Explained with ayahs 1–4
ایفائے عہد ایمان کی علامت ہے اور صف اتحاد کی علامت
پہلی آیت کی تفسیر کئی بار گذر چکی ہے اب پھر اس کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جو کہیں اور نہ کریں، وعدہ کریں اور وفا نہ کریں، بعض علمائ، سلف نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ وعدہ کا پورا کرنا مطلقاً واجب ہے جس سے وعدہ کیا ہے خواہ وہ تاکید کرے یا نہ کرے، ان کی دلیل بخاری و مسلم کی یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی تین عادتیں ہوتی ہیں (1) جب وعدہ کرے خلاف کرے (2) جب بات کرے جھوٹ بولے (3) جب امانت دیا جائے خیانت کے، دوسری صحیح حدیث میں ہے چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چار میں سے ایک ہو…
Read the full tafseer →سورة الصَّف 3
اس سے اول تو معلوم یہ ہوا کہ اللہ کی خوشنودی سے وہی اہل ایمان سرفراز ہوتے ہیں جو اس کی راہ میں جان لڑانے اور خطرہ سہنے کے لیے تیار ہوں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ کو جو فوج پسند ہے اس میں تین صفات پائی جانی چاہئے۔ ایک یہ کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر اللہ کی راہ میں لڑے اور کسی ایسی راہ میں نہ لڑے جو فی سبیل اللہ کی تعریف میں نہ آتی ہو۔ دوسری یہ کہ وہ بدنظمی و انتشار میں مبتلا نہ ہو بلکہ مضبوط تنظیم کے ساتھ صف بستہ ہو کر لڑے۔ تیسری یہ کہ دشمنوں کے مقابلہ میں اسکی کیفیت " سیسہ پلائی ہوئی دیوار " کی سی ہو۔ پھر یہ آخری صفت بجائے خود اپنے اندر معنی کی ایک دنیا رکھتی ہے۔ کوئی فوج اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
اگلی آیات میں اس اصل معاملہ کا ذکر ہے جو اس سورت کے نزول کا سبب بنا یعنی اس کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کونسا عمل زیادہ محبوب ہے، اس کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ، یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب وہ صف قتال ہے جو اللہ کے دشمنوں کے مقابلہ میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے قائم ہو اور مجاہدین کے عزم و ہمت کی وجہ سے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہو کہ ان کے قدموں میں کوئی تزلزل نہ آنے پائے۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کی راہ میں دشمنوں کی…
Read the full tafseer →(منافقین کی اصل کمزوری)۔ (ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کا نھم بنیان موصوص) (4)۔ یہ ان منافقین کی اس کمزوری سے پردہ اٹھایا ہے جس پر یہ نکیر فرمائی گئی ہے۔ معلوم ہوا کہ ان کی خاص کمزوری یہ تھی کہ اپنی وفاداری و جان نثاری کی دھونس جمانے کے لیے وہ جہاد کے ولولہ کا اظہار تو بہت کرتے لیکن جب جہاد کا حکم دے دیا گیا تو چھپتے پھرتے تھے۔ سورة نساء میں ان کی کمزوری کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے۔ (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَج فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ…
Read the full tafseer →4۔ 1 یہ جہاد کا ایک انتہائی نیک عمل بتلایا گیا جو اللہ کو بہت محبوب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2: امام احمد اور امام بغوی نے روایت نقل کی ہے کہ بعض صحابہ کرام نے آپس میں اس قسم کی باتیں کی تھیں کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کو کونسا عمل سب سے زیادہ پسند ہے تو ہم اس کے لیے جان تک قربان کردیں۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو بلایا، اور یہ سورت انہیں پڑھ کر سنائی، (تفسیر مظہری اور ابن کثیر) اس میں پہلے تو انہیں یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکالنی چاہیے جس میں دعوے کا کوئی پہلو نکلتا ہو کہ میں فلاں کام ضرور کروں گا، کیونکہ عین ممکن ہے کہ کسی وجہ سے وہ کام ہو نہ سکے اور دعویٰ جھوٹا ہوجائے، اور انسان جو کچھ کہہ رہا ہے، وہ کر نہ سکے۔ ہاں اپنے اوپر بھروسہ کرنے کے بجائے…
Read the full tafseer →ان اللہ .................... مرصوص (16 : 4) ” اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں “۔ صرف قتال ہی نہیں ، بلکہ قتال اللہ کی راہ میں ہو ، اور یہ قتال منظم ہو ، سوسائٹی کی صفوں کے اندر تنظیم کے بعدہو اور یہ قتال ہو بھی نہایت ہی جم کر لڑنے کی صورت میں۔
جیسا کہ ہم نے اس پارے کی متعدد سورتوں میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ قرآن کریم کے پیش نظر یہ بات تھی کہ ایک ایسی امت کی تعمیر کی جائے جو اس زمین پر قرآن کی امانت کی حامل ہو۔ قرانی منہاج زندگی قائم کرنا اس کی منشا ہو ، اور قرآنی شریعت کو ایک مکمل نظام کی شکل میں پیش کرے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
5 بندہ کو لاف زنی اور دعوے کی بات سے ڈرنا چاہیے کہ پیچھے مشکل پڑتی ہے۔ زبان سے ایک بات کہہ دینا آسان ہے، لیکن اس کا نباہنا آسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض اور بیزار ہوتا ہے جو زبان سے کہے بہت کچھ اور کرے کچھ نہیں۔ روایات میں ہے کہ ایک جگہ مسلمان جمع تھے، کہنے لگے ہم کو اگر معلوم ہوجائے کہ کون سا کام اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے تو وہ ہی اختیار کریں۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ یعنی دیکھو ! سنبھل کر کہو، لو ہم بتلائے دیتے ہیں، کہ اللہ کو سب سے زیادہ ان لوگوں سے محبت ہے جو اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں کے مقابلہ پر ایک آہنی دیوار کی طرح ڈٹ جاتے ہیں اور میدان جنگ میں اس شان سے صف آرائی…
Read the full tafseer →آیت 4 { اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ۔ } ”اللہ کو تو محبوب ہیں وہ بندے جو اس کی راہ میں صفیں باندھ کر قتال کرتے ہیں ‘ جیسے کہ وہ سیسہ پلائی دیوار ہوں۔“
آج کے زمانے میں ”بنیانِ مرصوص“ reinforced concrete wall کو کہا جائے گا۔ ایسی دیواریں بڑے بڑے dams کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ البتہ پرانے زمانے میں اگر کسی دیوار کو غیر معمولی طور پر مضبوط کرنا مقصود ہوتا توچنائی کرنے کے بعد اس کے اندر پگھلا ہوا تانبا ڈالا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو میں عام طور پر ”بنیانِ مرصوص“ کا ترجمہ ”سیسہ پلائی ہوئی دیوار“ کے الفاظ میں کیا جاتا ہے۔…
Read the full tafseer →3 جہاد کے سلسلہ میں تین ہدایات :۔ یہ ارشاد الٰہی تو ایک عام حکم کا درجہ رکھتا ہے کہ قول و فعل کا تضاد اللہ کے ہاں سخت ناپسندیدہ چیز ہے اور اس کا خصوصی پہلو یہ ہے کہ مکی زندگی کے دوران جبکہ مسلمانوں کو صرف صبر اور برداشت کا حکم تھا کئی مسلمان یہ آرزو کرتے تھے کہ انہیں کافروں سے لڑائی کی اجازت ملنی چاہیے اور اگر ہمیں یہ اجازت مل جائے تو ہم کافروں کو تہس نہس کردیں۔ مگر جب اجازت مل گئی تو بعض لوگ یوں کہنے لگے کہ پروردگار ! ہم پر قتال کو فرض کرنے کی اتنی بھی کیا جلدی پڑی تھی (4: 77) اور کچھ لوگوں کے تو یہ حکم سن کر رنگ ہی اڑ گئے۔ انہیں یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ بس ابھی موت آئی کہ آئی (47: 20) قول…
Read the full tafseer →3۔ اپنی صف وقطار میں ذار شگاف نہیں پیدا ہونے دیتے) آیت میں حق تعالیٰ کے ہاں محبوبیت کا راز بتادیا۔ قتال فی سبیل اللہ، جم کر اور صف بستہ ہوکر۔ (آیت) ” کانھم بنیان مرصوص “۔ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے ساتھ مسلمان سپاہ کی قطار کی تشبیہ ثبات و استحکام کے لحاظ سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
تفسیر و تشریح
شان نزول :
یا ایھا الذین آمنوا لم تقولون مالاتفعلون یہاں ندا اگرچہ عام ہے لیکن مخاطب وہ مومنین ہیں جو کہہ رہے تھے کہ اگر ہمیں احب الاعمال کا علم ہوجائے تو انہیں کریں، لیکن جب انہیں بعض احب الاعمال بتلائے گئے تو سست ہوگئے، اس لئے اس آیت میں ان کو توبیخ کی گئی ہے، ترمذی (رح) تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ سے رویا ت کی ہے کہ صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت نے آپس میں ایک روز یہ مذاکرہ کیا کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کونسا ہے تو ہم اس پر عمل کریں ؟ بغوی (رح) تعالیٰ نے اس میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ ان حضرات میں سے بعض نے کچھ ایسے الفاظ بھی…
Read the full tafseer →ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیل صفا کانھم بنیان مرصوص
‘ اللہ ان لوگوں کو (خاص طور پر)
پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ “
صَفًّا : یعنی لڑائی میں اپنی جگہ سے ہلتے نہیں ‘ جمے رہتے ہیں۔
مَّرْصُوْصٌ : یعنی ایسی صف بندی کرتے ہیں کہ بیچ میں شگاف نہیں چھوڑتے اور بھاگنے کے لیے حرکت بھی نہیں کرتے۔ رص کا معنی ہے کسی عمارت یا دیوار کا مضبوط ہونا اور اس کے اجزاء کا باہم اتنا پیوسہ ہوجانا (ٹھس جانا) کی خلاء بالکل نہ رہے۔
Read the full tafseer →اب اللہ تعالیٰ ان کو جہاد فی سبیل اللہ پر ابھارتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو میدان جنگ میں سیسہ پلائی عمارت کی طرح ملکر اور جم کر لڑتے ہیں۔
Read the full tafseer →1۔ اِنَّ اللہ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ۔۔۔۔۔:”مرصوص“”الرصاص“ سیسہ (سکہ)”رص یرص رصا“ (ن) ایک چیز کو دوسری کے ساتھ خوب جوڑ دینا ، چمٹا دینا۔ اس میں سیسے کے اجزا کے باہم متصل ہونے کی تشبیہ ملحوظ ہے۔ ”بنیان“”بنی یبنی بنائ“ (ض) سے مصدر یہ بمعنی اسم مفعول بنائی ہوئی عمارت۔”بنیان مرصوص“ ایسی عمارت جس کے اجزاء ایک دوسرے سے سیسے کی طرح ملے ہوئے ہوں۔
2۔ اس جگہ اس آیت کا آنا دلیل ہے کہ پہلی آیات کا تعلق قتال فی سبیل اللہ سے ہے۔
3۔ اس آیت سے قتال فی سبیل اللہ کرنے والوں کی فضیلت ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہیں۔ ابو سعیدخدری ؓ بیان کرتے ہیں :(قبل یا رسول اللہ ! ای الناس…
Read the full tafseer →تفسیر
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ ان اللہ ……… وہ صف بندی کرتے ہیں۔ مفعول بہ مضمر ہے تقدیر کلام یہ ہے یصفون انفسھم صفا۔
کانھم……۔ فراء نے کہا : وہ سیسہ پلائی ہوی دیوار ہیں (1) ۔ مبرد نے کہا : یہ رصحت البناء سے مشتق ہے جب تو اسے اس طرح بنا دے کہ وہ ایک ٹکڑے کی طرح ہوجائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ رصیص سے مشتق ہے اس سے مراد دانتوں کا ایک دوسرے کے ساتھ جڑنا ہے۔ تراص سے مراد باہم جڑنا ہے۔ اسی سے تراصوانی الصف ہے آیت کا معنی ہے۔ جو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنی جگہ جم جاتا ہے جس طرح دیوار ایک جگہ ثابت رہتی ہے۔ سعید ب جبیر نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کیجانب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
12۔ عبد بن حمید وابن المنذر قتادہ (رح) سے آیت ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کے بارے میں روایت کیا کہ تم عمارت والے کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ قطعاً پسند نہیں کرتا کہ اس کی عمارت میں اختلاف یعنی کوئی ٹیڑھا پن ہو تو اس طرح اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں فرماتے کہ اس کے حکم اور معاملہ میں اختلاف یا کوئی عیب ہو بیشک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے ان کی جنگوں کا جو طریقہ کار بیان فرمایا وہی ان کے لیے نمازوں میں طریقہ بیان فرمایا سو تم لازم پکڑو اللہ کے حکم کو کیونکہ یہ حفاظت اور نجات کا ذریعہ اس شخص کے لیے جس نے اسے اپنا لیا یعنی اس کے حکم پر عمل کیا۔
13۔ ابن مردویہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →[ان اللّٰهَ يُحِبُّ : بیشک اللہ پسند کرتا ہے ][ الَّذِينَ يُقَاتِلُوْنَ : ان لوگوں کو جو قتال کرتے ہیں ][ فِيْ سَبِيْلِهٖ : اس کی راہ میں ][ صَفًّا : صف باندھتے ہوئے ][ كَانهُمْ : جیسے کہ وہ لوگ ][ بُنْيَان مَّرْصُوْصٌ: ایک مضبوط کی ہوئی عمارت ہیں ]
ر ص ص
[رصًّا : (ن) ایک کو دوسرے سے جوڑنا۔ چمٹانا۔][مَرْصُوْصٌ: اسم المفعول ہے جوڑا ہوا۔ چھٹایا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 4 ۔]
(آیت۔ 4) صَفًّا حال ہے۔
نوٹ۔ 1 : صحابہ کرام کی ایک جماعت نے آپس میں مذاکرہ کیا کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل کونسا ہے تو ہم اس پر عمل کریں۔ ان میں سے بعض نے کچھ ایسے الفاظ بھی کہے…
Read the full tafseer →مجاہدین اسلام کی تعریف و توصیف :
پھر جہاد کرنے والوں کی تعریف فرمائی ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ004﴾ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں صف بنا کر قتال کرتے ہیں گویا کہ مجموعی حیثیت سے سب مل کر ایک عمارت ہیں جس میں سیسہ پگھلایا گیا ہو) ، اس سے جہاد کرنے اور جم کر لڑنے کی فضیلت معلوم ہوئی۔ بعض مرتبہ صف سے نکلنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے جبکہ دشمن کے افراد ھل من مبارز کہہ کر مسلمان کو مقابلہ کی دعوت دیں یہ کبھی کبھار اور تھوڑی دیر کو ہوتا ہے اصل جنگ وہ ہی ہے جس میں صف بنا کر جم کر اور ڈٹ کر لڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
تسبیح وتحمید خداوندی مع ترغیب اہل ایمان برائے جہاد فی سبیل اللہ “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں کافروں سے موالات ودوستی پر تنبیہ ووعید تھی اور واضح طور پر یہ فرما دیا گیا تھا (آیت) ” لاتتولوا قوما غضب اللہ علیھم “۔ کہ اے مسلمانو ! ہرگز ایسی قوم کو اپنا دوست نہ بناؤ جن پر خدا کا غضب ہے، اب اس سورت میں حق تعالیٰ شانہ اپنی پاکی اور بےنیازی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ مسلمانوں کو حکم دیا کہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہو کر کافروں کے مقابلہ اور مقاتلہ کیلئے اٹھ کھڑے ہونا چاہئے اور یہ وصف اس وقت پیدا ہوگا جب مسلمان اپنے قول وفعل میں مطابقت اور یکسانیت پیدا کرلے، اس زمانہ میں عرب میں کھلبی مچی ہوئی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
3:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “۔ خطاب اول برائے مومنین۔ یہ سورة ممتحنہ میں مذکور مسلمانوں سے کمتر درجہ کے مسلمانوں پر زجر ہے۔ تم کہتے تھے کہ اگر ہمیں وہ باتیں معلوم ہوجائیں جن پر عمل کرنے سے خدا راضی ہوتا ہے تو ہم ان پر ضرور عمل کریں۔ اب جبکہ تم پر قتال فرض کیا گیا ہے جس سے اللہ راضی ہوتا ہے اور جو دین و دنیا کی بھلائی کا وسیلہ ہے تو تم اس سے جی چرانے لگے ہو۔ یعنی جو کچھ زبان سے کہتے تھے اب اس پر عمل نہیں کرتے ہو ” کبر مقتا “ یہ بات اللہ کے یہاں نہایت مبغوض اور ناپسندیدہ ہے کہ تم جو کچھ کہو اس پر عمل نہ کرو۔ ” ان اللہ یحب “ اللہ تعالیٰ تو ان کو چاہتا اور پسند فرماتا ہے جو اس کی راہ میں آہنی دیوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصف ہے جو اس کی چوتھی آیت میں آمدہ لفظ الصف سے موسوم ہے۔ صف قطار کو کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں جہاد کے لئے صف بندی کا ذکر ہے ، لہٰذا اس سورة کا نام الصف رکھا گیا ہے مفسرین بیان کرتے ہیں کہ مدنی زندگی میں یہ سورة …سورۃ التغابن کے بعد نازل ہوئی حالانکہ ترتیب تلاوت کے لحاظ سے یہ اس سے پہلے ہے۔ اس سورة مبارکہ کی چودہ آیات اور دو رکوع ہیں اور یہ سورة 221 الفاظ اور 926 حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط :
گزشتہ سورة الممتحنہ میں خدا ، اس کے رسول ، اس کے دین اور اس کی طرف سے آمدہ پروگرام کے دشمنوں سے دوستی کی ممانعت کی گئی تھی۔ اس واقعہ کا پس منظر…
Read the full tafseer →اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِہٖ صَفًّا كَاَنَّہُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ 4
إِنَّ وأَنَ
إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ
[ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : ان تقول الجملۃ بتاویل المصدر فاعل کبرمقتًا تمیز منہ عنداللہ متعلق بکبر صفًا حال من فاعل یقاتلون فی سبیلہ متعلق بہ۔ کانہم الجملۃ کذلک حال منہ و صفا بمعنی صافین قال صاحب الکشاف لم ہی لام الاضافۃ داخلۃ علی ما الاستفہامیۃ کمادخل علیھا غیرھا من حروف الجر کقولک بم وفیم و عم و مم و حذف الالف لان ماوالحرف کشیء واحد۔
تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ بھی اسی زمانے میں نازل ہوئی کہ جب ملک عرب میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔ کفار کا مسلمانوں پر ہر طرف سے نرغہ تھا اور مسلمانوں کی قلیل جماعت کو استقلال و جوانمردی سے اپنے دینی دشمنوں کا مقابلہ ضرور تھا اس لیے اس سورة میں ان باتوں کی…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ۔ (الصف : 4)
(بےشک اللہ ان لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کے محبوب اور مبغوض بندوں کے درمیان فرق
اس آیت کریمہ سے اللہ تعالیٰ کے محبوب اور مبغوض لوگوں کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی گئی ہے کہ جو لوگ ایمان، اخلاص اور سرفروشی کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن وہ وقت آنے پر نہایت کمزور ثابت ہوتے بلکہ بدعہدی کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ لوگ ہیں۔ اور وہ کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کے غضب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کی تسبیح کے بیان اور سورت کے تمہیدی کلمات کے بعد پہلا حکم۔
اس سورت کا مرکزی مضمون قتال فی سبیل اللہ ہے اسی لیے پہلا حکم یہ ہے کہ اے ایمان والو ! جس بات پر تمہارا عمل نہیں وہ بات تمہیں نہیں کہنی چاہیے۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑا جرم ہے کہ تم وہ بات کہو جس پر تمہارا عمل نہیں۔ مفسرین نے اس آیت کے دو مفہوم بیان فرمائے ہیں۔
1۔ جب قتال فی سبیل اللہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا تو کچھ ایماندار لوگ نبی ﷺ سے قتال فی سبیل اللہ کی اجازت مانگتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ اگر ہمیں کفار کے خلاف قتال کی اجازت دی جائے تو ہم جان توڑ کر لڑیں گے۔ لیکن جونہی قتال فی سبیل اللہ کا حکم آیا تو دعویٰ…
Read the full tafseer →4 : پھر اللہ تعالیٰ نے وہ بات بتلائی جو اس کو پسند ہے۔ فرمایا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا (اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خاص کر پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں) یعنی اس حالت میں کہ وہ اپنے آپ کو صفوں میں کرنے والے ہوتے ہیں۔
نحو : صفًا یہ مصدر ہے جو حال واقع ہوا ہے۔
کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ (گویا وہ سیسہ پلائی دیوار ہیں) ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح ملے ہوئے چمٹے ہوئے۔ ایک قول یہ ہے اس سے مراد ان کی نیتوں کی درستی اور برابری ہے۔ یہاں تک کہ ایک بات پر اجتماعیت میں وہ دیوار کی طرح ہیں۔ جس کا بعض بعض حصہ سے چمٹا ہو۔
نحو : یہ بھی…
Read the full tafseer →3 ۔” کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا “ اللہ تعالیٰ کا قول ” ان تقولوا “ رفع کی جگہ میں ہے۔ جیسے تیرا قول ” بئس رجلا اخوک “ ہے اور آیت کا معنی ہے یعنی یہ بات ناراضگی اور غضب میں اللہ کے ہاں بڑی ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں کہ تم کہو ” مالا تفعلون “ یعنی تم اپنے آپ سے کسی چیز کا وعدہ کرو، پھر تم اس کو پورا نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ ترمذی ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں معتبر سند سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ لڑائی کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے بعض لوگ لڑائی کی آرزو ظاہر کرتے تھے جب لڑائی کا حکم نازل ہوا تو لڑائی سے گھبرانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ناخوش ہے کہ منہ سے کوئی شخص ایک بات کہے اور اس کے موافق عمل نہ کرے۔ اور صحیحین 2 ؎ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ زبان سے وعدہ کرکے اس کے موافق عمل نہ کرنا اور روز مرہ کی بات چیت میں جھوٹ بولنا اور امانت میں خیانت کرنا یہ منافق کی پہچان کی باتیں ہیں جو لوگ نیک کام کا ارادہ ظاہر کرکے پھر اس کے موافق عمل نہیں کرتے ان…
Read the full tafseer →یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب اور اس بات کی تعلیم ہے کہ انہیں جہاد میں کیا کرنا چاہیے ان کے لیے مناسب ہے کہ وہ جہاد میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر صف بندی کریں اور صفوں میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ صفیں ایک نظم اور ترتیب کے مطابق ہوں جس سے مجاہدین کے مابین مساوات اور ایک دوسرے کے لیے قوت اور دشمن پر رعب طاری ہوتا ہوا اور سے مجاہدین میں ایک دوسرے کے لیے نشاط پیدا ہوتا ہو بنابریں جب لڑائی کا وقت آجاتا تو رسول اللہ خود اپنے اصحاب کرام کی صف بندی کرتے اور ان کو ان کی اپنی اپنی جگہوں پر اس طرح ترتیب دیتے جہاں وہ ایک ودسرے پر بھروسا نہ کریں بلکہ ہر دستہ اپنے مرکز کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
جائز نذر کا پورا کرنا ضروری ہے ، ناجائز کا نہیں
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لم تقلون ما لا تفعلون۔ کبرمقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو، اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں۔ )
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے اوپر کوئی عبادت یا تقرب الٰہی کی کوئی صورت یا عقد لازم کرلے تو اس پر اسے پورا کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اسے پورا نہ کرنے کی صورت میں وہ شخص ایسی بات کا قائل گردانا جاتا ہے جسے وہ کرتا نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمی…
Read the full tafseer →[ 4] اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی نشاندہی کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی محبت عمدہ صفات والوں سے ہے خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں کہ یہاں پر بحث فلاں ابن فلاں کی شخصیت سے نہیں، بلکہ دارومدار عمل و کردار پر ہے اور بس۔ اس لئے اللہ پاک کی محبت ان لوگوں سے ہے جو ایسی اور ایسی عمدہ صفات و خصال اپنے اندر رکھتے ہیں۔ پس اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی نشاندہی فرما دی گئی ہے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کا محبوب بننا ہو وہ اپنے اندر یہ صفات حمیدہ پیدا کرے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، سبحانہ وتعالیٰ ، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنا ہی بنائے رکھے۔ آمین ثم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قول و فعل میں مطابقت اور جہاد کی فضیلت
تشریح : آسمانوں اور زمین کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کا تابع فرمان ہے ایک سیکنڈ کے لیے کوئی چیز اللہ کے بنائے ہوئے قانون اور حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی اور یہی ان کی تسبیح ہے۔ کیونکہ اللہ کے غلبے، علم اور حکمت سے باہر کوئی چیز بھی نہیں اور نہ ہی جاسکتی ہے۔ ہر چیز اس کی قدرت کے اندر گھری ہوئی ہے۔ اور وہ کارساز واحد ہے۔ اور وہ دلوں کے بھید بھی خوب اچھی طرح جانتا ہے اس لیے وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ کس کے قول و عمل میں کتنا تضاد ہے۔ کیونکہ مسلمان مخلص ہوتا ہے جب کہ منافق کہتا کچھ ہے کرتا کچھ ہے اور یہ رویہ اللہ کو کسی صورت بھی پسند نہیں۔ حدیث میں آتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیات 1 تا 9
اسرار ومعارف۔
آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے قال سے بھی اور حال سے بھی اور اللہ غالب ہے اور حکیم ہے سو اے ایمان والو جس کام کے کرنے کا ارادہ نہ ہو اس کے کرنے کا اعلان بھی مت کرو کہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ بات کہوجوتم کرنا نہیں چاہتے۔
گناہ کبیرہ اور تبلیغ۔
جس طرح آج کل کے لیڈر بہت بڑے دعوے نفاذ اسلام کے یاروٹی کپڑے مکان کے کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ان کا ارادہ قلبی ایسا کرنے کا نہیں ہوتا یہ گناہ کبیرہ ہے رہی تبلیغ کہ خود تو عمل میں کمزور ہے اور دوسروں کو دعوت دے رہا ہے تو دعوی اور دعوت میں فرق ہے مبلغ کو چاہیے کہ خود بھی عمل کرے لیکن اگر کمزوری سے…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی تم پوچھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب کون لوگ ہیں تو سنو اللہ کو سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جو7 ” جس میں کوئی رخنہ نہیں ہوتا تاکہ دشمن اس میں گھس سکے۔ “
Read the full tafseer →(61:4) صفا : قطار۔ صف۔ یہ اصل میں صف یصف (باب نصر) کا مصدر ہے۔ جس کے معنی قطار باندھنے کے آتے ہیں اور خود قطار کے معنی میں بھی بطور اسم مستعل ہے ۔ صف قطار۔ صف، جس کی جمع صفوف ہے۔ صاف اسم فاعل ۔ صف یا قطار باندھنے والا۔ جمع صافون جیسے کہ قرآن مجید میں ہے :۔ وانا لنحن الصافون (37:165) اور ہم ہی ہیں قطار باندھنے والے۔
کانھم : کان حرف مشبہ بفعل۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب گویا وہ (ہیں)
بنیان : عمارت ، یہ واحد ہے جمع نہیں کیونکہ بنیان مرصوص میں بنیان کی صفت بھی مذکر ہے جمع ہوتی تو صفت مؤنث ہوتی۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ بنیان ، بنیانۃ کی جمع ہے جیسے شعیر شعیرۃ کی اور تمر تمرہ کی اور نخل نخلۃ کی اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔
تشریح :
مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
جہاد کے آداب۔
(ف 1) شان نزول : ترمذی، مستدرک حاکم وغیرہ میں معتبر سند سے جو شان نزول ان آیتوں کا بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ لڑائی کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے بعض لوگ لڑائی کی آرزو ظاہر کرتے تھے جب لڑائی کا حکم نازل ہوا تولڑائی سے گھبرانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ناخوش ہے کہ منہ سے کوئی شخص ایک بات کہے ، اور اس کے موافق عمل نہ کرنا اور روزمرہ کی بات چیت میں جھوٹ بولنا اور امانت میں خیانت کرنا یہ منافق کی پہچان کی باتیں ہیں جو لوگ نیک کام کا ارادہ ظاہر کرکے پھر اس کے موافق عمل نہیں کرتے ان کے ذکر سے پ ہے آسمان و زمین میں جو مخلوق اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →[2] یعنی اللہ تعالیٰ کو جو فوج پسند ہے اس میں تین صفات ہوں : ایک یہ کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر اللہ کی راہ میں لڑے۔ جو فی سبیل اللہ کی تعریف میں آتی ہو۔ دوسری یہ کہ وہ بدنظمی اور انتشار میں مبتلا نہ ہو بلکہ مضبوط تنظیم کے ساتھ صف بستہ ہو کر لڑے۔ تیسری یہ کہ دشمنوں کے مقابلے میں اس کی کیفیت '' سیسہ پلائی ہوئی دیوار '' کی سی ہو۔ کوئی فوج اس وقت تک میدان جنگ میں سیسہ پلائی دیوار کے مانند نہیں ہوسکتی جب تک اس میں حسب ذیل صفات پیدا نہ ہوجائیں : (1) عقیدے اور مقصد میں کامل اتفاق۔ (2) ایک دوسرے کے خلوص پر کامل اعتماد۔ (3) اخلاص کا ایک بلند معیار جس سے فوج کے افسر اور سپاہی نیچے گرجائیں تو ان کے دلوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
ان آیات میں انبیاء کے حالات کو بیان کیا ہے ۔ تاکہ حضور ﷺ کو معلوم ہو ۔ کہ امم سابقہ نے کیونکر حق و انصاف کی مخالفت کی ۔ اور کس طرح اپنے انبیاء کو بوقلمون اذیتوں سے شکستہ خاطر کیا ہے ۔ فرمایا ۔ کہ جب حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے کہا کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں ۔ اور تمہاری اصلاح کے لئے مبعوث ہوا ہوں ۔ تو انہوں نے کیا کہا ؟ کیا فوراً تسلیم کرلیا ؟ نہیں بلکہ مطالبہ کیا ۔ کہ ارنا اللہ جھرۃ پہلے جس خدا کی توحید کی طرف تم ہم کو دعوت دیتے ہو ۔ اس کو کھلم کھلا دکھاؤ۔ جب مانیں گے ۔ پھر گو سالہ کی پرستش شروع کردی ۔ اور خدا کی توحید کا…
Read the full tafseer →(4) بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے اور جنگ کرتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں یعنی ایک محکم اور مضبوط عمارت کی طرح جمے ہوئے ثابت قدمی کے ساتھ لڑتے ہیں۔ یعنی یہی تو وہ چیز ہے جو تم جنگ احد میں پوری نہ کرسکے اور جم کر مقابلہ کرنے میں تم نے کمزوری اور سستی دکھائی۔
اب آگے اسی مناسبت سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کا ذکر فرماتے ہیں کہ ان کی امتوں نے اپنے اپنے رسولوں کو ایذادی اور تکلیف پہنچائی اس کا انجام ان کے حق میں برا ہوا اگر اسی طرح اس نبی آخر الزماں کو تکلیق پہنچائی گئی اور پیغمبر کو ستایا گیا…
Read the full tafseer →ف 1۔ مطلب یہ ہوا کہ تم جو کہتے ہو کہ ہم کو احب الاعمال معلوم ہوتا، سو احب الاعمال تو جہاد ہے، پھر اس کے نزول کے وقت گرانی کیوں ہوئی تھی، اور احد میں کیوں بھاگ گئے تھے۔ یہاں زجر و توبیخ تصلف و لاف زنی پر ہے، اور وعظ بلا عمل اس کے مفہوم سے خارج ہے۔
Read the full tafseer →بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں
4 ؎ اسلام صلح و آتشی کا دین ہے اور وہ امن و سلامتی کا داعی ہے ۔ قتل و غارت ، خونریزی اور بد امنی اس کے مزاج کے بالکل خلاف ہیں لیکن اس وقت میں بات اسلام کے مزاج کی کر رہا ہوں نہ کہ موجودہ مسلمان کے مزاج کی ۔ بدقسمتی سے ہم جب بھی دھیان کرتے ہیں تو جو بات اسلام کے مزاج کے خلاف پاتے ہیں وہ مسلمان کا مزاج بن کر رہ گئی دیکھتے ہیں اور جب اس بات کا ذکر کرتے ہیں تو پر پھیا میں کسی جاتی ہیں اور ہم کو برا بھلا کہا جاتا ہے کہ یہ ساون کا اندھا ہے اس لیے اس کو ہر طرف ہر اہی ہرا نظر آتا ہے ۔ ہاںٖ ! مجھے جو کہہ سکتے ہو کہہ لو لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ (Surely Allah loves those who fight in His way in firm rows, as if they were a solid edifice...61:4) The main subject of this Surah for which it was revealed is to mention the dearest action in the sight of Allah. This verse states that it is jihad in Allah's way, and that the best row of battle in the sight of Allah is the one firmly established against Allah's enemies to make Allah's word prevail, and which, on account of the valor and unshaken determination of Mujahidin, looks like a strong…
Read the full tafseer →3 First, it shows that only those believers are blessed with Allah's good pleasure and approval, who are prepared to fight in His way, disregarding every kind of danger. Secondly, that Allah likes an army which has three characteristics: (1) It fights in Allah's way with full understanding, and does not fight for a cause disapproved by Allah; (2) it is not indisciplincd, but is well-organized and well-arrayed for battle; and (3) it offers stiff resistance to the enemy as though it were "a solid cemented structure" . Then, this last quality is by itself highly meaningful. No army can stand in…
Read the full tafseer →