Explained with ayahs 10–13
سو فیصد نفع بخش تجارت
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ والی حدیث پہلے گذر چکی ہے کہ صحابہ نے حضور ﷺ سے یہ پوچھنا چاہا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ تعالیٰ کو کونسا ہے ؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل فرمائی، جس میں فرما رہا ہے کہ آؤ میں تمہیں ایک سراسر نفع والی تجارت بتاؤں جس میں گھاٹے کی کوئی صورت ہی نہیں جس سے مقصود حاصل اور ڈر زائل ہوجائے گا وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول ﷺ کی رسالت پر ایمان لاؤ اپنا جان مال اس کی راہ میں قربان کرنے پر تل جاؤ، جان لو کہ یہ دنیا کی تجارت اور اس کے لئے کدو کاوش کرنے سے بہت ہی بہتر ہے، اگر میری اس بتائی ہوئی تجارت کے تاجر تم بن گئے تو تمہاری ہر لغزش سے…
Read the full tafseer →سورة الصَّف 13
" مشرکین " کو ناگوار ہو، یعنی ان لوگوں کو جو اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسروں کی بندگیاں ملاتے ہیں، اور اللہ کے دین میں دوسرے دینوں کی آمیزش کرتے ہیں۔ جو اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ پورا کا پورا نظام زندگی صرف ایک خدا کی اطاعت اور ہدایت پر قائم ہو۔ جنہیں اس بات پر اصرار ہے کہ جس جس معبود کی چاہیں گے بندگی کریں گے، اور جن جن فلسفوں اور نظریات پر چاہیں گے اپنے عقائد و اخلاق اور تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھیں گے۔ ایسے سب لوگوں کے علی الرغم یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کا رسول ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ اس لیے بھیجا گیا ہے کہ جو ہدایت اور دین حق وہ اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(آگے اول جہاد کا ثمرہ آخرت پھر ثمرہ دنیویہ کا وعدہ کر کے ترغیب دیتے ہیں کہ) اے ایمان والو ! کیا میں تم کو ایسی سوداگری بتلاؤں جو تم کو ایک درد ناک عذاب سے بچا لے (وہ یہ ہے کہ) تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو (جب ایسا کرو گے تو) اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کرے گا اور تم کو (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور عمدہ مکانوں میں (داخل کرے گا) جو ہمیشہ رہنے کے باغوں میں (بنے) ہوں گے یہ بڑی کامیابی ہے اور (اس ثمرہ حقیقیہ اخرویہ کے علاوہ) ایک…
Read the full tafseer →2۔ آگے آیات۔ 10۔ 14 کا مضمون
اوپر کے پیرے میں یہ بتایا ہے کہ اہل ایمان کے لیے یہ روش تو بالکل ہی غلط ہے کہ وہ رسول سے سمع وطاعت کا عہد کریں اور جب اس عہد کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا وقت آئے تو جان و مال کی محبت میں پھنس کر اس سے فرار کی کوشش کریں۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ انکے لیے صحیح روش کیا ہے جس کو اختیار کر کے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ آیات کی تلاوت کیجئے۔۔ (آیات۔ 10۔ 14)
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(یایھا الذین امنوا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم) (10)۔ (اہل ایمان کے لیے کامیاب تجارت)۔ یعنی ایمان لانے اور رسول سے سمع وطاعت کا عہد کر چکنے کے بعد اگر تم…
Read the full tafseer →10۔ 1 اس عمل (یعنی ایمان اور جہاد) کو تجارت سے تعبیر کیا، اس لئے کہ اس میں بھی انہیں تجارت کی طرح ہی نفع ہوگا وہ نفع کیا ہے ؟ جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات۔ اس سے بڑا نفع اور کیا ہوگا۔ اور وہ نفع کیا ہے اس بات کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا " اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ " 9۔ التوبہ :111) اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کا سودا جنت کے بدلے میں کرلیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
8: تجارت میں کوئی چیز کسی کو دے کر اس کی قیمت حاصل کی جاتی ہے، اسی طرح ایک مسلمان اپنی جان و مال اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے صلے میں جنت اور عذاب سے رہائی عطا فرماتے ہیں۔ دیکھئے سورة توبہ : 111
Read the full tafseer →یا یھا الذین ................................ المﺅمنین (31) (61 : 01 تا 31)
” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، میں بتاﺅں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچادے ؟ ایمان لاﺅ اللہ اور اس کے رسول پر ، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا ، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔ اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو ، وہ بھی تمہیں دے گا ، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔ اے نبی اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
8 یعنی اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرنا تو اللہ کا کام ہے۔ لیکن تمہارا فرض یہ ہے کہ ایمان پر پوری طرح مستقیم رہ کر اس کے راستہ میں جان و مال سے جہاد کرو۔ یہ سوداگری ہے جس میں کبھی خسارہ نہیں، دنیا میں لوگ سینکڑوں طرح کے بیوپار اور تجارتیں کرتے ہیں اور اپنا کل سرمایہ اس میں لگا دیتے ہیں محض اس امید پر کہ اس سے منافع حاصل ہوں گے اور اس طرح راس المال گھٹنے اور تلف ہونے سے بچ جائے گا۔ پھر وہ بذات خود اور اس کے اہل و عیال تنگدستی و افلاس کی تلخیوں سے محفوظ رہیں گے۔ لیکن مومنین اپنے جان و مال کا سرمایہ اس اعلیٰ تجارت میں لگائیں گے تو صرف چند روز افلاس سے نہیں، بلکہ آخرت کے دردناک عذاب اور تباہ کن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت 1 1{ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ } ”وہ یہ کہ تم ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر اور جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ۔“
یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایسے ایمان لائو جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے۔ سورة النساء کی یہ آیت بھی اسی مفہوم میں اہل ایمان کو ایمان لانے کا حکم دے رہی ہے : { یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ…} آیت 136 ”اے ایمان والو ! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر…“ گویا یہ ایمان کے دعوے داروں کے لیے ایسا مومن بننے کی دعوت ہے جو سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
13 یعنی تمام دنیا میں اسلام کا نور پھیلانے والی اور دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے والی اللہ کی ذات ہے تاہم اللہ تعالیٰ نے اس کا ذریعہ اہل ایمان کو بنایا ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ جو وہ ارادہ کرچکا ہے وہ پورا کرکے رہے گا اور یہ کام تمہارے ہاتھوں ہوگا۔ تم سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اللہ کے وعدوں پر مکمل اعتماد کرو اللہ کے رسول کی پوری طرح اطاعت کرو۔ پھر اپنا مال، اپنا وقت، اپنی قابلیت حتیٰ کہ اپنی جانیں بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرنے میں لڑا دو ۔ اور یہ تمہارے لیے ایسی پُر منفعت تجارت اور نفع کا سودا ہے جس میں کبھی خسارے کا احتمال نہیں ہوسکتا۔ اس کے عوض آخرت میں تمہیں…
Read the full tafseer →14۔ سوال کا جواب اگلی آیت میں آرہا ہے، اس طرح کے درمیانی سوالات کرتے جانا عربی خطابت میں عام تھا اور عربی اسلوب بلاغت کا ایک اہم جزو۔ (آیت) ” علی تجارۃ “۔ قرآن کے مخاطبین اول قریش عرب ایک زبردست تجارت پیشہ قوم اور بڑے کاروباری لوگ تھے قرآن مجید کا ان سے مخاطبت میں تجارتی، معاشی کاروبانی اصطلاحیں، بیع شراء مال، ریح، خسران، اشتراء، ثمن، قرض، قرض حسن، دین، ربوا وغیرہ لانا ان مخاطبین کی خاص رعایت رکھنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
اے ایمان والو ! کیا تمہیں وہ تجارت نہ بتائوں کہ جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچائے ؟ (تنجیکم) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، گویا کہ انہوں نے کہا ہاں، تم اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائو یعنی ایمان پر قائم رہو اور اپنی جان سے اور اپنے مالوں سے اللہ کے راستہ میں جہاد کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ بہتر ہے تو اس کام کو کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور صاف ستھرے گھروں میں جو جنت عدن (قابل رہائش) جنت میں ہوں گے یہ بڑی کامیابی ہے اور تم کو ایک دوسری نعمت بھی عطا کرے گا جس کو تم پسند کرتے ہو…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم
” اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی سوداگری بتاؤں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بچا لے
عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ : دنیوی تجارت ‘ محتاجی اور بھوک کے عذاب سے بچاتی ہے۔ میں تم کو ایسی تجارت بتاتا ہوں جو آخرت کے دردناک عذاب سے بچانے والی ہے۔
ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب آیت : تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا : وہ تجارت کونسی ہے جو دردناک عذاب سے بچانے والی ہے۔ اگر ہم کو معلوم ہوجاتا تو ہم اس کے لیے اپنے اپنے مال اور اہل و عیال کی قربانی دینے سے دریغ نہ کرتے ‘ اس پر آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(10۔ 11) اے ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتا دوں جو تمہیں آخرت میں دردناک عذاب سے بطالے۔ ایمان میں سچے رہو اور اپنی جان و مال سے جہاد کرو یہ جہاد تمہارے اموال سے بہتر ہے اگر تم ثواب خداوندی کی تصدیق کرنے والے ہو۔
شان نزول : تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ (الخ)
ابن ابی حاتم نے مقاتل سے روایت کیا ہے کہ احد کے دن میدان جنگ سے بھاگنے کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اور نیز سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتلاؤں الخ تو اس پر مسلمان بولے کاش ہمیں اس تجارت کا علم ہوجاتا کہ وہ کیا ہے تو ہم اس میں اپنے مالوں اور گھر…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ۔۔۔۔۔: یہی مضمون ایک اور انداز میں سورة ٔ توبہ (111) میں بیان ہوا ہے ، تفسیر ہاں ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں ایمان و جہاد عذاب الیم سے نجات کی بشارت سنائی ہے ، جب کہ سورة ٔ توبہ (38، 39) میں ترک جہادپر عذاب الیم کی وعید سنائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
تفسیر
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا…… مقاتل نے کہا : یہ آیت حضرت عثما بن مظعون کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : کاش ! آپ ﷺ مجھے اجازت دیتے تو میں خولہ کو طالق دیتا، رہبانیت اختیار کرتا، اپنے آپ کو خصی کرلیتا، گوشت کو اپنے اوپر حرام کرلیتا، رات کو کبھی بھی نہ سوتا اور دن کو کبھی بھی افطار نہ کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میری سنت میں سے نکاح بھی ہے، اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں میری امت کی رہبانیت اللہ کی راہ میں جہاد ہے، میری امت کا خصی ہونا روزہ رکھنا ہے، اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم پر حلال کی ہیں انہیں اپنے اوپر حرام نہ کرو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
1۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا ہل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم۔ اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی سوداگری نہ بتاؤں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بچالے۔ نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا اگر ہم اس تجارت کو جان لیتے تو ہم اس میں اپنے مالوں اور اپنے اہل و عیال کو لگادیتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس تجارت کو بیان فرمایا کہ آیت تو منون باللہ ورسولہ کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لاؤ اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو یہی تجارت ہے۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت یا ایہا الذین اٰنوا ہل ادلکم علی…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ : اے لوگو جو ایمان لائے کیا میں رہنمائی کروں تمہاری ][عَلٰي تِجَارَةٍ : ایک ایسی تجارت پر جو ][تُنْجِيْكُمْ : بچائے گی تم لوگوں کو ][مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : ایک دردناک عذاب سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ایسی تجارت کی بشارت جو عذاب الیم سے نجات کا ذریعہ اور جنت ملنے کا وسیلہ ہوجائے
ان آیات میں اہل ایمان کو آخرت کی تجارت کی طرف توجہ دلائی ہے دنیا میں کھانے پینے، پہننے اور دیگر ضروریات کے لئے کسب مال کی ضرورت ہوتی ہے جسے بہت سے لوگ تجارت کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں اس میں بہت سے لوگ بہت زیادہ انہماک کرلیتے ہیں موت اور موت کے بعد کے حالات اور آخرت کے اجرو ثواب میں دھیان ہی نہیں دیتے زیادہ مال کی طلب میں ایسے لگتے ہیں کہ آخرت میں کام دینے والے اعمال کو بھول ہی جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ اے ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی تجارت اور سودا گری نہ بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دیدے، تجارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
دعوت اہل ایمان برائے تجارت رابحہ وترغیب برحصول فلاح وسعادت دنیا وآخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ....... الی ...... فاصبحوا ظھرین “۔
(ربط) گزشتہ آیات کا حاصل مضمون یہ تھا کہ اللہ رب العزت نے اپنے نبی آخرالزمان ﷺ کی بعثت سے دنیا کی ہدایت کا ارادہ فرمایا تاکہ انسان حق وہدایت کے ذریعہ دنیا وآخرت کی فلاح و کامیابی حاصل کرسکیں، اور اسی بشارت کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا لیکن ان کی بدنصیب قوم نے ان کی بات کو ٹھکرایا حق سے منہ موڑا اور جو کچھ نبی آخر الزمان ﷺ کی نشانیاں تھیں ان میں تحریف کی اب ان آیات میں اہل ایمان کو خطاب کرکے فرمایا جارہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
8:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ مومنین سے دوسرا خطاب ہے برائے ترغیب الی القتال۔ مومنو ! کیا میں تمہیں ایسا کاروبار بتاؤ جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے ؟ وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے۔ اس سے اللہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تم کو جنت کے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہ رہی ہوں گی اور صاف ستھرے مکانات میں داخل فرمائے گا جو بہشت ہائے جاودانی میں تیار ہیں اور آخرت میں دوزخ سے بچ کر ایسے بہشتوں میں داخل ہونا ہی بڑی کامیابی ہے۔ اور ایک اور چیز بھی تمہیں عطاء ہوگی۔ جسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ربط آیات :
پچھلی آیت میں ذکر تھا کہ اللہ نے اپنے برگزیدہ رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر مبعوث فرمایا ہے تاکہ اس دین کو تمام ادیان کے مقابلے میں غالب کردے خواہ مشرک لوگ اس کو ناپسندہی کریں۔ اللہ کے نزدیک سچا دین یہی دین اسلام ہے لہٰذا منشائے خداوندی یہی ہے کہ یہ دین باقی تمام ادیان پر غالب ہو۔ یہ غلبہ باعتبار دلیل اور برہان تو ہر وقت حاصل رہا ہے ، اور موجودہ دور میں بھی یہ غلبہ قائم ہے۔ مگر جس غلبہ کی بات یہاں ہورہی ہے اس سے ظاہری غلبہ مراد ہے یعنی اسلام کے نظام اور قانون کو بھی تمام ادیان عالم اور قوانین کے مقابلے میں غالب قرار دیاجائے… اور اس کو برتری حاصل ہو۔ اب اس مقصد کے حصول کے لئے عملی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ہَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰي تِجَارَۃٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ 10
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ترکیب : ھل ادلکم الخ الجملۃ نداء ھل الاستفھام ایجاب و اخبار معنٰی وقیل المعنی سادلکم تنجیکم الجملۃ صفۃ تجارۃ قراء الجمہور تنجیکم من الابخاء ای بالتحفیف وقریٔ بالتشدید من التنجیۃ تؤمنون تفسیر لتجارۃ وقبل استیناف کانھم قالواکیف نعمل فقال تؤمنون باللہ وھوخبرفی معنی الامرویجوزان تکون فی موضع جرعلی البدل اوفی موضع رفع علی تقدیرھی وان محذوفۃ ولماحذفت بطل عملھا وتجاھدون عطف علیٰ تؤمنون ان کنتم شرط جو ابہ محذوف فافعلوہ یغفر مجزوم اما ھوجواب شرط محذوف دل علیہ الکلام تقدیرہ ان تؤمنوایغفرلکم واماان تؤمنون بمعنی آمنوا الخبر بمعنی الامرھذاقول الزجاج والمبردداماانہ جواب لماول علیہ الاستفھام والمعنی ھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِؤُا نُوْرَاللّٰہِ بِاَفْوَاھِہِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْکَرِہَ الْـکٰفِرُوْنَ ۔ ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ۔ (الصف : 8، 9)
(یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو کامل کرنے والا ہے، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے، اگرچہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ )
یہود کا ہدف اور اس میں ناکامی
جزیرہ عرب کے رہنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر دین حق کو قبول اور اس کی اشاعت کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کرنے کے مترادف ہے۔ جس کے نتیجہ میں دنیا کی کامیابی حاصل ہوگی اور آخرت میں عذاب سے نجات پانے کے ساتھ جنت میں داخل ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو نفع اور نقصان کا شعور بخشا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ریڑھی بان کو معلوم ہوجائے کہ میرا سودا فلاں چوک اور بازار میں زیادہ بک سکتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ میں اس چوک اور بازار میں ریڑھی لگاؤں۔ مزدور کو معلوم ہو کہ مجھے فلاں شہر میں زیادہ مزدوری ملے گی، تو وہ زیادہ مزدوری پانے کے لیے اپنے بال بچے چھوڑ کر اس شہر کا رخ کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →ایمان و جہاد باقی رہے گا :
10 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ (اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتائوں جو تم کو ایک درد ناک عذاب سے بچالے )
قراءت : تُنَجِّیْکُم شامی نے پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →9 ۔” ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
10۔ 13۔ اوپر ذکر تھا کہ کچھ لوگ نیک کاموں کے کرنے کا شوق ظاہر کرکے بھی اس پر قائم نہیں رہے آیتوں میں اسی کے متعلق فرمایا کہ اے ایمان والو اگر تم کو نیک کام کے اجر کمانے کا شوق ہے تو تم کو اس کمائی کے لئے ایسی سوداگری بتائی جاتی ہے جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے نقصان کا کہیں نام نہیں ہے پھر اس سوداگری کی تفصیل فرمائی کہ خالص دل سے اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری قبول کرو اور جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کے نافرمان ہیں ان کے راہ راست پر لانے میں جان و مال سے کوشش کرو اللہ کے رسول جو شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں اس کے برحق ہونے کا دل میں اعتقاد رکھنا اور زبان سے اس اعتقاد کے موافق قرار…
Read the full tafseer →یہ ارحم الراحمین کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہنمائی، دلالت اور وصیت ہے جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے گویا کہا گیا ہے کہ وہ کون سی تجارت ہے جس کی یہ قدر ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
قول باری ہے (ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم، میں بتائوں تمہیں وہ تجارت جو تم کو عذاب الیم سے بچا دے) تا قول باری (نصر من اللہ وفتح قریب، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہونے والی فتح) اس کا شمار بھی دلائل نبوت میں ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نصرت اور فتح کا وعدہ فرمایا تھا اور ایمان لانے والوں کے حق میں یہ وعدہ پورا ہوگیا۔
Read the full tafseer →[ 23] ایک بےمثال تجارت کی راہنمائی :
سو اہل ایمان کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا میں تم لوگوں کو ایسی عظیم الشان تجارت کا پتہ نہ دے دوں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بجات دے ؟ سو اس سے ایک ایسی عظیم الشان اور بےمثال تجارت کی راہنمائی فرمائی گئی ہے جس میں کبھی کوئی خسارہ نہیں۔ سبحان اللّٰہ ! کیسی عجیب اور انوکھی تجارت ہے یہ جس میں نفع ہی نفع ہے خسارے کا نام و نشان بھی نہیں بشرطیکہ اس میں لگائے جانے والے سرمائے میں کوئی کھوٹ اور قصور نہ ہو، اسی لئے اس عظیم الشان تجارت کی توقع اور امید رکھتے ہیں جس میں خسارہ اور نقصان کسی صورت میں بھی نہیں، پس اس تجارت کے مقابلے میں ان دنیاوی تجارتوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
غلبہ ٔ دین کی بشارت اور مومنوں کی تجارت
تشریح : اصل میں یہ آیات 3 ھ میں جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ احد کی جنگ میں مسلمانوں کو خاصی پریشانی اٹھانا پڑی تھی اور یہ پریشانی اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے کچھ غلط رویے اور سوچ کی وجہ سے سزا کے طور پر اٹھانی پڑی تھی۔ مگر اس عارضی پریشانی سے مسلمان ڈگمگا گئے تھے اور دشمن بڑا خوش اور دلیر ہوگیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف احد کے بعد کی کامیابیوں کا یقین دلایا بلکہ ہر دور ہر زمانے میں کامیابیوں اور اللہ کی خاص مدد کا یقین دلا دیا کہ سچے، پکے، متقی اور بہترین مسلمان کیوں کہ اللہ کا پسندیدہ انسان ہوتا ہے اس لیے فتح اس کو ضرور ملتی ہے۔ اور وعدہ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
آیات 10 تا 14۔
اسرار ومعارف۔
نظام اسلام۔
اے ایمان والو تمہیں سب سے اچھی تجارت اور سب سے اعلی کاروبار کے بارے خبر کردوں جو دنیا کا نفع بھی دے اور آخرت میں دردناک عذاب سے بھی بچالے تو وہ ہے واللہ پر ایمان کہ جس طرح رسول اللہ ماننے کا حکم دیں ویسا اللہ کو مانے اور اللہ کے رسول پر ایمان جس کی دلیل ہے زندگی کے اس نظام کو مانے جس کو رسول اللہ منوائیں اور اس کے نفاذ کے لیے جان ومال سے جہاد کرے تمہارے لیے یہی کام سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان جاؤ تو ایسے مجاہدین فی سبیل اللہ سے انسانی کمزوری کے باعث اگر غلطی ہوگئی تو بھی اللہ معاف فرمائے گا اور انہیں جنت کے خوبصورت گھروں اور بینظیر باغوں میں داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ف 4 ” عدن “ کے عنی رہنے کے بھی ہیں اور یہ جنت کے ایک حصہ کا نامھی ہے۔ اس لئے ” جنات عدن “ کا مطلب ” عدن کے باغ “ بھی ہوسکتا ہے اور ” ہمیشہ رہنے والے باغ بھی۔
Read the full tafseer →(61:10) ہل حرف استفہام ہے، مضارع پر داخل ہو کر اس کو مستقبل کے معنی کے لئے مخصوص کردیتا ہے۔ کیا ؟ تحقیق بمعنی قد کے لئے بھی آتا ہے۔
ادلکم علی : ادل مضارع واحد متکلم دلالۃ (باب نصر) مصدر۔ علی کے صلہ کے ساتھ۔ کسی طرف رہنمائی کرنا۔ بتانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر، کیا میں تم کو بتاؤں یا آگاہ کروں۔ یا تمہاری راہنمائی کروں۔
تنجیکم : تنجی مضارع واحد مؤنث غائب انجاء (افتعال) مصدر۔ نجات دینا۔ نجات پانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو نجات دے۔ وہ تم کو بچالے۔ یا۔ بچالیگی۔ ن ، ج، د، مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔
تشریح :
مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ایسی تجارت جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے۔
(ف 1) شان نزول : مومنین نے کہا تھا کہ اگر ہم جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو کون ساعمل بہت پسند ہے تو ہم وہی کرتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے مسلمانو اگر تم نیک کام کے اجر کمانے کا شوق ہے تو تم کو اس کمائی کے لیے ایسی سوداگری بتلائی جاتی ہے کہ جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے نقصان کا نام کہیں نہیں ہے ، پھر اس سوداگری کی تفصیل فرمائی کہ خالص دل سے اللہ اور اللہ کے رسول کے نافرمان ہیں ان کے راہ راست پر لانے میں جان ومال سے کوشش کرو، اللہ کے رسول جو شریعت اللہ کی طرف سے لائے ہیں اس کے برحق ہونے کا دل میں اعتقاد رکھنا، اور زبان سے اس اعتقاد کے موافق اقرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[7] یہاں ایمان لانے سے مراد سچے دل سے ایمان لانا ہے۔
[8] تجارت میں آدمی اپنا سرمایہ، اپنی محنت، ذہانت اور قابلیت اس لئے لگاتا ہے کہ اس سے نفع حاصل ہو۔ اس رعایت سے یہاں ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کو تجارت کہا گیا ہے کہ اس میں اپنی جان و مال کا سرمایہ لگاؤ گے تو تمہیں وہ نفع حاصل ہوگا جو اگلی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
بہترین تجارت
1: اس آیت میں ایک ایسی تجارت کی جانب رانمائی فرمائی ہے ۔ جس کی وجہ سے انسان عذاب الیم سے بچ جاتا ہے ۔ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ جنات ونعیم کی نعمتیں میسر ہوجاتی ہیں ۔ اور دنیا میں سربلندی ، نصرت فتح اور کامرانی حاصل ہوتی ہے ۔ یعنی دنیا وعقبیٰ کے لحاظ سے اس میں گھاٹے اور خسارے کا احتمال ہی نہیں ۔ دنیا میں اس تجارت کی وجہ سے رفعت وارتقاء اور عزت و غلبہ عنایت ہوتا ہے ۔ اور آخرت میں فوزوفلاح اور رضا و خوشنودی اور پھر اس اعمال اسا نہیں ۔ کہ اپنے پاس سے دینا پڑے بلکہ سرمایہ بھی اس کا ہے ۔ جس سے سودا ہورہا ہے ۔ یہ محض اس کا فضل اور گرم گستری ہے ۔ کہ وہ اس سرمایہ کو قبول فرمالیتا ہے ۔ جو…
Read the full tafseer →(10) اے ایمان والو ! کیا میں تم کو ایسی سوداگری اور ایسی تجارت بتائوں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بچا لے۔ یعنی ایسی تجارت اور ایسا کاروبار جو تم کو دوزخ کے عذاب سے نجات دلادے اور جہنم کے دردناک عذاب سے تم کو چھڑا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ف 5۔ اللہ پر جھوٹ باندھنا یہ کہ نبوت کی تکذیب ہے۔
6۔ واللہ لا یھدی اس لئے بڑھایا کہ ان کی حالت موجودہ اصلاح سے بعید ہوگئی، اس لئے سزائے قتال ہی تجویز کیا جانا مصلحت ہوا۔
Read the full tafseer →اے ایمان والو ! آئو تم کو ایسی تجارت بتائیں جو عذاب الیم سے تم کو بچا لے
10 ؎ دنیا جہان کے لوگ تجارت کرتے آتے ہیں ، کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اس تجارت میں لوگوں کو نفع بھی ہوتا رہا ہے ، ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا اور تجارت میں بعض اوقات نقصان بھی ہوتا رہا ہے ، ہوتا ہے اور ہونے کا احتمال ہے اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ پورا سرمایہ ہی ضائع ہوجاتا ہے۔ پھر غور کرو کہ اگر نفع ہوگا تو کیسا ہوگا ؟ یہی کہ دولت کی فراوانی اور اسباب عیش و آرام مہیا ہوجائے گا لیکن زیر نظر آیت میں اس تجارت کا ذکر کیا جا رہا ہے جس میں سراسر نفع ہی نفع ہے اور نقصان کا نہ کبھی احتمال تھا ، نہ ہے اور نہ ہوگا اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ (Surely Allah loves those who fight in His way in firm rows, as if they were a solid edifice...61:4) The main subject of this Surah for which it was revealed is to mention the dearest action in the sight of Allah. This verse states that it is jihad in Allah's way, and that the best row of battle in the sight of Allah is the one firmly established against Allah's enemies to make Allah's word prevail, and which, on account of the valor and unshaken determination of Mujahidin, looks like a strong…
Read the full tafseer →14 A bargain is something in which a person employs his wealth, time, labour and talent in order to earn a profit. In the same sense the Faith and Jihad in the cause of AIIah have ban called a bargain, as if to say: If you exert alI your powers and expend all your resources in the way of Allah, you will get the profits that are being mentioned in the following verses. This same theme has been expressed in At-Taubah: III in another way. (See E.N. 106 of At-Taubah) .
Read the full tafseer →