Ayah 61:1سبح للہ مافی السموات وما فی الارض وھو العزیز الحکیم
” جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ‘ سب اللہ ہی کی پاکی بیان کرتی ہیں
وہی زبردست حکمت والا ہے ‘
Ayah 61:2یایھا الذین امنوا لم تقولون ما لا تفعلون
اے ایمان والو ! ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔ “
حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا : یہ آیات آخر تک رسول اللہ ﷺ نے ہم کو پڑھ کر سنائیں۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔
بغوی نے مفسرین کا قول نقل کیا ہے کہ (کچھ) مسلمانوں نے کہا تھا ‘ ہم کو اگر معلوم ہوجاتا کہ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عمل کونسا ہے تو ہم وہی کرتے اور اس کے لیے اپنی جان و مال کو قربان کردیتے۔ اس پر اللہ نے آیت : اِنَّ اللہ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقٰتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا نازل فرمائی اور غزوۂ احد میں مسلمانوں کی آزمائش کی گئی تو مسلمان پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس پر آیت : لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ نازل ہوئی۔
ابن جریر نے ابو صالح کی روایت سے بیان کیا ہے کہ مسلمانوں نے کہا تھا اگر ہم کو علم ہوجاتا کہ کونسا عمل اللہ کو زیادہ پیارا اور افضل ہے تو ہم اسی کو کرتے۔ اس پر آیت : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ..... نازل ہوئی مگر (کچھ) مسلمانوں پر جہاد شاق گزرا۔ اس پر آیت : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ نازل ہوئی۔ ابن جریر نے بطریق علی ‘ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔
ابن ابی حاتم نے بروایت عکرمہ حضرت ابن عباس کا قول اور ابن جریر نے ضحاک کا بیان نقل کیا ہے کہ آیت : لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ اس شخص کے متعلق نازل ہوئی جو جہاد میں نہ تلوار کا استعمال کرتا ہے نہ برچھے کا ‘ نہ (دشمن کو) قتل کرتا ہے۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل کا قول نقل کیا ہے کہ احد کی لڑائی میں جو لوگ پشت پھیر کر بھاگے تھے ‘ ان کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔
محمد بن کعب نے کہا کہ شرکاء بدر کے ثواب کا بیان جب اللہ نے فرمایا تو صحابہ کہنے لگے : اگر آئندہ کبھی لڑائی کا موقع ملا تو ہم اپنی ساری طاقت لگا دیں گے لیکن جب احد کی لڑائی ہوئی تو یہ حضرات بھاگ کھڑے ہوئے۔ اللہ نے ان کو عار دلانے کے لیے یہ آیت نازل فرمائی۔ ابن زید کا قول ہے کہ یہ آیت منافقوں کے حق میں نازل ہوئی جو مسلمانوں کی مدد کرنے کا وعدہ کرتے تھے مگر تھے جھوٹے (وعدہ کو پورا نہیں کرتے تھے) ۔
Ayah 61:3کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون
. ” اللہ کی بڑی ناراضی کی ہے ‘ یہ بات کہ جو کہو وہ کرو نہیں
مَقْتًا : سخت ترین غصہ۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ ان کا قول اللہ کو اتنا سخت ناپسند اور موجب ناراضی تھا کہ ہر ناپسندیدہ قول سے بڑھ کر تھا۔ یہ پرزور بازداشت ہے اس امر سے کہ ایسی بات کہیں جو کریں نہیں اور وعدہ تو کرلیں مگر پورا نہ کریں۔
Ayah 61:4ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیل صفا کانھم بنیان مرصوص
‘ اللہ ان لوگوں کو (خاص طور پر)
پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ “
صَفًّا : یعنی لڑائی میں اپنی جگہ سے ہلتے نہیں ‘ جمے رہتے ہیں۔
مَّرْصُوْصٌ : یعنی ایسی صف بندی کرتے ہیں کہ بیچ میں شگاف نہیں چھوڑتے اور بھاگنے کے لیے حرکت بھی نہیں کرتے۔ رص کا معنی ہے کسی عمارت یا دیوار کا مضبوط ہونا اور اس کے اجزاء کا باہم اتنا پیوسہ ہوجانا (ٹھس جانا) کی خلاء بالکل نہ رہے۔
Ayah 61:5و اذا قال موسیٰ لقومہ یقوم لہ توذوننی و قد تعلمون انی رسول اللہ الیکم فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھم واللہ لا یھدی القوم الفاسقین .
” (قابل ذکر ہے وہ واقعہ) جب کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم والو ! مجھے تم دکھ کیوں دیتے ہو ‘ حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں جو تمہارے پاس (بھیجا ہوا) آیا ہوں۔ پس جب (اس فہمائش پر بھی) وہ لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو (اور) ٹیڑھا کردیا اور اللہ ایسے نافرمانوں کو ہدایت یاب نہیں کرتا۔ “
لِقَوْمِہٖ : اپنی قوم سے یعنی بنی اسرائیل سے۔
لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ : یعنی کیوں نافرمانی کرتے ہو اور اُزّرہ کے مرض یعنی ورم خصیہ کی تہمت لگاتے ہو۔
وَقَدْ تَعْلَمُوْنَ.... یعنی میرے معجزات کو تم نے دیکھا اور دیکھ رہے ہو ‘ فرعون سے جو تم کو سخت دکھ اور عذاب دیتا تھا۔ میں نے تم کو بچایا اور یہ سمندر پار کرایا ‘ پس جب تم جانتے ہو کہ میں رسول ہوں ‘ تو پھر مجھے ایذاء کیوں دیتے ہو۔ نبوت کا تو تقاضا ہے کہ نبی کی تعظیم کی جائے اور اس کو دکھ نہ دیا جائے۔
فَلَمَّا زَاغُوْا : یعنی جب وہ حق سے مڑ گئے اور موسیٰ کو ایذا دینے سے باز نہیں آئے تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو قبول حق سے پھیر دیا۔
لَایَھْدِیْ : یعنی ایسی ہدایت کی توفیق نہیں دیتا کہ وہ حق کو پہچان لیں یا جنت تک پہنچ جائیں۔ زجاج نے لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جن لوگوں کا فاسق رہنا پہلے سے اللہ کے علم ازلی میں ہے ‘ ان کو ہدایت نہیں کرتا۔
Ayah 61:6واذ قال عیسیٰ ابن مریم لم یبونی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراۃ و مبشرا برسول یاتی بعدی اسمہ احمد فلما جاء ھم بالبینت قالوا ھذا سحر مبین .
” اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب کہ عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل ! میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو توریت آچکی ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایک عالی قدر رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔ جب عیسیٰ (اپنی رسالت کو ثابت کرنے کیلئے) ان کے سامنے کھلی نشانیاں (یعنی معجزات) لائے تو انہوں نے کہا یہ تو صریح جادو ہے۔ “
یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ : حضرت عیسیٰ نے یا بنی اسرائیل فرمایا۔ حضرت موسیٰ کی طرح یا قوم نہیں فرمایا کیونکہ بنی اسرائیل سے اپ کا کوئی نسبی تعلق نہیں تھا (نسب باپ سے چلتا ہے اور حضرت عیسیٰ کا کوئی باپ نہ تھا) بَیْنَ یَدَیَّ یعنی مجھ سے پہلے۔
اِسْمُہْٓ اَحْمَدُ : رسول اللہ ﷺ کا دوسرا نام احمد تھا (پہلا نام محمد تھا) احمد بروزن اَفْعَلَ ۔ اسم تفصیل کا صیغہ ہے ‘ رسول اللہ ﷺ حامد (اللہ کی حمد کرنے والے) بھی اور محمود بھی ہیں۔ انبیاء سب ہی اللہ کی حمد کرتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ حامد تھے ‘ تمام انبیاء خصائل حمیدہ کے حامل ہوتے ہیں ‘ اس لیے سب محمود ہوتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ تمام مخلوقات اور سارے انبیاء سے بڑھ کر محمود تھے کیونکہ آپ ﷺ کے فضائل و محاسن اور اخلاق و مناقب سب سے اعلیٰ اور افضل تھے۔ اس لیے آپ ﷺ سب سے زیادہ مستحق محمودیت ہوئے اور آپ کا نام محمد ﷺ (بہت زیادہ محمود ہوا) حضرت مجدد (رح) صاحب نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کو دو قسم کی ولایت حاصل تھی ‘ اوّل ولایت محمدیہ یعنی محبوبیت جو محبت کے ساتھ مخلوط ہے ‘ دوسری ولایت احمدیہ۔ یہ خالص محبوبیت کا مقام ہے۔ اس بنا پر احمد ﷺ کو محمودیت سے مشتق ماناجائے تو اولیٰ ہے (اسم تفضیل کا صیغہ کبھی کثرت فاعلی پر دلالت کرتا ہے ‘ کبھی کثرت مفعولی پر۔ احمد کے لفظ میں اگر کثرت مفعولی یعنی کثرت محمودیت مانی جائے تو اولیٰ ہے) ۔
حضرت عیسیٰ نے اپنی رسالت کے دعوے میں دوسرے انبیاء کی تصدیق کی کیونکہ حق کی مطابقت و موافقت حق کے ساتھ ہوتی ہے اور تمام انبیاء ایک دو سرے کی رسالت کی شہادت دیتے ہیں۔ توریت پہلی کتاب تھی جس کے موافق انبیاء حکم دیا کرتے تھے۔ حضرت عیسیٰ نے اس کی تصدیق کی اور خاتم المرسلین سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی بھی بشارت دی۔ آپ کی آمد کی بشارت تمام انبیاء نے اور توریت نے اور ساری آسمانی کتابوں نے دی تھی۔
فَلَمَّا جَآءَ ھُمْ ..... یعنی جب عیسیٰ نے کھلے کھلے معجزات پیش کیے ‘ مردوں کو زندہ کیا ‘ مادر زاد اندھوں کو بینا کردیا اور مبروص کو تندرست بنا دیا ‘ یا رسول اللہ ﷺ کی طرف ضمیر راجع ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے کھلے معجزات پیش کیے۔ انگلی کے اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے کردیئے۔ سب سے بڑھ کر دوامی معجزہ قرآن پیش کیا۔
قَالُوْا : تو کفار بنی اسرائیل نے یا کفار قریش نے کہا۔
Ayah 61:7ومن اظلم ممن افتری علی اللہ الکذب وھو یدعی الی الاسلام واللہ لا یھدی الظلمین
” اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر دروغ بندی کرتا ہے حالانکہ اس کو اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ ایسے ظالم (حق ناشناس) لوگوں کو ہدایت یاب نہیں کرتا۔ “
اِفْتَرٰی عَلَی اللہ الْکَذِبَ : دروغ بندی کرتا ہے ‘ یعنی اللہ کی طرف شرک کی یا صاحب اولاد ہونے کی نسبت کرتا ہے یا یوں کہتا ہے کہ اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا ‘ یا کہتا ہے اللہ نے ہم کو حکم دے دیا ہے کہ کسی پیغمبر کو مت ماننا۔ جب تک وہ ایسی قربانی نہ پیش کرے جس کو (غیبی) آگ (آ کر) کھاجائے ‘ یا کہتا ہے کہ موسیٰ کی شریعت دوامی شریعت ہے جو قیامت تک باقی رہے گی (کبھی منسوخ نہیں کی جائے گی۔ )
لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ : یعنی اللہ کے علم قدیم میں جس کا ظالم رہنا لازم ہے ‘ اللہ اس کو ہدایت یاب ہونے کی توفیق نہیں دیتا اور فلاح یاب نہیں بناتا۔
Ayah 61:8یریدون لیطفوا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ و لو کرہ الکفرون
” وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور (یعنی دین اسلام) کو اپنے منہ (کی پھونک) سے بجھا دیں لیکن اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا کر رہے گا ‘ خواہ کافروں کو کیسا ہی ناگوار ہو
نُوْرَ اللہ : اللہ کا دین۔
بِاَفْوَاھِھِمْ : اپنی جھوٹی باتوں اور دروغ تراشیوں سے جیسے کوئی شخص سورج اور چاند کی روشنی پھونک مار کر بجھانا چاہے تو بجھا نہیں سکتا ‘ اسی طرح دین اسلام کو جو نور خداوندی ہے ‘ مُنہ کی پھونک یا جھوٹی باتوں اور افتراء بندیوں سے نابود نہیں کیا جاسکتا ‘ اس آیت میں ایک لطیف تشبیہ ہے۔
وَ اللہ ُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ : یعنی اللہ دین اسلام کو پھیلائے گا ‘ سربلند کرے گا اور درجۂ کمال تک ضرور پہنچائے گا۔
وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ : وَلَوْ ‘ اگرچہ ‘ خواہ۔ لَوْ متصلہ ہے یعنی کافروں کی خوشی ہو یا نہ ہو ‘ دونوں برابر ہیں۔ دین اسلام کو تو اللہ پھیلا کر رہے گا ‘ دین کا جھنڈا ضرور بلند کرے گا ‘ کافروں کی ناخوشی کی اس کو پروا نہیں۔
Ayah 61:9ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الہق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون .
‘ اسی نے اپنے رسول کو ہدایت کا سامان یعنی قرآن اور سچا دین (یعنی اسلام) دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام (دوسرے) دینوں پر غالب کر دے ‘ گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں۔ “
رَسُوْلَہٗ : یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو۔ بِالْھُدٰی : یعنی قرآن اور معجزات اور وہ سامان دے کر بھیجا جس سے لوگ حق تک پہنچنے کا راستہ پالیں۔ دِیْنِ الْحَقِّ : دین الٰہی ‘ اسلام۔ لِیُظْھِرَہٗ : یعنی تلوار اور دلائل کے ذریعہ سے اسلام کو غالب کر دے۔ کُلِّہِ : سب مذاہب پر۔
Ayah 61:10یایھا الذین امنوا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم
” اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی سوداگری بتاؤں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بچا لے
عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ : دنیوی تجارت ‘ محتاجی اور بھوک کے عذاب سے بچاتی ہے۔ میں تم کو ایسی تجارت بتاتا ہوں جو آخرت کے دردناک عذاب سے بچانے والی ہے۔
ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب آیت : تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا : وہ تجارت کونسی ہے جو دردناک عذاب سے بچانے والی ہے۔ اگر ہم کو معلوم ہوجاتا تو ہم اس کے لیے اپنے اپنے مال اور اہل و عیال کی قربانی دینے سے دریغ نہ کرتے ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 61:11تومنون باللہ و رولہ و تجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون .
(وہ یہ ہے کہ) تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو۔ “
تُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ ...... یہ تجارت کی تشریح ہے ایمان اور جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد۔ ان دونوں کا مجموعہ تجارت ہے ‘ تجارت لین دین کا نام ہے۔ مال اور جان کو دے کر آخرت کی راحت اور اللہ کی خوشنودی کا حصول یہ بھی تجارتی مبادلہ ہوا۔ باطل عقائد کو ترک کر کے سچے علم یعنی ایمان کو لینا بھی بڑی نفع بخش تجارت ہے۔ تُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ.... جملہ خبریہ ہے (تم اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہو اور اسکی راہ میں جہاد کرتے ہو) لیکن خبر سے مراد ہے امر (جو انشاء کی ایک قسم ہے) یعنی حکم دینا ‘ حکم کو بصورت خبر ذکر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ چیز قابل ترک نہیں ‘ اس سے صحابہ کی تعریف بھی مترشح ہوتی ہے کہ تم لوگ ایمان رکھتے اور جانی و مالی جہاد کرتے ہو۔
ذٰلِکُمْ : یعنی ایمان و جہاد کا مجموعہ۔
خَیْرٌ لَّکُمْ : یعنی خواہشات کی پیروی کرنے اور جان و مال کو راہ خدا میں خرچ نہ کرنے سے بہتر ہے۔
اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو تو سمجھو اور یہ تجارت کرو ‘ اس کو نہ چھوڑو۔
Ayah 61:12یغفر لکم ذنوبکم و ید خلکم جنت تجری من تحتھا الانھر و مسکن طیبۃ فی جنت عدن ذلک الفوز العظیم
” جب ایسا کرو گے تو) اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تم کو (آخرت میں) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور عمدہ مکانوں میں داخل کر دے گا جو ہمیشہ باقی رہنے کے باغوں میں بنے ہوں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے
یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ : یہ جواب امر ہے یعنی اگر ایمان لاؤ گے اور جہاد کرو گے تو اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا ‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ استفہام محذوف کا جواب ہو ‘ استفہام محذوف پر استفہام مذکور دلا لت کر رہا ہے ‘ پورا کلام اصل میں اس طرح تھا ‘ کیا تم قبول کرو گے کہ میں تم کو ایک تجارت بتاؤں ‘ اگر قبول کرو گے تو اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔
جَنّٰتِ عَدْنٍ : عدن کا معنی ہے قیام کرنا ‘ ٹھہرنا ‘ استقرار۔ عَدَنَ بِمَکَانٍ کَذَا : فلاں جگہ ٹھہر گیا۔ معدن ‘ جواہرات کا مستقر۔ قرطبی نے لکھا ہے کہ بعض روایات میں آیا ہے جنتیں سات ہیں : دارالحلال ‘ دارالسلام ‘ دارلخلد ‘ جنت عدن ‘ جنت الماویٰ ‘ جنت نعیم ‘ جنت الفردوس۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ جنتیں چار ہیں ‘ جن کا ذکر آیت قرآنی میں آیا ہے ‘ ارشاد فرمایا ہے : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ‘ وَمِنْ دُوْنِھِمَا جَنَّتٰنِ ۔
صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو جنتیں چاندی کی ہیں ‘ جن کی عمارتیں اور سارا سامان چاندی کا ہے اور دو جنتیں سونے کی ہیں ‘ جن کی عمارتیں اور سارا سامان سونے کا ہے اور جنت عدن میں ربّ کی طرف دیکھنے سے مانع صرف عظمت الٰہی کی چادر ہوگی ‘ جو ربّ کے چہرہ پر ہوگی (بظاہر حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت عدن چاروں جنتوں سے الگ کوئی جنت ہے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ) چاروں جنتوں کی صفت ماویٰ بھی ہے اور خلد بھی اور عدن بھی اور السلام بھی (یعنی چاروں جنتوں میں سے ہر جنت کو خلد بھی کہا جاتا ہے اور ماویٰ بھی اور عدن بھی اور السلام بھی) حکیم ترمذی نے اسی قول کو پسند کیا ہے۔
ابو الشیخ نے کتاب العظمۃ میں حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ چار چیزیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنائیں : عرش اور عدن اور قلم اور آدم۔ پھر ہر چیز کو (خطاب کر کے) فرمایا : ہوجا ‘ وہ فوراً ہوگئی۔
ابن مبارک ‘ طبرانی ‘ ابو الشیخ اور بیہقی نے عمران بن حصین اور حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے آیت : وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْٓ جَنّٰتِ عَدْنٍ کے متعلق دریافت کیا گیا ‘ فرمایا : موتی کا ایک قصر ہے ‘ قصر کے اندر یاقوت سرخ کے (ستّر) مکان ہیں ‘ ہر مکان کے اندر زمرد سبز کے ستّر کمرے ہیں ‘ ہر کمرے میں ایک تخت بچھا ہوا ہے ‘ ہر تخت پر ستّر قسم کا کھانا ہے ‘ ہر کمرے کے اندر خادم اور خادمہ۔ مؤمن کو ہر صبح یہ تمام کھانا (ہر کمرے میں) ملے گا۔
ذٰلِکَ : یعنی گناہوں کی مغفرت اور جنت میں داخلہ۔
اَلْفَوْزُ الْعَظِیْمُ : اتنی بڑی کامیابی ہے کہ دوسری ہر کامیابی اس کے مقابلے میں حقیر ہے۔
Ayah 61:13واخری تحبونھا نصر من اللہ و فتح قریب و بشر المومنین .
اور ایک اور بھی ہے جس کو تم (دنیا میں) پسند کرتے ہو (یعنی) اللہ کی طرف سے مدد اور قریب (مدت میں ہی) فتح یابی اور (اے رسول ! ) آپ ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے۔ “
وَاُخْرٰی : یعنی جلد ملنے والی ایک نعمت اور ہے۔
تُحِبُّوْنَھَا : تم اس کو پسند کرتے ہو ‘ اس فقرہ میں اس بات پر تعریض ہے کہ تم کو فوری ‘ جلد ملنے والی نعمت پسند ہے۔
نَصْرٌ مِّنَ اللہ ..... یعنی اللہ کی طرف سے قریش کے خلاف مدد اور مکہ کی فتح یا خیبر کی فتح ‘ عطاء نے کہا : روم اور فارس کی فتح مراد ہے۔ میں کہتا ہوں ظاہر یہ ہے کہ عام فتح و نصرت مراد ہے کیونکہ بندہ کی کوشش اور جہاد کے ذریعہ سے منجانب اللہ ہر نصرت و فتح حاصل ہوتی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَلَیَنْصُرَنَّ اللہ مَنْ یَّنْصُرُہٗ ۔
وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ : یعنی آپ قریبی فتح و نصرت کی جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے ‘ مسلمانوں کو بشارت دے دیجئے۔
Ayah 61:14یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے پہلے امر حاضر کا صیغہ یعنی قل محذوف ہے اور بشر کا عطف قل پر ہے (اس صورت میں امر کا عطف امر پر ہوجائے گا) یا بشر کا عطف تو منون پر ہو کیونکہ تو منون بظاہر خبر ہے لیکن امر مراد ہے۔ اب مطلب اس طرح ہوگا : اے اہل ایمان ! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور اے رسول ! آپ مؤمنوں کو فتح کی بشارت دے دیجئے۔
ایھا الذین امنوا کونوا انصار اللہ کما قال عیسیٰ ابن مریم للحوارین من انصاری الی اللہ قال الحواریون نحن انصار اللہ فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل و کفرت طائفۃ فایدنا الذین امنوا علی عدوھم فاصبحوا ظاھرین .
” اے ایمان والو ! اللہ کے (دین کے) مددگار ہوجاؤ ‘ جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے (اپنے) حواریوں سے کہا تھا ‘ اللہ (کے دین) کے واسطے میرا مددگار کون ہے ؟ حواریوں نے کہا : ہم اللہ کے (دین کے) مددگار ہیں ‘ پھر اسکے بعد بنی اسرائیل کا ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور کچھ لوگ منکر رہے۔ سو ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی ‘ اس کے نتیجہ میں وہ غالب ہوگئے۔ “
اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللہ : یعنی اللہ کے دین کی مدد کے لیے۔
قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ : حواری۔ وہ بارہ آدمی تھے جو حضرت عیسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے ‘ حواریوں کی مزید تحقیق سورة آل عمران میں گزر چکی ہے۔
نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ : یعنی ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں۔
فَاٰمَنَتْ طَآءِفَۃٌ : یعنی بنی اسرائیل کا ایک گروہ عیسیٰ پر ایمان لے آیا ‘ وہی اس گروہ سے مراد ہیں۔
فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّھِمْ : یعنی حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے بعد اہل ایمان کو ان کے دشمنوں پر دلائل کے ساتھ یا بصورت جنگ اللہ نے غالب کردیا اور وہ مغلوب ہوگئے۔
بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے بعد ان کی قوم کے تین فرقے بن گئے۔ ایک فرقہ نے کہا : عیسیٰ خدا تھے جو اوپر چلے گئے۔ دوسرے فرقہ نے عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہا اور کہا : ان کے باپ نے ان کو اٹھا لیا۔ تیسرے فرقہ نے کہا : وہ اللہ کے بندے اور رسول تھے ‘ ہر فرقہ جدا جدا ہوگیا اور دو فرقے کافر ہوگئے۔ ایک فرقہ مؤمن رہا۔ اہل ایمان اور اہل کفر کا خوب جدال و قتال ہوا۔ دونوں کافر فرقے اہل ایمان پر غالب آئے اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک غالب رہے۔ حضور ﷺ کی بعثت کے بعد مؤمن فرقہ کو کافروں پر غلبہ حاصل ہوا ‘ یہی مراد ہے آیت : فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّھِمْ کا۔
بغوی نے بروایت مغیرہ ابراہیم کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ پر جو لوگ ایمان لائے ‘ ان کی دلیل غالب آگئی کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عیسیٰ کے کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہونے کی تصدیق کی۔ میں کہتا ہوں کہ : قال الحواریون پر فامنت کا اور فایدنا کا اور فاصبحوا کا عطف فَ کے ذریعہ سے ہے اور فَ محض تعقیب بلا مہلت پر دلالت کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض لوگ حضرت عیسیٰ کے زمانے کے بعد بلا تاخیر ایمان لے آئے اور بعض نے انکار کردیا پھر ایمان لانے کے فوراً بعد اللہ نے مؤمنوں کی تائید کی اور کافروں پر ان کو غالب کردیا۔ خلاصہ یہ کہ حواریوں کے قول کے بعد بلا تاخیر مؤمنوں کی تائید کی اور کافروں پر ان کو غالب کردیا۔ خلاصہ یہ کہ حواریوں کے قول کے بعد بلا تاخیر مؤمنوں پر غلبہ ہوگیا (اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک کافروں کا مؤمنوں پر غلبہ تھا اور بعثت محمدی کے بعد اہل ایمان اہل کفر پر غالب ہوگئے) ‘ واللہ اعلم۔
الحمد اللہ سورة الصف کی تفسیر ختم ہوئی