عیسیٰ ؑ کے 12 صحابہ کی روداد :۔ اللہ سحبانہ و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر آن اور ہر لحظہ جان مال عزت آبرو قول فعل نقل و حرکت سے دل اور زبان سے اللہ کی اور اس کے رسول کی تمام تر باتوں کی تعمیل میں رہیں، پھر مثال دیتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے تابعداروں کو دیکھو کہ حضرت عیسیٰ کی آواز پر فوراً لبیک پکار اٹھے اور ان کے اس کہنے پر کہ کوئی ہے جو اللہ کی باتوں میں میری امداد کرے انہوں نے بلا غور علی الفور کہہ دیا کہ ہم سب آپ کے ساتھی ہیں اور دین اللہ کی امداد میں آپ کے تابع ہیں، چناچہ روح اللہ علیہ صوالت اللہ نے اسرائیلیوں اور یونانیوں میں انہیں مبلغ بنا کر شام کے شہروں میں بھیجا، حج کے…
Read the full tafseer →سورة الصَّف 19
حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھیوں کے لیے بائیبل میں عموماً لفظ " شاگرد " استعمال کیا گیا ہے، لیکن بعد میں ان کے لیے " رسول " (Apostles) کی اصطلاح عیسائیوں میں رائج ہوگئی، اس معنی میں نہیں کہ وہ خدا کے رسول تھے، بلکہ اس معنی میں کہ حضرت عیسیٰ ان کو اپنی طرف سے مبلغ بنا کر اطراف فلسطین میں بھیجا کرتے تھے۔ یہودیوں کے ہاں یہ لفظ پہلے سے ان لوگوں کے لیے بولا جاتا تھا جو ہیکل کے لیے چندہ جمع کرنے بھیجے جاتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں قرآن کی اصطلاح " حواری " ان دونوں مسیحی اصطلاحوں سے بہتر ہے۔ اس لفظ کی اصل حور ہے جس کے معنی سفیدی کے ہیں۔ دھوبی کو حواری کہتے ہیں کیونکہ وہ کپڑے دھو کر سفید کردیتا…
Read the full tafseer →كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ، حواریین، حواری کی جمع ہے جس کے معنی مخلص دوست کے ہیں جو ہر عیب سے پاک و صاف ہو (روح ازازہری) اسی لئے جو لوگ عیسیٰ ؑ پر ایمان لائے ان کو حواری کہا جاتا ہے اور وہ بارہ آدمی تھے جیسا کہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔
اس آیت میں زمانہ عیسیٰ ؑ کے ایک واقعہ کا ذکر کر کے مسلمانوں کو اس کی ترغیب دی گئی ہے کہا اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لئے تیار ہوجائیں، جیسا کہ عیسیٰ ؑ جب دشمنوں سے تنگ آئے تو لوگوں سے کہا من انصاری الی اللہ، یعنی اللہ کے دین کی اشاعت میں کون میرا مددگار ہوتا ہے جس پر بارہ آدمیوں نے وفا داری کا عہد…
Read the full tafseer →(یایھا الذین امنوا کو نو انصار اللہ کما قال عیسیٰ ابن مریم للحوارین من انصاری الی اللہ قال الحواریون نحن انصار اللہ فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل و کفرت طائفۃ فاید نا الذین امنوا علی عدوھم فاصبحوا ظھرین) (14)
(حواریوں کا قابل تقلید نمونہ)۔ اوپر آیت 5 میں مسلمانوں کو یہود کی روش کی تقلید سے روکا ہے کہ اگر ان کے نقش قدم پر چلو گے تو اسی رفیع نظر میں مبتلا ہو کر رہو گے جس میں وہ مبتلا ہوئے۔ اب یہ بتایا کہ تمہارے لیے قابل تقلید نمونہ حوارمین کا ہے جنہوں نے یہود کی طرح حضرت مسیح ؑ کی تکذیب نہیں کی بلکہ جب حضرت مسیح ؑ نے ان کو اللہ کے لیے اٹھنے کی دعوت دی تو وہ پورے جوش دلی کے ساتھ اس راہ میں نصرت…
Read the full tafseer →14۔ 1 تمام حالتوں میں، اپنے اقوال و افعال کے ذریعے سے بھی اور جان ومال کے ذریعے سے بھی۔ جب بھی جس وقت بھی اور جس حالت میں بھی تمہیں اللہ اور اس کا رسول اپنے دین کے لیے پکارے تم فورا ان کی پکار پر لبیک کہو، جس طرح حواریین نے عیسیٰ ؑ کی پکار پر لبیک کہا۔ 14۔ 2 یعنی ہم آپ ﷺ کے اس دین کی دعوت و تبلیغ میں مددگار ہیں جس کی نشرو اشاعت کا حکم اللہ نے آپ ﷺ کو دیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ ایام حج میں فرماتے ' کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا سکوں، اس لئے کہ قریش مجھے فریضہ رسالت ادا نہیں کرنے دیتے ' حتٰی کے آپ ﷺ کی پکار پر مدینے کے اوس اور خزرج نے لبیک کہا، آپ ﷺ کے ہاتھ پر…
Read the full tafseer →9: ”حواری“ حضرت عیسیٰ ؑ کے ان ساتھیوں کو کہتے ہیں جو آپ پر ایمان لائے تھے، جیسے حضور اقدس ﷺ کے ساتھیوں کو ”صحابہ“ کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →چناچہ سورت کا خاتمہ ایک نئی پکار سے ہوتا ہے ۔ اس پکار کا نیارنگ ہے ۔ ایک جدید دلیل ، ایک موثر مثال اور ایک نئے پہلو سے آمادگی اور اکسانا۔
یایھا الذین ................................ ظھرین (16 : 41) ” لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ کی مددگار بنو ، جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں کو خطاب کرکے کہا تھا :” کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مددگار ؟ “ اور حواریوں نے جواب دیا تھا : ” ہم ہیں اللہ کے مددگار “۔ اس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہوکر رہے “۔
حواری کون تھے ؟ حضرت عیسیٰ…
Read the full tafseer →3 یعنی اس کے دین اور اس کے پیغمبر کے مددگار بن جاؤ۔ اس حکم کی تعمیل خدا کے فضل و توفیق سے مسلمانوں نے ایسی کی کہ ان میں سے ایک جماعت کا تو نام ہی " انصار " پڑگیا۔
4 " حواریین " (یاران مسیح) تھوڑے سے گنے چنے آدمی تھے جو اپنے نسب و حسب کے اعتبار سے کچھ معزز نہیں سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے حضرت مسیح کو قبول کیا اور ان کی دعوت کو بڑی قربانیاں کر کے دیار و امصار میں پھیلایا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کے یاروں نے بڑی محنتیں کی ہیں ان کا دین نشر ہوا۔ ہمارے حضرت ﷺ کے پیچھے بھی خلفاء نے اس سے زیادہ کیا۔ " والحمد للہ علی ذلک۔
5 یعنی " بنی اسرائیل " میں دو فرقے ہوگئے۔ ایک…
Read the full tafseer →اس سورة مبارکہ کی آخری آیت ایک طویل آیت ہے اور منطقی اعتبار سے یہ اس سلسلہ مضمون کا ایک انتہائی اہم اور بلند ترین مقام ہے جو گزشتہ آیات میں چلا آ رہا ہے۔ فرمایا :
آیت 14{ یٰٓـــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ } ”اے اہل ایمان ! تم اللہ کے مددگار بن جائو“
اللہ کے مددگار بننے کا طریقہ یہ ہے کہ تم اللہ کے دین کا جھنڈا سربلند کرنے پر کمربستہ ہو جائو۔ اور اگر تم اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے جدوجہد کرو گے تو تم محمد عربی ﷺ کے مددگار بھی بن جائو گے ‘ کیونکہ غلبہ دین کا یہ مشن اصل میں تو اللہ کے رسول ﷺ کا مشن ہے۔ تو اے اہل ایمان ! آئو آگے بڑھو ! اللہ کے دین کا جھنڈا اٹھائو !…
Read the full tafseer →16 بعضبعض مفسرین کے نزدیک یہ دھوبی تھے۔ گو تعداد میں کم تھے مگر انتہائی مخلص ایماندار تھے۔ انجیل کی تعلیم کی اشاعت میں ان لوگوں نے سردھڑ کی بازی لگا دی تھی۔ (مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورة آل عمران کی آیت نمبر 52 اور سورة المائدہ کی آیت نمبر 111، 112 کے حواشی)
17 سیدنا عیسیٰ کا انکار کرنے والے تو یہود ہیں۔ اور ان پر ایمان لانے والے عیسائی ہیں جو سیدنا عیسیٰ کے بعد آپس میں دست و گریبان رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس بحث و مناظرہ اور خانہ جنگیوں میں ایمان لانے والوں کو یہودیوں پر غالب کیا پھر ان نصاریٰ میں شرک کی عام گمراہی پھیل گئی۔ ان میں سے جو بچے کھچے افراد توحید پر قائم رہ گئے تھے انہیں اللہ…
Read the full tafseer →18۔ یعنی دین حق کی تبلیغ کے معرکوں میں کون میرا شریک ورفیق ہوتا ہے ؟ (آیت) ” حوارین “۔ پر حاشیے سورة آل عمران (پ 3) میں گزر چکے، اور (آیت) ” عیسیٰ ابن مریم “۔ پر اس کے قبل “۔ کما ....... اللہ “۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت فرمایا، جب آپ (علیہ السلام) مخالفوں اور دشمنوں سے گھرے ہوئے تھے، اناجیل مروجہ میں آپ (علیہ السلام) کی اس نصرت طلبی کے سلسلہ میں ہے :۔ ” اس کے بارے میں مقرر کیا تاکہ اس کے ساتھ رہیں، اور وہ انہیں بھیجے کہ منادی کریں “۔ (مرقس۔ 3: 14) ” وہ ان سے کہنے لگا کہ فصل تو بہت ہے لیکن مزدور تھوڑے ہیں، اس لیے فصل کے مالک کی منت کرو کہ اپنی فصل کاٹنے کے لئے مزدور بھیجے (لوقا۔…
Read the full tafseer →کمال قال عیسیٰ ابن مریم للحواریین الآیۃ حواریین، حواری کی جمع ہے جس کے معنی مخلص دوست کے ہیں جو ہر عیب سے پاک و صاف ہو، اسی لئے ان لوگوں کو جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے حواری کہا گیا، ان کی تعداد بارہ تھی، اس آیت میں زمانہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے ایک وفاعہ کا ذکر کر کے مسلمان کو اس کی ترغیب دی گئی یہ کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لئے تیار ہوجائیں، جیسا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) جب دشمن سے تنگ آگئے تو آپ نے لوگوں سے کہا، من انصاری الی اللہ یعنی اللہ کے دین کی اشاعت میں کون میرا مددگار ہوگا ؟ بارہ آدمیوں نے وفاداری کا عہد کیا اور پھر دین عیسویٰ کی اشاعت میں خدمات انجام دیں تو…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے پہلے امر حاضر کا صیغہ یعنی قل محذوف ہے اور بشر کا عطف قل پر ہے (اس صورت میں امر کا عطف امر پر ہوجائے گا) یا بشر کا عطف تو منون پر ہو کیونکہ تو منون بظاہر خبر ہے لیکن امر مراد ہے۔ اب مطلب اس طرح ہوگا : اے اہل ایمان ! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور اے رسول ! آپ مؤمنوں کو فتح کی بشارت دے دیجئے۔
ایھا الذین امنوا کونوا انصار اللہ کما قال عیسیٰ ابن مریم للحوارین من انصاری الی اللہ قال الحواریون نحن انصار اللہ فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل و کفرت طائفۃ فایدنا الذین امنوا علی عدوھم فاصبحوا ظاھرین .
” اے ایمان والو ! اللہ کے (دین کے)…
Read the full tafseer →اے ایمان والو دشمنوں کے خلاف تم رسول اکرم کے مددگار ہوجاؤ جیسا کہ حضرت عیسیٰ کے فرمانے پر ان کے حواری کہنے لگے ہم اللہ کے دین میں اس کے دشمنوں کے خلاف آپ کے مددگار ہیں اور یہ بارہ حواری تھے جو سب سے پہلے حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے اور ان کی مدد کی۔
اور بنی اسرائیل میں سے حضرت عیسیٰ پر کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ منکر رہے جن کو بولس نے گمراہ کردیا تھا اس کے نتیجہ میں ہم نے ان لوگوں کی جنہوں نے دین عیسوی کی مخالفت نہیں کی تھی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد اور حمایت کی سو حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے والے غالب ہوگئے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے یا یہ کہ وہ تسبیح و تقدیس کرنے والوں میں سے…
Read the full tafseer →1۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللہ ِ۔۔۔۔:”الحواری“ ”حار یحور حورا“ (ن)”الثوب“ کپڑے کو دھونا اور خوب سفید کرنا۔ دھوبی کو اسی لیے حواری کہتے ہیں کہ وہ کپڑے کو دھو کر سفید کردیتا ہے۔ ”حواری“ صاف سفید میدے کو کہتے ہیں جس سے چھان نکال دیا گیا ہو۔ خالص دوست اور بےغرض مدد گار کو اسی لیے حواری کہتے ہیں کہ اس کا دل ہر قسم کے کھوٹ سے پاک صاف اور خیر خواہی اور محبت میں خالص ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان لکل نبی حواربا وان حواری الزبیر بن العوام) (بخاری ، فضائل الصحابۃ ، باب مناقب الزبیر بن العوام ؓ : 3719)
”ہر نبی کا کوئی حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر بن عوام ؓ…
Read the full tafseer →تفسیر
جہاد کے امر کو موکد کیا یعنی اپنے نبی کے حواری بنو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے مخالفین پر غلبہ دے جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو ان کے مخالفین پر غلبہ دیا۔ ابن کثیر، ابو عمرو اور نافع نے انصار۔۔۔۔۔ تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ انہوں نے کہا : کیونکہ اس کا معنی ہے تم ثابت قدم رہو اور تلوار کے ساتھ اس کے دشمنوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کے مددگار بنو۔ باقی قراء جو بصرہ، کوفہ اور شام سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے اسے انصار اللہ تنوین کے بغیر پڑھا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس سے لام اضافت حذف کردیا ہے۔ ابو عبید نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : نحن انصار اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت کونوا انصار اللہ کو اضافت کے ساتھ پڑھا۔
5۔ عبد بن حمید وعبد الرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا کونوا انصار اللہ۔ اے ایمان والو ! اللہ کے دین کے مددگار ہوجاؤ۔ اور اللہ کی حمد کے ساتھ ایسا ہوا کہ ستر آدمی آئے اور انہوں نے عقبہ گھاٹی کے پاس آپ سے بیعت کی پھر انہوں نے آپ کی مدد کی۔ اور آپ کو پناہ دی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کردیا۔ اور ان کے علاوہ کسی قبیلے کو آسمان سے ایسے نام سے نہیں پکارا گیا جو اس سے پہلے تھے سوائے ان کے ہم کو یہ بتایا گیا ان میں سے کسی نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ تم…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْٓا : اے لوگو جو ایمان لائے تم لوگ ہو جائو ][ انصَارَ اللّٰهِ : اللہ کی مدد کرنے والے ][كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ : جیسے کہ کہا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں کو ][مَنْ انصَارِيْٓ: کون ہیں میری مدد کرنے والے ][ اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف ][ قَالَ الْحَــوَارِيُّوْنَ : کہا حواریوں نے ][ نَحْنُ انصَارُ اللّٰهِ : ہم ہیں اللہ کی مدد کرنے والے ][فَاٰمَنَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : تو ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے ][وَكَفَرَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ : اور انکار کیا ایک گروہ نے ][ فَاَيَّدْنَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا : تو…
Read the full tafseer →اللہ کے انصار اور مددگار بن جاؤ
شروع سورت میں جہاد کرنے کا ذکر تھا پھر درمیان سورت میں بھی اس کی فضیلت سنائی اب یہاں سورت کے ختم پر بھی دین اسلام کی بلندی کے لیے نصرت کرنے کا حکم فرمایا اہل ایمان کے لئے ایسے احوال سامنے آتے رہتے ہیں کہ ہجرت اور نصرت اور جہاد کی ضرورت پڑتی ہے ان تینوں چیزوں پر عمل کرنے سے دین اسلام کی ترقی ہوتی ہے اور اس کی دعوت آگے بڑھتی رہی ہے اللہ تعالیٰ تو بےنیاز ہے اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں لیکن جو لوگ اس کے دین کو بلند کرنے کی محنت کریں۔ انہیں محض اپنے فضل سے مبارک لقب یعنی لفظ ” اَنْصَار اللّٰهِ “ سے یاد فرمایا۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد سیدنا محمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
دعوت اہل ایمان برائے تجارت رابحہ وترغیب برحصول فلاح وسعادت دنیا وآخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ....... الی ...... فاصبحوا ظھرین “۔
(ربط) گزشتہ آیات کا حاصل مضمون یہ تھا کہ اللہ رب العزت نے اپنے نبی آخرالزمان ﷺ کی بعثت سے دنیا کی ہدایت کا ارادہ فرمایا تاکہ انسان حق وہدایت کے ذریعہ دنیا وآخرت کی فلاح و کامیابی حاصل کرسکیں، اور اسی بشارت کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا لیکن ان کی بدنصیب قوم نے ان کی بات کو ٹھکرایا حق سے منہ موڑا اور جو کچھ نبی آخر الزمان ﷺ کی نشانیاں تھیں ان میں تحریف کی اب ان آیات میں اہل ایمان کو خطاب کرکے فرمایا جارہا…
Read the full tafseer →9:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ مومنوں سے تیسرا خطاب ہے اور اس سے بھی جہاد کی ترغیب مقصود ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریین با اثر اور امراء تھے۔ اللہ نے ان کو ایمان لانے کی توفیق دی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نصرت و تائید کا بھی ان کو شرف عطاء فرمایا۔ ایمان والوں سے فرمایا جس طرح حواریوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھ دیا اور کافروں کا مقابلہ کیا اسی طرح تم بھی اللہ کے دین کے انصار بن جاؤ اور خاتم النبیین ﷺ کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کرو۔ آخر کار اللہ تمہیں ان پر غلبہ عطا فرمائے گا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اعلان فرمایا کہ اللہ کی طرف بلانے اور دعوت توحید کے اعلان و اظہار میں…
Read the full tafseer →ربط آیات :
گزشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ نے دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے کے سلسلے میں فرمایا کہ اس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ وہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کردے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ شرط بھی لگا دی کہ غلبہ ان لوگوں کو حاصل ہوگا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ پھر اللہ نے ایک ایسی تجارت کا ذکر کیا۔ جس میں خسارے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بلکہ اس میں ابدی فائدہ ہے۔ فرمایا یہ تجارت اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں مال وجان کے ساتھ جہاد کرنا ہے۔ فرمایا اس تجارت کا فائدہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ پر ہوگا۔ آخرت…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللہِ كَـمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللہِ 0 ۭ قَالَ الْحَــوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللہِ فَاٰمَنَتْ طَّاۗىِٕفَۃٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَكَفَرَتْ طَّاۗىِٕفَۃٌ 0 ۚ فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰي عَدُوِّہِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰہِرِيْنَ 14 ۧ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما…
Read the full tafseer →ترکیب : انصار اللہ۔ الانصار (جمع نصیر کشریف و اشراف) منصوب لکونہ خبر کونوا قریٔ انصار اللہ بالتنوین وبالاضافۃ والرسم یحتمل القرائتیں کماو الکاف فی موضع نصب علی اضمار القول ای اقول لکم کماقال وقیل ھو محمول علی المعنی اذالمعنی انصروا اللہ کمانصرالحواریون عیسیٰ بن مریم الی اللہ ای من یکون معی فی نصرۃ اللہ لیطابق السوال و حواری الرجال صفیہ وخلصآء من الحوروھوالیباض الخالص۔
تفسیر : اس تجارت کے بعد صاف صاف لشکر آسمانی میں داخل ہونے کی تاکید فرماتا ہے اور اس کے ضمن میں ایک پہلی قوم سے تشبیہ پیدا کرنے کا ارشاد فرماتا ہے۔ فقال یا ایہا الذین آمنوا کونوا انصار اللہ کہ اے ایمان والو ! اللہ کے مددگار…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَاللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ط قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُاللّٰہِ فَاٰ مَنَتْ طَّـآئِفَۃٌ مِّنْ م بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ وَکَفَرَتْ طَّـآئِفَۃٌ ج فَاَیَّدْنَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّھِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰھِرِیْنَ ۔ (الصف : 14)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ کے مددگار بنو، جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا تھا اللہ کی طرف بلانے میں کون میرا مددگار بنتا ہے ؟ حواریوں نے جواب دیا ہم ہیں اللہ کے مددگار، تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس حکم سے پہلے مسلمانوں کو یہ خوشخبری سنائی گئی ہے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا کی کامیابی کے ساتھ جنت میں داخل کرے گا، دنیا کی کامیابی اور جنت کا حصول تب ممکن ہے جب مسلمان صرف ” اللہ “ کی خاطر جہاد کریں گے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اللہ تعالیٰ کی مدد کرنے کے مترادف ہے اسی کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہے۔
اے ایمان والو ! اللہ کے مددگار بن جاؤ جس طرح حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے حواریوں سے فرمایا کہ کون اللہ کے لیے میری مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ حواریوں نے کہا ہم اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →14 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ (اے ایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار ہوجائو) انصار اللہ۔ یعنی انصار دین۔ اس کے دین کے مددگار۔
قراءت : حجازی، ابوعمرو نے انصارً اللہ پڑھا ہے۔
حواریوں سے معاونت کا مطالبہ :
کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَ ارِیِّنَ مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ (جیسا عیسیٰ ابن مریم نے اپنے حواریوں سے کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے واسطے میرا مددگار کون ہے) ظاہر میں یہ تشبیہ ہے اس بات میں کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول من انصاری الی اللہ میں ناصر و مددگار بنے۔ مگر اس کو معنی پر محمول کیا گیا ہے۔ ای کونوا انصار اللہ کما کان…
Read the full tafseer →13 ۔” واخری تحبونھا “ اور تمہارے لئے دوسری خصلت ہے تم اس آخرت کے ثواب کے ساتھ جلدی پسند کرتے ہو اور وہ خصلت ” نصر من اللہ وفتح قریب “ کلبی (رح) فرماتے ہیں وہ قریش کے خلاف مدد کرنا ہے اور فتح مکہ اور عطائؒ فرماتے ہیں فارس اور روک کی فتح مراد ہے۔
” وبشر المومنین “ اے محمد ! ( ﷺ ) دنیا میں مدد کی اور آخرت میں جنت کی۔ پھر ان کو دین کی مدد اور مخالفین سے جہاد کرنے کی ترغیب دی ہے۔
Read the full tafseer →14۔ جس طرح بارہ شخص حواریوں نے عیسائی دین کے پھیلانے میں کوشش کی۔ اسی طرح ہجرت کے پہلے آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں دین محمدی پھیلانے کیلئے بارہ شخص نقیب جو قبیلہ خزرج میں مقرر کئے تھے انہوں نے آنحضرت ﷺ اور مہاجرین کے مدینہ پہنچنے سے پہلے اسلام کے پھیلانے میں کوشش کی چناچہ یہ قصہ سورة حشر میں گزر چکا ہے۔ ہجرت کے بعد سب اہل اسلام اہل مدینہ نے اسلام کی بڑی مدد کی۔ اسی واسطے اہل مدینہ کا نام انصار قرار پایا جس کے معنی مددگار کے ہیں۔ انصار کی تعریف میں بہت سی صحیح حدیثیں آئی ہیں۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں زید بن ارقم کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے انصار ان کی اولاد الاولاد کے لئے مغفرت کی دعا مانگی ہے۔
مہاجرین…
Read the full tafseer →پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰهِ ) اے ایمان والو تم اپنے اقوال وافعال کے ذریعے سے اللہ کے مددگار بن جاؤ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان ومال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے حق کی دلیل کا ابطال کرکے اس پر حجت قائم کرکے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے کتاب اللہ اور سنت رسول کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
قول باری ہے (ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم، میں بتائوں تمہیں وہ تجارت جو تم کو عذاب الیم سے بچا دے) تا قول باری (نصر من اللہ وفتح قریب، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہونے والی فتح) اس کا شمار بھی دلائل نبوت میں ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نصرت اور فتح کا وعدہ فرمایا تھا اور ایمان لانے والوں کے حق میں یہ وعدہ پورا ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
[ 26] دنیاوی کامیابی و غلبہ کی بشارت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ایک اور چیز کی بشارت بھی جس کو تم لوگ پسند کرتے ہو، یعنی اپنی طبعی افتاد اور فطری اور جبلی تقاضے کی بناء پر، کہ انسان فطری طور پر عجلت پسند اور جلد باز واقع ہوا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { خلق الانسان من عجل ساریکم ایتی فلا تستعجلون } [ الانبیائ : 37 پ 17] نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { ویدع الانسان بالشر دعاءہ بالخیر ط وکان الانسان عجولا۔}[ بنی اسرائیل : 11 پ 15] ہجرت کے بعد سب سے بڑی تمنا جو ہر مسلمان کے دل میں موجزن تھی وہ فتح مکہ کی تمنا تھی، اسی پر اسلام کے اصل دشمنوں کی شکست کا انحصار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
غلبہ ٔ دین کی بشارت اور مومنوں کی تجارت
تشریح : اصل میں یہ آیات 3 ھ میں جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ احد کی جنگ میں مسلمانوں کو خاصی پریشانی اٹھانا پڑی تھی اور یہ پریشانی اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے کچھ غلط رویے اور سوچ کی وجہ سے سزا کے طور پر اٹھانی پڑی تھی۔ مگر اس عارضی پریشانی سے مسلمان ڈگمگا گئے تھے اور دشمن بڑا خوش اور دلیر ہوگیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف احد کے بعد کی کامیابیوں کا یقین دلایا بلکہ ہر دور ہر زمانے میں کامیابیوں اور اللہ کی خاص مدد کا یقین دلا دیا کہ سچے، پکے، متقی اور بہترین مسلمان کیوں کہ اللہ کا پسندیدہ انسان ہوتا ہے اس لیے فتح اس کو ضرور ملتی ہے۔ اور وعدہ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
آیات 10 تا 14۔
اسرار ومعارف۔
نظام اسلام۔
اے ایمان والو تمہیں سب سے اچھی تجارت اور سب سے اعلی کاروبار کے بارے خبر کردوں جو دنیا کا نفع بھی دے اور آخرت میں دردناک عذاب سے بھی بچالے تو وہ ہے واللہ پر ایمان کہ جس طرح رسول اللہ ماننے کا حکم دیں ویسا اللہ کو مانے اور اللہ کے رسول پر ایمان جس کی دلیل ہے زندگی کے اس نظام کو مانے جس کو رسول اللہ منوائیں اور اس کے نفاذ کے لیے جان ومال سے جہاد کرے تمہارے لیے یہی کام سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان جاؤ تو ایسے مجاہدین فی سبیل اللہ سے انسانی کمزوری کے باعث اگر غلطی ہوگئی تو بھی اللہ معاف فرمائے گا اور انہیں جنت کے خوبصورت گھروں اور بینظیر باغوں میں داخل…
Read the full tafseer →ف 6 حواریوں سے مراد حضرت عیسیٰ کے وہ ساتھی جو ان پر سب سے پہلے ایمان لائے۔ مزید تشریح کے لئے دیکھئے (آل عمران آیت 52)7 شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” حضرت عیسیٰ کے بعد ان کے یاروں نے بڑی محبتیں کیں تب ان کا دین نشر ہوا۔ ہمارے رسول کے پیچھے بھی خلیفوں نے اس سے زیادہ کیا۔ ” قتادہ “ کہتے ہیں : بحمد اللہ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر عمل کیا جب کہ (مدینہ ایک حج کے موقع پر آنحضرت کے پاس سترآدمی آئے اور انہوں نے عقبہ کے پاس آپ کے ہاتھ پر بیعت کی پھر آپ کو اپنے ہاں پناہ دی اور آپ کے دین کی مدد کی۔ آنحضرت نے عقبہ کی رات انصار سے فرمایا تھا :” تم اپنے لوگوں میں سے بارہ آدمی منتخب کرو جو اپنے قبیلہ کا…
Read the full tafseer →(61:14) کانوا انصار اللہ : کونوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر کون (باب نصر) مصدر۔ تم ہوجاؤ۔ تم بن جاؤ۔ انصار۔ منصوب بوجہ کونوا کی خبر کے ہے نصیر کی جمع ہے۔ جیسے شریف کی جمع اشراف ہے۔ مضاف ہے اللہ مضاف الیہ ۔
ترجمہ :۔ تم اللہ کے مددگار بن جاؤ۔ بعض نے اس کا ترجمہ کیا ہے :۔ تم اللہ کے (دین کے) مددگار بن جاؤ (الخازن) مدارک التنزیل ، علامہ پانی پتی۔
علامہ مودودی انصار اللہ کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔
اللہ کا مددگار اس لئے کہا گیا کہ اللہ رب العالمین معاذ اللہ کسی کام کے لئے اپنی کسی مخلوق کی مدد کا محتاج ہے بلکہ یہ اس لئے فرمایا گیا ہے کہ زندگی کے جس دائرے میں اللہ تعالیٰ نے خود انسان کو کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
لم تقولون۔ تم کیوں کہتے ہو۔ کبر مقتا۔ بڑی بری بات۔ صفا۔ ایک صف (باندھ کر) ۔ بنیان۔ دیواریں۔ مرصوص (رص) ۔ سیسہ پلائی گئی مضبوط۔ لم تو ذوننی۔ تم مجھے کیوں ستاتے ہو ؟ کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ؟ ۔ زاغوا۔ وہ ٹیڑھے ہوگئے۔ ازاغ ۔ اس نے ٹیڑھا کردیا۔ مبشرا۔ خوش خبری دینے والا۔ یدعی۔ وہ بلاتا ہے۔ یطفئوا۔ وہ بجھاتے ہیں۔ ارسل۔ اس نے بھیجا۔ لیظھرہ۔ تاکہ وہ اس کو غالب کردے۔
تشریح :
مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن جو کچھ زبان سے کہتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے فائدے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، وعدہ خلافی، بددیانتی نہیں کرتا اور لڑائی جھگڑے کے وقت اخلاق اور شرافت کی حدوں کو نہیں…
Read the full tafseer →اشاعت دین اسلام کا حکم۔
(ف 1) اے مسلمانو ! رسول و قرآن کے ماننے والو اللہ کے انصار ہوجاؤ اسلام کے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ، رسول کی مدد کرو جیسا حضرت عیسیٰ نے اپنے حواری اور دوستوں سے کہا کہ میرے انصار خدا کی راہ میں کون ہیں ؟ میری مدد اور خدا کے دشمنوں سے لڑائی کون لیتا ہے تو ان کے حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ہم اللہ کے دین کی مدد کو تیار ہیں دشمنوں سے لڑیں گے بارہ آدمی تھے جو سب سے پہلے حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے تھے پس حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے تو تو ان کی قوم تین فرقوں میں منقسم ہوگئی ۔ ایک فرقہ نے حضرت عیسیٰ کی نسبت کہا کہ وہ اللہ تھا آسمان پرچلا گیا ۔ دوسرے فرقہ نے کہا کہ وہ اللہ کا بیٹا…
Read the full tafseer →[10] اللہ کا مددگار بننے کا مطلب اللہ کے پیغمبر اور دین حق کی مدد کرنا ہے۔
[11] بنی اسرائیل میں دو فرقے ہوگئے ایک گروہ یعنی نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا اور دوسرے گروہ یعنی یہود نے انکار کیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہ دونوں گروہ آپس میں دست و گریبان رہے۔ آخر کو اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کو یہود پر غالب کیا اور پھر مسلمان بھی ان پر غالب آئے۔ اس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کرنے والے دونوں ہی سے مغلوب ہو کر رہے۔ اس بات کو یہاں بیان کرنے کی غرض مسلمانوں کو بتلانا ہے کہ تمہارے لئے قابل تقلید نمونہ حواریوں کا ہے جنہوں نے یہود کی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب نہیں کی بلکہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ف 1: اس آیت میں مسلمانوں کو اسلام کی نصرت کے لئے ابھارا اور آمادہ کیا ۔ ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت کے لئے اور اس کے اعزاز وتفوق کے لئے کمر بستہ ہوجاؤ۔ اور اسی گرم جوشی اور استقلال کے ساتھ اسلام کی پکار کا استقبال کرو ۔ جس طرح حضرت مسیح کے حواریوں نے کہا تھا کہ نحن انصار اللہ حالانکہ مخالفین کی تعداد زیادہ تھی ۔ اور ہر طرح طاقتور تھے ۔ مگر تم نے دیکھا کہ یہ مومنوں کا گروہ بالآخر غالب آیا ۔ اور منکرین عیسائی ہوگئے یا مسیحی اقتدار رکے سامنے ان کی گرنیں جھک گئیں ۔ اس تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ اناجیل میں حضرت مسیح کی بےقدری اور تذلیل کا جو افسانہ مذکور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(13) اور ان نعمتوں اور اس بڑی کامیابی کے علاوہ تمہارے لئے ایک اور نعمت بھی ہے جس کو تم چاہتے اور دوست رکھتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مدد اور قریب الحصول فتح ہے اور اے پیغمبر آپ ان مسلمانوں کو بشارت اور خوشخبری دے دیجئے۔ یعنی ان ثمرات اور نتائج حقیقیہ کے علاوہ جو تمہارے ایمان اور جہاد پر مرتب ہوں گے ایک اور نعمت عاجلہ بھی ہے جو تم کو محبوب ہے۔
تحبونھا فرمایا کیونکہ عام طور سے انسانی طبائع فوائد عاجلہ کو محبوب اور مرغوب رکھتی ہیں وہ محبوب نعمت کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے غیبی مدد اور قریب ملنے والی فتح آخر میں اپنے پیغمبر کی زبانی اس فتح کی بشارت دلوائی۔
اس فتح سے اشارہ یا تو مکہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ف 5۔ اللہ پر جھوٹ باندھنا یہ کہ نبوت کی تکذیب ہے۔
6۔ واللہ لا یھدی اس لئے بڑھایا کہ ان کی حالت موجودہ اصلاح سے بعید ہوگئی، اس لئے سزائے قتال ہی تجویز کیا جانا مصلحت ہوا۔
Read the full tafseer →ایمان والو ! اللہ کے مدد گار بن جائو اللہ کی مدد کو بالکل قریب پائو گے
14 ؎ فطرت انسانی بھی بڑی عجیب چیز ہے کبھی غور کیا تم نے کسی بالکل چھوٹے بچے کو جب تم خود ہی ایک چیز دیتے ہو خواہ وہ چیز کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو لیکن دینے کے بعد جب تم اس سے طلب کرتے ہو اور وہ تم کو واپس دے دیتا ہے تو تم کو کتنی خوشی ہوتی ہے اور تم اس سے کتنا پیار کرتے ہو یہ ایک ادنیٰ سی مثال ہے تاکہ بات تمہاری سمجھ میں آجائے۔ جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کا دیا ہوا ہے لیکن اس فطری تقاضا کے مطابق تمہاری آزمائش کے لیے تم کو دے کر وہ تم سے واپس مانگتا بھی ہے اس لیے نہیں کہ اس کو دے کر واپس مانگنے کی کوئی احتیاج لا…
Read the full tafseer →کمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّـهِ (...just as ` Isa, son of Maryam, said to the Disciples, "Who are my supporters towards Allah?" ...[ 61:14] " The word حَوَارِيُّونَ hawariyyin is the plural of hawariyy which connotes a 'sincere friend who is free from any kind of adulteration' [ Ruh-ul-Ma’ ani, referring to Azhari ]. This is the reason why people who believed in Prophet Jesus (علیہ السلام) are called hawariyy. They were twelve in number, as is already discussed in Surah 'Al-` Imran. This verse refers to an incident of Prophet ` Isa (علیہ…
Read the full tafseer →19 For the companions of the Prophet Jesus (peace be on him) the word `Disciples" generally has been used in the Bible, but later the term "apostle" became prevalent for them among the Christians, and in the sense that they were God's apostles, but in the sense that the Prophet Jesus used to send them to different parts of Palestine as his preachers. Among the Jews this word was already in use for those who were sent to collect subscriptions for the Temple. However, the Qur'anic term "hawari" is better than both the Christian terms. The essence of this word is hur, which means whiteness. The…
Read the full tafseer →