61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsانوار البیان

Ayah 61:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

(61:1) سبح اللہ : سبح ماضی واحد مذکر غائب تسبیح (تفعیل) مصدر اس نے پاکی بیان کی۔ تسبیح بمعنی سبحان اللہ کہنا۔ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا۔ ما فی السموت : ما موصولہ فی السموت اس کا صلہ ۔ جو کوئی چیز آسمانوں میں ہے (نیز ملاحظہ ہو 57:1) العزیز : غالب۔ زبردست، عذۃ سے (فعیل) کے وزن پر بمعنی فاعل۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ الحکیم : حکمت والا۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 61:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

مومنو ! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جو کیا نہیں کرتے

(61:2) لم یہ لفظ مرکب ہے لام تعلیل اور ما استفہامیہ ہے۔ ما کے الف کو تخفیفا ساقط کردیا گیا ہے ۔ کیوں ۔ کس وجہ سے۔ کس لئے۔ مالا تفعلون : ما موصولہ۔ لا تفعلون صلہ۔ جو تم کرتے نہیں۔
Ayah 61:3

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

خدا اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں

(61:3) کبر مقتا : کبر ماضی ، واحد مذکر غائب۔ کبر و کبر (باب کرم) مصدر۔ عربی زبان میں جس لفظ کا اصلی مادہ ک ب ر سے مرکب ہوتا ہے اس کے مفہوم میں بڑائی کے معنی ضرور ہوتے ہیں۔ لیکن بڑائی کی نوعیت جدا جدا ہوتی ہے۔ جیسے الکبیر المتعال (13:9) مرتبہ اور عظمت میں بڑائی۔ اصابہ الکبر (3:266) عمر میں بڑائی۔ پیری۔ بڑھاپا۔ فیہما اثم الکبر (3:219) گناہ میں بڑائی۔ وغیرہ۔ مقتا۔ بغض، عناد۔ غصہ۔ بیزاری، (باب نصر) سے مصدر ہے۔ بوجہ تمیز منصوب ہے ازروئے بیزاری، ازروئے ناپسندیدیگی۔ عند اللہ : متعلق کبر ہے۔ ان تقولوا : ان مصدریہ ۔ تقولوا مضارع منصوب بوجہ عمل ان جملہ ان تقولوا ب تاویل مصدر فاعل ہے۔ مالا تفعلون : ما موصولہ لا تعقلون صلہ ہے ۔ جو تم نہیں کرتے۔ ترجمہ ہوگا :۔ تمہاری وہ بات جو تم عملاً نہیں کرتے اللہ کے نزدیک بڑی ناپسندیدہ ہے۔
Ayah 61:4

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی راہ میں (ایسی طور) پر پرے جما کر لڑتے ہیں گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں وہ بیشک محبوب مددگار ہیں

(61:4) صفا : قطار۔ صف۔ یہ اصل میں صف یصف (باب نصر) کا مصدر ہے۔ جس کے معنی قطار باندھنے کے آتے ہیں اور خود قطار کے معنی میں بھی بطور اسم مستعل ہے ۔ صف قطار۔ صف، جس کی جمع صفوف ہے۔ صاف اسم فاعل ۔ صف یا قطار باندھنے والا۔ جمع صافون جیسے کہ قرآن مجید میں ہے :۔ وانا لنحن الصافون (37:165) اور ہم ہی ہیں قطار باندھنے والے۔ کانھم : کان حرف مشبہ بفعل۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب گویا وہ (ہیں) بنیان : عمارت ، یہ واحد ہے جمع نہیں کیونکہ بنیان مرصوص میں بنیان کی صفت بھی مذکر ہے جمع ہوتی تو صفت مؤنث ہوتی۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ بنیان ، بنیانۃ کی جمع ہے جیسے شعیر شعیرۃ کی اور تمر تمرہ کی اور نخل نخلۃ کی اور اس قسم کی جمع کی تذکیر و تانیث دونوں جائز ہیں۔ مرصوص : رص (باب نصر) سے مصدر۔ اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ رص عمارت کو خوب بھینجی ہوئی بنانا۔ مرصوص سیسہ پلایا ہوا۔ مضبوط، ایسی عمارت کہ اس کے اجزاء کا باہم اتنا پیوستہ ہوجانا کہ خلا بالکل نہ رہے۔ صفا حال ہے یقاتلون کی ضمیر فاعل سے۔ فی سبیلہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ کانھم بنیان مرصوص یہ بھی یقاتلون کی ضمیر فاعل سے حال ہے
Ayah 61:5

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔ تو جب ان لوگوں نے کجروی کی خدا نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے اور خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

(61:5) واذا قال موسی۔ کلام مستانفہ ہے واؤ عاطفہ) ۔ اس سے قبل کلام محذوف ہے۔ ای اذکر الوقت اذقال موسی۔ (یعنی اے محمد ﷺ یاد کرو وہ وقت جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا) ۔ یا اذکر لہؤلاء المعرضین عن القتال وقت قول موسیٰ لقومہ۔ اب دشمنان دین سے قتال پر اعتراض کرنے والوں کو وہ وقت یاد کراؤ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا۔ یقوم ۔۔ رسول اللہ الیکم۔ یہ قال کا مقولہ ہے۔ لم : کیوں ، کس لئے (ملاحظہ ہو آیت 61:2 متذکرہ الصدر) تؤذوننی۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ ایذاء (افعال) مصدر۔ نون وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم ہے۔ تم مجھے ستاتے ہو۔ تم مجھے ایذاء دیتے ہو۔ وقد تعلمون انی رسول اللہ الیکم۔ جملہ حالیہ ہے اسن کے انکار کی تاکید کے لئے آیا ہے۔ قد تحقیق کے معنی میں اور مضارع کا استعمال استمرار کے لئے ہے۔ فلما :تعقیب کا ہے لما حرف شرط ہے۔ لما زاعوا جملہ شرط ہے۔ ازاع اللہ قلوبہم جملہ جزائیہ ہے۔ بعض کے نزدیک لما حرف شرط نہیں ہے بلکہ اسم ظرف ہے حین کا ہم معنی۔ زاغوا۔ ماضی جمع مذکر غائب زیغ (باب ضرب) مصدر۔ وہ پھرگئے۔ وہ کج ہوگئے وہ بہک گئے۔ ازاغ اللہ قلوبھم : ازاغ ماضی واحد مذکر غائب ازاغۃ (افعال) مصدر۔ قلوبھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ مل کر مفعول فعل ازاغ کا۔ اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ واللہ لا یھدی القوم الفسقین : جملہ معترضہ تذییلی۔ مضنوب ما سبق کی تاکید کے لئے۔ یعنی کج رؤوں کے دلوں کو ٹیڑھا کردینا۔ اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت یاب نہیں کرتا۔ القوم الفسقین۔ موصوف و صفت مل کر لایدھدی کا مفعول۔
Ayah 61:6

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں (اور) جو (کتاب) مجھ سے پہلے آچکی ہے (یعنی) تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہو (پھر) جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

(61:6) واذ قال عیسی۔ اس کا عطف اذ قال موسیٰ پر ہے اور یاد کرو وہ وقت جب عیسیٰ نے کہا۔ یبنی اسرائیل ۔۔ اسمہ احمد۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے اور قال کا بیان ہے۔ مصدقا۔ حال مؤکدہ۔ اس میں عامل رسول ہے مصدقا لما بین یدی من التوراۃ : ای مصدقا لما تقدمنی من التوراۃ۔ میں تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی جو مجھ سے پہلے (موجود) ہے۔ ما بین یدی : ما موصولہ۔ بین یدی مضاف مضاف الیہ مل کر صلہ، بین یدی ای قبلی۔ میرے سے پہلے، ایسر التفاسیر (نیز ملاحظہ ہو بین ایدیہن 60:12) مبشرا۔ یہ بھی حال ہے۔ یعنی اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں بحالیکہ میں تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی جو میرے سے پہلے موجود ہے اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آنے والا ہے۔ اسمہ احمد : اسمہ مضاف مضاف الیہ ہ کی ضمیر کا مرجع رسول ہے۔ جس کا نام احمد ہے۔ یہ رسول کی نعت ہے (یعنی حضرت محمد ﷺ کا دوسرا نام ہے) فلما :تعقیب کا ہے لما بمعنی حین اسم ظرف زمان ہے۔ پھر جب ، پس جب فلما جاء ھم بالبینت قالوا ھذا سحر مبین : لفظی ترجمہ ہوگا :۔ پس جب وہ آیا ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔ فائدہ : (1) جاء کی ضمیر فاعل اگر عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے تو ہم ضمیر کا مرجع بنی اسرائیل ہیں۔ اور اگر جاء کی ضمیر فاعل کا مرجع احمد (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ ) ہے تو ہم سے مراد کفار قریش ہوں گے۔ اول الذکر کی صورت میں بینات سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات ہوں گے مثلاً مردوں کو زندہ کرنا۔ مادر زاد اندھوں بینا کرنا وغیرہ۔ مؤخر الذکر کی صورت میں ان سے مراد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معجزات ہوں گے۔ مثلاً شق القمر، اور سب سے بڑھ کر دوامی معجزہ قرآن مجید پیش کرنا۔ (2) اسی طرح قالوا سے مراد اول الذکر میں بنی اسرائیل ہوں گے اور دوسری صورت میں کفار مکہ۔ (3) ھذا سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت میں ان کے معجزات یا ان کی ذات ، اور دوسری صورت میں رسول کریم ﷺ کے معجزات یا ان کی ذات مبارکہ۔ (4) ھذا سحر مبین۔ بیضاوی لکھتے ہیں :۔ الا شارۃ الی ما جائیہ اوالیہ وتسمیتہ سحرا للمبالغت (اس میں) اشارہ ہے ان بینات کی طرف جو وہ لائے یا ان کی ذات کی طرف ان کو یعنی ان کی کھلی ہوئی نشانیوں کو یا ان کی ذات کو سحر۔ بیان کرنا مبالغہ کے لئے ہے۔
Ayah 61:7

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون کہ بلایا جائے تو اسلام کی طرف اور وہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

(61:7) ومن۔ واؤ عاطفہ۔ من استفہامیہ ہے۔ اظلم ظلم سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ ظالم۔ زیادہ حق سے تجاوز کرنے والا۔ ممن۔ مرکب ہے من حرف جار اور من اسم موصول سے۔ اس سے جو ۔۔ افتری : ماضی واحد مذکر غائب افتراء (افتعال) مصدر سے جس کے معنی ہیں بہتان باندھنا۔ افتری اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان باندھا۔ الکذب۔ جھوٹ کا۔ افتری کا مفعول ہے۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ وھو یدعی الی الاسلام : جملہ حالیہ ہے۔ حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ ھو سے مراد وہ شخص جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے۔ یدعی مضارع مجہول واحد مذکر غائب دعوۃ باب نصر مصدر۔ اس کو بلایا جاتا ہے۔ واللہ لا یھدی القوم الظلمین : اور اللہ ایسے ظالم (ناحق شناس) لوگوں کو ہدایت یاب نہیں کرتا۔ یہ جملہ مضمون سابق کی تاکید کے لئے آیا ہے۔
Ayah 61:8

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ خدا (کے چراغ) کی روشنی کو منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں۔

(61:8) یریدون ۔۔ بافواہہم۔ یہ جملہ ان کے افتراء کی غرض وغایت بیان کرتا ہے۔ یریدون : مضارع جمع مذکر غائب ارادۃ (افعال) مصدر وہ چاہتے ہیں۔ لیطفئوا یہاں ان مقدرہ ہے لام زائدہ تاکید کے لئے آیا ہے۔ کلام یوں ہوگا :۔ یریدون ان یطفئوا : یطفئوا مضارع منصوب (بوجہ عمل ان مقدرہ) جمع مذکر غائب اطفاء (افعال) مصدر۔ کہ وہ بجھا دیں۔ طفئت النار کے معنی آگ بجھ جانے کے ہیں اور اطفا تھا (افعال) کے معنی پھونک سے بجھا دینے کے ہیں۔ ط ب ء مادہ نور اللہ۔ مضاف مجاف الیہ۔ اللہ کا نور۔ اللہ کے دین کی روشنی۔ اللہ کا دین۔ اس سے مراد قرآن مجید اور حضور نبی کریم ﷺ بھی ہوسکتے ہیں۔ بافواہہم۔ ب استعانت کی ہے۔ افواہہم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کے منہ بافواھھم۔ اپنے منہ سے (پھونک مار کر) ۔ افواہ فم کی جمع ہے۔ فم اصل میں فوہ تھا ہ کو گرا کر واؤ کو م میں بدل دیا گیا۔ واللہ متم نورہ جملہ حالیہ ہے اللہ مبتدا۔ متم نورہ اس کی خبر۔ متم اسم فاعل واحد مذکر ۔ مضاف۔ اتمام (افعال) مصدر سے ، پورا کرنے والا، کامل کرنے والا۔ نورہ مضاف مضاف الیہ مل کر متم کا مضاف الیہ۔ حال یہ ہے کہ اللہ اپنے نور کو کامل کرنے والا ہے لو : خواہ۔ لو متصلہ ہے۔ یعنی کافروں کی خوشی ہو یا نہ ہو دونوں برابر ہیں۔ کرۃ : ماضی واحد مذکر غائب کراھۃ (باب سمع) مصدر۔ ناپسند کرنا۔ برا جاننا۔ نفرت کرنا (منکرین پڑے برا مانا کریں۔ خواہ کافر اس کو سخت ناپسند کریں)
Ayah 61:9

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو برا ہی لگے۔

(61:9) ھو الذی۔ وہ ذات ہے جس نے۔ الھدی : ای القران۔ دین الحق۔ اس کا عطف الھدی پر ہے ای وبدین الحق۔ دین حق۔ دین الٰہی اسلام۔ ملت حنفیہ۔ لیظھرہ۔ لام تعلیل کا۔ یظھر مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) اظھار (افعال) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع دین حق ہے۔ یظھر کی ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ تاکہ وہ اس کو غالب کر دے۔ الدین کلہ : ای جمیع الادیان المخالفۃ۔ اسلام کے مخالف جملہ دین۔ ولو کرہ المشرکون۔ مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں۔
Ayah 61:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

مومنو ! میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں عذاب الیم سے مخلصی دی۔

(61:10) ہل حرف استفہام ہے، مضارع پر داخل ہو کر اس کو مستقبل کے معنی کے لئے مخصوص کردیتا ہے۔ کیا ؟ تحقیق بمعنی قد کے لئے بھی آتا ہے۔ ادلکم علی : ادل مضارع واحد متکلم دلالۃ (باب نصر) مصدر۔ علی کے صلہ کے ساتھ۔ کسی طرف رہنمائی کرنا۔ بتانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر، کیا میں تم کو بتاؤں یا آگاہ کروں۔ یا تمہاری راہنمائی کروں۔ تنجیکم : تنجی مضارع واحد مؤنث غائب انجاء (افتعال) مصدر۔ نجات دینا۔ نجات پانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو نجات دے۔ وہ تم کو بچالے۔ یا۔ بچالیگی۔ ن ، ج، د، مادہ۔
Ayah 61:11

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

(وہ یہ کہ) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

(61:11) تؤمنون باللہ۔ مضارع واحد مؤنث غائب ایمان (افعال) مصدر۔ تم ایمان لاؤ گے۔ یا لاتے ہو۔ اللہ کے ساتھ۔ ویجاھدون واؤ عاطفہ۔ تجاھدون صیغہ جمع مذکر مضارع معروف۔ مجاھدۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ بمعنی دشمن کی مدافعت میں مقدور بھر کوشش و طاقت صرف کرنا۔ تم جہاد کرتے ہو۔ جہاد کی تین قسمیں ہیں :۔ (1) ظاہری دشمن سے جہاد۔ (2) شیطان سے جہاد۔ (3) نفس سے جہاد۔ تجاھدون کا عطف تؤمنون پر ہے۔ جملہ تؤمنون باللہ ۔۔ وانفسکم استیناف بیانیہ ہے۔ جیسا کہ کہا جائے ما ھذہ التجارۃ ؟ ولنا علیہا۔ اور جواب میں کہا جائے : تؤمنون باللہ ۔۔ الخ۔ ہر دو مواقع پر (تؤمنون ، وتجاھدون) مضارع بمعنی امر ہے ۔ پوچھا جائے وہ کونسی تجارت ہے جو ہمیں عذاب الیم سے نجات دے گی ؟ اور جواب دیا جائے کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے۔ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون ۔ ان کنتم تعلمون جملہ شرط ہے ۔ شرط مؤخر۔ ذلکم خیر لکم جواب شرط مقدم ہے۔ ذلکم : ذا اسم اشارہ کم ضمیر جمع مذکر حاضر خطاب کے لئے ہے۔ یہ یہی۔ اس میں ایمان باللہ ایمان بالرسول و جہاد فی سبیل اللہ مشار الیہ ہے۔ خیر افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ یعنی خواہشات کی پیروی کرنے اور جان و مال کو راہ خدا میں خرچ نہ کرنے سے بہتر ہے۔ ان کنتم تعلمون : اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو تو سمجھو اور یہ تجادت کرو اس کو نہ چھوڑو۔
Ayah 61:12

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو باغہاے جنت میں جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور پاکیزہ مکانات میں جو بہشت ہائے جاودانی میں (تیار) ہیں داخل کرے گا یہ بڑی کامیابی ہے

(61:12) یغفرلکم ذنوبکم : جواب شرط ہے اور شرط محذوف ہے۔ کلام یوں ہوگا :۔ اذا فعلتم ذلک یغفرلکم ذنوبکم (الخازن) ۔ جب تم ایسا کرو گے تو (اللہ) تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ (تفسیر مظہری) یغفر مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) واحد مذکر غائب ۔ وہ بخش دیگا۔ وہ معاف کر دیگا۔ ذنوبکم : مضاف مضاف الیہ۔ ذنوب جمع ذنب کی۔ تمہارے گناہ۔ ویدخلکم : واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف یغفرلکم پر ہے مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط ہے۔ اور تم کو داخل کرے گا۔ جنت منصوب بوجہ مفعول فیہ ہے ۔ جنتوں میں۔ باغات میں۔ تحتھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ھا ضمیر کا مرجع جنت ہے۔ تحت نیچے۔ یہ فوق کی ضد ہے اسم ظرف مکان۔ ان کے نیچے۔ مسکن طیبۃ : موصوف و صفت۔ عمدہ مکان۔ منصوب بوجہ معطوف ہونے جنت کے۔ مساکن جمع ہے مسکن کی ۔ بمعنی گھر۔ مکان ۔ منزلیں۔ سکون سے اسم ظرف مکان ہے۔ جنت عدن۔ مضاف مضاف الیہ۔ عدن کے باغات۔ عدن سات جنتوں میں ایک کا نام ہے۔ اسم علم ہے۔ بعض کے نزدیک یہ جنت کی صفت ہے ۔ اور جنت عدن موصوف صفت ہے یعنی دائمی طور پر بسنا۔ ایسے باغات میں جہاں دائمی طور پر ، سدا بسنا ہوگا۔ ذلک یعنی گناہوں کی مغفرت اور جنت میں داخلہ۔ الفوز العظیم۔ موصوف و صفت۔ بہت بڑی کامیابی۔
Ayah 61:13

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی تمہیں) خدا کی طرف سے مدد (نصیب ہوگی) اور فتح (عن) قریب ہوگی اور مومنو کو (اس کی) خوشخبری سنا دو

(61:13) واخری۔ تقدیر کلام یوں ہے ویعطیکم اخری اے یعطیکم نعمۃ اخری اور وہ تمہیں ایک اور نعمت عطا کرے گا۔ اخری منصوب بوجہ یعطیکم کے مفعول ثانی ہونے کے۔ نعمۃ کی صفت کے ہے۔ تحبونھا : ای التی تحبوبھا۔ جسے تم پسند کرو گے۔ نصر من اللہ وفتح قریبخبر ہیں مبتداء محذوف کی۔ ای ہی نصر من اللہ یعنی وہ نعمت اخری اللہ کی مدد ہے اور جلد فتح یابی وبشر المؤمنین اور (اے رسول) آپ ایمان والوں کو بشارت دیدیجئے۔ صاحب تفسیر مظہرہ اس جملہ کی تفسیر میں رقمطراز ہیں :۔ وبشر المؤمنین : یعنی آپ قریبی فتح اور نصرت کی جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے مسلمانوں کو بشارت دیدیجئے۔ یایھا الذین امنوا سے پہلے امر کا صیغہ یعنی قل محذوف ہے اور بشر کا عطف قل پر ہے (اس صورت میں امر کا عطف امر پر ہوگا) یا بشر کا عطف تؤمنون پر ہو۔ کیونکہ تؤمنون بظاہر خبر لیکن امر مراد ہے۔ اب مطلب اس طرح ہوگا ! اے اہل ایمان اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور اے رسول ﷺ آپ مومنوں کو فتح کی بشارت دیجئے۔
Ayah 61:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

مومنو ! خدا کے مددگار بن جاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا کہ (بھلا) کون ہیں جو خدا کی طرف (بلانے میں) میرے مددگار ہوں ؟ حواریوں نے کہا کہ ہم خدا کے مددگا رہیں تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر رہا۔ آخر الامر ہم نے ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد دی اور وہ غالب ہوگئے

(61:14) کانوا انصار اللہ : کونوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر کون (باب نصر) مصدر۔ تم ہوجاؤ۔ تم بن جاؤ۔ انصار۔ منصوب بوجہ کونوا کی خبر کے ہے نصیر کی جمع ہے۔ جیسے شریف کی جمع اشراف ہے۔ مضاف ہے اللہ مضاف الیہ ۔ ترجمہ :۔ تم اللہ کے مددگار بن جاؤ۔ بعض نے اس کا ترجمہ کیا ہے :۔ تم اللہ کے (دین کے) مددگار بن جاؤ (الخازن) مدارک التنزیل ، علامہ پانی پتی۔ علامہ مودودی انصار اللہ کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ اللہ کا مددگار اس لئے کہا گیا کہ اللہ رب العالمین معاذ اللہ کسی کام کے لئے اپنی کسی مخلوق کی مدد کا محتاج ہے بلکہ یہ اس لئے فرمایا گیا ہے کہ زندگی کے جس دائرے میں اللہ تعالیٰ نے خود انسان کو کفر و ایمان اور اطاعت و معصیت کی آزادی بخشی ہے اس میں وہ لوگوں کو اپنی قوت قاہرہ سے کام لے کر بجز مومن ومطیع نہیں بناتا بلکہ اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعے سے ان کو راہ راست دکھانے کے لئے تذکیر و تعلیم اور تفہیم و تلقین کا طریقہ اختیار کرتا ہے اس تذکیر و تعلیم کو جو شخص برضا و رغبت قبول کرلے وہ مومن ہے۔ جو عملا مطیع و فرمانبردار بن جائے وہ مسلم وقانت اور عابد ہے۔ اور جو خدا ترس کا رویہ اختیار کرلے وہ متقی ہے۔ جو اسی تذکیر و تعلیم کے ذریعے سے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے لگے وہ محسن ہے اور اس سے مذید ایک قدم آگے بڑھ کر جو اسی تذکیر و تعلیم کے ذریعے سے بندگان خدا کی اصلاح اور کفر و فسق کی جگہ اللہ کی اطاعت کا نظام قائم کرنے کے لئے کام کرنے لگے اسے اللہ تعالیٰ خود اپنا مددگار قرار دیتا ہے۔ کما۔ مرکب ہے ک تشبیہ اور ما موصولہ سے :۔ ای انصروا دین اللہ مثل نصرۃ الھواریین لما قال لہم عیسیٰ (من انصاری الی اللہ) فقالوا (نحن انصاری اللہ) اوکونوا انصار اللہ کما کان الحواریون انصار عیسیٰ حین قال لہم من انصاری الی اللہ (شوکانی) یعنی اللہ کے دین کی حواریوں کی طرح مدد کرو کہ جب ان سے حضرت عیسیٰ نے کہا (کون ہے اللہ کی راہ میں میرا مددگار) تو انہوں نے کہا (ہم ہیں اللہ کے مددگار) یا : اللہ کے مددگار بن جاؤں جیسے کہ حواریون حضرت عیسیٰ کے مددگار بن گئے تھے جب اس نے ان سے کہا کون ہے اللہ کی راہ میں میرا مدد گار۔ حواریون کی تشریح میں علامہ مودودی تحریر فرماتے ہیں :۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کے لئے بائبل میں عموما لفظ ” شاگرد “ استعمال کیا گیا ہے لیکن بعد میں ان کے لئے ” رسول “ کی اصطلاح عیسائیوں میں رائج ہوگئی۔ اس معنی میں نہیں کہ وہ خدا کے رسول تھے بلکہ اس معنی میں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کو اپنی طرف سے مبلغ بنا کر اطراف فلسطین میں بھیجا کرتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں قرآن کی اصطلاح ” حورای “ ان دونوں مسیحی اصطلاحوں سے بہتر ہے اس لفظ کی اصل حور ہے جس کے معنی سفیدی کے ہیں دھوبی کو بھی حواری کہتے ہیں کیونکہ وہ کپڑے کو دھو کر سفید کردیتا ہے۔ خالص اور بےآمیز چیز کو بھی حواری کہا جاتا ہے۔ جس آٹے کو چھان کر بھوسی نکال دی گئی ہو اسے حواری کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں خالص دوست اور بےغرض حامی کیلئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ابن سیدہ کہتا ہے ہر وہ شخص جو کسی کی مدد کرنے میں مبالغہ کرے وہ اس کا حواری ہے ۔ (لسان العرب) امام راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں :۔ الحور (باب نصر) کے اصل معنی پلٹنے کے ہیں خواہ وہ پلٹنا بطور ذات کے ہو یا بلحاظ فکر کے۔ اور آیت کریمہ انہ ظن ان لن یحور (84:13) اور وہ خیال کرتا تھا کہ (خدا کی طرف) پھر کر نہیں آئے گا میں لن یحور سے دو بارہ زندہ ہوکر اٹھنا مراد ہے۔ اسی سے محور اس لکڑی کو کہتے ہیں جس پر چرخی گھومتی ہے۔ اور اسی سے المحاورۃ ہے ایک دوسرے کی طرف کلام کو لوٹانا۔ اسی سے تحاور (تبادلہ، گفتگو) ہے۔ قرآن مجید میں ہے واللہ یسمع تحاورکما (58:1) اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ اور حور عین (56:22) اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔ میں حور (احور۔ حوراء کی جمع) حور سے ماخوذ ہے جس کے معنی بقول بعض آنکھ کی سیاہی میں تھوڑی سی سفیدی ظاہر ہونے کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے احورت عینہ اس کی آنکھ بہت سیاہی اور سفیدی والی ہے اور یہ آنکھ کا انتہائی حسن سمجھا جاتا ہے۔ فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل : فامنت میںتعقیب کا ہے۔ امنت ماضی واحد مؤنث ایمان (افعال) مصدر کا مرجع طائفۃ ہے۔ من تبعیضیہ ہے۔ بنی اسرائیل میں اے ایک جماعت۔ یعنی بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت (حضرت عیسیٰ پر) ایمان لے آئی۔ طائفۃ طوف سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ گروہ ، جماعت ، بعض لوگ، کچھ لوگ۔ ایک اور ایک سے زائد سب کو طائفہ کہتے ہیں۔ علامہ شہاب الدین خفاجی (رح) فرماتے ہیں کہ :۔ تحقیق مقام یہ ہے کہ طائفہ اصل میں اسم فاعل مؤنث ہے۔ طواف سے جس کے معنی دوران (چکر لگانے۔ گھومنے) یا احاطہ (گھیر لینے) کے ہیں۔ وکفرت طائفۃ ایک اور جماعت کافر رہی۔ ایدنا : ماضی جمع متکلم تائید (تفعیل) مصدر۔ ہم نے قوت دی۔ ہم نے مدد کی۔ عدوہم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کے دشمن۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب الذین امنوا کی طرف راجع ہے۔ یعنی (حضرت عیسیٰ پر) ایمان لانے والوں کے دشمن (جو کافر رہے تھے) ۔ فاصفحوا :تعقیب کا ہے اصبحوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ اصباح (افعال) مصدر۔ جس کے معنی صبح کرنے کے ہیں۔ اصبحوا : افعال ناقصہ میں سے ہے۔ وہ ہوگئے۔ ظاھرین : اسم فاعل جمع مذکر (بحالت نصب) ظھور (بصلہ علی) غالب ہونے والے۔ تو وہ غالب ہوگئے۔ علامہ پانی پتی (رح) تعالیٰ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ قال الحواریون پر فامنت کا۔ اور فایدنا کا۔ اور فاصبحوا کا عطفکے ذریعے سے ہے اورمحض تعقیب بلا مہلت پر دلالت کرتی ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض لوگو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کے بعد بلاتاخیر ایمان لے آئے اور بعض نے انکار کردیا۔ پھر ایمان لانے کے فورا بعد اللہ نے مؤمنوں کی تائید کردی اور کافروں پر ان کو غالب کردیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ حواریوں کے قول کے بعد بلا تاخیر مؤمنوں کا کافروں پر غلبہ ہوگیا۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک کافروں کا مؤمنوں پر غلبہ رہا۔ اور بعثت محمدی کے بعد مومن لوگ کافروں پر غالب آگئے۔