Explained with ayahs 5–6
حضرت عیسیٰ کی طرف سے خاتم الانبیاء کی پشین گوئی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کلیم اللہ حضرت موسیٰ بن عمران نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم میری رسالت کی سچائی جانتے ہو پھر کیوں میرے درپے آزار ہو رہے ہو ؟ اس میں گویا ایک طرح سے آنحضور ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے، چناچہ آپ بھی جب ستائے جاتے تو فرماتے اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ پر رحمت نازل فرمائے وہ اس سے زیادہ ستائے گئے لیکن پھر بھی صابر رہے اور ساتھ ہی اس میں مومنوں کو ادب سکھایا جا ہرا ہے کہ وہ اللہ کے نبی ﷺ کو ایذاء نہ پہنچائیں ایسا نہ کریں جس سے آپ کا دل دکھتا ہو، جیسے اور جگہ ہے الخ ایمان والو تم ایسے نہ ہونا جیسے موسیٰ کو ایذاء دینے والے تھے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →سورة الصَّف 6
یہ بنی اسرائیل کی دوسری نافرمانی کا ذکر ہے۔ ایک نافرمانی وہ تھی جو انہوں نے اپنے دور عروج کے آغاز میں کی۔ اور دوسری نافرمانی یہ ہے جو اس دور کے آخری اور قطعی اختتام پر انہوں نے کی جس کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان پر خدا کی پھٹکار پڑگئی۔ مدعا ان دونوں واقعات کو بیان کرنے کا یہ ہے کہ مسلمانوں کو خدا کے رسول کے ساتھ بنی اسرائیل کا سا طرز عمل اختیار کرنے کے نتائج سے خبردار کیا جائے۔
سورة الصَّف 7
اس فقرے کے تین معنی ہیں اور تینوں صحیح ہیں
ایک یہ کہ میں کوئی الگ اور نرالا دین نہیں لایا ہوں بلکہ وہی دین لایا ہوں جو موسیٰ ؑ لائے تھے۔ میں توراۃ کی تردید کرتا ہوا نہیں آیا ہوں بلکہ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
اگلی آیات میں اس اصل معاملہ کا ذکر ہے جو اس سورت کے نزول کا سبب بنا یعنی اس کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کونسا عمل زیادہ محبوب ہے، اس کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ، یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب وہ صف قتال ہے جو اللہ کے دشمنوں کے مقابلہ میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے قائم ہو اور مجاہدین کے عزم و ہمت کی وجہ سے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہو کہ ان کے قدموں میں کوئی تزلزل نہ آنے پائے۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کی راہ میں دشمنوں کی…
Read the full tafseer →(واذ قال عیسیٰ ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التورۃ و مبشرا برسول یاتی من بعد اسمہ احمد فلما جاء ھم بالبینت قالوا ھذا سحر مبین) (6)۔
(دل کی کجی کے اثرات جو بعد میں ظاہر ہوئے)۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ان کے دل کی ہی کجی کا اثر ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لانے سے بھی محروم رہے اور جس آخری رسول کی بشارت آنجناب ﷺ نے دی اس کی تکذیب کے لیے بھی آج رات دن خاکبازی میں مصروف ہیں حالانکہ ان کی تمام مخالفتوں کے علی الرغم اللہ کا یہ نور کامل ہو کر رہے گا، نہ یہ اس کا کچھ بگاڑ سکیں گے نہ مشرکین قریش)۔
حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں۔ ان کے ذکر سے مقصود یہ…
Read the full tafseer →6۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ کا قصہ اس لیے بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل نے جس طرح حضرت موسیٰ ؑ کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کا بھی انکار کیا، اس میں نبی ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ یہود آپ ﷺ ہی کے ساتھ اس طرح نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کی تو ساری تاریخ ہی انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب سے بھری پڑی ہے۔ تورات کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ میں جو دعوت دے رہا ہوں، وہ وہی ہے جو تورات کی بھی دعوت ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو پیغمبر مجھ سے پہلے تورات لے کر آئے اور اب میں انجیل لے کر آیا ہوں، ہم دونوں کا اصل ماخذ ایک ہی ہے۔ اس لیے جس طرح تم موسیٰ و ہارون اور داوٗد و سلیمان (علیہم السلام) پر ایمان…
Read the full tafseer →5: ”احمد“ حضور اقدس ﷺ کا نام ہے، اور حضرت عیسیٰ ؑ نے اسی نام سے آپ کی بشارت دی تھی۔ اس قسم کی ایک بشارت آج بھی انجیل یوحنا میں تحریف شدہ حالت میں موجود ہے۔ انجیل یوحنا کی عبارت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنے حواریوں سے فرمایا : ”اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے“ (یوحنا : 16)۔ یہاں جس لفظ کا ترجمہ مددگار کیا گیا ہے۔ وہ اصل یونانی میں ”فار قلیط“ (Periclytos) تھا جس کے معنی ہیں ”قابل تعریف شخص“ اور یہ ”احمد“ کا لفظی ترجمہ ہے لیکن اس لفظ کو ”Paracletus“ سے بدل دیا گیا ہے، جس کا ترجمہ ”مددگار“ اور بعض تراجم میں ”وکیل“ یا ”شفیع“ کیا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اس کے بعد عیسیٰ ابن مریم تشریف لائے اور انہوں نے بنی اسرائیل سے کہا :
یبنی اسراء یل .................... الیکم (16 : 6) ” اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں “۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں اللہ ہوں ، اور نہ یہ کہا میں اللہ کا بیٹا ہوں ، نہ یہ کہا کہ وہ اللہ کے اقانیم میں سے ایک اقنوم ہیں۔
مصدقالما .................... احمد (16 : 6) ” تصدیق کرنے والا اس تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے ، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا “۔ یوں صریح الفاظ میں رسالت کی تصویر پیش کی جاتی ہے کہ سلسلہ رسالت ایک ہی ہے اور ہر رسول کے بعد جو دوسرا…
Read the full tafseer →1 یعنی اصل تورات کے من اللہ ہونے کی تصدیق کرتا ہوں اور اس کے احکام و اخبار پر یقین رکھتا ہوں اور جو کچھ میری تعلیم ہے فی الحقیقت ان ہی اصول کے ماتحت ہے جو تورات میں بتلائے گئے تھے۔ (تنبیہ) ابن کثیر وغیرہ نے " مُصَدِّقًالِّمَا بَیْنَ یَدیہ " کا مطلب یہ لیا ہے کہ میرا وجود تورات کی باتوں کی تصدیق کرتا ہے۔ کیونکہ میں ان چیزوں کا مصداق بن کر آیا ہوں جن کی خبر تورات شریف میں دی گئی تھی۔ واللہ اعلم۔
2 یعنی پچھلے کی تصدیق کرتا ہوں اور اگلے کی بشارت سناتا ہوں۔ یوں تو دوسرے انبیاء سابقین بھی خاتم الانبیاء ﷺ کی تشریف آوری کا مژدہ برابر سناتے آئے ہیں۔ لیکن جس صراحت و وضاحت اور اہتمام کے ساتھ حضرت مسیح…
Read the full tafseer →آیت 6 { وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰــبَنِیْٓ اِسْرَآئِ ‘ یْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَـیْکُمْ } ”اور یاد کرو جب عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل ! میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف“
اس آیت میں بنی اسرائیل کے دوسرے دور کا ذکر ہے جب ان کی طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول بن کر آئے۔ بحیثیت رسول آپ علیہ السلام کی بعثت کا ذکر سورة آل عمران کی آیت 49 کے الفاظ { وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ } میں آیا ہے۔
{ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰٹۃِ } ”میں تصدیق کرتے ہوئے آیا ہوں اس کی جو میرے سامنے موجود ہے تورات میں سے“
{ وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ…
Read the full tafseer →6 (مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ ) 61 ۔ الصف :6) کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ سیدنا عیسیٰ ابن مریم اپنے سے پہلے کی نازل شدہ کتاب کی تصدیق کرنے والے تھے وہ شریعت موسوی یعنی تورات کی تعلیم کے ہی پیرو تھے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا وجود تورات کی باتوں کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ میں ان چیزوں کا مصداق بن کر آیا ہوں جن کی خبر میرے متعلق تورات میں دی گئی تھی۔
7 تورات اور انجیل دونوں کے صرف تراجم ہی ملتے ہیں۔ اصل نسخے کہیں بھی موجود نہیں :۔ احمد کے دو معنی ہیں ایک اپنے پروردگار کی بہت زیادہ حمد بیان کرنے والا۔ دوسرے وہ جس کی بندوں میں سب سے زیادہ…
Read the full tafseer →7۔ تصدیق تو ہر پیغمبر اپنے سے قبل کے تمام الہامی نوشتوں کی کرتا ہے، لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خود اسرائیلی تھے، اور ان کے مخاطب بھی تمامتر اسرائیلی ہی تھے۔ اس لئے ذکر تصریح کے ساتھ صرف توریت ہی کا مناسب تھا۔ بنی اسرائیل پر، اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) پر، اور آپ (علیہ السلام) کی تصدیق تورات پر حاشیے کئی بار گزر چکے۔ (آیت) ” انی رسول اللہ الیکم “۔ اس ذرا سے فقرہ کے اندر ہی بہت سی گمراہیوں کی تردید آگئی، چناچہ اس کا اثبات ہوا کہ :۔
(1) آپ (علیہ السلام) کی بعثت بنی اسرائیل کی جانب تھی، کل دنیا کی جانب نہ تھی، موجودہ مسیحیت کی تردید۔
(2) اس کا اثبات کہ آپ (علیہ السلام) حق تعالیٰ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
واذ قال عیسیٰ ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اس لئے بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل نے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اسی طرح انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی انکار کیا، اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ یہود آپ ﷺ ہی کے ساتھ ایسا نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کی تو ساری تاریخ ہی انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب سے بھری پڑی ہے، تو رات کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ میں جو دعوت دے رہا ہوں یہ وہی ہے جو تورات کی بھی دعوت ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو پیغمبر مجھ سے پہلے تو رات لے کر آئے اور اب میں انجیل لے کر آیا ہوں، ہم دونوں کا اصل ماخذ…
Read the full tafseer →واذ قال عیسیٰ ابن مریم لم یبونی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراۃ و مبشرا برسول یاتی بعدی اسمہ احمد فلما جاء ھم بالبینت قالوا ھذا سحر مبین .
” اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب کہ عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل ! میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو توریت آچکی ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایک عالی قدر رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔ جب عیسیٰ (اپنی رسالت کو ثابت کرنے کیلئے) ان کے سامنے کھلی نشانیاں (یعنی معجزات) لائے تو انہوں نے کہا یہ تو صریح جادو ہے۔ “
یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ : حضرت عیسیٰ نے یا…
Read the full tafseer →اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جبکہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میرے بعد جو ایک رسول آئیں گے جن کا نام مبارک احمد ہوگا ان کی خوشخبری دینے والا ہوں۔
چناچہ جب ان لوگوں کے پاس حضرت عیسیٰ یا محمد اوامرو نواہی اور معجزات لے کر آئے تو وہ کہنے لگے یہ تو محض جھوٹ اور جادو ہے۔
Read the full tafseer →1۔ وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ۔۔۔۔۔:”مصدقا لما بین یدی من التورۃ“ کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی درست ہیں ، ایک یہ کہ میں اپنے سے پہلے نازل شدہ کتاب تورات کی تردید نہیں بلکہ تصدیق کرنے والا ہوں۔ دیکھئے سورة ٔ مائدہ (46) کی تفسیر۔ دوسرا یہ کہ میرا وجود ان بشارتوں کو سچا ثابت کرنے والا ہے جو میرے متعلق تورات میں دی گئی ہیں ، میں ان کا مصداق ہوں ، لہٰذا تم پر لازم ہے کہ مجھ پر ایمان لاؤ۔
2۔ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ : اس سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ ؑ نے رسول اللہ ﷺ کے اسم مبارک ”احمد“ کی صراحت کے ساتھ آپ ﷺ کی آمد کی خوش خبری دی تھی۔…
Read the full tafseer →تفسیر
واذ قال عیسیٰ ابن مریم ان کے لئے یہ قصہ بھی بیان کرو فرمایا : اے بنی اسرائیل ! اے میری قوم نہیں فرمایا جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ان میں نسب نہیں تھا کہ وہ ان کی قومہوتے۔ انی رسول اللہ………میں انجیل دے کر تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں، تورات میں میری صفت موجود ہے، میں تمہارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لایا جو تورات کے خلاف ہو کہ تم مجھ سے نفرت کرتے۔ اور میں رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں۔ مبشرا حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ اس میں عامل ارسال کا معنی ہے۔ الیکم رسول کا صلہ ہے۔
یاتی ……، ابن کثیر اور ابو عمرو نے من بعد میں یاء کر فتحۃ دیا ہے (1) ۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
1۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا ہل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم۔ اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی سوداگری نہ بتاؤں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بچالے۔ نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا اگر ہم اس تجارت کو جان لیتے تو ہم اس میں اپنے مالوں اور اپنے اہل و عیال کو لگادیتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس تجارت کو بیان فرمایا کہ آیت تو منون باللہ ورسولہ کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لاؤ اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو یہی تجارت ہے۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت یا ایہا الذین اٰنوا ہل ادلکم علی…
Read the full tafseer →[وَاِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ : اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے ][ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : اے بنی اسرائیل ][ انى رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ : کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف ][مُّصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ : تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے اس کی جو میرے سامنے ہے ][ مِنَ التَّوْرٰىةِ : تورات میں سے ][وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ : اور بشارت دینے والا ہوتے ہوئے ایک ایسے رسول کی جو ][ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي : آئے گا میرے بعد ][ اسْمُهٗٓ اَحْمَدُ : جس کا نام احمد ہوگا ][ فَلَمَا جَاۗءَهُمْ : پھر جب وہ آئے اس کے پاس ][ بِالْبَيِّنٰتِ : واضح (نشانیوں) کے ساتھ ][ قَالُوْا هٰذَا سِحْــرٌ…
Read the full tafseer →نصاریٰ حضرت عیسیٰ کے مخالف ہیں
آیت بالا میں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام نقل کیا ہے اس میں ایک بات تو یہ ہے کہ میں بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا ہوں ان کی یہ بات انجیل متی میں بھی لکھی ہے جسے نصرانی پڑھتے پڑھاتے اور پھیلاتے ہیں تحریف اور تبدیل کے باوجود اب تک اس میں یہ موجود ہے کہ غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں نہ جانا بلکہ اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیوں کی طرف جانا۔ (انجیل متی باب 10)
نیز یہ بھی فرمایا کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی بھیڑیوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔ (انجیل متی باب 51)
یہ نصاریٰ نے جو دنیا بھر میں اپنے مشن قائم کر رہے ہیں اور اپنے بنائے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
بشارت حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) بہ بعثت نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی الہ و اصحابہ وسلم :
قال اللہ تعالیٰ ، (آیت) ” واذ قال عیسیٰ ابن مریم ...... الی ....... ولوکرہ المشرکون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے شکوہ کا ذکر تھا جو انہوں نے بارگاہ خداوندی میں اپنی قوم کی ایذاء رسانیوں پر کیا اس ضمن میں قوم بنی اسرائیل کی بدبختی و محرومی کا ذکر تھا تو اس مناسبت سے اب یہ مضمون بیان کیا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل کی اس محرومی اور بدنصیبی کے بعد اللہ رب العزت نے اس قوم کے لیے ایسے اسباب پیدا فرمائے کہ پہلے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا اور وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5:۔ ” واذ قال عیسیٰ “ یہ دوسرا قصہ ہے اور ترغیب الی القتال سے متعلق ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے فرمایا۔ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد ایک عظیم الشان رسول کی خوش خبری دینے والا ہوں جس کا نام نامی احمد ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوش خبری کے مطابق جب حضرت خاتم النبیین ﷺ دلائل و معجزات کے ساتھ آگئے تو مشرکین نے ان کو جادوگر کہہ کر جھٹلایا۔ ” ومن اظلم ممن افتری “ وہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے جسے اسلام کی طرف دعوت دی جائے جو دنیا واخرت کی سعادت کا ذریعہ ہے تو قبول کرنے کے بجائے وہ پیغمبر (علیہ السلام) کو جھٹلا کر اور معجزات…
Read the full tafseer →ربط آیات :
پہلے اللہ نے اپنی توحید اور تنزیہہ کا ذکر کیا اور پھر قول اور فعل کے تضاد کو رفع کرنے کے لئے فرمایا کہ اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کو کرتے نہیں۔ یہ تو اللہ کے نزدیک بڑی ناراضگی والی بات ہے۔ فرمایا اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل دشمنوں کے ساتھ صف بستہ ہو کر جنگ کرنا ہے پھر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا حال بیان کیا۔ اور ان کی نافرمانی اور معصیت کا شکوہ کیا۔ کہا تم مجھے کیوں تکلیف دیتے ہو۔ حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ مگر وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کرتے اور ان کو اذیتیں پہنچاتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دل ٹیڑے ہوگئے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىۃِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ 0 ۭ فَلَمَّا جَاۗءَہُمْ بِالْبَيِّنٰتِ قَالُوْا ہٰذَا سِحْــرٌ مُّبِيْنٌ 6
عيسی
عِيسَى اسم علم، وإذا جعل عربيّا أمكن أن يكون من قولهم : بعیر أَعْيَسُ ، وناقة عَيْسَاءُ ، وجمعها عِيسٌ ، وهي إبل بيض يعتري بياضها ظلمة، أو من الْعَيْسِ وهو ماء الفحل يقال :
عَاسَهَا يَعِيسُهَا
( ع ی س ) یہ ایک پیغمبر کا نام اور اسم علم ہے اگر یہ لفظ عربی الاصل مان لیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اس عیس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ترکیب : واذ منصوب علی المفعولیۃ باضماراذکر۔ والجملۃ مستانفہ مقررۃ لماقبلھا من شناعۃ ترک التقال یا قوم بیان لقولہ قال وقدتعلمون الجملہ حال مؤکدلانکار الایذاء والتقدیر ای توذوننی عالمین علما قطعیا انی رسول اللہ وقد لتحقیق العلم وصیغۃ المضارع للد لالۃ علی استمرارہ۔ واللہ الخ اعتراض تدییلی مقرر لمضمون ماقبلہ من الازاغۃ واذقال عیسیٰ امامعطوف علی اذالاولیٰ معمول لعاملھا وامامعمول لمضمر معطوف علی عاملھا۔ مصدقا حال موکدۃ والعامل فیھا رسول ادبادل علیہ الکلام و مبشرًا حال ایضاً ای ارسلت الیکم حال کونی مصدقا لماتقدمنی من التوراۃ ومبشرا برسول یاتی من بعدی۔ اسمہ الجملۃ فی موضع خبرنعتاً لرسول اوفی موضع…
Read the full tafseer →وَاِذْقَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًالِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَمُبَشِّرًا م بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ ط فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (الصف : 6)
(اور یاد کرو جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا، اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف اللہ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں، میں تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہے اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا، مگر جب وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کے آیا تو انھوں نے کہا یہ تو کھلا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کا کردار ذکر کرنے کے بعد عیسائیوں کے کردار کا تذکرہ۔
جس طرح یہودی موسیٰ (علیہ السلام) کو تکالیف دینے اور ان کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے اسی طرح ہی عیسائیوں کی غالب اکثریت نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی گستاخیاں اور نافرمانی کی اور یہ بھی صراط مستقیم سے گمراہ ہوگئے۔ حالانکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بار بار بتلایا اور سمجھایا کہ بلاشک میں اللہ کا رسول ہوں اور اپنے سے پہلے نازل ہونے والی کتاب تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور اپنے بعد آنے والے رسول جن کا نام نامی اسم گرامی احمد ﷺ ہوگا۔ اس کی تشریف آوری کی تمہیں خوشخبری دیتا ہوں۔ یاد رہے…
Read the full tafseer →بشارتِ عیسیٰ d:
6 : وَاِذْقَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْ اِسْرَآ ئِ یْلَ (جب کہ عیسیٰ بن مریم نے کہا۔ اے بنی اسرائیل) یہاں یٰقوم نہیں فرمایا جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کیونکہ آپ کا ان میں کوئی نسب نہ تھا کہ وہ آپ کی قوم بنتی۔ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ (میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ (آچکی ہے۔ اس کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ اور ایک عالی قدر رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے…
Read the full tafseer →5 ۔” واذقال موسیٰ لقومہ “ بنی اسرائیل سے۔ ” یا قوم لم توذوننی “ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) پر آدر (پھولے ہوئے خصیوں والا) ہونے کا عیب لگایا۔ ” وقد تعلمون انی رسول اللہ الیکم “ اور رسول کی عزت و احترام کی جاتی ہے۔ ” فلما زاغوا “ حق سے مائل ہوگئے۔ ” ازاغ اللہ قلوبھم ‘ اس کو حق سے مائل کردے گا۔ یعنی جب انہوں نے اپنے نبی کو ایذاء دے کر حق کو چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو حق سے ہٹا دیا۔ ” واللہ لا یھدی القوم الفاسقین “ زجاج (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کو ہدایت نہ دیں گے جس کے بارے میں اللہ کے علم میں یہ بات سبقت کرچکی ہے کہ وہ فاسق ہے۔
Read the full tafseer →6۔ مسند 1 ؎ امام احمد کی روایت سے حضرت ابوذر کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی گزرے ہیں جن میں تین سو پندرہ رسول ہیں اور سورة آل عمران میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک نبی سے دوسرے نبی کی تصدیق کو اپنی امت میں پھیلا دینے کا بڑا سخت عہد ازل میں لیا ہے اس عہد کو پورا کرنے کی غرض سے حضرت موسیٰ نے تورات کے موافق بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ کی نبوت اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سب سے آخری رسول آنحضرت ﷺ کی نبوت کی تصدیق بنی اسرائیل میں جو پھیلائی اسی کا ذکر اس آیت میں ہے اگرچہ بنی اسرائیل نے تورات اور انجیل کی آیتوں کو بدل ڈالا ہے لیکن اب بھی تورات اور انجیل کے ترجمے…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی متقدمین بنی اسرائیل کے عناد کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن کو حضرت عیسیٰ نے دعوت دی اور فرمایا (يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ ) یعنی اے بنی اسرائیل مجھ اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں بھلائ کی طرف بلاؤں اور برائی سے روکوں، اللہ تعالیٰ نے ظاہری دلائل وبراہی کے ذریے سے میری تائید فرمائی ہے جو میرے صداقت پر سلاکت کرتی ہے نیز اس بات پر دلالت کرتی ہیں (مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ ) کہ میں اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں یعنی میں وہی کچھ لیے کر آیا ہوں جو موسیٰ تورات اور آسمانی شرعیت میں لے کر آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
جائز نذر کا پورا کرنا ضروری ہے ، ناجائز کا نہیں
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لم تقلون ما لا تفعلون۔ کبرمقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو، اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں۔ )
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے اوپر کوئی عبادت یا تقرب الٰہی کی کوئی صورت یا عقد لازم کرلے تو اس پر اسے پورا کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اسے پورا نہ کرنے کی صورت میں وہ شخص ایسی بات کا قائل گردانا جاتا ہے جسے وہ کرتا نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمی…
Read the full tafseer →[ 12] بعثت عیسویٰ کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاد کرو کہ جب عیسیٰ بیٹے مریم کے نے کہا کہ اے اسرائیل کی اولاد ! بیشک میں تمہاری طرف بھیجا ہوا رسول ہوں۔ یعنی ان لوگوں کے اسی زیغ طبع کے اثر اور نتیجے کے اظہار وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی یاد کرو کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اسے بنی اسرائیل ! یقینا میں اللہ کا رسول ہوں تم لوگوں کی طرف۔ یہاں پر اس حقیقت کی طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے کہ آنجناب نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف " یا قوم " [ اے میری قوم ] نہیں فرمایا کہ ہم قوم تو انسان بنتا ہے باپک طرف سے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) باپ کے بغیر محض قدرت خداوندی سے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) وسیدناعیسیٰ (علیہ السلام) اور آخری رسول ﷺ کی رسالت کی گواہی
تشریح : یہاں سب سے پہلے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کا اور ان کی قوم بنی اسرائیل کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے بارے میں تعارف سورة بقرہ اور سورة قصص میں کافی تفصیلاً بتایا جا چکا ہے۔ مختصراً یوں ہے کہ بنی اسرائیل مذہبی نہیں بلکہ نسلی نام ہے۔ اس قوم کا لقب جو یعقوب (علیہ السلام) معروف بہ اسرائیل بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے پیدا ہوئی۔ اور اپنے وطن شام سے نکل کر اطراف عالم میں پھیلی۔ خاندان یعقوب (علیہ السلام) کی اصل فضیلت یہ تھی کہ ان کو عزت، حکومت اور رسالت دی گئی۔ اور پھر یوں ایران، عراق،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیات 1 تا 9
اسرار ومعارف۔
آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے قال سے بھی اور حال سے بھی اور اللہ غالب ہے اور حکیم ہے سو اے ایمان والو جس کام کے کرنے کا ارادہ نہ ہو اس کے کرنے کا اعلان بھی مت کرو کہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ بات کہوجوتم کرنا نہیں چاہتے۔
گناہ کبیرہ اور تبلیغ۔
جس طرح آج کل کے لیڈر بہت بڑے دعوے نفاذ اسلام کے یاروٹی کپڑے مکان کے کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ان کا ارادہ قلبی ایسا کرنے کا نہیں ہوتا یہ گناہ کبیرہ ہے رہی تبلیغ کہ خود تو عمل میں کمزور ہے اور دوسروں کو دعوت دے رہا ہے تو دعوی اور دعوت میں فرق ہے مبلغ کو چاہیے کہ خود بھی عمل کرے لیکن اگر کمزوری سے…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی میں اس کے احکام وتعلیمات پر یقین رکھتا ہوں اور میں اس کی دی ہوئی خبر کا مصداق ہوں۔ (ابن کثیر)11 ” احمد “ جس کے لفظی معنی ” بہت تعریف کیا ہوا “ ہیں ہمارے رسول کا نام تھا احادیث میں آنحضرت کے متعدد نام مذکور ہیں۔ صحیح بخارق میں جبیربن مکلم سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : میرے پانچ نام ہیں یعنی جو پہلی امتوں میں بھی مشورہ ہے۔ ان میں پہلا محمد اور دوسرا ” احمد “ ہے اور یہ دونوں نام قرآن میں مذکور ہیں۔ زہری فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رئوف رحیم کا لقب دیا ہے۔ موجودہ اناجیل میں اس نام کا مذکورہ نہ ہونا اس کی نفی کی دلیل نہیں بن سکتا کیونکہ ان میں تحریف ہوچکی ہے اور اس کی بڑی دلیل…
Read the full tafseer →(61:6) واذ قال عیسی۔ اس کا عطف اذ قال موسیٰ پر ہے اور یاد کرو وہ وقت جب عیسیٰ نے کہا۔
یبنی اسرائیل ۔۔ اسمہ احمد۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے اور قال کا بیان ہے۔
مصدقا۔ حال مؤکدہ۔ اس میں عامل رسول ہے مصدقا لما بین یدی من التوراۃ : ای مصدقا لما تقدمنی من التوراۃ۔ میں تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی جو مجھ سے پہلے (موجود) ہے۔
ما بین یدی : ما موصولہ۔ بین یدی مضاف مضاف الیہ مل کر صلہ، بین یدی ای قبلی۔ میرے سے پہلے، ایسر التفاسیر (نیز ملاحظہ ہو بین ایدیہن 60:12)
مبشرا۔ یہ بھی حال ہے۔ یعنی اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں بحالیکہ میں تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔
تشریح :
مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…
Read the full tafseer →(ف 1) اے محبوب ﷺ مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اے لوگو میں اللہ کا سچا رسول ہوں تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں مجھ سے پہلے جو رسول گزرچکے ہیں یعنی حضرت موسیٰ ان کی اور ان کی کتاب توریت کا تصدیق کرنے والا ہوں نفس توحید میں اور نیز بعض شرائع میں اسکے موافق ہوں میں ایک بہت ہی عمدہ خوش خبری تم کو سناتا ہوں، اور مبارک باد اور بشارت دیتا ہوں تاکہ تم اس کا خیال رکھو، کہ عنقریب ایک رسول تشریف لائیں گے میرے بعد دنیا میں آئیں گے ان کا نام پاک احمد ﷺ ہوگا، حضور ﷺ کا اسم مقدس محمد ﷺ بھی ہے اور احمد ﷺ ہے۔ محمد بالغہ مفعول ، بہت تعریف کیا گیا، احمد مبالغہ فاعل ہے بہت تعریف کرنے والا، احمد، جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[3] عیسیٰ (علیہ السلام) نے رسول اکرم ﷺ کی بعثت کی جو بشارت دی تھی وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری برناباس کی انجیل میں تو یہ پیشین گوئی بہت صاف اور کھلے لفظوں میں موجود ہے لیکن عیسائیوں کی جو چار انجیلیں مسلم ہیں ان میں بھی تحریفات کے باوجود رسول اللہ ﷺ کا ذکر قریب تصریح کے موجود ہے اور انجیل یوحنا میں تو فارقلیط (یاپیرکلوطوس) والی بشارت اس قدر صاف ہے کہ اس کا بےتکلف مطلب بجز احمد (یعنی محمود و ستودہ) کے کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس پر تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، از سید ابو الاعلیٰ مودودی، جلد پنجم، سورة صف حاشیہ 10۔
[4] یعنی محمد ﷺ ۔
[5] یہاں موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →ف 1: حضرت مسیح نے یہودیوں کو ہرچند یقین دلایا ۔ کہ میں تورات کی تصدیق کے لئے آیا ہوں ۔ نئی شریعت کا موجد نہیں ہوں ۔ مگر انہوں نے انکار کیا ۔ اور ہمیشہ یہی کہا ۔ کہ ہم تم کو پیغمبر ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ پھر انہوں نے اس صداقت کبریٰ کا بھی اعلان کیا کہ میرے سعید زمانہ کے بعد تمہارے پاس اللہ کا رسول آئے گا ۔ جس کا نام احمد ہوگا ۔ جو اللہ کی حمد کے ترانے دنیا کے کانوں تک پہنچائے گا ۔ مگر خود اس کے ماننے والوں نے جب کہ وہ احمد ﷺ نامی ذات مبعوث ہوئی ۔ تو باوصف دلائل پیش کئے جانیکے ماننے سے انکار کیا ۔ اور صاف صاف کہہ دیا کہ ہم بنی اسماعیل میں اس شرف و بزرگی کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں…
Read the full tafseer →(6) اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) نے فرمایا اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا فرستادہ اور اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا آیا ہوں اور منجانب اللہ تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں اور میں اس توریت کی تصدیق کرنے والا اور اس کو سچا بتانے والا ہوں جو مجھ سے پہلے ہے اور میں ایک ایسے رسول کی بشارت اور خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے اور ان کا نام احمد ﷺ ہوگا پھر جب وہ رسول احمد ﷺ ان بنی اسرائیل ……کے پاس صاف وصریح اور کھلے دلاگل لے کر آیا تو وہ بنی اسرائیل ان کے معجزات کو دیکھ کر کہنے لگے یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے۔
نبی کریم ﷺ کی کتب سابقہ میں پیشین…
Read the full tafseer →ف 4۔ اسی طرح بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کے پھر رسول اللہ ﷺ کے دورہ رسالت میں کفار موجودین نے آپ کی تکذیب اور مخلافت کی اور یہ ظلم عظیم ہے پس اس ظلم کا تعدیہ مٹانے کے لئے قتال کا حکم دینا مصلحت ہوا۔
Read the full tafseer →سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی قوم بنی اسرائیل کو مخاطب کیا
6 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل میں پے در پے نبی و رسول مبعوث کیے جو قوم بنی اسرائیل کو توحید الٰہی کا درس دیتے رہے تا آنکہ اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل کی طرف اسرائیل کے سلسلہ کا آخری نبی و رسول یعنی سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور یہ معلوم ہی ہے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ان انبیاء و رسل (علیہ السلام) میں سے ایک ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی میں نبوت و رسالت عطا کردی تھیں ۔ بچپن سے ہماری مراد بلوغت کے بعد کا معاززمانہ ہے۔ گویا ان کی نبوت و رسالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ (Surely Allah loves those who fight in His way in firm rows, as if they were a solid edifice...61:4) The main subject of this Surah for which it was revealed is to mention the dearest action in the sight of Allah. This verse states that it is jihad in Allah's way, and that the best row of battle in the sight of Allah is the one firmly established against Allah's enemies to make Allah's word prevail, and which, on account of the valor and unshaken determination of Mujahidin, looks like a strong…
Read the full tafseer →6 This relates to the second disobedience of the children of Israel. The first disobedience they committed in the beginning of their great era of power and prosperity, and this second towards the very end of it, after which they came under the wrath and curse of God for ever and ever. The object of relating these two events here is to warn the Muslims of the consequences of adopting the attitude of disobedience towards their Prophet as the Israelites had adopted towards their Prophet.
7 This sentence has three meanings and all three are correct:
(1) "That I have not brought any new religion,…
Read the full tafseer →