61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsسراج البیان

Ayahs 61:1–5

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کی تسبیح کرتا ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

مومنو ! وہ بات کیوں کہتے ہو ۔ جو تم نہیں کرتے

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک یہ بات نہایت ناپسند ہے ۔ کہ تم وہ بات کہو جو نہ کرو

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے ۔ جو اس کی راہ میں اس طرح قطار باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا ۔ کہ اے قوم مجھے کیوں ستاتے ہو ۔ اور تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہواہوں ۔ پھر جب وہ ٹیڑھے چلے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیئے ۔ اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا

بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان آیات میں انبیاء کے حالات کو بیان کیا ہے ۔ تاکہ حضور ﷺ کو معلوم ہو ۔ کہ امم سابقہ نے کیونکر حق و انصاف کی مخالفت کی ۔ اور کس طرح اپنے انبیاء کو بوقلمون اذیتوں سے شکستہ خاطر کیا ہے ۔ فرمایا ۔ کہ جب حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے کہا کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں ۔ اور تمہاری اصلاح کے لئے مبعوث ہوا ہوں ۔ تو انہوں نے کیا کہا ؟ کیا فوراً تسلیم کرلیا ؟ نہیں بلکہ مطالبہ کیا ۔ کہ ارنا اللہ جھرۃ پہلے جس خدا کی توحید کی طرف تم ہم کو دعوت دیتے ہو ۔ اس کو کھلم کھلا دکھاؤ۔ جب مانیں گے ۔ پھر گو سالہ کی پرستش شروع کردی ۔ اور خدا کی توحید کا عملاً انکار کیا ۔ جہاد کے لئے حضرت موسیٰ نے ابھارا ۔ تو کہنے لگے ۔ کہ فاء ھب انت وربک کہ آپ اور آپ کا رب اس مہم کو سر کرنے کے لئے جائیں ۔ ہم میں تو سکت نہیں ہے ۔ ہم تو یہیں جمے بیٹھے رہیں گے ۔ اس کے علاوہ اور کئی الزام اور تہمتیں تراشیں جس سے اللہ کے پیغمبر کو پہنچا ۔ اس پر انہوں نے ازراہ تاسف فرمایا ۔ کہ کم بختو ! جانتے بوجھتے ہو ۔ کہ میں خدا کا رسول ہوں ۔ مگر پھر ایذا دہی سے باز نہیں آتے ہو ۔ فرمایا ۔ یہ بدکرداروں کی قوم تھی ۔ اس لئے ان کو اللہ کی طرف سے توفیق ہدایت عطا نہیں ہوئی ۔ حل لغات :۔ مرصوص ۔ سیسہ ، پلائی ہوئی ۔ رصاص سے مشقق ہے ۔ جن کے معنے سیسہ کے ہیں ۔ میرے بعد اللہ کا رسول (علیہ السلام) آئے گا
Ayah 61:6

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا ۔ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں ۔ تجھ سے آگے جو توراۃ ہے ۔ میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد (ف 1) آئے گا ۔ اس کا نام احمد ہوگا ۔ جب وہ کھلی نشانیاں لے کر اس کے پاس آیا تو بولے کہ یہ تو کھلا جادو ہے

ف 1: حضرت مسیح نے یہودیوں کو ہرچند یقین دلایا ۔ کہ میں تورات کی تصدیق کے لئے آیا ہوں ۔ نئی شریعت کا موجد نہیں ہوں ۔ مگر انہوں نے انکار کیا ۔ اور ہمیشہ یہی کہا ۔ کہ ہم تم کو پیغمبر ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ پھر انہوں نے اس صداقت کبریٰ کا بھی اعلان کیا کہ میرے سعید زمانہ کے بعد تمہارے پاس اللہ کا رسول آئے گا ۔ جس کا نام احمد ہوگا ۔ جو اللہ کی حمد کے ترانے دنیا کے کانوں تک پہنچائے گا ۔ مگر خود اس کے ماننے والوں نے جب کہ وہ احمد ﷺ نامی ذات مبعوث ہوئی ۔ تو باوصف دلائل پیش کئے جانیکے ماننے سے انکار کیا ۔ اور صاف صاف کہہ دیا کہ ہم بنی اسماعیل میں اس شرف و بزرگی کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ یہ واضح رہے کہ تورات وانجیل میں متعدد مقامات پر حضور ﷺ کی آمد کی پیشگوئی موجود ہے ۔ یہاں جس خبر کا ذکر ہے ۔ وہ بالفاظ پر بنا ۔ متی کی انجیل میں مذکور ہے ۔ اسمیں صاف لکھا ہے ۔ کہ میرے بعد اللہ کا رسول ﷺ آئے گا ۔ جن کا نام احمد ﷺ ہوگا ۔ موجودہ انجیلوں میں بھی فارتلیط کا لفظ آیا ہے ۔ جس کے معنے تسلی دینے والے کے ہیں ۔ حضرت مسیح نے واضح لفظوں میں فرمایا ہے کہ میں تم میں سے سب باتیں اس وقت نہیں کہہ سکتا کیونکہ تم میں ان کے لئے قوت برداشت نہیں ہے ۔ البتہ میرے بعد ایک شخص آنے والا ہے ۔ جو تم کو وہ اسرار بتائیگا ۔
Ayah 61:7

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ۔ جس نے اللہ پر (ف 2) جھوٹ باندھا ۔ حالانکہ اس کو اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ ظالم کو ہدایت نہیں کرتا

ف 2: فرمایا ۔ کہ یہ لوگ جو اللہ کی طرف غلط عقائد منسوب کرتے ہیں ۔ ان سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوسکتا ہے ۔ یہ اس قابل نہیں ہیں ۔ کہ ہدایت سے بہرہ مند ہوسکیں ۔
Ayah 61:8

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور (ف 3) اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے ۔ اگرچہ کافر ناپسند کریں

ف 3: فرمایا کہ اسلام تو اللہ کی طرف سے نور اور روشنی ہے ۔ جس سے نوع انسانی ہمیشہ کسب ضیا کرتی رہے گی ۔ مگر منکرین یہ چاہتے ہیں ۔ کہ اس چراغ ہدایت اور فانوس صداقت کو پھونکوں سے بجھادیں ۔ اور اپنی حقیر وناپاک مساعی سے اس ارتقاء کو روک دیں ۔ باقی صفحہ حالانکہ مقدرات الٰہیہ سے ہے ۔ کہ اس بلال کو بدر کامل بنایا جائے ۔ اور اس روشنی کو چار ونگ عالم میں پھیلایا جائے ۔ یہ پیغمبر جن کو ہدیات اور دین حق دے کر بھیجا ہے ۔ ان کے لئے یہ ملے ہوچکا ہے ۔ کہ ان کا دین تمام ادیان پر غالب آئے گا ۔ اور ساری کائنات اس کو قبول کریگی ۔ چاہے شرک اس بھون چڑھائیں اور اس حقیقت کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوں ۔ حل لغات :۔ اسمہ ۔ سے نام بھی مراد ہے اور ہوسکتا ہے اس سے مراد صفت ہو لیطفعوا ۔ اطفاء سے ہے بمعنی بجھا دینا ۔
Ayahs 61:9–10

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ۔ تاکہ اسے اپنے دنیوں پر غالب کرے اور اگرچہ مشرک ناپسند کریں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

مومنو ! میں تمہیں ایک سوداگری (ف 1) بتاؤں ؟ کہ تمہیں دکھ کی مار سے بچائے

بہترین تجارت 1: اس آیت میں ایک ایسی تجارت کی جانب رانمائی فرمائی ہے ۔ جس کی وجہ سے انسان عذاب الیم سے بچ جاتا ہے ۔ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ جنات ونعیم کی نعمتیں میسر ہوجاتی ہیں ۔ اور دنیا میں سربلندی ، نصرت فتح اور کامرانی حاصل ہوتی ہے ۔ یعنی دنیا وعقبیٰ کے لحاظ سے اس میں گھاٹے اور خسارے کا احتمال ہی نہیں ۔ دنیا میں اس تجارت کی وجہ سے رفعت وارتقاء اور عزت و غلبہ عنایت ہوتا ہے ۔ اور آخرت میں فوزوفلاح اور رضا و خوشنودی اور پھر اس اعمال اسا نہیں ۔ کہ اپنے پاس سے دینا پڑے بلکہ سرمایہ بھی اس کا ہے ۔ جس سے سودا ہورہا ہے ۔ یہ محض اس کا فضل اور گرم گستری ہے ۔ کہ وہ اس سرمایہ کو قبول فرمالیتا ہے ۔ جو واقعہ میں اسی کا بخشا ہوا ہے ۔ اور پھر اس کے معاوضہ میں بہترین نفع بھی دیتا ہے ۔ سو چو اور غور کرو ۔ اس سے بہتر کیا کاروبار ہوسکتا ہے ۔ کہ جس میں کونین کے فوائد مضمر ہوں اور اپنے پاس سے ایک پھوٹی کوڑی بھی خرچ نہ کرنا پڑے یہ تجارت نہایت آسان ہے ۔ اس میں شرط یہ ہے کہ اول ایمان واخلاص ہو ۔ اور اس کے بعد جان اور مال کی قربانی اور یہ جان اور مال کس کا ہے ۔ کیا اسی نے تمہیں دولت نہیں بخشی ہے ؟ جو مانگ رہا ہے ۔ اور یہ زندگی اسی کی مہربانی کا نتیجہ نہیں جو طلب کررہا ہے ؎ جان بھی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا قرآن حکیم کا ارشاد ہے ۔ کہ اگر تم اس تجارت کے فوائد کو سمجھ جاؤ۔ تو تمہیں معلوم ہوجائے ۔ کہ یہ تمہارے حق میں کس درجہ بہتر اور مفید ہے ۔ اور اس کی وجہ سے تم کو کتنا روحانی اور مادی فائدہ پہنچتا ہے ۔ قرون اولیٰ میں جب تک مسلمان یہ تجارت کرتے رہے ۔ اور انہوں نے اپنی جان اور مال کو مال نہیں سمجھا ۔ ان کا ہر قدم آگے بڑھتا رہا ۔ اور جان اور مال کی تمام آسائشیں ان کو میسر ہیں ۔ مگر جب یہ لوگ بزدل ہوگئے ۔ جان ان کو بہت زیادہ عزیز اور پیاری معلوم ہونے لگی ۔ مال کو یہ اپنی زندگی کا نصب العین قرار دینے لگے ۔ اور اس کی محبت پرستش کی حد تک پہنچ گئی ۔ اس وقت سے ہر دوقسم کی آسودگیوں کو ان سے چھین لیا گیا ۔ اب کیفیت یہ ہے کہ نہ جان ان کے قبضہ میں ہے اور نہ مال ۔ دونوں پر اغیار کا قبضہ ہے ۔ وہ جب چاہیں ان سے یہ دونوں چیزیں چھین لیں اور یہ احتیاج کرنے پر بھی قادر نہ ہوں ۔ حل لغات :۔ جنت عدن ۔ دائمی ۔ باغ ۔ ہمیشہ رہنے کے باغ الحواریون ۔ حواری کی ۔ بمعنی مددگار ۔ اور اس کے معنے سفید پوست اور دھوبی کے ہیں ۔
Ayahs 61:11–14

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو ۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دیگا اور تمہیں باغوں میں داخل کرے گا ۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور عمدہ گھروں میں ہمیشہ رہنے کے باغوں میں ہوں گے ۔ یہ ہے بڑی مراد ملنی

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور ایک اور چیز بھی دیگا ہم سے تم چاہتے ہو (یعنی ) اللہ کی طرف سے مدد اور فتح قریب اور مومنوں کی خوشخبری سناؤ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

مومنو ! تم اللہ کے انصار (مددگار) ہوجاؤ جیسے مریم کے بیٹے عیسیٰ نے حواریوں (اپنے یاروں) سے کہا تھا کہ کون ہے جو اللہ کی راہ (ف 1) میں میری مدد کرے ۔ حواری (یار) بولے ۔ کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔ پھر بنی اسرائیل میں ایک جماعت ایمان لائی اور ایک جماعت کافر رہی ۔ سو ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان دار تھے ۔ ان کے دشمنوں پر مدد دی ۔ پھر وہ غالب رہے

ف 1: اس آیت میں مسلمانوں کو اسلام کی نصرت کے لئے ابھارا اور آمادہ کیا ۔ ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت کے لئے اور اس کے اعزاز وتفوق کے لئے کمر بستہ ہوجاؤ۔ اور اسی گرم جوشی اور استقلال کے ساتھ اسلام کی پکار کا استقبال کرو ۔ جس طرح حضرت مسیح کے حواریوں نے کہا تھا کہ نحن انصار اللہ حالانکہ مخالفین کی تعداد زیادہ تھی ۔ اور ہر طرح طاقتور تھے ۔ مگر تم نے دیکھا کہ یہ مومنوں کا گروہ بالآخر غالب آیا ۔ اور منکرین عیسائی ہوگئے یا مسیحی اقتدار رکے سامنے ان کی گرنیں جھک گئیں ۔ اس تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ اناجیل میں حضرت مسیح کی بےقدری اور تذلیل کا جو افسانہ مذکور ہے ۔ وہ محض جھوٹ ہے ۔ اور بعد میں وضع کیا گیا ہے ۔ تاکہ ان کی مظلومیت کو ظاہر کرکے تبلیغ و اشاعت کے لئے دلوں میں ہمدردی کے جذبات پیدا کئے جائیں ۔ حل لغات :۔ ظاھرین ۔ غالب یا بااقتدار ۔