As-Saff 61:5

As-Saff · from ayah 5

61:5

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَقَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ ؕ— فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ؕ— وَاللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ۟وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖ يٰقَوۡمِ لِمَ تُؤۡذُوۡنَنِىۡ وَقَد تَّعۡلَمُوۡنَ اَنِّىۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡؕ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ

اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ تو جب ان لوگوں نے کج روی کی خدا نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیئے۔ اور خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention, O Muhammad], when Moses said to his people, "O my people, why do you harm me while you certainly know that I am the messenger of Allah to you?" And when they deviated, Allah caused their hearts to deviate. And Allah does not guide the defiantly disobedient people.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saff

All translations of 61:5

اور یاد کرو موسیٰؑ کی وہ بات جو اس نے اپنی قوم سے کہی تھی "اے میری قوم کے لوگو، تم کیوں مجھے اذیت دیتے ہو حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں؟" پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے، اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ تو جب ان لوگوں نے کج روی کی خدا نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیئے۔ اور خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور (یاد کرو) جبکہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم کے لوگو! تم مجھے کیوں ستا رہے ہو حاﻻنکہ تمہیں (بخوبی) معلوم ہے کہ میں تمہاری جانب اللہ کا رسول ہوں پس جب وه لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو (اور) ٹیڑھا کر دیا، اور اللہ تعالیٰ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اے میری قوم کے لوگو ! تم مجھے تکلیف کیوں پہنچاتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا پیغمبر بن کر آیا ہوں ؟ پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم مجھے کیوں ستاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں پھر جب وہ ٹیڑھے ہوئے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیے اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نہیں دیتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے حبیب! وہ وقت یاد کیجئے) جب موسٰی ؑ نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! تم مجھے اذیت کیوں دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں۔ پھر جب انہوں نے کج روی جاری رکھی تو اللہ نے اُن کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! تم مجھے کیوں تکلیف دیتے ہو، حالانکہ یقینا تم جانتے ہو کہ بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ پھر جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (وہ بات یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم ! تم مجھے کیوں دکھ پہنچاتے ہو حالانکہ تم جان چکے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں۔ پھر جب انہوں نے کجروی اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میرے ہم قومو ! تم مجھے کیوں دکھ پہنچاتے ہو حالانکہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں تو جب وہ کج ہوگئے تو اللہ نے ان کے دل کج کردیے اور اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کیا کرتا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم تم مجھے کیوں ستاتے ہو حالانکہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں مگر (اس کے باوجود) جب ان لوگوں نے ٹیڑھے پن ہی کو اختیار کیا تو اللہ نے ٹیڑھا کردیا ان کے دلوں کو اور اللہ ہدایت (کی دولت و نعمت) سے نہیں نوازتا ایسے بدکاروں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میرے قوم والو تم مجھے کیوں ایذاء پہنچاتے ہو درآنحالیکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ پھر جب ان لوگوں نے کجی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو کج کردیا۔ اور اللہ (ایسے) نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! تم کیوں مجھے ایذا دے رہے ہو ؟ جبکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ پھر جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ اور اللہ فاسقوں کو (زبردستی) ہدایت نہیں دیتا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ، بھائیو ! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں،۔ تو جب ان لوگوں نے نافرمانی کی تو اللہ نے ان کے دل پھیر دیے، اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And call to mind when Moses said to his people: “O my people, why do you torment me when you know well that I am Allah's Messenger to you?” So when they deviated, Allah made their hearts deviant. Allah does not direct the evil-doers to the Right Way.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (remember) when Musa said to his people, :O my people, why do you hurt me, while you know that I am a messenger of Allah sent towards you. So, when they adopted deviation, Allah let their hearts become deviate. And Allah does not guide the sinful people.

— Muhammad Taqi Usmani

And (remember) when Musa said to his people, :O my people, why do you hurt me, while you know that I am a messenger of Allah sent towards you. So, when they adopted deviation, Allah let their hearts become deviate. And Allah does not guide the sinful people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when Musa said to his people: "O my people! Why do you annoy me while you know certainly that I am the Messenger of Allah to you So, when they turned away (from the path of Allah), Allah turned their hearts away (from the right path). And Allah guides not the people who are rebellious.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (remember) when Moses said unto his people: O my people! Why persecute ye me, when ye well know that I am Allah's messenger unto you? So when they went astray Allah sent their hearts astray. And Allah guideth not the evil-living folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention, O Muhammad], when Moses said to his people, "O my people, why do you harm me while you certainly know that I am the messenger of Allah to you?" And when they deviated, Allah caused their hearts to deviate. And Allah does not guide the defiantly disobedient people.

— Saheeh International

Moses said to his people, "Why do you create difficulties for me when you know that I am God's Messenger to you?" When they deviated (from the right path), God led their hearts astray. God does not guide the evil-doing people.

— Muhammad Sarwar

And when Musa said to his people: O my people! why do you give me trouble? And you know indeed that I am Allah's apostle to you; but when they turned aside, Allah made their hearts turn aside, and Allah does not guide the transgressing people.

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time Musa said Unto his people: O my people! wherefore hurt ye me, When surely ye know that verily I am Allah's apostle Unto you! Then when they sweryed, Allah made their hearts swerve; and Allah guideth not a transgressing people.

— Abdul Majid Daryabadi

And remember, Moses said to his people: "O my people! why do ye vex and insult me, though ye know that I am the messenger of Allah (sent) to you?" Then when they went wrong, Allah let their hearts go wrong. For Allah guides not those who are rebellious transgressors.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 61:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–6

حضرت عیسیٰ کی طرف سے خاتم الانبیاء کی پشین گوئی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کلیم اللہ حضرت موسیٰ بن عمران نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم میری رسالت کی سچائی جانتے ہو پھر کیوں میرے درپے آزار ہو رہے ہو ؟ اس میں گویا ایک طرح سے آنحضور ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے، چناچہ آپ بھی جب ستائے جاتے تو فرماتے اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ پر رحمت نازل فرمائے وہ اس سے زیادہ ستائے گئے لیکن پھر بھی صابر رہے اور ساتھ ہی اس میں مومنوں کو ادب سکھایا جا ہرا ہے کہ وہ اللہ کے نبی ﷺ کو ایذاء نہ پہنچائیں ایسا نہ کریں جس سے آپ کا دل دکھتا ہو، جیسے اور جگہ ہے الخ ایمان والو تم ایسے نہ ہونا جیسے موسیٰ کو ایذاء دینے والے تھے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصَّف 4 قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کو اللہ کا نبی اور اپنا محسن جاننے کے باوجود کس کس طرح تنگ کیا اور کیسی کیسی بےوفائیاں ان کے ساتھ کیں۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو البقرہ، آیت 51۔ 55۔ 60۔ 67 تا 71۔ النساء، 153۔ المائدہ، 20 تا 26۔ الاعراف 138 تا 141۔ 148 تا 151۔ طٰہٰ 86 تا 98۔ بائیبل میں خود یہودیوں کی اپنی بیان کردہ تاریخ بھی اس قسم کے واقعات سے لبریز ہے۔ صرف بطور نمونہ چند واقعات کے لیے دیکھیے خروج 205۔ 21 1114۔ 12۔ 216۔ 3۔ 317۔ 4۔ گنتی 111۔ 15۔ 114۔ 10۔ 16 مکمل۔ 120۔ 5 یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ مسلمانوں کو خبردار کرنے کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–9

اگلی آیات میں اس اصل معاملہ کا ذکر ہے جو اس سورت کے نزول کا سبب بنا یعنی اس کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کونسا عمل زیادہ محبوب ہے، اس کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ، یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب وہ صف قتال ہے جو اللہ کے دشمنوں کے مقابلہ میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے قائم ہو اور مجاہدین کے عزم و ہمت کی وجہ سے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہو کہ ان کے قدموں میں کوئی تزلزل نہ آنے پائے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کی راہ میں دشمنوں کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(واذقال موسیٰ لقومہ یقوم لم توذوننی وقد تعلمون انی رسول اللہ الیکم فلمازاعوا ازاع اللہ قلوبھم واللہ لا یھدی القوم الفسقین) (5)۔ (منافقین کی روشنی کی مثال)۔ منافقین کی اس روش کے انجام کو مثال سے واضح فرمایا ہے کہ یہی روش بہود کی وہی ہے۔ وہ جہاد کے لیے جوش و جذبہ کا اظہارتو بہت کرتے لیکن جب امتحان کا وقت آتا تو ڈگ ڈال دیتے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے جب انہیں فلسطینیوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا تو وہ یہ جواب دے کر بیٹھ رہے کہ یہ بڑے زور آور لوگ ہیں، ہم ان کی تلواروں کا لقمہ بننے کے لیے تیار نہیں ہیں، آپ اپنے رب کے ساتھ جا کر ان سے لڑو، ہم تو جب تک وہ اس شہر کو خالی نہیں کریں گے اس میں داخل ہونے کا حوصلہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 یہ جانتے ہوئے بھی کہ حضرت موسیٰ ؑ اللہ کے سچے رسول ہیں، بنی اسرائیل انہیں اپنی زبان سے ایذا پہنچاتے تھے، حتٰی کہ بعض جسمانی عیوب ان کی طرف منسوب کرتے تھے، حالانکہ وہ بیماری ان کے اندر نہیں تھی۔ 5۔ 2 یعنی علم کے باوجود حق سے اعراض کیا اور حق کے مقابلے میں باطل کو خیر کے مقابلے میں شر کو اور ایمان کے مقابلے میں کفر کو اختیار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کے طور پر ان کے دلوں کو مستقل طور پر ہدایت سے پھیر دیا۔ کیونکہ یہی سنت اللہ چلی آرہی ہے۔ کفر وضلالات پر دوام واستمرار ہی دلوں پر مہر لگنے کا باعث ہوتا ہے پھر فسق کفر اور ظلم اس کی طبیعت اور عادت بن جاتی ہے جس کو کوئی بدلنے پر قادر نہیں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قوم نے کس کس طرح تکلیفیں پہنچائیں، اس کی تفصیل سورة بقرہ : 59 وغیرہ میں گذر چکی ہے۔ 4: یعنی جان بوجھ کر ہٹ دھرمی کرنے کی یہ سزا دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل ایسے ٹیڑھے کردئیے کہ اب ان میں حق بات قبول کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا جاتا ہے کہ اسلامی انقلاب کا منہاج تمام دعوتوں میں ایک ہی رہا ہے۔ آدم (علیہ السلام) سے ادھر : بنی اسرائیل کا حضرت موسیٰ کو ایذا دینا ، جبکہ آپ ان کو اور اس ملت کو فرعون کے مظالم سے چھڑانے والے تھے ، آپ ان کے رسول اور قائد تھے اور معلم تھے ، ایک ایسی داستان کی طرف اشارہ ہے جو مسلسل ان کو دی جانے والی ایذا پر مشتمل ہے۔ آپ نے اس قوم کو درست کرنے کے لئے جو مشقتیں اٹھائیں اور دشوار گزار مراحل سے گزرے ، وہ انتھک جدوجہد ہے۔ اور قرآن کریم نے اس کی خوب تفصیلات دی ہیں ، جن کو پڑھ کر ایک شخص تسلیم کرلیتا ہے کہ یہ ان تھک جدوجہد تھی اور آپ اولوالعزم رسولوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی روشن دلائل اور کھلے کھلے معجزات دیکھ کر تم دل میں یقین رکھتے ہو کہ میں اللہ کا سچا پیغمبر ہوں۔ پھر سخت نازیبا اور رنجیدہ حرکتیں کر کے مجھے کیوں ستاتے ہو۔ یہ معاملہ تو کسی معمولی ناصح اور خیر خواہ کے ساتھ بھی نہ ہونا چاہیے۔ چہ جائیکہ ایک اللہ کے رسول کے ساتھ ایسا برتاؤ کرو۔ کیا میرے دل کو تمہاری ان گستاخانہ حرکات سے دکھ نہیں پہنچتا کہ کبھی بےجان بچھڑا بنا کر پوجنے لگے اور اس کو اپنا اور موسیٰ کا خدا بتلانے لگے۔ کبھی " عمالقہ " پر جہاد کرنے کا حکم ہوا تو کہنے لگے ہم تو کبھی نہیں جائیں گے۔ تم اور تمہارا خدا جا کر لڑ لو۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ وغیر ذلک من الخرافات۔ چناچہ اسی سے تنگ ہو کر حضرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 { وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰــقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ } ”اور یاد کرو جب کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! تم کیوں مجھے ایذا دے رہے ہو ؟“ یہ جس ایذا کا ذکر ہے وہ ذاتی نوعیت کی بھی ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے انبیاء و رسل بھی آخر انسان تھے اور طبع بشری کے تحت ہر طرح کی تکلیف کو محسوس بھی کرتے تھے۔ جیسے سورة الاحزاب کی آیت 69 میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے ایک تکلیف دہ معاملے کا ذکر آیا ہے یا جیسے خود حضور ﷺ کو مشرکین مکہ کی طرف سے بھی ذاتی نوعیت کی تکالیف پہنچائی جاتی رہیں اور منافقین کے طرزعمل سے بھی شدید ذہنی و قلبی اذیت سے دوچار ہونا پڑا۔ لیکن حضرت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 بنی اسرائیل کا اپنے نبی سیدنا موسیٰ کو تکلیفیں پہنچانا :۔ تمام انبیاء کو اپنے مخالفین اور دشمنوں سے دکھ اور مصائب پہنچتے ہی رہے ہیں اور اس سے بھی زیادہ قابل افسوس بات یہ ہوتی ہے کہ اپنے ہی لوگ دکھ پہنچانے لگیں۔ اس سلسلہ میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو جس قدر پریشان کیا اور دکھ پہنچایا تھا۔ شاید ہی کسی دوسری قوم نے پہنچایا ہو۔ حالانکہ انہیں خوب معلوم تھا بلکہ یقین تھا کہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں اللہ کے حکم کے مطابق ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو طرح طرح کی کٹ حجتیاں اور سوال کر کرکے آپ کو پریشان کردیا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (اور تمہارا یہ تمردد سرکشی ہرگز کسی اجتہادی غلطی یاعقلی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں) (آیت) ” وقد تعلمون “۔ اسرائیلیوں نے اپنی قوم کے پیغمبر اعظم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نافرمانی، سرکشی، عصیان وظغیان کا جو معاملہ تسلسل اور شدت کے ساتھ جاری رکھا تھا، قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر بکثرت آیا ہے، اور توریت میں تو اس سے بھی کہیں زیادہ تفصیل و تکرار کے ساتھ ملتا ہے لیکن اتنی تصریح تو قرآن مجید میں ہی موجود ہے کہ یہ تمرد تمامتر قصدا اور ارادتہ تھا، کسی عقلی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں نہ تھا۔ 5۔ (اور زیادہ) قرآن مجید میں اس ضابطہ تکوینی کا ذکر اسی کی اہمیت کی مناسبت سے بار بار اور طریقوں پر کرچکا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

واذکر اذقال موسیٰ لقومہ یقوم لم توذوننی یہ جانتے ہوئے بھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے سچے نبی ہیں پھر بھی بنی اسرائیل انہیں اپنی زبان سے ایذاء پہنچاتے تھے، حتی کہ بعض جسمانی عیوب بھی ان کی طرف منسوب کرتے تھے حالانکہ وہ بیماری ان کے اندر نہیں تھی، بنی اسرائیل کا خیال تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عظم الخصتین کی بیماری ہے جس کو عربی میں ادرۃ کہتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ بہت باحیا تھے اس لئے وہ اپنا ستر کھلنے نہیں دیتے تھے اور نہ دیگر بنی اسرائیل کے مانند ننگے غسل کرتے تھے اسی وجہ سے بنی اسرائیل سمجھتے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آدر ہیں، واقعہ کی تفصیل سورة احزاب میں گذر چکی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و اذا قال موسیٰ لقومہ یقوم لہ توذوننی و قد تعلمون انی رسول اللہ الیکم فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھم واللہ لا یھدی القوم الفاسقین . ” (قابل ذکر ہے وہ واقعہ) جب کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم والو ! مجھے تم دکھ کیوں دیتے ہو ‘ حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں جو تمہارے پاس (بھیجا ہوا) آیا ہوں۔ پس جب (اس فہمائش پر بھی) وہ لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو (اور) ٹیڑھا کردیا اور اللہ ایسے نافرمانوں کو ہدایت یاب نہیں کرتا۔ “ لِقَوْمِہٖ : اپنی قوم سے یعنی بنی اسرائیل سے۔ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ : یعنی کیوں نافرمانی کرتے ہو اور اُزّرہ کے مرض یعنی ورم خصیہ کی تہمت لگاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے جبکہ حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے منافقوں سے کہا کہ مجھے کیوں تکلیف پہنچاتے ہو اور ان کی قوم ان کو نامرد کہا کرتی تھی۔ جیسا کہ سورة احزاب میں واقعہ گزر گیا نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ لوگ حق و ہدایت سے دور رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو حق و ہدایت سے اور دور کردیا یا یہ کہ جب انہوں نے حضرت موسیٰ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو توحید سے ہٹا دیا اور اللہ تعالیٰ تو ایسے فاسقوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دیتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ وَاِذْ قَالَ مُوسٰی لِقَوْمِہٖ یٰـقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ۔۔۔۔۔: قتال فی سبیل اللہ کی فضیلت کے ذکر اور اس سے گریز پر ملامت کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کا اپنی قوم سے خطاب ذکر فرمایا ، جس میں انہوں نے ان کی اس اذیت رسانی کا شکوہ اور اس پر ملامت کی جو انہوں نے موسیٰ ؑ کے ساتھ روا رکھی کہ جب وہ انہیں اپنے لیے اللہ کا رسول جانتے اور مانتے تھے تو ان پر لازم تھا کہ وہ ان کی تکریم کرتے ، ان کی اطاعت کرتے اور ان کے ساتھ مل کر دشمنان اسلام سے جہاد کرتے ، مگر انہوں نے ان کے ساتھ عام رویے میں ، ان کے احکام کی تعمیل میں اور جہاد کے لیے نکلنے کے معاملے میں ، غرض ہر طرح سے انہیں تکلیف پہنچائی۔ یہاں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

تفسیر واذ قال موسیٰ لقومہ جب جہاد کے امر کا ذکر کیا تو یہ بیان کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے توحید کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کا حکم دیا اور جن لوگوں نے ان کی مخالفت کی ان پر عقاب نازل ہوا، اے محمد ! ﷺ ! اپنی قوم کے سامنے اس قصہ کا ذکر کیجئے۔ یقوم لم توذوننی یہ اس وقت ہوا جب آپ کی قوم نے آپ پر اور وہ (ایک بیماری جس کی وجہ سے خصیتین پھولجاتے ہیں) کی تہمت لگائی جس طرح سورة احزاب میں گزرا۔ اذی سے مراد وہ ہے جس کا ذکر قارون کے واقعہ میں گزر چکا ہے۔ قارون نے ایک عورت کے ساتھ سازش کی تھی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فسق و فجور کا دعویٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–10

1۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا ہل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم۔ اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی سوداگری نہ بتاؤں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بچالے۔ نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا اگر ہم اس تجارت کو جان لیتے تو ہم اس میں اپنے مالوں اور اپنے اہل و عیال کو لگادیتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس تجارت کو بیان فرمایا کہ آیت تو منون باللہ ورسولہ کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لاؤ اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو یہی تجارت ہے۔ 2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت یا ایہا الذین اٰنوا ہل ادلکم علی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ : جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے ][ يٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِيْ : اے میری قوم تم لوگ کیوں اذیت دیتے ہو مجھ کو ][ وَقَدْ تَّعْلَمُوْنَ : حالانکہ تم لوگ جان چکے ہو ][ انى رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ : کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف ][ فَلَمَا زَاغُوْٓا : پھر جب وہ لوگ بہکے ][ اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ : تو ٹیڑھا کیا اللہ نے ان کے دلوں کو ][ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي : اور اللہ ہدایت نہیں دیتا ][ الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ : نافرمانی کرنے والی قوم کو ] نوٹ۔ 1 : آیت۔ 5 ۔ میں بتایا گیا ہے کہ یہی روش یہود کی رہی ہے۔ وہ جہاد کے لیے جوش و جذبہ کا اظہار تو کرتے تھے لیکن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا اعلان کہ ہم اللہ کے رسول ہیں پہلی آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس بات کا تذکرہ فرمایا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا۔ ” تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ کے رسول کی تعظیم اور احترام ہونا چاہئے اور ایذا دینا اس کے بالکل خلاف ہے۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کو طرح طرح سے ایذادی جس کا تذکرہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے اور سورة ٴ احزاب کے آخری رکوع میں بھی اس کا ذکر ہے۔ ان کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول کی اطاعت کرو ایذامت دو ، لیکن بات ماننے اور حق قبول کرنے کو تیار نہ ہوئے اسی کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

شکوہ موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) از ایذارسانی قوم والتجاء بہ بارگاہ خداوند ذوالجلال والاکرام : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذ قال موسیٰ لقومہ ....... الی ...... لا یھدی القوم الفسقین “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ کی تسبیح و پاکی کے بیان کے ساتھ اس مجرمانہ کردار کی مذمت کی گئی تھی کہ انسان کے قول وعمل میں تضاد ہو اور یہ کہ ایمان کا تقاضا اللہ کی راہ میں جہاد ہے جو اللہ کے بندے ہیں وہ پورے اتحاد اور یک جہتی سے دشمنوں کے مقابلہ میں صف آراء رہتے ہیں، اب بنی اسرائیل کی اس موذیانہ روش کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے جو انہوں نے اپنے پیغمبرموسی (علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کی فرمایا اور جب کہ کہا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ واذقال موسیٰ “ قصہ اول متعلقہ زجر۔ بنی اسرائیل کی کجروی مشہور ہے وہ اکثر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت اور نافرمانی کرتے۔ جب انہوں نے ان کو عمالقہ کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے نہایت ڈھٹائی اور گستاخی سے جواب دیا۔ فاذھب انت و ربک فقاتلا انا ھھنا قاعدون، فلما زاغو، زاغوا یعنی انہوں نے انحراف اور کجروی پر اصرار کیا۔ ” ازاغ اللہ “ اللہ نے ان کے دلوں کو حق سے پھیر دیا۔ ای اصروا علی الزیغ والانحراف (روح ج 28 ص 85) ۔ صرفھا عن قبول الحق والمیل الی الصواب (مظہری ج 9 ص 217) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی کجروی اور ان کے عناد سے تنگ آ کر فرمایا اے میری قوم ! تم میری…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید وتنزیہہ کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان سے فرمایا کہ ان کی زندگی میں قول وفعل کا تضاد نہیں ہوناچاہیے یعنی کوئی ایسی بات نہ کریں جس پر خود عمل پیرانہ ہوں یہ بات اللہ کے نزدیک بہت ہی بری اور مبغوض ہے۔ سچے ایمانداروں کا یہ شیوہ ہرگز نہیں ہوسکتا یہ تو منافقوں کی روش ہے اس کے بعد اللہ نے اس کے راستے میں جہاد کرنے کا ذکر کیا اور اس کو احب الاعمال یعنی پسندیدہ کام بتلایا۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ اس کے راستے میں صف باندھ کر جہاد کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ جہاد کی اہمیت : اس سورة مبارکہ کا مرکزی مضمون دین کی خاطر جانی اور مالی قربانی پیش کرنا ہے۔ پچھلی سورة میں دشمنان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِہٖ يٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِيْ وَقَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّىْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَيْكُمْ۝ 0 ۭ فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللہُ قُلُوْبَہُمْ۝ 0 ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۝ 5 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–6

ترکیب : واذ منصوب علی المفعولیۃ باضماراذکر۔ والجملۃ مستانفہ مقررۃ لماقبلھا من شناعۃ ترک التقال یا قوم بیان لقولہ قال وقدتعلمون الجملہ حال مؤکدلانکار الایذاء والتقدیر ای توذوننی عالمین علما قطعیا انی رسول اللہ وقد لتحقیق العلم وصیغۃ المضارع للد لالۃ علی استمرارہ۔ واللہ الخ اعتراض تدییلی مقرر لمضمون ماقبلہ من الازاغۃ واذقال عیسیٰ امامعطوف علی اذالاولیٰ معمول لعاملھا وامامعمول لمضمر معطوف علی عاملھا۔ مصدقا حال موکدۃ والعامل فیھا رسول ادبادل علیہ الکلام و مبشرًا حال ایضاً ای ارسلت الیکم حال کونی مصدقا لماتقدمنی من التوراۃ ومبشرا برسول یاتی من بعدی۔ اسمہ الجملۃ فی موضع خبرنعتاً لرسول اوفی موضع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذْقَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰـقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَقَدْتَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ ط فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ ط وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفَسِقِیْنَ ۔ (الصف : 5) (اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم ! تم مجھے اذیت کیوں دیتے ہو، حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں۔ پس جب انھوں نے کجروی اختیار کی تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا، اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ ) منافقین کو تنبیہ کے لیے قوم موسیٰ کی مثال مسلمانوں میں ضعیف الایمان لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مسلمانوں کو اختلاف اور خلفشار سے بچنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کے فرمان اور ان کی قوم کا کردار اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ سورت مزّمل کی آیت 15 میں اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزمان ﷺ کی رسالت کو موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ اس لیے یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کے فرمان اور ان کی قوم کا کردار پیش کیا گیا ہے تاکہ مسلمان اپنے رسول کی گستاخی اور نافرمانی سے بچتے رہیں۔ ” جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! تم پر اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تمہیں عطا فرمائی ہیں انہیں یاد کرو۔ اس نے تم میں انبیاء اور بادشاہ بنائے اور تمہیں وہ کچھ عطا کیا جو دنیا میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

پیغمبر کی توقیت چاہیے نہ کہ ایذاء : 5 : وَاِذْقَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ (اور جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم والو ! تم مجھے دکھ کیوں دیتے ہو) آیات کا انکار کرکے اور میرے متعلق ان باتوں کی نسبت کر کے جو مجھ میں پائی نہیں جاتیں۔ وَقَدْتَّعْلَمُوْنَ (حالانکہ تم جانتے ہو) یہ موضع حال میں ہے۔ مطلب یہ ہے لما تؤذوننی تم مجھے کیوں کر ایذاء پہنچاتے ہو۔ یہ یقینی طور پر جانتے ہوئے کہ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ (میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں) اور تمہارے اس بات کو جان لینے کا تقاضا یہ ہے کہ تم میری توقیرو تعظیم کرو نہ کہ الٹا مجھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا “ یعنی وہ اپنی صفیں باندھتے ہیں قتال کے وقت اور اپنی جگہوں سے نہیں ہٹتے۔ ” کانھم بنیان مرصوص “ تحقیق وہ ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے ملادی گئی ہو۔ پس اس میں کوئی شگاف اور خلل نہ ہوا اور کہا گیا ہے سیسہ کے ذریعے مضبوط کی گئی ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

5۔ بنی اسرائیل ایک مدت سے مصر میں نہایت ذلت کے ساتھ رہتے تھے کیونکہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل سے طرح طرح کے ذلیل کام لیا کرتے تھے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نبی ہوئے اور ان کے سبب سے فرعون اور ان کی قوم کے لوگ یہ سب ڈوب کر ہلاک ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر حضرت یعقوب اور انبیاء کی سکونت کی جگہ ملک شام کو جائیں اور وہاں کی جو بستیاں قوم عمالقہ کے قبضہ میں آگئی ہیں۔ اس قوم سے لڑ کر وہ بستیاں ان سے خالی کرائیں جائیں اور اس ملک میں سکونت اختیار کی جائے یوں تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سی شرارتیں کیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ ) اور (یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا۔ یعنی ان کے کرتوت پر زجر وتوبیخ کرتے ہوئے اور انہیں آپ کو اللہ کا رسول سمجھنے کے باوجود اذیت پہنچانے سے باز رکھتے ہوئے حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا (لِمَ تُؤْذُوْنَنِيْ وَقَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ ۭ ) اپنے اقوال وافعال کے ذریعے تم مجھے کیوں اذیت دیتے ہو ؟ اور تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوارسول ہوں۔ رسول کا اکرام و تعظیم اس کے احکاماتت کی تعمیل اور اس کے فیصلے کو قبول کرنا رسول کا حق ہے۔ رہا رسول کو اذیت دینا جس کا مخلوق پر اللہ کے احسان کے بعد سب سے بڑا احسان ہے تو یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 2–8

جائز نذر کا پورا کرنا ضروری ہے ، ناجائز کا نہیں قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لم تقلون ما لا تفعلون۔ کبرمقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو، اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں۔ ) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے اوپر کوئی عبادت یا تقرب الٰہی کی کوئی صورت یا عقد لازم کرلے تو اس پر اسے پورا کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اسے پورا نہ کرنے کی صورت میں وہ شخص ایسی بات کا قائل گردانا جاتا ہے جسے وہ کرتا نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 7] قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے حال بد کی تذکیر و یاد دہانی : سو اس سے قوم موسیٰ کے حال بد کو یاد کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یاد کرو اس وقت کو کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے اس طرح کہا تاکہ اس طرح تم لوگ اس روش سے بچ سکو جس کو ان لوگوں نے اپنایا اور جس کے نتیجے میں ان کو زیغ قلوب کی مار و پھٹکار سے دو چار ہونا پڑا اور وہ منصہ عز و شرف سے گر کر قعر لعنت و مذلت میں جاپڑے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے منافقین اور ان کی منافقانہ روش کی توضیح اور ان کے انجام کو مثال سے واضح فرما دیا گیا کہ منافقین کا یہ رویہ وہی ہے جس کو یہود نے اپنایا تھا۔ وہ بھی جہاد کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–8

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) وسیدناعیسیٰ (علیہ السلام) اور آخری رسول ﷺ کی رسالت کی گواہی تشریح : یہاں سب سے پہلے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کا اور ان کی قوم بنی اسرائیل کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے بارے میں تعارف سورة بقرہ اور سورة قصص میں کافی تفصیلاً بتایا جا چکا ہے۔ مختصراً یوں ہے کہ بنی اسرائیل مذہبی نہیں بلکہ نسلی نام ہے۔ اس قوم کا لقب جو یعقوب (علیہ السلام) معروف بہ اسرائیل بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے پیدا ہوئی۔ اور اپنے وطن شام سے نکل کر اطراف عالم میں پھیلی۔ خاندان یعقوب (علیہ السلام) کی اصل فضیلت یہ تھی کہ ان کو عزت، حکومت اور رسالت دی گئی۔ اور پھر یوں ایران، عراق،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

آیات 1 تا 9 اسرار ومعارف۔ آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے قال سے بھی اور حال سے بھی اور اللہ غالب ہے اور حکیم ہے سو اے ایمان والو جس کام کے کرنے کا ارادہ نہ ہو اس کے کرنے کا اعلان بھی مت کرو کہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ بات کہوجوتم کرنا نہیں چاہتے۔ گناہ کبیرہ اور تبلیغ۔ جس طرح آج کل کے لیڈر بہت بڑے دعوے نفاذ اسلام کے یاروٹی کپڑے مکان کے کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ان کا ارادہ قلبی ایسا کرنے کا نہیں ہوتا یہ گناہ کبیرہ ہے رہی تبلیغ کہ خود تو عمل میں کمزور ہے اور دوسروں کو دعوت دے رہا ہے تو دعوی اور دعوت میں فرق ہے مبلغ کو چاہیے کہ خود بھی عمل کرے لیکن اگر کمزوری سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی انہیں یہ سزا ملی کہ ان کے دل سخت ہوگئے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ” یعنی بنی اسرائیل ہر بات میں ضد کرتے اپنے رسول سے آخر مردود ہوگئے۔ “9 اس آنحضرت کو تسلی دی ہے کہ کچھ لوگ اگر جہاد میں پس و پیش کر رہے رہیں تو آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ موسیٰ اور عیسیٰ بھی اپنی قوم سے ایسی تکالیف اٹھا چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(61:5) واذا قال موسی۔ کلام مستانفہ ہے واؤ عاطفہ) ۔ اس سے قبل کلام محذوف ہے۔ ای اذکر الوقت اذقال موسی۔ (یعنی اے محمد ﷺ یاد کرو وہ وقت جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا) ۔ یا اذکر لہؤلاء المعرضین عن القتال وقت قول موسیٰ لقومہ۔ اب دشمنان دین سے قتال پر اعتراض کرنے والوں کو وہ وقت یاد کراؤ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا۔ یقوم ۔۔ رسول اللہ الیکم۔ یہ قال کا مقولہ ہے۔ لم : کیوں ، کس لئے (ملاحظہ ہو آیت 61:2 متذکرہ الصدر) تؤذوننی۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ ایذاء (افعال) مصدر۔ نون وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم ہے۔ تم مجھے ستاتے ہو۔ تم مجھے ایذاء دیتے ہو۔ وقد تعلمون انی رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–14

لغات القرآن۔ لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔ تشریح : مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) یہ پوراقصہ سورة مائدہ اور سورة احزاب میں گزرچکا ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ اے رسول یاد کرو کہ حضرت موسیٰ نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے کہا کہ اے قوم باوجودیکہ تم مجھ کر رسول اللہ برحق جانتے ہو پھر مجھ کو کیوں طرح طرح سے ایذا دیتے ہو اور میرا کہا نہیں سنتے، جب بنی اسرائیل کے دل اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری سے پھرگئے تو اللہ نے بھی ان کو راہ راست پر آنے کی توفیق نہیں دی، کیونکہ اس طرح سے نافرمان لوگوں کو مجبور کرکے راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے برخلاف ہے اس قصہ میں نبی آخرالزمان کے عہد کے مخالف لوگوں کو یہ تنبیہ بھی ہے کہ جس طرح پچھلے مخالف لوگوں کا حال ہو اگر یہ لوگ ہمارے محبوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–6

[3] عیسیٰ (علیہ السلام) نے رسول اکرم ﷺ کی بعثت کی جو بشارت دی تھی وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری برناباس کی انجیل میں تو یہ پیشین گوئی بہت صاف اور کھلے لفظوں میں موجود ہے لیکن عیسائیوں کی جو چار انجیلیں مسلم ہیں ان میں بھی تحریفات کے باوجود رسول اللہ ﷺ کا ذکر قریب تصریح کے موجود ہے اور انجیل یوحنا میں تو فارقلیط (یاپیرکلوطوس) والی بشارت اس قدر صاف ہے کہ اس کا بےتکلف مطلب بجز احمد (یعنی محمود و ستودہ) کے کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس پر تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، از سید ابو الاعلیٰ مودودی، جلد پنجم، سورة صف حاشیہ 10۔ [4] یعنی محمد ﷺ ۔ [5] یہاں موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان آیات میں انبیاء کے حالات کو بیان کیا ہے ۔ تاکہ حضور ﷺ کو معلوم ہو ۔ کہ امم سابقہ نے کیونکر حق و انصاف کی مخالفت کی ۔ اور کس طرح اپنے انبیاء کو بوقلمون اذیتوں سے شکستہ خاطر کیا ہے ۔ فرمایا ۔ کہ جب حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے کہا کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں ۔ اور تمہاری اصلاح کے لئے مبعوث ہوا ہوں ۔ تو انہوں نے کیا کہا ؟ کیا فوراً تسلیم کرلیا ؟ نہیں بلکہ مطالبہ کیا ۔ کہ ارنا اللہ جھرۃ پہلے جس خدا کی توحید کی طرف تم ہم کو دعوت دیتے ہو ۔ اس کو کھلم کھلا دکھاؤ۔ جب مانیں گے ۔ پھر گو سالہ کی پرستش شروع کردی ۔ اور خدا کی توحید کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا اے برادران قوم تم مجھے کیوں ایذا دیتے اور تکلیف پہنچاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو اور تم کو معلوم ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور اللہ تعالیٰ کافرستادہ اور تمہارے پاس اس کا بھیجا ہوا آیا ہوں پھر جب وہ اس کہنے پر بھی اپنی کج روی اور کج راہی پر جمے رہے اور کجی پر قائم ہی رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اور ٹیڑھا کردیا اور اللہ تعالیٰ ایسے نافرمانوں اور بےحکموں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔ بنی اسرائیل کی ایذارسانی کے واقعات قرآن میں کئی جگہ مذکور ہوچکے ہیں بنی اسرائیل کی نافرمانی اور بدگوئی پیغمبر کا مقابلہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ وہ ایذائیں مختلف طور پر تھیں اور حاصل ان سب کا عصیان اور مخالفت ہے۔ 3۔ اس طرح یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو بانواع مختلفہ ایذائیں پہنچاتے ہیں اس لئے ان کا جرم اور فسق متزاید ہوتا جاتا ہے کہ امید اصلاح نہیں رہی پس ان کے فساد مٹانے کے لئے قتال کا حکم دینا مصلحت ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے اندھے پن کی مذمت اور فاسقوں کو ہدایت نہ دینے کا اعلان 5 ؎ دنیا کی تاریخ میں ہمارے سامنے ایک قوم کا نقشہ حیات اس طرح نظر آتا ہے کہ وہ تقریباً ساڑھے چار سو سال سے مصر کے قاہر و جابر بادشاہوں اور مصری قوم کے ہاتھوں میں غلام اور مظلوم چلی آتی ہے اور غالب قوم کے سخت سے سخت مصائب و مظالم کا شکار بن رہی ہے۔ کہ اچانک اسی مردہ قوم میں سے بجلی کی کڑک اور آفتاب کی چمک کی مانند ایک بر گزیدہ ہستی سامنے آتی ہے اور اس کی صدائے حق اور اعلان ہدایت سے تمام قلم روباطل لرزہ براندام ہوجاتی ہے اور ایوان ظلم و کفر میں ایک بھونچال آجاتا ہے۔ وہ دنیا کی ایک زبردست متمدن طاقت کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–10

إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْ‌صُوصٌ (Surely Allah loves those who fight in His way in firm rows, as if they were a solid edifice...61:4) The main subject of this Surah for which it was revealed is to mention the dearest action in the sight of Allah. This verse states that it is jihad in Allah's way, and that the best row of battle in the sight of Allah is the one firmly established against Allah's enemies to make Allah's word prevail, and which, on account of the valor and unshaken determination of Mujahidin, looks like a strong…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 At several places in the Qur'iin details have been given of how the Israelites in spite of acknowledging the Prophet Moses as a Prophet of God and their own benefactor maligned him and proved disloyal to him. For this see AIBaqarah: 51,55,60, 67-71 An-Nisa': 153; AI-Ma'idah: 20-26; AI-A'raf: 138-141; 148-151; Ta Ha: 86-98. In the Bible too, the Jewish history written by hte Jews themselves is replete with such events; for instance, sec Exodus, 5: 20-21, 14: 11- 12, 16: 2-3, 17: 3-4; Numbers, 11: 1-15, 14: 1-10, ch.l6, 20: 1-5. Here, allusion to these events is meant to warn the Muslims that…

Read the full tafseer →