Ayah 62:11۔ تسبیح جملہ مخلوقات پر یہ حاشیہ کئی بار گزر چکا ہے کہ مراد ہر ہر مخلوق کی، اپنے اپنے مرتبہ وجود کے مطابق تسبیح ہے، زبان حال سے بھی اور زبان قال سے بھی، (آیت) ” الملک “۔ یعنی وہ بادشاہ مطلق الاختیار ہے۔ اس کے اقتدار اور اس کے اختیارات پر کوئی قید کسی قسم کی بھی نہیں۔ جو قانون وہ چاہے مقرر کردے، جس کو اور جب جو حکم وہ چاہے دے دے، (آیت) ’ القدوس “۔ ہر عیب، ہر نقص، ہر کمی اور کوتاہی سے وہ منزہ اور برتر ہے۔ (آیت) ” العزیز “۔ زمین و آسمان کی ساری قوتیں، مادی یا غیر مادی، اسی کی محکوم وتابع فرمان ہیں، وہ سب پر حاکم ہے، کوئی اس کا مزاحم نہیں ہوسکتا، (آیت) ” الحکمۃ “۔ اس کی ہر کاروائی بےانتہا مصلحتوں اور حکمتوں پر مبنی ہوتی ہے۔ اسکی صناعیوں کو سطحی نظر سے دیکھنا محض حماقت ہے۔
Ayah 62:22۔ (اور جو قوم بھی تعلیمات نبوت سے محروم ہوتی ہے۔ ایسی ہی ظلمتوں اور ظلالتوں میں گھری رہتی ہے) (آیت) ” فی الامین “۔ یعنی قوم عرب کے درمیان۔ الامی منسوب الی امۃ العرب (کبیر) امتی پر حاشیہ سورة آل عمران (پ 3) میں گزر چکا، صوفیہ محققین نے کہا ہے کہ جب رسول اور رسول اعظم بھی امی یا علوم رسمی سے ناآشنا ہوسکتا ہے، تو کسی ولی کے امی یا ان پڑھ ہونے میں کیا اشکال ہے، البتہ علوم شرعی سے بقدر ضرورت اسے واقفیت ہونا چاہیے (آیت) ” یتلوا علیھم ایتہ “۔ پہلا کام اس عربی رسول کا اہل عرب کے سامنے کلام الہی کی آیتوں کو پڑھ کر سنانا ہے۔ (آیت) ” ویزکیھم “۔ رسول کا کام آیات الہی کی تلاوت اور کلام الہی کے سنانے کے بعد عقائد باطلہ اور اخلاق رذیلہ سے پاک صاف کرنا ہوتا ہے۔ (آیت) ” یعلمھم الکتب والحکمۃ “۔ رسول اللہ ﷺ کا کام تبلیغ اور تزکیہ پر ختم نہیں ہوجاتا۔ وہ اپنے مخاطبین کو کتاب الہی کے مضامنین کی نیز اپنی لائی ہوئی حکمت کی تعلیم بھی دیتا رہتا ہے۔ مسائل کی توضیح وتشریح، تعمیم، تخصیص، تبیین، تفسیر سب اس کے تحت میں آگئے۔ (آیت) ” بعث فی الامین “۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت صرف قوم عرب کی جانب تھی ، (آیت) کآفۃ للناس بشیرا ونذیرا “۔ وغیرہ متعدد آیتوں سے آپ ﷺ کی دعوت کا عموم اور عالمگیری بجائے خود ثابت اور قطعی ہے، اور یہ ضرور نہیں کہ صراحت و تکرار ہر موقع پر اسی کی ہوتی رہے۔
Ayah 62:33۔ (آیت) ” اخرین “۔ سے مراد وہ لوگ ہیں جو نزول قرآن کے وقت موجود نہ تھے۔ آگے چل کر کسی زمانہ میں ایمان لانے والوں میں شامل ہوں گے، اور یوں وہ سارے لوگ جو قیامت تک اسی دین حق میں داخل ہوں گے، سب (آیت) ” اخرین “۔ کے تحت میں آگئے، وقال ابن زیدھم جمیع من دخل فی الاسلام بعد النبی ﷺ الی یوم القیمۃ وھی روایۃ ابن نجیح عن مجاھد (معالم) قال مجاھد وغیر واحدھم الاعاجم وکل من صدق النبی من غیرالعرب (ابن کثیر) ھم سے تعبیر ان غیر موجودین کو بحیثیت ان کے اسلام کے کیا گیا ہے۔ (آیت) ” وھو العزیز الحکیم “۔ اور اسی قدرت والے اور حکمت والے نے اپنی قدرت و حکمت سے ایسا رسول مبعوث کردیا۔
Ayah 62:44۔ ایک بگڑی ہوئی قوم کو راہ ہدایت دکھا دینا، اور بیشمار مخلوق کو راہ ہدایت پر لے آنا اس کے فضل عظیم کے سامنے کیا مشکل ہے ؟ پھر اس کے عموم فضل کو کسی ایک نسل یا قوم کے ساتھ ہمیشہ کے لیے محدود ومحصور سمجھنا بھی حماقت ہی ہے۔ (آیت) ” ذلک “ یعنی رسول کے ذریعہ سے، ضلال مبین سے نکل کر کتاب و حکمت وہدایت کی روشنی میں آجانا۔
Ayah 62:55۔ (آیت) ” الظلمین “۔ سے مراد وہی لوگ ہیں، جو دین حق سے عنادرکھتے ہیں۔ اور اسی خبث وعناد کی بناء پر کبھی دلائل وحقائق پر غور نہیں کرتے۔ ایسوں کو سنا دیا گیا کہ جب تک وہ اپنی طرف سے عناد ترک نہ کریں گے، انہیں ہدایت نصیب نہ ہوگی۔ (آیت) ” مثل .... کمثل الحمار “۔ یہ مثلیت اور تشبیہ نفع سے محرومی کے لحاظ سے ہے۔ جس طرح کتابوں کے بوجھ سے لدا ہوا گدھا کتابوں کے نفع سے محروم محض رہتا ہے، اسی طرح یہ اہل توریت، توریت پر عمل نہ کرنے کے باعث، اس کے فوائد سے کورے رہ گئے۔ (آیت) ” کمثل الحمار “۔ حمار گدھے کی تخصیص اس لیے کہ جانوروں میں اس کی بلادت اور نافہمی ضرب المثل کی حد تک مشہور ہے، اور اہل عرب کو بالکل مسلم تھی، وھذا التمثیل لاظہار الجھل والبلادۃ ذلک فی الحمار اظہر (کبیر) وفی الحمار من الذل والحقارۃ مالا یکون فی الغیر (کبیر) (آیت) ” حملوا “۔ حمل یہاں ادائے حقوق اور مکلف کیے جانے کے معنی میں ہے۔ حملوا اے کلفوا ان یحملوھا اے یقوموا بحقھا (راغب)
Ayah 62:66۔ (اپنے دعوی محبوبیت مطلقہ میں) (آیت) ” یایھا الذین ھادوا “۔ خطاب ان اہل عرب سے ہے، جو یہود کے طور طریقے، وضع ومعاشرت، شعائر و عقائد اختیار کرتے کرتے رفتہ رفتہ خود بھی یہودی بن گئے تھے، جیسے ہندوستان میں انگریزوں کے زمانہ عروج خصوصا شروع انگریزی دور میں، ہزار ہا اہل ہند نے انہیں کا تمدن اختیار کرکے رفتہ رفتہ اپنے کو ” کر شٹان “ بنالیا تھا۔ یہودی مذہب اصلا تبلیغی مذہب نہیں، نسلی مذہب تھا، صرف نسل اسرائیل کے لیے محدود، لیکن یہود کے علم وفضل، ثروت و تمدن سے مرعوب ومسحور ہو کر کثرت سے مشرکین عرب نے بھی چپکے چپکے دبے پاؤں اپنے اوپر یہودیت (تہود) طاری کرلی تھی، (آیت) ” انکم ...... الناس “۔ یہود نے اپنے دل سے یہ عقیدہ گڑھ لیا تھا کہ ہم کچھ بھی کریں، جس طرح بھی رہیں سہیں، بہرحال ہماری پیغمبرزادگی ہمارے آڑے آتی رہے گی، اور ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کی جانب نسلی انتساب ہمیں اللہ کی ہر نافرمانی پر گرفت سے ہمیشہ محفوظ ہی رکھے گا۔ اور یہ امتیاز بجز ہمارے نسل آدم میں کسی کو بھی حاصل نہیں۔ قرآن مجید بار بار ان کے اسی خطرناک نظریہ پر ضرب لگاتا ہے۔ (آیت) ’ فمنوا الموت “۔ یہاں وہ تمنائے موت مراد نہیں جو عدم ثبات وعدم توکل کی بناء پر کسی دنیوی مصیبت سے گھبرا کر کی جاتی ہے بلکہ وہ تمنائے موت مراد ہے، جو شوق جنت اور اشتیاق لقاء رب میں ہر مومن کے دل میں پیدا ہوتی رہتی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ولایت ومقبولیت کی علامتوں سے مومن کیلئے آرزوئے موت بھی ہے، اگرچہ صرف عقلی ہی حد تک رہے۔
Ayah 62:77۔ یعنی معاندین حق سے۔ آیت کا مطلب یہ ہو کہ حق تعالیٰ پر تو ان لوگوں کا عناد حق وخبث باطن عیاں ہی ہے، اسے اپنے معلوم کرنے کے لئے کسی امتحان کی ضرورت نہیں۔ لیکن دوسروں پر ظاہر کرنے کے لیے اس نے یہ ایک موٹی سی پہچان بتادی۔ زبان سے اپنی محبوبیت مطلقہ کا دعوی کرتے ہو، تو پھر ذرا اپنے اس قید دنیا سے آزاد ہوجانے کی آرزو کردکھاؤ۔ لیکن کروگے کیسے ؟ حب دنیا میں اتنا جکڑے ہوئے ہو۔ اور اخروی وروحانی لذائذ سے اتنا بعد رکھتے ہو کہ اس آرزو کی کبھی ہمت ہی نہ کرسکوگے !
Ayah 62:88۔ (اور اپنے اسی علم کامل وقطعی کے مطابق سزا بھی دے گا) موت سے ناگواری تو انسان کے لیے ایک امر طبعی ہے اس سے یہاں تعرض نہیں، لیکن جو صاحب ایمان ہوتا ہے، وہ اس طبعی گرانی وناگواری کے باوجود عقلی و ایمانی اعتبار سے ہمیشہ موت کی پیشوائی ہی کے لیے تیار رہتا ہے۔ (آیت) ” ان ..... منہ یہاں سے معلوم ہوا کہ موت کا استحضار ضمیر کی بیداری کی خاص علامت ہے، اور قلب کی قساوت کا خاص علاج۔
Ayah 62:99۔ اس ذکر اللہ کے عموم میں نماز فرض اور خطبہ واجب دونوں آگئے۔ (آیت) ” یایھا الذین “۔ اس کے عموم سے وہ لوگ خارج ہیں، جن پر جمعہ واجب ہی نہیں۔ عورتیں، بچے، مریض، مسافر وغیرہ۔ (آیت) ” للصلوۃ “۔ ال عہد کا ہے، اور للصلوۃ سے مراد لوقت الصلوۃ ہے۔ الصلوۃ سے مراد صلوۃ الجمعۃ ہے، (آیت) ” من یوم الجمعۃ “۔ من یہاں فی کے معنی میں ہے۔ اے فی یوم الجمعۃ (مدارک) ” فاسعوا “۔ سعی یہاں اپنے لفظی معنی میں، یعنی دوڑنے کے مرادف نہیں، بلکہ اس سے مقصود چلنے میں توجہ واہتمام کی تاکید ہے۔ السعی یستمل للجدفی الامر (راغب) المراد بالسعی القصد دون العدو (کشاف) ولیس المراد من السعی الاسراع انما المراد منہ العمل والفعل (معالم) ولیس المراد بالسعی ھھنا المشی السریع وانما ھو الاھتمام بھا (ابن کثیر) (آیت) ” نودی للصلوۃ “۔ مراد نماز جمعہ کی اذان سے ہے۔ (آیت) ” یوم الجمعۃ “۔ جمعہ کا دن کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ وہم پرست مسیحیوں کے ہاں ” منحوس “۔ سمجھا جاتا ہے، اور شادی بیاہ سے اس دن خاص طور پر بچا جاتا ہے ،” نحوست “۔ کی دلیل یہ ہے کہ ” ابن اللہ “۔ کو سولی پر اسی دن چڑھایا گیا تھا۔
10۔ (اور حقائق امور کی طرف متوجہ ہو) (آیت) ” وذروالابیع “۔ بیع کا ذکر محض مزید تاکید واہتمام کے لیے ہے، ورنہ حکم فقہی میں تخصیص کچھ بیع وتجارت ہی کی نہیں۔ اراد الامر بترک بایذھل عن ذکر اللہ من شواغل الدنیا (مدارک) مراد صرف یہ ہے کہ مؤذن کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا بلدن ہو اور ادھر ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دنیا کے جس حال اور جس مشغلہ میں ہومسجد کا رخ کر دے اور نماز جمعہ کی تیاری واہتمام میں لگ جائے۔ گویا یہ مسلمان کی ہفتہ وار پریڈ ہے کہ ہر مسلمان بگل کی آواز سنتے ہی اپنے کو حاضری پر مجبور پائے ! فقہاء نے یہاں یہ بھی لکھ دیا ہے کہ اصل مقصود وقت نماز کا آجانا ہے، جب وقت آجائے تو ہر مسلمان جس پر نماز جمعہ واجب ہے، اس پر نماز کے لیے تیاری واجب ہوجاتی ہے یہ ضرور نہیں کہ آذان کی آواز ہی کان میں پڑلے، (آیت) ” ذلکم خیرلکم “۔ اس حکم کی پابندی شخصی وانفرادی حیثیت سے بھی پہلوئے خیر رکھتی ہے، اور قومی واجتماعی حیثیت سے بھی، دنیوی، مادی اعتبار سے یوں کہ نماز جمعہ تنظیم امت کا ایک بہترین نسخہ ہے اور اخروی، روحانی اعتبار سے یوں آخرت کا نفع باقی دنیا کے ہر نفع فانی سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
Ayah 62:1011۔ یعنی جب نماز سے فارغ ہوجاؤ تو اب اجازت ہے کہ اپنے جمعہ کو مسیحیوں کے اتوار اور یہود کے شنبہ کی طرح دنیوی کاروبار سے تعطل کا دن نہ فرض کرلو،۔ ہاں دنیوی کارربار میں اشتغال خدا فراموشی کے مرادف نہیں۔ احکام الہی کا استحضار کاروبار میں بھی پوری طرح رہے۔ دیانت امانت تقوی، تجارت اور ہر قسم کین دنیوی مشغلہ میں مسلمان کے لیے لازمی ہیں۔ آیت میں جو حکم ہے، اس کی پوری قدر جب ہوگی، جب یہود ونصاری کا معاملہ جو انہوں نے اپنے اپنے ہفتہ وارتہواروں کے ساتھ کر رکھا ہے، پیش نظر ہو۔
Ayah 62:1112۔ بعض صحابیوں کی طرف اشارہ ہے جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے، اور شریعت کے قوانین و احکام ابھی ان میں پوری طرح راسخ نہیں ہوئے تھے، مدینہ میں ایک بار خطبہ جمعہ کے وقت (جو اس وقت تک بعد نماز ہوتا تھا) تجارتی قافلہ غلہ لے کر آیا، اور اعلان کے لیے دف بھی بج رہا تھا۔ 12 پختہ وراسخ صحابیوں کو کو چھوڑ کر، باقی دوسرے حضرات یہ سمجھ کر کہ نماز تو ختم ہی ہوچکی ہے، تجارتی قافلہ کی طرف چل پڑے، یہ تنیبہ ان کی اسی اجتہادی غلطی پر کی جارہی ہے۔ (آیت) ” وترکوک قآئما “۔ ان الفاظ سے اس مسئلہ پر کہ خطیب جمعہ کو خطبہ کھڑے ہو کردینا چاہیے۔ ایک قرآنی دلیل قائم ہورہی ہے۔ دلیل علی ان الامام یخطب یوم الجمعۃ قائم (ابن کثیر) سئل عبداللہ بن عمر اکان النبی یخطب قائما او قاعدا قال اما تقرأ وترکوک قائما (معالم)
13۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ معاشیات ومالیات میں بھی اصل بھروسہ اپنے اسی رحیم وشفیق خالق ومالک پر رکھو۔ اجر آخرت سے قطع نظر، دنیوی اسباب رزق کے سلسلہ کا بھی آخری سرا تو اسی کے ہاتھ میں ہے۔ (آیت) ” ماعند اللہ “ یعنی اجر آخرت اور حق تعالیٰ کا قرب۔