61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 61:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے جو چیز بھی آسمانوں میں ہے اور جو چیز بھی زمین میں ہے، اور وہی زبردست ہے حکمت والا ہے،1۔

1۔ (اس کی صفات قوت و حکمت کا عین مقتضی بھی یہی ہے کہ سب کے سب اس کی حمد وثنا کریں) (آیت) ’ سبح ..... الارض “۔ یہ تسبیح ہر مخلوق اپنے اپنے مرتبہ وجود و شعور کے مطابق ومتناسب ہی کرتی ہے۔
Ayahs 61:2–3

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ،

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک یہ بات بہت ناراضگی کی ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں،2۔

2۔ اسلام ہر مسلمان کو عملی انسان، سیرت کا پختہ اور کردار کا مضبوط اور مجاہد بنانا چاہتا ہے، اور نفاق بلکہ شائبہ نفاق سے بھی دور رکھنا چاہتا ہے۔ اسی لئے وہ قول وعمل کی مطابقت پر شدت سے مصر رہا۔ ان آیتوں کے نزول کا سبب قریب روایتوں میں یہ آیا ہے کہ بعض مسلمانوں نے آپس میں کہا تھا کہ ہم کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کے ہاں محبوب تر عمل کونسا ہے، تو ہم ضرور اسے کرڈالیں، حالانکہ اس کے قبل معرکہ احدم میں، بعض حضرات جہاد کے موقع پر ثابت قدم نہیں بھی رہے تھے، یہاں اسی پر گرفت ہے۔ (آیت) ” لم تقولون مالاتفعلون “۔ حاصل یہ کہ واعظ اور داعی کے لئے باعمل ہونا اور زیادہ ضروری ہے، یہ مطلب نہیں کہ عمل یا ضعیف العمل کے لئے دعوت ووعظ ناجائز ہے۔
Ayah 61:4

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

اللہ تو ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی رہ میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہیں،3۔

3۔ اپنی صف وقطار میں ذار شگاف نہیں پیدا ہونے دیتے) آیت میں حق تعالیٰ کے ہاں محبوبیت کا راز بتادیا۔ قتال فی سبیل اللہ، جم کر اور صف بستہ ہوکر۔ (آیت) ” کانھم بنیان مرصوص “۔ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے ساتھ مسلمان سپاہ کی قطار کی تشبیہ ثبات و استحکام کے لحاظ سے ہے۔
Ayah 61:5

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میرے قوم والو، تم مجھے کیوں ایذاء پہنچاتے ہو، درآنحالیکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں،4۔ پھر جب ان لوگوں نے کجی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو کج کردیا،5۔ اور اللہ (ایسے) نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا،6۔

4۔ (اور تمہارا یہ تمردد سرکشی ہرگز کسی اجتہادی غلطی یاعقلی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں) (آیت) ” وقد تعلمون “۔ اسرائیلیوں نے اپنی قوم کے پیغمبر اعظم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نافرمانی، سرکشی، عصیان وظغیان کا جو معاملہ تسلسل اور شدت کے ساتھ جاری رکھا تھا، قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر بکثرت آیا ہے، اور توریت میں تو اس سے بھی کہیں زیادہ تفصیل و تکرار کے ساتھ ملتا ہے لیکن اتنی تصریح تو قرآن مجید میں ہی موجود ہے کہ یہ تمرد تمامتر قصدا اور ارادتہ تھا، کسی عقلی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں نہ تھا۔ 5۔ (اور زیادہ) قرآن مجید میں اس ضابطہ تکوینی کا ذکر اسی کی اہمیت کی مناسبت سے بار بار اور طریقوں پر کرچکا ہے کہ یعنی جب حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کی ساری سعی تبلیغ ناکام رہی، اور یہود حضرت (علیہ السلام) کی اتنی افہام و تفہیم کے بھی بھی اپنی اسی روش تمرد پر قائم رہے۔ 6۔ یعنی جو دانستہ غلط راہ پر چلنے پر مصر ہیں، اور اپنے قصد صحیح سے کام لے کر راہ حق میں غور وتامل ہی نہیں کرتے، انہیں حق تعالیٰ ہدایت کی توفیق بھی نہیں دیتا کہ ایسے ضدی کج روؤں کو ہدایت بخشنے کے معنی تو انہیں ہدایت پر مجبور کردینے کے ہوئے، اور یہ نظام تکوینی کی حکمتوں ہی کے سرے سے منافی ہے۔ یہاں سے اور قرآن مجید کی اور بھی دوسری آیات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ جب ضد اور عناد کسی قوم میں اس قدر راسخ ہوجائے اور اس کی اصلاح کی امید باقی نہ رہ جائے تو پھر دفع مضرت کے لئے آخری تدبیر قتال کی ہے۔
Ayah 61:6

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا پیغمبر آیا ہوں تصدیق کرنے والا تورات کی جو مجھ سے پیشتر سے ہے،7۔ اور ایک رسول کی بشارت دینے والا، جو میرے بعد آنے والے ہیں جن کا نام احمد ہوگا،8۔ پھر جب وہ ان کے پاس کھلے نشانات لائے، تو وہ لوگ بولے کہ یہ تو صریح جادو ہے،9۔

7۔ تصدیق تو ہر پیغمبر اپنے سے قبل کے تمام الہامی نوشتوں کی کرتا ہے، لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خود اسرائیلی تھے، اور ان کے مخاطب بھی تمامتر اسرائیلی ہی تھے۔ اس لئے ذکر تصریح کے ساتھ صرف توریت ہی کا مناسب تھا۔ بنی اسرائیل پر، اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) پر، اور آپ (علیہ السلام) کی تصدیق تورات پر حاشیے کئی بار گزر چکے۔ (آیت) ” انی رسول اللہ الیکم “۔ اس ذرا سے فقرہ کے اندر ہی بہت سی گمراہیوں کی تردید آگئی، چناچہ اس کا اثبات ہوا کہ :۔ (1) آپ (علیہ السلام) کی بعثت بنی اسرائیل کی جانب تھی، کل دنیا کی جانب نہ تھی، موجودہ مسیحیت کی تردید۔ (2) اس کا اثبات کہ آپ (علیہ السلام) حق تعالیٰ کی طرف سے رسول برحق تھے، نعوذ باللہ کوئی مفتری نہ تھے۔ یہود کی تردید۔ (3) آپ (علیہ السلام) حق تعالیٰ کے ایک ممتاز ترین ومقرب ترین بندہ تھے، نعوذ باللہ خود الوہیت کے مدعی کسی معنی میں بھی نہ تھے۔ مسیحیت کی تردید۔ 8۔ انجیل آج جس صورت میں بھی مسیحیوں کے ہاتھ میں موجود ہے، احکام ومسائل شریعت یا قونون خداوندی کی دفعات سے یکسر خالی اور اسے مسیحی وغیر مسیحی ہر ایک دیکھ کر اپنا اطمینان کرسکتا ہے کہ احکام ومسائل شریعت کی ضرورت اس کے بھی جوں کی توں باقی ہے، حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اسی لئے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک اور رسول آئے گا۔ انجیل برنابا کے نام سے آج جو انجیل حواری برنابا کی جانب منسوب دنیا میں موجود ہے، اس میں تو یہ پیشگوئیاں بہت صاف اور بالکل کھلے لفظوں میں ہیں۔ لیکن خود مسیحیوں کو بھی جو چار انجیلیں مسلم ہیں، ان میں سے بھی ایک میں یہ عبارتیں آج تک مل رہی ہیں :۔ ” میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار (یاوکیل یا شفیع) بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔ “ (یوحنا۔ 14: 16) ” جب وہ مددگار یا وکیل یا شفیع آئے گا جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی سچائی کا روح جو باپ کی طرف سے نکلتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا۔ (15: 26) ” وہ آکر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصوروار ٹھہرائے گا “۔ (16: 7) مسیحی جس یونانی لفظ کے ترجمہ سے خود مطمئن نہیں ہیں، اور اس کا ترجمہ کبھی ” تسلی دہندہ “ سے کرتے ہیں کبھی ” مددگار “ سے کبھی ” وکیل “ کبھی ” شفیع “ سے وہ اصل میں (PERICLUTOS) ہے، جو صحیح ترجمہ لفظ ” احمد “ ہی (بمعنی محمودوستودہ) کا ہے۔ 9۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معجزات کو دیکھ کر یہود نے انہیں تمامتر سحر پر محمول کرنا شروع کردیا تھا، اناجیل مروجہ میں اس کے اشارے موجود ہیں :۔ ” اور فقیہ جو یروشلم سے آئے تھے یہ کہتے تھے کہ اس کے ساتھ بعلزبول ہے، اور یہ بھی کہ وہ بدروحوں کے سردار کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے۔ “ (مرقس 3: 24) ” فریسیوں نے سن کر کہا کہ یہ بدروحوں کے سردار بعلزبول کی مدد کے بغیر بدروحوں کو نہیں نکالتا “۔ (متی۔ 12: 24) ’ A فریسیوں نے کہا کہ یہ تو بدروحوں کے سردار کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے۔ “ (متی۔ 9: 34) اور تالمود میں تو یہود کے قلم سے صراحتیں لکھی چلی آئی ہیں۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” جآء ھم “ میں واحد کی ضمیر فاعلی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جانب ہے، اور ہم کی جمع ضمیر مفعول بنی اسرائیل یا ان کے سرداروں کی جانب ہے۔
Ayah 61:7

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے درآنحالیکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہو،10۔ اور اللہ (ایسے) ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا،11۔

10۔ یعنی دعوت اور تنبیہ کا پورا سامان موجود ہے، اور پھر بھی وہ تنبہ نہ حاصل کرے ! (آیت) ” افتری علی اللہ الکذب “۔ بشرکو بشریت کے مرتبہ سے خدا کے درجہ تک پہنچا دینا، کتب سماوی میں تحریف و تصرف کردینا کفارہ وغیرہ کے گڑھے ہوئے عقیدوں کو حق تعالیٰ کی جانب منسوب کردینا سب مثالیں (آیت) ” افتری علی اللہ “۔ ہی کی ہیں۔ 11۔ ابھی جو حاشیہ (آیت) ” واللہ لایھدی القوم الفسقین “۔ پر گزرا ہے، اسے ملاحظہ کرلیا جائے۔ (آیت) ” الظلمین سے مراد وہی اپنے حق میں ظلم کرنے والے، اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔
Ayah 61:8

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا کر رہے گا گو کافروں کو (کیسا ہی) گراں گزرے،12۔

12۔ یعنی اللہ تو بہرحال اپنے دین کی جڑوں کی مضبوط جما کر رہے گا، مخالفین ومعاندین کی ساری کوششوں اور مزاحمتوں کے باوجود۔ (آیت) ” یریدون .... بافواھم “۔ مخالفین ومعاندین علاوہ عملی تدبیروں کے، زبان اور منہ سے بھی تو رد واعتراض کی باتیں کیا کرتے تھے اور قومی شبہات دلوں میں ڈالتے رہتے تھے ، (آیت) ” یریدون “۔ کی ضمیر جمع فاعلی سے اشارہ سارے ہی مخالفین اسلام کی جانب ہوگیا۔ (آیت) ” نور اللہ “۔ یعنی دین اسلام۔
Ayah 61:9

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کردے، گو مشرکوں کو (کیسا ہی) گراں گزرے،13۔

13۔ (اور وہ کیسی ہی جان توڑ کوششیں اس کی مخالفت میں کرڈالیں) (آیت) ” لیظھرہ علی الدین کلہ “۔ یعنی سارے باطل ادیان و مذاہب اس دین حق کے دلائل وبراہین کے آگے دب جائیں۔ (آیت) ” ولوکرہ المشرکون “۔ دین توحید کے استحکام و ترقی سے جلنے والا اور ناگواری محسوس کرنے والا مشرکوں سے بڑھ کر اور کون ہوسکتا ہے ؟
Ayah 61:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

اے ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی سوداگری بتادوں، جو تمہیں عذاب دردناک سے بچادے ؟ ،14۔

14۔ سوال کا جواب اگلی آیت میں آرہا ہے، اس طرح کے درمیانی سوالات کرتے جانا عربی خطابت میں عام تھا اور عربی اسلوب بلاغت کا ایک اہم جزو۔ (آیت) ” علی تجارۃ “۔ قرآن کے مخاطبین اول قریش عرب ایک زبردست تجارت پیشہ قوم اور بڑے کاروباری لوگ تھے قرآن مجید کا ان سے مخاطبت میں تجارتی، معاشی کاروبانی اصطلاحیں، بیع شراء مال، ریح، خسران، اشتراء، ثمن، قرض، قرض حسن، دین، ربوا وغیرہ لانا ان مخاطبین کی خاص رعایت رکھنا ہے۔
Ayah 61:11

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

) وہ یہی ہے کہ) تم لوگ اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ، اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو تمہارے حق میں یہی بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو،15۔

15۔ (حقائق امور کا) انوکھی تجارت کی تفسیر اس آیت نے خود کردی۔
Ayah 61:12

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی اور عمدہ مکانوں میں (داخل کرے گا) جو ہمیشہ رہنے والے باغوں میں ہوں گے، یہی بڑی کامیابی ہے،16۔

16۔ جو قومیں آخرت پر یقین رکھنے کا دعوی کرتی ہیں، وہ اسے خوب سمجھے رہیں کہ انسان کی اصلی کامیابی یہی عالم آخرت کی مستقل پائیدار کا میابی ہے۔ لازوال مسرت بےپایاں راحت اور غم والم سے نجات۔
Ayah 61:13

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور ایک اور (ثمرہ بھی) کہ وہ تمہیں محبوب ہے (یعنی) اللہ کی طرف سے مدد اور جلد فتح یابی اور آپ ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے،17۔

17۔ (دنیا میں اسی قریبی فتح ونصرت کی) (آیت) ” واخری تحبونھا “۔ یعنی اس اخروی ثمرہ کے علاوہ ایک اور ثمرۂ ایمان وطاعت، جو تمہیں طبعا محبوب بھی ہے۔ ثمرات آخرت کیسے ہی بیش بہا، گراں قدر، بےمثال ہوں، بہرحال انتظار طلب ہیں انسان طبعی وخلقی طور پر اس بڑے اور انتہائی ثمرہ کے علاوہ ثمرات عاجل کا بھی طلبگار رہتا ہے، اور قرآن سے بڑھ کر بشری جذبات کی رعایت کرنے والا اور کون ہوگا ؟ (آیت) ” نصر ..... قریب “۔ مسلمانوں کی عظیم الشان اور حیران کن فتح مندیوں کی پیشگوئی کا ظہور ووقوع جس شاندار طریقہ پر سارے حجاز کے ایک ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں، اور پھر خلافت راشدہ کے زمانہ میں، ایران، اور رومہ اور شام اور مصر، اور عراق کی سرزمینوں پر ہو کر رہا۔ اس کی گواہ دنیا کی ساری تاریخ ہے۔
Ayah 61:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

اے ایمان والو مددگار ہوجاؤ اللہ کے (دین کے) جیسا کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے حواریوں سے فرمایا کہ کون میرا مددگار ہوتا ہے، اللہ کے واسطے ؟ ،18۔ حواری بولے کہ ہم مددگار (ہوتے) ہیں اللہ کے (دین کے) پھر بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ منکر رہا،19۔ پھر ہم نے ایمان والوں کا ساتھ ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں دیا سو وہ غالب ہوگئے،20۔

18۔ یعنی دین حق کی تبلیغ کے معرکوں میں کون میرا شریک ورفیق ہوتا ہے ؟ (آیت) ” حوارین “۔ پر حاشیے سورة آل عمران (پ 3) میں گزر چکے، اور (آیت) ” عیسیٰ ابن مریم “۔ پر اس کے قبل “۔ کما ....... اللہ “۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت فرمایا، جب آپ (علیہ السلام) مخالفوں اور دشمنوں سے گھرے ہوئے تھے، اناجیل مروجہ میں آپ (علیہ السلام) کی اس نصرت طلبی کے سلسلہ میں ہے :۔ ” اس کے بارے میں مقرر کیا تاکہ اس کے ساتھ رہیں، اور وہ انہیں بھیجے کہ منادی کریں “۔ (مرقس۔ 3: 14) ” وہ ان سے کہنے لگا کہ فصل تو بہت ہے لیکن مزدور تھوڑے ہیں، اس لیے فصل کے مالک کی منت کرو کہ اپنی فصل کاٹنے کے لئے مزدور بھیجے (لوقا۔ 1: 1، 2) (آیت) ” انصار اللہ “۔ مراد انصار دین اللہ سمجھی گئی ہے۔ اے انصار دین اللہ (کبیر) (آیت) ” کونوا انصار اللہ “ یعنی اللہ کے دین کی نصرت مستقلااختیار کرلو، اور اسی پر جمے رہو۔ امر بادامۃ النصرۃ والثبات علیہ اے دوموا علی ما انتم علیہ من النصرۃ (کبیر) (آیت) ” کما قال الحواریوں “۔ الخ تشبیہ سے مراد یہ ہے کہ تم بھی نصرت دین میں اسی طرح ہوجاؤ جس طرح حواریین عیسیٰ (علیہ السلام) تھے آیت سے یہ بات بھی صاف ہوگئی کہ نصرت دین کا اور انصار اللہ بننے کا حصر کچھ قتال و جہاد ہی پر نہیں، اس لیے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تو قتال ایک بار بھی نہیں کیا تھا اور پھر بھی آپ کے حواریوں کی نصرت دین کو بطور نمونہ پیش کیا گیا۔ 19۔ (انہیں حواریوں کی کوشش کے باوجود) (آیت) ” فامنت طآئفۃ “۔ ان ایمان لانے والوں کی تعداد، روایات یہود کے مطابق 300 سے لے کر 330 تک پہنچتی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ 20۔ چناچہ تبلیغ دین حق کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہوسکی، اور مخالفین اپنے سارے اثر، قوت، غلبہ، وجاہت کے باوجود مسیح کی دعوت کو پھیلنے سے نہ روک سکے، حضرت مسیح کو اپنی زندگی میں مقابلہ دہری دہری مخالفتوں کا کرنا پڑا۔ ایک تو خود آپ کی قوم یہود جسے اس وقت اس کے وطن فلسطین میں ایک نیم خود مختارانہ حکومت حاصل تھی، آپ (علیہ السلام) کی شدید ترین مخالفت ہوگئی تھی، اور پھر حکومت وقت رومی سلطنت کا مذہب شرک، بت پرستی تھا صدائے توحید ان کے لئے تازیانہ کا حکم رکھتی تھی، اس ساری مخالفانہ فضا کے باوجود آپ ﷺ کو جو بھی کامیابی ہوئی، تمامتر تائید غیبی کا نتیجہ تھی، آیت سے کتنا بڑا درس ہمت و عزیمت کا مسلمانوں کو مل رہا ہے۔