As-Saff 61:11

As-Saff · from ayah 11

61:11

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ ؕ— ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۟ۙتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَۙ‏

(وہ یہ کہ) خدا پر اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[It is that] you believe in Allah and His Messenger and strive in the cause of Allah with your wealth and your lives. That is best for you, if you should know.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saff

All translations of 61:11

ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(وہ یہ کہ) خدا پر اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان ﻻؤ اور اللہ کی راه میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم میں علم ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

(وہ یہ ہے کہ) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اپنے مال و دولت اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہترین بات ہے، اگر تم سمجھو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ یہ ہے کہ) تم اللہ پر اور اُس کے رسول ﷺ پر (کامل) ایمان رکھو اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جانتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور جانوں سے جہاد کرو۔ اگر تم جان لو تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(یہ کہ) تم لوگ (صدق دل سے) ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے بھی اور اپنی جانوں سے بھی یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانو

— مولانا اسحاق مدنی

) وہ یہی ہے کہ) تم لوگ اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو تمہارے حق میں یہی بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(وہ یہ کہ) تم ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر اور جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Have faith in Allah and His Messenger and strive in the Way of Allah with your possessions and your lives. That is better for you if you only knew.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

That you believe in Allah and His Messenger, and carry out Jihad in His way with your riches and your lives. That is much better for you, if you but know.

— Muhammad Taqi Usmani

That you believe in Allah and His Messenger, and carry out Jihad in His way with your riches and your lives. That is much better for you, if you but know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That you believe in Allah and His Messenger, and that you strive hard and fight in the cause of Allah with your wealth and your lives, that will be better for you, if you but know!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ye should believe in Allah and His messenger, and should strive for the cause of Allah with your wealth and your lives. That is better for you, if ye did but know.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[It is that] you believe in Allah and His Messenger and strive in the cause of Allah with your wealth and your lives. That is best for you, if you should know.

— Saheeh International

Have faith in God and His Messenger and strive hard for His cause with your wealth and in persons. This is better for you if only you knew it.

— Muhammad Sarwar

You shall believe in Allah and His Apostle, and struggle hard in Allah's way with your property and your lives; that is better for you, did you but know!

— Muhammad Habib Shakir

It is that ye should believe in Allah and His apostle and strive in the way of Allah with your riches and Your lives That is best for you, if ye only knew!

— Abdul Majid Daryabadi

That ye believe in Allah and His Messenger, and that ye strive (your utmost) in the Cause of Allah, with your property and your persons: That will be best for you, if ye but knew!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 61:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–13

سو فیصد نفع بخش تجارت حضرت عبداللہ بن سلام ؓ والی حدیث پہلے گذر چکی ہے کہ صحابہ نے حضور ﷺ سے یہ پوچھنا چاہا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ تعالیٰ کو کونسا ہے ؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل فرمائی، جس میں فرما رہا ہے کہ آؤ میں تمہیں ایک سراسر نفع والی تجارت بتاؤں جس میں گھاٹے کی کوئی صورت ہی نہیں جس سے مقصود حاصل اور ڈر زائل ہوجائے گا وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول ﷺ کی رسالت پر ایمان لاؤ اپنا جان مال اس کی راہ میں قربان کرنے پر تل جاؤ، جان لو کہ یہ دنیا کی تجارت اور اس کے لئے کدو کاوش کرنے سے بہت ہی بہتر ہے، اگر میری اس بتائی ہوئی تجارت کے تاجر تم بن گئے تو تمہاری ہر لغزش سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصَّف 15 ایمان لانے والوں سے جب کہا جائے کہ ایمان لاؤ، تو اس سے خود بخود یہ معنی نکلتے ہیں کہ مخلص مسلمان بنو۔ ایمان کے محض زبانی دعوے پر اکتفا نہ کرو بلکہ جس چیز پر ایمان لائے ہو اس کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں برداشت کرنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ سورة الصَّف 16 یعنی یہ تجارت تمہارے لیے دنیا کی تجارتوں سے زیادہ بہتر ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–12

معارف و مسائل تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ ، اس آیت میں ایمان اور مجاہدہ بالمال والنفس کو تجارت فرمایا ہے، کیونکہ جس طرح تجارت میں کچھ مال خرچ کرنے اور محنت کرنے کے صلہ میں منافع حاصل ہوتے ہیں ایمان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جان و مال خرچ کرنے کے بدلے میں اللہ کی رضا اور آخرت کی دائمی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں، جس کا ذکر اگلی آیت میں ہے کہ جس نے یہ تجارت اختیار کی اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا اور جنت میں اس کو پاکیزہ و بہترین مساکن و مکانات عطا فرما دے گا، جن میں ہر طرح کے آرام و عیش کے سامان ہوں گے جیسا کہ حدیث میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 11–12

(تو منون باللہ ورسولہ وتجاھدون فی سبیل اللہ بامرالکم وانفسکم ذتکم خیر لکم ان کنتم تعلمون یفرلکم ذنوبکم ویدخلکم جنت تجری من تحتھا الانھر و مسکن طیبۃ فی جنت عدن ذلک الفوز العظیم) (11، 12)۔ (عربیت کے ایک اسلوب کی وضاحت)۔ عربیت کے اس اسلوب کی طرف جگہ جگہ ہم اشارہ کرتے آ رہے ہیں کہ جب امر یا نہی کے اندر موعظت اور نا صحانہ تلقین کا مضمون پیدا کرنا ہو تو ان کو خبریہ اسلوب میں کردیتے ہیں چناچہ اس آیت میں (تومنون) اور (تجاھدون) بظاہر تو خبر کے اسلوب میں ہیں لیکن یہ معنی میں امر کے ہیں۔ اس اسلوب کا فائدہ یہاں یہ ہوا کہ گویا ان کو نہایت شفقت کے ساتھ یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ ہم تمہیں نہایت نفع بخش…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–13

13۔ 1 یعنی جب تم اس کی راہ میں لڑو گے اور اس کے دین کی مدد کروگے، تو وہ بھی تمہیں فتح و نصرت سے نوازے گا۔ " ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم " (سورة محمد) " ولینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیز " (الحج) آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اسے فتح قریب قرار دیا اور اس سے مراد فتح مکہ ہے اور بعض نے فارس و روم کی عظیم الشان سلطنتوں پر مسلمانوں کے غلبے کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ جو خلافت راشدہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوا۔ 13۔ 2 جنت کی بھی، مرنے کے بعد اور فتح و نصرت کی بھی، دنیا میں، بشرطیکہ اہل ایمان ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہیں۔ " وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ " 3۔ آل عمران…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–13

8: تجارت میں کوئی چیز کسی کو دے کر اس کی قیمت حاصل کی جاتی ہے، اسی طرح ایک مسلمان اپنی جان و مال اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے صلے میں جنت اور عذاب سے رہائی عطا فرماتے ہیں۔ دیکھئے سورة توبہ : 111

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

تومنون ................ ورسولہ (16 : 11) ” ایمان لاﺅ اللہ اور اس کے رسول پر “۔ وہ تو اللہ اور رسول پر ایمان لاچکے تھے۔ اور وہ جب جواب سنتے ہیں تو ان کے دل روشن ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ جواب شرط تو پہلے سے ان کے اندر موجود ہے۔ وتجاھدون ........................ وانفسکم (16 : 11) ” اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے “۔ اور یہی اس صورت کا مضمون اور محور ہے۔ اس انداز میں یہ آتارہا ہے ، بار بار تکرار کے ساتھ ، اس طرح اسے مضمون کے اندر بار بار دہرایا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ انسان کو تربیت دینے کے لئے بار بار کی یاددہانی کی ضرورت ہے۔ مختلف انواع و دلائل اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 10–12

8 یعنی اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرنا تو اللہ کا کام ہے۔ لیکن تمہارا فرض یہ ہے کہ ایمان پر پوری طرح مستقیم رہ کر اس کے راستہ میں جان و مال سے جہاد کرو۔ یہ سوداگری ہے جس میں کبھی خسارہ نہیں، دنیا میں لوگ سینکڑوں طرح کے بیوپار اور تجارتیں کرتے ہیں اور اپنا کل سرمایہ اس میں لگا دیتے ہیں محض اس امید پر کہ اس سے منافع حاصل ہوں گے اور اس طرح راس المال گھٹنے اور تلف ہونے سے بچ جائے گا۔ پھر وہ بذات خود اور اس کے اہل و عیال تنگدستی و افلاس کی تلخیوں سے محفوظ رہیں گے۔ لیکن مومنین اپنے جان و مال کا سرمایہ اس اعلیٰ تجارت میں لگائیں گے تو صرف چند روز افلاس سے نہیں، بلکہ آخرت کے دردناک عذاب اور تباہ کن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

آیت 1 1{ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ } ”وہ یہ کہ تم ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر اور جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ۔“ یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایسے ایمان لائو جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے۔ سورة النساء کی یہ آیت بھی اسی مفہوم میں اہل ایمان کو ایمان لانے کا حکم دے رہی ہے : { یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ…} آیت 136 ”اے ایمان والو ! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر…“ گویا یہ ایمان کے دعوے داروں کے لیے ایسا مومن بننے کی دعوت ہے جو سورة…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 10–12

13 یعنی تمام دنیا میں اسلام کا نور پھیلانے والی اور دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے والی اللہ کی ذات ہے تاہم اللہ تعالیٰ نے اس کا ذریعہ اہل ایمان کو بنایا ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ جو وہ ارادہ کرچکا ہے وہ پورا کرکے رہے گا اور یہ کام تمہارے ہاتھوں ہوگا۔ تم سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اللہ کے وعدوں پر مکمل اعتماد کرو اللہ کے رسول کی پوری طرح اطاعت کرو۔ پھر اپنا مال، اپنا وقت، اپنی قابلیت حتیٰ کہ اپنی جانیں بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرنے میں لڑا دو ۔ اور یہ تمہارے لیے ایسی پُر منفعت تجارت اور نفع کا سودا ہے جس میں کبھی خسارے کا احتمال نہیں ہوسکتا۔ اس کے عوض آخرت میں تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–12

اے ایمان والو ! کیا تمہیں وہ تجارت نہ بتائوں کہ جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچائے ؟ (تنجیکم) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، گویا کہ انہوں نے کہا ہاں، تم اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائو یعنی ایمان پر قائم رہو اور اپنی جان سے اور اپنے مالوں سے اللہ کے راستہ میں جہاد کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ بہتر ہے تو اس کام کو کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور صاف ستھرے گھروں میں جو جنت عدن (قابل رہائش) جنت میں ہوں گے یہ بڑی کامیابی ہے اور تم کو ایک دوسری نعمت بھی عطا کرے گا جس کو تم پسند کرتے ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تومنون باللہ و رولہ و تجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون . (وہ یہ ہے کہ) تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو۔ “ تُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ ...... یہ تجارت کی تشریح ہے ایمان اور جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد۔ ان دونوں کا مجموعہ تجارت ہے ‘ تجارت لین دین کا نام ہے۔ مال اور جان کو دے کر آخرت کی راحت اور اللہ کی خوشنودی کا حصول یہ بھی تجارتی مبادلہ ہوا۔ باطل عقائد کو ترک کر کے سچے علم یعنی ایمان کو لینا بھی بڑی نفع بخش تجارت ہے۔ تُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ....…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 10–11

(10۔ 11) اے ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتا دوں جو تمہیں آخرت میں دردناک عذاب سے بطالے۔ ایمان میں سچے رہو اور اپنی جان و مال سے جہاد کرو یہ جہاد تمہارے اموال سے بہتر ہے اگر تم ثواب خداوندی کی تصدیق کرنے والے ہو۔ شان نزول : تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ (الخ) ابن ابی حاتم نے مقاتل سے روایت کیا ہے کہ احد کے دن میدان جنگ سے بھاگنے کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اور نیز سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتلاؤں الخ تو اس پر مسلمان بولے کاش ہمیں اس تجارت کا علم ہوجاتا کہ وہ کیا ہے تو ہم اس میں اپنے مالوں اور گھر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

تُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاھِدُوْنَ۔۔۔۔: یہ اس تجارت کی تفسیر ہے ، یعنی وہ تجارت یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔”تُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ“ فعل مضارع فعل امر کے معنی میں ہے ، اسے مضارع لانے سے امر کی تاکید مقصود ہے ، جیسا کہ کسی کام کی تاکید مقصود ہو تو یہ کہنے کے بجائے کہ یہ کام کرو ، کہا جاتا کہ تم یہ کام کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 10–13

تفسیر اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا…… مقاتل نے کہا : یہ آیت حضرت عثما بن مظعون کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : کاش ! آپ ﷺ مجھے اجازت دیتے تو میں خولہ کو طالق دیتا، رہبانیت اختیار کرتا، اپنے آپ کو خصی کرلیتا، گوشت کو اپنے اوپر حرام کرلیتا، رات کو کبھی بھی نہ سوتا اور دن کو کبھی بھی افطار نہ کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میری سنت میں سے نکاح بھی ہے، اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں میری امت کی رہبانیت اللہ کی راہ میں جہاد ہے، میری امت کا خصی ہونا روزہ رکھنا ہے، اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم پر حلال کی ہیں انہیں اپنے اوپر حرام نہ کرو۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–14

4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت کونوا انصار اللہ کو اضافت کے ساتھ پڑھا۔ 5۔ عبد بن حمید وعبد الرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا کونوا انصار اللہ۔ اے ایمان والو ! اللہ کے دین کے مددگار ہوجاؤ۔ اور اللہ کی حمد کے ساتھ ایسا ہوا کہ ستر آدمی آئے اور انہوں نے عقبہ گھاٹی کے پاس آپ سے بیعت کی پھر انہوں نے آپ کی مدد کی۔ اور آپ کو پناہ دی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کردیا۔ اور ان کے علاوہ کسی قبیلے کو آسمان سے ایسے نام سے نہیں پکارا گیا جو اس سے پہلے تھے سوائے ان کے ہم کو یہ بتایا گیا ان میں سے کسی نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ تم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[تُؤْمِنُوْنَ : تم لوگ ایمان لائو گے ][ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ : اللہ پر اور اس کے رسول پر ][ وَتُجَاهِدُوْنَ : اور جہاد کرو گے ][فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ میں ][ بِاَمْوَالِكُمْ وَانفُسِكُمْ : اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے ][ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ : یہ بہتر ہوگا تمہارے لیے ][ان كُنْتم تَعْلَمُوْنَ :]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–13

ایسی تجارت کی بشارت جو عذاب الیم سے نجات کا ذریعہ اور جنت ملنے کا وسیلہ ہوجائے ان آیات میں اہل ایمان کو آخرت کی تجارت کی طرف توجہ دلائی ہے دنیا میں کھانے پینے، پہننے اور دیگر ضروریات کے لئے کسب مال کی ضرورت ہوتی ہے جسے بہت سے لوگ تجارت کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں اس میں بہت سے لوگ بہت زیادہ انہماک کرلیتے ہیں موت اور موت کے بعد کے حالات اور آخرت کے اجرو ثواب میں دھیان ہی نہیں دیتے زیادہ مال کی طلب میں ایسے لگتے ہیں کہ آخرت میں کام دینے والے اعمال کو بھول ہی جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ اے ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی تجارت اور سودا گری نہ بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دیدے، تجارت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–14

دعوت اہل ایمان برائے تجارت رابحہ وترغیب برحصول فلاح وسعادت دنیا وآخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ....... الی ...... فاصبحوا ظھرین “۔ (ربط) گزشتہ آیات کا حاصل مضمون یہ تھا کہ اللہ رب العزت نے اپنے نبی آخرالزمان ﷺ کی بعثت سے دنیا کی ہدایت کا ارادہ فرمایا تاکہ انسان حق وہدایت کے ذریعہ دنیا وآخرت کی فلاح و کامیابی حاصل کرسکیں، اور اسی بشارت کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا لیکن ان کی بدنصیب قوم نے ان کی بات کو ٹھکرایا حق سے منہ موڑا اور جو کچھ نبی آخر الزمان ﷺ کی نشانیاں تھیں ان میں تحریف کی اب ان آیات میں اہل ایمان کو خطاب کرکے فرمایا جارہا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–13

8:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ مومنین سے دوسرا خطاب ہے برائے ترغیب الی القتال۔ مومنو ! کیا میں تمہیں ایسا کاروبار بتاؤ جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے ؟ وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے۔ اس سے اللہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تم کو جنت کے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہ رہی ہوں گی اور صاف ستھرے مکانات میں داخل فرمائے گا جو بہشت ہائے جاودانی میں تیار ہیں اور آخرت میں دوزخ سے بچ کر ایسے بہشتوں میں داخل ہونا ہی بڑی کامیابی ہے۔ اور ایک اور چیز بھی تمہیں عطاء ہوگی۔ جسے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–13

ربط آیات : پچھلی آیت میں ذکر تھا کہ اللہ نے اپنے برگزیدہ رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر مبعوث فرمایا ہے تاکہ اس دین کو تمام ادیان کے مقابلے میں غالب کردے خواہ مشرک لوگ اس کو ناپسندہی کریں۔ اللہ کے نزدیک سچا دین یہی دین اسلام ہے لہٰذا منشائے خداوندی یہی ہے کہ یہ دین باقی تمام ادیان پر غالب ہو۔ یہ غلبہ باعتبار دلیل اور برہان تو ہر وقت حاصل رہا ہے ، اور موجودہ دور میں بھی یہ غلبہ قائم ہے۔ مگر جس غلبہ کی بات یہاں ہورہی ہے اس سے ظاہری غلبہ مراد ہے یعنی اسلام کے نظام اور قانون کو بھی تمام ادیان عالم اور قوانین کے مقابلے میں غالب قرار دیاجائے… اور اس کو برتری حاصل ہو۔ اب اس مقصد کے حصول کے لئے عملی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ۝ 0 ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝ 11 ۙ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–13

ترکیب : ھل ادلکم الخ الجملۃ نداء ھل الاستفھام ایجاب و اخبار معنٰی وقیل المعنی سادلکم تنجیکم الجملۃ صفۃ تجارۃ قراء الجمہور تنجیکم من الابخاء ای بالتحفیف وقریٔ بالتشدید من التنجیۃ تؤمنون تفسیر لتجارۃ وقبل استیناف کانھم قالواکیف نعمل فقال تؤمنون باللہ وھوخبرفی معنی الامرویجوزان تکون فی موضع جرعلی البدل اوفی موضع رفع علی تقدیرھی وان محذوفۃ ولماحذفت بطل عملھا وتجاھدون عطف علیٰ تؤمنون ان کنتم شرط جو ابہ محذوف فافعلوہ یغفر مجزوم اما ھوجواب شرط محذوف دل علیہ الکلام تقدیرہ ان تؤمنوایغفرلکم واماان تؤمنون بمعنی آمنوا الخبر بمعنی الامرھذاقول الزجاج والمبردداماانہ جواب لماول علیہ الاستفھام والمعنی ھل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–12

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ یَغْفِرْلَـکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْـکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ وَمَسٰکِنَ طَیِّـبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ط ذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ (الصف : 11، 12) (تم ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی اور عمدہ مکانوں میں داخل کرے گا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–13

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر دین حق کو قبول اور اس کی اشاعت کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کرنے کے مترادف ہے۔ جس کے نتیجہ میں دنیا کی کامیابی حاصل ہوگی اور آخرت میں عذاب سے نجات پانے کے ساتھ جنت میں داخل ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو نفع اور نقصان کا شعور بخشا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ریڑھی بان کو معلوم ہوجائے کہ میرا سودا فلاں چوک اور بازار میں زیادہ بک سکتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ میں اس چوک اور بازار میں ریڑھی لگاؤں۔ مزدور کو معلوم ہو کہ مجھے فلاں شہر میں زیادہ مزدوری ملے گی، تو وہ زیادہ مزدوری پانے کے لیے اپنے بال بچے چھوڑ کر اس شہر کا رخ کرتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 1 : تُؤْمِنُوْنَ (تم ایمان لائو) یہ جملہ مستانفہ ہے گویا اس طرح کہا ہم کیا کریں۔ تو جواب ملا۔ تم ایمان لائو۔ یہ سیبویہ کے نزدیک آمنوا کے معنی میں ہے۔ اسی لئے اس کا جواب یغفرلکم سے دیا گیا اور ابن مسعود ؓ کی قراءت اس پر دلالت کرتی ہے۔ آمنو باللّٰہ ورسولہ وجاھدوا۔ وجہ : اس کو خبر کے انداز سے اس لئے لائے تاکہ بتلا دیا جائے کہ اس پر عمل کرنا لازم ہے گویا اس پر عمل کرلیا گیا ہے۔ اس سے خبردی کہ ایمان و جہاد موجود رہے گا۔ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ ذٰلِکُمْ ( اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول پر اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال و جان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔” یا یھا الذین امنوا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم “ ابن عامر (رح) نے ” تنجیکم “ تشدید کے ساتھ اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” من عذاب الیم “ یہ آیات نازل ہوئی جب انہوں نے کہا اگر ہم جانتے کہ اعمال میں سے کون سا اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے تو ہم اس کو کرتے اور اس کو تجارت کے مرتبہ میں کردیا گیا ہے اس لئے کہ وہ اس اللہ کی رضا اور جنت کے حصول اور آگ سے نجات کا نفع حاصل کریں گے۔ پھر اس تجارت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–13

10۔ 13۔ اوپر ذکر تھا کہ کچھ لوگ نیک کاموں کے کرنے کا شوق ظاہر کرکے بھی اس پر قائم نہیں رہے آیتوں میں اسی کے متعلق فرمایا کہ اے ایمان والو اگر تم کو نیک کام کے اجر کمانے کا شوق ہے تو تم کو اس کمائی کے لئے ایسی سوداگری بتائی جاتی ہے جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے نقصان کا کہیں نام نہیں ہے پھر اس سوداگری کی تفصیل فرمائی کہ خالص دل سے اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری قبول کرو اور جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کے نافرمان ہیں ان کے راہ راست پر لانے میں جان و مال سے کوشش کرو اللہ کے رسول جو شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں اس کے برحق ہونے کا دل میں اعتقاد رکھنا اور زبان سے اس اعتقاد کے موافق قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پس فرمایا (تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ) تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اور یہ چیز معلوم ہے کہ ایمان کامل ان امور کی تصدیق جازم کا نام ہے جن کی تصدیق کا اللہ نے حکم دیا ہے جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے جن میں جلیل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے بنا بریں فرمایا (وَتُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ ۭ ) اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ وہ اس طرح کہ تم اپنے نفوس اور جانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں خرچ کرو اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے کلمے کی سربلندی ہو اس مطلوب و مقصود کے حصول میں جو مال تمہیں میسر ہے اسے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 10–14

قول باری ہے (ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم، میں بتائوں تمہیں وہ تجارت جو تم کو عذاب الیم سے بچا دے) تا قول باری (نصر من اللہ وفتح قریب، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہونے والی فتح) اس کا شمار بھی دلائل نبوت میں ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نصرت اور فتح کا وعدہ فرمایا تھا اور ایمان لانے والوں کے حق میں یہ وعدہ پورا ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 24] ایک بےمثال تجارت اور اس کی بےمثال نفع بخشی کا ذکر وبیان : سو اس سے بےمثال تجارت کی نفع بخشی کا ذکر فرما دیا گیا، اس سے واضح فرمایا گیا کہ اگرچہ بظاہر تم لوگوں کو یہ سودا خسارے کا سودا نظر آئے گا لیکن حقیقت میں یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو کہ اس تجارت کا نفع ایسا عطیم الشان نفع ہے کہ تم پورے طور پر اور صحیح طرح سے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے، اور ایسا دائمی بھی کہ کبھی ختم ہونے والا نہیں، اور اس میں بظاہر تو یہاں لگتا ہے کہ نقد کو ادھار پر قربان کیا جارہا ہے لیکن اگر تمہاری نظر اصل حقیقت تک پہنچ جائے تو تم دیکھو گے کہ اس میں دنیا کے چند خزف ریزوں اور حیات فانی و مستعار کے چند لمحات…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–14

غلبہ ٔ دین کی بشارت اور مومنوں کی تجارت تشریح : اصل میں یہ آیات 3 ھ؁ میں جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ احد کی جنگ میں مسلمانوں کو خاصی پریشانی اٹھانا پڑی تھی اور یہ پریشانی اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے کچھ غلط رویے اور سوچ کی وجہ سے سزا کے طور پر اٹھانی پڑی تھی۔ مگر اس عارضی پریشانی سے مسلمان ڈگمگا گئے تھے اور دشمن بڑا خوش اور دلیر ہوگیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف احد کے بعد کی کامیابیوں کا یقین دلایا بلکہ ہر دور ہر زمانے میں کامیابیوں اور اللہ کی خاص مدد کا یقین دلا دیا کہ سچے، پکے، متقی اور بہترین مسلمان کیوں کہ اللہ کا پسندیدہ انسان ہوتا ہے اس لیے فتح اس کو ضرور ملتی ہے۔ اور وعدہ اس وقت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–14

آیات 10 تا 14۔ اسرار ومعارف۔ نظام اسلام۔ اے ایمان والو تمہیں سب سے اچھی تجارت اور سب سے اعلی کاروبار کے بارے خبر کردوں جو دنیا کا نفع بھی دے اور آخرت میں دردناک عذاب سے بھی بچالے تو وہ ہے واللہ پر ایمان کہ جس طرح رسول اللہ ماننے کا حکم دیں ویسا اللہ کو مانے اور اللہ کے رسول پر ایمان جس کی دلیل ہے زندگی کے اس نظام کو مانے جس کو رسول اللہ منوائیں اور اس کے نفاذ کے لیے جان ومال سے جہاد کرے تمہارے لیے یہی کام سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان جاؤ تو ایسے مجاہدین فی سبیل اللہ سے انسانی کمزوری کے باعث اگر غلطی ہوگئی تو بھی اللہ معاف فرمائے گا اور انہیں جنت کے خوبصورت گھروں اور بینظیر باغوں میں داخل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–12

ف 4 ” عدن “ کے عنی رہنے کے بھی ہیں اور یہ جنت کے ایک حصہ کا نامھی ہے۔ اس لئے ” جنات عدن “ کا مطلب ” عدن کے باغ “ بھی ہوسکتا ہے اور ” ہمیشہ رہنے والے باغ بھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(61:11) تؤمنون باللہ۔ مضارع واحد مؤنث غائب ایمان (افعال) مصدر۔ تم ایمان لاؤ گے۔ یا لاتے ہو۔ اللہ کے ساتھ۔ ویجاھدون واؤ عاطفہ۔ تجاھدون صیغہ جمع مذکر مضارع معروف۔ مجاھدۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ بمعنی دشمن کی مدافعت میں مقدور بھر کوشش و طاقت صرف کرنا۔ تم جہاد کرتے ہو۔ جہاد کی تین قسمیں ہیں :۔ (1) ظاہری دشمن سے جہاد۔ (2) شیطان سے جہاد۔ (3) نفس سے جہاد۔ تجاھدون کا عطف تؤمنون پر ہے۔ جملہ تؤمنون باللہ ۔۔ وانفسکم استیناف بیانیہ ہے۔ جیسا کہ کہا جائے ما ھذہ التجارۃ ؟ ولنا علیہا۔ اور جواب میں کہا جائے : تؤمنون باللہ ۔۔ الخ۔ ہر دو مواقع پر (تؤمنون ، وتجاھدون) مضارع بمعنی امر ہے ۔ پوچھا جائے وہ کونسی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–14

لغات القرآن۔ لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔ تشریح : مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–13

ایسی تجارت جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے۔ (ف 1) شان نزول : مومنین نے کہا تھا کہ اگر ہم جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو کون ساعمل بہت پسند ہے تو ہم وہی کرتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے مسلمانو اگر تم نیک کام کے اجر کمانے کا شوق ہے تو تم کو اس کمائی کے لیے ایسی سوداگری بتلائی جاتی ہے کہ جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے نقصان کا نام کہیں نہیں ہے ، پھر اس سوداگری کی تفصیل فرمائی کہ خالص دل سے اللہ اور اللہ کے رسول کے نافرمان ہیں ان کے راہ راست پر لانے میں جان ومال سے کوشش کرو، اللہ کے رسول جو شریعت اللہ کی طرف سے لائے ہیں اس کے برحق ہونے کا دل میں اعتقاد رکھنا، اور زبان سے اس اعتقاد کے موافق اقرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–11

[7] یہاں ایمان لانے سے مراد سچے دل سے ایمان لانا ہے۔ [8] تجارت میں آدمی اپنا سرمایہ، اپنی محنت، ذہانت اور قابلیت اس لئے لگاتا ہے کہ اس سے نفع حاصل ہو۔ اس رعایت سے یہاں ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کو تجارت کہا گیا ہے کہ اس میں اپنی جان و مال کا سرمایہ لگاؤ گے تو تمہیں وہ نفع حاصل ہوگا جو اگلی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–14

ف 1: اس آیت میں مسلمانوں کو اسلام کی نصرت کے لئے ابھارا اور آمادہ کیا ۔ ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت کے لئے اور اس کے اعزاز وتفوق کے لئے کمر بستہ ہوجاؤ۔ اور اسی گرم جوشی اور استقلال کے ساتھ اسلام کی پکار کا استقبال کرو ۔ جس طرح حضرت مسیح کے حواریوں نے کہا تھا کہ نحن انصار اللہ حالانکہ مخالفین کی تعداد زیادہ تھی ۔ اور ہر طرح طاقتور تھے ۔ مگر تم نے دیکھا کہ یہ مومنوں کا گروہ بالآخر غالب آیا ۔ اور منکرین عیسائی ہوگئے یا مسیحی اقتدار رکے سامنے ان کی گرنیں جھک گئیں ۔ اس تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ اناجیل میں حضرت مسیح کی بےقدری اور تذلیل کا جو افسانہ مذکور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) وہ یہ کہ تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یعنی اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانیں لڑادو۔ یہ ایمان اور جہاد تمہارے لئے بہت بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ یعنی یہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اور اپنے مال اور اپنی جانوں کی پروانہ کرنا یہ تمہاری بقا اور تحفظ کے لئے بہت ہی بہتر ہے بشرطیکہ م کو کچھ سمجھ ہو اور جہاد کے منافع اور فوائد تمہارے پیش نظر ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–14

ف 5۔ اللہ پر جھوٹ باندھنا یہ کہ نبوت کی تکذیب ہے۔ 6۔ واللہ لا یھدی اس لئے بڑھایا کہ ان کی حالت موجودہ اصلاح سے بعید ہوگئی، اس لئے سزائے قتال ہی تجویز کیا جانا مصلحت ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو یہی وہ تجارت ہے 11 ؎ زیر نظر آیت میں اس تجارت کی وضاحت کی جا رہی ہے۔ وہ تجارت یہ ہے کہ تم سچے دل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائو اور وہ اموال اور جانیں جو تم کو عارضی زندگی میں عارضی طور پر دیئے گئے ہیں تاکہ تمہاری آزمائش کی جائے اس آزمائش میں پورے اترو اور اندر کے شیطان کے سارے پھندوں سے بچتے ہوئے ان کو اپنے رب کریم کے لیے قربان کر دو جہاں قربان کردینے کا وہ تم کو حکم دیتا ہے۔ شاید تم سمجھو گے کہ اس مال کو بچا بچا کر رکھنے میں تمہارا فائدہ ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ اس مال اور جان کو بچا بچا کر اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–12

Commentary تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ( ...you believe in Allah and His Messenger, and carry out jihad in His way with your riches and your lives....61:11) This verse refers to 'faith and jihad (struggle) in Allah's way with one's wealth and life' as a trade, because when man invests wealth in trade and works hard, he gains profit. Likewise, when man believes in Allah and invests his life and wealth in His cause, he incurs Allah's pleasure and attains the eternal blessings of the Hereafter, which is mentioned in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15 When the believers are asked to believe, it automatically gives the meaning that they should become sincere Muslims: they should not rest content with oral profession of the Faith but should be ready and willing to make every sacrifice in the cause of their Faith. 16 That is, this bargain is far superior for them to every worldly bargain.

Read the full tafseer →