61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 61:1–4

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا،

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

اے ایمان والو کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے ہیں اس کی راہ میں قطار باندھ کر گویا وہ دیوار ہیں سیسہ پلائی ہوئی5

5 بندہ کو لاف زنی اور دعوے کی بات سے ڈرنا چاہیے کہ پیچھے مشکل پڑتی ہے۔ زبان سے ایک بات کہہ دینا آسان ہے، لیکن اس کا نباہنا آسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض اور بیزار ہوتا ہے جو زبان سے کہے بہت کچھ اور کرے کچھ نہیں۔ روایات میں ہے کہ ایک جگہ مسلمان جمع تھے، کہنے لگے ہم کو اگر معلوم ہوجائے کہ کون سا کام اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے تو وہ ہی اختیار کریں۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ یعنی دیکھو ! سنبھل کر کہو، لو ہم بتلائے دیتے ہیں، کہ اللہ کو سب سے زیادہ ان لوگوں سے محبت ہے جو اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں کے مقابلہ پر ایک آہنی دیوار کی طرح ڈٹ جاتے ہیں اور میدان جنگ میں اس شان سے صف آرائی کرتے ہیں کہ گویا وہ سب مل کر ایک مضبوط دیوار ہیں جس میں سیسہ پلا دیا گیا ہے، اور جس میں کسی جگہ کوئی رخنہ نہیں پڑ سکتا۔ اب اس معیار پر اپنے کو پرکھ لو۔ بیشک تم میں بہت ایسے ہیں جو اس معیار پر کامل و اکمل اتر چکے ہیں مگر بعض مواقع ایسے بھی نکلیں گے جہاں بعضوں کے زبانی دعو وں کی ان کے عمل نے تکذیب کی ہے آخر جنگ احد میں وہ بنیان مرصوص کہاں قائم رہی۔ اور جس وقت حکم قتال اترا تو یقینا بعض نے یہ بھی کہا۔ (رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ ۚ لَوْلَآ اَخَّرْتَنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ) 4 ۔ النسآء :77) بہرحال زبان سے زیادہ دعوے مت کرو بلکہ خدا کی راہ میں قربانی پیش کرو جس سے اعلیٰ کامیابی نصیب ہو۔ موسیٰ کی قوم کو نہیں دیکھتے کہ زبان سے تعلّی و تفاخر کی باتیں بہت بڑھ چڑھ کر بناتے تھے لیکن عمل کے میدان میں صفر تھا۔ جہاں کوئی موقع کام کا آیا فوراً پھسل گئے اور نہایت تکلیف دہ باتیں کرنے لگے۔ نتیجہ جو کچھ ہو اس کو آگے بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 61:5

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو اے قوم میری کیوں ستاتے ہو مجھ کو اور تم کو معلوم ہے کہ میں اللہ کا بھیجا آیا ہوں تمہارے پاس6 پھر جب وہ پھرگئے تو پھیر دیے اللہ نے ان کے دل اور اللہ راہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو7

6 یعنی روشن دلائل اور کھلے کھلے معجزات دیکھ کر تم دل میں یقین رکھتے ہو کہ میں اللہ کا سچا پیغمبر ہوں۔ پھر سخت نازیبا اور رنجیدہ حرکتیں کر کے مجھے کیوں ستاتے ہو۔ یہ معاملہ تو کسی معمولی ناصح اور خیر خواہ کے ساتھ بھی نہ ہونا چاہیے۔ چہ جائیکہ ایک اللہ کے رسول کے ساتھ ایسا برتاؤ کرو۔ کیا میرے دل کو تمہاری ان گستاخانہ حرکات سے دکھ نہیں پہنچتا کہ کبھی بےجان بچھڑا بنا کر پوجنے لگے اور اس کو اپنا اور موسیٰ کا خدا بتلانے لگے۔ کبھی " عمالقہ " پر جہاد کرنے کا حکم ہوا تو کہنے لگے ہم تو کبھی نہیں جائیں گے۔ تم اور تمہارا خدا جا کر لڑ لو۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ وغیر ذلک من الخرافات۔ چناچہ اسی سے تنگ ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ " (رَبِّ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ ) 5 ۔ المائدہ :25) 7 بدی کرتے کرتے قاعدہ ہے کہ دل سخت اور سیاہ ہوتا چلا جاتا ہے حتی کہ نیکی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ یہ ہی حال ان کا ہوا۔ جب ہر بات میں رسول سے ضد ہی کرتے رہے اور برابر ٹیڑھی چال چلتے رہے تو آخر مردود ہوئے۔ اور اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا کہ سیدھی بات قبول کرنے کی صلاحیت نہ رہی۔ ایسے ضدی نافرمانوں کے ساتھ اللہ کی یہ ہی عادت ہے۔
Ayah 61:6

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور جب کہا عیسیٰ مریم کے بیٹے نے اے بنی اسرائیل میں بھیجا ہوا آیا ہوں اللہ کا تمہارے پاس یقین کرنے والا اس پر جو مجھ سے آگے ہے تورات1 اور خوشخبری سنانے والا ایک رسول کی جو آئے گا میرے بعد اس کا نام ہے احمد2 پھر جب آیا ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر کہنے لگے یہ جادو ہے صریح3

1 یعنی اصل تورات کے من اللہ ہونے کی تصدیق کرتا ہوں اور اس کے احکام و اخبار پر یقین رکھتا ہوں اور جو کچھ میری تعلیم ہے فی الحقیقت ان ہی اصول کے ماتحت ہے جو تورات میں بتلائے گئے تھے۔ (تنبیہ) ابن کثیر وغیرہ نے " مُصَدِّقًالِّمَا بَیْنَ یَدیہ " کا مطلب یہ لیا ہے کہ میرا وجود تورات کی باتوں کی تصدیق کرتا ہے۔ کیونکہ میں ان چیزوں کا مصداق بن کر آیا ہوں جن کی خبر تورات شریف میں دی گئی تھی۔ واللہ اعلم۔ 2 یعنی پچھلے کی تصدیق کرتا ہوں اور اگلے کی بشارت سناتا ہوں۔ یوں تو دوسرے انبیاء سابقین بھی خاتم الانبیاء ﷺ کی تشریف آوری کا مژدہ برابر سناتے آئے ہیں۔ لیکن جس صراحت و وضاحت اور اہتمام کے ساتھ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے آپ ﷺ کی آمد کی خوشخبری دی وہ کسی اور سے منقول نہیں۔ شاید قریب عہد کی بناء پر یہ خصوصیت ان کے حصہ میں آئی ہوگی۔ کیونکہ ان کے بعد نبی آخرالزمان کے سوا کوئی دوسرا نبی آنے والا نہ تھا۔ یہ سچ ہے کہ یہود و نصاریٰ کی مجرمانہ غفلت اور معتمدانہ دستبرد نے آج دنیا کے ہاتھوں میں اصل تورات و انجیل وغیرہ کا کوئی صحیح نسخہ باقی نہیں چھوڑا جس سے ہم کو ٹھیک پتہ لگ سکتا کہ انبیائے سابقین خصوصاً مسیح علیٰ نبینا و (علیہ السلام) نے خاتم الانبیاء ﷺ کی نسبت کن الفاظ میں اور کس عنوان سے بشارت دی تھی۔ اور اسی لیے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ قرآن کریم کے صاف وصریح بیان کو اس تحریف شدہ بائبل میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے جھٹلانے لگے۔ تاہم یہ بھی خاتم الانبیاء ﷺ کا معجزہ سمجھنا چاہیے کہ حق تعالیٰ نے محرفین کو اس قدر قدرت نہیں دی کہ وہ اس کے آخری پیغمبر کے مطلق تمام پیشین گوئیوں کو بالکلیہ محو کردیں کہ ان کا کچھ نشان باقی نہ رہے۔ موجودہ بائبل میں بھی بیسیوں مواضع ہیں جہاں آنحضرت ﷺ کا ذکر قریب تصریح کے موجود ہے اور عقل و انصاف والوں کے لیے اس میں تاویل و انکار کی قطعاً گنجائش نہیں۔ اور انجیل یوحنا میں تو فار قلیط (یا پیر کلوطوس) والی بشارت اتنی صاف ہے کہ اس کا بےتکلف مطلب بجز احمد (بمعنی محمود و ستودہ) کے کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ چناچہ بعض علمائے اہل کتاب کو بھی ناگزیر اس کا اعتراف یا نیم اقرار کرنا پڑا ہے کہ اس پیشین گوئی کا انطباق پوری طرح نہ روح القدس پر اور نہ بجز سرور دو عالم ﷺ کسی اور پر ہوسکتا ہے۔ علمائے اسلام نے بحمد اللہ بشارات پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ اور تفسیر حقانی کے مولف فاضل نے " فارقلیط " والی بشارت اور تحریف بائبل پر سورة " صف " کی تفسیر میں نہایت مشبع بحث کی ہے۔ اللہ جزائے خیر دے۔ 3 یعنی حضرت مسیح کھلی نشانیاں لے کر آئے یا جن کی بشارت دی تھی حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفے ٰ ﷺ وہ کھلے نشان لے کر آئے تو لوگ اسے جادو بتلانے لگے۔
Ayah 61:7

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ بےانصاف کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ اور اس کو بلاتے ہیں مسلمان ہونے کو4 اور اللہ راہ نہیں دیتا بےانصاف لوگوں کو5

4 یعنی جب مسلمان ہونے کو کہا جاتا ہے تو حق کو چھپا کر اور جھوٹی باتیں بنا کر حضور ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کردیتے ہیں۔ وہ خدا کو بشر یا بشر کو خدا بنانے کا جھوٹ تو ایک طرف رہا، کتب سماویہ میں تحریف کر کے جو چیزیں واقعی موجود تھیں ان کا انکار کرتے اور جو نہیں تھیں ان کو درج کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہوگا۔ 5 یعنی ایسے بےانصافوں کو ہدایت کہاں نصیب ہوتی ہے اور ممکن ہے " لایہدی " میں ادھر بھی اشارہ ہو کہ یہ ظالم کتنا ہی انکار اور تحریف و تاویل کریں، خدا ان کو کامیابی کی راہ نہ دے گا۔ گویا حضور ﷺ کے متعلق جن خبروں کو وہ چھپانا یا مٹانا چاہتے ہیں، چھپ یا مٹ نہ سکیں گی۔ چناچہ باوجود ہزاروں طرح کی قطع و برید کے آج بھی نبی آخر الزمان ﷺ کی نسبت بشارات کا ایک کثیر ذخیرہ موجود ہے۔
Ayah 61:8

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کی روشنی اپنے منہ سے اور اللہ کو پوری کرنی ہے اپنی روشنی اور پڑے برا مانیں منکر6

6 یعنی منکر پڑے برا مانا کریں اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا۔ مشیت الٰہی کے خلاف کوئی کوشش کرنا ایسا ہے جیسے کوئی احمق نور آفتاب کو منہ سے پھونک مار کر بجھانا چاہے۔ یہ ہی حال حضرت محمد ﷺ کے مخالفوں کا اور ان کی کوششوں کا ہے۔ (تنبیہ) شاید "' بِاَفْوَاہِہِمْ " کے لفظ سے یہاں اس طرف بھی اشارہ کرنا ہو کہ بشارات کے انکار و اخفاء کے لیے جو جھوٹی باتیں بناتے ہیں وہ کامیاب ہونے والی نہیں۔ ہزار کوشش کریں کہ " فارقلیط " آپ ﷺ نہیں ہیں، لیکن اللہ منوا کر چھوڑے گا کہ اس کا مصداق آپ ﷺ کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔
Ayah 61:9

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول راہ کی سوجھ دے کر اور سچا دین کہ اس کو اوپر کرے سب دینوں سے اور پڑے برا مانیں شرک کرنے والے7

7 اس آیت پر سورة " برأۃ " کے فوائد میں کلام ہوچکا ہے، وہاں دیکھ لیا جائے۔
Ayahs 61:10–12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

اے ایمان والو میں بتلاؤں تم کو ایسی سوداگری جو بچائے تم کو ایک عذاب دردناک سے

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور لڑو اللہ کی راہ میں اپنے مال سے اور اپنی جان سے یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم سمجھ رکھتے ہو

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

بخشے گا وہ تمہارے گناہ اور داخل کرے گا تم کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں8 اور ستھرے گھروں میں بسنے کے باغوں کے اندر9 یہ ہے بڑی مراد ملنی

8 یعنی اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرنا تو اللہ کا کام ہے۔ لیکن تمہارا فرض یہ ہے کہ ایمان پر پوری طرح مستقیم رہ کر اس کے راستہ میں جان و مال سے جہاد کرو۔ یہ سوداگری ہے جس میں کبھی خسارہ نہیں، دنیا میں لوگ سینکڑوں طرح کے بیوپار اور تجارتیں کرتے ہیں اور اپنا کل سرمایہ اس میں لگا دیتے ہیں محض اس امید پر کہ اس سے منافع حاصل ہوں گے اور اس طرح راس المال گھٹنے اور تلف ہونے سے بچ جائے گا۔ پھر وہ بذات خود اور اس کے اہل و عیال تنگدستی و افلاس کی تلخیوں سے محفوظ رہیں گے۔ لیکن مومنین اپنے جان و مال کا سرمایہ اس اعلیٰ تجارت میں لگائیں گے تو صرف چند روز افلاس سے نہیں، بلکہ آخرت کے دردناک عذاب اور تباہ کن خسارہ سے مامون ہوجائیں گے۔ اگر مسلمان سمجھے تو یہ تجارت دنیا کی سب تجارتوں سے بہتر ہے۔ جس کا نفع کامل مغفرت اور دائمی جنت کی صورت میں ملے گا۔ جس سے بڑی کامیابی اور کیا ہوسکتی ہے۔ 9 یعنی وہ ستھرے مکانات ان باغوں کے اندر ہوں گے جن میں مومنین کو آباد ہونا ہے۔ یہ تو آخرت کی کامیابی رہی۔ آگے دنیا کی اعلیٰ اور انتہائی کامیابی کا ذکر ہے۔
Ayah 61:13

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور ایک اور چیز دے جس کو تم چاہتے ہو مدد اللہ کی طرف سے اور فتح جلدی1 اور خوشی سنا دے ایمان والوں کو2

1 یعنی اصل اور بڑی کامیابی تو وہ ہی ہے جو آخرت میں ملے گی جس کے سامنے ہفت اقلیم کی سلطنت کوئی چیز نہیں لیکن دنیا میں بھی ایک چیز جسے تم طبعاً محبوب رکھتے ہو، دی جائے گی وہ کیا ہے (نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ ۭ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 61 ۔ الصف :13) (اللہ کی طرف سے ایک مخصوص امداد اور جلد حاصل ہونے والی فتح و ظفر، جن میں سے ہر ایک دوسرے کے ساتھ دامن کا تعلق رکھتی ہے) دنیا نے دیکھ لیا کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے ساتھ یہ وعدہ کیسی صفائی سے پورا ہوا اور آج بھی مسلم قوم اگر سچے معنی میں ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ پر ثابت قدم ہوجائے تو یہ ہی کامیابی ان کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہے۔ 2 کیونکہ یہ خوشخبری سنانا ایک مستقل انعام ہے۔
Ayah 61:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

اے ایمان والو تم ہوجاؤ مددگار اللہ کے3 جیسے کہا عیسیٰ مریم کے بیٹے نے اپنے یاروں کو کون ہے کہ مدد کرے میری اللہ کی راہ میں بولے یار ہم ہیں مددگار اللہ کے4 پھر ایمان لایا ایک فرقہ بنی اسرائیل سے اور منکر ہوا ایک فرقہ پھر قوت دی ہم نے ان کو جو ایمان لائے تھے ان کے دشمنوں پر پھر ہو رہے غالب5

3 یعنی اس کے دین اور اس کے پیغمبر کے مددگار بن جاؤ۔ اس حکم کی تعمیل خدا کے فضل و توفیق سے مسلمانوں نے ایسی کی کہ ان میں سے ایک جماعت کا تو نام ہی " انصار " پڑگیا۔ 4 " حواریین " (یاران مسیح) تھوڑے سے گنے چنے آدمی تھے جو اپنے نسب و حسب کے اعتبار سے کچھ معزز نہیں سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے حضرت مسیح کو قبول کیا اور ان کی دعوت کو بڑی قربانیاں کر کے دیار و امصار میں پھیلایا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کے یاروں نے بڑی محنتیں کی ہیں ان کا دین نشر ہوا۔ ہمارے حضرت ﷺ کے پیچھے بھی خلفاء نے اس سے زیادہ کیا۔ " والحمد للہ علی ذلک۔ 5 یعنی " بنی اسرائیل " میں دو فرقے ہوگئے۔ ایک ایمان پر قائم ہوا۔ دوسرے نے انکار کیا۔ پھر حضرت مسیح کے بعد آپس میں دست و گریبان رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس بحث و مناظرہ اور خانہ جنگیوں میں مومنین کو منکرین پر غالب کیا۔ حضرت مسیح کے نام لیوا (نصاریٰ ) یہود پر غالب رہے اور نصاری میں سے ان کی عام گمراہی کے بعد جو بچے کھچے افراد صحیح عقیدہ پر قائم رہ گئے تھے ان کو حق تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کے ذریعہ سے دوسروں پر غلبہ عنایت فرمایا۔ حجت وبرہان کے اعتبار سے بھی اور قوت و سلطنت کی حیثیت سے بھی۔ فللّٰہ الحمد والمنۃ۔