As-Saff 61:2

As-Saff · from ayah 2

61:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ۟يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ

مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جو کیا نہیں کرتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, why do you say what you do not do?

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saff

All translations of 61:2

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جو کیا نہیں کرتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! تم وه بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! ایسی بات کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو ! تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو تم خود نہیں کرتے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے مسلمانو ! تم کیوں کہتے ہو وہ جو کرتے نہیں ہو ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مومنو ! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو، جو کیا نہیں کرتے

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers, why do you profess that which you do not practise?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, why do you say what you do not do?

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, why do you say what you do not do?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! Why do you say that which you do not do

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! Why say ye that which ye do not?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, why do you say what you do not do?

— Saheeh International

Believers, why do you preach what you do not practice?

— Muhammad Sarwar

O you who believe! why do you say that which you do not do?

— Muhammad Habib Shakir

O ye who believe! wherefore say ye that which ye do not?

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! Why say ye that which ye do not?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 61:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

ایفائے عہد ایمان کی علامت ہے اور صف اتحاد کی علامت پہلی آیت کی تفسیر کئی بار گذر چکی ہے اب پھر اس کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جو کہیں اور نہ کریں، وعدہ کریں اور وفا نہ کریں، بعض علمائ، سلف نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ وعدہ کا پورا کرنا مطلقاً واجب ہے جس سے وعدہ کیا ہے خواہ وہ تاکید کرے یا نہ کرے، ان کی دلیل بخاری و مسلم کی یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی تین عادتیں ہوتی ہیں (1) جب وعدہ کرے خلاف کرے (2) جب بات کرے جھوٹ بولے (3) جب امانت دیا جائے خیانت کے، دوسری صحیح حدیث میں ہے چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چار میں سے ایک ہو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة الصَّف 1 یہ اس خطبہ کی مختصر تمہید ہے۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة الحدید، حاشیہ 1۔ 2 کلام کا آغاز اس تمہید سے اس لیے کیا گیا ہے کہ آگے جو کچھ فرمایا جانے والا ہے اس کو سننے یا پڑھنے سے پہلے آدمی یہ بات اچھی طرح سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ بےنیاز اور اس سے بالاتر ہے کہ اس کی خدائی کا چلنا کسی کے ایمان اور کسی کی مدد اور قربانیوں پر موقوف ہو۔ وہ اگر ایمان لانے والوں کو ایمان میں خلوص اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ صداقت کا بول بالا کرنے کے لیے جان و مال سے جہاد کرو، تو یہ سب کچھ ان کے اپنے ہی بھلے کے لیے ہے۔ ورنہ اس کے ارادے اس کے اپنے ہی زور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

اس سورة نے یہ بھی بتلا دیا کہ احب الاعمال جس کی تلاش میں یہ حضرات تھے وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے اور ساتھ ہی ان حضرات نے جو ایسے کلمات کہے تھے کہ اگر ہمیں معلوم ہوجائے تو ہم اس پر عمل کرنے میں ایسی ایسی جانبازی دکھائیں وغیرہ جن میں ایک قسم کا دعویٰ ہے کہ ہم ایسا کرسکتے ہیں، اس پر ان حضرات کو تنبیہ کی گئی کہ کسی مومن کے لئے ایسے دعوے کرنا درست نہیں، اسے کیا معلوم ہے کہ وقت پر وہ اپنے ارادے کو پورا کر بھی سکے گا یا نہیں، اس کے اسباب کا جمع ہونا اور موانع کا زائل ہونا اس کے اختیار میں نہیں، پھر خود اس کے دست وبازو اور اعضاء وجوارح بلکہ قلبی عزم و ارادہ ان میں سے کوئی چیز بھی بالکلیہ اس کے قبضہ میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 2–3

(یایھا الذین امنوا لم تقولون مالا تفعلون کبرمقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون) (2، 3)۔ (زبان کے غازیوں کو تنبیہ)۔ خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن انہی کی طرف سے جو ایمان و اسلام اور انفاق و جہاد کے دعوے تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے لیکن جب آزمائش کا وقت آتا تو بالکل بزدل ثابت ہوتے۔ ان کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم اس بات کا دعویٰ ہی کیوں کرتے ہو جو پورا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے ! اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ اس زبانی جہاد سے تم کوئی سعادت کی کمائی کر رہے ہو تو یہ خیال بالکل غلط ہے۔ تمہارا یہ رویہ اللہ کے نزدیک تمہارے لیے موجب سعادت نہیں بلکہ مزید غضب کا باعث ہے کہ تم زبان سے تو بڑے غازی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 یہاں ندا اگرچہ عام ہے لیکن اصل خطاب ان مومنوں سے ہے جو کہہ رہے تھے کہ اللہ کو جو سب سے زیادہ پسند عمل ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے چاہئیں تاکہ ان پر عمل کیا جاسکے لیکن آپ ﷺ کے پاس جاکر پوچھنے کی جرت کوئی نہیں کر رہا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی (مسند احمد)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–4

2: امام احمد اور امام بغوی نے روایت نقل کی ہے کہ بعض صحابہ کرام نے آپس میں اس قسم کی باتیں کی تھیں کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کو کونسا عمل سب سے زیادہ پسند ہے تو ہم اس کے لیے جان تک قربان کردیں۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو بلایا، اور یہ سورت انہیں پڑھ کر سنائی، (تفسیر مظہری اور ابن کثیر) اس میں پہلے تو انہیں یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکالنی چاہیے جس میں دعوے کا کوئی پہلو نکلتا ہو کہ میں فلاں کام ضرور کروں گا، کیونکہ عین ممکن ہے کہ کسی وجہ سے وہ کام ہو نہ سکے اور دعویٰ جھوٹا ہوجائے، اور انسان جو کچھ کہہ رہا ہے، وہ کر نہ سکے۔ ہاں اپنے اوپر بھروسہ کرنے کے بجائے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یایھا الذین ................ مرصوص (4) (16 : 2 تا 4) ”” اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔ اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں “۔ علی ابن طلحہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ مسلمانوں میں سے بعض لوگ ایسے تھے کہ فرضیت جہاد سے پہلے کہتے تھے کہ اللہ ہمیں کوئی ایسا عمل بتادے ، جو اسے بہت ہی محبوب ہو ، ہم اس پر عمل کریں۔ اللہ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–4

5 بندہ کو لاف زنی اور دعوے کی بات سے ڈرنا چاہیے کہ پیچھے مشکل پڑتی ہے۔ زبان سے ایک بات کہہ دینا آسان ہے، لیکن اس کا نباہنا آسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض اور بیزار ہوتا ہے جو زبان سے کہے بہت کچھ اور کرے کچھ نہیں۔ روایات میں ہے کہ ایک جگہ مسلمان جمع تھے، کہنے لگے ہم کو اگر معلوم ہوجائے کہ کون سا کام اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے تو وہ ہی اختیار کریں۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ یعنی دیکھو ! سنبھل کر کہو، لو ہم بتلائے دیتے ہیں، کہ اللہ کو سب سے زیادہ ان لوگوں سے محبت ہے جو اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں کے مقابلہ پر ایک آہنی دیوار کی طرح ڈٹ جاتے ہیں اور میدان جنگ میں اس شان سے صف آرائی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 2 { یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ } ”اے مسلمانو ! تم کیوں کہتے ہو وہ جو کرتے نہیں ہو ؟“ اس آیت میں زجر و توبیخ اور جھنجھوڑنے کا وہی انداز پایا جاتا ہے جو اس سے قبل ہم سورة الحدید میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ بلکہ یہ اسلوب زیر مطالعہ مدنی سورتوں میں جگہ جگہ پایا جاتا ہے۔ قبل ازیں سورة الحدید کے تمہیدی کلمات میں اس اسلوب کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے کہ ان سورتوں کے زمانہ نزول 5 ہجری کے بعد تک پرانے مسلمانوں کی نسبت نومسلموں کی تعداد زیادہ ہوچکی تھی۔ ایمان کی گہرائی اور جذبہ ایثار و قربانی کے حوالے سے نووارد مسلمانوں کی کیفیت چونکہ ”السابقون الاولون“ اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 2–3

2 قول وفعل کا تضاد بہت بری خصلت ہے :۔ دوسری اور تیسری آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ انسان دوسروں کو ایسی باتوں کی نصیحت کرے جن پر وہ خود عمل نہ کرتا ہو۔ مثلاً دوسروں کو اور بالخصوص اپنی اولاد کو یہ نصیحت کرے کہ سچ بولنا بہت اچھی عادت ہے لہذا ہمیشہ سچ بولا کرو۔ لیکن خود ان سے ایسی باتیں کہے جن سے اس کا جھوٹ واضح ہوجائے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسی لاف زنی مت کرو یا ایسی شیخیاں مت بگھارو جن پر تم عمل پیرا ہو ہی نہیں سکتے، انسان کے قول اور فعل کا تضاد بہت بری خصلت ہے۔ جس سے انسان لوگوں کی نظروں میں گر جاتا ہے اور اللہ تو ایسی بات کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ زبان سے ایک بات کہہ دینا آسان ہے لیکن اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–3

2۔ اسلام ہر مسلمان کو عملی انسان، سیرت کا پختہ اور کردار کا مضبوط اور مجاہد بنانا چاہتا ہے، اور نفاق بلکہ شائبہ نفاق سے بھی دور رکھنا چاہتا ہے۔ اسی لئے وہ قول وعمل کی مطابقت پر شدت سے مصر رہا۔ ان آیتوں کے نزول کا سبب قریب روایتوں میں یہ آیا ہے کہ بعض مسلمانوں نے آپس میں کہا تھا کہ ہم کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کے ہاں محبوب تر عمل کونسا ہے، تو ہم ضرور اسے کرڈالیں، حالانکہ اس کے قبل معرکہ احدم میں، بعض حضرات جہاد کے موقع پر ثابت قدم نہیں بھی رہے تھے، یہاں اسی پر گرفت ہے۔ (آیت) ” لم تقولون مالاتفعلون “۔ حاصل یہ کہ واعظ اور داعی کے لئے باعمل ہونا اور زیادہ ضروری ہے، یہ مطلب نہیں کہ عمل یا ضعیف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–4

تفسیر و تشریح شان نزول : یا ایھا الذین آمنوا لم تقولون مالاتفعلون یہاں ندا اگرچہ عام ہے لیکن مخاطب وہ مومنین ہیں جو کہہ رہے تھے کہ اگر ہمیں احب الاعمال کا علم ہوجائے تو انہیں کریں، لیکن جب انہیں بعض احب الاعمال بتلائے گئے تو سست ہوگئے، اس لئے اس آیت میں ان کو توبیخ کی گئی ہے، ترمذی (رح) تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ سے رویا ت کی ہے کہ صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت نے آپس میں ایک روز یہ مذاکرہ کیا کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کونسا ہے تو ہم اس پر عمل کریں ؟ بغوی (رح) تعالیٰ نے اس میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ ان حضرات میں سے بعض نے کچھ ایسے الفاظ بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا الذین امنوا لم تقولون ما لا تفعلون اے ایمان والو ! ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔ “ حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا : یہ آیات آخر تک رسول اللہ ﷺ نے ہم کو پڑھ کر سنائیں۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔ بغوی نے مفسرین کا قول نقل کیا ہے کہ (کچھ) مسلمانوں نے کہا تھا ‘ ہم کو اگر معلوم ہوجاتا کہ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عمل کونسا ہے تو ہم وہی کرتے اور اس کے لیے اپنی جان و مال کو قربان کردیتے۔ اس پر اللہ نے آیت : اِنَّ اللہ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقٰتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا نازل فرمائی اور غزوۂ احد میں مسلمانوں کی آزمائش کی گئی تو مسلمان پشت پھیر کر بھاگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–3

(2۔ 3) اے ایمان والو ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔ اور وجہ یہ پیش آئی کہ بعض صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ کاش ہمیں معلوم ہوجاتا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے تو ہم اسے کرتے تو اس عمل کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰي تِجَارَةٍ (الخ) اچنانچہ اس آیت کے نزول کے بعد جتنا اللہ کو منظور ہوا صحابہ کرام ٹھہرے رہے اور ان سے اس کامیابی والی تجارت کی تفصیل نہیں بیان کی گئی، چناچہ انہوں نے پھر عرض کیا کاش ہمیں معلوم ہوجاتا کہ وہ کیا ہے تاکہ ہم اس میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنے گھروں کو…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 2–3

یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ : ان آیات میں ان لوگوں پر تعجب اور شدید ناراضی کا اظہار ہے جو وہ بات کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔ اس میں کئی طرح کے لوگ شامل ہیں ، عبد اللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں :’ ’ ہم نے آپس میں یہ ذکر کیا کہ کون ہے جو رسول اللہ ﷺ کے پاس جائے اور آپ سے پوچھے کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ محبوب ہے ، مگر ہم میں سے کوئی بھی نہ اٹھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف ایک آدمی بھیجا اور ہمیں جمع کرنے کے بعد یہ سورت یعنی سورة ٔ صف پوری پڑھ کر سنائی“۔ (مسند احمد : 5، 452، ح : 23788) مسند احمد کے محققین نے فرمایا :“ امناق صحیح علی شرط الشیخین“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

آیات۔ 1۔ 3 تفسیر پہلی آیت کی تفسیر سورة حدید کی پہلی آیت کے تحت گزر چکی ہے۔ دوسری دو آیات کے ضمن میں پانچ مسائل بیان کئے گئے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا……۔ داری ابو محمد نے اپنی مسند میں روایت نقل کی ہے کہ محمد بن کثیر، اوزاعی سے وہ یحیٰی بن ابی کثیر سے وہ ابو سلمہ سے وہ حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں : ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کی ایک جماعت بیٹھی ہم نے آپس بات چیت کی ہم نے کہا : اگر ہم جانتے کے اعمال میں سے کون سا عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ محبوب ہے تو ہم اس پر ضرور عمل کرتے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات سبح اللہ ……۔ ……۔ کو نازل فرمایا۔ ابو سلمہ نے کہا : حضرت ابن سلام نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1۔ عبد بن حمید وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ ؓ نے یہ کہا اگر ہم جان لیتے کہ سب سے محبوب اعمال اللہ کے نزدیک کون سے ہیں تو ہم یقیناً وہ کرتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خبردیتے ہوئے فرمایا آیت ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانہم بنیان مرصوص۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خاص طور پر پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ان لوگوں نے اس کو ناپسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنو لم تقولون مالاتفعلون۔ اے ایمان والو ! ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں اور یہ بات اللہ بڑی ناراضگی کی ہے جو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم لوگ کیوں کہتے ہو ][ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ : وہ جو تم کرتے نہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

جو کام نہیں کرتے ان کے دعوے کیوں کرتے ہو ؟ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت ہے کہ ہم چند صحابہ بیٹھے ہوئے تھے آپس میں ہم نے (اچھے) اعمال کا تذکرہ کیا اور ہم نے کہا کہ اگر ہمیں پتہ چل جاتا کہ کون ساعمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے تو ہم اس عمل کو اختیار کرلیتے اس پر اللہ جل شانہ نے ﴿سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ 1ۚ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 001 يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 002﴾ نازل فرمائی۔ (سنن الترمذی ابواب التفسیر سورة الصف) اور معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب صحابہ نے کہا کہ اگر ہمیں معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

تسبیح وتحمید خداوندی مع ترغیب اہل ایمان برائے جہاد فی سبیل اللہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں کافروں سے موالات ودوستی پر تنبیہ ووعید تھی اور واضح طور پر یہ فرما دیا گیا تھا (آیت) ” لاتتولوا قوما غضب اللہ علیھم “۔ کہ اے مسلمانو ! ہرگز ایسی قوم کو اپنا دوست نہ بناؤ جن پر خدا کا غضب ہے، اب اس سورت میں حق تعالیٰ شانہ اپنی پاکی اور بےنیازی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ مسلمانوں کو حکم دیا کہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہو کر کافروں کے مقابلہ اور مقاتلہ کیلئے اٹھ کھڑے ہونا چاہئے اور یہ وصف اس وقت پیدا ہوگا جب مسلمان اپنے قول وفعل میں مطابقت اور یکسانیت پیدا کرلے، اس زمانہ میں عرب میں کھلبی مچی ہوئی تھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–4

3:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “۔ خطاب اول برائے مومنین۔ یہ سورة ممتحنہ میں مذکور مسلمانوں سے کمتر درجہ کے مسلمانوں پر زجر ہے۔ تم کہتے تھے کہ اگر ہمیں وہ باتیں معلوم ہوجائیں جن پر عمل کرنے سے خدا راضی ہوتا ہے تو ہم ان پر ضرور عمل کریں۔ اب جبکہ تم پر قتال فرض کیا گیا ہے جس سے اللہ راضی ہوتا ہے اور جو دین و دنیا کی بھلائی کا وسیلہ ہے تو تم اس سے جی چرانے لگے ہو۔ یعنی جو کچھ زبان سے کہتے تھے اب اس پر عمل نہیں کرتے ہو ” کبر مقتا “ یہ بات اللہ کے یہاں نہایت مبغوض اور ناپسندیدہ ہے کہ تم جو کچھ کہو اس پر عمل نہ کرو۔ ” ان اللہ یحب “ اللہ تعالیٰ تو ان کو چاہتا اور پسند فرماتا ہے جو اس کی راہ میں آہنی دیوار…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصف ہے جو اس کی چوتھی آیت میں آمدہ لفظ الصف سے موسوم ہے۔ صف قطار کو کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں جہاد کے لئے صف بندی کا ذکر ہے ، لہٰذا اس سورة کا نام الصف رکھا گیا ہے مفسرین بیان کرتے ہیں کہ مدنی زندگی میں یہ سورة …سورۃ التغابن کے بعد نازل ہوئی حالانکہ ترتیب تلاوت کے لحاظ سے یہ اس سے پہلے ہے۔ اس سورة مبارکہ کی چودہ آیات اور دو رکوع ہیں اور یہ سورة 221 الفاظ اور 926 حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط : گزشتہ سورة الممتحنہ میں خدا ، اس کے رسول ، اس کے دین اور اس کی طرف سے آمدہ پروگرام کے دشمنوں سے دوستی کی ممانعت کی گئی تھی۔ اس واقعہ کا پس منظر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۝ 2 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : ان تقول الجملۃ بتاویل المصدر فاعل کبرمقتًا تمیز منہ عنداللہ متعلق بکبر صفًا حال من فاعل یقاتلون فی سبیلہ متعلق بہ۔ کانہم الجملۃ کذلک حال منہ و صفا بمعنی صافین قال صاحب الکشاف لم ہی لام الاضافۃ داخلۃ علی ما الاستفہامیۃ کمادخل علیھا غیرھا من حروف الجر کقولک بم وفیم و عم و مم و حذف الالف لان ماوالحرف کشیء واحد۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ بھی اسی زمانے میں نازل ہوئی کہ جب ملک عرب میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔ کفار کا مسلمانوں پر ہر طرف سے نرغہ تھا اور مسلمانوں کی قلیل جماعت کو استقلال و جوانمردی سے اپنے دینی دشمنوں کا مقابلہ ضرور تھا اس لیے اس سورة میں ان باتوں کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 2–3

یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالاَ تَفْعَلُوْنَ ۔ کَبُرَمَقْتًا عِنْدَاللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَالاَ تَفْعَلُوْنَ ۔ (الصف : 2، 3) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔ ) بنیادی اخلاقی کمزوری قول و عمل کا تضاد ہے الْمَقْتُ … اہل لغت اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں الْمَقْتُ اشدالابغاض۔ المقت بغض من امرقبیح رکیۃ ” یعنی حددرجہ کا بغض، خصوصاً وہ بغض جو کسی قبیح حرکت کے باعث ہو۔ انسان کی اخلاقی کمزوریوں میں سے یہ کمزوری بہت تکلیف دہ اور نقصان کا باعث ہے کہ انسان کے قول و عمل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–4

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی تسبیح کے بیان اور سورت کے تمہیدی کلمات کے بعد پہلا حکم۔ اس سورت کا مرکزی مضمون قتال فی سبیل اللہ ہے اسی لیے پہلا حکم یہ ہے کہ اے ایمان والو ! جس بات پر تمہارا عمل نہیں وہ بات تمہیں نہیں کہنی چاہیے۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑا جرم ہے کہ تم وہ بات کہو جس پر تمہارا عمل نہیں۔ مفسرین نے اس آیت کے دو مفہوم بیان فرمائے ہیں۔ 1۔ جب قتال فی سبیل اللہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا تو کچھ ایماندار لوگ نبی ﷺ سے قتال فی سبیل اللہ کی اجازت مانگتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ اگر ہمیں کفار کے خلاف قتال کی اجازت دی جائے تو ہم جان توڑ کر لڑیں گے۔ لیکن جونہی قتال فی سبیل اللہ کا حکم آیا تو دعویٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ ۔ لِمَ ۔ یہ لام اضافت ہے۔ جو ماؔ استفہامیہ پر داخل ہوئی ہے۔ جیسا کہ اس پر دیگر حروف جر داخل ہوتے ہیں۔ جیسے کہتے ہیں، بم، فیم، ومم، 1 لام و علام۔ البتہ الف کو حذف کردیا گیا۔ کیونکہ ما اور لام یا اس کے علاوہ وہ ایک شئی بن جائیں۔ یہ استفہامی کلام میں کثرت سے مستعمل ہے اگرچہ اصل کا استعمال بھی ہے مگر یہ بہت قلیل۔ جیسا شاعر کا قول علام قام یشتمنی جریر ؟ قراءت : اور ھاء سکتہ لائیں گے تو وقف ہوگا یا ساکن کی صورت میں۔ جنہوں نے وصل میں اس کو اختیار کیا۔ تو اس کو وقف کے قائم مقام کرکے کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” سبح للہ مافی السماوات ومافی الارض وھو العزیز الحکیم۔ (2) یایھا الذین امنوا لم تقولون مالا تفعلون “ مفسر ین رحمہم اللہ فرماتے ہیں مومنین نے کا اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ اعمال میں سے کون سا اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے تو ہم وہ کرتے اور اس میں اپنے مال وجان کو خرچ کرتے تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا “ تو ان کو اس کے ذریعے احد کے دن آزمایا گیا تو وہ پیٹھ دکھا گئے تو اللہ تعالیٰ نے اتارا ” لم تقولون مالا تفعلون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ ترمذی ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں معتبر سند سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ لڑائی کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے بعض لوگ لڑائی کی آرزو ظاہر کرتے تھے جب لڑائی کا حکم نازل ہوا تو لڑائی سے گھبرانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ناخوش ہے کہ منہ سے کوئی شخص ایک بات کہے اور اس کے موافق عمل نہ کرے۔ اور صحیحین 2 ؎ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ زبان سے وعدہ کرکے اس کے موافق عمل نہ کرنا اور روز مرہ کی بات چیت میں جھوٹ بولنا اور امانت میں خیانت کرنا یہ منافق کی پہچان کی باتیں ہیں جو لوگ نیک کام کا ارادہ ظاہر کرکے پھر اس کے موافق عمل نہیں کرتے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 2–3

(يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ) اے ایمان والو۔ تم نیکی کی باتیں کیوں کرتے ہو اور کیوں لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہو، بسا اوقات اس پر تمہاری تعریف بھی کی جاتی ہے اور حال تمہارا یہ ہے کہ تم خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے تم لوگوں کو بدی سے روکھتے ہو اور بسا اوقات تم خود اپنے آپ کو اس سے پاک قرار دیتے ہو حالانکہ تم اس بدی میں ملوث اور اس سے متصف ہو ؟ کیا یہ مذموم حالت مومنوں کے لائق ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی ناراضی کی بات ہے کہ بندہ ایسی بات کہے جس پر خود عمل نہ کرتا ہو ؟ اس لیے نیکی کا حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ لوگوں میں سب سے پہلے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 2–8

جائز نذر کا پورا کرنا ضروری ہے ، ناجائز کا نہیں قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لم تقلون ما لا تفعلون۔ کبرمقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو، اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں۔ ) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے اوپر کوئی عبادت یا تقرب الٰہی کی کوئی صورت یا عقد لازم کرلے تو اس پر اسے پورا کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اسے پورا نہ کرنے کی صورت میں وہ شخص ایسی بات کا قائل گردانا جاتا ہے جسے وہ کرتا نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 2] دعویٰ بلا عمل کی ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا ایمان والو ! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم خود کرتے نہیں ؟ یہ استفہام انکار و توبیخ کے لئے ہے یعنی ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ تم اپنے قول کے خلاف کرو۔ روایات میں ہے کہ بعض صحابہ کرام نے کہا کہ کاش ہمیں کوئی ایسا عمل معلوم ہوجائے جو اللہ پاک کے یہاں سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ ہم اس میں اپنی جان و مال لگا دیں پھر جب جہاد کی فرضیت کی صورت میں وہ عمل ان کو بتادیا گیا تو بعض لوگ اس ضمن میں سست پڑگئے اور وہ کترانے لگے تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس میں ان کی توبیخ و تقریع فرمائی گئی۔ [ ابن کثیر، مراغی، جامع، محاسن، صفوۃ وغیرہ ] سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

قول و فعل میں مطابقت اور جہاد کی فضیلت تشریح : آسمانوں اور زمین کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کا تابع فرمان ہے ایک سیکنڈ کے لیے کوئی چیز اللہ کے بنائے ہوئے قانون اور حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی اور یہی ان کی تسبیح ہے۔ کیونکہ اللہ کے غلبے، علم اور حکمت سے باہر کوئی چیز بھی نہیں اور نہ ہی جاسکتی ہے۔ ہر چیز اس کی قدرت کے اندر گھری ہوئی ہے۔ اور وہ کارساز واحد ہے۔ اور وہ دلوں کے بھید بھی خوب اچھی طرح جانتا ہے اس لیے وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ کس کے قول و عمل میں کتنا تضاد ہے۔ کیونکہ مسلمان مخلص ہوتا ہے جب کہ منافق کہتا کچھ ہے کرتا کچھ ہے اور یہ رویہ اللہ کو کسی صورت بھی پسند نہیں۔ حدیث میں آتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

آیات 1 تا 9 اسرار ومعارف۔ آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے قال سے بھی اور حال سے بھی اور اللہ غالب ہے اور حکیم ہے سو اے ایمان والو جس کام کے کرنے کا ارادہ نہ ہو اس کے کرنے کا اعلان بھی مت کرو کہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ بات کہوجوتم کرنا نہیں چاہتے۔ گناہ کبیرہ اور تبلیغ۔ جس طرح آج کل کے لیڈر بہت بڑے دعوے نفاذ اسلام کے یاروٹی کپڑے مکان کے کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ان کا ارادہ قلبی ایسا کرنے کا نہیں ہوتا یہ گناہ کبیرہ ہے رہی تبلیغ کہ خود تو عمل میں کمزور ہے اور دوسروں کو دعوت دے رہا ہے تو دعوی اور دعوت میں فرق ہے مبلغ کو چاہیے کہ خود بھی عمل کرے لیکن اگر کمزوری سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 5 ان آیات کی شان نزول … جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے … گو خاص ہے اور وہ یہ کہ جہاد فرض ہونے سے پہلے کچھ مسلمان کہا کرتے تھے اگر ہمیں پتا چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے محبوب عمل کون سا ہے تو ہم اس پر عمل کر کے دکھائیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ اس کے نزدیک سب سے محبوب عمل اس پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں کافروں سے جہاد کرنا ہے۔ اس کے بعد جب جہاد کا حکم نازل ہوا تو وہ ان پر شاق گزرا اور وہ تردد میں پڑگئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں لیکن ان کا حکم عام ہے اور ان کی رو سے وہ شخص انتہائی قابل مذمت ہے جو زبان سے کسی چیز کا وعدہ و اقرار کرتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(61:2) لم یہ لفظ مرکب ہے لام تعلیل اور ما استفہامیہ ہے۔ ما کے الف کو تخفیفا ساقط کردیا گیا ہے ۔ کیوں ۔ کس وجہ سے۔ کس لئے۔ مالا تفعلون : ما موصولہ۔ لا تفعلون صلہ۔ جو تم کرتے نہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–14

لغات القرآن۔ لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔ تشریح : مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

جہاد کے آداب۔ (ف 1) شان نزول : ترمذی، مستدرک حاکم وغیرہ میں معتبر سند سے جو شان نزول ان آیتوں کا بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ لڑائی کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے بعض لوگ لڑائی کی آرزو ظاہر کرتے تھے جب لڑائی کا حکم نازل ہوا تولڑائی سے گھبرانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ناخوش ہے کہ منہ سے کوئی شخص ایک بات کہے ، اور اس کے موافق عمل نہ کرنا اور روزمرہ کی بات چیت میں جھوٹ بولنا اور امانت میں خیانت کرنا یہ منافق کی پہچان کی باتیں ہیں جو لوگ نیک کام کا ارادہ ظاہر کرکے پھر اس کے موافق عمل نہیں کرتے ان کے ذکر سے پ ہے آسمان و زمین میں جو مخلوق اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–3

[1] خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن بعد کی آیت کو ان آیات کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اسلام کے لئے انفاق و جہاد کے دعوے تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے لیکن جب آزمائش کا وقت آتا تو بالکل بزدل ثابت ہوتے۔ ان کی اس کمزوری پر قرآن مجید میں کئی جگہ گرفت کی گئی ہے (ملاحظہ ہو سورة نساء آیت 77 صفحہ 194 اور سورة محمد آیت 20 صفحہ 1224) ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان آیات میں انبیاء کے حالات کو بیان کیا ہے ۔ تاکہ حضور ﷺ کو معلوم ہو ۔ کہ امم سابقہ نے کیونکر حق و انصاف کی مخالفت کی ۔ اور کس طرح اپنے انبیاء کو بوقلمون اذیتوں سے شکستہ خاطر کیا ہے ۔ فرمایا ۔ کہ جب حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے کہا کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں ۔ اور تمہاری اصلاح کے لئے مبعوث ہوا ہوں ۔ تو انہوں نے کیا کہا ؟ کیا فوراً تسلیم کرلیا ؟ نہیں بلکہ مطالبہ کیا ۔ کہ ارنا اللہ جھرۃ پہلے جس خدا کی توحید کی طرف تم ہم کو دعوت دیتے ہو ۔ اس کو کھلم کھلا دکھاؤ۔ جب مانیں گے ۔ پھر گو سالہ کی پرستش شروع کردی ۔ اور خدا کی توحید کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ یعنی ایسی بات زبان سے کیوں نکالتے ہو جو پوری نہیں کرتے کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے اصحاب بدر کی تعریف فرمائی تھی اور ان کے اجروثواب کا ذکر فرمایا تھا بعض صحابہ ؓ نے شوق ظاہر کیا اور کہا اگر اب کی کوئی جنگ ہوئی تو ہم بھی خوب دل کھول کر لڑیں گے لیکن اس کے بعد جنگ احدہوئی تو اس میں وہ بہادری ظاہر نہیں ہوئی جس کا اظہار کرتے تھے اس پر فرمایا کہ ایسی بات زبان سے کیوں کہتے ہو جو پوری نہیں کرتے۔ بعض حضرات نے فرمایا یہ آیت ان لوگوں کے حق میں جو دوسروں کو نصیحت کرتے اور خود اس کے خلاف کرتے ہیں یعنی بےعمل عالم یا بےعمل واعظ۔ مطلب یہ ہے کہ اے ایمان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 6۔ پس جو ایسا باعظمت و شان ہو، اس کی اطاعت ہر حکم میں ضرور ہے، جن میں ایک حکم جہاد کا ہے جو اس سورة میں مذکور ہے جس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ ایک بار بعض مسلمانوں نے باہم تذکرہ کیا کہ اگر ہم کو کوئی ایسا عمل معلوم ہو جو حق تعالیٰ کے نزدیک نہایت محبوب ہو تو ہم اس کو عمل میں لاویں، اور اس کے قبل جنگ احد میں بعضے جہاد سے بھاگ چکے تھے، نیز وقت نزول حکم جہاد کے بعض کو وہ حکم گراں گزرا تھا اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے ایمان والو ! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟ 2 ؎ اسلام کی نظر میں جب تک انسان کا قول اور فعل دونوں ایک نہ ہوں ایمان مکمل نہیں ہوتا ۔ بلا شبہ اظہار ایمان کے لیے قول کی ضرورت ہے کہ قول زبان کا فعل ہے اور اگر زبان کسی کے پاس ہے تو اس کے سا تھ اقرار کرنا بھی ضروری ہے لیکن اس کے اقرار کی اس وقت کوئی قیمت نہیں رہتی جب اس کے قول و اقرار کی تصدیق اس کا عمل نہ کرے اور اگر کسی شخص کا فعل اس کے قول کے مخالف ہو تو نہ صرف یہ کہ اس کے قول کی کوئی قیمت نہیں رہتی بلکہ وہ الٹا مجرم ہوجاتا ہے اور یہ جرم کفر سے بھی زیادہ برا ہے یہی وجہ ہے کہ قوم و اقرار کرنے والے شخص کا فعل جب اس کے قول و اقرار کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴿2﴾ كَبُرَ‌ مَقْتًا عِندَ اللَّـهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴿3﴾ (0 those who believe, why do you say what you do not do? It is severely hateful in Allah's sight that you say what you do not do...61:2-3) Apparently, the phrase 'what you do not do' implies that one should not claim to do something he does not intend to do. From this it may be deduced that it is prohibited to make a commitment to do a work while a person does not have the genuine intention to really do it, because this would be ostentation and a false…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1 This is a brief introduction to this discourse. For its explanation, see E.N.'s 1,2 of Surah AI-Hadid. The discourse has been opened with this introduction so that before hearing or reading what is going to follow, one may well understand that Allah is free from and far above this that the fimctioning of His Godhead should depend on someone s faith and another one's help and sacrifices. If He exhorts the believers to adopt sincerity in Faith and urges them to exert their utmost for the success and victory of the Truth, that is for the sake of their own good; otherwise the will of AIIah is…

Read the full tafseer →