Ayah 61:2[ 2] دعویٰ بلا عمل کی ممانعت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا ایمان والو ! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم خود کرتے نہیں ؟ یہ استفہام انکار و توبیخ کے لئے ہے یعنی ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ تم اپنے قول کے خلاف کرو۔ روایات میں ہے کہ بعض صحابہ کرام نے کہا کہ کاش ہمیں کوئی ایسا عمل معلوم ہوجائے جو اللہ پاک کے یہاں سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ ہم اس میں اپنی جان و مال لگا دیں پھر جب جہاد کی فرضیت کی صورت میں وہ عمل ان کو بتادیا گیا تو بعض لوگ اس ضمن میں سست پڑگئے اور وہ کترانے لگے تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس میں ان کی توبیخ و تقریع فرمائی گئی۔ [ ابن کثیر، مراغی، جامع، محاسن، صفوۃ وغیرہ ] سو ایمان و یقین اور صداقت شعاری کا تقاضا یہ ہے کہ انسان زبان وبیان سے جو کچھ کہے وہ اپنے عمل سے کرکے دکھائے۔ وباللّٰہ التوفیق، بہرکیف اس سے دعویٰ بلاعمل کے ممانعت فرمائی گئی ہے کہ یہ چیز مومن صادق کی شان کے لائق نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ من کل زیغ و ضلال،
Ayah 61:3[ 3] قول و فعل میں تضاد بڑی بری بات۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قول و فعل کا تضاد یعنی کہنا کچھ، اور کرنا کچھ، اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑی بری بات ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت بری ہے کہ تم وہ کچھ کہو جس پر خود عمل نہ کرو کیونکہ صدق و صفا اور قول و فعل کی مطابقت اسلام کی اہم اور بنیادی تعلیمات میں سے ہے اور اسی پر باہمی تعلقات اور حقوق و معاملات کا دارومدار بھی ہے، اور اسی سے معاشرتی اصلاح اور باہمی اعتماد کی فضا وابستہ ہے، جبکہ قول وعمل کے درمیان توافق اور مطابقت کی بجائے تنافض و تضاو کا پایا جانا ضعف ایمانی اور منافقت کی نشانی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ چناچہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں آنحضرت ﷺ سے مروی ہے کہ تین چیزیں منافق کی نشانی ہیں اگرچہ وہ نماز بھی پڑھتا ہو، روزہ بھی رکھتا ہو، اور مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کرتا ہو یعنی جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے، اور جب اس کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت کرے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ اور ہر قسم کے شروروفتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین،
Ayah 61:4[ 4] اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی نشاندہی کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی محبت عمدہ صفات والوں سے ہے خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں کہ یہاں پر بحث فلاں ابن فلاں کی شخصیت سے نہیں، بلکہ دارومدار عمل و کردار پر ہے اور بس۔ اس لئے اللہ پاک کی محبت ان لوگوں سے ہے جو ایسی اور ایسی عمدہ صفات و خصال اپنے اندر رکھتے ہیں۔ پس اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی نشاندہی فرما دی گئی ہے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کا محبوب بننا ہو وہ اپنے اندر یہ صفات حمیدہ پیدا کرے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، سبحانہ وتعالیٰ ، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنا ہی بنائے رکھے۔ آمین ثم آمین
[ 5] جہاد فی سبیل اللہ کی عظمت شان کا ذکر وبیان :
اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جہاد فی سبیل اللہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایک انتہائی محبوب عمل ہے پس اس سے جہاد فی سبیل اللہ کی عظمت شان واضح ہوجاتی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے ان لوگوں سے جو لڑتے ہیں اس کی راہ میں صف بستہ،۔ یعنی وہ اس کی رضا و خوشنودی اور اس کے دین کی سربلندی کے لئے لڑتے ہیں، کہ تاکہ اللہ کا دین اور اس کا کلمہ سربلند ہو لتکون کلمہ اللّٰہ ہی العلیا اور تاکہ اس کی رضا و رحمت نصیب ہوجائے اس کے سوا ان کے پیش نظر اور کچھ نہیں ہوتا، نہ دنیاوی شہرت اور مال و دولت اور نہ ہی حکومت و کشور کشائی، وغیرہ س جہاد فی سبیل اللہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک بڑا محبوب و مطلوب عمل اور اس کی رضا و خوشنودی کا برا اہم ذریعہ و وسیلہ ہے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید،
[ 6] مجاہدین فی سبیل اللہ کی عظمت و قوت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو اللہ کی راہ میں ایسے لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں اپنی استقامت و ثابت قدمی کے اعتبار سے اور باہمی اتفاق و اتحاد کے لحاظ سے سو اللہ پاک کی محبت ان لوگوں سے نہیں ہوسکتی جو محض زبانی و کلامی ڈینگیں ماریں اور عملی طور پر وہ قربانی کا کوئی حوصلہ اپنے اندر نہ رکھتے ہوں، بلکہ وہ انہی لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو میدان جنگ میں دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوتے ہیں اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ بینان اصل میں تو عمارت کو کہا جاتا ہے لیکن یہاں اس سے مراد دیوار ہے جو کہ کسی بھی عمارت کا بڑا اہم حصہ ہوتا ہے اور دیوار کی خوبی اور قوت اسی میں ہوتی ہے کہ اس میں ایک اینٹ دوسری اینٹ سے ملی ہوئی اور پوری مضبوطی اور پختگی سے اس میں ٹھکی اور جمی ہوئی ہو۔ اگر دیوار کی ایک اینٹ بھی اپنی جگہ سے کھسک جائے تو پھر پوری عمارت کو اکھاڑ پھینک آسان ہوجاتا ہے۔ سو میدان جنگ میں اگر ایک شخص بھی بھاگ جائے تو اس کے نتیجے میں پوری فوج بھگدڑ کا شکار ہوجاتی ہے اور حوصلہ چھوڑ بیٹھتی ہے اسی لئے " فرار من الزحف " یعنی میدا جنگ سے بھاگنے کو صحیح حدیث میں سبع موبقات [ سات مہلک کبیرہ گناہوں ] میں سے قرار دیا گیا ہے اور سورة انفال میں اس کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹا اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے وہ [ الانفال : 16] والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayah 61:5[ 7] قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے حال بد کی تذکیر و یاد دہانی :
سو اس سے قوم موسیٰ کے حال بد کو یاد کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یاد کرو اس وقت کو کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے اس طرح کہا تاکہ اس طرح تم لوگ اس روش سے بچ سکو جس کو ان لوگوں نے اپنایا اور جس کے نتیجے میں ان کو زیغ قلوب کی مار و پھٹکار سے دو چار ہونا پڑا اور وہ منصہ عز و شرف سے گر کر قعر لعنت و مذلت میں جاپڑے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے منافقین اور ان کی منافقانہ روش کی توضیح اور ان کے انجام کو مثال سے واضح فرما دیا گیا کہ منافقین کا یہ رویہ وہی ہے جس کو یہود نے اپنایا تھا۔ وہ بھی جہاد کے لئے جوش و جذبے کا اظہار تو بہت کرتے تھے لیکن جب اس کا موقع آیا تو انہوں نے بزدلی دکھائی اور ہمت ہار گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ان کو فلسطینیوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ وہ تو بڑے زور آور ہیں ہم ان کی تلواروں کا لقمہ بننے کے لئے تیار نہیں۔ آپ جائیں اور آپ کا رب جا کر ان سے لڑے ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے جب تک وہ شہر خالی نہیں کردیں گے ہم وہاں داخل ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتے وغیرہ وغیرہ۔ ہاں ! جب وہ نکل جائیں گے تو پھر اس شہر میں بڑے شوق سے داخل ہوجائیں گے۔ سو اس سے ان لوگوں کی دوں ہمتی اور ذلت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف۔
[ 8] حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے شکوہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم ! تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ میری اور میرے لائے ہوئے پیغام حق و ہدایت کی تکذیب کرکے نیز طرح طرح کے مطالبات اور رذیل قسم کے اتہامات وغیرہ کے ذریعے جس کی تفصیل دوسری متعدد آیات و نصوص میں موجود ہے مثلاً سورة بقرہ آیت نمبر 51، 55، 60 اور 70 تا 72، سورة النساء آیت نمبر 53، سورة المائدہ آیت نمبر 20 تا 26، سورة الاعراف آیت نمبر 138 تا 141، 148 تا 151 اور طہٰ 86 تا 98 وغیرہ وغیرہ۔ پس اس ارشاد ربانی میں جہا ایک طرف امت محمدیہ کو یہ تلقین ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی جناب میں کوئی ایسا رویہ اختیار نہ کریں جیسا کہ حضرت موسیٰ ولیہ السلام کی قوم نے ان کے بارے میں اختیار کیا تھا، اور دوسری طرف اس میں خود رسول اللہ (علیہ السلام) کے لئے بھی تسکین و تسلی کا سامان ہے کہ جو برتاؤ آج آپ ﷺ سیکفار قریش وغیرہ دشمنان حق کر رہے ہیں یہ کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ اس سے پہلے حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہم الصلام جیسے انبیاء کرام کو بھی اس سے واسطہ پڑا اور ان کو بھی اسی طرح ستایا گیا ہے اسی لئے آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ کی رحمتیں ہوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کہ ان کو اس سے بھی زیادہ ستایا گیا مگر انہوں نے صبر ہی سے کام لیا۔ [ رحم اللّٰہ موسیٰ او ذی باکثت من ھذا فصر ] [ روح، ابن کثیر، محاسن، مراغی، صفوۃ وغیرہ ]
[ 9] ایذاء رسول کے سنگین یہودی جرم کا ذکر وبیان :
سو اس سے جانتے بوجھتے اللہ کے رسول کی نافرمانی و ایذا رسانی کے سنگین یہودی جرم کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے مزید فرمایا کہ حالانکہ تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، یعنی تم لوگ اس حقیقت کو جانتے ہو ان معجزات اور آیات بینات کی بناء پر جو اللہ پاک نے میرے ہاتھ پر ظاہر فرمائے ہیں، اور جن کی بناء پر تمہارے دلوں کے اندر میری صداقت و حقانیت کا یقین موجود ہے اگرچہ بظاہر تم اپنی ہٹ دھرمی کی بنا پر انکار ہی کرو جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ { وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسہم ظلما وعلوا ط فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین } [ النمل : 14 پ 19] اسی لئے یہاں " انی رسول اللّٰہ " فرمایا گیا ہے یعنی " ان " کی تاکید کے ساتھ اور اسی کو واضح کرنے کے لئے ہم نے اپنے ترجمے میں یوں کہا کہ " تمہیں اچھی طرح معلوم ہے " سو یہود بےبہبود کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت و حقانیت کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ واقعی آپ اللہ کے رسول ہیں لیکن اس سب کے باوجود محض اپنی ہٹ دھرمی، پست ہمتی، دنیا طلبی اور خست و دناءت کے سبب سے، اور یہ جانتے ہوئے اور اور پورے طریقے سے اور اچھی طرح جانتے ہوئے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں، یہ لوگ برابر ان کی نافرمانی کرتے اور ان کو طرح طرح کی اذیت دیتے رہے جو کہ ان کی شقاوت اور بدبختی کا ایک کھلا ثبوت اور واضح مظہر ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال۔
[ 10] قوم موسیٰ کے ٹیڑھے پن کی سزا کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب لوگ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ یعنی اس کا تکوینی اور طبعی و فطری قانون یہی ہے کہ جو شخص حق و ہدایت سے منہ موڑنے پر ہی اصرار کرتا جاتا ہے، وہ حق و ہدایت کے نور سے محروم ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ من کل زیغ و ضلال، بہرکیف اس ارشاد سے ہدایت و ضلالت کے بارے میں قدرت کی سنت اور اس کے دستور کو بیان فرما دیا گیا اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ کسی کو ہدایت کے لئے مجبور کرتا ہے اور نہ کسی کو ضلالت اور گمراہی اور اختیار سے جبراً روکتا ہے، بلکہ وہ بندے کو آزادی اور اختیار دیتا ہے کہ وہ، نیکی اور بدی میں سے جونسی راہ چاہے اختیار کرلے اور اسی میں بندے کا اصل امتحان ہے، اس لئے وہ جدھر جانا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ادھر ہی کی توفیق ارزانی فرما دیتا ہے۔ وہ اگر نیکی کی راہ کو اپنائے گا تو اس کو اس کی توفیق ملے گی، اور اگر بدی کی راہ کو اپنائے گا تو اس کو اس کے لئے بھی ڈھیل ملے گی، سو اس کی اسی سنت کا یہاں پر ذکر فرمایا گیا ہے۔ سبحانہٰ وتعالیٰ ۔ سو ان لوگوں نے جب بار بار کی تنبیہ و تذکیر کے باوجود اپنا رخ سیدھا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت اور دستور کے مطابق ان کے دلوں کو اسی رخ پر ڈال کر ان کو ٹیڑھا کردیا جس کو انہوں نے ازخود اپنے ارادہ اختیار سے اپنایا اور پسند کیا تھا اور حضرت فاطر جل جلالہ نے انسانی فطرت کو اس طور پر پیدا فرمایا ہے اور اس میں یہ خاصہ رکھا ہے کہ انسان اس کو جدھر موڑے یہ ادھر مڑ جاتی ہے اور وہ اس کو جس رخ پر لگائے یہ ادھر ہی لگ جاتی ہے۔ انسان اگر اس کو عقل و فطرت کے تقاضوں کے خلاف کسی غلط رخ کی طرف موڑ دے گا تو فطرت اپنے طبعی تقاضے کے مطابق اس سے اباء کرے گے لیکن اگر وہ اس کی طبیع تقاضوں کو برابر دباتا اور کچلتا ہی گیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ تو بالآخر وہ اپنی طبعی خصائص سے محروم ہو کر اسی سانچے میں ڈھل جائے گی جس میں ایسا بگڑا ہوا انسان اس کو ڈھالنا چاہتا ہے، اس کے بعد ایسے لوگ اپنے غلط رویے اور ٹیڑھے راستے کو ہی حق اور درست سمجھنے لگتے ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { من الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا ط کل حزب م بما لدیہم فرحون } [ الروم : 32 پ 21] یعنی ہر جماعت اور گروہ انہی پر مست اور مگن ہے جو کچھ اس کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اور ہر موقع پر اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین،
[ 11] فاطر فطرت سبحانہ و تعالیٰ کے ایک قانون و دستور کا ذکر وبیان :
فاطر فطرت کے اس قانون و دستور کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہدایت سے نہیں نوازتا بدکار لوگوں کو یعنی ایسے لوگوں کو جو حق سیمنہ موڑنے پر اصرار اور ہٹ دھرمی پر اتر آتے ہیں کہ ایسے کو حق اور ہدایت سے کبھی سرفرازی نہیں ہوسکتی، اور یہ اس لئے کہ ہدایت کے لئے تو طلب صداق اولین شرط اور بنیادی تقاضا ہے، اور یہی تقاضا ہے عقل و منطق کا، کیونکہ جب اس دنیاء دوں کی عام چیزیں بھی طلب و استدعا کے بغیر نہیں مل سکتیں تو پھر نور حق و ہدایت کی وہ عظیم الشان دولت اور جلیل القدر نعمت جو کہ قدرت کا سب سے بڑا عطیہ اور انعام ہے وہ بےتوجہی اور لاپرواہی بلکہ ضد وعناد اور ہٹ دھرمی پر آخر کس طرح مل سکتی ہے ؟ سو حق و ہدایت کی یہ عظیم الشان اور جلیل القدر نعمت اگرچہ حضرت واہب مطلق جل وعلا شانہ کی طرف سے سب کے لئے عام اور بالکل مفت ہے مگر اس کے لئے اولین شرط اور بنیادی تقاضا ہے طلب صادق، تو پھر ایسے ظالم و بدکار اس سے کس طرح بہرہ ور ہوسکتے ہیں جو اس سے منہ موڑے ہوئے ہوں اور صدق دل سے اس کو چاہتے ہی نہ ہوں ؟ فایاک نسال اللّٰہم التوفیق والسداد لما تحب وترضی من القول والعمل فی کل حین من الاحیان وبکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام۔ بہرکیف اس سے اللہ تعالیٰ کے اس قانون فطرت اور دستور خداوندی کو بیان فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ اور قانون نہیں کہ کوئی پسند تو کرے۔ ضلالت و گمراہی کو، اور وہ اس کے اندر زبردستی ہدایت ٹھونس دے، نہیں ایسے نہیں، بلکہ ہدایت کی دولت تو اسی کو ملتی ہے جو اس کی قدر کرتا اور اس کا طالب بنتا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور ہر قسم کے شروروفتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، جل شانہ وعم نوالہ،
Ayah 61:6[ 12] بعثت عیسویٰ کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاد کرو کہ جب عیسیٰ بیٹے مریم کے نے کہا کہ اے اسرائیل کی اولاد ! بیشک میں تمہاری طرف بھیجا ہوا رسول ہوں۔ یعنی ان لوگوں کے اسی زیغ طبع کے اثر اور نتیجے کے اظہار وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی یاد کرو کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اسے بنی اسرائیل ! یقینا میں اللہ کا رسول ہوں تم لوگوں کی طرف۔ یہاں پر اس حقیقت کی طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے کہ آنجناب نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف " یا قوم " [ اے میری قوم ] نہیں فرمایا کہ ہم قوم تو انسان بنتا ہے باپک طرف سے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) باپ کے بغیر محض قدرت خداوندی سے اس کے کلمہء کن کے ذریعے پیدا ہوئے تھے، اسی لئے آپ (علیہ السلام) کو عام معمول کے خلاف اپنی والدہ ماجدہ کی نسبت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے اور عیسیٰ بن مریم کہا جاتا ہے، جبکہ عام ضابطہ اور قاعدہ یہی ہے کہ انسان کو اس کے باپ کی نسبت سے یاد کیا جاتا ہے نہ کہ ماں کی نسبت سے، علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں ان کے ذکر سے یہ دکھانا مقصود ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بنی اسرائیل نے جو سلوک کیا اور اس کی پاداش میں ان پر جو لعنت ہوئی اس کا اثر بد ان لوگوں پر آخر تک رہا، یہاں تک کہ اسی کے نتیجے میں انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی اور اب یہ لوگ جو اسلام کی مخالفت کر رہے ہیں یہ بھی اسی کا اتر و نتیجہ ہے۔ سو یہ بیماری ایسی خطرناک اور اس قدر جان لیوا ہے کہ ایک دفعہ اگر لگ گئی تو پھر اس سے جان چھڑانا ممکن نہیں۔ پس عافیت و سلامتی اسی میں ہے کہ اس کی چھوے نہ لگنے پائے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے زیغ طبع کے اثر و نتیجہ کے ایک مظہر کو بیان فرمایا گیا ہے کہ اس کا نتیجہ دولت ایمان و یقین سے محرومی ہوتا ہے جو کہ اس سے بڑی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 13] حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل حیثیت کی تصریح :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ نے ان لوگوں سے کہا اور تاکید و تصریح کے ساتھ کہا کہ بیشک میں اللہ کا رسول ہوں نہ کہ خدا کا بیٹا، جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں اور نہ ہی میں مشکوک النسل ہوں جیسا کہ یہود بےبہبود کا کہنا ہے۔ پس اس ایک لفظ سے ان دونوں گروہوں کی تردید بھی ہوگئی اور اصل حقیقت کی تعین و توضیح بھی، سو اس ایک لفظ سے آنجناب ﷺ نے اصل حقیقت اور اپنی حیثیت اور پوزیشن کو بھی پوری طرح واضح کردیا اور یہود و نصاریٰ دونوں کی گمراہی اور بدعقیدگی کا قطع قمع بھی فرما دیا کہ میں اللہ کا رسول اور پیغمبر ہوں جو کچھ میں کہتا ہوں وہ اسی کی طرف سے کہتا ہوں۔ پس میری بات ماننا حقیقت میں اس کی بات ماننا ہے اور میرا انکار رنا دراصل اس کا اور اس کے پیغام کا انکار ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سبحان اللّٰہ ! کیا کہنے قرآن حکیم کی اس بلاغت اور اعجاد زیبانی کے اور کیا کہنے عربی زبان کی اس بلاغت و جامعیت اور اس کی ایسی ایسی باریکیوں، نزاکتوں اور لطافتوں، کے کہ ایک ہی جملے بلکہ اس کے بھی ایک ہیلفظ سے نہ صرف یہ کہ اصل حق اور حقیقت کو روز روشن کی طرح عیاں اور آشکار کردیا گیا بلکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق پیدا ہونے والی تمام گمراہیوں کا سدباب بھی فرما دیا گیا اور قیامت تک کے لئے اس بارے جنم لینے والے تمام مفاسد اور گمراہیوں کی جڑ نکال کر رکھ دی گئی۔ فالحمدللّٰہ رب العلمین، بہرکیف حضرت عیسیٰ نے ان سے فرمایا کہ تم لوگ مانو یا نہ مانو تمہاری مرضٰ ، لیکن حق اور حقیقت بہرحال یہی اور صرف یہی ہے کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں اسی کی طرف سے کہتا ہوں۔ پس میرا ماننا اس کو ماننا ہے اور میرا انکار اس کا انکار ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین،
[ 14] حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام صرف بنی اسرائیل کے لئے :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت اور ان کا پیغام صرف بنی اسرائیل کے لئے تھا۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے کہا کہ بیشک مجھے تمہاری ہی طرف بھیجا گیا ہے کہ میرا پیغم محدود اور صرف تمہارے لئے ہے، نہ کہ عالمی سطح کا اور سب لوگوں کے لئے، جیسا کہ انجیل میں بھی اس کی تصریح موجود ہے کہ مجھے بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لئے بھیجا گیا ہے۔ پس عیسائی جو اپنی دیانت محرفہ کی تبلیغ عالمی سطح پر کر رہے ہیں وہ حقیقت واقعہ اور قوانین فطرت کے بھی خلاف ہے اور خود ان کے اپنے نبی کے ارشادات اور ان کی ہدایات وتعلیمات کے بھی خلاف ہے کہ ان کا دین سرے سے عالمی دین ہے ہی نہیں، تھا ہی نہیں، بلکہ وہ ایک محدود زمانے اور ایک خاص قوم کے لئے تھا اور بس، مگر جب عالمی دین یعنی اسلام کے پیروکار اور اس کے نام لیوا یعنی مسلمان سو گئے تو عیسائیوں کو اپنی دیانت محرفہ جو پھیلانے کا موقع مل گیا اور وہ جگہ جگہ اور طرح طرح کے لوگوں کو ورغلا کر دین حق سے پھیرتے اور ہاویہء جہنم کی راہ پر ڈال رہے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے صاف اور صریح طور پر فرمایا کہ مجھے صرف تمہاری طرف بھیجا گیا ہے اور میرا پیغام صرف تمہارے لئے ہے نہ کہ عالمی۔ عالمی پیغام تو اس رسول کا ہوگا جو میرے بعد آئیں گے جن کی میں بشارت دینے آیا ہوں اور جن کا نام نامی اور اسم گرامی احمد ہوگا۔ ﷺ ، اور جن کی بعثت و رسالت قیامت تک کے سب انسانوں اور جملہ زمانوں کے لیے ہوگی اور جو تمام رسل کے خاتم اور ان کے امام ہوں گے۔
[ 15] حضرت عیسیٰ تورات کے مصدق، (علیہ السلام) :
سو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف اس حال میں کہ میں تصدیق کرنے والا ہوں اس تورات کی جو مجھ سے پہلے آچکی ہے کہ جو کچھ اس میں اللہ پاک کی طرف سے فرمایا گیا تھا وہ سب کا سب حق اور سچ تھا، اور جو پیغام میں انجیل کی شکل میں اب لایا ہوں وہ بھی اسی کی تصدیق و تائید کرتا ہے، کہ سب انبیاء کرام (علیہ السلام) کا کام ومشن اور اس کا بنیادی پیغام بہرحال اور ہمیشہ ایک ہی رہا مگر بعد میں ان کا نام نہاد پیروکاروں نے اس کو اپنی اہواء و اغراض اور خواہشات کے مطابق بدل اور بگاڑ کر کچھ کا کچھ کردیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ نیز مصدقا کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ان پیشین گوئیاں کا مصداق ہوں جو میرے بارے میں تورات میں فرمائی گئی ہیں، کہ میرے آنے سے ان پیشین گوئیوں کی تصدیق ہوگئی۔ سو اس عتبار سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ ارشاد آپ (علیہ السلام) کی رسالت کی دلیل ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں سب سے واضح بشارت آپ کے پیش رو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے دی جنہوں نے اپنا خاص مشن ہی یہ بتایا کہ میں اپنے بعد آنے والے کی خوشخبری دینے آیا ہوں، اور انہی بشارتوں کو بناء پر وہ لوگ ایک نبی کی آمد و بعثت کے منتظر تھے۔ سو جب میں تورات کی تصدیق کرنے والا اور اس میں ذکر و ارشاد فرمائی پیشین گوئیوں کا مصداق و مصدق ہوں تو پھر تم لوگ میری بات کیوں نہیں مانتے ؟ اور میری رسالت کو تسلیم کیوں نہیں کرتے ؟ حالانکہ ایسے میں میری تصدیق کرنا اور میری نبوت و رسالت پر ایمان لانا خود تمہاری اپنی کتاب کی تصدیق اور اس پر ایمان لانا ہے ؟ سو ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
[ 16] حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے بعثت محمدی کی بشارت :
سو آپ (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے مزید فرمایا کہ اور میں بشارت دینے والا ہوں کہ ایک ایسے عظیم الشان رسول کی جو میرے بعد تشریف لائیں گے اور جن کا نام احمد ہوھا، اور یہ جیسا کہ علامہ آلوسی (رح) وغیرہ حضرات اہل علم اور ارباب تحقیق کا کہنا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا اسم علم ہے، اور صحیح بخاری و مسلم وغیرہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، اور احمد بھی، اور حاشر بھی، کہ تمام لوگ میرے قدموں میں اکٹھے کیے جائیں گے، اور میں ماحی بھی ہوں کہ اللہ پاک میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا اور میں عاقب بھی ہوں جس کے بعد کئی نبی نہیں آسکتا، نیز دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہوں، اور جب میں اپنی والدہ ماجدہ کے بطن میں قرار پکڑا تو انہوں نے ایسا محسوس کیا کہ ان سے ایک ایسا نور خارج ہوا ہے جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔ [ سیرت ابن ہشام، وغیرہ، وقال ابن کثیر اسناد وجیدہ ] پھر احمد کے معنی میں بھی دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ مبالغہ فی الفاعل کے قبیل سے ہو، یعنی سب سے زیادہ تعریف کرنے والا، کیونکہ جو اور جیسی تعریف آپ ﷺ نے اپنے رب کی فرمائی وہ اور ایسی تعریف نہ اس سے قبل کسی اور سے ہوسکی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی کسی سے ممکن ہے، جبکہ دوسرا احتمال احمد کے کلمہء کریمہ میں یہ بھی موجود ہے کہ یہ مبالغہ فی المفعول کے معنی میں ہو، یعنی جس کی تعریف سب سے زیادہ کی گئی ہو، سو اس اختیار سے بھی اس اسم گرمی اور نام نامی کے مستحق و مصداق آپ ﷺ ہی ہیں، کہ جتنی تعریف و توصیف آپ کی گئی اتنی خداوند قدوس کی ساری خدائی اور پوری مخلوق میں نہ کسی کی اس سے پہلے کی گئی، اور نہ آئندہ قیامت تک کسی کے لئے ممکن ہے، اور یہ اس لئے کہ جن اوصاف عالیہ اور خصال حمیدہ سے قدرت نے آپ ﷺ کو نوازا دونوں ہی اعلیٰ معافی و مطالب پر مشتمل ہیں، اور حضرات اہل علم سے یہ دونوں ہی مروی و منقول ہیں [ خازن، جامع، محاسن وغیرہ ] سو اس سے یہ حقیقت بھی واضح اور آشکار ہوجاتی ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء والمرسلین سید الاولین والاخرین (علیہ السلام) کے نام نامی اور اسم گرامی میں بھی عظمت اور جامعیت کی ایک ایسی منفرد شان پائی جاتی ہے جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال اور کہیں نہیں مل سکتی۔ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔
[ 17] یہود کی شقاوت و بدبختی کا ایک نمونہ و مظہر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب وہ ان کے پاس آگئے کھلے دلائل کے ساتھ تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو ایک جادو ہے کھلا ہوا۔ جاء کی ضمیر فاعل کے بارے میں احتمال ہیں، اور حضرات اہل علم سے دونوں مروی و منقول ہیں۔ [ خازن، جامع، محاسن وغیرہ ] ایک یہ کہ اس کا مرجع حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی ہیں یعنی جب حضرت عیسیٰ ٰ بنی اسرائیل کے پاس کھلے دلائل لے کر آگئے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک جادو ہے کھلا ہوا، اور دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت امام الانبیاء ہوں کہ ضمیر کا مرجع احمد ہے، سو بعض حضرات نے پہلے قول و احتمال کو ترجیح دی، اور بعض نے دوسرے کو [ جامع، خازن، صفوۃ وغیرہ ] اور ہمارے نزدیک راحج کا دوسرا قول ہے والتفصیل فی المفصل انشاء اللّٰہ، سو یہ انسان کی ایک عام بدبختی رہی ہے جو کہ ایسے لوگوں کے اندر بالعموم پائی گئی، خاص کر جب ان کو دین حق کی طرف بلایا جا رہا ہو کہ وہ دین برحق کی نعمت عظمیٰ کی قدر کرنے نور ایمان و یقین کی دولت بےمثال سے بہرمند و سرفراز ہونے کی بجائے اس کی بےقدری اور ناشکری کرتے ہیں۔ سو یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت و تشریف کی قدر کرنے اور ان پر صدق دل سے ایمان لا کر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کرنے کی بجائے الٹا ان کو " سحر مبین " یعنی کھلا جادو قرار دیا، اور اس طرح انہوں نے اپنے لئے ابدی شقاوت و بدبختی کا سامان کیا۔ سو اس سے یہود کی شقاوت و بدبختی کا ایک اور نمونہ سامنیآتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے محفوظ اور ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے، اور ہمیشہ اور ہو حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین،
Ayah 61:7[ 18] " افتراء علی اللّٰہ " سب سے بڑا ظلم۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو یہود کی اس شقاوت و بدبختی پر اظہار افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر افتراء باندھے۔ سو اللہ پر افتراء باندھنا، والعیاذ باللّٰہ، سب سے بڑا ظلم ہے خاص کر اس صورت میں جبکہ ان کو اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو، جس میں خود ان کے لئے اور تمام بنی نوع انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور امن و سلامتی کا سامان و پیغام ہے، اور استفہام یہاں پر انکاری ہے یعنی اس سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ پس معلوم ہوا کہ اللہ پر جھوٹ گھڑنا اور وہ بھی دعوت الی الاسلام کے جواب میں افتراء علی اللہ اور سب سے بڑا گناہ اور سنگین جرم ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور افتراء علی اللہ سے یہاں مراد یہود بےبہبود کی ہوہ من گھڑت باتین ہیں جو انہوں نے اپنی بےبنیاد اور من گھڑت بزرگی اور برائی کے لئے بنا رکھی تھیں، مثلاً یہ کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں، ہم اللہ کی چنی ہوئی مخلوق ہیں باقی سب لوگوں کو ہماری خدمت کیلئے پیدا کیا گیا ہے، اور یہ کہ نبوت و رسالت کا شرف تو ہمیشہ بنی اسرائیل کے گھرانے ہی کے ساتھ خاص رہا، اس کے باہر کوئی نبی کس طرح پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو اپنی اس طرح کی افتراء پروازیوں سے یہ لوگ راہ حق سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوگئے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور اس طور پر محروم ہوئے کہ یہ ہمیشہ ہمیش کے خسارے میں مبتلا ہوگئے مگر ان کو اس کا احساس بھی نہیں۔ اور یہ خسارہ ایسا ہولناک خسارہ ہے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayah 61:8[ 19] منکرین کی ایک حماقت اور بدبختی کا ذکر وبیان :
کہ یعنی یہ لوگ نور حق کے آفتاب عالم متاب کو مونہوں کی پھونک سے بجھانا چاہتے ہیں۔ سو اس سے منکرین و معاندین کی طرف سے اللہ کے نور کو مونہوں کی پھونکوں سے بجھانے کی حماقت کا ذکر فرمایا گیا ہے چناچہ ان بدبختوں کی اس حماقت و بدبختی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھا دیں، یعنی اپنے مونہوں کے جھوٹے پروپیگنڈے کے زور سے مگر کہاں کیسے اور کیونکر ؟ نور خدا ہے کفر کی حرکتوں پر خندہ زن، پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔ سو یہ اس سعیء لا حاصل کی تمثیل ہے کہ یہ لوگ اپنی بدعات و خرافات اور اپنے جھوٹے پروپیگنڈے سے حق کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان کی اس طرح کی کوشش ایسی ہی ہیں جیسے کوئی اپنے منہ کی پھونکوں سے سورج یا چاند کی روشنی کو بجھانا چاہے۔ سو جس طرح ایسے شخص کی کوشش لاحاصل اور اس کی اپنی حماقت کی دلیل ہے، اسی طرح یہ لوگ حق کا تو کچھ نہیں بگاڑیں گے البتہ اپنی حماقت اور ہلاکت کے داغ کو اور پکا کریں گے۔ اللہ کا نور بہرحال کامل ہو کر رہے گا اور یہ ہلال بہت جلد بدر منیر بن جائے گا، اور ان کے مونہوں کی یہ پھونک خود ان کی اپنی حماقت و جہالت اور شقاوت و سفاہت کا ثبوت فراہم کریں گی، اور یہ ذلیل سے ذلیل تر ہونے جائیں گے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ حق کا بولبالا رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
[ 20] ایک عظیم الشان پیشگوئی کا ذکر وبیان :
سو اس نور حق کے اتمام کی تصریح بھی فرما دی گئی اور ایک عظیم الشان پیشین گوئی کا ذکر بھی فرما دیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بہر حال پورا کرکے رہے گا اپنے نور کو اگرچہ یہ بات ناگوار گزرے کافروں کو۔ چناچہ ایسے ہی ہوا کہ دین حق کے وہ دشمن تو مٹ گئے جو نور حق کو مٹانا چاہتے تھے مگر اسلام کا نور چاروں طرف پھیل کر رہا اور ہمیشہ انشاء اللہ تاقیام قیامت جگمگاتا ہی رہے گا، جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ کی طویل حدیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ میرے لئے ساری زمین اس طرح اکٹھی کردی گئی، کہ میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھا اور میری امت کی سلطنت [ یعنی میرے دین کی آواز ] وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک مجھے دکھایا گیا، یہاں تک یہ ایک اہم اور بنیادی حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ یہ آیات کریمات سنہ 3 ہجری میں غزوہ احد کے بعد نازل ہوئی تھی جبکہ صورت یہ تھی کہ نور اسلام صرف شہر مدینہ تک محدود تھا۔ مسلمانوں کی تعداد چند ہزار نفوس سے زیادہ نہ تھی، اور سارا عرب اس دین کو مٹانے کے لئے تلا ہوا تھا۔ احد کے معرکے میں مسلمانوں کو چونکہ زک اٹھانا پڑی تھی اس لئے اس سے مسلمانوں کی ہوا اکھڑ گئی تھی جس کے نتیجے میں گردوپیش کے قبائل ان پر شیر ہوگئے تھے، اور ظاہر بین نگاہیں یہ دیکھ رہی تھیں کہ اسلام ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ ہے جس کو بجھانے کے لئے بڑے زور کے جھکڑ چل رہے تھے۔ ایسی صورت میں یہ کہنا کہ اللہ کا یہ نور کسی کے بجھانے سے نہیں بجھے گا بلکہ یہ پورا ہو کر اور ماہ کامل بن کر اور دنیا پر چھا کر اور پھیل کر رہے گا، " اللہ کے سوا اور ان کو جان سکتا تھا کہ اس دین حق کا مستقبل کیا ہے ؟ سو یہ اس دین متین کی صداقت و حقانیت کا ایک واضح ثبوت اور اس کی کھلی دلیل ہے۔ والحمدللّٰہ رب العالمین۔ اللہ اس دین کے خادموں کی مدد فرمائے اور ظالموں کو ہدایت دے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ،
Ayah 61:9[ 21] غلبہ دین حق ہی کیلئے :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب دینوں پر غالب ہو کر رہنا اسلام ہی کا حق، اور اسی کی شان ہے، کہ حق بہرحال یہی اور صرف یہی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ وہ اس کو غالب کرے سب دینوں پر۔ چناچہ حجت وبرہان کے اعتبار سے تو دین حق تمام ادیان اور جملہ نظام ہائے زندگی پر ہمیشہ سے غالب رہا اور ہمیشہ کیلئے غالب رہے گا، کہ غلبہ تو بہرحال حق ہی کیلئے مقدر ہے، مگر حکومت و سلطنت اور سیف وسنان کے اعتبار سے بھی غلبہ اسی کا رہا جبکہ مسلمانوں نے صحیح طریقے سے اس کی سربلندی کے لئے کوشش کی جیسا کہ تاریخ اس کی گواہ ہے۔ اور آئندہ بھی غلبہ حق اور اہل حق ہی کا رہے گا جبکہ انہوں نے اپنے اسلاف کی روایات کے مطابق اخلاص و استقامت کے ساتھ اس کے لئے کوشش کی۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور " حصر و قصر " کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا۔ { ولا تھنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین } [ آل عمران : 139 پ 4] یعنی غلبہ تمہارا ہی ہے بشرطیکہ تم لوگ ایمان دار ہوؤ "۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔ بہرکیف اس ارشاد میں غلبہء اسلام کا واضح اعلان فرما دیا گیا، سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس خدا نے اپنے نور کو کامل کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے اسی نے اپنے رسول کو اس ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے تاکہ وہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرے اور یہ بات لازماً ہو کر رہے گی اگرچہ یہ مشرکین کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ گزرے اور ایسے لوگ اس کے خلاف خواہ کتنا ہی زور کیوں نہ لگائیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال ،
[ 22] کفار و مشرکین کے علی الرغم غلبہ حق کا اعلان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اس کو سب دینوں پر غالب کرے اگرچہ یہ بات ناگوار گزرے مشرکوں کو، کہ مشرک کو پیغام توحید سے بڑھ کر ناگواری اور کسی چیز سے نہیں ہوسکتی، جیسا کہ آج تک ہے، اور آئندہ بھی ایسے ہی رہے گا، کیونکہ توحید اور شرک کے درمیان آگ پانی کا تضاد ہے، اس لئے یہ دونوں کبھی یکجا نہیں ہوسکتے، اسلئے مشرکوں کی توحید سے چڑ اور ناگواری قیامت تک رہے گی اور کھلے مشرکوں کے علاوہ آج کے کلمہ گو مشرکوں میں بھی آپ توحید خالص سے ان کی اس ناگواری کے نمونے اور مظاہر جابجا اور طرح طرح سے دیکھ سکتے ہیں، مگر ان کی ناگواری کے علی الزغم دین حق اور پیغام توحید ہی رہا، اور ہمیشہ غالب ہی رہے گا۔ ان شاء اللّٰہ تعالیٰ ، " فان الحق یعلو ولا یعلی علیہ " یعنی حق نے بہرحال غالب ہی رہنا ہے یہ کبھی مغلوب نہیں ہوگا، اوپر کی آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا تھا " ولو کرہ الکافرون " اور یہاں فرمایا گیا " ولو کرہ المشرکون " سو " کافرون " کا مفہوم نسبتاً عام ہے جو کفر و انکار کی ہر شکل و صورت کو عام اور اس کو شامل ہے جو بھی اس دین حق اور رسول برحق کے منکر تھے اور ہیں وہ سب اس میں داخل ہیں، اور " مشرکون " کا لفظ خاص مشرکین مکہ اور اسی طرح کے دوسرے لوگوں کیلئے ہے۔ سو ان دونوں لفظوں نے سب کافر طاقتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیا۔ سو اس میں ان سب کیلئے چیلنچ ہے کہ تمہارے علی الرغم یہ دین حق غالب ہو کر رہے گا۔ تم لوگ اس برتے کے مالک نہیں ہو کہ اس کے غلبے کی راہ کو روک سکو۔ والحمدللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 61:10[ 23] ایک بےمثال تجارت کی راہنمائی :
سو اہل ایمان کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا میں تم لوگوں کو ایسی عظیم الشان تجارت کا پتہ نہ دے دوں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بجات دے ؟ سو اس سے ایک ایسی عظیم الشان اور بےمثال تجارت کی راہنمائی فرمائی گئی ہے جس میں کبھی کوئی خسارہ نہیں۔ سبحان اللّٰہ ! کیسی عجیب اور انوکھی تجارت ہے یہ جس میں نفع ہی نفع ہے خسارے کا نام و نشان بھی نہیں بشرطیکہ اس میں لگائے جانے والے سرمائے میں کوئی کھوٹ اور قصور نہ ہو، اسی لئے اس عظیم الشان تجارت کی توقع اور امید رکھتے ہیں جس میں خسارہ اور نقصان کسی صورت میں بھی نہیں، پس اس تجارت کے مقابلے میں ان دنیاوی تجارتوں کی حقیقت و حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے جن پر ابناء دنا لٹو ہو رہے ہیں اور وہ انہی کے لئے جیتے اور انہی کے لئے مرتے ہیں اور اس عظیم الشان تجارت کی وضاحت آگے اس طرح فرمائی گئی کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کے بعد اپنی جان اور اپنا مال اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ۔ سو یہ تجارت تم لوگوں کو اس دنیا میں بھی عزت و عظمت سے نوازے گی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی حقیقی اور ابدی فوز و فلاح سے سرفراز کرے گی۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayah 61:11[ 24] ایک بےمثال تجارت اور اس کی بےمثال نفع بخشی کا ذکر وبیان :
سو اس سے بےمثال تجارت کی نفع بخشی کا ذکر فرما دیا گیا، اس سے واضح فرمایا گیا کہ اگرچہ بظاہر تم لوگوں کو یہ سودا خسارے کا سودا نظر آئے گا لیکن حقیقت میں یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو کہ اس تجارت کا نفع ایسا عطیم الشان نفع ہے کہ تم پورے طور پر اور صحیح طرح سے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے، اور ایسا دائمی بھی کہ کبھی ختم ہونے والا نہیں، اور اس میں بظاہر تو یہاں لگتا ہے کہ نقد کو ادھار پر قربان کیا جارہا ہے لیکن اگر تمہاری نظر اصل حقیقت تک پہنچ جائے تو تم دیکھو گے کہ اس میں دنیا کے چند خزف ریزوں اور حیات فانی و مستعار کے چند لمحات کے عوض سعادت دارین اور دولت کو نین کا سودا کیا جارہا ہے۔ سو یہ ایسا سودا اور ایسی نفع بخش تجارت ہے جس کا فائدہ دائمی و ابدی ہے اور جس کے لئے کبھی فنا وزوال نہیں۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرام سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا اکرم الاکرمین،
Ayah 61:12[ 25] اصل اور حقیقی کامیابی کی نشاندہی :
سو اس میں واضح ارشاد فرمایا گیا کہ جنت اور اس کی حقیقی اور ابدی نعمتوں سے سرفرازی ہی اصل اور حقیقی کامیابی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور انداز حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اصل اور حقیقی کامیابی یہی اور صرف یہی ہے، جس کے سامنے اس دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی بھی ہیچ ہے، سو تم لوگ ذرہ سوچو کہ یہ کتنی بڑی سعادت اور کیسی عظیم الشان کامیابی ہے کہ اس فانی دنیا کے حطام زائل اور متاع فانی کے عوض کونین کی اس عظیم الشان دولت سے سرفرازی کا سامان کیا جا رہا ہے جو لازوال ہے، کیا اپنی متاع فانی کے عوض ایسی بڑی کامیابی کا کوئی تصور بھی کیا جاسکتا ہے ؟ سو اسی کو اپنا مطمح نظر اور مقصد حیات اور نصب العین بنانا چاہئے، اور اسی میدان میں باہم مسابقہ اور مقابلہ کرنا چاہیے نہ کہ دنیاء دوں کے اس متاع فانی اور حطام زائل کے لئے جو کہ بہرحال ایک عارضی اور فانی چیز ہے، اور جنہوں نے اسی دنیا کو مقصود حیات اور قبلہ توجہ بنارکھا ہے وہ بڑے ہی خسارے میں ہیں۔ کیونکہ اصل چیز آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کی کامیابی ہے اسی کو اپنا نصیب العین بنانا ناعقل و نقل کا تقاضا ہے اور اسی کیلئے مسابقہ اصل مسابقہ ہے۔ " وفی ذلک فلیتنافس المتنافسون " اور اسی کے لئے محنت کرنے کی اصل ضرورت ہے۔ " لمثل ھذا فلیعمل العاملون " وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و صواب پر مستقیم و ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین،
Ayahs 61:13–14[ 26] دنیاوی کامیابی و غلبہ کی بشارت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ایک اور چیز کی بشارت بھی جس کو تم لوگ پسند کرتے ہو، یعنی اپنی طبعی افتاد اور فطری اور جبلی تقاضے کی بناء پر، کہ انسان فطری طور پر عجلت پسند اور جلد باز واقع ہوا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { خلق الانسان من عجل ساریکم ایتی فلا تستعجلون } [ الانبیائ : 37 پ 17] نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { ویدع الانسان بالشر دعاءہ بالخیر ط وکان الانسان عجولا۔}[ بنی اسرائیل : 11 پ 15] ہجرت کے بعد سب سے بڑی تمنا جو ہر مسلمان کے دل میں موجزن تھی وہ فتح مکہ کی تمنا تھی، اسی پر اسلام کے اصل دشمنوں کی شکست کا انحصار بھی تھا، اور غلبہ حق کی سب سے بڑی شہادت بھی یہی تھی، اس لئے ہر مسلمان اس کا متمنی اور خواہش مند تھا۔ سو اس ارشاد سے اہل ایمان کو اس خوشخبری سے نوازا گیا کہ آخرت کی فو عظیم سے پہلے تم کو اس خوشخبری سے بھی نوازا جاتا ہے کہ دنیاوی زندگی میں بھی تم کو نصرت خداوندی اور فتح قریب سے نوازا جائے گا، اور ایک اور کامرانی تم کو حال ہونے والی ہے عنقریب ہی تم کو نصیب ہوگی۔ سو ایمان و یقین کی دولت سعادت دارین سے سرفراز کرنے والی دولت ہے اس کے بغیر محرومی ہی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین،
[ 27] نصرت خداوندی اور فتح قریب کی خوشخبری :
سو آخرت کی کامیابی سے پہلے ان کو دنیاوی بشارت سے بھی سرفراز کیا یعنی اللہ کی مدد اور جلدی سے ملنے والی ایک عظیم الشان فتح۔ فتح نکرہ ہے، جو اپنی تنکیر و تعیم کے لحاظ سے ہر فتح کا شامل ہے خواہ وہ کسی بھی معرکے کی فتح ہو، اور کسی بھی شکل میں ہو کہ فتح کی تنکیر و تعمیم سب کو شامل اور عام ہے اور آخرت کے مقابلے میں یہ سب ہی فتوحات قریب ہیں اسی لئے حضرات ابن عباس ؓ سے اس سے روم وفارس کی فتوحات مراد لی ہیں جبکہ دوسرے بعض حضرات کے نزدیک اس سے مراد خیبر اور پھر مکہ ہی ہے اور یہی ظاہر ہے۔[ مراغی، مدارک، محاسن، اور معارف وغیرہ ] بہرکیف اس فتح کا اصل اور سب سے اہم مصداق فتح مکہ ہی ہے، جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا۔ سو اس سے کئی اہم بنیادی امور واضح ہوجاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ آخرت کی اس عظیم الشان اور بےمثال تجارت کو اپنا اصل اور حقیقی نصب العین بنانے والوں کے لئے اس دنیا میں بھی محرومی نہیں، بلکہ یہاں بھی ان کی طرح طرح کی نوازشوں سے سرفراز فرمایا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ دنیاوی فتح و نصرت اگرچہ بڑی چیز ہے لیکن اصل اور حقیقی کامیابی آخرت کی کامیابی ہے اس لئے یہاں پر آخرت کو پہلے ذکر فرمایا اور دنیاوی فتح و نصرت کو بعد میں اور تیسری بات یہ کہ دنیاوی فتح و نصرت بھی انسان کو اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق و عنایت اور اسی کے فضل و کرم سے ملتی ہے۔ اس لیے اس کو اپنی لیاقت و قابلیت اور اپنے زور وبازو کا نتیجہ سمجھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ ہی کا فضل و کرم سمجھ کر اس کا شکر ادا کیا جائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
[ 28] دولت ایمان سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ :
چناچہ یہاں پر ارشاد فرمایا گیا اور خوشخبری سنا دو ایمان والوں کو۔ یہاں پر " بشر " کا مفعول یعنی " مبشربہ " ذکر نہیں فرمایا گیا یعنی یہ نہیں بتایا گیا کہ کس چیز کی خوشخبری دیجئے سو اس سے اس کے عموم و شمول کا فائدہ ملتا ہے۔ اس لئے یہ ارشاد دارین کی فوزوفلاح اور سعادتوں کو شامل ہے کہ اس عظیم اور بےمثال تجارت کا تقاضا یہی ہے۔ سبحان اللّٰہ ! اتنی بڑی اور کس قدر عظیم الشان دولت ہے۔ ایمان و یقین کی دولت جو کہ انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی کی بےمثل نعمت سے مشرف و سرفراز کرتی ہے۔ فالحمد للّٰہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان والدین فزدنا اللّٰہم منہ وثبتنا علیہ بہ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والوں کو خوشخبری سنا دو جس میں ہر خیر کی خوشخبری آجاتی ہے لیک اس کا اولین اور سب سے بڑا اہم مصداق فتح مکہ ہے جو اس وقت ہر مسلمان کی دل تڑپ و تمنا اور سب سے بڑی خواہش تھی، جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا۔ اور اس کے کچھ ہی عرصہ بعد مسلمانوں کو فتح مکہ کی عظیم الشان خوشخبری اور سعادت سے نواز دیا گیا۔ سو دولت ایمان و یقین دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوزوفلاح سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ جبکہ اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔