Explained with ayahs 10–13
سو فیصد نفع بخش تجارت
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ والی حدیث پہلے گذر چکی ہے کہ صحابہ نے حضور ﷺ سے یہ پوچھنا چاہا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ تعالیٰ کو کونسا ہے ؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل فرمائی، جس میں فرما رہا ہے کہ آؤ میں تمہیں ایک سراسر نفع والی تجارت بتاؤں جس میں گھاٹے کی کوئی صورت ہی نہیں جس سے مقصود حاصل اور ڈر زائل ہوجائے گا وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول ﷺ کی رسالت پر ایمان لاؤ اپنا جان مال اس کی راہ میں قربان کرنے پر تل جاؤ، جان لو کہ یہ دنیا کی تجارت اور اس کے لئے کدو کاوش کرنے سے بہت ہی بہتر ہے، اگر میری اس بتائی ہوئی تجارت کے تاجر تم بن گئے تو تمہاری ہر لغزش سے…
Read the full tafseer →سورة الصَّف 17
یہ اس تجارت کے اصل فوائد ہیں جو آخرت کی ابدی زندگی میں حاصل ہوں گے۔ ایک، خدا کے عذاب سے محفوظ رہنا۔ دوسرے، گناہوں کی معافی۔ تیسرے، خدا کی اس جنت میں داخل ہونا جس کی نعمتیں لازوال ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
معارف و مسائل
تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ ، اس آیت میں ایمان اور مجاہدہ بالمال والنفس کو تجارت فرمایا ہے، کیونکہ جس طرح تجارت میں کچھ مال خرچ کرنے اور محنت کرنے کے صلہ میں منافع حاصل ہوتے ہیں ایمان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جان و مال خرچ کرنے کے بدلے میں اللہ کی رضا اور آخرت کی دائمی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں، جس کا ذکر اگلی آیت میں ہے کہ جس نے یہ تجارت اختیار کی اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا اور جنت میں اس کو پاکیزہ و بہترین مساکن و مکانات عطا فرما دے گا، جن میں ہر طرح کے آرام و عیش کے سامان ہوں گے جیسا کہ حدیث میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(تو منون باللہ ورسولہ وتجاھدون فی سبیل اللہ بامرالکم وانفسکم ذتکم خیر لکم ان کنتم تعلمون یفرلکم ذنوبکم ویدخلکم جنت تجری من تحتھا الانھر و مسکن طیبۃ فی جنت عدن ذلک الفوز العظیم) (11، 12)۔
(عربیت کے ایک اسلوب کی وضاحت)۔ عربیت کے اس اسلوب کی طرف جگہ جگہ ہم اشارہ کرتے آ رہے ہیں کہ جب امر یا نہی کے اندر موعظت اور نا صحانہ تلقین کا مضمون پیدا کرنا ہو تو ان کو خبریہ اسلوب میں کردیتے ہیں چناچہ اس آیت میں (تومنون) اور (تجاھدون) بظاہر تو خبر کے اسلوب میں ہیں لیکن یہ معنی میں امر کے ہیں۔ اس اسلوب کا فائدہ یہاں یہ ہوا کہ گویا ان کو نہایت شفقت کے ساتھ یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ ہم تمہیں نہایت نفع بخش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
13۔ 1 یعنی جب تم اس کی راہ میں لڑو گے اور اس کے دین کی مدد کروگے، تو وہ بھی تمہیں فتح و نصرت سے نوازے گا۔ " ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم " (سورة محمد) " ولینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیز " (الحج) آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اسے فتح قریب قرار دیا اور اس سے مراد فتح مکہ ہے اور بعض نے فارس و روم کی عظیم الشان سلطنتوں پر مسلمانوں کے غلبے کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ جو خلافت راشدہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوا۔
13۔ 2 جنت کی بھی، مرنے کے بعد اور فتح و نصرت کی بھی، دنیا میں، بشرطیکہ اہل ایمان ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہیں۔ " وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ " 3۔ آل عمران…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
8: تجارت میں کوئی چیز کسی کو دے کر اس کی قیمت حاصل کی جاتی ہے، اسی طرح ایک مسلمان اپنی جان و مال اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے صلے میں جنت اور عذاب سے رہائی عطا فرماتے ہیں۔ دیکھئے سورة توبہ : 111
Read the full tafseer →یغفرلکم ذونوبکم (16 : 21) ” اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا “۔ اس تجارت اور بھلائی کی یہ ایک بات ہی کافی ہے۔ اگر اس کے بعد کوئی اور کیا چاہے گا کہ اس کے گناہ معاف ہوجائیں یا اپنے لئے اور کیا ذخیرہ کرے گا۔ لیکن اللہ کے فضل وکرم کی حدود نہیں ہوتیں اس لئے۔
ویدخلکم فی جنت ” اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا “۔ اس سے بڑی تجارت اور کیا ہے کہ ایک مجاہد اپنی اس مختصر زندگی میں جہاد کرے ، وہ اپنی جان دے دے اور اس کے عوض اسے یہ باغات اور ابدی زندگی ملے اور بہترین مکانات اور نعیم مقیم میں رہے۔ اور یہ عظیم حقیقت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
8 یعنی اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرنا تو اللہ کا کام ہے۔ لیکن تمہارا فرض یہ ہے کہ ایمان پر پوری طرح مستقیم رہ کر اس کے راستہ میں جان و مال سے جہاد کرو۔ یہ سوداگری ہے جس میں کبھی خسارہ نہیں، دنیا میں لوگ سینکڑوں طرح کے بیوپار اور تجارتیں کرتے ہیں اور اپنا کل سرمایہ اس میں لگا دیتے ہیں محض اس امید پر کہ اس سے منافع حاصل ہوں گے اور اس طرح راس المال گھٹنے اور تلف ہونے سے بچ جائے گا۔ پھر وہ بذات خود اور اس کے اہل و عیال تنگدستی و افلاس کی تلخیوں سے محفوظ رہیں گے۔ لیکن مومنین اپنے جان و مال کا سرمایہ اس اعلیٰ تجارت میں لگائیں گے تو صرف چند روز افلاس سے نہیں، بلکہ آخرت کے دردناک عذاب اور تباہ کن…
Read the full tafseer →آیت 12{ یَغْفِرْلَــکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ } ”وہ تمہارے لیے تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں داخل کرے گا ان باغات میں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہوں گی“
{ وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ } ”اور بہت پاکیزہ مساکن عطا کرے گا رہنے کے باغات میں۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔“
اصل اور سب سے بڑی فوز و فلاح اور کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے۔ ایک بندئہ مومن کو چاہیے کہ دنیا کی کامیابیوں سے بےنیاز ہو کر اسی کامیابی کو اپنا ہدف بنائے۔ حتیٰ کہ غلبہ دین یا اقامت دین کے لیے جدوجہد کا نصب العین بھی آخرت کی کامیابی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
13 یعنی تمام دنیا میں اسلام کا نور پھیلانے والی اور دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے والی اللہ کی ذات ہے تاہم اللہ تعالیٰ نے اس کا ذریعہ اہل ایمان کو بنایا ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ جو وہ ارادہ کرچکا ہے وہ پورا کرکے رہے گا اور یہ کام تمہارے ہاتھوں ہوگا۔ تم سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اللہ کے وعدوں پر مکمل اعتماد کرو اللہ کے رسول کی پوری طرح اطاعت کرو۔ پھر اپنا مال، اپنا وقت، اپنی قابلیت حتیٰ کہ اپنی جانیں بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرنے میں لڑا دو ۔ اور یہ تمہارے لیے ایسی پُر منفعت تجارت اور نفع کا سودا ہے جس میں کبھی خسارے کا احتمال نہیں ہوسکتا۔ اس کے عوض آخرت میں تمہیں…
Read the full tafseer →16۔ جو قومیں آخرت پر یقین رکھنے کا دعوی کرتی ہیں، وہ اسے خوب سمجھے رہیں کہ انسان کی اصلی کامیابی یہی عالم آخرت کی مستقل پائیدار کا میابی ہے۔ لازوال مسرت بےپایاں راحت اور غم والم سے نجات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
اے ایمان والو ! کیا تمہیں وہ تجارت نہ بتائوں کہ جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچائے ؟ (تنجیکم) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، گویا کہ انہوں نے کہا ہاں، تم اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائو یعنی ایمان پر قائم رہو اور اپنی جان سے اور اپنے مالوں سے اللہ کے راستہ میں جہاد کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ بہتر ہے تو اس کام کو کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور صاف ستھرے گھروں میں جو جنت عدن (قابل رہائش) جنت میں ہوں گے یہ بڑی کامیابی ہے اور تم کو ایک دوسری نعمت بھی عطا کرے گا جس کو تم پسند کرتے ہو…
Read the full tafseer →یغفر لکم ذنوبکم و ید خلکم جنت تجری من تحتھا الانھر و مسکن طیبۃ فی جنت عدن ذلک الفوز العظیم
” جب ایسا کرو گے تو) اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تم کو (آخرت میں) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور عمدہ مکانوں میں داخل کر دے گا جو ہمیشہ باقی رہنے کے باغوں میں بنے ہوں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے
یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ : یہ جواب امر ہے یعنی اگر ایمان لاؤ گے اور جہاد کرو گے تو اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا ‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ استفہام محذوف کا جواب ہو ‘ استفہام محذوف پر استفہام مذکور دلا لت کر رہا ہے ‘ پورا کلام اصل میں اس طرح تھا ‘ کیا تم قبول کرو گے کہ میں تم…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ جہاد اور نفاق فی سبیل اللہ سے تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا اور تمہیں جنت کے باغوں میں داخل کرے گا او جو دار الرحمن میں ہوں گے یہ ان کے لیے بڑی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَ نْھٰرُ :”یعفر“ اور ’ ’ یدخل“ پر جزم ”تومنون“ اور ”تجاھدون“ کا جواب ہونے کی وجہ سے آئی ہے ، کیونکہ وہ امر کے معنی میں ہیں اور امر کے جواب میں مضارع آئے تو اس پر جزم آتی ہے۔
2۔ وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ :”مسکن طیبۃ“ کا خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ آدمی کی پسندیدہ ترین چیزوں میں اس کا مسکن بھی ہے جسے چھوڑے بغیر جہاد ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے پسندیدہ مساکن چھوڑنے کے عوض ”مسکن طیبۃ“ کی بشارت سنائی ، جن میں دوام کی خوبی بھی ہے ، جب کہ دنیا کے مساکین کسی کے پاس رہنے والے نہیں۔ سورة ٔ توبہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
تفسیر
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا…… مقاتل نے کہا : یہ آیت حضرت عثما بن مظعون کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : کاش ! آپ ﷺ مجھے اجازت دیتے تو میں خولہ کو طالق دیتا، رہبانیت اختیار کرتا، اپنے آپ کو خصی کرلیتا، گوشت کو اپنے اوپر حرام کرلیتا، رات کو کبھی بھی نہ سوتا اور دن کو کبھی بھی افطار نہ کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میری سنت میں سے نکاح بھی ہے، اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں میری امت کی رہبانیت اللہ کی راہ میں جہاد ہے، میری امت کا خصی ہونا روزہ رکھنا ہے، اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم پر حلال کی ہیں انہیں اپنے اوپر حرام نہ کرو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت کونوا انصار اللہ کو اضافت کے ساتھ پڑھا۔
5۔ عبد بن حمید وعبد الرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا کونوا انصار اللہ۔ اے ایمان والو ! اللہ کے دین کے مددگار ہوجاؤ۔ اور اللہ کی حمد کے ساتھ ایسا ہوا کہ ستر آدمی آئے اور انہوں نے عقبہ گھاٹی کے پاس آپ سے بیعت کی پھر انہوں نے آپ کی مدد کی۔ اور آپ کو پناہ دی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کردیا۔ اور ان کے علاوہ کسی قبیلے کو آسمان سے ایسے نام سے نہیں پکارا گیا جو اس سے پہلے تھے سوائے ان کے ہم کو یہ بتایا گیا ان میں سے کسی نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ تم…
Read the full tafseer →[يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ : تب وہ بخش دے گا تمہارے لیے تمہارے گناہوں ][وَيُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ : اور داخل کرے گا تم کو ایسے باغات میں ][ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْانهٰرُ : بہتی ہوں گی جن کے دامن میں نہریں ][ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً : اور ایسے پاکیزہ مکانوں میں جو ][ فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ : عدن کے باغات میں ہوں گے ][ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : یہ ہی شاندار کامیابی ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ایسی تجارت کی بشارت جو عذاب الیم سے نجات کا ذریعہ اور جنت ملنے کا وسیلہ ہوجائے
ان آیات میں اہل ایمان کو آخرت کی تجارت کی طرف توجہ دلائی ہے دنیا میں کھانے پینے، پہننے اور دیگر ضروریات کے لئے کسب مال کی ضرورت ہوتی ہے جسے بہت سے لوگ تجارت کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں اس میں بہت سے لوگ بہت زیادہ انہماک کرلیتے ہیں موت اور موت کے بعد کے حالات اور آخرت کے اجرو ثواب میں دھیان ہی نہیں دیتے زیادہ مال کی طلب میں ایسے لگتے ہیں کہ آخرت میں کام دینے والے اعمال کو بھول ہی جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ اے ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی تجارت اور سودا گری نہ بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دیدے، تجارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
دعوت اہل ایمان برائے تجارت رابحہ وترغیب برحصول فلاح وسعادت دنیا وآخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ....... الی ...... فاصبحوا ظھرین “۔
(ربط) گزشتہ آیات کا حاصل مضمون یہ تھا کہ اللہ رب العزت نے اپنے نبی آخرالزمان ﷺ کی بعثت سے دنیا کی ہدایت کا ارادہ فرمایا تاکہ انسان حق وہدایت کے ذریعہ دنیا وآخرت کی فلاح و کامیابی حاصل کرسکیں، اور اسی بشارت کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا لیکن ان کی بدنصیب قوم نے ان کی بات کو ٹھکرایا حق سے منہ موڑا اور جو کچھ نبی آخر الزمان ﷺ کی نشانیاں تھیں ان میں تحریف کی اب ان آیات میں اہل ایمان کو خطاب کرکے فرمایا جارہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
8:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ مومنین سے دوسرا خطاب ہے برائے ترغیب الی القتال۔ مومنو ! کیا میں تمہیں ایسا کاروبار بتاؤ جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے ؟ وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے۔ اس سے اللہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تم کو جنت کے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہ رہی ہوں گی اور صاف ستھرے مکانات میں داخل فرمائے گا جو بہشت ہائے جاودانی میں تیار ہیں اور آخرت میں دوزخ سے بچ کر ایسے بہشتوں میں داخل ہونا ہی بڑی کامیابی ہے۔ اور ایک اور چیز بھی تمہیں عطاء ہوگی۔ جسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ربط آیات :
پچھلی آیت میں ذکر تھا کہ اللہ نے اپنے برگزیدہ رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر مبعوث فرمایا ہے تاکہ اس دین کو تمام ادیان کے مقابلے میں غالب کردے خواہ مشرک لوگ اس کو ناپسندہی کریں۔ اللہ کے نزدیک سچا دین یہی دین اسلام ہے لہٰذا منشائے خداوندی یہی ہے کہ یہ دین باقی تمام ادیان پر غالب ہو۔ یہ غلبہ باعتبار دلیل اور برہان تو ہر وقت حاصل رہا ہے ، اور موجودہ دور میں بھی یہ غلبہ قائم ہے۔ مگر جس غلبہ کی بات یہاں ہورہی ہے اس سے ظاہری غلبہ مراد ہے یعنی اسلام کے نظام اور قانون کو بھی تمام ادیان عالم اور قوانین کے مقابلے میں غالب قرار دیاجائے… اور اس کو برتری حاصل ہو۔ اب اس مقصد کے حصول کے لئے عملی…
Read the full tafseer →يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَۃً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ 0 ۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ 12 ۙ
غفر
الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285]
( غر ) الغفر
( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ترکیب : ھل ادلکم الخ الجملۃ نداء ھل الاستفھام ایجاب و اخبار معنٰی وقیل المعنی سادلکم تنجیکم الجملۃ صفۃ تجارۃ قراء الجمہور تنجیکم من الابخاء ای بالتحفیف وقریٔ بالتشدید من التنجیۃ تؤمنون تفسیر لتجارۃ وقبل استیناف کانھم قالواکیف نعمل فقال تؤمنون باللہ وھوخبرفی معنی الامرویجوزان تکون فی موضع جرعلی البدل اوفی موضع رفع علی تقدیرھی وان محذوفۃ ولماحذفت بطل عملھا وتجاھدون عطف علیٰ تؤمنون ان کنتم شرط جو ابہ محذوف فافعلوہ یغفر مجزوم اما ھوجواب شرط محذوف دل علیہ الکلام تقدیرہ ان تؤمنوایغفرلکم واماان تؤمنون بمعنی آمنوا الخبر بمعنی الامرھذاقول الزجاج والمبردداماانہ جواب لماول علیہ الاستفھام والمعنی ھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ یَغْفِرْلَـکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْـکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ وَمَسٰکِنَ طَیِّـبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ط ذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ (الصف : 11، 12)
(تم ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی اور عمدہ مکانوں میں داخل کرے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر دین حق کو قبول اور اس کی اشاعت کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کرنے کے مترادف ہے۔ جس کے نتیجہ میں دنیا کی کامیابی حاصل ہوگی اور آخرت میں عذاب سے نجات پانے کے ساتھ جنت میں داخل ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو نفع اور نقصان کا شعور بخشا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ریڑھی بان کو معلوم ہوجائے کہ میرا سودا فلاں چوک اور بازار میں زیادہ بک سکتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ میں اس چوک اور بازار میں ریڑھی لگاؤں۔ مزدور کو معلوم ہو کہ مجھے فلاں شہر میں زیادہ مزدوری ملے گی، تو وہ زیادہ مزدوری پانے کے لیے اپنے بال بچے چھوڑ کر اس شہر کا رخ کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →12 : یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ (اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ اور تم کو آخرت میں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی اور عمدہ مکانوں میں داخل کر دیگا۔ جو ہمیشہ رہنے کے باغوں میں بنے ہوں گے) ۔ یعنی اقامت اور ہمیشگی کہا جاتا ہے۔ عدن بالمکانؔ جبکہ وہاں اقامت اختیار کرے اسی طرح کہا گیا ہے۔ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (یہ بڑی کامیابی ہے)
Read the full tafseer →11 ۔” تومنون باللہ ورسولہ وتجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم ذلکم خیرلکم ان کنتم تعلمون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
10۔ 13۔ اوپر ذکر تھا کہ کچھ لوگ نیک کاموں کے کرنے کا شوق ظاہر کرکے بھی اس پر قائم نہیں رہے آیتوں میں اسی کے متعلق فرمایا کہ اے ایمان والو اگر تم کو نیک کام کے اجر کمانے کا شوق ہے تو تم کو اس کمائی کے لئے ایسی سوداگری بتائی جاتی ہے جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے نقصان کا کہیں نام نہیں ہے پھر اس سوداگری کی تفصیل فرمائی کہ خالص دل سے اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری قبول کرو اور جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کے نافرمان ہیں ان کے راہ راست پر لانے میں جان و مال سے کوشش کرو اللہ کے رسول جو شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں اس کے برحق ہونے کا دل میں اعتقاد رکھنا اور زبان سے اس اعتقاد کے موافق قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
اس میں اخروی بھلائی بھی ہے یعنی اللہ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی چناچہ فرمایا (يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ) اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمادے گا اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیر ہی کیوں نہ ہوں۔ (وَيُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ) اور وہ تمہیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یعنی اس کے مساکن اس کے محلات اس کے بالاخانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہوگی ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
قول باری ہے (ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم، میں بتائوں تمہیں وہ تجارت جو تم کو عذاب الیم سے بچا دے) تا قول باری (نصر من اللہ وفتح قریب، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہونے والی فتح) اس کا شمار بھی دلائل نبوت میں ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نصرت اور فتح کا وعدہ فرمایا تھا اور ایمان لانے والوں کے حق میں یہ وعدہ پورا ہوگیا۔
Read the full tafseer →[ 25] اصل اور حقیقی کامیابی کی نشاندہی :
سو اس میں واضح ارشاد فرمایا گیا کہ جنت اور اس کی حقیقی اور ابدی نعمتوں سے سرفرازی ہی اصل اور حقیقی کامیابی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور انداز حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اصل اور حقیقی کامیابی یہی اور صرف یہی ہے، جس کے سامنے اس دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی بھی ہیچ ہے، سو تم لوگ ذرہ سوچو کہ یہ کتنی بڑی سعادت اور کیسی عظیم الشان کامیابی ہے کہ اس فانی دنیا کے حطام زائل اور متاع فانی کے عوض کونین کی اس عظیم الشان دولت سے سرفرازی کا سامان کیا جا رہا ہے جو لازوال ہے، کیا اپنی متاع فانی کے عوض ایسی بڑی کامیابی کا کوئی تصور بھی کیا جاسکتا ہے ؟ سو اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
غلبہ ٔ دین کی بشارت اور مومنوں کی تجارت
تشریح : اصل میں یہ آیات 3 ھ میں جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ احد کی جنگ میں مسلمانوں کو خاصی پریشانی اٹھانا پڑی تھی اور یہ پریشانی اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے کچھ غلط رویے اور سوچ کی وجہ سے سزا کے طور پر اٹھانی پڑی تھی۔ مگر اس عارضی پریشانی سے مسلمان ڈگمگا گئے تھے اور دشمن بڑا خوش اور دلیر ہوگیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف احد کے بعد کی کامیابیوں کا یقین دلایا بلکہ ہر دور ہر زمانے میں کامیابیوں اور اللہ کی خاص مدد کا یقین دلا دیا کہ سچے، پکے، متقی اور بہترین مسلمان کیوں کہ اللہ کا پسندیدہ انسان ہوتا ہے اس لیے فتح اس کو ضرور ملتی ہے۔ اور وعدہ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
آیات 10 تا 14۔
اسرار ومعارف۔
نظام اسلام۔
اے ایمان والو تمہیں سب سے اچھی تجارت اور سب سے اعلی کاروبار کے بارے خبر کردوں جو دنیا کا نفع بھی دے اور آخرت میں دردناک عذاب سے بھی بچالے تو وہ ہے واللہ پر ایمان کہ جس طرح رسول اللہ ماننے کا حکم دیں ویسا اللہ کو مانے اور اللہ کے رسول پر ایمان جس کی دلیل ہے زندگی کے اس نظام کو مانے جس کو رسول اللہ منوائیں اور اس کے نفاذ کے لیے جان ومال سے جہاد کرے تمہارے لیے یہی کام سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان جاؤ تو ایسے مجاہدین فی سبیل اللہ سے انسانی کمزوری کے باعث اگر غلطی ہوگئی تو بھی اللہ معاف فرمائے گا اور انہیں جنت کے خوبصورت گھروں اور بینظیر باغوں میں داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ف 4 ” عدن “ کے عنی رہنے کے بھی ہیں اور یہ جنت کے ایک حصہ کا نامھی ہے۔ اس لئے ” جنات عدن “ کا مطلب ” عدن کے باغ “ بھی ہوسکتا ہے اور ” ہمیشہ رہنے والے باغ بھی۔
Read the full tafseer →(61:12) یغفرلکم ذنوبکم : جواب شرط ہے اور شرط محذوف ہے۔ کلام یوں ہوگا :۔ اذا فعلتم ذلک یغفرلکم ذنوبکم (الخازن) ۔ جب تم ایسا کرو گے تو (اللہ) تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ (تفسیر مظہری)
یغفر مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) واحد مذکر غائب ۔ وہ بخش دیگا۔ وہ معاف کر دیگا۔ ذنوبکم : مضاف مضاف الیہ۔ ذنوب جمع ذنب کی۔ تمہارے گناہ۔
ویدخلکم : واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف یغفرلکم پر ہے مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط ہے۔ اور تم کو داخل کرے گا۔
جنت منصوب بوجہ مفعول فیہ ہے ۔ جنتوں میں۔ باغات میں۔
تحتھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ھا ضمیر کا مرجع جنت ہے۔ تحت نیچے۔ یہ فوق کی ضد ہے اسم ظرف مکان۔ ان کے نیچے۔
مسکن طیبۃ : موصوف و صفت۔ عمدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔
تشریح :
مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ایسی تجارت جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے۔
(ف 1) شان نزول : مومنین نے کہا تھا کہ اگر ہم جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو کون ساعمل بہت پسند ہے تو ہم وہی کرتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے مسلمانو اگر تم نیک کام کے اجر کمانے کا شوق ہے تو تم کو اس کمائی کے لیے ایسی سوداگری بتلائی جاتی ہے کہ جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے نقصان کا نام کہیں نہیں ہے ، پھر اس سوداگری کی تفصیل فرمائی کہ خالص دل سے اللہ اور اللہ کے رسول کے نافرمان ہیں ان کے راہ راست پر لانے میں جان ومال سے کوشش کرو، اللہ کے رسول جو شریعت اللہ کی طرف سے لائے ہیں اس کے برحق ہونے کا دل میں اعتقاد رکھنا، اور زبان سے اس اعتقاد کے موافق اقرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
[9] اشارہ ہے فتح مکہ کی طرف جس کی تمنا ہر مسلمان کے دل میں جاگزیں تھی کہ اسی پر اسلام کے اصل دشمنوں کی شکست کا انحصار بھی تھا اور یہی غلبہ حق کی سب سے بڑی شہادت بھی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ف 1: اس آیت میں مسلمانوں کو اسلام کی نصرت کے لئے ابھارا اور آمادہ کیا ۔ ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت کے لئے اور اس کے اعزاز وتفوق کے لئے کمر بستہ ہوجاؤ۔ اور اسی گرم جوشی اور استقلال کے ساتھ اسلام کی پکار کا استقبال کرو ۔ جس طرح حضرت مسیح کے حواریوں نے کہا تھا کہ نحن انصار اللہ حالانکہ مخالفین کی تعداد زیادہ تھی ۔ اور ہر طرح طاقتور تھے ۔ مگر تم نے دیکھا کہ یہ مومنوں کا گروہ بالآخر غالب آیا ۔ اور منکرین عیسائی ہوگئے یا مسیحی اقتدار رکے سامنے ان کی گرنیں جھک گئیں ۔ اس تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ اناجیل میں حضرت مسیح کی بےقدری اور تذلیل کا جو افسانہ مذکور…
Read the full tafseer →(12) اس پر اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہرہیہوں گی اور ان عمدہ نفیس اور پاکیزہ مکانوں میں داخل کرے جو دائمی باغات میں واقع ہوں گے یہ بہت بڑی کامیابی ہے - یعنی اگر تم ایسا کرو گے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائو گے اور جان ومال سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے پائیں نہریں بہتی ہوں گی اور ایسے نفیس اور پاکیزہ مکانات میں داخل فرمائے گا جو جنات عدن یعنی دائمی باغوں میں واقع ہوں گے اور ان نعمتوں کا حصول یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ف 5۔ اللہ پر جھوٹ باندھنا یہ کہ نبوت کی تکذیب ہے۔
6۔ واللہ لا یھدی اس لئے بڑھایا کہ ان کی حالت موجودہ اصلاح سے بعید ہوگئی، اس لئے سزائے قتال ہی تجویز کیا جانا مصلحت ہوا۔
Read the full tafseer →اللہ تمہارے گناہوں سے در گزر کرتے ہوئے ہمیشگی کے باغات میں داخل کر دے گا
12 ؎ انسان اور گناہ لازم و ملزوم ہیں ، اس سے مستثنیٰ ہیں تو صرف اور صرف وہ لوگ جن کو ملکوتی قوتوں کا اتنا غلبہ عطا کیا گیا ہے کہ انسان ہونے کے باوجود وہ معصوم قرار دے دیئے گئے ہیں اور بھول چوک جو اصل خاصہ انسان ہے وہ ان کے ساتھ بھی موجود ہے اگرچہ کم سہی ۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ ان قدسی وجودانسانوں کو مستثنیٰ کرنے کے بعد کوئی انسان ایسا ہو جس سے صدرور گناہ ممکن ہی نہ ہو ۔ نہیں نہیں یہ بات بالکل ممکنات میں سے ہے اس لیے اس کو ایمان کے منافی نہیں قرار دیا گیا بلکہ یہ عین ایمان ہے کہ انسان گناہ کرنے کے بعد اعتراف کرے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
Commentary
تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ( ...you believe in Allah and His Messenger, and carry out jihad in His way with your riches and your lives....61:11) This verse refers to 'faith and jihad (struggle) in Allah's way with one's wealth and life' as a trade, because when man invests wealth in trade and works hard, he gains profit. Likewise, when man believes in Allah and invests his life and wealth in His cause, he incurs Allah's pleasure and attains the eternal blessings of the Hereafter, which is mentioned in the…
Read the full tafseer →17 The actual profits of the bargain that they will attain in the eternal lift of the Hereafter are: (1) Immunity from the punishment of Allah; (2) forgiveness of sins; and (3> entry into the Paradise the blessings of which are eternal ana everlasting.
Read the full tafseer →