As-Saff 61:13

As-Saff · from ayah 13

61:13

وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَهَا ؕ— نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ ؕ— وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۟وَاُخۡرٰى تُحِبُّوۡنَهَا‌ ؕ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَـتۡحٌ قَرِيۡبٌ‌ ؕ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ

اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی تمہیں) خدا کی طرف سے مدد (نصیب ہوگی) اور فتح عنقریب ہوگی اور مومنوں کو (اس کی) خوشخبری سنا دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [you will obtain] another [favor] that you love - victory from Allah and an imminent conquest; and give good tidings to the believers.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saff

All translations of 61:13

اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمہیں دے گا، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہو جانے والی فتح اے نبیؐ، اہل ایمان کو اِس کی بشارت دے دو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی تمہیں) خدا کی طرف سے مدد (نصیب ہوگی) اور فتح عنقریب ہوگی اور مومنوں کو (اس کی) خوشخبری سنا دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تمہیں ایک دوسری (نعمت) بھی دے گا جسے تم چاہتے ہو وه اللہ کی مدد اور جلد فتح یابی ہے، ایمان والوں کو خوشخبری دے دو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ایک اور چیز تمہیں دے گا جو تمہیں پسند ہے (اور وہ ہے) اللہ کی طرف سے مدد، اور ایک ایسی فتح جو عنقریب حاصل ہوگی، اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو (اس بات کی) خوشخبری سنا دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ایک نعمت تمہیں اور دے گا جو تمہیں پیاری ہے اللہ کی مدد اور جلد آنے والی فتح اور اے محبوب مسلمانوں کو خوشی سنادو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اس اُخروی نعمت کے علاوہ) ایک دوسری (دنیوی نعمت بھی عطا فرمائے گا) جسے تم بہت چاہتے ہو، (وہ) اللہ کی جانب سے مدد اور جلد ملنے والی فتح ہے، اور (اے نبئ مکرّم!) آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیں (یہ فتحِ مکہ اور فارس و روم کی فتوحات کی شکل میں ظاہر ہوئی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ایک اور چیز جسے تم پسند کرتے ہو اللہ کی طرف سے مدد اور قریب فتح ہے اور ایمان والوں کو خوشخبری سنا دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ایک دوسری چیز (بھی عطا کرے گا) جسے تم پسند کرتے ہو اور وہ ہے اللہ کی مدد اور جلد ہی (حاصل ہونے والی) فتح۔ آپ مومنوں کی اس کی بشارت دے دیجئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ایک اور چیز بھی ہے جس کی تم تمنا رکھتے ہو۔ یعنی اللہ کی نصرت اور عنقریب ظاہر ہونے والی فتح ! اور ایمان والوں کو بشارت دے دوٖ ! !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ایک اور چیز بھی وہ تمہیں عطا فرمائے گا جو تم لوگ پسند کرتے ہو یعنی اللہ کی طرف سے مدد اور جلد ہی ملنے والی فتح اور خوشخبری سنا دو (دولتِ) ایمان رکھنے والوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور ایک اور (ثمرہ بھی) کہ وہ تمہیں محبوب ہے (یعنی) اللہ کی طرف سے مدد اور جلد فتح یابی اور آپ ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ایک اور چیز جو تمہیں بہت پسند ہے۔ اللہ کی طرف سے مدد اور قریبی فتح۔ اور (اے نبی ﷺ آپ مومنین کو خوشخبری سنا دیجیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ایک چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو یعنی تمہیں اللہ کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور عنقریب فتح ہوگی اور مومنوں کو اس کی خوشخبری سنا دو

— محترمہ رفعت اعجاز

He will also grant you the other favour that you desire: help from Allah and a victory that will come soon. Give glad tidings of this to the believers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (He will give you) another thing, which you love: Help from Allah, and victory, near at hand.

— Muhammad Taqi Usmani

And (He will give you) another thing, which you love: Help from Allah, and victory, near at hand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And also (He will give you) another (blessing) which you love, help from Allah and a near victory. And give glad tidings to the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (He will give you) another (blessing) which ye love: help from Allah and present victory. Give good tidings (O Muhammad) to believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [you will obtain] another [favor] that you love - victory from Allah and an imminent conquest; and give good tidings to the believers.

— Saheeh International

(Besides forgiveness) you will receive other favors which you will love: help from God and an immediate victory (Muhammad), give such glad news to the believers.

— Muhammad Sarwar

And yet another (blessing) that you love: help from Allah and a victory near at hand; and give good news to the believers.

— Muhammad Habib Shakir

And also another blessing which ye love: succour from Allah and a speedy victory. And bear thou the glad tidings Unto the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

And another (favour will He bestow,) which ye do love,- help from Allah and a speedy victory. So give the Glad Tidings to the Believers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 61:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–13

سو فیصد نفع بخش تجارت حضرت عبداللہ بن سلام ؓ والی حدیث پہلے گذر چکی ہے کہ صحابہ نے حضور ﷺ سے یہ پوچھنا چاہا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ تعالیٰ کو کونسا ہے ؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل فرمائی، جس میں فرما رہا ہے کہ آؤ میں تمہیں ایک سراسر نفع والی تجارت بتاؤں جس میں گھاٹے کی کوئی صورت ہی نہیں جس سے مقصود حاصل اور ڈر زائل ہوجائے گا وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول ﷺ کی رسالت پر ایمان لاؤ اپنا جان مال اس کی راہ میں قربان کرنے پر تل جاؤ، جان لو کہ یہ دنیا کی تجارت اور اس کے لئے کدو کاوش کرنے سے بہت ہی بہتر ہے، اگر میری اس بتائی ہوئی تجارت کے تاجر تم بن گئے تو تمہاری ہر لغزش سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصَّف 18 دنیا میں فتح و کامرانی بھی اگرچہ اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے، لیکن مومن کے لیے اصلی اہمیت کی چیز یہ نہیں ہے بلکہ آخرت کی کامیابی ہے۔ اسی لیے جو نتیجہ دنیا کی اس زندگی میں حاصل ہونے والا ہے اس کا ذکر بعد میں کیا گیا، اور جو نتیجہ آخرت میں رونما ہونے والا ہے اس کے ذکر کو مقدم رکھا گیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَّاُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا ۭ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ، لفظ اخرٰی نعمت کی صفت ہے معنی یہ ہیں کہ آخرت کی نعمتیں اور جنت کے مکانات تو ملیں گے ہی جیسا کہ وعدہ کیا گیا ہے، ایک نعمت نقد دنیا میں بھی ملنے والی ہے وہ ہے اللہ کی مدد اور اس کے ذریعہ فتح قریب یعنی دشمنوں کے مالک کا فتح ہونا، یہاں قریب اگر بمقابلہ آخرت کے لیا جائے تو بعد میں آنے والی اسلامی فتوحات عرب و عجم کی سب اس میں داخل ہیں اور قریب عرفی مراد لیا جائے تو اس کا پہلا مصداق فتح خیبر ہے اور اس کے بعد فتح مکہ مکرمہ ہے اور اس فتح قریب کے متعلق تحبو نہا فرمایا یعنی یہ نقد نعمت تمہاری پسندیدہ اور محبوب ہے کیونکہ انسان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(واخری تحبونھا نصر من اللہ و فتح قریب و بشر المومنین) (13)۔ (اس دنیا میں کامیابی اور غلبہ کی بشارت)۔ یہ ایک ایسی کامیابی کی طرف بھی اشارہ فرما دیا جو ان کو عنقریب اس دنیا میں ظاہر ہونے والی ہے۔ فرمایا کہ ایک اور کامرانی بھی تم کو حاصل ہوگی جو عنقریب ظاہر ہونے والی ہے۔ (فتح مکہ کی بشارت)۔ یہ اشارہ ہمارے نزدیک فتح مکہ کی طرف ہے۔ ہجرت کے بعد سب سے بڑی تمنا جو ہر مسلمان کے دل میں جاگزیں تھی وہ فتح مکہ ہی کی تھی۔ اسی پر اسلام کے اصل دشمنوں کو شکست کا انحصار بھی تھا اور یہی غلبہ حق کی سب سے بڑی شہادت بھی تھی۔ اس وجہ سے ہر مسلمان اپنی تمام جدوجہد کے اصل نصب العین کی حیثیت سے اس کا آرزو مند تھا۔ فتح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–13

13۔ 1 یعنی جب تم اس کی راہ میں لڑو گے اور اس کے دین کی مدد کروگے، تو وہ بھی تمہیں فتح و نصرت سے نوازے گا۔ " ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم " (سورة محمد) " ولینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیز " (الحج) آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اسے فتح قریب قرار دیا اور اس سے مراد فتح مکہ ہے اور بعض نے فارس و روم کی عظیم الشان سلطنتوں پر مسلمانوں کے غلبے کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ جو خلافت راشدہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوا۔ 13۔ 2 جنت کی بھی، مرنے کے بعد اور فتح و نصرت کی بھی، دنیا میں، بشرطیکہ اہل ایمان ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہیں۔ " وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ " 3۔ آل عمران…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–13

8: تجارت میں کوئی چیز کسی کو دے کر اس کی قیمت حاصل کی جاتی ہے، اسی طرح ایک مسلمان اپنی جان و مال اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے صلے میں جنت اور عذاب سے رہائی عطا فرماتے ہیں۔ دیکھئے سورة توبہ : 111

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واخری ........................ المومنین (16 : 31) ” اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو ، وہ بھی تمہیں دے گا ، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔ اے نبی اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو “۔ یہ سواد یہاں شرح منافع کی انتہاﺅں کو چھو لیتا ہے۔ اور یہ منافع اللہ ہی دے سکتا ہے۔ وہ اللہ جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے ، وہ اللہ جس کی رحمت کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ رحمتیں کیا ہیں ، مغفرت گناہ ، باغات ، بہترین مکانات ، جن کے اندر نہ ختم ہونے والی نعمتیں ہوں گی اور اس سودے کا منافع صرف آخرت ہی میں نہیں بلکہ ان کی ایک قسط یہاں دنیا میں بھی دے جائے گی۔ اللہ کی نصرت اور غلبہ دین اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اصل اور بڑی کامیابی تو وہ ہی ہے جو آخرت میں ملے گی جس کے سامنے ہفت اقلیم کی سلطنت کوئی چیز نہیں لیکن دنیا میں بھی ایک چیز جسے تم طبعاً محبوب رکھتے ہو، دی جائے گی وہ کیا ہے (نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ ۭ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 61 ۔ الصف :13) (اللہ کی طرف سے ایک مخصوص امداد اور جلد حاصل ہونے والی فتح و ظفر، جن میں سے ہر ایک دوسرے کے ساتھ دامن کا تعلق رکھتی ہے) دنیا نے دیکھ لیا کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے ساتھ یہ وعدہ کیسی صفائی سے پورا ہوا اور آج بھی مسلم قوم اگر سچے معنی میں ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ پر ثابت قدم ہوجائے تو یہ ہی کامیابی ان کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہے۔ 2…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اب اگلی آیت میں اس ”بونس“ کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی کبھی اس دنیا میں بھی عطا کردیتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : آیت 13{ وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَہَا } ”اور ایک اور چیز جو تمہیں بہت پسند ہے۔“ یعنی اس جہاد میں تمہیں دنیا کی کامیابی بھی مل سکتی ہے۔ اگرچہ تمہاری یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر اہم نہیں جس قدر تم اسے اہم سمجھتے ہو۔ وہ غلبہ دین کے لیے تمہاری کوششوں کا محتاج نہیں۔ وہ چاہے تو آنِ واحد میں دین کو غالب کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو چیز اہم ہے وہ تمہاری جدوجہد اور اس جدوجہد میں تمہارا جذبہ ایثار و خلوص ہے ‘ اور یہی تمہارا اصل امتحان ہے۔ اگر تم اس امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 اللہ تعالیٰ نے پہلے اخروی نعمتوں کا ذکر فرمایا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل اور پائیدار نعمتیں وہی ہیں ان کے علاوہ ایک اور تیسری نعمت جو اس دنیا سے متعلق ہے۔ اس کا بعد میں ذکر فرمایا۔ اور یہ پسندیدہ اس لحاظ سے ہے کہ انسان طبعاً نقد چیز کو زیادہ پسند کرتا ہے۔ اور وہ نعمت ہے اللہ کی مدد سے مکہ کی فتح جو عنقریب حاصل ہوگی۔ گویا اللہ سے ایمانداروں کا یہ سودا ہر لحاظ سے منفعت بخش اور بارآور ہے۔ دنیا میں فتح حاصل ہوتی ہے اور اموال غنیمت وغیرہ بھی ملتے ہیں۔ عزت حاصل ہوتی ہے اسلام کی فتح سے روحانی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اور آخرت میں جو فائدے حاصل ہوں گے وہ ان سب سے بڑھ کر ہیں۔ 15 یعنی اس مدد اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ (دنیا میں اسی قریبی فتح ونصرت کی) (آیت) ” واخری تحبونھا “۔ یعنی اس اخروی ثمرہ کے علاوہ ایک اور ثمرۂ ایمان وطاعت، جو تمہیں طبعا محبوب بھی ہے۔ ثمرات آخرت کیسے ہی بیش بہا، گراں قدر، بےمثال ہوں، بہرحال انتظار طلب ہیں انسان طبعی وخلقی طور پر اس بڑے اور انتہائی ثمرہ کے علاوہ ثمرات عاجل کا بھی طلبگار رہتا ہے، اور قرآن سے بڑھ کر بشری جذبات کی رعایت کرنے والا اور کون ہوگا ؟ (آیت) ” نصر ..... قریب “۔ مسلمانوں کی عظیم الشان اور حیران کن فتح مندیوں کی پیشگوئی کا ظہور ووقوع جس شاندار طریقہ پر سارے حجاز کے ایک ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں، اور پھر خلافت راشدہ کے زمانہ میں، ایران، اور رومہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

واخری تحبونھا نصر من اللہ (الآیۃ) لفظ اخری، نعمۃ کی صفت ہے معنی یہ ہیں کہ آخرت کی نعمتیں اور جنت کے مکانات تو ملیں گے ہی جیسا کہ وعدہ کیا گیا ہے، ایک نعمت نقد دنیا میں بھی ملنے الی ہے وہ ہے اللہ کی مدد اور اس کے ذریعہ فتح قریب، یعنی دشمنوں کے ممالک کا فتح ہونا، ” نعمت اخریٰ “ سے مراد یا تو آخرت کی نعمتیں ہیں ان کو دنیا کے اعتبار سے قریب کہا گیا ہے یا پھر اس سے مراد خیبر اور مکہ کی فتح ہے اور یہ تو ظاہر ہے قریبی فتح کو محبوب اور پسندیدہ اس لئے کہا گیا کہ انسان فطری طور پر نقد فائدہ کا دلدادہ اور متمنی ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کو محبوب سمجھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کے بارے میں فرمایا ” خلق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واخری تحبونھا نصر من اللہ و فتح قریب و بشر المومنین . اور ایک اور بھی ہے جس کو تم (دنیا میں) پسند کرتے ہو (یعنی) اللہ کی طرف سے مدد اور قریب (مدت میں ہی) فتح یابی اور (اے رسول ! ) آپ ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے۔ “ وَاُخْرٰی : یعنی جلد ملنے والی ایک نعمت اور ہے۔ تُحِبُّوْنَھَا : تم اس کو پسند کرتے ہو ‘ اس فقرہ میں اس بات پر تعریض ہے کہ تم کو فوری ‘ جلد ملنے والی نعمت پسند ہے۔ نَصْرٌ مِّنَ اللہ ..... یعنی اللہ کی طرف سے قریش کے خلاف مدد اور مکہ کی فتح یا خیبر کی فتح ‘ عطاء نے کہا : روم اور فارس کی فتح مراد ہے۔ میں کہتا ہوں ظاہر یہ ہے کہ عام فتح و نصرت مراد ہے کیونکہ بندہ کی کوشش اور جہاد کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ایک اور کامیابی یہ ہے کہ جس کو تم بھی پسند کرتے ہو کہ کفار قریش کے مقابلہ میں اپنے نبی کی اللہ ہی کی طرف سے اور جلدی فتح یابی ہے یعنی مکہ مکرمہ کی اور مومنین کو اگر وہ ان صفات پر ہوں جنت کی خوشخبری دے دیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا۔۔۔۔:”اخری“ محذوف موصوف ”نعمۃ“ کی صفت ہے جو مبتداء ہے ، خبر اس کی ”لکم“ محذوف ہے :”الی ولکم نعمۃ اخری“ یعنی اور تمہارے لیے مغفرت ذنوب اور دخول جنت کے علاوہ ایک اور نعمت ”نصر من اللہ فتح قریب“ بھی ہے جو تمہیں پسند ہے۔ آخرت کی نعمتوں کے ساتھ دنیوی نعمتوں کا ذکر کر کے جہاد کی ترغیب دلائی ہے ، دنیا میں فتح و کامرانی بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ، مگر یہ مومن کے لیے اصل مقصود نہیں۔ اس لیے پہلے حاصل ہونے کے باوجود اس کا ذکر بعد میں فرمایا اور آخرت میں حاصل ہونے والی نعمتوں کا ذکر پہلے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے ساتھ اپنی نصرت اور فتح قریب کا یہ وعدہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 10–13

تفسیر اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا…… مقاتل نے کہا : یہ آیت حضرت عثما بن مظعون کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : کاش ! آپ ﷺ مجھے اجازت دیتے تو میں خولہ کو طالق دیتا، رہبانیت اختیار کرتا، اپنے آپ کو خصی کرلیتا، گوشت کو اپنے اوپر حرام کرلیتا، رات کو کبھی بھی نہ سوتا اور دن کو کبھی بھی افطار نہ کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میری سنت میں سے نکاح بھی ہے، اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں میری امت کی رہبانیت اللہ کی راہ میں جہاد ہے، میری امت کا خصی ہونا روزہ رکھنا ہے، اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم پر حلال کی ہیں انہیں اپنے اوپر حرام نہ کرو۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–14

4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت کونوا انصار اللہ کو اضافت کے ساتھ پڑھا۔ 5۔ عبد بن حمید وعبد الرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا کونوا انصار اللہ۔ اے ایمان والو ! اللہ کے دین کے مددگار ہوجاؤ۔ اور اللہ کی حمد کے ساتھ ایسا ہوا کہ ستر آدمی آئے اور انہوں نے عقبہ گھاٹی کے پاس آپ سے بیعت کی پھر انہوں نے آپ کی مدد کی۔ اور آپ کو پناہ دی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کردیا۔ اور ان کے علاوہ کسی قبیلے کو آسمان سے ایسے نام سے نہیں پکارا گیا جو اس سے پہلے تھے سوائے ان کے ہم کو یہ بتایا گیا ان میں سے کسی نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ تم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّاُخْرٰى: اور (تمھارے لیے) ایک دوسری (نعمت بھی) ہے ][ تُحِبُّوْنَهَا : تم لوگ پسند کرتے ہو جس کو ][ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ : (وہ) نصرت ہے اللہ (کی طرف) سے ][ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ : اور قریبی فتح ہے ][ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ : اور آپ ﷺ بشارت دے دیں مومنوں کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–13

ایسی تجارت کی بشارت جو عذاب الیم سے نجات کا ذریعہ اور جنت ملنے کا وسیلہ ہوجائے ان آیات میں اہل ایمان کو آخرت کی تجارت کی طرف توجہ دلائی ہے دنیا میں کھانے پینے، پہننے اور دیگر ضروریات کے لئے کسب مال کی ضرورت ہوتی ہے جسے بہت سے لوگ تجارت کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں اس میں بہت سے لوگ بہت زیادہ انہماک کرلیتے ہیں موت اور موت کے بعد کے حالات اور آخرت کے اجرو ثواب میں دھیان ہی نہیں دیتے زیادہ مال کی طلب میں ایسے لگتے ہیں کہ آخرت میں کام دینے والے اعمال کو بھول ہی جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ اے ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی تجارت اور سودا گری نہ بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دیدے، تجارت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–14

دعوت اہل ایمان برائے تجارت رابحہ وترغیب برحصول فلاح وسعادت دنیا وآخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ....... الی ...... فاصبحوا ظھرین “۔ (ربط) گزشتہ آیات کا حاصل مضمون یہ تھا کہ اللہ رب العزت نے اپنے نبی آخرالزمان ﷺ کی بعثت سے دنیا کی ہدایت کا ارادہ فرمایا تاکہ انسان حق وہدایت کے ذریعہ دنیا وآخرت کی فلاح و کامیابی حاصل کرسکیں، اور اسی بشارت کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا لیکن ان کی بدنصیب قوم نے ان کی بات کو ٹھکرایا حق سے منہ موڑا اور جو کچھ نبی آخر الزمان ﷺ کی نشانیاں تھیں ان میں تحریف کی اب ان آیات میں اہل ایمان کو خطاب کرکے فرمایا جارہا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–13

8:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ مومنین سے دوسرا خطاب ہے برائے ترغیب الی القتال۔ مومنو ! کیا میں تمہیں ایسا کاروبار بتاؤ جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے ؟ وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے۔ اس سے اللہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تم کو جنت کے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہ رہی ہوں گی اور صاف ستھرے مکانات میں داخل فرمائے گا جو بہشت ہائے جاودانی میں تیار ہیں اور آخرت میں دوزخ سے بچ کر ایسے بہشتوں میں داخل ہونا ہی بڑی کامیابی ہے۔ اور ایک اور چیز بھی تمہیں عطاء ہوگی۔ جسے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–13

ربط آیات : پچھلی آیت میں ذکر تھا کہ اللہ نے اپنے برگزیدہ رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر مبعوث فرمایا ہے تاکہ اس دین کو تمام ادیان کے مقابلے میں غالب کردے خواہ مشرک لوگ اس کو ناپسندہی کریں۔ اللہ کے نزدیک سچا دین یہی دین اسلام ہے لہٰذا منشائے خداوندی یہی ہے کہ یہ دین باقی تمام ادیان پر غالب ہو۔ یہ غلبہ باعتبار دلیل اور برہان تو ہر وقت حاصل رہا ہے ، اور موجودہ دور میں بھی یہ غلبہ قائم ہے۔ مگر جس غلبہ کی بات یہاں ہورہی ہے اس سے ظاہری غلبہ مراد ہے یعنی اسلام کے نظام اور قانون کو بھی تمام ادیان عالم اور قوانین کے مقابلے میں غالب قرار دیاجائے… اور اس کو برتری حاصل ہو۔ اب اس مقصد کے حصول کے لئے عملی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاُخْرٰى تُحِبُّوْنَہَا۝ 0 ۭ نَصْرٌ مِّنَ اللہِ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ۝ 0 ۭ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ 13 حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–13

ترکیب : ھل ادلکم الخ الجملۃ نداء ھل الاستفھام ایجاب و اخبار معنٰی وقیل المعنی سادلکم تنجیکم الجملۃ صفۃ تجارۃ قراء الجمہور تنجیکم من الابخاء ای بالتحفیف وقریٔ بالتشدید من التنجیۃ تؤمنون تفسیر لتجارۃ وقبل استیناف کانھم قالواکیف نعمل فقال تؤمنون باللہ وھوخبرفی معنی الامرویجوزان تکون فی موضع جرعلی البدل اوفی موضع رفع علی تقدیرھی وان محذوفۃ ولماحذفت بطل عملھا وتجاھدون عطف علیٰ تؤمنون ان کنتم شرط جو ابہ محذوف فافعلوہ یغفر مجزوم اما ھوجواب شرط محذوف دل علیہ الکلام تقدیرہ ان تؤمنوایغفرلکم واماان تؤمنون بمعنی آمنوا الخبر بمعنی الامرھذاقول الزجاج والمبردداماانہ جواب لماول علیہ الاستفھام والمعنی ھل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا ط نَصْرٌمِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ وَبَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الصف : 13) (اور ایک اور چیز بھی ہے جس کو تم چاہتے ہو، یعنی اللہ کی نصرت اور قریب ہی حاصل ہوجانے والی فتح، اور ایمان والوں کو بشارت دے دیجیے۔ ) اس تجارت میں کامیابی اور غلبہ بشارت اس تجارت کے نتیجے میں اخروی نعمتوں کے ساتھ ساتھ تمہیں ایک اور نعمت بھی ملنے والی ہے جس کی تم بہت تمنا رکھتے ہو، لیکن اس کے ذکر سے پہلے اخروی نعمتوں کا کر فرمایا اور اسے سب سے بڑی کامیابی قرار دیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں یقینا مسلمانوں کی فتح و کامرانی بہت بڑی کامیابی ہے۔ لیکن سب سے بڑی کامیابی ایک مومن کے لیے آخرت کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–13

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر دین حق کو قبول اور اس کی اشاعت کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کرنے کے مترادف ہے۔ جس کے نتیجہ میں دنیا کی کامیابی حاصل ہوگی اور آخرت میں عذاب سے نجات پانے کے ساتھ جنت میں داخل ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو نفع اور نقصان کا شعور بخشا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ریڑھی بان کو معلوم ہوجائے کہ میرا سودا فلاں چوک اور بازار میں زیادہ بک سکتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ میں اس چوک اور بازار میں ریڑھی لگاؤں۔ مزدور کو معلوم ہو کہ مجھے فلاں شہر میں زیادہ مزدوری ملے گی، تو وہ زیادہ مزدوری پانے کے لیے اپنے بال بچے چھوڑ کر اس شہر کا رخ کرتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فتح مکہ یا فارس و روم کی فتح : 13 : وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا (اور ایک اور بھی ہے جس کو تم پسند کرتے ہو) یعنی مغفرت وثواب کی اس نعمت کے ساتھ اس جلد آنے والی دنیا میں ایک پسندیدہ نعمت ہے جو تمہیں میسرآئی گی۔ پھر اس کی تفسیر فرمائی۔ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ (وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور قریب فتح یابی ہے) قریب یعنی جلد ملنے والی۔ وہ فتح مکہ ہے اور قریش پر غلبہ یا فارس کی فتح اور روم کی فتح۔ ایک تنبیہ : تحبونہا کے لفظ میں تھوڑی سی توبیخ ہے کہ جلد ملنے والی چیز کو پسند کرتے ہو جو کہ نہ چاہیے۔ صاحب کشاف نے کہا ہے۔ اس کا معنی ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم وعلی تجارۃ اخری تحبونھا فرما کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12 ۔” یغفرلکم ذنوبکم وید خلکم جنات تجری من تحتھا الانھار ومساکن طیبۃ فی جنت عدن ذلک الفوز العظیم “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–13

10۔ 13۔ اوپر ذکر تھا کہ کچھ لوگ نیک کاموں کے کرنے کا شوق ظاہر کرکے بھی اس پر قائم نہیں رہے آیتوں میں اسی کے متعلق فرمایا کہ اے ایمان والو اگر تم کو نیک کام کے اجر کمانے کا شوق ہے تو تم کو اس کمائی کے لئے ایسی سوداگری بتائی جاتی ہے جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے نقصان کا کہیں نام نہیں ہے پھر اس سوداگری کی تفصیل فرمائی کہ خالص دل سے اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری قبول کرو اور جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کے نافرمان ہیں ان کے راہ راست پر لانے میں جان و مال سے کوشش کرو اللہ کے رسول جو شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں اس کے برحق ہونے کا دل میں اعتقاد رکھنا اور زبان سے اس اعتقاد کے موافق قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–13

اس میں اخروی بھلائی بھی ہے یعنی اللہ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی چناچہ فرمایا (يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ) اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمادے گا اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیر ہی کیوں نہ ہوں۔ (وَيُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ) اور وہ تمہیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یعنی اس کے مساکن اس کے محلات اس کے بالاخانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہوگی ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 10–14

قول باری ہے (ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم، میں بتائوں تمہیں وہ تجارت جو تم کو عذاب الیم سے بچا دے) تا قول باری (نصر من اللہ وفتح قریب، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہونے والی فتح) اس کا شمار بھی دلائل نبوت میں ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نصرت اور فتح کا وعدہ فرمایا تھا اور ایمان لانے والوں کے حق میں یہ وعدہ پورا ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 13–14

[ 26] دنیاوی کامیابی و غلبہ کی بشارت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ایک اور چیز کی بشارت بھی جس کو تم لوگ پسند کرتے ہو، یعنی اپنی طبعی افتاد اور فطری اور جبلی تقاضے کی بناء پر، کہ انسان فطری طور پر عجلت پسند اور جلد باز واقع ہوا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { خلق الانسان من عجل ساریکم ایتی فلا تستعجلون } [ الانبیائ : 37 پ 17] نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { ویدع الانسان بالشر دعاءہ بالخیر ط وکان الانسان عجولا۔}[ بنی اسرائیل : 11 پ 15] ہجرت کے بعد سب سے بڑی تمنا جو ہر مسلمان کے دل میں موجزن تھی وہ فتح مکہ کی تمنا تھی، اسی پر اسلام کے اصل دشمنوں کی شکست کا انحصار…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–14

غلبہ ٔ دین کی بشارت اور مومنوں کی تجارت تشریح : اصل میں یہ آیات 3 ھ؁ میں جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ احد کی جنگ میں مسلمانوں کو خاصی پریشانی اٹھانا پڑی تھی اور یہ پریشانی اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے کچھ غلط رویے اور سوچ کی وجہ سے سزا کے طور پر اٹھانی پڑی تھی۔ مگر اس عارضی پریشانی سے مسلمان ڈگمگا گئے تھے اور دشمن بڑا خوش اور دلیر ہوگیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف احد کے بعد کی کامیابیوں کا یقین دلایا بلکہ ہر دور ہر زمانے میں کامیابیوں اور اللہ کی خاص مدد کا یقین دلا دیا کہ سچے، پکے، متقی اور بہترین مسلمان کیوں کہ اللہ کا پسندیدہ انسان ہوتا ہے اس لیے فتح اس کو ضرور ملتی ہے۔ اور وعدہ اس وقت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–14

آیات 10 تا 14۔ اسرار ومعارف۔ نظام اسلام۔ اے ایمان والو تمہیں سب سے اچھی تجارت اور سب سے اعلی کاروبار کے بارے خبر کردوں جو دنیا کا نفع بھی دے اور آخرت میں دردناک عذاب سے بھی بچالے تو وہ ہے واللہ پر ایمان کہ جس طرح رسول اللہ ماننے کا حکم دیں ویسا اللہ کو مانے اور اللہ کے رسول پر ایمان جس کی دلیل ہے زندگی کے اس نظام کو مانے جس کو رسول اللہ منوائیں اور اس کے نفاذ کے لیے جان ومال سے جہاد کرے تمہارے لیے یہی کام سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان جاؤ تو ایسے مجاہدین فی سبیل اللہ سے انسانی کمزوری کے باعث اگر غلطی ہوگئی تو بھی اللہ معاف فرمائے گا اور انہیں جنت کے خوبصورت گھروں اور بینظیر باغوں میں داخل…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(61:13) واخری۔ تقدیر کلام یوں ہے ویعطیکم اخری اے یعطیکم نعمۃ اخری اور وہ تمہیں ایک اور نعمت عطا کرے گا۔ اخری منصوب بوجہ یعطیکم کے مفعول ثانی ہونے کے۔ نعمۃ کی صفت کے ہے۔ تحبونھا : ای التی تحبوبھا۔ جسے تم پسند کرو گے۔ نصر من اللہ وفتح قریبخبر ہیں مبتداء محذوف کی۔ ای ہی نصر من اللہ یعنی وہ نعمت اخری اللہ کی مدد ہے اور جلد فتح یابی وبشر المؤمنین اور (اے رسول) آپ ایمان والوں کو بشارت دیدیجئے۔ صاحب تفسیر مظہرہ اس جملہ کی تفسیر میں رقمطراز ہیں :۔ وبشر المؤمنین : یعنی آپ قریبی فتح اور نصرت کی جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے مسلمانوں کو بشارت دیدیجئے۔ یایھا الذین امنوا سے پہلے امر کا صیغہ یعنی قل محذوف ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–14

لغات القرآن۔ لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔ تشریح : مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–13

ایسی تجارت جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے۔ (ف 1) شان نزول : مومنین نے کہا تھا کہ اگر ہم جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو کون ساعمل بہت پسند ہے تو ہم وہی کرتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے مسلمانو اگر تم نیک کام کے اجر کمانے کا شوق ہے تو تم کو اس کمائی کے لیے ایسی سوداگری بتلائی جاتی ہے کہ جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے نقصان کا نام کہیں نہیں ہے ، پھر اس سوداگری کی تفصیل فرمائی کہ خالص دل سے اللہ اور اللہ کے رسول کے نافرمان ہیں ان کے راہ راست پر لانے میں جان ومال سے کوشش کرو، اللہ کے رسول جو شریعت اللہ کی طرف سے لائے ہیں اس کے برحق ہونے کا دل میں اعتقاد رکھنا، اور زبان سے اس اعتقاد کے موافق اقرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–13

[9] اشارہ ہے فتح مکہ کی طرف جس کی تمنا ہر مسلمان کے دل میں جاگزیں تھی کہ اسی پر اسلام کے اصل دشمنوں کی شکست کا انحصار بھی تھا اور یہی غلبہ حق کی سب سے بڑی شہادت بھی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–14

ف 1: اس آیت میں مسلمانوں کو اسلام کی نصرت کے لئے ابھارا اور آمادہ کیا ۔ ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت کے لئے اور اس کے اعزاز وتفوق کے لئے کمر بستہ ہوجاؤ۔ اور اسی گرم جوشی اور استقلال کے ساتھ اسلام کی پکار کا استقبال کرو ۔ جس طرح حضرت مسیح کے حواریوں نے کہا تھا کہ نحن انصار اللہ حالانکہ مخالفین کی تعداد زیادہ تھی ۔ اور ہر طرح طاقتور تھے ۔ مگر تم نے دیکھا کہ یہ مومنوں کا گروہ بالآخر غالب آیا ۔ اور منکرین عیسائی ہوگئے یا مسیحی اقتدار رکے سامنے ان کی گرنیں جھک گئیں ۔ اس تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ اناجیل میں حضرت مسیح کی بےقدری اور تذلیل کا جو افسانہ مذکور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 13–14

(13) اور ان نعمتوں اور اس بڑی کامیابی کے علاوہ تمہارے لئے ایک اور نعمت بھی ہے جس کو تم چاہتے اور دوست رکھتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مدد اور قریب الحصول فتح ہے اور اے پیغمبر آپ ان مسلمانوں کو بشارت اور خوشخبری دے دیجئے۔ یعنی ان ثمرات اور نتائج حقیقیہ کے علاوہ جو تمہارے ایمان اور جہاد پر مرتب ہوں گے ایک اور نعمت عاجلہ بھی ہے جو تم کو محبوب ہے۔ تحبونھا فرمایا کیونکہ عام طور سے انسانی طبائع فوائد عاجلہ کو محبوب اور مرغوب رکھتی ہیں وہ محبوب نعمت کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے غیبی مدد اور قریب ملنے والی فتح آخر میں اپنے پیغمبر کی زبانی اس فتح کی بشارت دلوائی۔ اس فتح سے اشارہ یا تو مکہ کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–14

ف 5۔ اللہ پر جھوٹ باندھنا یہ کہ نبوت کی تکذیب ہے۔ 6۔ واللہ لا یھدی اس لئے بڑھایا کہ ان کی حالت موجودہ اصلاح سے بعید ہوگئی، اس لئے سزائے قتال ہی تجویز کیا جانا مصلحت ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

13 ؎ وطن کی محبت اور کھوئی ہوئی چیز کے واپس ملنے سے انسان کو جو خوشی ہوتی ہے بلا شبہ وہ بھی دنیا کی خوشیوں میں سے ایک فطری خوشی ہے۔ وطن کی محبت اور کھوئی ہوی چیز کے واپس ملنے سے مراد ظاہر ہے کہ مکہ کا فتح ہونا ہی لیا جاسکتا ہے ۔ جن لوگوں کو ہجرت پر مجبور کردیا گیا تھا اور وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نکل گئے تھے اس وطن کو اور ان گھروں کو پھر خصوصاً بیعت اللہ کو جو آپ ﷺ کی بعثت سے قبل بھی ایک مبارک گھر خیال کیا جاتا تھا اور آپ ﷺ کی بعثت کے بعد بھی اس گھر کی برکت میں مزید کچھ اضافہ ہی ہوا تھا لیکن اس کی زیارت سے ان مسلمانوں کو محروم کردیا گیا تھا اس کی واپسی کی خبر دی جا رہی ہے اور بتایا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَأُخْرَ‌ىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌ‌ مِّنَ اللَّـهِ وَفَتْحٌ قَرِ‌يبٌ (And [ He will give you ] another thing that you love: Help from Allah, and a victory, near at hand ...61:13) This verse adds that the blessings of this trade are not restricted to the Hereafter. There is one blessing that will be granted right here in this world, which is the Divine help and an imminent victory, that is, conquests of enemy territories. If the word qarib (near) is taken as the opposite of Hereafter, it would include all later Islamic conquests of Arab and non-Arab territories. And if the word qarib (near) is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

18 Although victory and success in the world is a great blessing of Allah, yet for the believer the thing of real importance is not this but the success of the Hereafter. That is why the gain of the worldly life has been mentioned as second and the result accruing in the Hereafter first.

Read the full tafseer →