As-Saff 61:8

As-Saff · from ayah 8

61:8

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ ؕ— وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ۟يُرِيۡدُوۡنَ لِيُطْفِئُوا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَ فۡوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ

یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے (چراغ) کی روشنی کو منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں۔ حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They want to extinguish the light of Allah with their mouths, but Allah will perfect His light, although the disbelievers dislike it.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saff

All translations of 61:8

یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پوا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے (چراغ) کی روشنی کو منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں۔ حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے واﻻ ہے گو کافر برا مانیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کی تکمیل کر کے رہے گا، چاہے کافروں کو یہ بات کتنی بری لگے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونھوں سے بجھادیں اور اللہ کو اپنا نور پورا کرنا پڑے برا مانیں کافر،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ (منکرینِ حق) چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (کی پھونکوں) سے بجھا دیں، جبکہ اللہ اپنے نور کو پورا فرمانے والا ہے اگرچہ کافر کتنا ہی ناپسند کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کے ساتھ بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے، اگرچہ کافر لوگ ناپسند کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا۔ خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو کامل کر کے رہے گا ان کافروں کے علی الرغم۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ لوگ تو چاہتے ہیں کہ (کسی طرح) بجھا دیں اللہ کے (اس) نور کو اپنے مونہوں (کی پھونکوں) سے مگر اللہ نے بہرحال پورا کر کے رہنا ہے اپنے نور کو اگرچہ ناگوار ہو کافروں کو

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا کر رہے گا گو کافروں کو (کیسا ہی) گراں گزرے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ ُ تلے ہوئے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (کی پھونکوں) سے بجھا کر رہیں گے اور اللہ اپنے نور کا اتمام فرما کر رہے گا خواہ یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے چراغ کی روشنی کو پھونک مار کر بجھا دیں۔ حالانکہ اللہ اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا خواہ کافرنا خوش ہی ہوں

— محترمہ رفعت اعجاز

They seek to extinguish Allah's light (by blowing) with their mouths, but Allah shall spread His light in all its fullness, howsoever the unbelievers may abhor this.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They wish to extinguish the light of Allah with their mouths, but Allah is to perfect His light, even though the disbelievers dislike (it) .

— Muhammad Taqi Usmani

They wish to extinguish the light of Allah with their mouths, but Allah is to perfect His light, even though the disbelievers dislike (it) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They intend to put out the Light of Allah with their mouths. But Allah will bring His Light to perfection even though the disbelievers hate (it).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Fain would they put out the light of Allah with their mouths, but Allah will perfect His light however much the disbelievers are averse.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They want to extinguish the light of Allah with their mouths, but Allah will perfect His light, although the disbelievers dislike it.

— Saheeh International

They want to put out the light of God with their mouths, but God will certainly make His light shine forever - even though the disbelievers may dislike this.

— Muhammad Sarwar

They desire to put out the light of Allah with their mouths but Allah will perfect His light, though the unbelievers may be averse.

— Muhammad Habib Shakir

Fain would they extinguish the light of Allah is with their mouths and Allah is going to perfect His light, even though averse may be the infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

Their intention is to extinguish Allah's Light (by blowing) with their mouths: But Allah will complete (the revelation of) His Light, even though the Unbelievers may detest (it).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 61:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–9

سطوت و اتمام نور ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا باندھے اور اس کے شریک وسہیم مقرر کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اگر یہ شخص بیخبر ہوتا جب بھی ایک بات تھی یہاں تو یہ حالت ہے کہ وہ توحید اور اخلاص کی طرف برابر بلایا جا رہا ہے، بھلا ایسے ظالموں کی قسمت میں ہدایت کہاں ؟ ان کفار کی چاہت تو یہ ہے کہ حق کو باطل سے رد کردیں، ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی سورج کی شعاع کو اپنے منہ کی پھونک سے بےنور کرنا ہے، جس طرح اس کے منہ کی پھونک سے سورج کی روشنی کا جاتا رہنا محال ہے۔ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ اللہ کا دین ان کفار سے رد ہوجائے، اللہ تعالیٰ فیصلہ کرچکا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 8–9

سورة الصَّف 12 یہ بات نگاہ میں رہے کہ یہ آیات 3 ہجری میں جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں جبکہ اسلام صرف شہر مدینہ تک محدود تھا، مسلمانوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی، اور سارا عرب اس دین کو مٹا دینے پر تلا ہوا تھا۔ احد کے معرکے میں جو زک مسلمانوں کو پہنچی تھی، اس کی وجہ سے ان کی ہوا اکھڑ گئی تھی، اور گرد و پیش کے قبائل ان پر شیر ہوگئے تھے۔ ان حالات میں فرمایا گیا کہ اللہ کا یہ نور کسی کے بجھائے بجھ نہ سکے گا بلکہ پوری طرح روشن ہو کر اور دنیا بھر میں پھیل کر رہے گا۔ یہ ایک صریح پیشن گوئی ہے جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔ اللہ کے سوا اس وقت اور کون یہ جان سکتا تھا کہ اسلام کا مستقبل کیا ہے ؟…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–9

اگلی آیات میں اس اصل معاملہ کا ذکر ہے جو اس سورت کے نزول کا سبب بنا یعنی اس کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کونسا عمل زیادہ محبوب ہے، اس کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ، یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب وہ صف قتال ہے جو اللہ کے دشمنوں کے مقابلہ میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے قائم ہو اور مجاہدین کے عزم و ہمت کی وجہ سے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہو کہ ان کے قدموں میں کوئی تزلزل نہ آنے پائے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کی راہ میں دشمنوں کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(یہود کی سعی لا حاصل کی تمثیل)۔ (یرید ون لیطفوا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکفرون) (8)۔ یہ اس سعی لا حاصل کی تمثیل ہے کہ اللہ کی اتاری ہوئی ہدایت کو اپنی من گھڑت باتوں اور اپنی ایجاد کردہ بدعات سے دبانے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے کہ سورج یا چاند کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھانے کی کوشش کی جائے۔ فرمایا کہ ان کی یہ کوشش لا حاصل رہے گی۔ اللہ اپنے اس نور کو کامل کر رہے گا۔ یہ بہت جلد ہلال سے بدر بنے گا اگرچہ یہ چیز کفار پر کتنی گراں گزرے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 نور سے مراد قرآن، یا اسلام یا محمد ﷺ ہے، یا دلائل وبراہین ہیں ' منہ سے بجھا دیں ' کا مطلب ہے، وہ طعن کی وہ باتیں ہیں جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہیں۔ 8۔ 2 یعنی اس کو آفاق میں پھیلانے والا اور دوسرے تمام دینوں پر غالب کرنے والا ہے۔ دلائل کے لحاظ سے، یا مادی غلبے کے لحاظ سے یا دونوں لحاظ سے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–8

6: جس شخص کو اسلام کی دعوت دی جائے اور وہ کسی پیغمبر کی رسالت کا انکار کرے تو درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ پر یہ جھوٹ باندھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبر بنا کر نہیں بھیجا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یریدون ................ الکفرون (16 : 8) ” یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں ، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو “۔ قرآن کی یہ آیت اس عظیم حقیقت کا اظہار کررہی ہے۔ اور اس حقیقت کو ایک ایسی تصویر انداز میں پیش کیا گیا جس سے انسانکو ان لوگوں کی حالت پر بےاختیار ہنسی آتی ہے وہ اپنے منہ سے یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ کھلاجادو ہے ، اور اس کے خلاف یہ سازشیں کرتے تھے اور خفیہ منصوبے بنا کر اسے ختم کرنا چاہتے تھے اور اس جدید دین کا قصہ ہی تمام کرنا چاہتے تھے ، اس لئے اللہ نے ان کے منصوبوں کے مقابلے میں ان کی یہ مایوس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی منکر پڑے برا مانا کریں اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا۔ مشیت الٰہی کے خلاف کوئی کوشش کرنا ایسا ہے جیسے کوئی احمق نور آفتاب کو منہ سے پھونک مار کر بجھانا چاہے۔ یہ ہی حال حضرت محمد ﷺ کے مخالفوں کا اور ان کی کوششوں کا ہے۔ (تنبیہ) شاید "' بِاَفْوَاہِہِمْ " کے لفظ سے یہاں اس طرف بھی اشارہ کرنا ہو کہ بشارات کے انکار و اخفاء کے لیے جو جھوٹی باتیں بناتے ہیں وہ کامیاب ہونے والی نہیں۔ ہزار کوشش کریں کہ " فارقلیط " آپ ﷺ نہیں ہیں، لیکن اللہ منوا کر چھوڑے گا کہ اس کا مصداق آپ ﷺ کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

یہ آیت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ سورة التوبہ میں اس طرح آئی ہے : { یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ۔ } ”یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں اپنے منہ کی پھونکوں سے اور اللہ کو ہر گز منظور نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نور کا اتمام فرما کر رہے ‘ چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔“ اللہ کے نور کو منہ کی پھونکوں سے بجھانے کے استعارے میں یہود مدینہ کی ان بودی کوششوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ حضور ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف اس وقت کر رہے تھے۔ یعنی وہ سامنے آکر براہ راست مقابلہ کرنے کے بجائے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 اسلام کو نیست ونابود کرنے کے لیے دشمن اقوام کے منصوبے :۔ اس آیت کی مخاطب ساری ہی دشمن اسلام قومیں ہیں۔ خواہ وہ عیسائی ہوں یا یہودی یا مشرکین ہوں یا منافقین۔ فتح مکہ سے پہلے تک یہ سب طاقتیں یہی سمجھ رہی تھیں کہ اسلام بس ایک ٹمٹماتا چراغ ہے۔ جو ہوا کے ایک ہی جھونکے سے بجھ سکتا ہے اور بجھ جائے گا۔ بلکہ فتح مکہ کے بعد یہ تاثر پوری طرح زائل نہ ہوا۔ فتح مکہ کے بعد قبیلہ ثقیف اور ہوازن نے اسی ارادہ سے جنگ کی کہ اسلام کو ملیا میٹ کردیں۔ پھر اس کے بعد ایک عامر نامی عیسائی راہب نے منافقین مدینہ سے ساز باز کی اور قیصر روم کو مسلمانوں پر چڑھا لانے کے لیے روانہ ہوگیا۔ جس کے نتیجہ میں غزوہ تبوک بپا ہوا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ یعنی اللہ تو بہرحال اپنے دین کی جڑوں کی مضبوط جما کر رہے گا، مخالفین ومعاندین کی ساری کوششوں اور مزاحمتوں کے باوجود۔ (آیت) ” یریدون .... بافواھم “۔ مخالفین ومعاندین علاوہ عملی تدبیروں کے، زبان اور منہ سے بھی تو رد واعتراض کی باتیں کیا کرتے تھے اور قومی شبہات دلوں میں ڈالتے رہتے تھے ، (آیت) ” یریدون “۔ کی ضمیر جمع فاعلی سے اشارہ سارے ہی مخالفین اسلام کی جانب ہوگیا۔ (آیت) ” نور اللہ “۔ یعنی دین اسلام۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–9

واذ قال عیسیٰ ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اس لئے بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل نے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اسی طرح انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی انکار کیا، اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ یہود آپ ﷺ ہی کے ساتھ ایسا نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کی تو ساری تاریخ ہی انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب سے بھری پڑی ہے، تو رات کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ میں جو دعوت دے رہا ہوں یہ وہی ہے جو تورات کی بھی دعوت ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو پیغمبر مجھ سے پہلے تو رات لے کر آئے اور اب میں انجیل لے کر آیا ہوں، ہم دونوں کا اصل ماخذ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یریدون لیطفوا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ و لو کرہ الکفرون ” وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور (یعنی دین اسلام) کو اپنے منہ (کی پھونک) سے بجھا دیں لیکن اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا کر رہے گا ‘ خواہ کافروں کو کیسا ہی ناگوار ہو نُوْرَ اللہ : اللہ کا دین۔ بِاَفْوَاھِھِمْ : اپنی جھوٹی باتوں اور دروغ تراشیوں سے جیسے کوئی شخص سورج اور چاند کی روشنی پھونک مار کر بجھانا چاہے تو بجھا نہیں سکتا ‘ اسی طرح دین اسلام کو جو نور خداوندی ہے ‘ مُنہ کی پھونک یا جھوٹی باتوں اور افتراء بندیوں سے نابود نہیں کیا جاسکتا ‘ اس آیت میں ایک لطیف تشبیہ ہے۔ وَ اللہ ُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ : یعنی اللہ دین اسلام کو پھیلائے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–9

(8۔ 9) یہود و نصاری دین الہی یا یہ کہ کتاب اللہ کو جھوٹا ثابت کرنے کی فکر میں کہ اپنی زبان درازوں سے اس پر اثر اندازی کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنی کتاب کے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے، اگرچہ یہود و نصاری اور مشرکین عرب اس سے کتنے ہی بددل کیوں نہ ہوں۔ اسی نے رسول اکرم کو توحید یا قرآن اور دین اسلام دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو تمام بقیہ ادیان پر غالب کردے۔ چناچہ قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ کوئی ایسا شخص نہ باقی رہا ہو مگر یہ کہ وہ دین اسلام میں داخل ہوگیا ہو یا اس نے جذیہ ادا کردیا ہو اگرچہ یہ یہود و نصاری اور مشرکین کو ناگوار گزرے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللہ ِ بِاَفْوَاہِھِمْ وَ اللہ ُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ۔: ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ٔ توبہ (32، 33) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

تفسیر یریدون……اطفاء کا معنی بجھانا ہے (3) ۔ دونوں لفظ آگ کے بارے میں استعمال ہوتے ہیں۔ اطفاء اور اخما دنیا اور ظہور میں بھی استعمال ہوتے ہیں جو آگ کے قائم مقام ہیں۔ اطفاء اور اخماد میں ایک وجہ سے فرق ہے۔ اطفاء قلیل اور کثیر دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اور اخماد کثیر میں استعمال ہوتا ہے، قلیل میں استعمال نہیں ہوتا، یہ جملہ تو کہا جاتا ہے : اطفات السراج یہ نہیں کہا جاتا : اخمدت السراج۔ نور اللہ کے بارے میں یہاں پانچ قول ہیں۔ (1) مراد قرآن ہے، وہ قول کے ذریعے اس کو باطل کرنے اور جھٹلانے کا ارادہ کرتے ہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس اور ابن زید کا قول ہے۔ (2) مراد اسلام ہے۔ وہ کلام کے ذریعے اس کو رد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–10

1۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا ہل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم۔ اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی سوداگری نہ بتاؤں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بچالے۔ نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا اگر ہم اس تجارت کو جان لیتے تو ہم اس میں اپنے مالوں اور اپنے اہل و عیال کو لگادیتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس تجارت کو بیان فرمایا کہ آیت تو منون باللہ ورسولہ کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لاؤ اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو یہی تجارت ہے۔ 2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت یا ایہا الذین اٰنوا ہل ادلکم علی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا : وہ لوگ ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ بجھا دیں ][ نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ : اللہ کے نور کو اپنے مونہوں (کی پھونکوں) سے ][وَاللّٰهُ مُتم نُوْرِهٖ : حالانکہ اللہ مکمل کرنے والا ہے اپنے نور کو ][وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ : اور اگرچہ کراہیت کریں کفر کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–9

اللہ کا نور پورا ہو کر رہے گا اگرچہ کافروں کونا گوار ہو یہ تین آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو کوئی شخص اللہ پر جھوٹ باندھے حالانکہ اسے اسلام کی دعوت دی جارہی ہے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ دوسری آیت میں یہ فرمایا کہ جنہیں اسلام قبول کرنا نہیں ہے یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کے پھونکوں سے بجھادیں ان کے ارادوں سے کچھ نہ ہوگا اسلام بڑھ چڑھ کر رہے گا، اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا فرما دے گا کافروں کو برا لگے لگتا رہے انہیں اسلام کی ترقی اور اس کا عروج گوارا نہیں ان کی اس ناگواری کا اسلام کی رفعت اور بلندی پر کچھ اثر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–9

بشارت حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) بہ بعثت نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی الہ و اصحابہ وسلم : قال اللہ تعالیٰ ، (آیت) ” واذ قال عیسیٰ ابن مریم ...... الی ....... ولوکرہ المشرکون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے شکوہ کا ذکر تھا جو انہوں نے بارگاہ خداوندی میں اپنی قوم کی ایذاء رسانیوں پر کیا اس ضمن میں قوم بنی اسرائیل کی بدبختی و محرومی کا ذکر تھا تو اس مناسبت سے اب یہ مضمون بیان کیا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل کی اس محرومی اور بدنصیبی کے بعد اللہ رب العزت نے اس قوم کے لیے ایسے اسباب پیدا فرمائے کہ پہلے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا اور وہ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ ” یریدون “ یہ لوگ اپنے مونہوں کی پھونکوں سے اللہ کے نور (دین حق) کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے اس نور اور دین حق کو عروج پر پہنچانا چاہتا ہے اگرچہ کافر اس بات کو ناپسند کریں۔ اسلام کے خلاف مشرکین کے تمام حربوں اور منصوبوں کو پھونکوں سے تعبیر کیا گیا ہے جس طرح سورج کی روشنی پھونکوں سے نہیں بجھ سکتی، اسی طرح مشرکین کی ان تمام تدبیروں سے اسلام نہیں مٹ سکتا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–9

ربط آیات : پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا تاکہ لوگ آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ کے راستے میں آنے والی تکالیف کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کریں۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قوم سے خطاب اور حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) کی بعثت کی بشارت کا ذکر ہوا۔ مگر جب حضور ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو لوگوں نے آپ کی رسالت کا انکار کردیا۔ یہ بات خود مسیح (علیہ السلام) پر بھی صادق آتی ہے کہ جب انہوں نے نبوت کا اعلان کیا اور لوگوں کو حق کی طرف دعوت دی تو انہوں نے نہ صرف آپ کی نبوت کا انکار کیا بلکہ آپ کو جھوٹا دجال کہا۔ بہرحال اللہ نے منکرین کی سخت مذمت بیان فرمائی ہے اور اہل ایمان کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَاللہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ۝ 8 رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–9

ترکیب : و یعطف الجملۃ اوللاستیناف۔ من مبتداء اظلم مع المفضل علیہ وصلۃ خبرہ وھو یدعٰی قراء لجمہورید عٰی من الدعاء مبنیا للمفعول و قریٔ من الادعاء مبنیا للفاعل وانماعدی بالی التضمین معنی الانتماء والا نتساب والجملۃ حال من فاعل افتری واللہ الجملۃ مقررۃ لمضمون ماقبلھا یریدون جملۃ مبنیۃ لغرضھم من الافتراء لیطفؤا منصوب بان مقدرۃ واللام مؤکدۃ مزیدۃ دخلت علی المفعول لان التقدیر یریدون ان یطفؤا (قال ابن عطیہ) والاطفاء الاخماد واصلہ فی النارواستیعرلما یجری مجرا ھامن الظہور والمرادمن النور القران اوالاسلام اوالنبی ﷺ فنور اللہ استعارۃ تصریحۃ والاطفاء ترشیح واللہ مبتداء متم نورہ الخ خبرہ قرا الجمہور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–10

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِؤُا نُوْرَاللّٰہِ بِاَفْوَاھِہِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْکَرِہَ الْـکٰفِرُوْنَ ۔ ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ۔ (الصف : 8، 9) (یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو کامل کرنے والا ہے، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے، اگرچہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ ) یہود کا ہدف اور اس میں ناکامی جزیرہ عرب کے رہنے والے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–8

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ نبی آخرالزمان ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں اور آپ ﷺ پر الزامات لگاتے ہیں درحقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ ” اللہ “ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں حالانکہ یہ لوگ اس نور کو کبھی بجھا نہیں سکیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے پھیلانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ نبوت کا اعلان کرنے سے پہلے ہر کوئی آپ ﷺ کو الصادق اور الامین کہتا تھا۔ تورات اور انجیل میں بھی آپ ﷺ کے اوصاف حمیدہ کا ذکر موجود ہے۔ اس لیے یہودی اور عیسائی اس انتظار میں تھے کہ جب نبی آخر الزّمان تشریف لائیں گے تو ہم ان کے ساتھ مل کر کافروں کو شکست دیں گے۔ (البقرۃ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8 : یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَاللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ (وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنے منہ (کی پھونکوں سے) بجھا دیں) ۔ اس میں کفار کے ابطال اسلام کے ارادہ کے ساتھ استہزاء کیا گیا۔ کہ تم قرآن کو سحر کہتے ہو۔ تمہاری مثال تو اس شخص جیسی ہے جو سورج کی روشنی کو منہ کی پھونک سے بجھارہاہو۔ نحو : مفعول کو حذف کردیا۔ اور لام تعلیل کیلئے ہے تقدیر کلام یہ ہے۔ یریدون الکذب لیطفؤا نور اللّٰہ بافواھھم ای بکلامہم۔ وہ کلام سے اللہ تعالیٰ کے نورکو بجھانے کا جھوٹا ارادہ رکھتے ہیں۔ وَاللّٰہُ مُتِمَّ نُوْرِہٖ (اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچاکر رہے گا) قراءت : مکی، حمزہ، علی، حفص نے مُتِم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” ومن اظلم ممن افتری علی اللہ الکذب وھو یدعی الی الاسلام واللہ لا یھدی القوم الظالمین ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–8

7۔ 8۔ اوپر یہود کی شرارتوں کا اور توراۃ میں ان سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کی نبوت کی تصدیق کا عہد جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی لیا گیا تھا اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور ناانصاف دنیا میں کون ہوسکتا ہے جو تورات کو مانے اور تورات میں جو عہد ہے اس کو جھٹلائے اور صاحب اولاد ہونے کا بہتان تورات کے برخلاف اللہ تعالیٰ پر لگا گئے اور تورات کے عہد کے موافق عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد رسول ﷺ جو معجزے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ان کو جادو بتائے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے ظالم اور ناانصاف لوگوں کو راہ راست پر آنے کی کبھی توفیق نہ دے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا (يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ ۭ ) وہ اپنے مونہوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں یعنی ان کی ان فاسد باتوں کی، جو ان سے صادر ہوتی ہیں اور جس کے ذریعے سے وہ حق کو ٹھکرانے کی کوشش کرتے ہیں کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ اس باطل کے بارے میں صاحب بصیرت کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں جن میں وہ سرگرداں ہیں۔ ( وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ) اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت، حق کی تکمیل جس کے ساتھ اس نے اپنے رسول بھیجے اور تمام دنیا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 2–8

جائز نذر کا پورا کرنا ضروری ہے ، ناجائز کا نہیں قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لم تقلون ما لا تفعلون۔ کبرمقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو، اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں۔ ) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے اوپر کوئی عبادت یا تقرب الٰہی کی کوئی صورت یا عقد لازم کرلے تو اس پر اسے پورا کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اسے پورا نہ کرنے کی صورت میں وہ شخص ایسی بات کا قائل گردانا جاتا ہے جسے وہ کرتا نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 19] منکرین کی ایک حماقت اور بدبختی کا ذکر وبیان : کہ یعنی یہ لوگ نور حق کے آفتاب عالم متاب کو مونہوں کی پھونک سے بجھانا چاہتے ہیں۔ سو اس سے منکرین و معاندین کی طرف سے اللہ کے نور کو مونہوں کی پھونکوں سے بجھانے کی حماقت کا ذکر فرمایا گیا ہے چناچہ ان بدبختوں کی اس حماقت و بدبختی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھا دیں، یعنی اپنے مونہوں کے جھوٹے پروپیگنڈے کے زور سے مگر کہاں کیسے اور کیونکر ؟ نور خدا ہے کفر کی حرکتوں پر خندہ زن، پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔ سو یہ اس سعیء لا حاصل کی تمثیل ہے کہ یہ لوگ اپنی بدعات و خرافات اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–8

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) وسیدناعیسیٰ (علیہ السلام) اور آخری رسول ﷺ کی رسالت کی گواہی تشریح : یہاں سب سے پہلے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کا اور ان کی قوم بنی اسرائیل کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے بارے میں تعارف سورة بقرہ اور سورة قصص میں کافی تفصیلاً بتایا جا چکا ہے۔ مختصراً یوں ہے کہ بنی اسرائیل مذہبی نہیں بلکہ نسلی نام ہے۔ اس قوم کا لقب جو یعقوب (علیہ السلام) معروف بہ اسرائیل بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے پیدا ہوئی۔ اور اپنے وطن شام سے نکل کر اطراف عالم میں پھیلی۔ خاندان یعقوب (علیہ السلام) کی اصل فضیلت یہ تھی کہ ان کو عزت، حکومت اور رسالت دی گئی۔ اور پھر یوں ایران، عراق،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

آیات 1 تا 9 اسرار ومعارف۔ آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے قال سے بھی اور حال سے بھی اور اللہ غالب ہے اور حکیم ہے سو اے ایمان والو جس کام کے کرنے کا ارادہ نہ ہو اس کے کرنے کا اعلان بھی مت کرو کہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ بات کہوجوتم کرنا نہیں چاہتے۔ گناہ کبیرہ اور تبلیغ۔ جس طرح آج کل کے لیڈر بہت بڑے دعوے نفاذ اسلام کے یاروٹی کپڑے مکان کے کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ان کا ارادہ قلبی ایسا کرنے کا نہیں ہوتا یہ گناہ کبیرہ ہے رہی تبلیغ کہ خود تو عمل میں کمزور ہے اور دوسروں کو دعوت دے رہا ہے تو دعوی اور دعوت میں فرق ہے مبلغ کو چاہیے کہ خود بھی عمل کرے لیکن اگر کمزوری سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی جھوٹی باتیں بنا کر یا طعن وتشنیع کر کے قرآن یا اسلام کو بےاعتبار کردیں تاکہ لوگ مسلمان نہ ہوں۔3 یعنی کافر اس نور … دین اسلام … کو مٹانے اور اس کا راستہ روکنے کے لئے چاہے کتنا ہی زور صرف کر ڈالیں اللہ تعالیٰ اسے پوری طرح غالب کر یک رہے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(61:8) یریدون ۔۔ بافواہہم۔ یہ جملہ ان کے افتراء کی غرض وغایت بیان کرتا ہے۔ یریدون : مضارع جمع مذکر غائب ارادۃ (افعال) مصدر وہ چاہتے ہیں۔ لیطفئوا یہاں ان مقدرہ ہے لام زائدہ تاکید کے لئے آیا ہے۔ کلام یوں ہوگا :۔ یریدون ان یطفئوا : یطفئوا مضارع منصوب (بوجہ عمل ان مقدرہ) جمع مذکر غائب اطفاء (افعال) مصدر۔ کہ وہ بجھا دیں۔ طفئت النار کے معنی آگ بجھ جانے کے ہیں اور اطفا تھا (افعال) کے معنی پھونک سے بجھا دینے کے ہیں۔ ط ب ء مادہ نور اللہ۔ مضاف مجاف الیہ۔ اللہ کا نور۔ اللہ کے دین کی روشنی۔ اللہ کا دین۔ اس سے مراد قرآن مجید اور حضور نبی کریم ﷺ بھی ہوسکتے ہیں۔ بافواہہم۔ ب استعانت کی ہے۔ افواہہم : مضاف…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–14

لغات القرآن۔ لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔ تشریح : مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–8

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور ناانصاف دنیا میں کون ہوسکتا ہے جو خدا پر جھوٹ تہمت افترا اٹھائے اس پاک پروردگار کے لیے جو روبچے ثابت کرے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے ظالم اور ناانصاف لوگوں کو راہ راست پر آنے کی کبھی توفیق نہیں دے گا بلکہ کتاب آسمانی کی مخالفت کی حالت میں ایسے لوگوں کا حشر ہوکرہمیشہ کے لیے ان کاٹھکانہ دوزخ قرار پائے گا۔ ہرپرچم سے اونچا پرچم اسلام ہوگا، دین اسلام اور شان رسالت ماب ﷺ کی روز افزوں ترقی۔ آگے فرمایا کہ یہ کافر لوگ اس بات کا ارادہ کرتے ہیں کہ کسی طرح اسلام کی چمکتی ہوئی پھیلتی ہوئی روشنی کو جو اللہ کا نور ہے اس کا مقدس دین ہے اس کی پاک…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–11

[7] یہاں ایمان لانے سے مراد سچے دل سے ایمان لانا ہے۔ [8] تجارت میں آدمی اپنا سرمایہ، اپنی محنت، ذہانت اور قابلیت اس لئے لگاتا ہے کہ اس سے نفع حاصل ہو۔ اس رعایت سے یہاں ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کو تجارت کہا گیا ہے کہ اس میں اپنی جان و مال کا سرمایہ لگاؤ گے تو تمہیں وہ نفع حاصل ہوگا جو اگلی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 3: فرمایا کہ اسلام تو اللہ کی طرف سے نور اور روشنی ہے ۔ جس سے نوع انسانی ہمیشہ کسب ضیا کرتی رہے گی ۔ مگر منکرین یہ چاہتے ہیں ۔ کہ اس چراغ ہدایت اور فانوس صداقت کو پھونکوں سے بجھادیں ۔ اور اپنی حقیر وناپاک مساعی سے اس ارتقاء کو روک دیں ۔ باقی صفحہ حالانکہ مقدرات الٰہیہ سے ہے ۔ کہ اس بلال کو بدر کامل بنایا جائے ۔ اور اس روشنی کو چار ونگ عالم میں پھیلایا جائے ۔ یہ پیغمبر جن کو ہدیات اور دین حق دے کر بھیجا ہے ۔ ان کے لئے یہ ملے ہوچکا ہے ۔ کہ ان کا دین تمام ادیان پر غالب آئے گا ۔ اور ساری کائنات اس کو قبول کریگی ۔ چاہے شرک اس بھون چڑھائیں اور اس حقیقت کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوں ۔ حل لغات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) یہ دین حق کے منکر یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور اور اس کی روشنی کو اپنے منھوں سے بجھا دیں اور اس روشنی کو اپنے منھوں سے پھونک کر ختم کردیں اور بجھادیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے نور اور اپنی روشنی کو پورا کرنے والا ہے اگرچہ منکر کتنا ہی برا مانیں۔ اللہ تعالیٰ کا نور یعنی پیغمبر اور اس کے دین کی روشنی جس سے کفر کی تاریکی اور کفر کا اندھیرا کم ہورہا ہے منکر یہ چاہتے ہیں کہ اس روشنی کو پھونک مار مار کر گل کردیں اور بجھادیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کرکے ہی رہے گا اور اس کی روشنی تمام اقوام عالم میں پہنچ کررہے گی اگرچہ دین حق کے منکر برامانا کریں۔ کہتے ہیں ایک دفعہ کئی دن رسول…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–14

ف 5۔ اللہ پر جھوٹ باندھنا یہ کہ نبوت کی تکذیب ہے۔ 6۔ واللہ لا یھدی اس لئے بڑھایا کہ ان کی حالت موجودہ اصلاح سے بعید ہوگئی، اس لئے سزائے قتال ہی تجویز کیا جانا مصلحت ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ اس کو پورا کرنے والا ہے 8 ؎ مخالفین و معاندین میں یہود ہوں یا نصاریٰ ، مشرکین مکہ ہوں یا اسلام میں داخل ہونے والے منافقین سب کے سب اس معاملہ میں متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اس روشنی کو بجھا دیں لیکن یہ سب لوگ اپنی کثرت پر نازاں ہیں لیکن وہ کان کھول کر سن لیں کہ ان کی سب کوششیں رائاگیں جائیں گی اور یہ روشنی اپنے شباب کو پہنچے گی اور ضروری ہے کہ اس کی تجلیات سے بجر و بر اور دشت و جبل چمک اٹھیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ آخری پیغام دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچے ۔ وہ سب مل کر بھی اس اللہ تعالیٰ کی روشنی کو ماند نہیں کرسکتے۔ لاریب دین اسلام کے خلاف ساری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–10

إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْ‌صُوصٌ (Surely Allah loves those who fight in His way in firm rows, as if they were a solid edifice...61:4) The main subject of this Surah for which it was revealed is to mention the dearest action in the sight of Allah. This verse states that it is jihad in Allah's way, and that the best row of battle in the sight of Allah is the one firmly established against Allah's enemies to make Allah's word prevail, and which, on account of the valor and unshaken determination of Mujahidin, looks like a strong…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 One should bear in mind that these verses were sent down in A.H. 3 after the Battle of Uhud, when Islam was confined only to the city of Madinah, the Muslims were only a few thousands in number, and entire Arabia was bent upon wiping out this religion. The defeat that the Muslims had suffered at Uhud, had sullied their image of power and the tribes of the surrounding areas had been emboldened. Under such conditions it was said: "No one will succeed in blowing out this Light of Allah, but it will shine forth in all fullness and spread throughout the world." This was a clear prediction which…

Read the full tafseer →