمل نہیں کرتے۔
(مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 438)
واضح رہے کہ آیت کریمہ کا مضمون یہ ہے کہ اپنے قول وفعل میں یکسانیت رکھو جو بات کرو تمہارا اپنا عمل بھی اس کے مطابق ہو اس میں دعوت و تبلیغ امر بالمعروف ونہی عن المنکر بھی آگیا۔
آیت کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ عمل نہیں کرتے تو دینی باتیں بھی نہ کرو بلکہ مطلب یہ ہے کہ خیر کی باتیں بھی کرو اور ان پر عمل بھی کرو، یہ بات اس لئے واضح کی گئی کہ بہت سے وہ لوگ جو بےعمل ہیں امر بالمعروف ونہی عن المنکر نہیں کرتے اور یوں کہتے ہیں کہ جب ہم عمل نہیں کرتے تو ہم تبلیغ کر کے گناہگار کیوں بنیں یعنی کہ سورة الصف کی مخالف کیوں کریں۔ یہ ان لوگوں کی جہالت ہے اور نفس کی شرارت ہے۔
قرآن کریم نے یہ تو نہیں فرمایا کہ نہ حق کہو نہ عمل کرو، قرآن کریم کا مطلب تو یہ ہے کہ دونوں عمل کرو یہ بھی سمجھانا چاہئے کہ احکام شرعیہ پر چلنے کا مستقل حکم ہے اور حق بات کہنے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرنے کا مستقل حکم ہے۔
ایک حکم چھوٹا ہوا ہے تو دوسرے حکم کو چھوڑ کر گناہگار کیوں ہوں جس جس موقع پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فرمان انجام دینے کا حکم ہے اسے پورا کریں دونوں حکموں کو چھوڑ کردوہرے گناہگار کیوں ہوں۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : كلكم راع وكلكم مسول عن رعیتہ کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے ان کے بارے میں سوال ہوگا جن کی نگرانی سپرد کی گئی ہے۔ (رواہ البخاری صفحہ 783: ج 2)
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( من رای منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ و ذلک اضعف الایمان۔ ) (تم میں سے جو کوئی شخص منکر یعنی خلاف شرع کام دیکھے تو اسے ہاتھ سے بدل دے سو اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے بدل دے سو اگر زبان سے بدلنے کی طاقت نہ ہو تو دل سے بدل دے یعنی دل سے خلاف شرع کام کو برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے) ۔ (رواہ مسلم صفحہ 51: ج 1)
اس حدیث میں ہر شخص کو برائی سے روکنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ تبلیغ بھی کرو اور عمل بھی کرو۔ آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نہ عمل کرو نہ تبلیغ کرو۔
Ayah 61:4مجاہدین اسلام کی تعریف و توصیف :
پھر جہاد کرنے والوں کی تعریف فرمائی ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ004﴾ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں صف بنا کر قتال کرتے ہیں گویا کہ مجموعی حیثیت سے سب مل کر ایک عمارت ہیں جس میں سیسہ پگھلایا گیا ہو) ، اس سے جہاد کرنے اور جم کر لڑنے کی فضیلت معلوم ہوئی۔ بعض مرتبہ صف سے نکلنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے جبکہ دشمن کے افراد ھل من مبارز کہہ کر مسلمان کو مقابلہ کی دعوت دیں یہ کبھی کبھار اور تھوڑی دیر کو ہوتا ہے اصل جنگ وہ ہی ہے جس میں صف بنا کر جم کر اور ڈٹ کر لڑا جائے۔
Ayah 61:5حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا اعلان کہ ہم اللہ کے رسول ہیں
پہلی آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس بات کا تذکرہ فرمایا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا۔ ” تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ کے رسول کی تعظیم اور احترام ہونا چاہئے اور ایذا دینا اس کے بالکل خلاف ہے۔
بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کو طرح طرح سے ایذادی جس کا تذکرہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے اور سورة ٴ احزاب کے آخری رکوع میں بھی اس کا ذکر ہے۔ ان کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول کی اطاعت کرو ایذامت دو ، لیکن بات ماننے اور حق قبول کرنے کو تیار نہ ہوئے اسی کو فرمایا ﴿ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ﴾ (پھر جب وہ حق سے ہٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو حق سے ہٹا دیا) ۔ گمراہوں کا یہی طریقہ ہے کہ وہ حق کو قبول نہیں کرتے، حق پہنچنے اور بار بار سمجھانے کے باوجود حق پر نہیں آتے جب باطل پر ہی جمے رہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی اس ضد اور عناد اور مخالفت کی وجہ سے محرومیت کی مار پڑتی ہے پھر انہیں حق قبول کرنے کی توفیق نہیں ہوتی لہٰذا برابر نافرمانی کو ہی اختیار کرتے چلے جاتے ہیں اور فرما نبرداری کو اختیار نہیں کرتے اور اپنے دلوں میں ہدایت کو جگہ دینے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوتے۔
آیت کے ختم پر فرمایا ﴿ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ 005﴾ کہ اللہ تعالیٰ ایسے نافر مانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
اراء ۃ الطریق یعنی راہ حق دکھانے کے بعد انہیں قبول حق کی توفیق نہیں دی جاتی دوسرے آیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے کہ انہوں نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ یقین جانو میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں تمہارے پاس جو پہلے سے کتاب یعنی توراۃ ہے اس کی تصدیق کرتا ہوں اور میرے بعد جس رسول ﷺ کی آمد ہوگی ان کی آمد کی خوشخبری دیتا ہوں ان کا نام احمد ہوگا۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے بہت سی باتیں کیں انہیں توحید کا سبق دیا شرعی احکام سکھائے لیکن ان میں سے چند ہی لوگوں نے بات مانی جنہیں حواری کہا جاتا ہے اکثر بنی اسرائیل ان کے دشمن ہوگئے اور ان کے قتل کے درپے ہوگئے، قتل تو نہ کرسکے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اوپر اٹھالیا جیسا کہ سورة النساء میں رکوع نمبر 22 میں بیان فرمایا ہے لیکن بعد میں بعض یہودیوں کے ورغلانے اور بہکانے سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونے کا عقیدہ بنالیا جیسا کہ سورة المائدہ اور سورة توبہ میں بیان ہوچکا ہے یہ لوگ آج تک اسی عقیدہ پر جمے ہوئے ہیں۔
Ayah 61:6نصاریٰ حضرت عیسیٰ کے مخالف ہیں
آیت بالا میں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام نقل کیا ہے اس میں ایک بات تو یہ ہے کہ میں بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا ہوں ان کی یہ بات انجیل متی میں بھی لکھی ہے جسے نصرانی پڑھتے پڑھاتے اور پھیلاتے ہیں تحریف اور تبدیل کے باوجود اب تک اس میں یہ موجود ہے کہ غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں نہ جانا بلکہ اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیوں کی طرف جانا۔ (انجیل متی باب 10)
نیز یہ بھی فرمایا کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی بھیڑیوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔ (انجیل متی باب 51)
یہ نصاریٰ نے جو دنیا بھر میں اپنے مشن قائم کر رہے ہیں اور اپنے بنائے ہوئے دین شرک کو پھیلاتے ہیں اس میں اپنے رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کرتے ہیں جنہوں نے فرمایا تھا کہ میں صرف بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا ہوں اور تم کسی اور شہر کی طرف نہ جانا۔
اپنے دعوے کے مطابق یہودی بنی اسرائیل ہیں وہ تو اپنے دینی معاملے میں نصاریٰ کو پاس پھٹکنے ہی نہیں دیتے بلکہ اپنی مکاریوں سے سیاست باطلہ میں نصاریٰ کو استعمال کرلیتے ہیں اور نصاریٰ اپنے رسول کے خلاف غیر قوموں میں اور خاص کر مسلمانوں میں شرکیہ مذہب کی تبلیغ کرتے رہتے ہیں اور مال کا لالچ دے کر اپنے شرکیہ دین کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
دین حق پھیلانے کے لئے لالچ نہیں دیا جاتا جو لوگ اپنے مذہب کو ثابت کرنے میں دلیل سے عاجز ہیں وہ لوگ کھانے پینے کی چند چیزیں مفت تقسیم کر کے غیر قوموں کو قریب کرتے ہیں پھر اپنا دین شرک سکھلاتے ہیں۔ قاتلھم اللّٰہ انی یوفکون۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بشارت دینا کہ میرے بعد احمد نامی ایک رسول آئیں گے :
دوسری بات جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمائی وہ یہ ہے کہ ایک ایسے رسول کی بشارت دے رہا ہوں جو میرے بعد آئیں گے ان کا نام احمد ہوگا اس میں انہوں نے اپنے بعد آخر الانبیاء احمد المجتبیٰ ﷺ کی تشریف آوری کی بشارت دی ہے۔ خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کے متعدد نام ہیں آپ نے فرمایا کہ میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور ماحی ہوں میرے ذریعہ اللہ کفر کو مٹائے گا اور حاشر ہوں اللہ تعالیٰ لوگوں کو میرے قبر سے نکلنے کے بعد قبروں سے نکالے گا اور میں عاقب بھی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (رواہ مسلم صفحہ 361: ج 2)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں عیسیٰ بن مریم سے قریب تر ہوں دنیا میں بھی آخرت میں بھی، تمام انبیاء کرام آپس میں ایسے ہیں جیسے باپ شریک بھائی ہوں اور مائیں مختلف ہوں ان سب کا دین ایک ہی ہے (یعنی توحید اور رسالت اور وقوع قیامت پر ایمان لانا) آپ ﷺ نے مزید فرمایا کہ ہمارے اور عیسیٰ بن مریم کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ (رواہ مسلم صفحہ 265: ج 2)
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو سیدنا رسول اللہ ﷺ کی آمد کی بشارت دی تھی وہ ان کے ماننے والے راہبوں میں مشہور تھی حضرت سلمان فارسیٰ ؓ کو متعدد راہیوں میں سے (جن کے پاس یکے بعد دیگرے وقت گزارا) آخری راہب نے نبی اکرم ﷺ کی تشریف آوری کی بشارت دی تھی جو ان کے درمیان آپس میں یکے بعد دیگرے منتقل ہوتی چلی آرہی تھی۔ اسی لئے وہ مدینہ منورہ میں آکر بس گئے تھے اور اس راہب نے سرور عالم ﷺ کی جو علامات بتائی تھیں وہ علامات دیکھ کر مسلمان ہوگئے تھے جس کی تفصیل ہم سورة اعراف کی تفسیر میں لکھ چکے ہیں۔
تورات و انجیل میں خاتم الانبیاء ﷺ کی تشریف آوری کی بشارت :
نزول قرآن کے وقت بھی یہودو نصاریٰ تو ریت اور انجیل میں رسول اللہ ﷺ کے آنے کی خبر پاتے تھے جسے سورة اعراف کی آیت کریمہ ﴿اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ﴾ میں بیان فرمایا ہے۔
موجودہ انجیلوں میں (جن میں نصرانی بہت کچھ ادل بدل کرچکے ہیں) بھی آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کی پیش گوئیاں موجود ہیں۔ قرآن مجید کی تصریح کے بعد کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بعد ایک رسول کے آنے کی بشارت دی تھی اس کی تصدیق کے لئے کسی حوالہ کی ضرورت نہیں ہے قرآن کا فرمان ہی کافی ہے، تاہم نصرانیوں پر خود انہیں کی کتاب سے حجت قائم کرنے کے لئے انجیل یوحنا کی یہ عبارت پڑھ لینا ضروری ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ” اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے اور میں باپ سے درخواست کروں گا کہ وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے “ (61/15۔ 14) اور فرمایا ” لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا “ (16/7) ۔ (یہ ترجمہ ” بائبلز فور دی ورلڈ “ امریکہ کی طرف سے 1975 ء میں زندہ کلام کے نام سے شائع ہوا)
لفظ ” فارقلیط “ کے بارے میں ضروری وضاحت :
ہم نے لفظ بہ لفظ نصاریٰ کا اپنا کیا ہوا ترجمہ اوپر نقل کردیا ہے تینوں عبارتوں میں جو لفظ ” مدد گار “ آیا ہے یہ لفظ ” فار قلیط “ کا ترجمہ کیا گیا ہے جو انجیلوں کے پرانے ایڈیشنوں میں پایا جاتا ہے، اس لفظ کا ترجمہ ” احمد “ کے معنی کے قریب تر ہے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عبرانی زبان بولتے تھے آپ کے فرمان کا یونانی میں ترجمہ کیا گیا، الفاظ بدل گئے لیکن مفہوم باقی رہا۔ جب نصاریٰ نے دیکھا کہ ان الفاظ سے ہم پر حجت قائم ہوتی ہے تو انہوں نے فار قلیط کا لفظ چھوڑ کر اس کی جگہ ” مدد گار “ کا ترجمہ کردیا۔ اصل لفظ پیر کلوطوس تھا جس کا معنی محمد اور احمد کے قریب ہے۔ سیدنا محمد ﷺ کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ایک پیشین گوئی دوسرے الفاظ میں دی ہے جو انجیل یوحنا کے سولھویں باب میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے۔ ” لیکن جب وہ یعنی روح حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔ “ یہ پیشین گوئی پوری طرح سیدنا محمد ﷺ پر صادق آتی ہے۔
یہودو نصاریٰ اپنی کتابوں کی تحریف میں مہارت رکھتے ہی ہیں انہوں نے لفظ پیر کلوطوس کا ترجمہ کبھی ” مدد گار “ اور کبھی شافع کردیا لیکن ان کی تغییر اور تحریف سے ان کو کفر پر جمے رہنے کے بارے میں کچھ فائدہ نہ پہنچا کیونکہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ احمد بھی تھے اور محمد بھی تھے اور اپنے صفات کے اعتبار سے معین اور مددگار بھی تھے اور روز محشر میں اہل ایمان کے شافع ہوں گے پھر نصاریٰ سے یہ بھی سوال ہے کہ اگر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت کے مصداق نہیں ہیں تو کون شخص ہے جس کی انہوں نے بشارت دی تھی اگر کٹ حجتی کے طور پر کسی شخصیت کا نام جھوٹ موٹ پیش کردیں تو ان سے یہ سوال ہے کہ اگر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اس بشارت کا مصداق ہوچکا تھا تو یہودو نصاریٰ نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت کے کیوں منتظر تھے اور جب آپ کی بعثت ہوگئی تو نصرانی بادشاہوں اور راہبوں نے اسی بشارت کے مطابق جو ان کے یہاں چلی آر ہی تھی آپ کو کیوں اللہ کا رسول تسلیم کیا۔ شاہ روم ہرقل اور ملک حبشہ کا قصہ مشہور ہی ہے اور سلمان فارسی ؓ کو ایک راہب نے کہا تھا اب نبی آخر الزماں کا انتظار کرو نجران کے نصاریٰ آئے وہ بھی قائل ہو کر چلے گئے اور یہ بھی سب پر واضح ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد یہودو نصاریٰ کو بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت کے مصداق کے لئے کسی شخص کی نہ تلاش ہے اور نہ انتظار ہے مزید تشریح اور توضیح کے لئے ” اظہار الحق “ عربی از مولانا رحمت اللہ کیرانوی اور اس کا اردو ترجمہ ” بائبل سے قرآن تک “ کا مطالعہ کیا جائے۔
جھوٹے مدعی نبوت کی گمراہی :
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بعد جس نبی کے آنے کی خبر دی تھی اس کا نام احمد بتایا اور اس رسول کی بعثت ہوگئی جس کے بارے میں قرآن کریم نے بتادیا کہ وہ خاتم النبیین ہے اور خود صاحب رسالت ﷺ نے بھی فرما دیا انا خاتم النبیین لانبی بعدی لیکن غیر منقسم ہندوستان میں بعض جھوٹے مدعیان نبوت نے آیت شریفہ کا مصداق اپنے آپ کو بنا دیا اور آپ کے مضمون میں تحریف کردی۔ دعوائے نبوت سے بھی یہ شخص کافر ہوا اور سورة الاحزاب کی آیت میں جو محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا اس کی تحریف سے بھی کافر ہوا اور سورة الصف میں جو احمد مجتبیٰ رسول مصطفیٰ ﷺ کی بشارت دی اپنی ذات کو اس کا مصداق قرار دے کر بھی کفر در کفر کا مرتکب بن گیا۔ خود سورة الصف کی آیت میں آگے موجود ہے ﴿فَلَمَّا جَآءَهُمْ بالْبَيِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ006﴾ جب وہ رسول آگیا جس کی عیسیٰ (علیہ السلام) نے بشارت دی تھی تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے اس میں ایک تو جاء ماضی کا صیغہ استعمال فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ جب آیت کریمہ نازل ہوئی تھی اس وقت اس رسول کی بعثت ہوچکی تھی اور لوگوں نے کہا تھا کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے دنیا جانتی ہے کہ جس کسی نے بھی احمد مجتبیٰ خاتم النبیین رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا ایسے لوگوں کو جھوٹا بھی کہا گیا اور ان کے بارے میں دوسری باتیں بھی کہی گئیں لیکن جادو گر نہیں کہا گیا۔
جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد اپنے آپ کو نبی بتاتا ہے اور اپنے کو سورة صف کا مصداق بتاتا ہے اس کا جھوٹا ہونا آیت کریمہ کے الفاظ ﴿فَلَمَّا جَآءَهُمْ بالْبَيِّنٰتِ ﴾ سے ظاہر ہے اور اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ اس شخص کا نام احمد نہیں تھا ہم نے اس کے نام سے تفسیر کو ملوث کرنا نہیں چاہا اس لیے نام ذکر نہیں کیا، جاننے والے جانتے ہیں وہ کون شخص ہے۔
Ayahs 61:7–9اللہ کا نور پورا ہو کر رہے گا اگرچہ کافروں کونا گوار ہو
یہ تین آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو کوئی شخص اللہ پر جھوٹ باندھے حالانکہ اسے اسلام کی دعوت دی جارہی ہے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
دوسری آیت میں یہ فرمایا کہ جنہیں اسلام قبول کرنا نہیں ہے یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کے پھونکوں سے بجھادیں ان کے ارادوں سے کچھ نہ ہوگا اسلام بڑھ چڑھ کر رہے گا، اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا فرما دے گا کافروں کو برا لگے لگتا رہے انہیں اسلام کی ترقی اور اس کا عروج گوارا نہیں ان کی اس ناگواری کا اسلام کی رفعت اور بلندی پر کچھ اثر نہیں پڑے گا۔
جب سے دنیا میں اسلام آیا ہے دشمنان اسلام نے اس کی روشنی کو بجھانے اور اس کی ترقی کو روکنے کے لئے کبھی بھی کوئی کسر اٹھا کر نہیں رکھی اور آج بھی کفار اعداء دین اسلام اور مسلمان کے مٹانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں لیکن الحمد للہ اسلام بڑھ رہا ہے خود دشمنوں کے ممالک میں اسلام پھیل رہا ہے اور ان کے افراد برابر مسلمان ہو رہے ہیں اپنی آنکھوں سے اسلام کا پھیلاؤ دیکھ رہے ہیں اور اسلام کو روکنے کے لئے کروڑوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں مگر اسلام بڑھتا چڑھتا چلا جارہا ہے۔
مفسر قرطبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کا سبب نزول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چالیس دن تک وحی نہیں آئی اس پر کعب بن اشرف یہودی نے کہا کہ اے یہودیو خوش ہوجاؤ اللہ نے محمد کا نور بجھا دیا اور اندازہ یہ ہے کہ ان کا یہ دین پورانہ ہوگا اس پر رسول اللہ ﷺ کو رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اس کے بعد وحی کا تسلسل جاری ہوگیا۔
مفسر قرطبی نے اس بارے میں پانچ قول نقل كئے ہیں کہ نور اللہ سے کیا مراد ہے ؟
1 قرآن مراد ہے۔ 2 دین اسلام مراد ہے۔ 3 محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات مراد ہے۔
4 اللہ تعالیٰ کے دلائل مراد ہے۔ 5 جس طرح کوئی شخص اپنے منہ سے سورج کے نور کو بجھانا چاہے تو نہیں بجھا سکتا اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین کو ختم کرنے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے والے اور اس کا ارادہ کرنے والے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ (وھذا راجع الی القول الثانی)
تیسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجاتا کہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا ہے اس کے مطابق ہو کر رہے گا۔ مشرکین جو اس کے لئے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلام نہ پھیلے ان کی ناگواری کے باوجود اسلام پھیل کر رہے گا۔
مزید تفصیل اور تشریح کے لئے سورة توبہ رکوع نمبر 5 کی تفسیر دیکھی جائے۔ (انوارا لبیان)
Ayahs 61:10–13ایسی تجارت کی بشارت جو عذاب الیم سے نجات کا ذریعہ اور جنت ملنے کا وسیلہ ہوجائے
ان آیات میں اہل ایمان کو آخرت کی تجارت کی طرف توجہ دلائی ہے دنیا میں کھانے پینے، پہننے اور دیگر ضروریات کے لئے کسب مال کی ضرورت ہوتی ہے جسے بہت سے لوگ تجارت کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں اس میں بہت سے لوگ بہت زیادہ انہماک کرلیتے ہیں موت اور موت کے بعد کے حالات اور آخرت کے اجرو ثواب میں دھیان ہی نہیں دیتے زیادہ مال کی طلب میں ایسے لگتے ہیں کہ آخرت میں کام دینے والے اعمال کو بھول ہی جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ اے ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی تجارت اور سودا گری نہ بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دیدے، تجارت میں دونوں چیزیں دیکھی جاتی ہیں اول یہ کہ نفع ہو دوسرے یہ کہ نقصان نہ ہو اور دوسری چیز کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے اور یہ مقولہ تو مشہور ہے کہ دفع مضرت جلب منفعت سے بہتر ہے لہٰذا عذاب سے نجات دینے کو پہلے بیان فرمایا بعد میں جنت کے داخلہ کی بشارت دی۔
دونوں چیزوں میں کامیاب ہونے کا یہ راستہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو۔ یہ عمل تمہارے لئے بہتر ہے جب یہ عمل کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی بخش دے گا (جو عذاب کا سبب ہیں) اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور عمدہ عمدہ اچھے رہنے کے گھروں میں رہنا نصیب ہوگا جو اقامت کرنے کی جنتوں میں ہوں گے یعنی وہ جنتیں ایسی ہوں گی جہاں رہنا ہی رہنا ہوگا وہاں سے کبھی نکلنا نہ ہوگا اور وہاں سے نکلنا بھی نہ چاہیں گے اسی کو سورة کہف میں فرمایا ﴿ لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا 00108﴾ اور سورة فاطر میں اہل جنت کا قول نقل فرمایا : ﴿اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ0034 ا۟لَّذِيْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ﴾ (بیشک ہمارا پروردگار غفور ہے شکور ہے جس نے اپنے فضل سے ہمیں رہنے کی جگہ میں نازل فرمایا) ۔
معلوم ہوگیا کہ ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ (جو نفس سے جہاد کرنے کو بھی شامل ہے) عذاب الیم سے بچانے کا بھی ذریعہ ہیں اور جنت دلانے کا بھی دنیا کی تجارت اس منفعت عظیمہ کے سامنے کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی وہ تو فنا ہونے والی چیز ہے اور گناہوں کے ذریعہ جو دنیا حاصل کی جائے وہ تو آخرت میں وبال بھی ہے اور عذاب بھی لہٰذا مومن بندے آخرت کی تجارت میں لگیں وہاں کی کامیابی سے بڑھ کر کوئی کامیابی نہیں ہے اسی کو فرمایا ﴿ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُۙ0012﴾ مفسر قرطبی نے لکھا ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون نے عرض کیا کہ یارسول اللہ اگر مجھے یہ معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ کونسی تجارت محبوب ہے تو میں وہ تجارت اختیار کرلیتا اس پر آیت بالا ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ ﴾ نازل ہوئی سورة توبہ میں اسی تجارت کو ﴿ فَاسْتَبْشِرُوْا۠ بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِهٖ﴾ اور سورة فاطر میں ﴿ يَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ0029﴾ فرمایا ہے۔ ﴿وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا﴾ (اور تمہارے لئے ایک نفع کی چیز اور بھی ہے یعنی اللہ کی مدد اور زمانہ قریب میں حاصل ہونے والی فتح) اس میں یہ بتادیا کہ جو مومن اور مجاہد ہوں ان کی تجارت کا نفع صرف آخرت ہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی اس کے منافع ملیں گے جنہیں تم پسند کرتے ہو اس میں سے ایک تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوگی اور دوسرے یہ کہ عنقریب فتح نصیب ہوگی، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ اس سے فارس اور روم کا فتح ہونا مراد ہے اور بعض علماء نے فرمایا ہے کہ فتح مکہ مراد ہے۔
﴿وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ 0013﴾ (اور مومنین کو خوشخبری دے دو ) اس میں دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل ہونے پر پیشگی خوشخبری دی گئی ان بشارتوں کا با رہا ظہور ہوچکا ہے (اگر مسلمان آج مذکورہ تجارت میں لگیں تو پھر مدد اور فتح کا ظہور ہو) ۔
Ayah 61:14اللہ کے انصار اور مددگار بن جاؤ
شروع سورت میں جہاد کرنے کا ذکر تھا پھر درمیان سورت میں بھی اس کی فضیلت سنائی اب یہاں سورت کے ختم پر بھی دین اسلام کی بلندی کے لیے نصرت کرنے کا حکم فرمایا اہل ایمان کے لئے ایسے احوال سامنے آتے رہتے ہیں کہ ہجرت اور نصرت اور جہاد کی ضرورت پڑتی ہے ان تینوں چیزوں پر عمل کرنے سے دین اسلام کی ترقی ہوتی ہے اور اس کی دعوت آگے بڑھتی رہی ہے اللہ تعالیٰ تو بےنیاز ہے اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں لیکن جو لوگ اس کے دین کو بلند کرنے کی محنت کریں۔ انہیں محض اپنے فضل سے مبارک لقب یعنی لفظ ” اَنْصَار اللّٰهِ “ سے یاد فرمایا۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی ان کا زمانہ بنسبت دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے قریب تھا اور ان کی دعوت و تبلیغ کے بارے میں نزول قرآن کے وقت جو لوگ موجود تھے وہ کچھ نہ کچھ اس کا علم رکھتے تھے خاص کر جو راہب بنے ہوئے تھے ان سے ملنے جلنے والے افراد کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا کچھ نہ کچھ حال معلوم تھا اور وہ جانتے تھے کہ وہ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے اکثر بنی اسرائیل نے ان کی نبوت کا انکار کیا تھوڑے سے آدمیوں نے (جنہیں حواری کہا جاتا تھا) ایمان قبول کیا اور آپ کا ساتھ دیا، اور آپ کا پیغام لے کر مختلف اطراف واکناف چلے گئے۔
اللہ تعالیٰ شانہ نے امت حاضرہ کے اہل ایمان سے خطاب فرمایا کہ اے ایمان والو تم اللہ کے مددگار ہوجاؤ یعنی اس کے دین کی خدمت کرو جیسا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریین سے فرمایا کہ کون لوگ ہیں جو اللہ کی طرف یعنی اللہ کے دین کی دعوت میں لگنے کی طرف میرا ساتھ دیتے ہیں ؟ حوار یوں نے جواب میں کہا کہ ہم انصار اللہ ہیں۔ دعوت و تبلیغ کے کام میں آپ کی مدد کریں گے۔
مفسرابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب حواریین نے یہ کہا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں بلاد شام میں داعی بنا کر بھیج دیا۔
حواری کون تھے اور وجہ تسمیہ کیا ہے اس کے بارے میں ہم سورة آل عمران میں لکھ چکے ہیں۔ (انوار البیان جلد اول)
بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی (یہ تھوڑے سے لوگ تھے) اور ایک جماعت نے کفر اختیار کیا۔ جسے ﴿ فَاٰمَنَتْ طَّآىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآىِٕفَةٌ ﴾ میں بیان فرمایا ہے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت رکھنے والوں کی تین جماعتیں :
معالم التنزیل میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھالیا تو لوگوں میں اختلاف ہوگیا ایک جماعت نے کہا کہ عیسیٰ عین اللہ تھے وہ خود سے اوپر چلے گئے اور ایک جماعت نے کہا کہ وہ اللہ کے بیٹے تھے اللہ نے انہیں اٹھالیا اور تیسری جماعت نے کہا کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول تھے اللہ نے ان کو اوپر اٹھالیا یہ تین فرقے تھے اور ہر فرقے کے ماننے والے لوگ تھے، جنگ ہوئی تو دونوں کافر فرقے مومنین کی جماعت پر غالب آگئے پھر جب اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو معبوث فرمایا تو ایمان والی جماعت کفر والی جماعت پر غالب ہوگئی اس کو ﴿فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ (رح) 0014﴾ میں بیان فرمایا ہے۔
قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے وہ ہی حق ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے جو اہل ایمان تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی تائید فرمائی اور وہ لوگ دلیل سے غالب آگئے اور یہ بات تائید قرآنی سے صحیح ثابت ہوگئی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کلمۃ اللہ اور روح اللہ تھے۔ (معالم التنزیل صفحہ 349: ج 4)
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع الی السماء کے بعد ان کے ماننے والوں کا کفر اختیار کرنے والے فرقوں پر غالب آنے کا چونکہ تاریخ میں کوئی واقعہ ماثور اور منقول نہیں ہے اس لئے حضرت ابن عباس ؓ نے ﴿فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ﴾ کا یہ مطلب بتایا کہ اہل ایمان اہل کفر پر دلیل اور حجت سے غالب ہوگئے جنہیں رسول اللہ ﷺ کا اتباع بھی نصیب ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن میں) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے اس کو لے کر کافر فرقوں پر حجت کے ذریعہ غلبہ بھی پالیا۔
یہ تو حضرت ابن عباس ؓ کے زمانہ تک تھا، اس کے بعد جو نصاریٰ کے فرقوں سے مسلمانوں کی صلیبی جنگیں ہوئیں ان میں تو اہل ایمان کو تلوار کے ذریعہ بھی غلبہ حاصل ہوگیا۔
فللہ الحمد والنعمة علی دین الاسلام و ھزم اعداء الاسلام وھذا آخر تفسیر سورة الصف والحمد للہ رب العلمین والصلوة علی جمیع الانبیاء والمرسلین وعلی من تبعھم باحسان الی یوم الدین۔