Ayah 61:1یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے غلبے کا بیان ہے نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ تمام اشیا اس کے سامنے سرافگندہ ہیں اور آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے اپنی حوائج طلب کرتے ہیں ( وَهُوَ الْعَزِيْزُ ) اور وہ غالب ہے۔ یعنی اپنے غلبے اور تسلط کے ذریعے سے تمام اشیاء پر قاہر ہے۔ (الْحَكِيْمُ ) وہ پنے خلق وامر میں حکمت والا ہے۔
Ayahs 61:2–3(يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ) اے ایمان والو۔ تم نیکی کی باتیں کیوں کرتے ہو اور کیوں لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہو، بسا اوقات اس پر تمہاری تعریف بھی کی جاتی ہے اور حال تمہارا یہ ہے کہ تم خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے تم لوگوں کو بدی سے روکھتے ہو اور بسا اوقات تم خود اپنے آپ کو اس سے پاک قرار دیتے ہو حالانکہ تم اس بدی میں ملوث اور اس سے متصف ہو ؟ کیا یہ مذموم حالت مومنوں کے لائق ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی ناراضی کی بات ہے کہ بندہ ایسی بات کہے جس پر خود عمل نہ کرتا ہو ؟ اس لیے نیکی کا حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ لوگوں میں سب سے پہلے اس نیکی کی طرف سبقت کرنے والا اور بدی سے روکنے والا لوگوں میں سب سے زیادہ اسی بدی سے دور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اتامرون الناس بالبر۔۔۔ تا۔۔۔ تعقلون۔ البقرہ 44) ۔ کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نیہں ؟ حضرت شعیب نے فرمایا (وما ارید ان اخالفکم الی ماانھکم عنہ۔ ھود، 88) اور میں نہیں چاہتا کہ جس کام سے میں تمہیں منع کرتا ہوں اسے خود کرنے لگوں۔
Ayah 61:4یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب اور اس بات کی تعلیم ہے کہ انہیں جہاد میں کیا کرنا چاہیے ان کے لیے مناسب ہے کہ وہ جہاد میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر صف بندی کریں اور صفوں میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ صفیں ایک نظم اور ترتیب کے مطابق ہوں جس سے مجاہدین کے مابین مساوات اور ایک دوسرے کے لیے قوت اور دشمن پر رعب طاری ہوتا ہوا اور سے مجاہدین میں ایک دوسرے کے لیے نشاط پیدا ہوتا ہو بنابریں جب لڑائی کا وقت آجاتا تو رسول اللہ خود اپنے اصحاب کرام کی صف بندی کرتے اور ان کو ان کی اپنی اپنی جگہوں پر اس طرح ترتیب دیتے جہاں وہ ایک ودسرے پر بھروسا نہ کریں بلکہ ہر دستہ اپنے مرکز کے ساتھ رابطے کا اہتمام رکھے اور اپنی ذمہ داری کو پورا کرے اسی طریق کار سے کام پایہ اتمام کو پہنچتا اور کمال حاصل ہوتا ہے۔
Ayah 61:5(وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ ) اور (یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا۔ یعنی ان کے کرتوت پر زجر وتوبیخ کرتے ہوئے اور انہیں آپ کو اللہ کا رسول سمجھنے کے باوجود اذیت پہنچانے سے باز رکھتے ہوئے حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا (لِمَ تُؤْذُوْنَنِيْ وَقَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ ۭ ) اپنے اقوال وافعال کے ذریعے تم مجھے کیوں اذیت دیتے ہو ؟ اور تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوارسول ہوں۔ رسول کا اکرام و تعظیم اس کے احکاماتت کی تعمیل اور اس کے فیصلے کو قبول کرنا رسول کا حق ہے۔ رہا رسول کو اذیت دینا جس کا مخلوق پر اللہ کے احسان کے بعد سب سے بڑا احسان ہے تو یہ سب سے بڑی بےشرمی، جسارت اور صراط مستقیم سے انحراف ہے جسے جان بوجھ کر انہوں نے ترک کردیا اس لیے فرمایا ( فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ ) پس جب انہوں نے کج روی کی۔ یعنی اپنے ارادے سے حق سے پھرگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے۔ یعنی ان کی کجی روی کی سزا کے طور پر جسے انہوں نے اپنے لیے خود چنا اور اس راضی ہوئے اللہ نے انک و ہدایت کی توفیق نہ دی اور وہ شر کے سوا کسی چیز کے قابل نہ تھے۔ (وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ ) اور اللہ فاسق و نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ یعنی وہ لوگ فسق جن کا وصف ہے اور وہ ہدایت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو گمراہ کرنا اس کا ظلم نہیں اور نہ بندوں کی اس پر کوئی حجت ہے بلکہ اس گمراہی کا سبب وہ خود ہیں کیونکہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کو پہچان لینے کے بعد اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے خود بند کرلیے تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بدلے کے طور پر سزا دیتے ہوئے اور اپنے عدل کی بنا پر ان کو گمراہی اور کجروی میں مبتلا کرتے ہوئے ان کے دلوں کو بدل ڈالتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ونقلب افدتھم وابصارھم۔۔۔ تا۔۔۔۔ یعمھون۔ الانعام 110) اور ہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو بدل ڈالتے ہیں جیسا کہ یہ لوگ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔
Ayah 61:6اللہ تبارک وتعالی متقدمین بنی اسرائیل کے عناد کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن کو حضرت عیسیٰ نے دعوت دی اور فرمایا (يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ ) یعنی اے بنی اسرائیل مجھ اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں بھلائ کی طرف بلاؤں اور برائی سے روکوں، اللہ تعالیٰ نے ظاہری دلائل وبراہی کے ذریے سے میری تائید فرمائی ہے جو میرے صداقت پر سلاکت کرتی ہے نیز اس بات پر دلالت کرتی ہیں (مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ ) کہ میں اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں یعنی میں وہی کچھ لیے کر آیا ہوں جو موسیٰ تورات اور آسمانی شرعیت میں لے کر آئے تھے اگر میں نبوت کا ایسا مدعی ہوتا جو اپنے دعوائے نبوت میں سچا نہ ہوتا تو میں ایسی چیز لاتا جسے انبیا ومرسلین لے کر نہیں آئے میرا اپنے سے پہلے آنے والی کتابوں تورات کی تصدیق کرنا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ تورات نے میری بعثت کی خبر اور میرے آنے کی خوش خبری دی ہے اور مجھے تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُهٗٓ اَحْمَدُ ) اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔ اور وہ ہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الہاشمی۔ پس حضرت عیسیٰ تمام انبیائے کرام کی طرح سابق گزرے ہوئے نبی کی تصدیق اور بعد میں آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں بخلاف نبوت کے جھوٹے دعوداروں کے جو انبیا ومرسلین سے سخت منافقت رکھتے ہیں اور اوصفاف واخلاق اور امروانہی میں ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ ( فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ ) پھر جب ان کے پاس محمد مبعوث ہو کر تشریف لے آئے جن کو عیسیٰ نے بشارت دی تھی (بالبینت) واضح دلائل کے ساتھ جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کی بشارت دی گئی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں۔ (قالوا) تو انہوں نے حق سے عناد رکھتے اور جھٹلاتے ہوئے کہا (هٰذَا سِحْــرٌ مُّبِيْنٌ) یہ صریح جادو ہے۔ یہ عجیب ترین بات ہے کہ وہ رسول جس نے اپنی رسالت کو پوری طرح واضح کردیا ہے اور وہ آفتاب نصف النہار سے زیادہ نمایاں ہوگئی ہے تو اسے جادوگر قرار دیا جائے کہ جس کا جادو واضح ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور خذلان ہے ؟ اور اس افترا پردازی سے زیادہ بلیغ کوئی اور افترپردازی ہے ؟ جس نے اس حقیقت کی نفی کردی جو آپ کی رسالت سے معلوم ہے اور اس چیز کا اثبات کردیا جس سے آپ لوگوں میں سے سب سے زیادہ دور ہیں۔
Ayah 61:7(وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ) اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ جو یہ بہتان طرازی یا اس کے علاوہ بہتان طرازی کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں اور اس کی حجت منقطع ہوگئی ہے کیونکہ ( يُدْعٰٓى اِلَى الْاِسْلَامِ ۭ ) وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ اور اس پر اسلام کے دلائل وبراہین واضح ہوگئے ہیں (واللہ لا یحدی القوم الظالمین) ۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ جو اپنے ظلم پر قائم ہیں جنہیں کوئی نصیحت اپنے ظلم سے باز رکھ سکتی ہے نہ کوئی دلیل وبرہان اس سے ہٹا سکتی ہے خاص طور پر یہ ظالم لوگ جو حق کے مقابلے میں کھڑے ہوئے ہیں تاکہ اسے ٹھکرا دیں اور باطل کی مدد کریں۔
Ayah 61:8اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا (يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ ۭ ) وہ اپنے مونہوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں یعنی ان کی ان فاسد باتوں کی، جو ان سے صادر ہوتی ہیں اور جس کے ذریعے سے وہ حق کو ٹھکرانے کی کوشش کرتے ہیں کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ اس باطل کے بارے میں صاحب بصیرت کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں جن میں وہ سرگرداں ہیں۔ ( وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ) اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت، حق کی تکمیل جس کے ساتھ اس نے اپنے رسول بھیجے اور تمام دنیا میں اپنے نور کو ظاہر کرنے کا ذمہ لیا ہے خواہ کافروں کو یہ بات ناگواری ہی کیوں نہ کزرے اور اس ناگواری کے سبب سے وہ اپنی پوری کوشش کرلیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہوں اور جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کا وسیلہ بنا سکتے ہوں پس وہ مغلوب ہی ہوں گے ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو سورج کی روشنی کو بجھانے کے لیے اپنے منہ سے پھونکیں مارے، چناچہ انہوں نے اپنی مراد پائی نہ ان کی عقل نقص اور جرح وقدح سے سلامت ہے۔
Ayah 61:9پھر اللہ تبارک وتعالی نے دین اسلام کے حسی اور معنوی غلبے اور فتح کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى) وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت کے ساتھ بھیجا۔ یعنی اس نے اپنا رسول علم نافع ور عمل صالح کے ساتھ مبعوث کیا۔ علم سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے تکریم والے گھر کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ جو بہترین اعمال واخلاق سکھاتا ہے اور جو دنیا وآخرت کے تمام مصالح کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ( وَدِيْنِ الْحَقِّ ) اور دین حق کے ساتھ۔ یعنی وہ دین جسے اختیار کیا جاتا ہے جس کے ذریعے سے رب کائنات کی بندگی کی جاتی ہے جو سراسر حق اور صدق ہے جس میں کوئی نقص ہے نہ اسے کوئی خلل لاحق ہے جس کے اوامر قلب وروح کی غذا اور جسم کی راحت ہیں اور اس کے نواہی کو ترک کرنا شر اور فساد سے سلامتی ہے۔ نبی اکرم کو جس ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے وہ آپ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل اور برہان ہے اور جبتک دنیاباقی ہے یہ دلیل باقی رہے گی خرد مند جتنا زیادہ اس میں غور و فکر کرے گا اتنی ہی اسے فرحت و بصیرت ہوگی ( لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ ) تاکہ وہ اس دین کو حجت اور دلیل کے ذریعے سے تمام ادیان پر اور اہل دین کو جو اس پر قائم ہیں شمشیر وسناں کے ذریعے سے باطل قوتوں پر غالب کردے۔ رہا دین تو یہ غلبہ ہر زمانے میں اس کا وصف لازم رہا ہے چناچہ کوئی غالب آنے کی کوشش کرنے والا اس پر غالب آسکتا ہے نہ جھگڑنے والا اس کو زیر کرسکتا ہے دین ہیشہ فتح مند ہی رہے گا اسی کو فوقیت اور غلبہ حاصل رہے گا۔
رہے وہ لوگ جو دین اسلام سے انتساب رکھتے ہیں تو جب وہ اس دین کو قائم کریں گے اس کے نور سے روشنی حاصل کریں اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں اس کے لائحہ عمل کو راہ نماب نائیں تو اس طرح کوئی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور ان کا تمام اہل ادیان پر غالب آنا لازمی ہے اور اگر وہ اس دین کو ضائع کردیں اور اس کے ساتھ مجردا نتساب ہی کو کافی سمجھیں تو دین ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور ان کا دین کو چھوڑ دینا ان پر دشمن کے تسلط کا سبب بنے گا۔ قرون اولی کے مسلمانوں اور متاخرین کے احوال کے اسقراء اور ان میں غور و فکر کے ذریعے سے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی جاسکتی ہے۔
Ayah 61:10یہ ارحم الراحمین کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہنمائی، دلالت اور وصیت ہے جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے گویا کہا گیا ہے کہ وہ کون سی تجارت ہے جس کی یہ قدر ہے ؟
Ayah 61:11پس فرمایا (تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ) تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اور یہ چیز معلوم ہے کہ ایمان کامل ان امور کی تصدیق جازم کا نام ہے جن کی تصدیق کا اللہ نے حکم دیا ہے جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے جن میں جلیل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے بنا بریں فرمایا (وَتُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ ۭ ) اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ وہ اس طرح کہ تم اپنے نفوس اور جانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں خرچ کرو اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے کلمے کی سربلندی ہو اس مطلوب و مقصود کے حصول میں جو مال تمہیں میسر ہے اسے خرچ کرو۔ اگرچہ یہ نفوس کے لیے ناگوار اور ان پر شاق گزرتا ہے مگر یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ کیونکہ اس میں دنیاوی بھلائی ہے یعنی دشمنان اسلام پر فتح ونصرت ہے اور عزت ہے جو ذلت کے منافی ہے وسیع رزق اور انشراح صدر اور اس کی کشادگی ہے۔
Ayahs 61:12–13اس میں اخروی بھلائی بھی ہے یعنی اللہ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی چناچہ فرمایا (يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ) اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمادے گا اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیر ہی کیوں نہ ہوں۔ (وَيُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ) اور وہ تمہیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یعنی اس کے مساکن اس کے محلات اس کے بالاخانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہوگی ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس کا ذائقہ متغیر نہ ہوگا ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کو لذت دے گی اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی اور جنت کے اندر ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔
وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ) یعنی جنت میں ہر اچھی چیز جمع ہوگی بلندی، ارتفاع، عمارتوں کی خوبصورتی اور سجاوٹ، حتی کہ اہل علیین کو دیگر اہل جنت اس طرح دیکھیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں چمک دار ستاہ دیکھا جاتا ہے حتی کہ جنت کی عمارتوں کی تعمیر کی کچھ اینٹیں سونے کی ہوں گی کچھ چاندی کی اس کے خیموں میں موتی اور مرجان جڑے ہوئے ہوں گے جنت کے بعض گھر زمرد اور بہترین رنگوں کے جواہرات کے بنے ہوئے ہوں گے حتی کہ ان کے صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بیرونی اور باہر سے اندرونی حصہ صاف نظر آئے گا جنت کے اندر خوشبو اور ایسا حسن سلوک ہوگا کہ وصفب یان کرنے والے اس کا وصف بیان کرسکتے ہیں نہ اس کا تصور دنیا میں کسی شخص کے دل میں آیا ہے ان کے لیے ممکن نہیں کہ اسے پاسکیں جب تک کہ اسے دیکھ نہ لیں وہ اس کے حسن سے متمع ہوں گے اور اس سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈی کریں گے۔ اس حالت میں اگر اللہ نے اہل جنت کو کامل زندگی عطا نہ کی ہوتی جو موت کو قبول نہیں کرتی تو ہوسکتا ہے وہ خوشی سے مرجاتے البتہ پاک ہے وہ ذات کہ اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی اس کی ثنا بیان نہیں کرسکتی بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے وہ اس حمد وثنا سے بہت بڑھ کر ہے جو اس کی مخلوق میں سے کوئی بیان کرتا ہے بہت بابرکت ہے وہ جلیل و جمیل ہستی جس نے نعمتوں کے گھر جنت کو تخلیق فرمایا، اس کو ایسا جلال و جمال عطا کیا جو مخلوق کی عقلوں کو مبہوت اور ان کے دلوں کو جکڑ لیتا ہے بالا و برتر ہے وہ ذات جو کامل حکمت کی مالک ہے یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اگر بندے جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھ لیں تو اس کو حاصل کرنے سے کوئی پیچھے نہ رہے اور انہیں دنیا کی ناخوشگوار اور مکدر زندگی کبھی اچھی نہ لگتی جس کی نعمتوں میں درد الم اور جس کی فرحتوں میں رنج وغم کی ملاوت ہے۔
اس کو جنت عدن اس لیے کہا گیا ہے کہ اہل جنت اس میں ہمیشہ مقیم رہیں گے اور اس سے کبھی نکلیں گے نہ اس سے منتقل ہونا چاہیں گے یہ ثواب جزیل اور اجر جمیل ہی درحقیقت بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس جیزی کوئی اور کامیابی نہیں یہ ہے اخروی ثواب۔ رہا اس تجارت کا دنیوی اجر وثواب، تو اللہ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے (وَّاُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا ۭ ) یعنی تمہیں ایک اور چیز حاصل ہوگی جسے تم پسند کرتے ہو اور وہ ہے (نصرمن اللہ) دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح ونصرت جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے (وفتح قریب) اور جلد فتح یابی۔ جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہوگا اور وسیع رزق حاصل ہوگا یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔ رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کرتے جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضہ جہادادا کررہے ہوں تو اللہ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا۔ بلکہ فرمایا (وبشرالمومنین) یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو ۔ اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا جیسا کہ نبی اکرم نے فرمایا بلاشبہ جنت میں سودرجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان ہے اللہ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔
Ayah 61:14پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰهِ ) اے ایمان والو تم اپنے اقوال وافعال کے ذریعے سے اللہ کے مددگار بن جاؤ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان ومال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے حق کی دلیل کا ابطال کرکے اس پر حجت قائم کرکے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے کتاب اللہ اور سنت رسول کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اللہ کے دین کی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان نیک لوگوں کی پیروی کرنے پر ابھارا جو انسے پہلے گزر چکے ہیں فرمایا (كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ ) عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا، کون ہے جو میری معاونت کرے، اللہ کے دین کی مدد کے لیے کون ہے جو میرا ساتھ دے کون ہے وہ جو اس جگہ داخل ہو جہاں میں داخل ہوں اور کون ہے وہ جو اس جگہ سے نکلے جہاں سے میں نکلوں ؟ حواری آگے بڑھے اور کہنے لگے (نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ ) ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ حضرت عیسیٰ اور آپ کے ساتھ جو حواری تھے سب نصرت دین کی راہ پر چل پڑے ( فَاٰمَنَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ) چناچہ حضرت عیسیٰ اور آپ کے حواریوں کی دعوت کا سبب سے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لایا ( وَكَفَرَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ ۚ ) ور ان میں سے ایک گروہ نے انکار کردیا اور ان کی دعوت کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا، پس اہل ایمان نے کفار کے ساتھ جہاد کیا ( فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰي عَدُوِّهِمْ ) یعنی ہم نے اہل ایمان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں بخشی، ان کو دشمنوں پر فتح ونصرت سے بہرہ مند کیا ( فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ ) تو وہ ان پر غالب آگئے لہذا اے امت محمد تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار، اس کے دین کی دعوت دینے والے بن جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کی مدد کی تھی اور تمہیں تمہارے دشمن پر غالب کرے گا۔