Ayahs 61:1–21۔ عبد بن حمید وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ ؓ نے یہ کہا اگر ہم جان لیتے کہ سب سے محبوب اعمال اللہ کے نزدیک کون سے ہیں تو ہم یقیناً وہ کرتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خبردیتے ہوئے فرمایا آیت ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانہم بنیان مرصوص۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خاص طور پر پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ان لوگوں نے اس کو ناپسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنو لم تقولون مالاتفعلون۔ اے ایمان والو ! ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں اور یہ بات اللہ بڑی ناراضگی کی ہے جو کہو وہ نہ کرو۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہی لوگ کہتے تھے اللہ کی قسم ! اگر ہم جان لیتے کہ اللہ کی طرف کون سے اعمال محبوب ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لم تقولون مالا تفعلون سے لے کر آیت بنیان مرصوص تک تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نزدیک محبوب عمل پر ان کی رہنمائی فرمائی۔
3۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ ؓ نے کہا اگر ہم جان لیتے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سے اعمال محبوب ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی آیت یا ایہا الذین اٰمنو لم تقولون مالا تفعلون سے لے کر آیت بنیان مرصوص تک۔
4۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن عساکر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لم تقولون مالا تفعلون۔ سے لے کر آیت بنیان مرصوص تک کہ یہ آیات انصار میں سے ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی کہ ان میں عبداللہ بن رواحہ ؓ بھی تھے۔ انہوں نے اپنی مجلس میں کہا اگر ہم جان لیتے کہ کونسا عمل اللہ کو محبوب ہے تو ہم اس پر عمل کرتے یہاں تک کہ ہم کو موت آجاتی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات ان کے بارے میں بیان فرمائیں۔ ابن رواحہ ؓ نے فرمایا میں برابر اللہ کے راستے میں رکا رہوں گا یعنی جہاد کرتا رہوں گا یہاں تک کہ میں مرجاؤں بالآخر وہ شہید ہوگئے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب عمل
5۔ امام مالک (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت انصار میں سے ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ان میں عبداللہ بن رواحہ ؓ بھی تھے۔ ان لوگوں نے مجلس میں کہا اگر ہم جان یتے کون سے اعمال اللہ کے نزدیک محبوب ہیں تو ہم ان پر عمل کرتے یہاں تک کہ ہم مرجاتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان کے بارے میں نازل فرمائی۔ ابن رواحہ ؓ نے فرمایا میں برابر اللہ کے راستے میں رکا رہوں گا یہاں تک کہ شہید ہو کر مروں گا۔
6۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ ایمان والوں نے کہا اگر ہم جان لیتے کہ اللہ کے نزدیک کون سے اعمال محبوب ہیں تو ہم یقیناً اس پر عمل کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو محبوب اعمال بتائے اور فرمایا آیت ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو محبوب رکھتے ہیں جو اس کے راستے میں صف باندھ کر لڑتے ہیں۔ ان کے لیے بیان فرمایا کہ محبوب عمل اللہ کے راستے میں لڑنا ہے۔ پھر غزوہ احد کے دن انہیں اس سے آزمایا گیا تو وہ نبی اکرم ﷺ سے جدا ہو کر پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لم تقولون مالا تفعلون۔
7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ مسلمانوں نے کہا اگر ہمیں کسی کام کا حکم کیا جاتا ہے تو ہم اس کو ضرور کرتے تو یہ آیت نازل ہوئی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لم تقولون مالا تفعلون۔ فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت جہاد کے بارے میں نازل ہوئی ایک آدمی کہتا تھا۔ میں نے قتال کیا اور میں نے یہ یہ کیا حالانکہ اس نے ایسا نہیں کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بارے میں سخت نصیحت فرمائی۔
خلاف واقعہ باتیں کرنا جھوٹ میں داخل ہے
8۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کوئی لشکر بھیجتے تھے۔ جب وہ واپس لوٹتے تو وہ بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تھے۔ اور وہ کہتے تھے۔ ہم نے اس طرح قتال کیا اور ہم نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
9۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ القاص، بغض اور نفرت میں غور فکر کرنے لگا تو اس سے کہا گیا کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول دیکھا ہے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لم تقولون مالا تفعلون۔ کبر مقتا عنداللہ ان تقوللوا مالا تفعلون۔ کیا وہ آدمی جو اپنی تعریف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اس طرح اور اس طرح نیکی اور خیر کا کام کیا یا وہ آدمی جو نیکی کا حکم کرتا ہے اور برائی سے روکتا ہے حالانکہ اس میں کوتاہی اور غفلت ہوتی ہے تو فرمایا ایسے دونوں آدمی ممقوت یعنی مبغوض اور قابل نفرت ہیں۔
10۔ عبد بن حمید نے ابو خالد الوالبی (رح) سے روایت کیا کہ ہم خباب ؓ کے پاس بیٹھے تھے۔ وہ خاموش رہے تو ہم نے کہا کیا آپ ہم کو حدیث بیان نہیں فرمائیں گے کہ ہم تو آپ کے پاس اس لیے بیٹھے ہیں۔ تو انہوں نے نے فرمایا کیا تم مجھ کو حکم کرتے ہو کہ میں وہ بات کہوں جس کو میں خود نہیں کرتا۔
11۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کانہم بنیان مرصوص گویا کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں یعنی ایسی مضبوط اور پختہ دیوار جو زائل نہ ہو یعنی اپنی جگہ سے نہ ہٹے اور اس کے بعض حصے بعض کے ساتھ مضبوط جڑے ہوئے ہوں۔
Ayahs 61:3–412۔ عبد بن حمید وابن المنذر قتادہ (رح) سے آیت ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کے بارے میں روایت کیا کہ تم عمارت والے کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ قطعاً پسند نہیں کرتا کہ اس کی عمارت میں اختلاف یعنی کوئی ٹیڑھا پن ہو تو اس طرح اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں فرماتے کہ اس کے حکم اور معاملہ میں اختلاف یا کوئی عیب ہو بیشک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے ان کی جنگوں کا جو طریقہ کار بیان فرمایا وہی ان کے لیے نمازوں میں طریقہ بیان فرمایا سو تم لازم پکڑو اللہ کے حکم کو کیونکہ یہ حفاظت اور نجات کا ذریعہ اس شخص کے لیے جس نے اسے اپنا لیا یعنی اس کے حکم پر عمل کیا۔
13۔ ابن مردویہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کھڑی ہوتی تو آپ ہمارے کندھوں کو اور ہمارے سینوں کو ہاتھ لگاتے تھے۔ اور فرماتے تھے اختلاف نہ کرو یعنی آگے پیچھے نہ ہوجاؤ ورنہ تمہارے دل بھی مختلف ہوجائیں گے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صفوں پر رحمتیں بھیجتے ہیں۔ اور تم کندھوں کو کندھوں کے ساتھ اور قدموں کو قدموں کے ساتھ ملا لو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نماز میں وہی پسند کرتا ہے جیسے لڑائی میں پسند کرتا ہے جیسے فرمایا آیت صفا کانہم بنیان مرصوص ایسی صف گویا کہ وہ سیسہ بلائی ہوئی دیوار ہے۔
14۔ احمد وابن ماجہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف دیکھ کر ہنستے ہیں۔ وہ لوگ جب نماز کے لیے صف بناتے ہیں اور وہ لوگ جو مشرکین سے لڑنے کے لیے میدان میں صف بناتے ہیں اور وہ آدمی جو آدھی رات میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔
15۔ ابن مردویہ نے عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ ام الکتاب یعنی لوح محفوظ میں خاتم النبیین ہوں اس وقت سے کہ آدم (علیہ السلام) اپنی مٹی میں گوندھے ہوئے تھے۔ اور میں عنقریب اس کی تاویل تم کو بتاؤں گا میں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہوں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہوں جو انہوں نے اپنی قوم کو دی تھی۔ اور اپنی ماں کا خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا کہ ان سے ایک نور خارج ہوا کہ جس نے ان کے لیے شام کے محلات روشن کردئیے۔
16۔ ابن مردویہ نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ہم کو جعفر بن ابی طالب ؓ کے ساتھ نجاشی کی زمین کی طرف چلے جانے کا حکم فرمایا۔ تو اس نے کہا کس چیز نے تجھے روکا کہ تو میرے لیے سجدہ کرے ؟ میں نے عرض کیا ہم اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے۔ پھر اس نے پوچھا وہ کون ہے ؟ جس نے سجدے سے روکا۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان اپنے رسول کو بھیجا ہے اور یہ وہی رسول ہیں کہ جس کی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے بشارت دی کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا۔ جس کا نام احمد ہوگا۔ بس اس نے ہم کو حکم دیا کہ ہم اللہ کی عبادت کریں اور ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔
17۔ مالک والبخاری ومسلم والدارمی والترمذی والنسائی نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے اور میں ماحی یعنی مٹانے والا ہوں کہ میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائیں گے کہ میں عاقب ہوں یعنی آخر میں آنے والا جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔
18۔ الطیالسی وابن مردویہ نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں محمد ہوں میں احمد ہوں اور میں حاشر ہوں (مردوں کو اٹھانے والا) اور میں نبی التوبہ ہوں اور میں نبی الملحمۃ ہوں (یعنی جنگ کا پیغام دینے والا نبی) ۔
رسول اللہ ﷺ کا رعب
19۔ ابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا مجھے وہ چیزیں دی گئیں جو اللہ کے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دی گئیں۔ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ وہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئیں۔ اور میرا نام احمد رکھا گیا اور میرے لیے زمین کی مٹی کو پاک بنادیا گیا اور میری امت کو امتوں میں سے خیر والی امت بنادیا گیا۔
20۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلما جاء ہم بالبینت۔ جب ان کے پاس دلائل آئے یعنی جب محمد ﷺ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے اور فرمایا۔ آیت یریدون لیطفؤا نور اللہ با فواہہم کہ وہ لوگ اپنے مونہوں سے اللہ کے نور کو بجھانے کا ارادہ کرتے ہیں یعنی اپنی زبانوں سے۔
21۔ عبد بن حمید نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ وہ سورة مائدہ میں، سورة صف میں اور سورة یونس میں ” ساحر “ پڑھتے تھے۔
22۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت ہذا سحر مبین۔ بغیر الف کے، اور آیت واللہ متم نورہ کو تنوین کے ساتھ اور نورہ کو نصب کے ساتھ پڑھا۔
Ayahs 61:5–101۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا ہل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم۔ اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی سوداگری نہ بتاؤں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بچالے۔ نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا اگر ہم اس تجارت کو جان لیتے تو ہم اس میں اپنے مالوں اور اپنے اہل و عیال کو لگادیتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس تجارت کو بیان فرمایا کہ آیت تو منون باللہ ورسولہ کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لاؤ اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو یہی تجارت ہے۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت یا ایہا الذین اٰنوا ہل ادلکم علی تجارۃ کے بارے میں روایت کیا کہ صحابہ کرام ؓ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ اسے بیان نہ فرماتے اور اس پر رہنمائی نہ فرماتے تو لوگ افسوس کرتے رہتے کہ کاش وہ اس کے بارے میں جانتے ہوتے یہاں تک کہ وہ اس کا مطالبہ کرتے پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر دلالت کرتے ہوئے فرمایا آیت تو منون باللہ ورسولہ الایۃ۔
3۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت تنجیکم کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
Ayahs 61:11–144۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت کونوا انصار اللہ کو اضافت کے ساتھ پڑھا۔
5۔ عبد بن حمید وعبد الرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا کونوا انصار اللہ۔ اے ایمان والو ! اللہ کے دین کے مددگار ہوجاؤ۔ اور اللہ کی حمد کے ساتھ ایسا ہوا کہ ستر آدمی آئے اور انہوں نے عقبہ گھاٹی کے پاس آپ سے بیعت کی پھر انہوں نے آپ کی مدد کی۔ اور آپ کو پناہ دی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کردیا۔ اور ان کے علاوہ کسی قبیلے کو آسمان سے ایسے نام سے نہیں پکارا گیا جو اس سے پہلے تھے سوائے ان کے ہم کو یہ بتایا گیا ان میں سے کسی نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ تم نے اس آدمی یعنی محمد ﷺ سے کسی چیز پر بیعت کر رہے غور سے سنو ! بیشک تم پورے عرب سے جنگ کرنے پر اس آدمی کی بیعت کر رہے ہو یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی ! کہ آپ اپنے رب کے لیے یا اپنی ذات کے لیے جو چاہیں شرط لگالیں تو آپ نے فرمایا میں شرط عائد کرتا ہوں اپنے رب کے لیے کہ تم اسی کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ گے اور اپنی ذات کے لیے یہ شرط رکھتا ہوں کہ تم میری ہر اس چیز سے حفاظت کرو گے کہ جس سے تم اپنی ذاتوں اور اپنی اولاد کی حفاظت کرتے ہو۔ تو انہوں نے کہا اگر ہم ایسا کرلیں تو ہمارے لیے کیا ہوگا اے اللہ کے نبی ! آپ نے فرمایا : تمہارے لیے مدد ہوگی دنیا میں اور جنت ہوگی آخرت میں۔ تو انہوں نے اسے قبول کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں جزا عطا فرمادی۔ قتادہ (رح) نے فرمایا اور تمام حواری سب کے سب قریش میں سے تھے۔ ابوبکر وعمر وعلی وحمزہ وجعفر وابوعیبدہ بن الجراح و عثمان بن مظعون و عبدالرحمن بن عوف وسعد بن ابی وقاص و عثمان بن عفان وعبد الرحمن بن عوف، وسعد بن ابی وقاص و عثمان بن عفان وطلحہ بن عبیداللہ اور الزبیر بن القوام ؓ ۔
انصار کے نقیبوں کا ذکر
6۔ ابن اسحاق وابن سعد نے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو فرمایا جو عقبہ کے پاس آپ کو ملے کہ اپنے میں سے بارہ افراد کو میری طرف بھیجو تو وہ اپنی قوم پر کفیل ہوں گے۔ جیسے کہ حواری عیسیٰ (علیہ السلام) کے کفیل تھے۔
7۔ ابن سعد نے محمد بن لبید (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نقیبوں سے فرمایا کہ تم اپنی قوم پر اس طرح کفیل ہو جیسے حواری عیسیٰ (علیہ السلام) کے کفیل تھے اور میں کفیل ہوں اپنی قوم کا انہوں نے کہا جی ہاں۔
8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت من انصاری الی اللہ۔ اللہ کی طرف کون میری مدد کرنے والا ہے یعنی کون اللہ کی طرف بلانے میں میری اتباع کرے گا ؟ اور فرمایا آیت فاصبحوا ظہرین اس کے نتیجے میں وہ غالب ہوگئے۔ یعنی جو عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ان کی قوم میں سے وہی غالب رہے۔
9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت فایدنا الذین اٰمنوا۔ ہم نے ایمان والوں کی مدد کی۔ یعنی پھر ہم نے ایمان والوں کو قوت دی۔
10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاصبحوا ظہرین۔ اس کے نتیجے میں وہ غالب ہوگئے۔ سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر جو لوگ ایمان لائے ان کی حجت غالب آگئی۔ محمد ﷺ کی تصدیق کی وجہ سے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں۔
11۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فایدنا الذین اٰمنوا۔ ہم نے ایمان والوں کی مدد کی۔ یعنی محمد ﷺ کے ذریعہ سے آیت فاصبحوا۔ یعنی آج آیت ظہرین۔ وہ غالب ہوگئے۔ واللہ اعلم۔