Al-Jumu'a 62:1

62. Al-Jumu'aالجمعة

Friday · Medinan · 11 ayahs · 2 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

62:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ ۟يُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ الۡمَلِكِ الۡقُدُّوۡسِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Whatever is in the heavens and whatever is on the earth is exalting Allah, the Sovereign, the Pure, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jumu'a

All translations of 62:1

اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے بادشاہ ہے، قدوس ہے، زبردست اور حکیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(ساری چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں (جو) بادشاه نہایت پاک (ہے) غالب وباحکمت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ ہے بڑے تقدس کا مالک ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے جس کی حکمت بھی کامل۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے بادشاہ کمال پاکی والا عزت والا حکمت والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ہر چیز) جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اللہ کی تسبیح کرتی ہے (جو حقیقی) بادشاہ ہے، (ہر نقص و عیب سے) پاک ہے، عزت و غلبہ والا ہے بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کا پاک ہونا بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، (جو) بادشاہ ہے، بہت پاک ہے، سب پر غالب ہے، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آسمانوں اور زمین میں موجود تمام مخلوق اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ جو بادشاہ ہے، مقدس ہے، زبردست ہے، دانا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

(تسبیح کرتی ہیں آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اس اللہ ہی کی جو بادشاہ، قدوس، عزیز اور حکیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے جو کہ بادشاہ ہے ہر طرح سے پاک سب پر غالب اور انتہائی حکمت والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(اسی) اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں جو کچھ بھی آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ بھی زمین میں ہیں (جو) بادشاہ ہے مقدس ہے زبردست ہے حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے جو بادشاہ ہے (ہر عیب سے) پاک ہے بہت زبردست ہے بہت حکمت والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں سب اللہ کی تسبیح کرتی ہیں جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

All that is in the heavens and all that is in the earth extols the glory of Allah, the Sovereign, the Holy, the All- Mighty, the All-Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

All that is in the heavens and all that is in the earth proclaim the purity of Allah, the Sovereign, the Supreme in Holiness, the All-Mighty, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

All that is in the heavens and all that is in the earth proclaim the purity of Allah, the Sovereign, the Supreme in Holiness, the All-Mighty, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Whatsoever is in the heavens and whatsoever is on the earth glorifies Allah -- the King, the Holy, the Almighty, the All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

All that is in the heavens and all that is in the earth glorifieth Allah, the Sovereign Lord, the Holy One, the Mighty, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Whatever is in the heavens and whatever is on the earth is exalting Allah, the Sovereign, the Pure, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

All that is in the heavens and the earth glorify God, the King, the Holy, the Majestic and the All-wise.

— Muhammad Sarwar

Whatever is in the heavens and whatever is in the earth declares the glory of Allah, the King, the Holy, the Mighty, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

Whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth halloweth Allah, the Sovereign, the Holy, the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

Whatever is in the heavens and on earth, doth declare the Praises and Glory of Allah,- the Sovereign, the Holy One, the Exalted in Might, the Wise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 62:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے اور ہر جگہ بھی فرمایا ہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو تمام مخلوق خاہ آسمان کی ہو، خواہ زمین کی، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصرف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس کی تفسیر کئی بار گذر چکی ہے۔ امیون سیم راد عرب ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے۔ الخ، یعنی تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا ؟ اور وہ مسلمان ہوجائیں تو وہ راہ راست…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجُمُعَة 1 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة حدید، حواشی 1، 2، الحشر، حواشی 36، 37، 41۔ آگے کے مضمون سے یہ تمہید بڑی گہری مناسبت رکھتی ہے۔ عرب کے یہودی رسول اللہ ﷺ کی ذات وصفات اور کارناموں میں رسالت کی صریح نشانیاں بہ چشم سر دیکھ لینے کے باوجود، اور اس کے باوجود کہ توراۃ میں حضرت موسیٰ ؑ نے آپ کے آنے کی صریح بشارت دی تھی جو آپ کے سوا کسی اور پر چسپاں نہیں ہوتی تھی، صرف اس بنا پر آپ کا انکار کر رہے تھے کہ اپنی قوم اور نسل سے باہر کے کسی شخص کی رسالت مان لینا انہیں سخت ناگوار تھا۔ وہ صاف کہتے تھے کہ جو کچھ ہمارے ہاں آیا ہے ہم صرف اسی کو مانیں گے۔ دوسرے کسی تعلیم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر سب چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں (قلاً یا حالاً) اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں، جو کہ بادشاہ ہے (عیبوں سے) پاک ہے زبردست ہے حکمت والا ہے وہی ہے جس نے (عرب کے) ناخواندہ لوگوں میں انہی (کی قوم) میں سے (یعنی عرب میں سے) ایک پیغمبر بھیجا جو ان کو اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کو (عقائد باطلحہ اور اخلاق ذمیمہ سے) پاک کرتے ہیں اور ان کتاب اور دانشمندی (کی باتیں جس میں سب علوم ضروریہ دینیہ آگئے) سکھلاتے ہیں اور یہ لوگ (آپ کی بعثت کے) پہلے سے کھلی گمراہی میں تھے (یعنی شرک و کفر میں اور مراد اکثر ہیں کیونکہ جاہلیت میں بھی بعضے موحد تھے، مگر تاہم تکمیل ہدایت کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ا۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (یسبح للہ ما فی السموات وما فی الارض الملک القدوس العزیز الحکیم) (1)۔ (تمہید)۔ یہ تمہیدی آیت معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہے۔ سابق سورة میں صیغہ ماضی یستبح آیا ہے جو تصویر حال کا فائدہ دے رہا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی چار صفات بیان ہوئی ہیں۔ الملک جس کے معنی بادشاہ کے ہیں۔ القدوس جس کے معنی ہر نقص و عیب سے پاک کے ہیں۔ العزیز جس کے معنی جیسا کہ بار بار واضح کیا جا چکا ہے غالب و مقتدر کے ہیں۔ الحکیم وہ ذات جس کے ہر قول و فعل میں حکمت ہے۔ یہ چاروں صفات آگے والی آیت کی تمہید کے طور پر یہاں آئی ہیں۔ ان کی وضاحت آیت کی تفسیر کے تحت ہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

نبی ﷺ جمعہ کی نماز میں سورة جمعہ اور منافقون پڑھا کرتے تھے (صحیح مسلم) تاہم ان کا جمعہ کی رات کو عشا کی نماز میں سورة جمعہ اور کافرون کا پڑھنا صحیح روایت سے ثابت نہیں، البتہ ایک ضعیف روایت میں ایسا آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–2

1: آنحضرت ﷺ کی بعثت کے یہی مقاصد سورة بقرہ : 129 اور سورة آل عمران : 164 میں بھی بیان فرمائے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس آغاز میں بتایا جاتا ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کررہی ہے۔ لیکن یہ کائنات جو تسبیح کررہی ہے اس میں سے جن چیزوں کا انتخاب کیا گیا ہے وہ اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اور اس کے ساتھ گہرا ربط رکھتی ہیں۔ سورت کا نام جمعہ ہے۔ اس میں یہ تعلیم ہے کہ جمعہ کی اہمیت کیا ہے ، اس دن تمام امور سے فارغ ہوکر اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور جمعہ کی نماز کے وقت لہو ولعب اور محنت وتجارت چھوڑ کر ، اللہ کے ذکر کی طرف آنا چاہئے۔ لوگ جمعہ کو چھوڑ کر اور خطبہ جمعہ چھوڑ کر جس مال تجارت کی طرف بھاگے ہیں ، اس کا مالک تو اللہ ہے ، جو بادشاہ مطلق ہے۔ دنیا کا یہ مال اس کے اختیار میں ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

6 " اُمِّیِیْنَ "' (ان پڑھ) اہل عرب کو کہا۔ جن میں علم و ہنر کچھ نہ تھا نہ کوئی آسمانی کتاب تھی۔ معمولی لکھنا پڑھنا بھی بہت کم آدمی جانتے تھے۔ ان کی جہالت و وحشت ضرب المثل تھی خدا کو بالکل بھولے ہوئے تھے، بت پرستی، اوہام پرستی، اور فسق و فجور کا نام " ملت ابراہیمی " رکھ چھوڑا تھا اور تقریباً ساری قوم صریح گمراہی میں پڑی بھٹک رہی تھی۔ ناگہاں اللہ تعالیٰ نے اسی قوم میں سے ایک رسول کو اٹھایا جس کا امتیازی لقب " نبی امی " ہے۔ لیکن باوجود امی ہونے کے اپنی قوم کو اللہ کی سب سے زیادہ عظیم الشان کتاب پڑھ کر سناتا اور عجیب و غریب علوم و معارف اور حکمت و دانائی کی باتیں سکھلا کر ایسا حکیم و شائستہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ۔ } ”تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ‘ جو بادشاہ ہے ‘ ہر عیب سے پاک ہے ‘ بہت زبردست ہے ‘ بہت حکمت والا ہے۔“ یہ آیت گویا اس سورة مبارکہ کے لیے ایک نہایت ُ پرشکوہ اور پرجلال تمہید اور آغاز کلام ہے۔ سورة الصف کے آغاز میں تسبیح باری تعالیٰ کا ذکر صیغہ ماضی میں تھا ‘ جبکہ یہاں فعل مضارع آیا ہے۔ اس طرح تسبیح باری تعالیٰ کے ضمن میں گویا زمان و مکان کا احاطہ کرلیا گیا ہے۔ اس آیہ مبارکہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے چار اسماء وارد ہوئے ہیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 یہ تسبیح زبان قال سے بھی ہوتی ہے مگر ہم اسے سمجھ نہیں سکتے اور زبان حال سے بھی۔ یعنی کائنات کی ایک ایک چیز اس بات پر شاہد ہے کہ اس کا بنانے والا ہر طرح کے عیوب و نقائص سے پاک ہے۔ 2 ان صفات کی تشریح کے لیے سورة حشر کی آیت نمبر 23 ملاحظہ فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ تسبیح جملہ مخلوقات پر یہ حاشیہ کئی بار گزر چکا ہے کہ مراد ہر ہر مخلوق کی، اپنے اپنے مرتبہ وجود کے مطابق تسبیح ہے، زبان حال سے بھی اور زبان قال سے بھی، (آیت) ” الملک “۔ یعنی وہ بادشاہ مطلق الاختیار ہے۔ اس کے اقتدار اور اس کے اختیارات پر کوئی قید کسی قسم کی بھی نہیں۔ جو قانون وہ چاہے مقرر کردے، جس کو اور جب جو حکم وہ چاہے دے دے، (آیت) ’ القدوس “۔ ہر عیب، ہر نقص، ہر کمی اور کوتاہی سے وہ منزہ اور برتر ہے۔ (آیت) ” العزیز “۔ زمین و آسمان کی ساری قوتیں، مادی یا غیر مادی، اسی کی محکوم وتابع فرمان ہیں، وہ سب پر حاکم ہے، کوئی اس کا مزاحم نہیں ہوسکتا، (آیت) ” الحکمۃ “۔ اس کی ہر کاروائی بےانتہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں، لام زائدہ ہے من کے بجائے ما ذکر کرنے میں اکثر کو غلبہ دینا ہے جو بادشاہ ہے، ان چیزوں سے پاک ہے جو اس کی شایان شان نہیں، وہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں (یعنی) عرب میں ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا امی وہ شخص ہے جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو اور وہ محمد ﷺ ہیں، جو انہیں اس قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو شرک سے پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب قرآن اور حکمت (یعنی) جس میں احکام ہیں ان مخففہ عن الثقیلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یسبح للہ ما فی السموات وما فی الارض الملک القدوس العزیز الحکیم . ” جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں ‘ سب اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں ‘ جو بادشاہ ہے (ہر عیب اور نقص سے) پاک ہے ‘ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ “ اَلْقُدُّوْسِ : ہر اس وصف سے جو اس کی شان کے لیے زیبا نہیں ‘ پاک ہے۔ اَلْعَزِیْزِ : اپنی حکمت میں بڑا زبردست ہے۔ اَلْحَکِیْمِ : اپنی صنعت میں حکمت والا ہے۔ یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ کی ہستی (اور اس کی وحدانیت) پر دلالت کرتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ اس کو بنانے والا ہر نازیبا شئی (یعنی عیب و نقص و کمزوری) سے پاک و صاف ہے۔ نیز یہ کہ ہر چیز خواہ وہ نبات ہو یا جماد۔ ایک خاص نوعیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جتنی بھی مخلوقات اور زندہ چیزیں آسمان و زمین میں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں وہ خدا ایسا بادشاہ ہے اس کی بادشاہت ہمیشہ سے ہے وہ اولاد اور شریک سے پاک ہے اپنی بادشاہت میں زبردست اور حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یُسَبِّحُ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ۔۔۔۔: اس آیت کے معانی سورة ٔ حدید (1) اور سورة ٔ حشر (1، 24) میں گزر چکے ہیں۔ اس سے پہلے تمام رسولوں کی ابتداء میں ”سبح“ ماضی کے صیغے کے ساتھ آیا ہے ، یہاں مضارع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جو حال اور استقبال کے لیے ہے ، جس میں تجدد اور استمرار پایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز ہر عیب اور کمی سے اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ پاک ہونے کی شہادت دے رہی ہے اور ہمیشہ دیتی رہے گی۔ 2۔ اس آیت میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا آئندہ آیت کے ساتھ تعلق اسی کی تفسیر میں آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ ابوالعالیہ اور نصر بن عاصم نے الملک القدوس العزیز الحکیم قرأت کی ہے۔ یہ سب مرفوع ہیں تقدیر کلام یوں ہے ھو الملک۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن المنذر والحاکم و بیہقی نے شعب الایمان میں عطاء بن سائب سے اور انہوں نے میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت تورات شریف میں سات سو آیتوں کے ساتھ لکھی ہوئی ہے۔ یعنی یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض الملک القدوس العزیز الحکیم۔ جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں سب اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں۔ اور یہ سورة جمعہ کی پہلی آیت ہے۔ رسول اللہ ﷺ امی تھے 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہوالذی بعث فی الامیین رسول منہم۔ وہی ہے جس نے عرب کے ناخواندہ لوگوں میں انہی کی قوم میں سے ایک پیغمبر بھیجا الایۃ۔ یہ ایک عرب میں سے ایک قبیلہ تھا جو ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يُسَـبِحُ للّٰهِ : تسبیح کرتی ہے اللہ کی ] [مَا فِي السَّمٰوٰتِ : (ہر) وہ چیز جو آسمانوں میں ہے ] [وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور (ہر) وہ چیز جو زمین میں ہے ] [الْمَلِكِ : جو بادشاہ ہے ] [الْقُدُّوْسِ : پاک ہے ] [الْعَزِيْزِ : بالادست ہے ] [الْحَكِـيْمِ : حکمت والا ہے ] ترکیب : (آیت۔ 1) اَلْمَلِکِ سے اَلْحَکِیْمِ تک سارے اسماء لِلّٰہِ کی صفت ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ قدوس ہے، عزیز ہے، حکیم ہے اس نے تعلیم وتزکیہ کے لئے بےپڑھے لوگوں میں اپنا رسول بھیجا یہاں سے سورة الجمعہ شروع ہو رہی ہے۔ پہلے رکوع میں ارشاد فرمایا کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو بھی مخلوق ہے سب اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی چار صفات جلیلہ بیان فرمائیں یعنی ﴿الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ ﴾ جس کا ترجمہ اور مطلب سورة الحشر کے ختم کے قریب آیت کریمہ ﴿ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ﴾ کی تفسیر کے ذیل میں بیان کیا جا چکا ہے۔ مزید جو دو صفات بیان فرمائیں ان میں ایک العزیز اور دوسری الحکیم ہے ان دونوں صفات کا تذکرہ بار بار قرآن مجید میں فرمایا ہے، العزیز عزت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

سورة الجمعۃ : تکمیل بشارت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) بہ بعثت نبی اکرم ﷺ وتنبیہ بر شقاوت اہل کتاب بوجہ انحراف از ایمان واتباع نبی آخر الزمان ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” گزشتہ سورت میں خاص طور پر حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کی بعثت کا اہم مقصد یہ بیان کیا گیا تھا آنے والے پیغمبر آخرالزمان محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ونبوت کی بشارت سنانا تھا اور بنی اسرائیل کو اس بات پر مامور کرنا تھا کہ جب وہ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث ہوں تو ان پر وہ لوگ لوگ ایمان لائیں تو اب اس سورت میں اللہ کی پاکی اور حمد وثناء بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرمایا ارشاد ہے پاکی بیان کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ ” یسبح للہ الخ “ مضمون توحید کا اعادہ ہے۔ اس سورت سے چونکہ نئے مضمون یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی ابتداء ہوئی ہے اس لیے شروع میں مسئلہ توحید کا اعادہ کیا گیا تاکہ یہ حقیقت ذہن میں رہے کہ انفاق اور جہاد مسئلہ توحید کی خاطر ہیں۔ اس آیت کی تفسیر اور الفاظ کے معنی پہلے گذر چکے ہیں۔ کائنات کی ہر چیز اللہ کی توحید کا اقرار کرتی اور اس کی تسبیح و تنزیہ بجا لاتی ہے۔ یہاں تک کہ جمادات اپنی مخصوص حیات اور شعور کی بنا پر تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں۔ کل شیئ وان کان جمادا فلہ نوع من الحیاۃ والشعور فیقربوحدانیتہ ویسبحہ ولکن لا تفقہون تسبیحہم (مظہری ج 9 ص 275) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجمعہ ہے۔ کیونکہ اس میں بعض دیگر اہم باتوں کے علاوہ نماز جمعہ کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی یہ گیارہ آیتیں اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة 180 الفاظ اور 748 حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط : پچھلی سورة میں اللہ نے یہودیوں کی ایذاء رسانی کا ذکر کرکے اہل ایمان کو خبردار کیا تھا۔ کہ تم بھی ان جیسے نہ ہوجانا۔ اور اب اس سورة میں یہودیوں کی نافرمانی کی وجوہات یعنی ان کی بیماری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پچھلی سورة میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دو فرائض کا ذکر تھا ، ایک تو وہ تورات کی تصدیق کرتے تھے اور دوسرا نبی آخرالزمان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُسَـبِّحُ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيْزِ الْحَكِـيْمِ۝ 1 سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : الملک القدوس العزیز الحکیم مجرورعلیٰ انہ صفۃ للہ وقریٔ بالرفع علی الاستیناف والجمہور علی ضم القاف من القدوس و قریٔ بفتحھا وھمامعنتان۔ منہم صفۃ رسولا اوحال وکذاما بعدہ یتلواویزکیھم ویعلمھم وان مخففۃ من الثقیلۃ واسمھا محذوف ای وانھم واللام لفی دلیل علیھا وآخرین مجرور عطفاً علی الامیین ای بعثہ فی الامیین الذین فی عہدہ و بعثہ فی آخرین منھم لم یلحقوا بھم الی الان اومنصوب علی انہ عطف علی الضمیر المنصوب فی یعلمھم ای ویعلم آخرین اوانہ عطف علی مفعول یزکیھم ای ویز کی آخرین ولمایلحقوا صفۃ لاخرین۔ تفسیر : قرطبی (رح) کہتے ہیں سب متفق ہیں کہ ابن عباس ؓ کا قول اس سورة کی بابت یہ ہے کہ یہ مدینہ میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْمِ ۔ (الجمعۃ : 1) (اللہ کی تسبیح کر رہی ہیں وہ ساری چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، جو بادشاہ ہے، قدوس ہے، عزیز اور حکیم ہے۔ ) یہ آیت آنے والے مضمون کی تمہید ہے۔ الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ یہ آیت گزشتہ سورتوں میں بھی گزر چکی ہے۔ اور سابق سورة میں یہ آیت سَبَّحَ کے ساتھ شروع ہوئی۔ اور اس سورة میں یُسَبِّحُکے ساتھ آغاز کیا جارہا ہے۔ دونوں میں نفس مفہوم میں کوئی فرق نہیں۔ البتہ وقوع فعل اور کیفیتِ فعل کے اعتبار سے فرق یہ ہے کہ فعل ماضی فعل کے حتمی ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اور فعل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے رد عمل میں بنی اسرائیل دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک جماعت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی اور دوسرے گروہ نے ان کا انکار کردیا۔ سورة الجمعہ کی ابتدا ” سَبَّحَ “ کے پرجلال لفظ سے کی گئی ہے جس کا معنٰی اور مفہوم یہ ہے کہ کوئی اللہ کی ذات کو مانے یا نہ مانے اسے یاد کرے یا اس کا انکار کرے وہ تو وہ ہستی ہے جسے زمین و آسمانوں کی ہر چیز ان الفاظ میں یاد کرتی ہے کہ ” اللہ “ کلی اختیارات کا مالک اور ہر قسم کی حاجت اور نقص سے پاک ہے۔ ہر نقص اور حاجت سے مبرّا ہونے کے ساتھ ہر اعتبار سے پوری کائنات پر غالب ہے۔ اس کے غالب ہونے میں صرف قوت ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : یُسَبَّحُ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ (جو چیزیں آسمانوں میں ہیں۔ اور جو چیزیں زمین میں ہیں۔ سب اللہ تعالیٰ ) الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ (کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ جو بادشاہ ہے ہر عیب و نقص سے پاک ہے زبردست ہے۔ حکمت والا ہے) تسبیح : تسبیح سے مراد۔ نمبر 1۔ تسبیح خلقت ہے کہ جب تم غور سے ہر چیز پر نگاہ ڈالو تو وہ اسکی وحدانیت کی طرف تیری راہنمائی کرے گی اور ہم مثلوں سے اس کے پاک ہونے کو بتلائے گی۔ نمبر 2۔ تسبیح معرفت ہے کہ ہر شئی میں اپنے لطف و کرم سے ایسی چیز رکھ دے جس سے وہ اپنے خالق کو پہچانے۔ اور عیب سے اس کو پاک قرار دے۔ جیسا کہ اس قول میں فرمایا۔ وان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ اس سورة میں جمعہ کی نماز کا ذکر ہے اس لئے اس سورة کا نام سورة جمعہ ہے۔ بعض علماء نے جمعہ کی نماز کو بھی کفایہ لکھا ہے لیکن صحیح مذہب یہی ہے کہ اور فرض نمازوں کی طرح جمعہ کی نماز فرض عین ہے چناچہ اس مذہب کی تائید کا بیان آئندہ کی آیتوں کی تفسیر میں آتا ہے حدیث 2 ؎ شریف میں آیا ہے کہ تین جمعہ کو نماز کو جو شخص بغر عذر کے محض سستی سے چھوڑ دے تو اس کا دل سخت ہوجاتا ہے بعضی روایات اس حدیث کی معتبر ہیں ضرورت ہو تو اکثر علماء کے نزدیک جمعہ کی نماز سے پہلے جمعہ کے دن سفر کرنا جائز ہے آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ میں فقط خطبہ کے وقت کی اذان تھی۔ حضرت عثمان ؓ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی جو کچھ آسمانون میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں اس کو معبود مانتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ وہ بادشاہ کامل ہے جس کی عالم علوی اور عالم سفلی پر بادشاہی ہے اور تمام مخلوق اس کی مملوک اور اس کی تدبیر کے تحت ہے۔ ( الْقُدُّوْسِ ) عظمت والا، ہر نقص اور ہر آفت سے پاک ہے (الْعَزِيْزِ ) تمام اشیا پر غالب ہے۔ (الْحَكِـيْمِ ) وہ اپنی تخلیق وامر میں حکمت والا ہے۔ یہ عظیم اوصاف اکیلے اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں جس کا کوئی شریک نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–2

نبی ﷺ اور ان کی قوم امومت میں برابر تھے قول باری ہے (ھوالذین بعث فی الامیین رسولا منھم ، وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود انہیں میں سے اٹھایا) انہیں امی اس لئے کہا گیا کہ یہ لوگ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، ان کی اکثریت کا یہی حال تھا۔ اگرچہ بہت قلیل تعداد میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہیں لکھنا پڑھنا آتا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا (الشھوھکذا او ھکذا مہینہ اتنے اتنے دنوں کا ہوتا ہے) یہ کہتے ہوئے آپ نے انگلیوں سے اشارہ کیا۔ آپ کا یہ ارشاد بھی ہے (انا نحن امۃ امیۃ لا نحسب ولا نکتب ہم امی لوگ ہیں ہم نہ حساب کتاب رکھتے ہیں اور نہ ہمیں لکھنا آتا ہے) قول باری ہے (رسولا منھم) کیونکہ حضور ﷺ اُمی تھے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

1 ۔ آسمانوں کی ہر چیز اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی پاکی بیہان کرتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے، ہر نقص و عیب اور تقصیر و کوتاہی سے، اور ہر قسم کے شریک اور ہر شائبہ شرک سے، سبحانہ وتعالی۔ اور یہ شان اس وحدہ لا شریک کے سوا اور کسی کی نہیں ہوسکتی، اس لیے معبود برحق بھی وہی اور صرف وہی، وحدہ لاشریک ہے، اور عبادت کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے، یہاں پر تسبیح کا ذکر یسبح فعل مضارع سے فرمایا گیا ہے جو کہ تصویر حال کا فائدہ دیتا ہے، سو اس وحدہ لا شریک کی تسبیح و تقدیس ہمیشہ ہوئی ہے، لگاتار ہورہی ہے اور آئندہ بھی ہوتی رہے گی، کہ اس پوری…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

اللہ رب العزت کی تسبیح اور آخری رسول ﷺ کی بعثت کا ذکر تشریح : اس مضمون سے ملتی جلتی بیشمار آیات ہم پڑھ چکے ہیں اب اس مضمون کو ہم سید حسین نصر صاحب کی تحریر سے واضح کرتے ہیں لکھتے ہیں، عام طور پر اسلام کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے معنوی لحاظ سے تین درجے ہیں اول تو یہ کہ ساری مخلوق مسلم ہے یعنی اللہ کی مرضی کے آگے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ (ایک پھول اس بات پر قادر نہیں کہ وہ پھول نہ رہے، اسی طرح ایک ہیرا چمکنے پر مجبور ہے اللہ نے انہیں ایسا ہی بنایا ہے اور ان کا کام ہی اطاعت کرنا ہے) دوسری بات یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو اپنی مرضی سے مقدس الہامی قانون کو قبول کرتے ہیں اس اعتبار سے مسلم ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ ذکرالٰہی۔ ارض وسما کی ہر شے اپنے شعور وادارک کے مطابق اللہ کا ذکر کرتی ہے اور ہر ذرہ اپنے حال سے تو اس کی پاکی پہ دلالت کرتا ہے کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے جو ہر عیب سے پاک اور زبردست ہے اور بڑاحکمت کا مالک ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے ان پڑھ عربوں میں اپنارسول مبعوث فرمایا جو امی تھا کہ عربوں میں پڑھنے لکھنے کارواج نہ تھا بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ معجزہ۔ خود رسول اللہ نے کبھی پڑھنالکھنا نہیں سیکھا عموما ایسی قوم کی اصلاح محال ہوتی ہے اور انہیں کچھ سمجھانا بہت مشکل مگر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ نے انہیں ایسابنادیا کہ دنیا کے لیے وہ علم و حکمت کے خزینے ثابت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 3 یعنی حضرت محمد ﷺ جو عرب تھے اور ان پڑھ بھی تھے۔ کہتے ہیں کہ عرب کے ہر قبیلہ کے ساتھ آپ کی کچھ نہ کچھ رشتہ داری تھی سوائے بنی تغلب کے جو عیسائی تھے … عربوں کو امی یا تو اکثریت کے اعتبار سے فرمایا ہے اور یا اس اعتبار سے کہ آنحضرت سے پہلے کوئی کتاب الٰہی ان میں نہ آئی تھی ان کے مقابلہ میں یہود و نصاریٰ کو اہل کاتب کہا گیا کیونکہ ان کے ہاں توراۃ و انجیل وغیرہ آسمانی کتابیں آچکی تھیں … آٰنحضرت کو امی کہنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ بےعلم تھے بلکہ یہ ہے کہ آپ نے کسی استاذ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا۔ آنحضرت کے پاس جو علم تھا وہ اللہ تعالیٰ سے بذریعہ وحی حاصل کیا گیا تھا لہٰذا یہ صحیح نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(62:1) یسبح : مضارع واحد مذکر غائب تسبیح (تفعیل) مصدر۔ پاکی بیان کرتا ہے۔ تسبیح کرنا ہے ۔ مضارع کا صیغہ استمرار کے لئے ہے ۔ للہ : لام استحقاق کا ہے۔ اللہ مفعول لہ ہے۔ ما فی السموت وما فی الارض : ما موصولہ ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (ہر وقت) اللہ کی تسبیح کرتی رہتی ہے۔ نیز ملاحظہ ہو آیت (57:1) الملک : (بادشاہ) ۔ القدوس : (بہت پاک) جملہ نقائص سے منزہ قدس سے مبالغہ کا صیغہ ۔ العزیز۔ (غالب) الحکیم (دانا۔ حکمت والا) یہ تمام اللہ (تبارک تعالیٰ ) کی صفات ہیں اور اسی نسبت سے مجرور ہیں۔

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

صفات باری تعالی۔ (ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کا ذکر اس لیے فرمایا کہ مشرک لوگوں کو یہ تنبیہ ہوجائے کہ آسمان و زمین اور ان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے ، اسی واسطے ہر چیز اپنی حالت کے موافق اللہ تعالیٰ کے نام کی تسبیح اور اس کی تعظیم اور عبادت میں لگی ہوئی ہے باوجود اس کے جن وانس میں جو کوئی اللہ کی عبادت سے منہ موڑ لے گا تو وہ بڑی غلطی پر ہے وہ اللہ ایک ہے بادشاہ ہے وہ ازل سے ابد تک ایک حال پر ہے زوال وفنا نہیں، وہ قدوس ہر عیب سے پاک ہے ولدوشریک سے منزہ ہے ہر شے پر غالب کافروں کو سزا دینے والا اوراقتضا واوامر میں حکمت والا ہے اور حکم دیا ہے کہ سوائے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–2

نبوت کے متعلق چند نکات 1: اس آیت میں منصب نبوت کے متعلق چند نہایت ہی بیش قیمت نکات کی توضیح فرمائی ہے ۔ اور بیان کیا ہے ۔ کہ رسالت کے مفہوم اور تخیل کو کون کون چیزیں لازم ہیں اسلام سے قبل مذاہب میں عام غلطی یہ تھی ۔ کہ وہ نبوت اور رسالت کے صحیح صحیح مفہوم سے آگاہ نہیں تھے ۔ یہودی اور عیسائی تجسم کے قائل تھے ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ خدا متجسد ہوکر نزول فرماتا ہے ۔ تاکہ انسان کے لئے رشدوہدایت کا پیکر ہوسکے ۔ اور قریب قریب غیر حالی دنیا بھی الہام وبعثت کے مفہوم سے نآشنا تھی ۔ اور اس کے ہاں بھی حلال اور تجسم ہی ایک ذریعہ تھا ۔ جس کی وساطت سے خدا اپنے بندوں سے ہمکلام ہوسکتا ہے ۔ اسلام نے سب سے پہلے اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اس اللہ تعالیٰ کو پاکی کے ساتھ یاد کرتی ہے اور اس کی پاکی بیان کرتی ہے جو بادشاہ ہے نہایت پاک ذات ہے بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے - یعنی زمین و آسمان ہر ایک چیز زبان حال سے یا زبان قال سے اس اللہ تعالیٰ کی پاکی کا اظہار کرتی ہے جو بادشاہ ہے جس کی سلطنت دائمی ہے جو جملہ عیوب سے پاک ومنزہ ہے کمال قوت کا مالک بڑی حکمت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اوپر کی سورت میں توحید و رسالت کا اثبات اور مکذبین کا مستحق عقوبت قتل ہونا مذکور تھا۔ اس سورت کے اول میں توحید و رسالت کا اثبات اور مکذبین میں سے یہود کا جو بعنوان قوم موی اوپر کی سورت میں مذکور ہوئے ہیں مستحق مذمت و وعید ہونا مذکور ہے اور چونکہ ان یہود کا اصل مرض حب دنیا تھا اس لئے مسلمانوں کو اس سے بچانے کے لئے دوسرے رکوع میں بضمن احکام جمعہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے کا امر اور عکس سے نہی ارشاد ہے، پس دونوں سورتوں کے اخیر میں تجارت کا ذکر ہے اول میں دینیہ کا دوسری میں دنیویہ کا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے جو غالب حکمت والا ہے 1 ؎ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کا سب اللہ تعالیٰ کا تسبیح خواں ہے اور جس طرح صلوٰۃ وسلام اپنے اندر ایک وسعت رکھتے ہیں اسی طرح تسبیح کے لفظ میں بھی ورسعت ہے لیکن اس کی وضاحت ہم پیچھے بہت سے مقامات پر کرچکے ہیں اس لیے ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ گزشتہ مقامات پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے لہٰذا اس کے لیے ہم آپ کو اشارہ دے رہے ہیں کہ عروۃ الوثقیٰ جلد چہار میں سورة الرعد کی آیت 13 ، جلد پنجم میں سورة الاسراء کی آیت 44 ، جلد ششم میں سورة النور کی آیت 36 ، 41 جلد ہذا میں سورة الحشر کی آیت 44 کو دیکھ لیں اور اس جگہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary يُسَبِّحُ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ (All that is in the heavens and all that is in the earth proclaim the purity of Allah,...62:1] Surahs of the Qur'an that begin with 'sabbaha' or 'yusabbihu' [ proclaiming Allah's purity ] are called Musabbihat, in all of which it is established that everything in the heaven and earth proclaims the purity of Allah. That all creatures in the heavens and the earth declare the purity of Allah in a symbolic way is understandable. Everyone may understand that every single particle created by Allah bears testimony to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 For explanation, sec E.N.'s 1, 2 of Surah AI-Hadid, and E.N.'s 36, 37, 41 of Surah AI-Hashr above. This introduction bears a deep relevance to the theme that follows. In spite of the fact that the Jews of Arabia were witnessing clear signs of Apostleship in the person of the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) and his high character and works and in spite of the clear good news given by the Prophet Moses (peace be upon him) in the Torah, which only applied to him, they were denying him only because they did not want to acknowledge the prophet hood of a person who did not belong to…

Read the full tafseer →