As-Saff 61:3

As-Saff · from ayah 3

61:3

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ۟كَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ

خدا اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Great is hatred in the sight of Allah that you say what you do not do.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saff

All translations of 61:3

اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ کے نزدیک یہ بات بڑی قابل نفرت ہے کہ تم ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ کے نزدیک بہت سخت ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کے نزدیک ناراض ہونے کے اعتبار سے بڑی بات ہے کہ تم وہ کہو جو تم نہیں کرتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ کے ہاں یہ سخت ناپسندیدہ بات ہے کہ تم ایسی بات کہو جو تم کرتے نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ کے نزدیک یہ بات زیادہ غصہ کی ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ کے نزدیک یہ طریقہ بڑا ہی ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کچھ کہو جو کہ خود نہ کرو

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ کے نزدیک یہ بات بہت ناراضگی کی ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بڑی شدید بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

It is most loathsome in the sight of Allah that you should profess what you do not practise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is severely hateful in Allah‘s sight that you say what you do not do.

— Muhammad Taqi Usmani

It is severely hateful in Allah‘s sight that you say what you do not do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Most hateful it is with Allah that you say that which you do not do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is most hateful in the sight of Allah that ye say that which ye do not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Great is hatred in the sight of Allah that you say what you do not do.

— Saheeh International

It is most hateful in the sight of God if you say something and do not practice it.

— Muhammad Sarwar

It is most hateful to Allah that you should say that which you do not do.

— Muhammad Habib Shakir

Most odious it is Unto Allah that ye should Say that which ye do not.

— Abdul Majid Daryabadi

Grievously odious is it in the sight of Allah that ye say that which ye do not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 61:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

ایفائے عہد ایمان کی علامت ہے اور صف اتحاد کی علامت پہلی آیت کی تفسیر کئی بار گذر چکی ہے اب پھر اس کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جو کہیں اور نہ کریں، وعدہ کریں اور وفا نہ کریں، بعض علمائ، سلف نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ وعدہ کا پورا کرنا مطلقاً واجب ہے جس سے وعدہ کیا ہے خواہ وہ تاکید کرے یا نہ کرے، ان کی دلیل بخاری و مسلم کی یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی تین عادتیں ہوتی ہیں (1) جب وعدہ کرے خلاف کرے (2) جب بات کرے جھوٹ بولے (3) جب امانت دیا جائے خیانت کے، دوسری صحیح حدیث میں ہے چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چار میں سے ایک ہو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصَّف 2 اس ارشاد کا ایک مدعا تو عام ہے جو اس کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اور ایک مدعا خاص ہے جو بعد والی آیت کو اس کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے معلوم ہوتا۔ پہلا مدعا یہ ہے کہ ایک سچے مسلمان کے قول اور عمل میں مطابقت ہونی چاہئے۔ جو کچھ کہے اسے کر کے دکھائے، اور کرنے کی نیت یا ہمت نہ ہو تو زبان سے بھی نہ نکالے۔ کہنا کچھ اور کرنا کچھ، یہ انسان کی ان بدترین صفات میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہایت مبغوض ہیں، کجا کہ ایک ایسا شخص اس اخلاقی عیب میں مبتلا ہو جو اللہ پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے تصریح فرمائی ہے کہ کسی شخص میں اس صفت کا پایا جانا ان علامات میں سے ہے جو ظاہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

اس سورة نے یہ بھی بتلا دیا کہ احب الاعمال جس کی تلاش میں یہ حضرات تھے وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے اور ساتھ ہی ان حضرات نے جو ایسے کلمات کہے تھے کہ اگر ہمیں معلوم ہوجائے تو ہم اس پر عمل کرنے میں ایسی ایسی جانبازی دکھائیں وغیرہ جن میں ایک قسم کا دعویٰ ہے کہ ہم ایسا کرسکتے ہیں، اس پر ان حضرات کو تنبیہ کی گئی کہ کسی مومن کے لئے ایسے دعوے کرنا درست نہیں، اسے کیا معلوم ہے کہ وقت پر وہ اپنے ارادے کو پورا کر بھی سکے گا یا نہیں، اس کے اسباب کا جمع ہونا اور موانع کا زائل ہونا اس کے اختیار میں نہیں، پھر خود اس کے دست وبازو اور اعضاء وجوارح بلکہ قلبی عزم و ارادہ ان میں سے کوئی چیز بھی بالکلیہ اس کے قبضہ میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 2–3

(یایھا الذین امنوا لم تقولون مالا تفعلون کبرمقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون) (2، 3)۔ (زبان کے غازیوں کو تنبیہ)۔ خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن انہی کی طرف سے جو ایمان و اسلام اور انفاق و جہاد کے دعوے تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے لیکن جب آزمائش کا وقت آتا تو بالکل بزدل ثابت ہوتے۔ ان کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم اس بات کا دعویٰ ہی کیوں کرتے ہو جو پورا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے ! اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ اس زبانی جہاد سے تم کوئی سعادت کی کمائی کر رہے ہو تو یہ خیال بالکل غلط ہے۔ تمہارا یہ رویہ اللہ کے نزدیک تمہارے لیے موجب سعادت نہیں بلکہ مزید غضب کا باعث ہے کہ تم زبان سے تو بڑے غازی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–4

2: امام احمد اور امام بغوی نے روایت نقل کی ہے کہ بعض صحابہ کرام نے آپس میں اس قسم کی باتیں کی تھیں کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کو کونسا عمل سب سے زیادہ پسند ہے تو ہم اس کے لیے جان تک قربان کردیں۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو بلایا، اور یہ سورت انہیں پڑھ کر سنائی، (تفسیر مظہری اور ابن کثیر) اس میں پہلے تو انہیں یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکالنی چاہیے جس میں دعوے کا کوئی پہلو نکلتا ہو کہ میں فلاں کام ضرور کروں گا، کیونکہ عین ممکن ہے کہ کسی وجہ سے وہ کام ہو نہ سکے اور دعویٰ جھوٹا ہوجائے، اور انسان جو کچھ کہہ رہا ہے، وہ کر نہ سکے۔ ہاں اپنے اوپر بھروسہ کرنے کے بجائے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

کبر مقتا .................... تفعلون (16 : 2) ” اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں “۔ القت وہ ناپسندیدہ بات جو اللہ کے نزدیک بہت ہی ناپسندیدہ ہے۔ وہ اس کو بہت برا سمجھتا ہے اور یہ اللہ کہتا ہے جو تمہارا رب ہے۔ اور تیسری آیت میں وہ بات واضح طور پر بتادی جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم کریں گے مگر پھر بھی انہوں نے اس سلسلے میں کوتاہی کی۔ اور وہ ہے جہاد و قتال۔ اور قرار دیا جاتا ہے کہ جو لوگ صف بستہ قتال کرتے ہیں وہ بہت ہی محبوب لوگ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–4

5 بندہ کو لاف زنی اور دعوے کی بات سے ڈرنا چاہیے کہ پیچھے مشکل پڑتی ہے۔ زبان سے ایک بات کہہ دینا آسان ہے، لیکن اس کا نباہنا آسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض اور بیزار ہوتا ہے جو زبان سے کہے بہت کچھ اور کرے کچھ نہیں۔ روایات میں ہے کہ ایک جگہ مسلمان جمع تھے، کہنے لگے ہم کو اگر معلوم ہوجائے کہ کون سا کام اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے تو وہ ہی اختیار کریں۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ یعنی دیکھو ! سنبھل کر کہو، لو ہم بتلائے دیتے ہیں، کہ اللہ کو سب سے زیادہ ان لوگوں سے محبت ہے جو اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں کے مقابلہ پر ایک آہنی دیوار کی طرح ڈٹ جاتے ہیں اور میدان جنگ میں اس شان سے صف آرائی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ } ”بڑی شدید بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔“ یہ بہت سخت الفاظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے اس سے بڑی ڈانٹ اور گرفت اور بھلا کیا ہوسکتی ہے ؟ لیکن اس ڈانٹ اور اظہارِ بیزاری کے بعد اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا اور محبت کا معیار بھی بتادیا ہے کہ اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ اللہ کو کیسے لوگ پسند ہیں اور یہ کہ وہ کیسے لوگوں سے محبت کرتا ہے تو سنو !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 2–3

2 قول وفعل کا تضاد بہت بری خصلت ہے :۔ دوسری اور تیسری آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ انسان دوسروں کو ایسی باتوں کی نصیحت کرے جن پر وہ خود عمل نہ کرتا ہو۔ مثلاً دوسروں کو اور بالخصوص اپنی اولاد کو یہ نصیحت کرے کہ سچ بولنا بہت اچھی عادت ہے لہذا ہمیشہ سچ بولا کرو۔ لیکن خود ان سے ایسی باتیں کہے جن سے اس کا جھوٹ واضح ہوجائے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسی لاف زنی مت کرو یا ایسی شیخیاں مت بگھارو جن پر تم عمل پیرا ہو ہی نہیں سکتے، انسان کے قول اور فعل کا تضاد بہت بری خصلت ہے۔ جس سے انسان لوگوں کی نظروں میں گر جاتا ہے اور اللہ تو ایسی بات کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ زبان سے ایک بات کہہ دینا آسان ہے لیکن اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–3

2۔ اسلام ہر مسلمان کو عملی انسان، سیرت کا پختہ اور کردار کا مضبوط اور مجاہد بنانا چاہتا ہے، اور نفاق بلکہ شائبہ نفاق سے بھی دور رکھنا چاہتا ہے۔ اسی لئے وہ قول وعمل کی مطابقت پر شدت سے مصر رہا۔ ان آیتوں کے نزول کا سبب قریب روایتوں میں یہ آیا ہے کہ بعض مسلمانوں نے آپس میں کہا تھا کہ ہم کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کے ہاں محبوب تر عمل کونسا ہے، تو ہم ضرور اسے کرڈالیں، حالانکہ اس کے قبل معرکہ احدم میں، بعض حضرات جہاد کے موقع پر ثابت قدم نہیں بھی رہے تھے، یہاں اسی پر گرفت ہے۔ (آیت) ” لم تقولون مالاتفعلون “۔ حاصل یہ کہ واعظ اور داعی کے لئے باعمل ہونا اور زیادہ ضروری ہے، یہ مطلب نہیں کہ عمل یا ضعیف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–4

تفسیر و تشریح شان نزول : یا ایھا الذین آمنوا لم تقولون مالاتفعلون یہاں ندا اگرچہ عام ہے لیکن مخاطب وہ مومنین ہیں جو کہہ رہے تھے کہ اگر ہمیں احب الاعمال کا علم ہوجائے تو انہیں کریں، لیکن جب انہیں بعض احب الاعمال بتلائے گئے تو سست ہوگئے، اس لئے اس آیت میں ان کو توبیخ کی گئی ہے، ترمذی (رح) تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ سے رویا ت کی ہے کہ صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت نے آپس میں ایک روز یہ مذاکرہ کیا کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کونسا ہے تو ہم اس پر عمل کریں ؟ بغوی (رح) تعالیٰ نے اس میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ ان حضرات میں سے بعض نے کچھ ایسے الفاظ بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون . ” اللہ کی بڑی ناراضی کی ہے ‘ یہ بات کہ جو کہو وہ کرو نہیں مَقْتًا : سخت ترین غصہ۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ ان کا قول اللہ کو اتنا سخت ناپسند اور موجب ناراضی تھا کہ ہر ناپسندیدہ قول سے بڑھ کر تھا۔ یہ پرزور بازداشت ہے اس امر سے کہ ایسی بات کہیں جو کریں نہیں اور وعدہ تو کرلیں مگر پورا نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–3

(2۔ 3) اے ایمان والو ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔ اور وجہ یہ پیش آئی کہ بعض صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ کاش ہمیں معلوم ہوجاتا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے تو ہم اسے کرتے تو اس عمل کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰي تِجَارَةٍ (الخ) اچنانچہ اس آیت کے نزول کے بعد جتنا اللہ کو منظور ہوا صحابہ کرام ٹھہرے رہے اور ان سے اس کامیابی والی تجارت کی تفصیل نہیں بیان کی گئی، چناچہ انہوں نے پھر عرض کیا کاش ہمیں معلوم ہوجاتا کہ وہ کیا ہے تاکہ ہم اس میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنے گھروں کو…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 2–3

یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ : ان آیات میں ان لوگوں پر تعجب اور شدید ناراضی کا اظہار ہے جو وہ بات کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔ اس میں کئی طرح کے لوگ شامل ہیں ، عبد اللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں :’ ’ ہم نے آپس میں یہ ذکر کیا کہ کون ہے جو رسول اللہ ﷺ کے پاس جائے اور آپ سے پوچھے کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ محبوب ہے ، مگر ہم میں سے کوئی بھی نہ اٹھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف ایک آدمی بھیجا اور ہمیں جمع کرنے کے بعد یہ سورت یعنی سورة ٔ صف پوری پڑھ کر سنائی“۔ (مسند احمد : 5، 452، ح : 23788) مسند احمد کے محققین نے فرمایا :“ امناق صحیح علی شرط الشیخین“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

آیات۔ 1۔ 3 تفسیر پہلی آیت کی تفسیر سورة حدید کی پہلی آیت کے تحت گزر چکی ہے۔ دوسری دو آیات کے ضمن میں پانچ مسائل بیان کئے گئے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا……۔ داری ابو محمد نے اپنی مسند میں روایت نقل کی ہے کہ محمد بن کثیر، اوزاعی سے وہ یحیٰی بن ابی کثیر سے وہ ابو سلمہ سے وہ حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں : ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کی ایک جماعت بیٹھی ہم نے آپس بات چیت کی ہم نے کہا : اگر ہم جانتے کے اعمال میں سے کون سا عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ محبوب ہے تو ہم اس پر ضرور عمل کرتے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات سبح اللہ ……۔ ……۔ کو نازل فرمایا۔ ابو سلمہ نے کہا : حضرت ابن سلام نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–4

12۔ عبد بن حمید وابن المنذر قتادہ (رح) سے آیت ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کے بارے میں روایت کیا کہ تم عمارت والے کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ قطعاً پسند نہیں کرتا کہ اس کی عمارت میں اختلاف یعنی کوئی ٹیڑھا پن ہو تو اس طرح اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں فرماتے کہ اس کے حکم اور معاملہ میں اختلاف یا کوئی عیب ہو بیشک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے ان کی جنگوں کا جو طریقہ کار بیان فرمایا وہی ان کے لیے نمازوں میں طریقہ بیان فرمایا سو تم لازم پکڑو اللہ کے حکم کو کیونکہ یہ حفاظت اور نجات کا ذریعہ اس شخص کے لیے جس نے اسے اپنا لیا یعنی اس کے حکم پر عمل کیا۔ 13۔ ابن مردویہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَبُرَ : وہ (بات) بڑی ہوئی ][ مَقْتًا : بلحاظ بےزاری کے ][عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے نزدیک ][ ان تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ : کہ تم لوگ وہ کہو جو کرتے نہیں ہو ] ترکیب : (آیت۔ 3) کَبُرَ کا فاعل اس میں شامل ھُوَ کی ضمیر ہے جو گذشتہ آیت کے فقرے لَمَ تَقُوْلُوْنَ مَالاَ تَفْعَلُوْنَ کے لیے ہے۔ اس کو اسی آیت کے فقرے اَنْ تَقُوْلَوْا مَالَا تَفْعَلُوْنَ کی ضمیر ماننے سے مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن یہ اس لیے درست نہیں ہے کہ ضمیر کا مرجع عموماً ضمیر سے پہلے ہوتا ہے۔ مَقْتًا مفعول نہیں ہے بلکہ تمیز ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

جو کام نہیں کرتے ان کے دعوے کیوں کرتے ہو ؟ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت ہے کہ ہم چند صحابہ بیٹھے ہوئے تھے آپس میں ہم نے (اچھے) اعمال کا تذکرہ کیا اور ہم نے کہا کہ اگر ہمیں پتہ چل جاتا کہ کون ساعمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے تو ہم اس عمل کو اختیار کرلیتے اس پر اللہ جل شانہ نے ﴿سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ 1ۚ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 001 يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 002﴾ نازل فرمائی۔ (سنن الترمذی ابواب التفسیر سورة الصف) اور معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب صحابہ نے کہا کہ اگر ہمیں معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

تسبیح وتحمید خداوندی مع ترغیب اہل ایمان برائے جہاد فی سبیل اللہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں کافروں سے موالات ودوستی پر تنبیہ ووعید تھی اور واضح طور پر یہ فرما دیا گیا تھا (آیت) ” لاتتولوا قوما غضب اللہ علیھم “۔ کہ اے مسلمانو ! ہرگز ایسی قوم کو اپنا دوست نہ بناؤ جن پر خدا کا غضب ہے، اب اس سورت میں حق تعالیٰ شانہ اپنی پاکی اور بےنیازی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ مسلمانوں کو حکم دیا کہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہو کر کافروں کے مقابلہ اور مقاتلہ کیلئے اٹھ کھڑے ہونا چاہئے اور یہ وصف اس وقت پیدا ہوگا جب مسلمان اپنے قول وفعل میں مطابقت اور یکسانیت پیدا کرلے، اس زمانہ میں عرب میں کھلبی مچی ہوئی تھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–4

3:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “۔ خطاب اول برائے مومنین۔ یہ سورة ممتحنہ میں مذکور مسلمانوں سے کمتر درجہ کے مسلمانوں پر زجر ہے۔ تم کہتے تھے کہ اگر ہمیں وہ باتیں معلوم ہوجائیں جن پر عمل کرنے سے خدا راضی ہوتا ہے تو ہم ان پر ضرور عمل کریں۔ اب جبکہ تم پر قتال فرض کیا گیا ہے جس سے اللہ راضی ہوتا ہے اور جو دین و دنیا کی بھلائی کا وسیلہ ہے تو تم اس سے جی چرانے لگے ہو۔ یعنی جو کچھ زبان سے کہتے تھے اب اس پر عمل نہیں کرتے ہو ” کبر مقتا “ یہ بات اللہ کے یہاں نہایت مبغوض اور ناپسندیدہ ہے کہ تم جو کچھ کہو اس پر عمل نہ کرو۔ ” ان اللہ یحب “ اللہ تعالیٰ تو ان کو چاہتا اور پسند فرماتا ہے جو اس کی راہ میں آہنی دیوار…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصف ہے جو اس کی چوتھی آیت میں آمدہ لفظ الصف سے موسوم ہے۔ صف قطار کو کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں جہاد کے لئے صف بندی کا ذکر ہے ، لہٰذا اس سورة کا نام الصف رکھا گیا ہے مفسرین بیان کرتے ہیں کہ مدنی زندگی میں یہ سورة …سورۃ التغابن کے بعد نازل ہوئی حالانکہ ترتیب تلاوت کے لحاظ سے یہ اس سے پہلے ہے۔ اس سورة مبارکہ کی چودہ آیات اور دو رکوع ہیں اور یہ سورة 221 الفاظ اور 926 حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط : گزشتہ سورة الممتحنہ میں خدا ، اس کے رسول ، اس کے دین اور اس کی طرف سے آمدہ پروگرام کے دشمنوں سے دوستی کی ممانعت کی گئی تھی۔ اس واقعہ کا پس منظر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۝ 3 کبر مقتا : کبر ماضی ، واحد مذکر غائب۔ کبر و کبر ( باب کرم) مصدر۔ عربی زبان میں جس لفظ کا اصلی مادہ ک ب ر سے مرکب ہوتا ہے اس کے مفہوم میں بڑائی کے معنی ضرور ہوتے ہیں۔ لیکن بڑائی کی نوعیت جدا جدا ہوتی ہے۔ جیسے الکبیر المتعال (13:9) مرتبہ اور عظمت میں بڑائی۔ اصابہ الکبر (3:266) عمر میں بڑائی۔ پیری۔ بڑھاپا۔ فیہما اثم الکبر (3:219) گناہ میں بڑائی۔ وغیرہ۔ كَبُرَ ( مشقت) وتستعمل الکبيرة فيما يشقّ ويصعب نحو : وَإِنَّها لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخاشِعِينَ [ البقرة/ 45] ، وقال : كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ما تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : ان تقول الجملۃ بتاویل المصدر فاعل کبرمقتًا تمیز منہ عنداللہ متعلق بکبر صفًا حال من فاعل یقاتلون فی سبیلہ متعلق بہ۔ کانہم الجملۃ کذلک حال منہ و صفا بمعنی صافین قال صاحب الکشاف لم ہی لام الاضافۃ داخلۃ علی ما الاستفہامیۃ کمادخل علیھا غیرھا من حروف الجر کقولک بم وفیم و عم و مم و حذف الالف لان ماوالحرف کشیء واحد۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ بھی اسی زمانے میں نازل ہوئی کہ جب ملک عرب میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔ کفار کا مسلمانوں پر ہر طرف سے نرغہ تھا اور مسلمانوں کی قلیل جماعت کو استقلال و جوانمردی سے اپنے دینی دشمنوں کا مقابلہ ضرور تھا اس لیے اس سورة میں ان باتوں کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 2–3

یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالاَ تَفْعَلُوْنَ ۔ کَبُرَمَقْتًا عِنْدَاللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَالاَ تَفْعَلُوْنَ ۔ (الصف : 2، 3) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔ ) بنیادی اخلاقی کمزوری قول و عمل کا تضاد ہے الْمَقْتُ … اہل لغت اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں الْمَقْتُ اشدالابغاض۔ المقت بغض من امرقبیح رکیۃ ” یعنی حددرجہ کا بغض، خصوصاً وہ بغض جو کسی قبیح حرکت کے باعث ہو۔ انسان کی اخلاقی کمزوریوں میں سے یہ کمزوری بہت تکلیف دہ اور نقصان کا باعث ہے کہ انسان کے قول و عمل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–4

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی تسبیح کے بیان اور سورت کے تمہیدی کلمات کے بعد پہلا حکم۔ اس سورت کا مرکزی مضمون قتال فی سبیل اللہ ہے اسی لیے پہلا حکم یہ ہے کہ اے ایمان والو ! جس بات پر تمہارا عمل نہیں وہ بات تمہیں نہیں کہنی چاہیے۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑا جرم ہے کہ تم وہ بات کہو جس پر تمہارا عمل نہیں۔ مفسرین نے اس آیت کے دو مفہوم بیان فرمائے ہیں۔ 1۔ جب قتال فی سبیل اللہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا تو کچھ ایماندار لوگ نبی ﷺ سے قتال فی سبیل اللہ کی اجازت مانگتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ اگر ہمیں کفار کے خلاف قتال کی اجازت دی جائے تو ہم جان توڑ کر لڑیں گے۔ لیکن جونہی قتال فی سبیل اللہ کا حکم آیا تو دعویٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3 : کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ کی بڑی ناراضگی ہے یہ کہ جو کہو وہ کرو نہیں) کَبُرَ میں تعجب کا معنی غیر لفظ سے مقصود ہے۔ جیسا اس قول میں غَلَتْ نابٌ کلیب بوا ؤُھا۔ اور تعجب کا مطلب سامعین کے دلوں میں اس امر کی عظمت بٹھانا مقصود ہوتا ہے۔ کیوں تعجب اسی چیز میں ہوتا ہے جو اپنے ہم مثلوں سے خارج ہوجائے۔ ان تقولوا کی طرف اسناد کی گئی اور مقتًا پر نصب تمیز کی وجہ سے ہے۔ اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ ان کا قول مالا یفعلون۔ یہ خالص ناراضگی ہے اس میں کوئی اور ملاوٹ نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے تمہارا قول مالا تفعلون اللہ تعالیٰ کے ہاں ناراضگی کیلئے کافی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔ اور محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو شہداء بدر کے ثواب کی خبر دی تو صحابہ کرام ؓ نے کہا اگر ہماری اس کے بعد کوئی لڑائی ہوئی تو ہم اس میں اپنی کوشش کریں گے۔ پھر وہ احد کے دن بھاگے تو اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان کو عار دلائی۔ قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ قتال کی شان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ کوئی آدمی کہتا تھا میں نے قتل کیا ہے حالانکہ اس نے قتل نہیں کیا ہوتا تھا اور کہتا میں نے نیزہ مارا حالانکہ نیزہ نہیں مارا ہوتا تھا اور میں نے تلوار ماری حالانکہ اس نے تلوار نہیں ماری ہوتی تھی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن زید (رح) نے کہا ہے کہ منافقین کے بارے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ ترمذی ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں معتبر سند سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ لڑائی کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے بعض لوگ لڑائی کی آرزو ظاہر کرتے تھے جب لڑائی کا حکم نازل ہوا تو لڑائی سے گھبرانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ناخوش ہے کہ منہ سے کوئی شخص ایک بات کہے اور اس کے موافق عمل نہ کرے۔ اور صحیحین 2 ؎ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ زبان سے وعدہ کرکے اس کے موافق عمل نہ کرنا اور روز مرہ کی بات چیت میں جھوٹ بولنا اور امانت میں خیانت کرنا یہ منافق کی پہچان کی باتیں ہیں جو لوگ نیک کام کا ارادہ ظاہر کرکے پھر اس کے موافق عمل نہیں کرتے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 2–3

(يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ) اے ایمان والو۔ تم نیکی کی باتیں کیوں کرتے ہو اور کیوں لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہو، بسا اوقات اس پر تمہاری تعریف بھی کی جاتی ہے اور حال تمہارا یہ ہے کہ تم خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے تم لوگوں کو بدی سے روکھتے ہو اور بسا اوقات تم خود اپنے آپ کو اس سے پاک قرار دیتے ہو حالانکہ تم اس بدی میں ملوث اور اس سے متصف ہو ؟ کیا یہ مذموم حالت مومنوں کے لائق ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی ناراضی کی بات ہے کہ بندہ ایسی بات کہے جس پر خود عمل نہ کرتا ہو ؟ اس لیے نیکی کا حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ لوگوں میں سب سے پہلے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 2–8

جائز نذر کا پورا کرنا ضروری ہے ، ناجائز کا نہیں قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لم تقلون ما لا تفعلون۔ کبرمقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو، اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں۔ ) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے اوپر کوئی عبادت یا تقرب الٰہی کی کوئی صورت یا عقد لازم کرلے تو اس پر اسے پورا کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اسے پورا نہ کرنے کی صورت میں وہ شخص ایسی بات کا قائل گردانا جاتا ہے جسے وہ کرتا نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 3] قول و فعل میں تضاد بڑی بری بات۔ والعیاذ باللّٰہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قول و فعل کا تضاد یعنی کہنا کچھ، اور کرنا کچھ، اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑی بری بات ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت بری ہے کہ تم وہ کچھ کہو جس پر خود عمل نہ کرو کیونکہ صدق و صفا اور قول و فعل کی مطابقت اسلام کی اہم اور بنیادی تعلیمات میں سے ہے اور اسی پر باہمی تعلقات اور حقوق و معاملات کا دارومدار بھی ہے، اور اسی سے معاشرتی اصلاح اور باہمی اعتماد کی فضا وابستہ ہے، جبکہ قول وعمل کے درمیان توافق اور مطابقت کی بجائے تنافض و تضاو کا پایا جانا ضعف ایمانی اور منافقت کی نشانی ہے۔ والعیاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

قول و فعل میں مطابقت اور جہاد کی فضیلت تشریح : آسمانوں اور زمین کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کا تابع فرمان ہے ایک سیکنڈ کے لیے کوئی چیز اللہ کے بنائے ہوئے قانون اور حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی اور یہی ان کی تسبیح ہے۔ کیونکہ اللہ کے غلبے، علم اور حکمت سے باہر کوئی چیز بھی نہیں اور نہ ہی جاسکتی ہے۔ ہر چیز اس کی قدرت کے اندر گھری ہوئی ہے۔ اور وہ کارساز واحد ہے۔ اور وہ دلوں کے بھید بھی خوب اچھی طرح جانتا ہے اس لیے وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ کس کے قول و عمل میں کتنا تضاد ہے۔ کیونکہ مسلمان مخلص ہوتا ہے جب کہ منافق کہتا کچھ ہے کرتا کچھ ہے اور یہ رویہ اللہ کو کسی صورت بھی پسند نہیں۔ حدیث میں آتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

آیات 1 تا 9 اسرار ومعارف۔ آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے قال سے بھی اور حال سے بھی اور اللہ غالب ہے اور حکیم ہے سو اے ایمان والو جس کام کے کرنے کا ارادہ نہ ہو اس کے کرنے کا اعلان بھی مت کرو کہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ بات کہوجوتم کرنا نہیں چاہتے۔ گناہ کبیرہ اور تبلیغ۔ جس طرح آج کل کے لیڈر بہت بڑے دعوے نفاذ اسلام کے یاروٹی کپڑے مکان کے کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ان کا ارادہ قلبی ایسا کرنے کا نہیں ہوتا یہ گناہ کبیرہ ہے رہی تبلیغ کہ خود تو عمل میں کمزور ہے اور دوسروں کو دعوت دے رہا ہے تو دعوی اور دعوت میں فرق ہے مبلغ کو چاہیے کہ خود بھی عمل کرے لیکن اگر کمزوری سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 5 ان آیات کی شان نزول … جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے … گو خاص ہے اور وہ یہ کہ جہاد فرض ہونے سے پہلے کچھ مسلمان کہا کرتے تھے اگر ہمیں پتا چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے محبوب عمل کون سا ہے تو ہم اس پر عمل کر کے دکھائیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ اس کے نزدیک سب سے محبوب عمل اس پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں کافروں سے جہاد کرنا ہے۔ اس کے بعد جب جہاد کا حکم نازل ہوا تو وہ ان پر شاق گزرا اور وہ تردد میں پڑگئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں لیکن ان کا حکم عام ہے اور ان کی رو سے وہ شخص انتہائی قابل مذمت ہے جو زبان سے کسی چیز کا وعدہ و اقرار کرتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(61:3) کبر مقتا : کبر ماضی ، واحد مذکر غائب۔ کبر و کبر (باب کرم) مصدر۔ عربی زبان میں جس لفظ کا اصلی مادہ ک ب ر سے مرکب ہوتا ہے اس کے مفہوم میں بڑائی کے معنی ضرور ہوتے ہیں۔ لیکن بڑائی کی نوعیت جدا جدا ہوتی ہے۔ جیسے الکبیر المتعال (13:9) مرتبہ اور عظمت میں بڑائی۔ اصابہ الکبر (3:266) عمر میں بڑائی۔ پیری۔ بڑھاپا۔ فیہما اثم الکبر (3:219) گناہ میں بڑائی۔ وغیرہ۔ مقتا۔ بغض، عناد۔ غصہ۔ بیزاری، (باب نصر) سے مصدر ہے۔ بوجہ تمیز منصوب ہے ازروئے بیزاری، ازروئے ناپسندیدیگی۔ عند اللہ : متعلق کبر ہے۔ ان تقولوا : ان مصدریہ ۔ تقولوا مضارع منصوب بوجہ عمل ان جملہ ان تقولوا ب تاویل مصدر فاعل ہے۔ مالا تفعلون : ما…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–14

لغات القرآن۔ لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔ تشریح : مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

جہاد کے آداب۔ (ف 1) شان نزول : ترمذی، مستدرک حاکم وغیرہ میں معتبر سند سے جو شان نزول ان آیتوں کا بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ لڑائی کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے بعض لوگ لڑائی کی آرزو ظاہر کرتے تھے جب لڑائی کا حکم نازل ہوا تولڑائی سے گھبرانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ناخوش ہے کہ منہ سے کوئی شخص ایک بات کہے ، اور اس کے موافق عمل نہ کرنا اور روزمرہ کی بات چیت میں جھوٹ بولنا اور امانت میں خیانت کرنا یہ منافق کی پہچان کی باتیں ہیں جو لوگ نیک کام کا ارادہ ظاہر کرکے پھر اس کے موافق عمل نہیں کرتے ان کے ذکر سے پ ہے آسمان و زمین میں جو مخلوق اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–3

[1] خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن بعد کی آیت کو ان آیات کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اسلام کے لئے انفاق و جہاد کے دعوے تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے لیکن جب آزمائش کا وقت آتا تو بالکل بزدل ثابت ہوتے۔ ان کی اس کمزوری پر قرآن مجید میں کئی جگہ گرفت کی گئی ہے (ملاحظہ ہو سورة نساء آیت 77 صفحہ 194 اور سورة محمد آیت 20 صفحہ 1224) ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان آیات میں انبیاء کے حالات کو بیان کیا ہے ۔ تاکہ حضور ﷺ کو معلوم ہو ۔ کہ امم سابقہ نے کیونکر حق و انصاف کی مخالفت کی ۔ اور کس طرح اپنے انبیاء کو بوقلمون اذیتوں سے شکستہ خاطر کیا ہے ۔ فرمایا ۔ کہ جب حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے کہا کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں ۔ اور تمہاری اصلاح کے لئے مبعوث ہوا ہوں ۔ تو انہوں نے کیا کہا ؟ کیا فوراً تسلیم کرلیا ؟ نہیں بلکہ مطالبہ کیا ۔ کہ ارنا اللہ جھرۃ پہلے جس خدا کی توحید کی طرف تم ہم کو دعوت دیتے ہو ۔ اس کو کھلم کھلا دکھاؤ۔ جب مانیں گے ۔ پھر گو سالہ کی پرستش شروع کردی ۔ اور خدا کی توحید کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ امر سخت مبغوض ہے اور بہت ناراضی کی بات ہے کہ تم ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت ناپسندیدہ اور مبغوض ہے کہ تم جو بات زبان سے کہتے ہو اس کو کرتے نہیں یا جو بات دوسروں سے کہتے ہو وہ خود نہیں کرتے۔ مطلب یہ ہے کہ امربالمعروف کرو لیکن خودبھی اس پر عمل کرو حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے ایک شخص نے وعظ کہنے کی اجازت طلب کی کہ میں لوگوں کو نصیحت کرنے اور واعظ کہنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ تونے قرآن شریف کی تین آیتوں پر غور کرلیا ہے اس نے عرض کیا کہ وہ تین آیتیں کون سی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ایک تو سورة بقرہ کی آیت ہے ۔ اتامرون الناس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 6۔ پس جو ایسا باعظمت و شان ہو، اس کی اطاعت ہر حکم میں ضرور ہے، جن میں ایک حکم جہاد کا ہے جو اس سورة میں مذکور ہے جس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ ایک بار بعض مسلمانوں نے باہم تذکرہ کیا کہ اگر ہم کو کوئی ایسا عمل معلوم ہو جو حق تعالیٰ کے نزدیک نہایت محبوب ہو تو ہم اس کو عمل میں لاویں، اور اس کے قبل جنگ احد میں بعضے جہاد سے بھاگ چکے تھے، نیز وقت نزول حکم جہاد کے بعض کو وہ حکم گراں گزرا تھا اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو لوگ کریں کچھ اور کہیں کچھ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناراضگی کا باعث ہیں 3 ؎ (مقتا) کا مادہ م ق ت ہے اور اس مادہ کے جو الفاظ قرآن کریم میں بیان ہوئے وہ مقت ، مقتا اور مقتکم کے ہیں ۔ مقت کا لفظ سورة المو من کی آیت 10 میں آیا ہے۔ ( مقتا ً ) سورة النساء کی آیت 22 ، سورة فاطر کی آیت 39 ، سورة المؤمن کی آیت 35 میں اور ( مقتکم) کا لفظ بھی سورة المؤمن ہی کی آیت 10 میں آیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ المقت اشد الابغاض اور یہ کہ المقت بغض من امر قبیح رکبہ ” حد درجہ کا بغض “ اور یہ وہ بغض ہے جو کسی قبیح حرکت کے باعث ہو مطلب یہ ہے کہ انسان کی یہ حرکت کہ وہ زبان سے کچھ کہے اور فعل سے کچھ کرے ، ایسی بری حرکت ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴿2﴾ كَبُرَ‌ مَقْتًا عِندَ اللَّـهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴿3﴾ (0 those who believe, why do you say what you do not do? It is severely hateful in Allah's sight that you say what you do not do...61:2-3) Apparently, the phrase 'what you do not do' implies that one should not claim to do something he does not intend to do. From this it may be deduced that it is prohibited to make a commitment to do a work while a person does not have the genuine intention to really do it, because this would be ostentation and a false…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 One meaning of this passage is general as is apparent from its words. It has a special meaning also, which becomes evident when this verse is read along with the verse that follows. The first meaning is that there should be complete agreement between a true Muslim's word and deed: he should carry into effect whatever he says, and when he has no intention of doing it, or has no power for it, he should not say it. To say one thing and do another is one of the most hideous characteristics of man, in the sight of Allah. The Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) has explained that a person's…

Read the full tafseer →