Explained with ayahs 7–9
سطوت و اتمام نور
ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا باندھے اور اس کے شریک وسہیم مقرر کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اگر یہ شخص بیخبر ہوتا جب بھی ایک بات تھی یہاں تو یہ حالت ہے کہ وہ توحید اور اخلاص کی طرف برابر بلایا جا رہا ہے، بھلا ایسے ظالموں کی قسمت میں ہدایت کہاں ؟ ان کفار کی چاہت تو یہ ہے کہ حق کو باطل سے رد کردیں، ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی سورج کی شعاع کو اپنے منہ کی پھونک سے بےنور کرنا ہے، جس طرح اس کے منہ کی پھونک سے سورج کی روشنی کا جاتا رہنا محال ہے۔ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ اللہ کا دین ان کفار سے رد ہوجائے، اللہ تعالیٰ فیصلہ کرچکا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
سورة الصَّف 12
یہ بات نگاہ میں رہے کہ یہ آیات 3 ہجری میں جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں جبکہ اسلام صرف شہر مدینہ تک محدود تھا، مسلمانوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی، اور سارا عرب اس دین کو مٹا دینے پر تلا ہوا تھا۔ احد کے معرکے میں جو زک مسلمانوں کو پہنچی تھی، اس کی وجہ سے ان کی ہوا اکھڑ گئی تھی، اور گرد و پیش کے قبائل ان پر شیر ہوگئے تھے۔ ان حالات میں فرمایا گیا کہ اللہ کا یہ نور کسی کے بجھائے بجھ نہ سکے گا بلکہ پوری طرح روشن ہو کر اور دنیا بھر میں پھیل کر رہے گا۔ یہ ایک صریح پیشن گوئی ہے جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔ اللہ کے سوا اس وقت اور کون یہ جان سکتا تھا کہ اسلام کا مستقبل کیا ہے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
اگلی آیات میں اس اصل معاملہ کا ذکر ہے جو اس سورت کے نزول کا سبب بنا یعنی اس کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کونسا عمل زیادہ محبوب ہے، اس کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ، یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب وہ صف قتال ہے جو اللہ کے دشمنوں کے مقابلہ میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے قائم ہو اور مجاہدین کے عزم و ہمت کی وجہ سے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہو کہ ان کے قدموں میں کوئی تزلزل نہ آنے پائے۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کی راہ میں دشمنوں کی…
Read the full tafseer →(ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولوکرہ المشرکون) (9)۔
(غلبہ اسلام کا واضح اعلان)۔ یہ (واللہ ستم نورہ ونوکرہ الکفرون) کی وضاحت ہے کہ اسی خدا نے جس نے اپنے نور کو کامل کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے، اپنی ہدایت اور اپنے دین حق کے ساتھ اپنے رسول کو بھیجا ہے کہ اس دین کو اس سر زمین کے تمام ادیان پر غالب کرے اور یہ بات لازماً ہو کے رہے گی اگرچہ مشرکین کو یہ کتنی ہی ناگوار گزرے۔ اور وہ اس کیخلاف کتنا ہی زور لگائیں۔
اوپر والی آیت میں (ولو کرہ الکفرون) فرمایا ہے جو فی الجملہ عام ہے۔ جس میں وہ سب شامل ہیں جو اس دین حق اور اس رسول بر حق کے انکار کرنے والے تھے۔ اس آیت میں (ولو کرہ…
Read the full tafseer →9۔ 1 یہ گذشتہ بات ہی کی تاکید ہے، اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے پھر دہرایا گیا ہے۔
9۔ 1 تاہم یہ لامحالہ ہو کر رہے گا۔
Read the full tafseer →7: دلیل اور حجت کے میدان میں تو اسلام ہمیشہ سے غالب ہے، اور رہے گا، البتہ دنیا میں مسلمانوں کا غلبہ بہت سی شرائط سے مشروط ہے اس لیے آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانوں میں، نیز اس کے بعد بھی صدیوں تک مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا، پھر ان شرائط کے فقدان کی وجہ سے یہ غلبہ ختم ہوا۔ اور آخر زمانے میں آنحضرت ﷺ نے بشارت دی ہے کہ اسلام اور مسلمان پھر دنیا پر غالب ہوں گے۔
Read the full tafseer →ھوالذی .................... المشرکون (16 : 9) ” وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کہ پورے دین پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو “۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ اسلامی نظام زندگی ہدایت ہے اور دین حق ہے۔ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے اور اس پر کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ اللہ کا ارادہ پورا ہوگیا اور یہ دین تمام ادیان پر غالب ہوگیا ہے۔ یہ دین اپنی ذات اور اپنی تشکیل کے لحاظ سے واحد دین ہے ، اس کے مقابل کا کوئی دین نہیں ہے۔ مثلاً دنیا کے بت پرستانہ ادیان کے اندر تو مقابلے کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ رہے کتابی دین تو یہ اسی سلسلے کا آخری اور مکمل دین ہے ، اور…
Read the full tafseer →7 اس آیت پر سورة " برأۃ " کے فوائد میں کلام ہوچکا ہے، وہاں دیکھ لیا جائے۔
Read the full tafseer →یہاں سے اس سورت کے تیسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے۔ آیت 9 میں حضور ﷺ کی بعثت کا ذکر ہوا ہے :
آیت 9 { ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } ”وہی ہے اللہ جس نے بھیجا اپنے رسول ﷺ کو الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ تاکہ غالب کر دے اس کو پورے نظام زندگی پر“
حضور ﷺ کے مقصد بعثت کے حوالے سے یہ آیت خصوصی اہمیت کی حامل ہے اور اسی اہمیت کے باعث قرآن مجید میں اسے تین بار اس مقام کے علاوہ سورة التوبہ ‘ آیت 33 اور سورة الفتح ‘ آیت 28 کے طور پر دہرایا گیا ہے۔ تمام انبیاء و رسل - کے لیے قرآن مجید میں بشیر ‘ نذیر ‘ مذکر ‘ شاہد ‘ معلم وغیرہ الفاظ مشترک…
Read the full tafseer →11 اس آیت کی تشریح کے لیے سورة توبہ کی آیت نمبر 33 پر حاشیہ نمبر 33 ملاحظہ فرمائیے۔
12 مشرکوں کو خالص توحید ناگوار گزرتی ہے :۔ یعنی مشرک تو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسروں کی بندگیاں بھی چلاتے رہیں۔ بڑے خدا کے ساتھ چھوٹے خداؤں یا اس کے اپنے پیاروں کو کائنات کے تصرف میں، حاجت روائیوں اور مشکل کشائیوں میں شامل اور شریک کرتے رہیں۔ اللہ کے دین میں دوسرے دینوں کی اور غیر اسلامی فلسفوں اور نظریات کی آمیزش کرتے رہیں۔ مگر اللہ کو ایسی شراکت اور ایسے سمجھوتے قطعاً منظور نہیں۔ وہ ہر قسم کے شرک سے پاک سچے اور ستھرے دین کو ہر دین پر غالب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اسے پورا کرکے رہے گا اگر…
Read the full tafseer →13۔ (اور وہ کیسی ہی جان توڑ کوششیں اس کی مخالفت میں کرڈالیں) (آیت) ” لیظھرہ علی الدین کلہ “۔ یعنی سارے باطل ادیان و مذاہب اس دین حق کے دلائل وبراہین کے آگے دب جائیں۔ (آیت) ” ولوکرہ المشرکون “۔ دین توحید کے استحکام و ترقی سے جلنے والا اور ناگواری محسوس کرنے والا مشرکوں سے بڑھ کر اور کون ہوسکتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
واذ قال عیسیٰ ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اس لئے بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل نے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اسی طرح انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی انکار کیا، اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ یہود آپ ﷺ ہی کے ساتھ ایسا نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کی تو ساری تاریخ ہی انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب سے بھری پڑی ہے، تو رات کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ میں جو دعوت دے رہا ہوں یہ وہی ہے جو تورات کی بھی دعوت ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو پیغمبر مجھ سے پہلے تو رات لے کر آئے اور اب میں انجیل لے کر آیا ہوں، ہم دونوں کا اصل ماخذ…
Read the full tafseer →ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الہق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون .
‘ اسی نے اپنے رسول کو ہدایت کا سامان یعنی قرآن اور سچا دین (یعنی اسلام) دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام (دوسرے) دینوں پر غالب کر دے ‘ گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں۔ “
رَسُوْلَہٗ : یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو۔ بِالْھُدٰی : یعنی قرآن اور معجزات اور وہ سامان دے کر بھیجا جس سے لوگ حق تک پہنچنے کا راستہ پالیں۔ دِیْنِ الْحَقِّ : دین الٰہی ‘ اسلام۔ لِیُظْھِرَہٗ : یعنی تلوار اور دلائل کے ذریعہ سے اسلام کو غالب کر دے۔ کُلِّہِ : سب مذاہب پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(8۔ 9) یہود و نصاری دین الہی یا یہ کہ کتاب اللہ کو جھوٹا ثابت کرنے کی فکر میں کہ اپنی زبان درازوں سے اس پر اثر اندازی کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنی کتاب کے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے، اگرچہ یہود و نصاری اور مشرکین عرب اس سے کتنے ہی بددل کیوں نہ ہوں۔ اسی نے رسول اکرم کو توحید یا قرآن اور دین اسلام دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو تمام بقیہ ادیان پر غالب کردے۔
چناچہ قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ کوئی ایسا شخص نہ باقی رہا ہو مگر یہ کہ وہ دین اسلام میں داخل ہوگیا ہو یا اس نے جذیہ ادا کردیا ہو اگرچہ یہ یہود و نصاری اور مشرکین کو ناگوار گزرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللہ ِ بِاَفْوَاہِھِمْ وَ اللہ ُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ۔: ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ٔ توبہ (32، 33) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →تفسیر
ھو الذی …… وہی ذات پاک ہے جس نے حضرت محمد ﷺ کو حق اور ہدایت کے ساتھ مبعوث کیا۔ لیظھرہ علی الدین کلہ یعنی دلائل کے ساتھ اسے تمام ادیان پر غالب کردے۔ ظھور سے مراد جنگ میں طاقت کے ذریعے غلبہ ہے۔ طھور سے مراد یہ نہیں کہ کوئی دوسر ادین باقی ہی نہ رہے بلکہ مراد یہ ہے کہ مسلمان غالب اور بلند ہونگے اور آخر زمانہ میں اسلام کے سوا کوئی دین باقی نہیں رہے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : لیظھرہ … یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ظاہر ہونے کے ساتھ دین غالب ہوگا اس وقت کوئی کافر باقی نہیں رہے گا مگر سب مسلمان ہوجائیں گے۔ مجاہد نے کہا : یہ اس وقت ہوگا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اتریں گے تو زمین میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
1۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا ہل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم۔ اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی سوداگری نہ بتاؤں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بچالے۔ نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا اگر ہم اس تجارت کو جان لیتے تو ہم اس میں اپنے مالوں اور اپنے اہل و عیال کو لگادیتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس تجارت کو بیان فرمایا کہ آیت تو منون باللہ ورسولہ کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لاؤ اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو یہی تجارت ہے۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت یا ایہا الذین اٰنوا ہل ادلکم علی…
Read the full tafseer →[هُوَ الَّذِيٓ: وہ، وہ ہے جس نے ][ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ : بھیجا اپنے رسول کو ][ بِالْهُدٰى: اس ہدایت (قرآن) کے ساتھ ][ وَدِيْنِ الْحَقِّ : اور الحق (اللہ) کے ضابطۂ حیات کے ساتھ ][لِيُظْهِرَهٗ : تاکہ وہ (رسول) غالب کردیں اس (دین) کو ][عَلَي الدِّيْنِ : ضابطہ حیات پر ][كُلِهٖ : اس کے کل پر ][وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ : اور اگرچہ کراہیت کریں شرک کرنے والے ]
نوٹ۔ 4 : یہ بات نگاہ میں رہے کہ آیات۔ 8 ۔ 9 ۔ 3 ھ میں جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ اس وقت اسلام صرف شہر مدینہ تک محدود تھا، مسلمانوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی اور پرا عرب اس دین کو مٹانے پر تلا ہوا تھا۔ جنگ احد میں مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
اللہ کا نور پورا ہو کر رہے گا اگرچہ کافروں کونا گوار ہو
یہ تین آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو کوئی شخص اللہ پر جھوٹ باندھے حالانکہ اسے اسلام کی دعوت دی جارہی ہے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
دوسری آیت میں یہ فرمایا کہ جنہیں اسلام قبول کرنا نہیں ہے یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کے پھونکوں سے بجھادیں ان کے ارادوں سے کچھ نہ ہوگا اسلام بڑھ چڑھ کر رہے گا، اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا فرما دے گا کافروں کو برا لگے لگتا رہے انہیں اسلام کی ترقی اور اس کا عروج گوارا نہیں ان کی اس ناگواری کا اسلام کی رفعت اور بلندی پر کچھ اثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
بشارت حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) بہ بعثت نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی الہ و اصحابہ وسلم :
قال اللہ تعالیٰ ، (آیت) ” واذ قال عیسیٰ ابن مریم ...... الی ....... ولوکرہ المشرکون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے شکوہ کا ذکر تھا جو انہوں نے بارگاہ خداوندی میں اپنی قوم کی ایذاء رسانیوں پر کیا اس ضمن میں قوم بنی اسرائیل کی بدبختی و محرومی کا ذکر تھا تو اس مناسبت سے اب یہ مضمون بیان کیا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل کی اس محرومی اور بدنصیبی کے بعد اللہ رب العزت نے اس قوم کے لیے ایسے اسباب پیدا فرمائے کہ پہلے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا اور وہ اس…
Read the full tafseer →7:۔ ” ھو الذی “ ” الھدی “ یعنی قرآن، اللہ تعالیٰ نے قرآن اور دین حق کے ساتھ اپنے پیغمبر کو بھیجا ہی اسی لیے ہے تاکہ اس کو دنیا کے تمام ادیان پر غالب کرے اگرچہ مشرکین اس کو گوارا نہ کریں اور غیظ و غضب میں جل بھن جائیں۔ جس دین کو اللہ تعالیٰ غالب فرمانے کا فیصلہ کرچکا ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں مٹا سکتی۔ حاصل یہ کہ بشارت مسیح (علیہ السلام) کے مطابق خاتم النبیین، ﷺ آیات بینات کے ساتھ آچکے ہیں لیکن معاندین اور سفہاء نے ان کو جادو کہہ کر جھٹلا دیا ہے اور اب دین اسلام کو مٹانے کے درپے ہیں اس لیے ان کے ساتھ جہاد فرض ہے۔ تم ان کے مقابلے میں نکلو۔ اللہ تعالیٰ تم کو فتح و غلبہ عطا فرمائیگا اور اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ربط آیات :
پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا تاکہ لوگ آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ کے راستے میں آنے والی تکالیف کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کریں۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قوم سے خطاب اور حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) کی بعثت کی بشارت کا ذکر ہوا۔ مگر جب حضور ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو لوگوں نے آپ کی رسالت کا انکار کردیا۔ یہ بات خود مسیح (علیہ السلام) پر بھی صادق آتی ہے کہ جب انہوں نے نبوت کا اعلان کیا اور لوگوں کو حق کی طرف دعوت دی تو انہوں نے نہ صرف آپ کی نبوت کا انکار کیا بلکہ آپ کو جھوٹا دجال کہا۔ بہرحال اللہ نے منکرین کی سخت مذمت بیان فرمائی ہے اور اہل ایمان کو…
Read the full tafseer →ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ 0 ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَ 9 ۧ
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ترکیب : و یعطف الجملۃ اوللاستیناف۔ من مبتداء اظلم مع المفضل علیہ وصلۃ خبرہ وھو یدعٰی قراء لجمہورید عٰی من الدعاء مبنیا للمفعول و قریٔ من الادعاء مبنیا للفاعل وانماعدی بالی التضمین معنی الانتماء والا نتساب والجملۃ حال من فاعل افتری واللہ الجملۃ مقررۃ لمضمون ماقبلھا یریدون جملۃ مبنیۃ لغرضھم من الافتراء لیطفؤا منصوب بان مقدرۃ واللام مؤکدۃ مزیدۃ دخلت علی المفعول لان التقدیر یریدون ان یطفؤا (قال ابن عطیہ) والاطفاء الاخماد واصلہ فی النارواستیعرلما یجری مجرا ھامن الظہور والمرادمن النور القران اوالاسلام اوالنبی ﷺ فنور اللہ استعارۃ تصریحۃ والاطفاء ترشیح واللہ مبتداء متم نورہ الخ خبرہ قرا الجمہور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِؤُا نُوْرَاللّٰہِ بِاَفْوَاھِہِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْکَرِہَ الْـکٰفِرُوْنَ ۔ ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ۔ (الصف : 8، 9)
(یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو کامل کرنے والا ہے، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے، اگرچہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ )
یہود کا ہدف اور اس میں ناکامی
جزیرہ عرب کے رہنے والے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والا دین ” الاسلام “ نور اور روشنی ہے۔ کفار اور مشرکین، یہودی اور عیسائی اس نور کو مٹانا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ یہ نور مکمل ہو کر رہے گا۔ اس نور اور روشنی کو پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان ﷺ کو مبعوث فرمایا تاکہ دین حق کا نور دنیا میں ہر سو پھیل جائے۔ بیشک یہ بات کفار اور مشرکین کے لیے کتنی ہی ناقابل برداشت ہو۔
مفسرین کے دلائل کے مطابق یہ آیات غزوہ احد کے بعد نازل ہوئیں۔ جب حضرت حمزہ ؓ اور ستر صحابہ کرام شہید ہوچکے تھے۔ منافقین نے بغلیں بجائیں اور کافر امید لگا بیٹھے کہ اب اسلام کا چراغ بجھنے والا ہے۔ بس…
Read the full tafseer →اظہارِ دین کا عہد :
9 : ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ (اسی نے اپنے رسول کو ہدایت کا سامان یعنی قرآن اور سچا دین دے کر بھیجا ہے) دین الحقؔ سے ملت حنیفیہ مراد ہے۔ لِیُظْھِرَہٗ (تاکہ اس کو غالب کرے) اس کو بلند کرے۔ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ( تمام دوسرے دینوں پر) اس کے مخالف تمام ادیان پر۔ میری عمر کی قسم اللہ تعالیٰ نے ایسا کردیا۔ کوئی ایسا دین نہیں رہا جو اسلام کے سامنے مقہور نہ ہوا ہو۔ قولِ مجاہد (رح) : جب عیسیٰ (علیہ السلام) اتریں گے تو صرف دین اسلام ہی باقی رہ جائے گا۔ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنََ (گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں) ۔
Read the full tafseer →8 ۔” یریدون لیطفئوا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون “۔
Read the full tafseer →9۔ سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں اور سب سے آخر صاحب شریعت نبی خاتم الانبیاء ﷺ ہیں اور ان سب شریعتوں میں توحید کی تاکید اور شرک کی ممانعت کا حکم یکساں ہے ہر وقت کی امت کی حالت کے موافق عمل کرنے کی کچھ باتیں ہر شریعت میں بدلتی رہی ہیں مثلاً اور شریعتوں میں نماز کے لئے ایک جگہ جو خاص ٹھہرائی جاتی تھی وہیں نماز ہوسکتی تھی شریعت محمدی میں یہ حکم ہے کہ جنگل ‘ گھر ‘ مسجد ہر جگہ میں نماز ہوسکتی ہے یا اور شریعتوں میں غنیمت کے مالک کا خرچ میں لانا جائز نہ تھا شریعت محمدی میں جائز ہے اسی طرح اور مشکل باتیں جو اور شریعتوں میں تھیں ایک تو وہ اس آخری شریعت میں آسان ہوگئیں اور دوسرے…
Read the full tafseer →پھر اللہ تبارک وتعالی نے دین اسلام کے حسی اور معنوی غلبے اور فتح کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى) وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت کے ساتھ بھیجا۔ یعنی اس نے اپنا رسول علم نافع ور عمل صالح کے ساتھ مبعوث کیا۔ علم سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے تکریم والے گھر کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ جو بہترین اعمال واخلاق سکھاتا ہے اور جو دنیا وآخرت کے تمام مصالح کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ( وَدِيْنِ الْحَقِّ ) اور دین حق کے ساتھ۔ یعنی وہ دین جسے اختیار کیا جاتا ہے جس کے ذریعے سے رب کائنات کی بندگی کی جاتی ہے جو سراسر حق اور صدق ہے جس میں کوئی نقص ہے نہ اسے کوئی خلل…
Read the full tafseer →دین حق کا غلبہ دلیل نبوت ہے
قول باری ہے (لیظھرہ علی الدین کلۃ تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے ) اس کا شماردلائل نبوت میں ہوتا ہے کیونکہ یہ بات اس وقت کہی گئی تھی جب مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی، وہ بہت کمزور تھے اور انہیں ہر وقت دشمنوں کا خطرہ لاحق رہتا تھا اور لوگوں کی نظروں میں مقہور و بےبس تھے۔ لیکن ان حالات کے باوجودیہ خبر اپنی تمام جزئیات کے ساتھ حرف بہ حرف پوری ہوئی۔
اس زمانے میں ادیان درج ذیل تھے۔ یہودیت، نصرانیت، مجوسیت، صبائیت اور ان کے علاوہ بت پرست بھی تھے جن کا دائرہ ، عرب سے لے کر سندھ یعنی ہندوستان تک پھیلا ہوا تھا۔ پھر ان ادیان کو ماننے والوں میں سے کوئی قوم ایسی باقی…
Read the full tafseer →[ 21] غلبہ دین حق ہی کیلئے :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب دینوں پر غالب ہو کر رہنا اسلام ہی کا حق، اور اسی کی شان ہے، کہ حق بہرحال یہی اور صرف یہی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ وہ اس کو غالب کرے سب دینوں پر۔ چناچہ حجت وبرہان کے اعتبار سے تو دین حق تمام ادیان اور جملہ نظام ہائے زندگی پر ہمیشہ سے غالب رہا اور ہمیشہ کیلئے غالب رہے گا، کہ غلبہ تو بہرحال حق ہی کیلئے مقدر ہے، مگر حکومت و سلطنت اور سیف وسنان کے اعتبار سے بھی غلبہ اسی کا رہا جبکہ مسلمانوں نے صحیح طریقے سے اس کی سربلندی کے لئے کوشش کی جیسا کہ تاریخ اس کی گواہ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
غلبہ ٔ دین کی بشارت اور مومنوں کی تجارت
تشریح : اصل میں یہ آیات 3 ھ میں جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ احد کی جنگ میں مسلمانوں کو خاصی پریشانی اٹھانا پڑی تھی اور یہ پریشانی اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے کچھ غلط رویے اور سوچ کی وجہ سے سزا کے طور پر اٹھانی پڑی تھی۔ مگر اس عارضی پریشانی سے مسلمان ڈگمگا گئے تھے اور دشمن بڑا خوش اور دلیر ہوگیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف احد کے بعد کی کامیابیوں کا یقین دلایا بلکہ ہر دور ہر زمانے میں کامیابیوں اور اللہ کی خاص مدد کا یقین دلا دیا کہ سچے، پکے، متقی اور بہترین مسلمان کیوں کہ اللہ کا پسندیدہ انسان ہوتا ہے اس لیے فتح اس کو ضرور ملتی ہے۔ اور وعدہ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیات 1 تا 9
اسرار ومعارف۔
آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے قال سے بھی اور حال سے بھی اور اللہ غالب ہے اور حکیم ہے سو اے ایمان والو جس کام کے کرنے کا ارادہ نہ ہو اس کے کرنے کا اعلان بھی مت کرو کہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ بات کہوجوتم کرنا نہیں چاہتے۔
گناہ کبیرہ اور تبلیغ۔
جس طرح آج کل کے لیڈر بہت بڑے دعوے نفاذ اسلام کے یاروٹی کپڑے مکان کے کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ان کا ارادہ قلبی ایسا کرنے کا نہیں ہوتا یہ گناہ کبیرہ ہے رہی تبلیغ کہ خود تو عمل میں کمزور ہے اور دوسروں کو دعوت دے رہا ہے تو دعوی اور دعوت میں فرق ہے مبلغ کو چاہیے کہ خود بھی عمل کرے لیکن اگر کمزوری سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ف 4 ” عدن “ کے عنی رہنے کے بھی ہیں اور یہ جنت کے ایک حصہ کا نامھی ہے۔ اس لئے ” جنات عدن “ کا مطلب ” عدن کے باغ “ بھی ہوسکتا ہے اور ” ہمیشہ رہنے والے باغ بھی۔
Read the full tafseer →(61:9) ھو الذی۔ وہ ذات ہے جس نے۔
الھدی : ای القران۔
دین الحق۔ اس کا عطف الھدی پر ہے ای وبدین الحق۔ دین حق۔ دین الٰہی اسلام۔ ملت حنفیہ۔
لیظھرہ۔ لام تعلیل کا۔ یظھر مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) اظھار (افعال) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع دین حق ہے۔ یظھر کی ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ تاکہ وہ اس کو غالب کر دے۔
الدین کلہ : ای جمیع الادیان المخالفۃ۔ اسلام کے مخالف جملہ دین۔
ولو کرہ المشرکون۔ مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔
تشریح :
مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…
Read the full tafseer →(ف 2) یہ دین تو خدا کا ہے خدا کی وہ شان ہے کہ اس نے اپنے رسول کو سچی ہدایت یعنی توحید و قرآن اور سچا یقینی مقدس مذہب یعنی شہادت لا الہ الا اللہ دے کر دنیا میں بھیجا ، اس غرض سے کہ اپنے پاک دین کو اپنے برگزیدہ رسول کے ہاتھوں دنیا کے تمام ادیان و مذاہب ومدل پر غالب کرے ، اگرچہ مشرکین عرب یہود ونصاری مشرکین وغیرہ کے دل پاش پاش ہوجائیں اسلام بااعتبار حجت ہر دین پر قاہر و غالب ہے اور باعتبار حکومت بھی تمام ادیان پر افسر، مروی ہے کہ قیامت تک کوئی جگہ ایسی نہ رہے گی جہاں اسلام نہ پہنچے گا تمام ارباب مذاہب باطلہ یا اسلام قبول کرلیں گے یامغلوب ہوکر جزیہ دی گے مجاہد سے منقول ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[7] یہاں ایمان لانے سے مراد سچے دل سے ایمان لانا ہے۔
[8] تجارت میں آدمی اپنا سرمایہ، اپنی محنت، ذہانت اور قابلیت اس لئے لگاتا ہے کہ اس سے نفع حاصل ہو۔ اس رعایت سے یہاں ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کو تجارت کہا گیا ہے کہ اس میں اپنی جان و مال کا سرمایہ لگاؤ گے تو تمہیں وہ نفع حاصل ہوگا جو اگلی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
بہترین تجارت
1: اس آیت میں ایک ایسی تجارت کی جانب رانمائی فرمائی ہے ۔ جس کی وجہ سے انسان عذاب الیم سے بچ جاتا ہے ۔ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ جنات ونعیم کی نعمتیں میسر ہوجاتی ہیں ۔ اور دنیا میں سربلندی ، نصرت فتح اور کامرانی حاصل ہوتی ہے ۔ یعنی دنیا وعقبیٰ کے لحاظ سے اس میں گھاٹے اور خسارے کا احتمال ہی نہیں ۔ دنیا میں اس تجارت کی وجہ سے رفعت وارتقاء اور عزت و غلبہ عنایت ہوتا ہے ۔ اور آخرت میں فوزوفلاح اور رضا و خوشنودی اور پھر اس اعمال اسا نہیں ۔ کہ اپنے پاس سے دینا پڑے بلکہ سرمایہ بھی اس کا ہے ۔ جس سے سودا ہورہا ہے ۔ یہ محض اس کا فضل اور گرم گستری ہے ۔ کہ وہ اس سرمایہ کو قبول فرمالیتا ہے ۔ جو…
Read the full tafseer →(9) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت و رہنمائی اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ وہ اس دین حق کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کردے اگرچہ مشرک کتناہی برا مانیں اور مشرکوں کو کتنا ہی برا لگے۔ ہدی اور دین حق یہی قرآن اور اسلام ہے غلبہ یا بطور شوکت اور قہر یا بطور دلائل اگر دلائل کا غلبہ مراد ہو تو وہ ہر وقت بحمداللہ موجود ہے اور اگر شوکت کا غلبہ مراد ہو تو وہ بھی حاصل ہوچکا۔
بعض نے کہا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں سوائے دین اسلام کے اور کون دین نہ ہوگا۔ سورہو براءت میں تفصیل گزر چکی ہے اسی غلبہ کو اوپر کی آیت میں تمام فرمایا ہے آیت کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام کے علاوہ کوئی مذہب ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ف 5۔ اللہ پر جھوٹ باندھنا یہ کہ نبوت کی تکذیب ہے۔
6۔ واللہ لا یھدی اس لئے بڑھایا کہ ان کی حالت موجودہ اصلاح سے بعید ہوگئی، اس لئے سزائے قتال ہی تجویز کیا جانا مصلحت ہوا۔
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کی آمد کا منشاء الٰہی اور اس کی تکمیل
9 ؎ آدم (علیہ السلام) اپنی جنس کے جو ان کے ساتھ پیدا ہوئی اور اپنی نسل کے جو ان سے اس وقت پیدا ہوئی نبی و رسول تھے لیکن ان کے بعد جب سلسلہ نسل انسانی دنیا میں پھیل گیا تو نوح (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) تک سارے کے سارے نبی اپنے مخصوص علاقہ ، قوم ، خاندان اور بستی کے لیے آتے رہے اور اپنی مخصوص اقوام ، علاقوں اور بستیوں ہی میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا درس دیتے رہے لیکن نبی اعظم و آخر ﷺ کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ ﷺ کی پوری دنیا کے لوگوں کے لیے نبی و رسول بنا کر بھیجا گیا اور اس طرح گویا ساری ملتیں مٹ گئیں اور ایک ہی ملت باقی رہ گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ (Surely Allah loves those who fight in His way in firm rows, as if they were a solid edifice...61:4) The main subject of this Surah for which it was revealed is to mention the dearest action in the sight of Allah. This verse states that it is jihad in Allah's way, and that the best row of battle in the sight of Allah is the one firmly established against Allah's enemies to make Allah's word prevail, and which, on account of the valor and unshaken determination of Mujahidin, looks like a strong…
Read the full tafseer →13 "The mushriks ": those who combine the service of others with the service of AIIah and mix other religions in the Religion of Allah; who are not prepared to see that the entire system of lift is established on the obedience and guidance of One God; who insist that they will worship any deity they like and base
"Then said the priest: 'How shall the Messiah be called, and what sign shall reveal his coming? "Jesus answered: `The name of the Messiah is admirable, ,for God himself gave him the name when he had created his soul, and placed it in a celestial splendour. God said: `Wait Muhammad;…
Read the full tafseer →