Explained with ayahs 7–9
سطوت و اتمام نور
ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا باندھے اور اس کے شریک وسہیم مقرر کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اگر یہ شخص بیخبر ہوتا جب بھی ایک بات تھی یہاں تو یہ حالت ہے کہ وہ توحید اور اخلاص کی طرف برابر بلایا جا رہا ہے، بھلا ایسے ظالموں کی قسمت میں ہدایت کہاں ؟ ان کفار کی چاہت تو یہ ہے کہ حق کو باطل سے رد کردیں، ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی سورج کی شعاع کو اپنے منہ کی پھونک سے بےنور کرنا ہے، جس طرح اس کے منہ کی پھونک سے سورج کی روشنی کا جاتا رہنا محال ہے۔ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ اللہ کا دین ان کفار سے رد ہوجائے، اللہ تعالیٰ فیصلہ کرچکا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا…
Read the full tafseer →سورة الصَّف 10
یعنی اللہ کے بھیجے ہوئے نبی کو جھوٹا مدعی قرار دے، اور اللہ کے اس کلام کو جو اس کے نبی پر نازل ہو رہا ہو، نبی کا اپنا گھڑا ہوا کلام ٹھہرائے۔
سورة الصَّف 11
یعنی اول تو سچے نبی کو جھوٹا مدعی کہنا ہی بجائے خود کچھ کم ظلم نہیں ہے، کجا کہ اس پر مزید ظلم یہ کیا جائے کہ بلانے والا تو خدا کی بندگی و اطاعت کی طرف بلا رہا ہو اور سننے والا جواب میں اسے گالیاں دے اور اس کی دعوت کو زک دینے کے لیے جھوٹ اور بہتان اور افترا پردازیوں کے ہتھکنڈے استعمال کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
اگلی آیات میں اس اصل معاملہ کا ذکر ہے جو اس سورت کے نزول کا سبب بنا یعنی اس کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کونسا عمل زیادہ محبوب ہے، اس کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ، یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب وہ صف قتال ہے جو اللہ کے دشمنوں کے مقابلہ میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے قائم ہو اور مجاہدین کے عزم و ہمت کی وجہ سے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہو کہ ان کے قدموں میں کوئی تزلزل نہ آنے پائے۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کی راہ میں دشمنوں کی…
Read the full tafseer →(ومن اظلم ممن افتری علی اللہ الکذب وھو یدعی الی الاسلام واللہ لا یھدی القوم الظمین) (7)۔ یہ یہود کی بد قسمتی پر اظہار افسوس ہے کہ اپنی جس کجی نے اب ان کو اسلام کی مخالفت پر ابھارا ہے۔ فرمایا کہ ان سے بڑھ کر اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا کون ہوسکتا ہے جن کو اسلام کی دعوت دی جا رہی ہو اور وہ اسلام کی مخالفت کے بہانے پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر طرح طرح کے جھوٹ گھڑ رہے ہوں۔
(یہود کے من گھڑت دعوے)۔ (افتری علی اللہ الکذب)۔ سے ان باتوں کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے اپنی بزرگی و برتری ثابت کرنے کے لیے اپنی شان میں گھڑ رکھی تھیں۔ مثلاً یہ کہ ہم ایک برگزیدہ اور خدا کی منطق نظر امت ہیں، ہم کسی ایسے نبی…
Read the full tafseer →7۔ 1 یعنی اللہ کی اولاد قرار دے، یا جو جانور اس نے حرام قرار نہیں دیئے ان کو حرام باور کرائے۔
7۔ 2 جو تمام دینوں میں اشرف اور اعلٰی ہے، اس لئے جو شخص ایسا ہو، اس کو کب یہ زیب دیتا ہے یہ وہ کسی پر بھی جھوٹ گھڑے، چہ جائیکہ اللہ پر جھوٹ باندھے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6: جس شخص کو اسلام کی دعوت دی جائے اور وہ کسی پیغمبر کی رسالت کا انکار کرے تو درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ پر یہ جھوٹ باندھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبر بنا کر نہیں بھیجا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اس کے بعد عیسیٰ ابن مریم تشریف لائے اور انہوں نے بنی اسرائیل سے کہا :
یبنی اسراء یل .................... الیکم (16 : 6) ” اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں “۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں اللہ ہوں ، اور نہ یہ کہا میں اللہ کا بیٹا ہوں ، نہ یہ کہا کہ وہ اللہ کے اقانیم میں سے ایک اقنوم ہیں۔
مصدقالما .................... احمد (16 : 6) ” تصدیق کرنے والا اس تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے ، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا “۔ یوں صریح الفاظ میں رسالت کی تصویر پیش کی جاتی ہے کہ سلسلہ رسالت ایک ہی ہے اور ہر رسول کے بعد جو دوسرا…
Read the full tafseer →4 یعنی جب مسلمان ہونے کو کہا جاتا ہے تو حق کو چھپا کر اور جھوٹی باتیں بنا کر حضور ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کردیتے ہیں۔ وہ خدا کو بشر یا بشر کو خدا بنانے کا جھوٹ تو ایک طرف رہا، کتب سماویہ میں تحریف کر کے جو چیزیں واقعی موجود تھیں ان کا انکار کرتے اور جو نہیں تھیں ان کو درج کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہوگا۔
5 یعنی ایسے بےانصافوں کو ہدایت کہاں نصیب ہوتی ہے اور ممکن ہے " لایہدی " میں ادھر بھی اشارہ ہو کہ یہ ظالم کتنا ہی انکار اور تحریف و تاویل کریں، خدا ان کو کامیابی کی راہ نہ دے گا۔ گویا حضور ﷺ کے متعلق جن خبروں کو وہ چھپانا یا مٹانا چاہتے ہیں، چھپ یا مٹ نہ سکیں گی۔ چناچہ باوجود ہزاروں…
Read the full tafseer →آیت 7{ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ } ”اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ تراشے“
{ وَہُوَ یُدْعٰٓی اِلَی الْاِسْلَامِ } ”درآں حالیکہ اسے بلایا جا رہاہو اسلام کی طرف !“
یعنی اب اللہ کے آخری رسول ﷺ تم لوگوں کو دعوت ایمان و اسلام دے رہے ہیں اور تم لوگ اس دعوت پر لبیک کہنے کے بجائے ان ﷺ کی نبوت و رسالت اور قرآن کے بارے میں اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔
{ وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔ } ”اور اللہ ایسے ظالموں کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔“
اب اگلی آیت میں یہودیوں کی ان کوششوں اور سازشوں کا ذکر ہے جو انہوں نے حضور ﷺ اور قرآن کے خلاف شروع کر رکھی…
Read the full tafseer →9 نصاریٰ نے اللہ پر کیا کیا بہتان باندھے ؟ اس سے مراد عیسائیوں کے وہ مختلف قسم کے بہتان ہیں جو انہوں نے اللہ پر لگا رکھے تھے۔ کبھی کہتے کہ عیسیٰ ابن مریم اللہ کا بیٹا ہے۔ کبھی کہتے کہ یہ تین خداؤں میں کا تیسرا ہے اور کبھی کہتے کہ عیسیٰ ہی اللہ ہے۔ اور اللہ عیسیٰ کے جسم میں حلول کر آیا ہے۔ ان کے علاوہ ان کی بہتان بازیاں یہ تھیں کہ اناجیل کی عبارتوں میں خود ہی اپنی حسب پسند اضافے بھی کرلیتے تھے اور جو چیزیں موجود تھیں ان کی تاویل یا انکار بھی کردیتے تھے۔ اور ان سب باتوں سے بڑھ کر ظلم یہ کیا کہ جب نبی آخرالزمان نے انہیں اسلام لانے کی دعوت دی تو اپنے اختراع کردہ بہتانوں کو حقیقی بنیادبنا کر بنائے…
Read the full tafseer →10۔ یعنی دعوت اور تنبیہ کا پورا سامان موجود ہے، اور پھر بھی وہ تنبہ نہ حاصل کرے ! (آیت) ” افتری علی اللہ الکذب “۔ بشرکو بشریت کے مرتبہ سے خدا کے درجہ تک پہنچا دینا، کتب سماوی میں تحریف و تصرف کردینا کفارہ وغیرہ کے گڑھے ہوئے عقیدوں کو حق تعالیٰ کی جانب منسوب کردینا سب مثالیں (آیت) ” افتری علی اللہ “۔ ہی کی ہیں۔
11۔ ابھی جو حاشیہ (آیت) ” واللہ لایھدی القوم الفسقین “۔ پر گزرا ہے، اسے ملاحظہ کرلیا جائے۔ (آیت) ” الظلمین سے مراد وہی اپنے حق میں ظلم کرنے والے، اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
واذ قال عیسیٰ ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اس لئے بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل نے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اسی طرح انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی انکار کیا، اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ یہود آپ ﷺ ہی کے ساتھ ایسا نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کی تو ساری تاریخ ہی انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب سے بھری پڑی ہے، تو رات کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ میں جو دعوت دے رہا ہوں یہ وہی ہے جو تورات کی بھی دعوت ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو پیغمبر مجھ سے پہلے تو رات لے کر آئے اور اب میں انجیل لے کر آیا ہوں، ہم دونوں کا اصل ماخذ…
Read the full tafseer →ومن اظلم ممن افتری علی اللہ الکذب وھو یدعی الی الاسلام واللہ لا یھدی الظلمین
” اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر دروغ بندی کرتا ہے حالانکہ اس کو اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ ایسے ظالم (حق ناشناس) لوگوں کو ہدایت یاب نہیں کرتا۔ “
اِفْتَرٰی عَلَی اللہ الْکَذِبَ : دروغ بندی کرتا ہے ‘ یعنی اللہ کی طرف شرک کی یا صاحب اولاد ہونے کی نسبت کرتا ہے یا یوں کہتا ہے کہ اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا ‘ یا کہتا ہے اللہ نے ہم کو حکم دے دیا ہے کہ کسی پیغمبر کو مت ماننا۔ جب تک وہ ایسی قربانی نہ پیش کرے جس کو (غیبی) آگ (آ کر) کھاجائے ‘ یا کہتا ہے کہ موسیٰ کی شریعت دوامی شریعت ہے جو قیامت…
Read the full tafseer →اور یہودیوں سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر بہتان لگاتے ہیں حالانکہ رسول اکرم ان کو توحید کی طرف بلا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے یہودیوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دیا کرتا۔
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہ ِ الْکَذِبَ وَھُوَ یُدْعٰٓی۔۔۔۔۔: یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اسلام میں داخل ہونے کی اور اللہ کا فرماں بردار بن جانے کی دعوت دی جا رہی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ دے۔ اللہ پر جھوٹ یہ ہے کہ اس کے بھیجے ہوئے رسول کو ، جس کی بشارت اس سے پہلے ان کے نبی عیسیٰ و موسیٰ (علیہما السلام) دے چکے تھے ، انہوں نے جادوگر اور اس کی لائی ہوئی بینات کو جادو کہہ دیا۔ دیدہ و دانستہ جھوٹ باندھنے والے ایسے ظالم لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ یہی مضمون سورة ٔ انعام (20، 21) میں بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر
ومن اظلم یعنی اس سے بڑھ کو کوئی ظالم نہیں۔ ممن افتری علی اللہ الکذب اس کے بارے میں گفتگو پہلے کئی بار گزر چکی ہے۔ وھو یدعی الی الاسلام اس آدمی پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے جس نے معزات کے ظاہر ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا۔ طلحہ بن مصرف نے وھو یدعی قراءت کی ہے، یعنی وہ منسوب ہوتا ہے۔ یدعی اور ینتمسبو دونوں برابر ہیں۔ واللہ ……۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ میں ہے کہ اس پر گمراہی کی مہر لگائی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
1۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا ہل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم۔ اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی سوداگری نہ بتاؤں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بچالے۔ نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا اگر ہم اس تجارت کو جان لیتے تو ہم اس میں اپنے مالوں اور اپنے اہل و عیال کو لگادیتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس تجارت کو بیان فرمایا کہ آیت تو منون باللہ ورسولہ کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لاؤ اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو یہی تجارت ہے۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت یا ایہا الذین اٰنوا ہل ادلکم علی…
Read the full tafseer →[وَمَنْ اَظْلَمُ : اور کون زیادہ ظالم ہے ][ مِمَّنِ افْتَرٰى: اس سے جس نے گھڑا ][ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ : اللہ پر جھوٹ ][ وَهُوَ يُدْعٰٓى اِلَى الْاِسْلَامِ : اس حال میں کہ اس کو بلایا جاتا ہے اسلام کی طرف ][وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي : اور اللہ ہدایت نہیں دیتا ][الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے لوگوں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
اللہ کا نور پورا ہو کر رہے گا اگرچہ کافروں کونا گوار ہو
یہ تین آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو کوئی شخص اللہ پر جھوٹ باندھے حالانکہ اسے اسلام کی دعوت دی جارہی ہے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
دوسری آیت میں یہ فرمایا کہ جنہیں اسلام قبول کرنا نہیں ہے یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کے پھونکوں سے بجھادیں ان کے ارادوں سے کچھ نہ ہوگا اسلام بڑھ چڑھ کر رہے گا، اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا فرما دے گا کافروں کو برا لگے لگتا رہے انہیں اسلام کی ترقی اور اس کا عروج گوارا نہیں ان کی اس ناگواری کا اسلام کی رفعت اور بلندی پر کچھ اثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
بشارت حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) بہ بعثت نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی الہ و اصحابہ وسلم :
قال اللہ تعالیٰ ، (آیت) ” واذ قال عیسیٰ ابن مریم ...... الی ....... ولوکرہ المشرکون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے شکوہ کا ذکر تھا جو انہوں نے بارگاہ خداوندی میں اپنی قوم کی ایذاء رسانیوں پر کیا اس ضمن میں قوم بنی اسرائیل کی بدبختی و محرومی کا ذکر تھا تو اس مناسبت سے اب یہ مضمون بیان کیا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل کی اس محرومی اور بدنصیبی کے بعد اللہ رب العزت نے اس قوم کے لیے ایسے اسباب پیدا فرمائے کہ پہلے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا اور وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5:۔ ” واذ قال عیسیٰ “ یہ دوسرا قصہ ہے اور ترغیب الی القتال سے متعلق ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے فرمایا۔ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد ایک عظیم الشان رسول کی خوش خبری دینے والا ہوں جس کا نام نامی احمد ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوش خبری کے مطابق جب حضرت خاتم النبیین ﷺ دلائل و معجزات کے ساتھ آگئے تو مشرکین نے ان کو جادوگر کہہ کر جھٹلایا۔ ” ومن اظلم ممن افتری “ وہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے جسے اسلام کی طرف دعوت دی جائے جو دنیا واخرت کی سعادت کا ذریعہ ہے تو قبول کرنے کے بجائے وہ پیغمبر (علیہ السلام) کو جھٹلا کر اور معجزات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ربط آیات :
پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا تاکہ لوگ آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ کے راستے میں آنے والی تکالیف کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کریں۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قوم سے خطاب اور حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) کی بعثت کی بشارت کا ذکر ہوا۔ مگر جب حضور ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو لوگوں نے آپ کی رسالت کا انکار کردیا۔ یہ بات خود مسیح (علیہ السلام) پر بھی صادق آتی ہے کہ جب انہوں نے نبوت کا اعلان کیا اور لوگوں کو حق کی طرف دعوت دی تو انہوں نے نہ صرف آپ کی نبوت کا انکار کیا بلکہ آپ کو جھوٹا دجال کہا۔ بہرحال اللہ نے منکرین کی سخت مذمت بیان فرمائی ہے اور اہل ایمان کو…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَي اللہِ الْكَذِبَ وَہُوَ يُدْعٰٓى اِلَى الْاِسْلَام 0 ِۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِـمِيْنَ 7 ۚ
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ترکیب : و یعطف الجملۃ اوللاستیناف۔ من مبتداء اظلم مع المفضل علیہ وصلۃ خبرہ وھو یدعٰی قراء لجمہورید عٰی من الدعاء مبنیا للمفعول و قریٔ من الادعاء مبنیا للفاعل وانماعدی بالی التضمین معنی الانتماء والا نتساب والجملۃ حال من فاعل افتری واللہ الجملۃ مقررۃ لمضمون ماقبلھا یریدون جملۃ مبنیۃ لغرضھم من الافتراء لیطفؤا منصوب بان مقدرۃ واللام مؤکدۃ مزیدۃ دخلت علی المفعول لان التقدیر یریدون ان یطفؤا (قال ابن عطیہ) والاطفاء الاخماد واصلہ فی النارواستیعرلما یجری مجرا ھامن الظہور والمرادمن النور القران اوالاسلام اوالنبی ﷺ فنور اللہ استعارۃ تصریحۃ والاطفاء ترشیح واللہ مبتداء متم نورہ الخ خبرہ قرا الجمہور…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْـکَذِبَ وَھُوَ یُدْعٰٓی اِلَی الْاِسْلَامِ ط وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الصف : 7)
(اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے، حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جارہا ہے، ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ )
یہود کی بدقسمتی پر اظہارِ افسوس
یہ یہود کی بدقسمتی پر اظہارِ افسوس ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ اسلام کو اذیت رسانی کے نتیجے میں جو ان پر خدا کی مار پڑی کہ ان کے دل ٹیڑھے کردیئے گئے اس کا پہلا نتیجہ تو یہ ہوا کہ ان کے دورزوال کے اختتام پر حضرت عیسیٰ علیہ اسلام تشریف لائے جو بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ نبی آخرالزمان ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں اور آپ ﷺ پر الزامات لگاتے ہیں درحقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ ” اللہ “ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں حالانکہ یہ لوگ اس نور کو کبھی بجھا نہیں سکیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے پھیلانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔
یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ نبوت کا اعلان کرنے سے پہلے ہر کوئی آپ ﷺ کو الصادق اور الامین کہتا تھا۔ تورات اور انجیل میں بھی آپ ﷺ کے اوصاف حمیدہ کا ذکر موجود ہے۔ اس لیے یہودی اور عیسائی اس انتظار میں تھے کہ جب نبی آخر الزّمان تشریف لائیں گے تو ہم ان کے ساتھ مل کر کافروں کو شکست دیں گے۔ (البقرۃ…
Read the full tafseer →7 : وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَھُوَ یُدْعٰٓی اِلَی الْاِسْلَامِ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا۔ جو اللہ تعالیٰ پر دروغ بندی کرتا ہے حالانکہ اس کو اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت یاب نہیں کرتے) اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے۔ جس کو اس کا رب اپنے پیغمبر کی زبان پر اسلام کی طرف بلا رہا ہو۔ وہ اسلام جس میں دارین کی خوش نصیبی ہے۔ وہ اس کو قبول کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے کلام برحق کو سحر کہنے لگ جائے۔ السحرؔ جھوٹ، ملمع سازی۔
Read the full tafseer →6 ۔” واذ قال عیسیٰ ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من الفوراۃ ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “ اور الف اس میں حمد میں مبالغہ کے لئے ہے اور اس کی دو وجہیں ہیں ان میں سے ایک یہ کہ یہ فاعل سے مبالغہ ہے یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) اللہ کی حمد کرنے والے ہیں اور آپ (علیہ السلام) اللہ کی اپنے غیر سے زیادہ تعریف کرنے والے ہیں اور دوسری یہ کہ یہ معقول کی طرف سے مبالغہ ہے یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی تعریف کی گئی ہے ان کی عمدہ عادات وخصال کی وجہ سے اور آپ (علیہ السلام) کے ان سب سے مناقب زیادہ اور فضائل جامع اور ایسی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے آپ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7۔ 8۔ اوپر یہود کی شرارتوں کا اور توراۃ میں ان سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کی نبوت کی تصدیق کا عہد جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی لیا گیا تھا اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور ناانصاف دنیا میں کون ہوسکتا ہے جو تورات کو مانے اور تورات میں جو عہد ہے اس کو جھٹلائے اور صاحب اولاد ہونے کا بہتان تورات کے برخلاف اللہ تعالیٰ پر لگا گئے اور تورات کے عہد کے موافق عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد رسول ﷺ جو معجزے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ان کو جادو بتائے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے ظالم اور ناانصاف لوگوں کو راہ راست پر آنے کی کبھی توفیق نہ دے گا…
Read the full tafseer →(وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ) اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ جو یہ بہتان طرازی یا اس کے علاوہ بہتان طرازی کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں اور اس کی حجت منقطع ہوگئی ہے کیونکہ ( يُدْعٰٓى اِلَى الْاِسْلَامِ ۭ ) وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ اور اس پر اسلام کے دلائل وبراہین واضح ہوگئے ہیں (واللہ لا یحدی القوم الظالمین) ۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ جو اپنے ظلم پر قائم ہیں جنہیں کوئی نصیحت اپنے ظلم سے باز رکھ سکتی ہے نہ کوئی دلیل وبرہان اس سے ہٹا سکتی ہے خاص طور پر یہ ظالم لوگ جو حق کے مقابلے میں کھڑے ہوئے ہیں تاکہ اسے ٹھکرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
جائز نذر کا پورا کرنا ضروری ہے ، ناجائز کا نہیں
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لم تقلون ما لا تفعلون۔ کبرمقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو، اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں۔ )
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے اوپر کوئی عبادت یا تقرب الٰہی کی کوئی صورت یا عقد لازم کرلے تو اس پر اسے پورا کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اسے پورا نہ کرنے کی صورت میں وہ شخص ایسی بات کا قائل گردانا جاتا ہے جسے وہ کرتا نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمی…
Read the full tafseer →[ 18] " افتراء علی اللّٰہ " سب سے بڑا ظلم۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو یہود کی اس شقاوت و بدبختی پر اظہار افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر افتراء باندھے۔ سو اللہ پر افتراء باندھنا، والعیاذ باللّٰہ، سب سے بڑا ظلم ہے خاص کر اس صورت میں جبکہ ان کو اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو، جس میں خود ان کے لئے اور تمام بنی نوع انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور امن و سلامتی کا سامان و پیغام ہے، اور استفہام یہاں پر انکاری ہے یعنی اس سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ پس معلوم ہوا کہ اللہ پر جھوٹ گھڑنا اور وہ بھی دعوت الی الاسلام کے جواب میں افتراء علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) وسیدناعیسیٰ (علیہ السلام) اور آخری رسول ﷺ کی رسالت کی گواہی
تشریح : یہاں سب سے پہلے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کا اور ان کی قوم بنی اسرائیل کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے بارے میں تعارف سورة بقرہ اور سورة قصص میں کافی تفصیلاً بتایا جا چکا ہے۔ مختصراً یوں ہے کہ بنی اسرائیل مذہبی نہیں بلکہ نسلی نام ہے۔ اس قوم کا لقب جو یعقوب (علیہ السلام) معروف بہ اسرائیل بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے پیدا ہوئی۔ اور اپنے وطن شام سے نکل کر اطراف عالم میں پھیلی۔ خاندان یعقوب (علیہ السلام) کی اصل فضیلت یہ تھی کہ ان کو عزت، حکومت اور رسالت دی گئی۔ اور پھر یوں ایران، عراق،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیات 1 تا 9
اسرار ومعارف۔
آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے قال سے بھی اور حال سے بھی اور اللہ غالب ہے اور حکیم ہے سو اے ایمان والو جس کام کے کرنے کا ارادہ نہ ہو اس کے کرنے کا اعلان بھی مت کرو کہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ بات کہوجوتم کرنا نہیں چاہتے۔
گناہ کبیرہ اور تبلیغ۔
جس طرح آج کل کے لیڈر بہت بڑے دعوے نفاذ اسلام کے یاروٹی کپڑے مکان کے کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ان کا ارادہ قلبی ایسا کرنے کا نہیں ہوتا یہ گناہ کبیرہ ہے رہی تبلیغ کہ خود تو عمل میں کمزور ہے اور دوسروں کو دعوت دے رہا ہے تو دعوی اور دعوت میں فرق ہے مبلغ کو چاہیے کہ خود بھی عمل کرے لیکن اگر کمزوری سے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی شرک کرے اور اللہ کے لئے بیٹا یا بیوی قرار دے۔
Read the full tafseer →(61:7) ومن۔ واؤ عاطفہ۔ من استفہامیہ ہے۔
اظلم ظلم سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ ظالم۔ زیادہ حق سے تجاوز کرنے والا۔
ممن۔ مرکب ہے من حرف جار اور من اسم موصول سے۔ اس سے جو ۔۔
افتری : ماضی واحد مذکر غائب افتراء (افتعال) مصدر سے جس کے معنی ہیں بہتان باندھنا۔ افتری اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان باندھا۔ الکذب۔ جھوٹ کا۔ افتری کا مفعول ہے۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔
وھو یدعی الی الاسلام : جملہ حالیہ ہے۔ حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ ھو سے مراد وہ شخص جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے۔ یدعی مضارع مجہول واحد مذکر غائب دعوۃ باب نصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔
تشریح :
مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور ناانصاف دنیا میں کون ہوسکتا ہے جو خدا پر جھوٹ تہمت افترا اٹھائے اس پاک پروردگار کے لیے جو روبچے ثابت کرے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے ظالم اور ناانصاف لوگوں کو راہ راست پر آنے کی کبھی توفیق نہیں دے گا بلکہ کتاب آسمانی کی مخالفت کی حالت میں ایسے لوگوں کا حشر ہوکرہمیشہ کے لیے ان کاٹھکانہ دوزخ قرار پائے گا۔
ہرپرچم سے اونچا پرچم اسلام ہوگا، دین اسلام اور شان رسالت ماب ﷺ کی روز افزوں ترقی۔
آگے فرمایا کہ یہ کافر لوگ اس بات کا ارادہ کرتے ہیں کہ کسی طرح اسلام کی چمکتی ہوئی پھیلتی ہوئی روشنی کو جو اللہ کا نور ہے اس کا مقدس دین ہے اس کی پاک…
Read the full tafseer →[6] یہاں ان باتوں کی طرف اشارہ ہے جو یہود نے اپنی بزرگی و برتری ثابت کرنے کے لئے اپنی شان میں گھڑ رکھی تھیں۔ مثلاً یہ کہ ہم ایک برگزیدہ اور اللہ کی منظور نظر امت ہیں۔ ہم کسی ایسے نبی کی ہدایت کے محتاج کس طرح ہوسکتے ہیں جو امیوں کے اندر پیدا ہوا ہو ؟ نبوت و رسالت کے لئے بنی اسرائیل سے باہر کوئی نبی کس طرح پیدا ہوسکتا ہے ؟ اس ضمن میں یہ بات بھی گھڑ رکھی تھی کہ ہمیں تو یہ ہدایت ہے کہ کسی ایسے شخص کے دعویٰ نبوت کی تصدیق ہی نہ کریں جس کی پیش کی ہوئی قربانی کو کھانے کے لئے آسمان سے آگ نہ اترے۔ سورة بقرہ میں ان تمام من گھڑت باتوں کی تردید فرمائی گئی کہ یہ سب افترا ہے۔ اللہ نے کہیں بھی اس طرح کی کوئی…
Read the full tafseer →ف 2: فرمایا ۔ کہ یہ لوگ جو اللہ کی طرف غلط عقائد منسوب کرتے ہیں ۔ ان سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوسکتا ہے ۔ یہ اس قابل نہیں ہیں ۔ کہ ہدایت سے بہرہ مند ہوسکیں ۔
Read the full tafseer →(7) اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا کرے حالانکہ اس ک واسلام کی طرف دعوت دی جائے اور اس کو اسلام کی طرف بلایا جاتا ہو اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا اور ایسے گناہ گاروں کو ہدایت کی توفیق نہیں دیتا۔ یعنی پیغمبر اسلام کی دعوت دے رہا ہے دین حق کی طرف بلارہا ہے اور وہ اس کو جادو گر اور مفتری علی اللہ کہتا ہے تو گویا جو چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثابت ہے اسکو نفی کرتا ہے اسی کو افترا علی اللہ الکذب فرمایا جھوٹ باندھنا اللہ پر یہی کہ مرسل من اللہ کی تکذیب کرے اس کو ساحر کہے اس قسم کے ظالموں سے توفیق ہدایت کی نفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ف 5۔ اللہ پر جھوٹ باندھنا یہ کہ نبوت کی تکذیب ہے۔
6۔ واللہ لا یھدی اس لئے بڑھایا کہ ان کی حالت موجودہ اصلاح سے بعید ہوگئی، اس لئے سزائے قتال ہی تجویز کیا جانا مصلحت ہوا۔
Read the full tafseer →اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جس کو اسلام کی دعوت دی جائے اور وہ اللہ پر جھوٹ باندھے
7 ؎ اہل کتاب کے دونوں گروہوں یعنی یہود و نصاریٰ نے نبی اعظم و آخر ﷺ کو پہچانا اور خوب پہچانا جیسا کہ گزشتہ آیت میں دیئے گئے حوالوں سے ظاہر ہے لیکن ان دونوں ہی گروہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا اور ان پیش گوئیوں کا انکار کردیا جو آپ کے حق میں بیان کی گئی تھیں بعض نے ان کی غلط تاویل کی اور بعض نے ان کو بالکل مسخ کر کے اپنی کتاب ہی میں سے ایسی پیش گوئیوں کو نکال دیا ۔ اگرچہ ان کی تحریف کے باوجود پھر بھی بہت سے اشارات و استعارات باقی رہ گئے لیکن واضح طور پر جو بیان تھا اس کو انہوں نے بالکل حذف کردیا ۔ انا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ (Surely Allah loves those who fight in His way in firm rows, as if they were a solid edifice...61:4) The main subject of this Surah for which it was revealed is to mention the dearest action in the sight of Allah. This verse states that it is jihad in Allah's way, and that the best row of battle in the sight of Allah is the one firmly established against Allah's enemies to make Allah's word prevail, and which, on account of the valor and unshaken determination of Mujahidin, looks like a strong…
Read the full tafseer →9 The word sehr here does not mean magic but deception and fraud, which is also a well known meaning of this word in Arabic. Thus, the verse means: "When the Prophet whose coming had been foretold by the Prophet Jesus came with the clear signs of his prophethood, the Israelites and the followers of Jesus,declared his claim to Prophet hood to be a deception and fraud."
10 "... forges ... against Allah": declares the Prophet sent by Allah to be a false prophet and regards the Revelations of Allah to His Prophet as forged by the Prophet himself.
11 That is, there could be no greater in justice…
Read the full tafseer →